زیرِ نظر مضمون سابقاً شائع ہونے والے ’تعلیم‘ سے متعلق مقالے سے مربوط ہے
باب ۲: گھریلو تعلیم اور والدین کا فرض
قرآن کریم میں تعلیم کے حوالے سے آیات جاننے کے بعد ہم آتے ہیں اسلام میں تعلیم کے پہلے ادارے کی طرف۔ یعنی گھر! گھریلو تعلیم کی اہمیت اور والدین کی ذمہ داری کے بارے میں مولانا سیّد محمد میاں ؒ اپنی کتاب طریقۂ تعلیم میں لکھتے ہیں کہ:
”اسلام نے بچوں کی مذہبی تعلیم اور دینی تربیت خود ماں باپ پر فرض کی ہے جس طرح نماز روزہ فرض ہے، جس طرح خود اپنے اخلاق کی اصلاح اور درستی فرض ہے، اسی طرح یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نماز کی تعلیم دیں، صوم و صلوٰۃ کا پابند بنائیں، ان کے عقیدے ٹھیک کریں، ان کے اخلاق درست کریں۔“ اور اس کے لیے قرآن و سنت سے مندرجہ ذیل دلائل ذکر کرتے ہیں۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (سورۃ التحریم :۶)
’’مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر ہیں) جو ارشاد خدا ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ ‘‘
وَاْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى (سورۃ طہ :۱۳۲)
’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو ،ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل تقویٰ) کا ہے۔‘‘
نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
’’أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ زَوْجِهَا، وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔‘‘
’’خبردار تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی۔ لوگوں کا امام نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی، آدمی اپنے اہل پر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگران ہے، اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی، خادم اپنے آقا کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کے بارے میں پرسش ہوگی۔ گویا تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔‘‘(بخاری)
مزید فرمایا:
’’مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ۔‘‘
’’اپنی اولاد کو نماز پڑھنے کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہو جائیں اور جب دس برس کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر ان کو مارو۔ اور ان کے بستر بھی الگ کر دو۔‘‘ (سنن ابو داود)
اور فرمایا:
’’مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ۔‘‘
’’کوئی والد اپنے بیٹے کو اچھے ادب سے بہتر انعام نہیں دیتا۔ ‘‘ (ترمذی)
پھر مولانا محمد میاںؒ فرماتے ہیں:
”قرآن حکیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاداتِ مبارکہ نے جو ہمارا فرض مقرر کیا ہے اس کے ادا کرنے کی سب سے اچھی صورت تو یہ ہے کہ اپنے بچوں کو خود پڑھائیں۔ اسلام کے احکام اور اس کے بتائے ہوئے آداب کے خود بھی پابند اور عادی ہوں اور بچوں کو بھی پابند اور عادی بنائیں۔ اگر ہم اپنی تفریح یا آرام کرنے کے وقت میں سے صبح یا شام کا صرف ایک گھنٹہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص کر لیں اور کچھ آگے بڑھ کر اپنے بچوں کے ساتھ پڑوس کے بچوں کو بھی تعلیم و تربیت کے حلقہ میں شامل کر لیں، تو اس طرح ہر لکھے پڑھے مسلمان کا گھر تعلیم دین کا مکتب اور تربیت گاہ بن جائے گا۔ اور بغیر پیسہ خرچ کیے مفت میں وہ کام ہو جائے گا جس کے لیے کروڑوں اربوں روپیہ کی ضرورت ہے۔“ اور دیگر عملی تجاویز میں سے ایک یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ”اپنی نگرانی میں گھریلو مکتب اور تربیت گاہ خود اپنے گھر کی عورتوں اور سمجھ دار لڑکیوں سے قائم کروائیں۔“
ڈاکٹر عباس محجوب جو جامعہ اسلامیہ مدینہ یونیورسٹی میں شعبۂ دعوت کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اپنے مقالے (تربیت: اسلام سے قبل اور اسلام میں) میں حضرت عمر ؓ کا ایک مشہور قول نقل کرتے ہیں کہ: ”اپنے بچوں کو تیراکی اور گھڑ سواری سکھاؤ۔ اور انہیں ضرب الامثال اور بہترین اشعار یاد کراؤ۔‘‘ (بحوالہ :البیان و التبیین از جاحظ) پھر آگے چل کر کہتے ہیں کہ: ”حضرت عمر ؓ کے سابقہ قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے آغاز میں تعلیم کا کوئی باقاعدہ نظام نہ تھا۔ بلکہ والدین خود ہی تعلیم دیا کرتے تھے۔“ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ”اسلام کے اولین دور میں مکاتب بہت عام نہ تھے کیوں کہ تعلیم کی بنیادی ذمے داری والدین اور خاص خاص معلمین پر ہوتی تھی۔ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وصیت میں الفاظ ’’اپنے بچوں‘‘کے آئے ہیں۔ “
اسلامی معاشرے میں گھریلو تعلیم کی ایک اور شکل ہمیں مؤدبین کی صورت میں نظر آتی ہے۔ یہ لفظ خاص ان معلمین کے لیے استعمال ہوتا تھا جنہیں خاص کر خلفائے اسلام اور دیگر امرا اور صاحب ثروت حضرات اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنے گھروں پر بلاتے تھے۔ اور بسا اوقات بچوں کو انہی کے سپرد کر دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ شیخ محمد شربینی (جو مدینہ منورہ کی جامعہ اسلامیہ کے ماہرِ تعلیم ہیں) نے اپنے مقالے (دور حاضر میں تعلیم اور اسلامی تربیت) میں اموی دور کے معلمین کے بارے میں لکھا ہے۔
اور چونکہ یورپ نے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے اس مقدس عمل کو بھی محض ایک صنعت ”انڈسٹری“ بنا دیا ہے اور تعلیم کے ہدف کو مخصوص دنیاوی مفادات کا حصول ٹھہرا دیا ہے،جس کے سبب مغربی معاشروں میں دین تو کیا اخلاقیات اور آداب کی ادنیٰ حس بھی جاتی رہی۔ اور اس پورے عمل کا خمیازہ اب جا کر انہیں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔اس لیے اِس گئے گزرے معاشرے میں جن والدین میں کچھ اخلاقی اقدار باقی ہیں، انہوں نے اپنے بچوں کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے اب دوبارہ گھریلو تعلیم کا نسخہ اپنایا ہے۔ اپنے بچوں کو قبل از وقت بالغ ہونے، بلکہ قبل از بلوغت جماع کے عمل اور نو بالغ لڑکیوں کو ولادت سے بچانے کا انہیں بس یہی حل نظر آ رہا ہے۔
مغرب کی اس جہنمی چنگاریوں سے تو اب مسلم معاشرے بھی سلگ رہے ہیں ۔ اور اب پاکستان میں بھی بے شمار والدین نے یہی راہ اپنائی۔ میں ذاتی طور پہ ایسے متوسط اور امیر گھرانوں کو جانتا ہوں جہاں بچوں اور بچیوں کی تعلیم کا بندوبست گھروں پر ہی کیا جاتا ہے۔ اگر ہم نے یہاں اخلاقی انحطاط کی مثال صرف جنسی بے راہ روی کی دی ہے تو اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ دیگر مفاسد مفقود ہیں۔ والدین کی نا فرمانی اور دین و ملت کی دشمنی تو اظہر من الشمس ہیں۔ لیکن جب تنزلی کی یہ حالت عزت اور عفت تک پہنچ گئی، تب جا کر ایک محدود طبقے کے یہاں یہ احساس بیدار ہوا ہے۔ جدید دور کے طرز کے مقابلے میں اگر اسلامی احکام اور دورِ خلافت کے اسلامی معاشرے کو دیکھا جائے تو ہمیں گھریلو تعلیم اور تربیت ہی نمایاں نظر آتی ہے۔ ہاں جہاں کوئی مسلم گھرانہ تعلیم نہ دے سکے، تو اس کے لیے مسلمانوں نے اجتماعی کاوشیں بھی کی ہیں جیسا کہ مکاتب اور مدارس کی تاریخ میں آگے ذکر ملے گا۔
’’نظام الحکومۃ النبویہ المسمی التراتیب الاداریہ‘‘ کے مصنف شیخ سید محمد عبد الحئ کتانی لکھتے ہیں کہ :’’شیخ مختار کنتی نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا: ” حضرت عمرؓ کی خلافت سے قبل صحابہ رضوان اللہ علیہم میں سے ہر صحابی اپنی اولاد اور چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھاتے تھے۔ لیکن جب اسلامی فتوحات پھیل گئیں اور غیر عرب اور دیہاتی بھی مسلمان ہونے لگے اور بچے زیادہ ہو گئے تو حضرت عمر ؓ نے مکاتب کے لیے خاص عمارت تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اور بچوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے لوگوں کو مقرر کیا۔“
گھریلو تعلیم اور خواتین
گھریلو تعلیم کے ادارے کی اہمیت اس بات سے بھی ابھرتی ہے کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم کا یہی بنیادی ادارہ ہے۔ قرآن ِکریم میں اہل بیت کی خواتین کے ذریعے تمام خواتین اسلام کو یہ ارشاد پاک ہے:
وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرًا (سورۃ الاحزاب:۳۳، ۳۴)
’’اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت ! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔ اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔‘‘
صاحب ِروح المعانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ”اللہ تعالی نے امہات المومنین کو حکم دیا کہ وہ گھروں میں رہا کریں اور یہ عمل تمام خواتین سے مطلوب ہے“ ۔ پھر سنن ترمذی کی روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے کیونکہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لیے موقع تلاش کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنے رب کی رحمت کے نزدیک ترین اپنے گھر کے عین بیچ میں ہوتی ہے‘‘۔ پھر آگے علامہ آلوسیؒ لکھتے ہیں: ”اور ہو سکتا ہے کہ ان کا نکلنا حرام ہو۔ بلکہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہو۔“ اور ”جہاں ان کے نکلنے کی اجازت بھی ہے تو وہ ان شرائط سمیت ہے جس کا کتب میں تذکرہ ہوا ہے‘‘۔ نیزآیت کے اس ٹکڑے (تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں) میں فاعل کو ذکر نہ کرنے کے فائدے میں لکھتے ہیں کہ :”تاکہ اس میں حضرت جبریل علیہ السلام، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ، خود امہات المومنین کی اپنی تلاوت اور ان کے علاوہ دیگر افراد کی تلاوت بھی بغرض تعلیم اور تعلم شامل ہو جائے۔“
گھروں میں خواتین کو لکھنے پڑھنے کی تعلیم پر توجہ ہمیں سنن ابو داود کی اس روایت میں بھی ملتی ہے کہ حضرت شفابنتِ عبد اللہ ؓ فرماتی ہیں کہ: ’’جب میں حضرت حفصہ ؓ کے یہاں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم داخل ہوئے اور مجھ سے فرمایا: ”کیا تم اسے (یعنی حضرت حفصہ کو) نملہ (ایسی بیماری جس میں جسم پر دانے نکل آتے ہیں) کا دم نہیں سکھاتیں جیسا کہ تم نے اسے لکھنا سکھایا ہے ۔“ اس حدیث کے شارحین نے اس حدیث کو خواتین کو لکھنا پڑھنا سکھانے کی خصوصی دلیل گردانا ہے۔ نیز تاریخ دمشق میں محدث ابن عساکر ذکر کرتے ہیں کہ حضرت عبد ربہ بن سلیمان نے فرمایا کہ: ”حضرت ام درداء ؓمجھے پڑھایا کرتی تھیں ۔ چنانچہ انہوں نے میری تختی پر لکھا کہ : بچپن میں علم حاصل کرو تاکہ بڑے ہو کر اس پر عمل کرو، کیونکہ فصل کاٹنے والے کو وہی ملے گا جو اس نے بویا، بھلا ہو یا برا۔“
ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین اپنے مقالے (مسلمانوں کے ہاں مکاتب اور مساجد کا کردار) میں لکھتے ہیں کہ: ” قاضی عیسی بن مسکین (۲۷۵ھ) کے بارے میں قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ :’’وہ قضا سے فارغ ہوتے تو قرآن کا ایک حصہ تلاوت کرتے، پھر شاگردوں کو پڑھانے کے لیے عصر تک بیٹھے رہتے۔ عصر کے بعد وہ اپنی بیٹیوں اور بھتیجیوں کو قرآن اور دیگر علوم کے لیے بلاتے۔‘‘ (بحوالہ الرسالۃ المفصلۃ لاحوال المعلمین واحکام المعلمین والمتعلمین از القابسی)
باب ۳: مکاتب
تمہید: تعلیم کا پہلا زینہ
جب ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ قرآنِ کریم اور احادیث ِنبویہ میں بنیادی طور پہ تعلیم سے مراد علم ِدین کی تعلیم ہی ہے تو ہمارے لیے اس تعلیم کے حصول کے ذرائع جاننے میں کوئی خاص دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہم سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے مطالعے کے دوران اس پہلو پر غور کریں تو بہت کچھ سمجھ میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔ جبریل علیہ السلام نے جس انداز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو پہلی وحی مبارک کی تلقین کی اور جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پہلے الفاظ کی تلقی کی، بس یہی تعلیم کا اولین ذریعہ تھا۔ یعنی کہ تلقین و تلقی۔ البتہ اس درس و تدریس کے عمل کو مزید پکا کرنے کے لیے حفظ، کتابت، مذاکرہ ، تشریح اور بیان ان سب وسائل سے استفادہ کیا گیا جس پر قرآن کی آیات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت شاہد ہے۔ ان تمام وسائل کے حوالے سے بہت سی نصوصِ شرعیہ ہم پیش کر سکتے ہیں (جن میں سے کئی کا اوپر ذکر گزر چکا ہے)لیکن بحث کو مختصر کرنے کی خاطر ہم ان پہلوؤں کا زیادہ تذکرہ کریں گے جن سے ہمارا مقصد اور مدعا واضح ہو۔
سو ہم کہتے ہیں کہ یہ عمل معلم اول صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کے درمیان مکہ کے دار ارقم سے شروع ہوا اور مدینہ کی مسجد نبوی کے چبوترے صفہ تک جاری رہا۔ اور چونکہ اس تعلیم کے عمل میں طالب علم مساجد میں اپنے اپنے معلم کے گرد حلقوں کی شکل میں بیٹھتے تھے ،اس لیے یہ عمل (علمی حلقوں) کے نام سے مشہور ہوا جو نبوی برکت سے آج تک جاری ہے۔ اور انہی حلقوں نے چوتھی اور پانچویں صدی میں جا کر مدارس کی شکل اختیار کی جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔
اکرم بن ضیاء عمری اپنی کتاب عصر الخلافہ الراشدہ میں لکھتے ہیں کہ : ”مکہ میں جب مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی تب دار ارقم ؓبن ابی ارقم ان کے اجتماعات کا مرکز تھا۔ وہ قریش کے خوف سے اس گھر میں چھپ کر داخل ہوتے تھے اور وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ملا کرتے تھے اور ان سے دین کی تعلیم اور قرآن کریم سیکھا کرتے تھے۔ (بحوالہ ’’سیرۃ ابن ہشام، مستدرک حاکم ‘‘عصر الخلافہ الراشدہ)
البتہ تعلیم سے متعلق ایک اور عمل جو دور ِجاہلیت میں سابقہ اقوام کی طرح عرب کے یہاں بھی رائج تھا وہ کتابت کی تعلیم اور کاتب بنانے کا عمل تھا، جس کے سبب اس جگہ کو جہاں یہ تعلیم دی جاتی تھی (كُتَّاب) کہا جاتا تھا۔ اس کے لیے اردو زبان میں (مکتب) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہودی اور عیسائی روایات کے مطابق اس قسم کے مکاتب یہود و نصاریٰ کے یہاں بھی رائج تھے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ لکھنے کا عمل عرب سمیت تمام اقوام میں معروف تھا۔ تاریخ دان دور جاہلیت کے ایسے نام گنواتے ہیں جو کہ عرب کے مکاتب میں معلم تھے۔ مثلاً بشر بن عبد الملک سکونی، دومۃ الجندل کے سربراہ اکیدر کے بھائی، ابو قیس بن عبد مناف، عمرو بن زرارہ جنہیں کاتب بھی کہا جاتا تھا، اور غیلان بن سلمہ ثقفی۔ 1
شیخ محمد شربینی اپنے مقالے میں لکھتے ہیں:
”مکتب تعلیم کے زینوں میں سے پہلا زینہ ہے۔ عرب کے اشرافیہ کے یہاں بچوں کی تعلیم پر تو خاص توجہ تھی ہی، لیکن عوام الناس بھی اس سے غافل نہ تھے۔ مکاتبِ اطفال میں پڑھنا لکھنا سکھایا جاتا تھا۔ تعلیم دینے والے اشخاص خاص افراد ہوتے تھے۔ اور تعلیم دینے اور ادب سکھانے کے خاص طریقے اپنائے جاتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے خلفائے راشدین کے زمانے میں باقاعدہ مکاتب قائم تھے جہاں مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ پھر جیسے جیسے اسلامی افواج کی فتوحات بڑھتی چلی گئیں، ویسے ہی قرآنی مکاتب کا تصور رائج ہوتا رہا۔“
اسی طرح ڈاکٹر عباس محجوب بھی اس کی تائید میں لکھتے ہیں:
” ابتدائی تعلیم مکاتب میں ہی شروع ہوئی جیسا کہ امام شافعی کہتے ہیں:’میں اپنی ماں کی گود میں یتیم تھا۔ تو انہوں نے مجھے مکاتب کے حوالے کیا۔ لیکن ان کے پاس اتنا مال بھی نہ تھا کہ وہ استاذ کو دیتیں۔ اس لیے استاذ نے ان سے یہی قبول کر لیا کہ میں ان کے جانے کے بعد ان کا قائم مقام رہوں۔ پھر جب میں نے قرآن ختم کیا تو میں مسجد میں داخل ہوا اور علمائے کرام کی مجلسوں میں شریک ہوا‘۔‘‘2
آگے کہتے ہیں کہ
” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان بچوں کو مساجد میں تعلیم نہیں دیا کرتے تھے ،کیوں کہ بچے مسجد کے ادب اور احترام کا خیال نہیں رکھ سکتے۔ البتہ مساجد میں بڑوں کی تدریس کے حلقے جاری تھے۔ “
گویا مسلمانوں کے یہاں بچوں کی تعلیم کے لیے یا تو گھریلو انتظام تھا یا مکاتب کا ۔ لیکن یاد رہے کہ بڑوں کے لیے تعلیم مساجد اور مدارس میں ہو یا چھوٹوں کے لیے گھروں اور مکاتب میں، تعلیم کا اصل محور ’’قرآن و سنت ‘‘ہی رہا ہے۔ اور مکاتب میں اگرچہ کتابت کا ہنر بھی سکھایا جاتا تھا لیکن خیر القرون میں کتابت کے لیے بھی متن قرآن ہی تھا۔ پھر مکاتب میں صرف کتابت پر ہی انحصار نہیں کیا گیا بلکہ جیسا بڑوں کے لیے قرآن کی تعلیم تلقین کے ذریعے ہوتی تھی ،اسی طرح بچوں کو بھی با قاعدہ تعلیم کے ذریعے قرآن سکھایا جاتا تھا۔ جیسے کہ آج تک مسلمانوں میں قرآن کریم ناظرہ اور حفظ کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔
فصل ۱: عہد رسالت و خلافت راشدہ میں مکاتب کا تذکرہ
عہد رسالت میں مکاتب کا وجود
یہ بات تو مسلم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں بھی مکاتب کا وجود تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کی کتاب الدیات میں ایک روایت نقل ہے کہ :
”ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ نے مکتب کے معلم (معلم الکُتَّاب) کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس اون صاف کرنے کے لیے کچھ غلام بچے بھیجو آزاد نہ بھیجنا۔“
اسی طرح امام بخاری ؒ ہی کی کتاب ’’الادب المفرد‘‘ میں بچوں کو سلام کرنے کے باب کے تحت صحیح حدیث ہے کہ حضرت عیسی بن یونس نے فرمایا کہ:
” انہوں نے حضرت ابنِ عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ مکتب میں موجود بچوں کو سلام کر رہے ہیں۔“
’’مصنف ابنِ ابی شیبہ‘‘ کی ایک روایت میں ہے کہ:
”حضرت ابو ہریرہ ؓ کا جب مکاتب پر گزر ہوتا تو مکاتب کے اساتذہ سے فرماتے کہ اپنے لڑکوں کو میرے لیے جمع کرو۔ جب وہ انہیں جمع کر لیتے تو بچوں کو متوجہ کر کے فرماتے: اے میرے بھتیجو، میں جو تم سے کہہ رہا ہوں اسے سمجھو۔ جو بھی تم میں سے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو پائے ، جو روشن اور سرخ چہرے والے جوان ہوں گے، تو انہیں میری طرف سے سلام کہے۔“
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا کتابت کی تعلیم کا اہتمام اور صحابہ کا مکاتب میں پڑھنا
صرف یہی نہیں بلکہ کتابت کی تعلیم کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے از خود اہتمام کیا۔ چنانچہ امام مقریزی اپنی کتاب ’’امتاع الاسماع‘‘ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا بدر کے قیدیوں کے ساتھ سلوک کے عنوان کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ:
”اسیرانِ قریش میں چند ایسے قیدی بھی تھے جنہیں کتابت میں مہارت حاصل تھی جبکہ اس وقت انصار میں ماہر کاتب نہ تھے۔ پھر ان قیدیوں میں ایسے بھی تھے جن کے پاس اپنی رہائی کے لیے پیسے نہ تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بدلے رہائی دی کہ وہ دس لڑکوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ تب حضرت زید بن ثابتؓ نے انصار کے بچوں کی ایک جماعت کے ہمراہ لکھنا سیکھا۔ ‘‘
پس امام احمدؒ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
’’بدر کے موقع پر ایسے بھی قیدی تھے جن کے پاس رہائی کے لیے فدیہ نہ تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا یہ فدیہ مقرر کیا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھائیں۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک لڑکا اپنے والد کے پاس روتے ہوئے آیا ۔ والد نے پوچھا کیا مسئلہ ہے؟ اس نے بتایا کہ میرے معلم (استاد) نے مجھے مارا ہے۔ تو ان کے والد نے فرمایا:’’ خبیث شخص!‘‘، یہ بدر کے موقعے کا بدلہ تم سے لے رہا ہے۔ اللہ کی قسم تم اس کے پاس ہرگز نہ جاؤ گے۔ ‘‘
اسی طرح عامر شعبی فرماتے ہیں کہ:
’’ بدر کے قیدیوں کا فدیہ چالیس اوقیہ مقرر ہوا۔ اور جس کے پاس یہ رقم نہ ہوتی تو وہ دس مسلمانوں کو پڑھاتا۔ پس حضرت زید بن ثابت ان میں سے تھے جنہیں پڑھایا گیا۔“
حضرت زید بن ثابت کی اس تعلیم کا ذکر مسند امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی اس روایت میں بھی موجود ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ:
’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے براہ راست زبانی ستر سورتیں پڑھیں جبکہ اس وقت زید بن ثابت مکتب میں پڑھتا تھا اور اس کی بالوں کی چٹیا بنی ہوتی تھی ۔“
خطیب بغدادی کی کتاب ’’الجامع‘‘ میں اس روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ : ”جبکہ زید مکتب جایا کرتا تھا۔“ مسند احمد کے محقق ’’شعیب بن اروؤوط‘‘ کہتے ہیں کہ یہ صحیح حدیث ہے۔
اسی طرح حضرت عبد اللہ ؓبن سعید بن عاص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ وہ مدینہ میں کاتبین ( محرر) کو لکھنا سکھائیں کیونکہ وہ زمانۂ جاہلیت سے ہی کتابت میں مشہور تھے۔3
نیز سنن أبی داود اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ: حضرت عبادہ بن صامتؓ نے فرمایا :’’میں نے اِہل صفہ کے کئی افراد کو قرآن اور لکھنا پڑھنا سکھایا۔‘‘ شیخ البانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
عہدِ خلافت راشدہ میں مکاتب
عہد ِخلافت میں بھی مکاتب کا سلسلہ جاری رہا ، بلکہ آہستہ آہستہ اس کے مخصوص اصول و آداب بھی متعارف ہو گئے۔ چنانچہ علامہ ابن سحنون اپنی کتاب ’’آداب المعلمین ‘‘میں لکھتے ہیں:
” جب حضرت انس بن مالک (۹۳ھ) سے ائمۂ اسلام حضرت ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے زمانے میں تعلیم کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’معلم کی ایک صراحی ہوتی تھی جس میں ہر لڑکا روزانہ اپنی باری میں اپنے ساتھ لایا ہوا پاک پانی ڈالتا۔ اس پاک پانی سے لڑکے اپنی تختیاں مٹاتے تھے اور استعمال شدہ پانی کے لیے زمین میں گڑھا کھودتے تاکہ وہ اس میں جذب ہو کر سوکھ جائے“ ۔ اس سے بھی واضح ہوتا تھا کہ مکاتب میں تعلیم کا محور و مرکز قرآن تھا۔ اور قرآن کی لکھائی مٹانے کے لیے پاکیزگی کا اتنا خیال رکھا جاتا تھا۔
نیز کنز العمال اور تاریخ ِدمشق از ابن عساکر میں حضرت وضین بن عطاء کی روایت ہے کہ: ”مدینہ میں بچوں کو پڑھانے والے تین اساتذہ ایسے تھے جنہیں حضرت عمر ابن الخطاب ؓ ماہانہ پندرہ درہم دیا کرتے تھے۔“ اور جیسے کہ پہلے ذکر کر چکے ہیں ’’التراتیب الاداریہ‘‘ کے مصنف شیخ مختار کنتی سے نقل کرتے ہیں کہ:
” حضرت عمرؓ کی خلافت سے قبل صحابہ رضوان اللہ علیہم میں سے ہر ایک اپنی اولاد اور چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھاتا تھا۔ لیکن جب اسلامی فتوحات پھیل گئیں اور غیر عرب اور دیہاتی بھی مسلمان ہو نے لگے اور بچے زیادہ ہو گئے تو حضرت عمر ؓ نے مکاتب کے لیے خاص عمارت تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اور بچوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے لوگوں کو مقرر کیا۔“
فصل ۲: مختلف اسلامی ادوار میں مکاتب کے خد و خال
شیخ محمد شربینی اپنے مقالے میں لکھتے ہیں:
” اموی دور میں مکاتب کے اساتذہ چار قسم کے ہوتے تھے:
- عوامی مکاتب کے اساتذہ جو کہ متوسط طبقہ کو تعلیم دیتے تھے۔
- اشرافیہ کے اساتذہ جنہیں مؤدِب کہا جاتا تھا۔
- کبار مؤدبین جو وسیع مطالعہ اور مختلف علوم میں مہارت کی وجہ سے اونچے درجوں کو پڑھاتے تھے۔ ان میں فقہ کے ائمہ اربعہ اور عربی زبان کے ائمہ سیبویہ، کسائی اور اصمعی جیسی شخصیات شامل ہیں۔
- دیہاتی علمائے کرام جن کے پاس فصیح زبان اور عرب قبائل کی تاریخ کا علم ہوتا تھا۔ یہ حضرات معلمین، مؤدبین اور کبار علماے کرام سے ملتے جلتے تھے۔ بعد میں آنے والے ادوار میں مکاتب کے یہ خد و خال مزید واضح ہوتے گئے۔“
شربینی صاحب کے مؤخر الذکر دو اقسام کے اساتذہ کو مکاتب کے اساتذہ شمار کرنے میں مجھے تامل ہے البتہ انہیں علمی حلقوں کے معلمین میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ مکاتب کے اصل اساتذہ تو اول قسم کے ہی ہیں جن کے لیے معلمین کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ دوسرے قسم کے اساتذہ تو وہ خصوصی معلمین ہیں جنہیں خلفا اور امرا اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اپنے گھروں میں طلب کرتے تھے۔ بہر حال اس سے پتا چلتا ہے کہ مکاتب کی تعلیم کا یہ سلسلہ زمانے کے ساتھ ساتھ وسعت اختیار کرتا گیا۔ اور چونکہ یہ مقالہ لکھنے کےا غراض میں مکاتب کی تاریخ کابیان بھی شامل ہے ، اس لیے ہم کچھ تفصیل کے ساتھ اس کے خدو خال بیان کرتے ہیں۔
مکاتب کے مضامین
ڈاکٹر عباس محجوب لکھتے ہیں:
”ان ادوار میں تعلیم کا مرکز اور محور قرآن ِکریم اور اس کے بعد حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھا۔ اور پھر چند فقہی احکام اور چند اشعار۔
جیسا کہ ابن خلدون کہتے ہیں کہ ’’قرآن کے بارے میں اہتمام اس لیے تھا کہ وہی دین کا عنوان تھا۔ اسی لیے قرآن ہی تعلیم کی بنیاد ٹھہرا جس پر بعد میں حاصل ہونے والے دیگر علوم کا دار و مدار تھا۔‘‘ 4
جبکہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ”مکاتب میں صرف لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا۔“ نیز ایک اور مقام پر اما م شافعی ؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ: ”میں اپنی ماں کی گود میں یتیم تھا تو انہوں نے مجھے مکاتب کے حوالے کیا۔ پھر جب میں نے قرآن ختم کیا تو میں مسجد میں داخل ہوا اور علماے کرام کی مجلسوں میں شریک ہوا‘‘۔ 5
ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین لکھتے ہیں کہ: ” اکثر محققین یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے آغاز میں ایک ہی قسم کے مکاتب ہوتے تھے جہاں لکھائی پڑھائی سکھائی جاتی، قرآن یاد کروایا جاتا اور علوم دین کی تدریس ہوتی تھی۔6 پھر کہتے ہیں کہ : ”اگر دیگر اقسام کے مکاتب کا وجود ہو بھی تب بھی جو مکاتب پھیلے وہ قرآن کریم اور دین کی تعلیم کے ہی تھے، کیونکہ مسلمانوں کا قرآن کریم سے شدید تعلق تھا۔“ آگے پھر نقل کرتے ہیں: ” جب بچہ قرآن مجید کے حفظ اور لکھائی پڑھائی سیکھنے سے فارغ ہو جاتا تو اسے استاذ دین کے بنیادی احکام اور زبان سکھاتا۔ سکھائے جانے والے مضامین میں احادیث نبویہ، آداب و اخلاق، اہلِ سنت کے عقائد ، زبان کے قواعد، اور ادب اور شاعری شامل تھی۔‘‘7
شیخ محمد شربینی اپنے مقالے میں لکھتے ہیں: ”ان مکاتب میں عموماً تین قسم کے طریقہ ہائے تعلیم ہوتے تھے۔
أ.
بیشتر اسلامی خطوں میں قرآن کریم کی تحفیظ رائج تھی۔ جس میں پہلے ناظرہ قرآن پڑھایا جاتا پھر یاد کروایا جاتا،چاہے مکمل قرآن کا حفظ ہو یا کچھ حصہ ۔ معلم بعض آیات کے اعراب اور تفسیر بھی مختصر انداز میں بیان کرتا۔ پھر ان آیات کی ترتیل اور تجوید کرتا۔ اس کے بعد بچوں کو وہ علوم سکھاتا جس سے وہ قرآن کریم کا مطلب سمجھ سکیں۔ پھر تہجی ، املا، خوشخطی اور تجوید سکھاتا۔ اسی طرح وضو اور نماز کا طریقہ بھی سکھاتا۔ ان کا منہج اس پر قائم تھا کہ قرآن کریم ہی اصل تعلیم ہے، جس کی بدولت دیگر علوم حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ب.
مغربِ اسلامی میں تو صرف قرآنِ کریم کی تعلیم دی جاتی اور اس دوران دیگر علوم میں سے کسی کو نہ شامل کیا جاتا۔ نہ حدیث، نہ فقہ، نہ شعر و ادب یہاں تک کہ بچہ قرآن میں ماہر ہو جاتا۔
ج.
اندلس کے لوگ بچو ں کو پہلے عربی زبان اور شعر و ادب کی تعلیم دیتے اور جب بچہ ان میں ماہر ہو جاتا تو پھر قرآن مجید سکھاتے ۔ اس بہانے کہ عربی سیکھنے سے قرآن اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ رائے صحیح نہیں!کیونکہ یہ بات مسلّم ہے کہ چھوٹی عمر میں قرآن مجید سیکھنا اور یاد کرنا آسان ہوتا ہے جو تمام علوم کی بنیاد ہے۔
عمومی رائے یہی تھی جس کے مطابق اکثر اسلامی خطوں میں تعلیم دی جاتی یعنی قرآن کریم کی تلاوت، تجوید اور حفظ کے ساتھ ساتھ عربی لغت و ادب اور صرف و نحو کی تعلیم دی جاتی۔ اور دیگر علوم کے بعض حصے جس سے بچے کو زندگی کے بارے میں آگاہی حاصل ہو۔“8
ڈاکٹر لیلیٰ بیومی اپنے مقالے (اسلامی تشخص کی حفاظت میں مکاتب کا کردار) میں لکھتی ہیں:
” مکاتب نے(جہاں قرآن کریم کی تحفیظ کا اہتمام ہوتا تھا) مسلمانوں کے ذہنوں میں قرآنی اور اسلامی تشخص بنانے میں بہت طویل عرصے تک خصوصی کردار ادا کیا۔ البتہ بہت سے گھناؤنے منصوبوں کے ذریعے ان مکاتب کے مثبت اثرات کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ یہاں تک کہ اب مکاتب کے نظام کا گرنے بلکہ یکسر ختم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ قرآن کریم اور عربی کے فصیح الفاظ کے بجائے چھوٹے بچوں کی عقلوں کے اچھے خاصے حصے میں گیت، گانے اور قصے کہانیاں محفوظ ہو گئی ہیں۔“۔ جیسا کہ آج کل چھوٹی جماعتوں میں باقاعدہ (انگریزی رائمز) کے نام پر بے مقصد گیت بچوں کو ازبر یاد کرائے جاتے ہیں چاہے انہیں ان کا مطلب نہ آتا ہو۔ لیکن یہی طرز قرآن کریم کے لیے غلط سمجھا جاتا ہے جو اعلی معانی کا حامل ہے۔
معاشرتی آداب کی تعلیم
ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین لکھتے ہیں کہ : ” معلم کو چاہیے کہ بچوں کو ادب آداب سکھائے، ان کی نیک تربیت کرے اور انہیں نیک کاموں کی عادت ڈالے۔ انہیں سکھائے کہ وہ کس طرح لوگوں کا احترام کریں، عرف زمانہ کے مطابق کیسے وہ تمیز اور ادب کا خیال رکھیں۔ جو شخص ان کے یہاں داخل ہو یا ان کے پا س سے گزرے تو اسے سلام کریں۔ انہیں حکم دے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ ان کی بات مانیں۔ انہیں سلام کریں۔ والدین ان کے پاس آئیں تو ان کے ہاتھ کا بوسہ لیں۔ اسے چاہیے کہ بدتمیزی اور فحش گوئی اور شریعت کے خلاف دیگر کاموں پر بچوں کو مارے۔9
آگے لکھتے ہیں کہ : ”مکتب کے بچوں کا اپنے معاشرے سے زندہ تعلق تھا۔ چنانچہ ابن سحنون ؒفرماتے ہیں : ’’اگر قحط سالی ہو اور امام نمازِ استسقا کا حکم دے تو میں پسند کرتا ہوں کہ استاذ اپنے ان شاگردوں سمیت نماز کے لیے نکلے جنہیں نماز پڑھنی آتی ہے۔ تاکہ وہ بھی اللہ تعالی سے دعا کریں اور اسی کی طرف رجوع کریں۔ کیونکہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ یونس علیہ السلام کی قوم نے جب عذاب دیکھا تو وہ اپنے بچوں کو لے کر گھروں سے نکلے اور اللہ تعالی سے ان کے واسطے سوال کیا۔10
صرف یہی نہیں بلکہ خود مکتب کے صحت مند اور خوشگوار ماحول کے بارے میں محمد منیر سعد الدین لکھتے ہیں کہ:
” اگر بچہ مکتب میں آنکھ یا جسم کے کسی حصہ میں درد کی شکایت کرتا اور استاذ جان لیتا کہ وہ سچا ہے تو وہ اسے گھر روانہ کردیتا۔ مکتب میں نہ بٹھائے رکھتا۔ استاذ کے لیے لازم تھا کہ وہ مکتب کے سامنےچیزیں بیچنے والوں کو نہ چھوڑے ،کیونکہ بچوں کو ان سے چیزیں خریدنے میں اخلاقی نقصان کا اندیشہ ہے۔‘‘ (بحوالہ: المدخل از ابن الحاج العبدری) ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ ”مکتب میں ہر ماہ عطر لایا جاتا تھا‘‘۔11
معلم کی شرائط اور مکاتب کی نگرانی
شیخ محمد شربینی لکھتے ہیں: ” مسلمان مکتب کے استاذ میں خاص شرائط دیکھتے تھے۔ مثلاً : وہ نہایت با اعتماد ہو، اسے بچوں کی تربیت کے طریقے آتے ہوں، ان کی نفسیات کو جانتا ہو۔ دیندار اور پرہیزگار ہو۔ شادی شدہ ہو۔ جوانوں کو یہ پیشہ نہیں اپنانے دیتے تھے۔“
ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین لکھتے ہیں کہ: ” خود مکتب کے استاذ میں بھی کئی خصوصیات ضروری سمجھتے تھے ۔ صرف اس شخص کو منتخب کرتے تھے جس کے اخلاق کے بارے میں انہیں اطمینان حاصل ہوتا۔ وہ سمجھدار، کردار کا پکا ، پاکدامن اور قابل اعتماد ہوتا۔ مزید یہ کہ اسے قرآن اور دیگر علوم پر دسترس ہوتی۔ امام قابسی فرماتے ہیں کہ:’’ معلم کو با رعب ہونا چاہیے لیکن سخت نہیں۔ نہ ہی اسے ایسا غصیلا ہونا چاہیے کہ ہر وقت تیور چڑھے رہیں اور نہ ہر وقت ہنسی مذاق کی عادت ہو۔ بچوں کے ساتھ نرمی برتے لیکن لاڈ نہ کرے۔ معلم کو چاہیے کہ بچوں کو ادب سکھائے‘‘۔ 12
آگے لکھتے ہیں کہ: ”مکتب پر نگرانی کی ذمہ داری محتسب پر عائد ہوتی تھی۔ محتسب کو چاہیے کہ وہ دیکھے آیا استاذ مندرجہ ذیل اوصاف سے متصف ہے یا نہیں۔ کہ وہ نیکو کار، پاکدامن ، امانت دار، حافظ ِقرآن، خوش خط اور ریاضی کا علم رکھنے والا ہو۔ بہتر ہے کہ شادی شدہ ہو۔ اگر شادی شدہ نہ ہو تو کم از کم بزرگ ہو ورنہ مکتب کھولنے کی اجازت نہ دے ۔ معلم کی دینداری اور نیک نامی معروف و مشہور ہو۔ اور اس سب کے باوجود اسے اس وقت تک پڑھانے کی اجازت نہ دی جائے جب تک اس کے کردار کے بارے میں تسلی بخش گواہی نہ مل جائے اور یہ ثابت نہ ہو کہ وہ اس کام کے لیے لائق ہے‘‘۔13
مکاتب کی تعداد، حجم، موقع محل اور اثاثہ جات
ڈاکٹر عباس محجوب فرماتے ہیں کہ : ” اسلام کے اولین دور میں مکاتب بہت عام نہ تھے کیوں کہ تعلیم کی بنیادی ذمے داری والدین اور خاص خاص معلمین پر ہوتی تھی۔“
لیکن بعد کے ادوار کے بارے میں ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین فرماتے ہیں: ”مکاتب اپنے حجم اور تعداد کے اعتبار سے بڑے چھوٹے ہوتے تھے۔ پس ابو قاسم بلخی کے مکتب میں تین ہزار بچے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ یاقوت کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکتب مسجد سے علیحدہ قائم تھا اور اتنا کشادہ تھا کہ اس میں طلبا کی اتنی بڑی تعداد سما جاتی تھی۔ اسی لیے استاذ بلخی طلبا کے مختلف مجموعوں کی طرف گدھے پر بیٹھ کر جایا کرتے تھے۔ 14
ڈاکٹر عباس محجوب لکھتے ہیں: ” بچوں کو مساجد کے اندر تعلیم دینا مناسب نہ سمجھا جاتا تھا ،(بلکہ مکاتب میں دی جاتی تھی) چاہے مکاتب مساجد کے قریب یا ان سے ملحق ہی کیوں نہ ہوں“۔ آگے امام شافعی کا قول نقل کرتے ہیں کہ: ” میں اپنی ماں کی گود میں یتیم تھا تو انہوں نے مجھے مکاتب کے حوالے کیا۔ پھر جب میں نے قرآن ختم کیا تو میں مسجد میں داخل ہوا اور علمائے کرام کی مجلسوں میں شریک ہوا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان بچوں کو مساجد میں تعلیم نہیں دیا کرتے تھے کیوں کہ بچے مسجد کا ادب اور احترام کا خیال نہیں رکھ سکتے۔ البتہ مساجد میں بڑوں کی تدریس کے حلقے جاری تھے۔“
ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین مکتب کی اشیا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” مکاتب کی اکثریت میں چٹائیاں بچھی ہوتی تھیں،جن پر بچے اپنے استاذ کے گرد بیٹھتے تھے۔ پڑھنے لکھنے کے لیے قرآن کریم کا نسخہ، تختیاں، قلم اور دوات ہوتے تھے۔ بسا اوقات معلم کے بیٹھنے کے لیے تختہ ، کرسی یا چبوترا بھی مختص ہوتا تھا۔ 15
مکاتب میں تعلیم کی عمر
ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین لکھتے ہیں کہ: ”مکاتب میں تعلیم کی عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عام طور پہ چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو بھیجا جاتا تھا۔ یعنی پانچ سے سات سال کی عمر میں۔ اور یہ تعلیم اس وقت تک جاری رہتی جب تک بچہ پورا قرآن نہ حفظ کر لیتا یا قرآن کی ایک خاص مقدار حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ لکھنا پڑھنا، کچھ نحو و صرف اور کچھ ریاضی اور دیگر ایسی معلومات جنہیں اس زمانے کے لوگ دین سمجھنے کے لیے ضروری گردانتے تھے۔16
اور چونکہ بچے چھوٹی عمر میں مکتب جایا کرتے تھے ،اس لیے گھر والوں پر ذمہ داری عائد ہوتی کہ وہ انہیں بحفاظت مکتب پہنچائیں اور پھر واپس لے جائیں۔ اس کے لیے وہ عموماً کسی بڑے شخص کو بچے کے ساتھ بھیجتے تھے، جسے اس زمانے میں سائق کہا جاتا تھا۔ آج کل آپ اسے بچوں کو سکول لے جانے والے ڈرائیور سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ اس سائق میں چند صفات کا ہونا لازمی گردانتے تھے مثلاً : وہ امانت دار اور ذمہ دار ہو۔ کیونکہ بچہ کم از کم دو وقت سائق کے سپرد ہوتا تھا ،جس دوران ان کا گزر سنسان علاقوں سے بھی ممکن ہوتا۔ نیز ایسے شخص کا گھر کی عورتوں سے آمنا سامنا بھی عین ممکن ہوتا۔‘‘17۔ خود سوچیے کہ صرف اساتذہ ہی نہیں مکتب سے متعلق دیگر عملے کے بارے میں بھی ان کے کام کے حوالے کتنی واضح ہدایات تھیں۔
التراتیب الاداریہ کے مصنف شیخ سید عبد الحیٔ کتانی بچپن میں تعلیم کی عمر کے بارے میں سلف کی کافی روایات نقل کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان روایات کے بارے میں علمائے کرام کے اقوال بھی نقل کرتے ہیں جو حسب ذیل ہیں:
- شیخ علی متقی ابن ہندی مکیؒ سے پوچھا گیا کہ یہاں کے اکثر خطوں میں یہ معمول ہے کہ جب بچہ چار سال، چار مہینے اور چار دن کا ہو جاتا ہے تب اسے قرآن کریم پڑھانا شروع کیا جاتا ہے۔ تو کیا اس کے بارے میں کوئی حدیث یا سلف سے روایت آپ کے علم میں ہے؟ انہوں نے جواب میں لکھا کہ: ”اس کے بارے میں مجھے کوئی مستند روایت نہیں ملی۔ البتہ بعض حضرات سے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا سینہ مبارک اس عمر میں چاک کیا گیا تھا اور انہیں اقرأ کا حکم دیا گیا تھا۔ اگرچہ اس روایت میں اختلاف ہے لیکن بفرضِ صحت اس سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہوگا ۔18 اور پھر امام زرکشیؒ کا اس بارے میں یہ قول نقل کرتے ہیں کہ: ’’یہ مشہور احادیث کے خلاف ہے۔ ‘‘
- امام بخاری ؒ نے کتاب الزکاۃ میں ایک باب باندھا ہے کہ’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت حسن ؓ کے منہ سے صدقے کی کھجور نکالی۔‘‘ تو اس کے بارے میں امام دمامینیؒ کی شرح نقل کرتے ہیں کہ: ”بچوں کو کسی چیز سے منع کرنے پر انہیں پتا چل جاتا ہے کہ انہیں کیوں منع کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل بچپن میں اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ جب وہ بالغ ہوں اور ذمے دار ہو جائیں تو انہیں شرعی احکام کا پہلے سے پتا ہو۔“
- پھر آگے امام دمامینیؒ امام مالکؒ کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ انہیں (یعنی امام مالکؒ کو )بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی قرآن کی تعلیم دینا پسند نہ تھی۔ کیونکہ روایت میں آتا ہے کہ جب انہیں ایک ایسے بچہ کے بارے میں بتایا گیا جس نے تقریباً سات سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا تھا تو انہوں نے برا مانا۔19 لیکن اس قول کی امام دمامینیؒ یہ توجیہ پیش کرتے ہیں کہ: ”البتہ میری رائے ہے، واللہ اعلم، کہ امام مالک ؒکی نا پسندیدگی کی وجہ یہ خدشہ تھا کہ بچہ تلاوت میں غلطیاں کرے گا یا حروف کو ان کے صحیح مخارج سے نہ ادا کر سکے گا۔ نیز بچے کو چھوٹی عمر سے تعلیم دینے کا مطلب اسے اس کھیل کود سے منع کرنا ہے جو بچے کی جسمانی نشو و نما کے لیے ضروری اور اس کی طبیعت کے لیے باعثِ سرور ہوتا ہے۔ جبکہ امام بخاری کا یہ باب باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ بچوں کی تادیب و تربیت میں میانہ روی اختیار کی جائے۔“
- ’’کشف الغمۃ ‘‘میں امام شعرانیؒ لکھتے ہیں کہ : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ممیز لڑکے کی امامت کی اجازت دی ہے خصوصا اگر وہ تمام لوگوں سے زیادہ قرآن جانتا ہو۔‘‘ حضرت عمرو بن ابی سلمہ ؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے حالانکہ وہ چھ، سات یا آٹھ سال کے تھے۔“
’’ التراتیب الاداریہ ‘‘کے مصنف لکھتے ہیں کہ : ”حضرت عمرو بن ابی سلمہؓ کا جو واقعہ امام شعرانیؒ نے نقل کیا ہے اسی کی طرف امام حافظ ابن حجر ؒ نے ’’الاصابہ‘‘ میں حضرت عمروؓ کے تذکرے میں اشارہ کیا ہے۔ وہاں عبارت یہ ہے کہ : ’’صحابہ نے حضرت عمرو بن ابی سلمہ ؓکو کم عمری کے باوجود امام بنایا کیونکہ انہیں ان سب میں سے زیادہ قرآن کا علم تھا۔‘‘20اور پھر خود اپنی رائے واضح کرتے ہیں کہ: ”یہ سب اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کے دور میں بچپن سے ہی تعلیم دی جاتی تھی۔“۔ یہ روایتیں کم عمری میں امامت کے فقہی جزئیے کے بیان کے لیے نہیں ذکر کیں بلکہ اس لیے کہ صحابہ کو چھوٹی عمر سے ہی تعلیم دی جاتی تھی۔
- امام مجاجیؒ نے ’’مختصر ابن ابی جمرہ ‘‘کی شرح میں ’’ابن الحاج‘‘ کی کتاب ’’المدخل‘‘ سے نقل کیا ہے کہ: ”سلف اپنے بچوں کو سات سال کی عمر سے قرآن پڑھانا شروع کرتے تھے۔ بہت سے لوگ اپنی اولاد کو نہایت چھوٹی عمر سے قرآن سکھاتے ہیں لیکن یہ بے فائدہ بوجھ ہے۔“ جبکہ امام قسطلانیؒ نے باب ’’تعلیم الصبیان القرآن‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ: ”حضرت سفیان بن عیینہؒ نے قرآن چار سال کی عمر میں یاد کیا۔“ اور کتاب’’فواتح الرحموت فی مسلم الثبوت‘‘ میں آیا ہے کہ:” امام شافعیؒ نے موطا پانچ سال کی عمر میں یاد کی۔“ خود صاحب ’’التراتیب‘‘ اپنے مطالعے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ: ”میرے مطالعے سے گزرنے والی عجیب باتوں میں سے ایک وہ ہے جو میں نے (السلم) پر ملوی کی شرح پر صبان کے حاشیے میں پڑھی کہ ’’ابن مرزق‘‘ نے ’’خونجی‘‘ کے شعر چھ سال کی عمر میں مرتب کیے، جیسا کہ خود انہوں نے اس بات کی صراحت کی ہے۔ اور بعض نے ’’ابن حاجب‘‘ کے بارے میں یہی کہا ہے۔ لیکن جس نے ’’صحرائے شنقیط‘‘ (جو آج کل افریقہ کے ملک موریتانیہ میں واقع ہے جہاں کے علماء اپنے حفظ کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہیں)کے لوگوں کے ساتھ وقت گزارا ہو اسے قطعاً کوئی تعجب نہ ہوگا“۔
پھر خلاصے کے طور پہ صاحب التراتیب الاداریہ شیخ سید عبد الحیٔ کتانی لکھتے ہیں کہ: ”ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں قول فیصل یہ ہو کہ عمر کا معاملہ قابلیت اور ذہانت کے اختلاف کے سبب مختلف ہو سکتا ہے۔ کشف الغمہ کی روایت میں یہ صریح دلالت نہیں ہے کہ تمام صحابہ اتنی چھوٹی عمر میں پورا کا پورا قرآن حفظ کر لیتے تھے۔ ہاں کچھ نہ کچھ حصہ تو ضرور یاد کرتے تھے۔ اور یہ وہ معاملہ بھی نہیں ہے جسے امام مالکؒ نے نا پسند کیا واللہ اعلم۔“ آگے لکھتے ہیں کہ: ”بہر حال اس باب کا خلاصہ جیسا کہ ’’عتبیہ ‘‘میں لکھا ہے، یہ ہے کہ امام مالک ؒسے ایک لڑکے کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سات سال کی عمر میں پورا قرآن حفظ کیا تھا تو انہوں نے فرمایا:’’ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ ابنِ رشد نے ’’البیان والتحصیل‘‘ میں لکھا ہے کہ امام مالکؒ نے اس لیے کہا کیونکہ بچے پر سختی کیے بغیر اتنی مقدار یاد کروانا ممکن نہیں ،جب کہ اس کی عمر بہت کم ہے۔ ہمارے خیال میں اس کے ساتھ نرمی برتنی چاہیے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ’’ اللہ نرم خو ہیں اور اللہ کو ہر معاملہ میں نرم خوئی پسند ہے۔“
مکتب کے اوقات
ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین لکھتے ہیں کہ : ”مکتب کے اوقات، کائنات کے فطری نظام کے تابع تھے۔ سورج کے طلوع ہونے سے لے کر عصر کی نماز تک تعلیم جاری رہتی دن بڑا ہو یا چھوٹا۔ 21
جبکہ ”ابن الحاج العبدری‘‘ ہفتہ وار چھٹی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حدیث کے بنا پر مستحب ہے کہ آپ نے فرمایا:
’’روحوا القلوب ساعة بعد ساعة۔‘‘
’’دلوں کو گھڑی کے بعد ایک گھڑی آرام دیا کرو۔‘‘
پس اگر بچے ہفتے میں دو دن آرام کر لیں تو باقی ہفتہ چست رہیں گے۔ 22
یہ حدیث کنز العمال میں بھی نقل ہوئی ہے۔ جبکہ مصنف ابن ابی شیبہ کی عبارت ہے کہ:
’’روحوا القلوب تعي الذكر۔‘‘
’’دلوں کو آرام دو تاکہ اسے ذکر سمجھ آئے۔‘‘
جبکہ صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں ایک روایت ہے کہ :حضرت حنظلہ بن ربیع اسدیؓ ـجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کاتبین میں سے تھے ـایک دن حضرت ابو بکرؓ سے ملے تو حضرت ابو بکرؓ نے ان کا حال دریافت فرمایا۔ حضرت حنظلہؓ نے کہا ’’ حنظلہ (یعنی میں)تو منافق ہوگیا ۔‘‘ اس پر حضرت ابو بکرؓ نے تعجب کرتے ہوئے کہا:’’سبحان اللہ یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ حضرت حنظلہؓ نے فرمایا کہ :’’ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں ہوتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہم سے جنت اور دوزخ کے تذکرے کرتے ہیں۔ اور ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ پھر جب ہم ان کے یہاں سے نکلتے ہیں تو اپنے بچوں، بیویوں اور جائیدادوں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اور بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ ‘‘حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: ’’یہ معاملہ تو ہمارا بھی ہے!‘‘ اس پر یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا معاملہ بیان کیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تم لوگ ہمیشہ اسی حالت میں رہو جس میں تم میرے یہاں ہوتے ہو ، اور ہمیشہ ذکر میں مصروف رہو، تو فرشتے تمہارے بستروں اور تمہارے راستوں میں آ آ کر تمہیں سلام کرتے۔ پھر تین مرتبہ فرمایا:
’’ولكن يا حنظلة ساعة وساعة۔‘‘
’’لیکن اے حنظلہ! گھڑی اِس طرح اور گھڑی اُس طرح۔“ 23
خطیب بغدادی نے الجامع لاخلاق الروای میں حضرت علی ؓ کا قول نقل کیا ہے:
’’روحوا القلوب وابتغوا لها طرف الحكمة فإنها تمل كما تمل الأبدان ۔‘‘
’’دلوں کو آرام دیا کرو !(کیونکہ دل اسی طرح تھکتا ہے جیسے جسم تھکتا ہے)۔ اور دلوں کے لیے دانائی کی ہلکی پھلکی باتیں چنا کرو! کیوں کہ دل اسی طرح اچاٹ ہوتا ہے جیسے جسم ۔‘‘
اسی طرح وہ امام زہری ؒ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص صحابہ کرام ؓ کے ساتھ ان کی مجالس میں شریک ہوتا تھا اور ان کے ساتھ تعلیم و تعلم میں مشغول رہتا پھر جب اس پر اس قسم کی گفتگو گراں گزرتی [گراں گزرنےکے بجائے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مشکل ہو جاتی ] تو کہتا:
’’إن الأذن مجاجة وإن للقلب حمضة, فهاتوا من أشعاركم وأحاديثكم۔‘‘
’’[میرا] کان بوجھل ہے اور دل [کچھ] ترش ہو گیا ہے۔ لاؤ اپنے شعر اور لاؤ یہاں وہاں کی باتیں۔ [(لاؤ اپنے شعر) سے آخر تک کے جملے کو یوں ادا کیا جا سکتا ہے کہ : چلو کچھ شعر و شاعری اور گفت و شنید ہو جائے] ‘‘
التراتیب الاداریہ کے مصنف لکھتے ہیں کہ : ”شیخ مختار کنتی سے دریافت کیا گیا کہ بدھ جمعرات اور جمعے کے دن مکتب کا استاذ بچوں کو کیوں نہیں پڑھاتا ؟تو انہوں نے جواب دیا: ’’بچے ہفتے کے تمام دن قرآن کریم پڑھا کرتے تھے۔ پھر جب حضرت عمر ؓ شام فتح کرنے کے بعد واپس مدینہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ اپنے بچوں سمیت ان کے استقبال کے لیے نکلے۔ اور یہ بدھ کا دن تھا۔ پھر مدینہ والوں نے بچوں سمیت جمعےکی صبح تک کا وقت حضرت عمرؓ کے ساتھ گزارا۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے یہ یہی وقت مکاتب کے بچوں کے آرام کے لیے مقرر کر دیا۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ سلف نے ہمارے یہاں آج تک کی ہونے والی تمام چھٹیوں کا اہتمام کیا۔“
مکاتب کے فقہی احکامات
مکاتب کا مسلمانوں کے یہاں اتنا رواج ہوا کہ ہمیں فقہ کی کتابوں میں کئی مقامات پر مکاتب سے متعلق خاص ابواب ملتے ہیں جن کی چند مثالیں ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔
- معلم پر جرمانہ۔ یعنی استاذ کی سختی کے سبب بچے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس پر جرمانہ۔ چنانچہ’’ المنتقی شرح الموطا ‘‘ میں (معلم کا بچوں کو مارنا) کے عنوان کے تحت لکھا ہے: ”مکتب اور کسی بھی پیشے کا معلم اگر لڑکے کو تادیبا معروف طریقے سے مارے تو اس پر کوئی ضمانت نہیں۔ کیونکہ اسے ایسا کرنے کا حکم اور اجازت ملی ہوئی ہے۔ البتہ اگر مار اس حد سے بڑھ جائے، یا تادیب کی خاطر نہ مارے(بلکہ اپنا غصہ اتارے)، یا تادیب میں مارتے ہوئے حد سے گزر جائے تو امام مالکؒ نے فرمایا کہ یہ قتل خطا کے زمرے میں سے ہے۔ اس لیے اگر نقصان کی مقدار ایک تہائی دیت سے کم ہو تو معلم خود ادا کرے اور اگر ایک تہائی سے زیادہ ہو تو اس کے عاقلہ [یعنی ددھیال کے نرینہ رشتہ دار] ادا کریں۔ چاہے وہ تعلیم اجرت پر دے رہا ہو یا بغیر کسی اجرت کے۔“
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کی کتب میں سے ایک پوری کتاب ”جنایہ معلم الکتاب“ کے نام سے ہے یعنی مکتب کے استاذ کے جرائم (یعنی اس کا کس نوعیت کا طرزِ عمل اور سزائیں قابلِ گرفت جرم کے زمرے میں آتی ہیں)۔24
- تعلیم کی اجرت۔ یہ مسئلہ خصوصاً قرآن کی تعلیم کے حوالے سے تو نہایت مشہور ہے۔ اس مسئلے کا تذکرہ سابقہ مسئلے میں بھی ملتا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر عباس محجوب امام شافعی ؒکا قول نقل کرتے ہیں کہ: ” میں اپنی ماں کی گود میں یتیم تھا تو انہوں نے مجھے مکاتب کے حوالے کیا۔ لیکن ان کے پاس اتنا نہ تھا کہ وہ استاذ کو دیتیں اس لیے استاذ نے ان سے یہی قبول کر لیا کہ میں ان کے جانے کے بعد ان کا قائم مقام رہوں‘‘۔ (بحوالہ: جامع بیان العلم و فضلہ از قرطبی)
- طلاق کی صورت میں بچے کی تربیت کی ذمہ داری۔ امام نوویؒ اپنی کتاب ’’المجموع شرح المہذب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ :”اگر میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو گئی اور بچہ سات آٹھ سال کا ہے اور وہ اپنی ماں کے یہاں رہتا ہے تو والد کو چاہیے کہ وہ اسے دن کے وقت ماں کے گھر سے لے اور کسی مکتب یا صنعت کے حوالے کرے اور پھر شام کو واپس پہنچائے۔ کیونکہ مقصد تو بچے کا فائدہ ملحوظ رکھنا ہے ۔ اور بچے کا اسی میں فائدہ ہے۔“[فقہ حنفی کی رو سے لڑکا جب سمجھ دار ہوجائے تو پرورش باپ کا حق ہے،اور لڑکی جب بالغ ہو تو پرورش باپ کا حق ہے،سمجھ دار کا مطلب ہے کہ اپنے ہاتھ سے کھائے ،پیے اور وضو، استنجاکرے۔لڑکے کی سمجھ داری اور لڑکی کی بلوغت سے پہلے پرورش کا حق ان کی ماں کا ہے(بدائع الصنائع؛کتاب الحضانۃ،فصل:پرورش کس کا حق ہے؟) ]
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
1 دیکھیے: المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام بحوالہ جمہرۃ ابن حزم
2 بحوالہ جامع بیان العلم و فضلہ از قرطبی۔
3 دیکھیے: الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔ اور الاصابہ فی تمییز الصحابہ
4 بحوالہ مقدمہ ابن خلدون
5 بحوالہ :جامع بیان العلم و فضلہ از قرطبی
6 بحوالہ : التربیہ الاسلامیہ از احمد شلبی
7 بحوالہ: دراسات وبحوث فی تاریخ التربیہ الاسلامیہ از مجاہد توفیق جندی
8 شیخ محمد شربینی نے تعلیم کے جو طریقے بیان کیے ہیں ان کی بنیاد مقدمہ ابن خلدون ہے ۔
9 بحوالہ: معالم القربہ فی احکام الحسبہ، از ابن الاخوۃ القرشی
10 بحوالہ : آداب المعلمین از ابن سحنون
11 بحوالہ: التعلیم فی مصر زمن الایوبیین والممالیک از عبد الغی محمود عبد العاطی
12 بحوالہ: مقدمہ کتاب آداب المعلمین لابن سحنون از حسن حسنی عبد الوہاب
13 بحوالہ: معالم القربہ فی احکام الحسبہ از محمد بن محمد قرشی، ابن اخوۃ
14 بحوالہ: التربیۃ الاسلامیہ از احمد شلبی
15 بحوالہ: مقدمۃ کتاب آداب المعلمین لابن سحنون از حسن حسنی عبد الوہاب
16 بحوالہ: التربیہ فی الاسلام از احمد فواد اہوانی
17 بحوالہ: نہایۃ الرتبہ فی طلب الحسبہ از عبد الرحمن بن نصر الشیرزی
18 بحوالہ : الجامع من مجمع بخار الانوار ،از شیخ محمد طاہر فتنی
19 بحوالہ: تحفۃ الاکابر از ابن المنیر
20 بروایت بخاری
21 بحوالہ: التربیہ الاسلامیہ فی القرن الرابع الہجری از حسن عبد العال
22 بحوالہ : المدخل از ابن الحاج العبدری
23 دیکھیے: جامع الاصول فی احادیث الرسول از ابن الاثیر
24 دیکھیے: معجم الادباء






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



