نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

خطوط سُوئے مغربِ اسلامی

by محمد متین مغل
in جون و جولائی 2026ء, فکر و منہج
0

عرضِ مترجم

یہ دو مختصر خطوط جہاں ایک طرف جہادی قیادت کے عصری فہم اور سیاسی بصیرت کو واضح کرتے ہیں ،وہیں دوسری طرف اتباعِ شریعت اور نفاذِ شریعت کی بابت ان کا دو ٹوک موقف بھی واضح کرتے ہیں ،اس مسلکِ اعتدال کی بابت بلا خوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ  ’’ہر ہو سنا کے نداند جام و سندان باختن‘‘،اور یہ حق کی راہوں میں تکالیف جھیلنے پر ملنے والا الٰہی انعام ہے۔ ارشادِ باری ہے:

وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا    ۭ (سورۃ العنکبوت: ۶۹)

’’اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے۔‘‘

ان اہلِ حق نے جہاں ایک طرف معاصر خوارج کی (رحم سے خالی،عقوبات میں منحصر خود ساختہ شرعی تعبیر) کو رد کیا ہے تو دوسری طرف اسلام کے اس امریکی و استشراقی نسخے (رینڈ کارپوریشن کی اصطلاح میں :سِوِل ڈیموکریٹک اسلام) کو بھی مسترد کیا ہے جس میں اقامتِ حدود،امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا گیا ہے۔ افراط و تفریط سے پاک اہلِ سنت کے اس اصیل منہج کو اپنانے کی قیمت کاتب و مکتوب الیہ ہر دو حضرات نے خون دے کر چکائی ہے ،یہ خزینہ اس قابل ہے کہ اسے حرزِ جاں بنایا جائے ،اس کی مفصل شرح کی جائے ،ان مفاہیم کو عام کیا جائے ۔

اللہ کریم کاتب و مکتوب الیہ کی طرح مترجم کو بھی اپنی راہ میں مقبول شہادت دے۔ آمین

نوٹ: مترجم نے متن میں جو توضیحی عبارت دی ہے اسے چوکور[]چوکھٹ میں درج کیا ہے،نیز سارے حواشی مترجم کی طرف سے اضافہ کیے گئے ہیں ،اصل متن کا حصہ نہیں  ۔


پہلا خط

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علیٰ اشرف الانبیاء و المرسلین

امابعد!

محبوب شیخ اور باصلاحیت امیر ابو مصعب عبد الودود حفظہ اللہ کے نام!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میرا یہ خط آپ تک پہنچے تو آپ خیریت سے ہوں،  نعمتوں میں ہوں اور ایک کے بعد دوسری فتح کی جانب گامزن ہوں۔[آمین]

مغربِ اسلامی سے فتح کی بادِ نسیم ہم تک پہنچی اور اس نے اہلِ مشرق کے مشامِ جاں کو معطر کر دیا، اپنے اسلاف کی فتوحات کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا،آپ نے ہمارے  اور اہلِ اسلام کے دلوں کو خوش کر دیا، اللہ آپ کی فتح اور اقتدار کے جھنڈوں کو بلند رکھے۔ [آمین]

ہمارے محبوب شیخ! گو ہمارے سامنے مالی اور ٹمبکٹو کی فتوحات کی مکمل تفصیل نہیں، لیکن [اجمالی طور پر ]ہمیں معلوم ہے کہ یہ آپ کا کارنامہ ہے، آپ کے جہاد اور ثابت قدمی کی برکت ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ آپ [یعنی تنظیم القاعدۃ  برائے مغربِ اسلامی] اور انصار الدین1دسمبر 2011ء میں شمالی مالی میں شیخ  ایاد الغالی نے اس کی بنیاد رکھی، اس وقت القاعدہ سے تعلق کی نفی کی گئی تھی، بعد ازاں مارچ 2017ء میں جب انصار الدین کے ساتھ دیگر جماعتوں کے اتحاد کے نتیجے میں ’جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین ‘ تشکیل دی گئی تو اس وقت دیگر قائدین کی موجودگی میں منتخب امیر شیخ ایاد الغالی نے تنظیم القاعدہ کی بیعت کی۔  یہ ویڈیو جماعت نصرۃ الاسلام و المسلمین کے رسمی اعلامی ادارے(الزلاقۃ) سے نشر کی گئی۔   دو الگ [لیکن برادر جہادی]جماعتیں ہیں یا آپ بھی ہماری طرح ہیں  یعنی القاعدۃ برائے جزیرہ عرب اور انصار الشریعۃ![جو بظاہر دو تنظیمیں ہیں ،لیکن دراصل ایک ہیں ]

ہمارے معزز شیخ! اللہ نے آپ کے ہاتھ کئی علاقے فتح کروا دیے ہیں، آپ کے زیرِ اقتدار علاقے اسلامی سلطنت کا ایک ماڈل و نمونہ ہیں۔ لوگ اور ساری دنیا آپ کے اگلے اقدام کو دیکھ رہی ہے کہ آپ کیسے اپنی سلطنت کو چلاتے ہیں؟ دشمن تو آپ کی ناکامی کی تاک میں بیٹھا ہے اور آپ کے سامنے رکاوٹیں بھی کھڑی کر رہا ہے، تاکہ لوگوں کے سامنے یہ ثابت کر سکے کہ مجاہدین صرف جنگ لڑ سکتے ہیں ،ملک چلانا اور لوگوں کے مسائل حل کرنا ان کے بس میں نہیں ۔

میرے معزز شیخ! آپ کو معلوم ہے کہ لوگ دین سے بہت دور جا چکے ہیں، امت کی کئی نسلیں ایسی ہیں کہ وہ دین کے محض کچھ احکام کو ہی جانتی ہیں، ان پر روزگار کے وسائل اتنے تنگ کر دیے گئے ہیں کہ  زندہ برقرار رکھنے کے لیے خوراک  کے حصول کے لیے ہی سرگرداں رہتے ہیں [دین کیا سیکھیں اور اس کے تقاضے کیسے بجا لائیں]، ان پر حکام  بھی ایسے مسلط ہوئے جنہوں نے دہائیوں پر پھیلی طویل اور منظم سازشوں  سے انہیں دین سے دور کیا۔ سو اس سب خرابی کے بعد اللہ نے امت کو آپ جیسے حکمرانوں سے نوازا ہے،لہذا آپ اپنی رعایا کے ساتھ احسان والا معاملہ کریں ،نرمی و رحم دلی کے پہلو کو ترجیح دیں، دنیا کا ساز و سامان بڑا حقیر ہے ،اسے خرچ کر کے ان کے دل جیتیں، ان کے کھانے پینے کی ضروریات کا خیال رکھیں، بجلی و پانی کی فراہمی اور صحت کے مسائل پر توجہ دیں، یاد رکھیں کہ ہماری عوامی حمایت میں ان چیزوں کا بڑا اثر ہے ،اس سے وہ ہماری فکر کو بھی اپنا لیتے ہیں اور ہماری صف میں شامل ہو جاتے ہیں ،اسی عرصے میں  ہمارے اپنے تجربے کا سادہ سا حاصل بھی یہی ہے۔2مئی 2011ء میں القاعدہ جزیرۂ عرب نے یمن میں زنجبار کے ساحلی علاقے کو آزاد کروا کر وہاں شریعت کے مطابق حکمرانی کی۔ شیخ ابو بصیر شہید رحمہ اللہ یہاں اس جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

لوگوں کو دین پر لانے کے معاملے میں مرحلہ وار حکمتِ عملی اپنائیں، یہ شریعت ہی کا سکھایا ہوا سبق ہے، مثلاً: ہم  ایسے لوگوں کو نشہ آور چیزوں کے استعمال پر زد و کوب نہ کریں ،جو ابھی سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتے، تو سب سے پہلے سب سے بڑے معروف کو قائم کرنا ضروری ہے، یعنی دین کی اقامت اور توحید کے احکام کی ترویج [عقائد کی تصحیح اور معاشرے کے عمومی مزاج کو دینی ڈھب پر لانا]، اسی طرح ہماری اولین ترجیح ان کو سب سے بڑے منکر سے روکنا ہو گی، پھر اس سے چھوٹے منکر کی باری آئے گی اور پھر اس سے چھوٹے کی [یوں درجہ بدرجہ،الاھم فالاھم کی ترتیب پر]، سو جو منکر معاشرے میں بہت عام ہو چکا ہو تو اس کی بابت پہلے لوگوں کو نرمی سے، حکیمانہ دعوت سے سمجھایا جائے گا، پھر ایک معتد بہ وقت گزرنے کے بعد ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کا لہجہ اپنایا جائے گا، اور آخر میں [منکر کی حقیقت اور اس کی مضرت واضح ہو جانے کے بعد] اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، تو سب سے پہلے ہم توحید کے جوانب  [اصلاحِ عقائد] پر زور دیں گے اور اس کی ضد یعنی شرک  و سحر کا راستہ روکیں گے،پھر حدود اور دیگر کبیرہ گناہوں کا سدِ باب ہو گا۔ 3یہاں یہ واضح رہے کہ  شیخ کسی ادارے یا حکومت کو کوئی لائحہ نہیں دے رہے، بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مسلمہ اصول و شروط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کچھ رہنما اصول بتا رہے ہیں جن کی پاسداری کی ایک نوزائیدہ اسلامی حکومت کو بالخصوص ضرورت ہے ۔

حالتِ جنگ میں حد قائم کرنے کا مسئلہ سلف میں مشہور ہے، اس کی بنیاد پر موجودہ صورتحال [یعنی جہاد کے نتیجے میں کم رقبے پر قائم ہونے والی ، کم وسائل کی حامل کمزور جہادی حکومتیں  جن کے بقا کے اسباب کم اور کچھ عرصے میں ختم ہونے کے امکانات زیادہ ہیں4در حقیقت یہ عارضی جہادی حکومت  اور وقتی سلطہ جہاد کا ایک ایسا مرحلہ ہے جس میں مجاہدین کی دعوت معاشرے میں پھیل کر اپنی جگہ بنا لیتی ہے،  لیکن اصل حکومت کا مرحلہ ابھی دور ہوتا ہے، یہ وقتی اقتدار تو جنگ ہی کا ایک رخ ہوتا ہے، جسے اپنانے میں جلد بازی یا اسے چھوڑنے میں تاخیر سخت مہلک ہوتی ہے، اس ضمن میں امارت اسلامی افغانستان، تنظیم القاعدہ برائے جزیرہ عرب، حرکۃ الشباب (تنظیم القاعدہ برائے مشرقی افریقہ) اور تنظیم القاعدہ  برائے مغرب اسلامی کا طرزِ عمل انتہائی مفید ہے۔ دیگر جہادی تحریکات کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے کہ کب علاقہ پکڑنا چاہیے اور کب چھوڑ کر دوبارہ گوریلا جنگ کی طرف جانا چاہیے۔ بالخصوص حرکۃ الشباب کا تجربہ اس بابت انتہائی مفید ہے۔ یہ حضرات، جب بھی افریقی کفری اتحاد کی طرف سے بڑے پیمانے پر فوج کشی  ہوتی ہے ،تو آزاد علاقوں سے پسپا ہو کر دشمن کو آنے کا موقع دیتے ہیں اور پھر ان کی جو درگت بناتے ہیں تو اسے بھاگتے ہی بن پڑتی ہے۔] میں محدود اجتہادی فتوے کی ضرورت ہے، ہمیں جب اقتدار ملا تو شروع میں ہمارا اجتہاد یہ تھا کہ اقامتِ حد کو فی الحال  مؤخر رکھا جائے، کچھ وقت گزرنے کے بعد جب لوگ کے دلوں میں توحید راسخ ہو گئی [دین داری غالب ہو گئی، تصحیحِ عقائد اور اصلاحِ اعمال کا کام ایک حد تک ہوگیا] تو پھر ہم نے اقامتِ حدود کا فریضہ بھی جاری کر دیا۔ البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بعض لوگ جو یہ سمجھتے ہیں  یا انہیں سمجھایا گیا ہے کہ شریعت کے حاکم ہونے کا ایک ہی مطلب ہے یعنی حدود کا جاری  ہونا تو یہ بات غلط  ہے [یعنی جب تک کوئی حد جاری نہ ہو تو یہی سمجھا جائے کہ ابھی شریعت مکمل نافذ نہیں ہوئی]، تو لوگوں میں رائج اس غلط اصطلاح اور سوچ کو ٹھیک کرنا ضروری ہے۔

کوشش کریں کہ جہاں معاملہ مشکوک ہو وہاں حد جاری نہ کریں [یہی دین کی دی ہوئی تعلیم ہے5ادرؤو الحدود عن المسلمین مااستطعتم [جامع الترمذی،کتاب الحدود،باب ماجاء فی درءالحدود]]، معاشرے ایسے جرائم سے خالی نہیں ہوتے، البتہ جہاں مجبور ہو  جائیں [کہ کوئی شبہ  نہ ہو اور قابلِ حد جرم ثابت ہو  جائے] تو اور بات ہے۔ ہم نے لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا اور اس کے نتائج بہت اچھے نکلے، ہم سے لوگوں کی محبت اور ہمارے دشمنوں سے ان کی نفرت میں اضافہ ہوا اور وہ خود دینی واجبات پر عمل پیرا ہو گئے۔ معاشرہ ظاہری طور پر بھی بڑے اور سنگین گناہوں سے پاک ہو گیا، رہے نسبتاً کم درجے کے گناہ اور وہ معصیتیں جن کے گناہ ہونے میں اختلاف ہے تو ان میں مزید صبر،  حوصلے، نرمی اور حکمت کی ضرورت ہے۔

یہ کچھ باتیں میں نے ذکر کی ہیں جو لوگوں کے ساتھ ہمارے تعامل کا حاصل ہے ،ہم نے چاہا کہ آپ کو اس سے باخبر کر دیں، ورنہ آپ تو ہمارے بڑے اور بزرگ ہیں، ہماری مثال ’سورج کو چراغ دکھانے‘ والی ہے ۔

میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کی حفاظت فرمائے اورآپ کو برکات سے نوازے۔[آمین]

ہمیں مزید اپنے احوال سے باخبر کریں ،ہم بڑی شدت  سے منتظر ہیں ۔

راقم السطور: آپ کا بھائی ابو بصیر ( جزیرہ عرب )

20 جماد  الآخر 1433 ھ[۱۱ مئی ۲۰۱۲ء]


دوسرا خط

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین

امابعد!

محترم شیخ اور با صلاحیت امیر ابو مصعب عبد الودود حفظہ اللہ کے نام !

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اللہ آپ کو [رمضان کے] اس مہینے میں برکات سے نوازے، ہمارے اور آپ کے نیک اعمال کو قبول کرے، دعا گو ہوں کہ یہ خط  خوش و خرم اور بہترین حالت میں آپ تک  پہنچے۔[آمین]

ہم اپنے سابقہ تجربے کے واقعات کا ایک خلاصہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں، معزز شیخ! ہمارا تجربہ دروس و عِبَر سے بھرپور تھا۔ جماعتیں اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر عروج و اقتدار کے اس مرحلے سے ضرور گزرتی ہیں۔ یہ ہم پر اللہ کا احسان تھا کہ ہم نے لگ بھگ ایک سال اللہ کی شریعت کے مطابق حکومت کو چلایا۔ ہم نے لوگوں کو اور انہوں نے ہمیں قریب سے دیکھا ،پہچانا، لوگوں  نے ایسے اہلکار اور عہدے دار دیکھے جو ان کے لیے نامانوس تھے اور انہوں نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اعلیٰ عہدے دار غریب مسکین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہا ہے ،اس کے ساتھ چٹائی پر بیٹھا بات کر رہا ہے، نہ کوئی ڈیوڑھی اور نہ دربان، امیر خود مسجد، سڑک یا بازار میں گھوم کر لوگوں کی ضروریات پوری کر رہا ہے، مظلوم کو انصاف اور حق دار کو اس کا حق دلوا رہا ہے، عزت و ناموس کی تعظیم و توقیر کر رہا ہے۔ لوگوں کو یہ بھی پتہ چلا کہ یہ مجاہدین اللہ کے منہج پر کس قدر ثابت قدم ہیں اور یہ کہ شریعت ہر زمانے اور جگہ کے مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتی ہے، بلکہ اسے چھوڑ کر تو عدل قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ لوگوں کے ساتھ گزرے ہمارے وہ دن بڑے قیمتی تھے جو شاید وہ دوبارہ نہ دیکھ سکیں۔ ہم نے اپنے مجاہدین اور مسئولین کو حکومت چلانے اور جنگوں میں آزمایا ،یوں ہمیں کئی طرح کے تجربات حاصل ہوئے ،سو اب ہمارے پاس ہر معاملے میں ذمے داری نبھانے والے لوگ موجود ہیں ،اور اس کے علاوہ بھی بے شمار نعمتیں حاصل ہوئیں( للہ الحمد)۔ ان میں ایک بڑی نعمت یہ تھی کہ میڈیا کے زور پر مجاہدین کے خلاف جھوٹے الزامات پر کھڑی گئی ساری عمارت دھڑام سے زمیں بوس ہو  گئی ،لوگوں کو میڈیا کے دروغ   و دجل کا پتہ چل گیا اور یہ بھی کہ میڈیا کیسے افواہوں کے ذریعے خوف پھیلا کر حوصلے توڑتا  ہے،  حقیقت کھل کر سب کے سامنے آ  گئی۔

پھر جب مشرق و مغرب کے دشمنوں نے متحد ہو کر ہم پر دھاوا بولا ،گھمسان کے معرکوں اور مصیبت کی گھاٹیوں میں ہمارے مجاہد ساتھی پہاڑوں کی طرح ثابت قدم رہے، ان کی استقامت کو الفاظ کا جامہ پہنانا آسان نہیں ،اس کا تصور کرنا بھی کافی مشکل ہے، وہ صبر و ثبات دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔  لیکن چار ماہ بعد ہم نے پسپائی کو ترجیح دی، حملہ شدید تھا اور اپنے مقاصد پورے کیے بغیر دشمن اسے روکنے والا نہیں تھا، کیونکہ وہ ہماری پیش قدمی سے ڈر گیا تھا، لوگ ہم سے محبت کرنے لگے تھے اور ہمارے نفاذِ شریعت کے طریقے کو زیرِ اقتدار علاقوں میں بڑی پذیرائی ملی تھی، سو عالمِ کفر نے متحد ہو کر ہم پر حملہ کیا۔ اگر ہم اس حملے کے بالمقابل سینہ سپر رہتے تو یہ معرکہ  طویل ہوتا اور ہمیں جانی و مالی لحاظ سے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑتی، اور یہ بات ہمارے مقصد کے خلاف تھی، نیز عامۃ المسلمین کے گھروں پر بمباری کر کے انہیں دربدر کر کے بھی دشمن ہم پر دباؤ بڑھاتا۔ تو الحمد اللہ ہم پیچھے ہٹ گئے ،یہ بڑا بر وقت اور درست فیصلہ تھا اور دشمن نے جو مجاہدین کی قیادت کو قتل کرنے اور گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا وہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔

ایک سال تک حکومت کی جو قیمت ہمیں چکانی پڑی وہ کل یہ تھی: تقریبا پانچ سو شہید، سات سو زخمی، دس کے لگ بھگ ساتھیوں کے ہاتھ یا پاؤں کٹے، اور مالی اخراجات تقریبا  دو کروڑ ڈالر۔

اب ہماری حالت پہلے سے بہت  بہتر ہے، بلکہ موازنہ ہی نہیں بنتا، پہلے جنگ ہمارے خلاف برپا تھی،  حریف ہمارے خلاف ایک ہو  چکے تھے اور ہم ان کا سامنا کر  رہے تھے ،اب علاقہ پکڑنے کے بعد یہ حریف دوبارہ آپس میں الجھ گئے ہیں۔ یہ ہمارے لیے گوریلا جنگ کر کے حساب برابر کرنے کا بہترین موقع ہے اور یہ کام ہم نے پسپائی کے اول روز سے شروع کر رکھا ہے۔ ہم نے اس جنگ  کے کمانڈر کو قتل کیا اور الحمد  للہ یہ سلسلہ جاری ہے۔ جنگ کا اکثر بلکہ تمام خرچ غنیمتوں سے پورا ہوتا ہے، غنیمت کاتقریباً نصف قیدیوں کے فدیے سے حاصل ہوتا ہے۔ بخدا! یہ تو آسانی سے حاصل ہونے والی غنیمت ہے، اور اگر یہ کہنا درست ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ ’نفع بخش تجارت‘ اور ’قیمتی خزانہ‘ ہے۔

دشمن کا سب سے اہم اسلحہ امن کمیٹیاں تھیں، یہ کرائے کے غنڈے ہمارے اقتدار سے متاثر ہوئے تھے اور ان کی لوٹ مار بند ہو گئی تھی، نیز کچھ جعلی پیر و اخوانی، چند سروری اور نام نہاد سلفی بھی  اس میں شامل تھے، ان متضاد عناصر کو دشمن نے اکٹھا کر کے منظم کیا ،تاکہ علاقے کے لوگوں پر مشتمل ایک منظم فوج بنائے۔

ان کا دوسرا بڑا اسلحہ میڈیا تھا، جھوٹ  عام کرنا اور افواہیں پھیلانا، یہ میڈیائی حملہ اگر عسکری حملے سے سخت نہیں تھا تو کم بھی نہیں تھا۔

ان کا ایک اسلحہ جاسوس تھے کہ ان کے ذریعے مجاہدین کے اندر نقب لگائی جائے، انہی جاسوسوں کی وجہ سے دشمن ڈرون  طیاروں کے ذریعے اکثر قائدین کو شہید کرنے میں کامیاب ہو سکا، پس قائدین اور رجالِ کار کی بابت اللہ سے ڈریں ،ان کی امنیت و راز داری میں سختی سے کام لیں، نئے شامل ہونے والے افراد سے ہوشیار رہیں اور احتیاط کریں۔

اے ہمارے معزز شیخ! ہمارا اہم ترین اسلحہ میڈیا و اعلام ہے۔ اس اہم محاذ کی بابت اللہ سے ڈریں، یہاں اسی کو مقرر کریں جو مدعا بخوبی بیان کر سکے، پیغام کو پہنچا سکے، جہاد کے مراحل کو پہچانے اور ہر مرحلے پر وہی بات کرے جس کی جہاد کو ضرورت ہے۔ ہر ساتھی یا مسئول کو میڈیا پر آنے اور بیان دینے کی اجازت نہ ہو، تاکہ آپ اپنی صورتحال کی مناسبت سے (نہ کہ اپنی امنگوں کے مطابق) معاملات کو کنٹرول میں رکھ کر چلائیں، ہم نے اپنے تمام ساتھیوں اور ذمے داروں کو میڈیا پر آنے اور بیان دینے سے منع کر رکھا ہے ،سوائے اس کے جس کو ہم مناسب سمجھیں [اور اجازت دیں] اور وہ اپنے مخصوص موضوعات پر بات کرے [جس موضوع پر بات کرنے کا اسے کہا جائے]، یہ سب جماعت کی سمت کو درست رکھنے کے لیے ہے، نیز اس لیے کہ قائدین میں خود پسندی پیدا نہ ہو [جو کہ میڈیا پر آنے کا ایک عمومی جانبی اثر (side effect)ہے] اللہ سے دعا ہے کہ سب کو اس سے محفوظ رکھے،آمین۔

میرے محترم! ہمارے اقتدار کی شروعات میں قیادتِ عامہ کے بھائیوں نے ہمیں نصیحت کی کہ ہم اسلامی امارت یا سلطنت کے اعلان سے گریز کریں۔ اس کے کئی اسباب ہیں، ایک یہ ہے کہ اس طرح ہم لوگوں کے ساتھ حکومت والا معاملہ کرنے کے پابند نہیں ہوں گے، جس سے ہمیں کئی احکام [اور ذمے داریوں] سے چھوٹ ملے گی، کیونکہ ہماری حکومت بہرحال ایک کمزور حکومت تھی،  ہمارے خلاف عالمی کفر کے اتحاد کی صورت میں اس کے سقوط کا قوی امکان تھا [اور ایسا ہی ہوا بھی]، یہ اعلان نہ کرنا اس لیے بھی مناسب ہے تاکہ لوگ جہاد سے مایوس ہو کر یہ نہ سوچنے لگیں کہ جہاد سے قائم ہونے والی ہر حکومت لازماً سقوط کرے گی، سو جہاد کارگر وسیلہ نہیں ،اس کے علاوہ بھی اسباب ہیں۔ پھر جب ہم سمٹنے پر مجبور ہوئے تو ہم نے اس رائے کی برکت و درستگی کو دیکھا، کیونکہ ہم نے سرے سے کوئی اعلان ہی نہیں کیا تھا، صومالیہ والے بھائیوں کی بھی یہی نصیحت ہے، وہاں کی اکثر زمین پر اقتدار کے باوجود انہوں نے حکومت کا اعلان نہیں کیا۔

محترم امیر! کھلے محاذ اور مستقل مورچوں کی نظامی جنگ کے طویل معرکوں نے ہمیں نچوڑ کر رکھ دیا ہے، اگرچہ  اس طریقِ جنگ کا اپنا فائدہ ہے ،لیکن مال ،رجالِ کار اور اسلحہ بھی اس میں بہت لگتا ہے۔ ہم نے اتنا اسلحہ غنیمت میں حاصل کیا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کئی سالوں تک ہمارے لیے کافی ہو گا۔ لیکن جب  ہم پسپا ہوئے تو اپنا سارا اسلحہ ہمیں خریدنا پڑ رہا ہے [وہ سارا ایمونیشن و ذخیرہ چار ماہ کی جنگ میں استعمال ہو گیا]، سو ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ طاقت نچوڑنے والی طویل جنگوں میں نہ الجھیں، پہاڑوں، جنگلوں اور صحراؤں میں اپنی پرانی امنیتی جگہوں کی نگہداشت کریں [وہ دوبارہ بھی کام آئیں گی]، بلکہ بدترین صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے مزید بھی ایسے خفیہ ٹھکانے تیار کریں، اپنی پسپائی سے ہم نے یہ سبق لیا ہے۔

شیخ! ہم آخر میں اس بات پر معذرت چاہتے ہیں کہ ہم استاد کی طرح آپ کو نصیحت  کر رہے ہیں، حالانکہ ہمارا یہ مقام نہیں [یہ مقام آپ کا ہے]، یہ تو کچھ عملی تجربے تھے، جن سے ہمیں فائدہ ہوا ،ان کی کار گزاری ہم نے آپ کے سامنے پیش کی، کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو حکمت کی بات اپنے سے زیادہ سمجھدار تک نقل کر کے پہنچاتے ہیں6فان الشاھد عسیٰ ان یبلغ من ھو اوعیٰ لہ منہ[صحیح بخاری ،کتاب العلم]، یہ جہاد [جہاں کہیں ہو رہا ہے] پوری امت کا ہے ، اس کی حفاظت کرنا اور خیال رکھنا ہماری ذمے داری ہے۔

امید ہے کہ اللہ ہمارے ہاتھوں خلافت کو دوبارہ قائم کرے اور آپ کی دعا کی برکت سے ہماری کوششوں میں برکت ڈالے۔

میں نے جمادی الثانیہ میں آپ کی طرف خط بھیجا تھا اور مجھے یہ معلوم کر  کے تشویش ہوئی کہ  وہ آپ تک نہیں پہنچا، اب میں ایک بار پھر آنجناب کی خدمت میں خط ارسال کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں تو وہ سابقہ خط بھی ہمراہ لف ہے، اس کے ساتھ ہی خراسان سے بھائیوں کے خطوط بھی ہمراہ ہیں ۔

تمام بھائیوں کو ہماری طرف سے سلام پہنچے، بالخصوص ٹمبکٹو اور ازواد کے مردانِ میدان کو!

آپ کا قدردان بھائی :ابوبصیر(جزیرہ عرب)

18 رمضان 1433 ھ[۶ اگست ۲۰۱۲]

٭٭٭٭٭

  • 1
    دسمبر 2011ء میں شمالی مالی میں شیخ  ایاد الغالی نے اس کی بنیاد رکھی، اس وقت القاعدہ سے تعلق کی نفی کی گئی تھی، بعد ازاں مارچ 2017ء میں جب انصار الدین کے ساتھ دیگر جماعتوں کے اتحاد کے نتیجے میں ’جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین ‘ تشکیل دی گئی تو اس وقت دیگر قائدین کی موجودگی میں منتخب امیر شیخ ایاد الغالی نے تنظیم القاعدہ کی بیعت کی۔  یہ ویڈیو جماعت نصرۃ الاسلام و المسلمین کے رسمی اعلامی ادارے(الزلاقۃ) سے نشر کی گئی۔ 
  • 2
    مئی 2011ء میں القاعدہ جزیرۂ عرب نے یمن میں زنجبار کے ساحلی علاقے کو آزاد کروا کر وہاں شریعت کے مطابق حکمرانی کی۔ شیخ ابو بصیر شہید رحمہ اللہ یہاں اس جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
  • 3
    یہاں یہ واضح رہے کہ  شیخ کسی ادارے یا حکومت کو کوئی لائحہ نہیں دے رہے، بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مسلمہ اصول و شروط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کچھ رہنما اصول بتا رہے ہیں جن کی پاسداری کی ایک نوزائیدہ اسلامی حکومت کو بالخصوص ضرورت ہے ۔
  • 4
    در حقیقت یہ عارضی جہادی حکومت  اور وقتی سلطہ جہاد کا ایک ایسا مرحلہ ہے جس میں مجاہدین کی دعوت معاشرے میں پھیل کر اپنی جگہ بنا لیتی ہے،  لیکن اصل حکومت کا مرحلہ ابھی دور ہوتا ہے، یہ وقتی اقتدار تو جنگ ہی کا ایک رخ ہوتا ہے، جسے اپنانے میں جلد بازی یا اسے چھوڑنے میں تاخیر سخت مہلک ہوتی ہے، اس ضمن میں امارت اسلامی افغانستان، تنظیم القاعدہ برائے جزیرہ عرب، حرکۃ الشباب (تنظیم القاعدہ برائے مشرقی افریقہ) اور تنظیم القاعدہ  برائے مغرب اسلامی کا طرزِ عمل انتہائی مفید ہے۔ دیگر جہادی تحریکات کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے کہ کب علاقہ پکڑنا چاہیے اور کب چھوڑ کر دوبارہ گوریلا جنگ کی طرف جانا چاہیے۔ بالخصوص حرکۃ الشباب کا تجربہ اس بابت انتہائی مفید ہے۔ یہ حضرات، جب بھی افریقی کفری اتحاد کی طرف سے بڑے پیمانے پر فوج کشی  ہوتی ہے ،تو آزاد علاقوں سے پسپا ہو کر دشمن کو آنے کا موقع دیتے ہیں اور پھر ان کی جو درگت بناتے ہیں تو اسے بھاگتے ہی بن پڑتی ہے۔
  • 5
    ادرؤو الحدود عن المسلمین مااستطعتم [جامع الترمذی،کتاب الحدود،باب ماجاء فی درءالحدود]
  • 6
    فان الشاھد عسیٰ ان یبلغ من ھو اوعیٰ لہ منہ[صحیح بخاری ،کتاب العلم]
Previous Post

موت وما بعد الموت | تینتیسواں درس

Next Post

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | ساتویں قسط

Related Posts

موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | تینتیسواں درس

3 جولائی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | پانچویں قسط

3 جولائی 2026
محبت گولیوں سے بو رہے ہو!
اداریہ

محبت گولیوں سے بو رہے ہو!

3 جولائی 2026
جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

3 جولائی 2026
حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط
فکر و منہج

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | پانچویں قسط

25 مئی 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | تیرہویں قسط

25 مئی 2026
Next Post
جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پہلی قسط

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | ساتویں قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version