گزشتہ ایک ماہ سے کرفیو میں Kill on sight یعنی دِکھتے ہی قتل کر دیا جائے کا ’عملاً‘ حکم ، ناکہ ،بندی گرفتاریاں، جگہ جگہ جامہ تلاشیاں، حتیٰ کہ زندگی کی بنیادی ضروریاتِ اشیائے خورد و نوش میں آٹے تک کی ترسیل پر پابندی۔ یہ فلسطین کی، غزہ کی بات نہیں ہو رہی۔ نہ ہی یہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ ذکر ہے آزاد کشمیر کا!
۱۹۴۷ء میں قیامِ پاکستان کے چند ہفتوں بعد مقامی مجاہدین نے مہا راجہ ہری سنگھ کے زیرِ قبضہ ’ریاستِ کشمیر‘ کو آزاد کروانے کے لیے جہاد کا آغاز کیا جس نے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا اور کچھ ہی ہفتوں کی جانبازی و محنت کے نتیجے میں ضلع پونچھ ثم راجوری میں ان مجاہدین کو من جانب اللّٰہ کامیابی حاصل ہو گئی۔ ان مقامی کشمیری مجاہدین کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے آنے والے مجاہدین بھی شامل ہو گئے اور بعداً پاکستان فوج کے سپاہی بھی اس جہاد میں شریک ہو گئے۔ کم و بیش ایک سال کے جہاد کے نتیجے میں کشمیر کا ایک تہائی علاقہ آزاد کروا لیا گیا جس میں آج پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں گلگت بلتستان وغیرہ اور آزاد ریاست جموں وکشمیر کے تحت مظفر آباد، باغ، کوٹلی،میر پور، بھمبر، راولاکوٹ، حویلی اور سدھنوتی کے علاقے شامل ہیں۔ تاریخی روایت بتاتی ہے کہ یہ مجاہدین جن میں اس وقت کی پاکستان فوج کےسپاہی بھی شامل تھے سری نگر میں داخل ہو گئے تھے ۔ یہ مجاہدین سری نگر ائیر پورٹ پر قبضہ کر چکے تھے، جب پاکستان فوج اور حکومت کی ’اعلیٰ کمان‘ نے پہلی بار ان مجاہدین کو ’Abandon‘ یا تنہا چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ نتیجتاً آج کا سری نگر، کشمیر وادی کا بیشتر علاقہ، جموں اور لداخ کا اکثر حصہ بھارت کے قبضے میں رہ گیا، جو کہ کشمیر کا دو تہائی حصہ ہے۔۱۹۴۹ء کے آغاز میں پاکستان و بھارت کی حکومت نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا، ایک تہائی آزاد شدہ کشمیر اور دو تہائی مقبوضہ کشمیر کے درمیان ایک جنگ بندی لائن یا سرحد بنا دی گئی، اور بعد میں 1972ء کے شملہ معاہدے میں اسی جنگ بندی لکیر کو لائن آف کنٹرول کا نام دےدیا گیا۔ جسے قیامِ پاکستان کے وقت شہ رگ کہا گیا تھا، اس کشمیر کو ’مسئلۂ کشمیر‘ بنا دیا گیا۔
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
آگے بڑھنے سے قبل، یہاں ’جہادِ کشمیر‘ کو ’Abandon‘ کیے جانے والی بات پر کچھ توقف لازمی ہے۔ بلکہ اس ‘Abandon’ کرنے کے ’نظریے‘ یا ’ابن الوقتی‘ یا ’غداری‘ کے چند اور نظائر انتہائی اختصار سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج سے پندرہ برس قبل جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کھاریاں کینٹ کا دورہ کیا، اس دورے میں افسروں سے خطاب کرتے ہوئے اس نے ’ریاستِ پاکستان‘ کی ایک ایسی پالیسی بیان کی جو پاکستان پر قابض امریکی غلام اشرافیہ کے بیانیے و زاویے کی وضاحت کرتی ہے، وہ اشرافیہ جو دو ڈھائی صدیوں سے اس خطے میں موجود اشرافیہ کا تسلسل ہے، شیطانی مثلث؛ فوج، افسر شاہی یا سول بیوروکریسی اور چند بیس بائیس سرمایہ دار و جاگیر دار سیاسی خاندان۔جنرل کیانی نے واضح کیا کہ ہماری پالیسی ’قومی مفاد‘ ہے اور اس قومی مفاد کی خاطر ہی ہم نے جو کچھ کیا سو کیا، حتیٰ کہ ’We had to abandon the freedom movement in Kashmir as it was not in our National Interest.‘، ہمیں کشمیر کی تحریکِ آزادی سے کنارہ کشی کرنا پڑی کیونکہ یہ ہمارے قومی مفاد میں نہیں تھا۔قومی مفاد کی پالیسی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے، ساری دنیا کی کرپٹ حکومتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن اصل بات یہاں جنرل کیانی کے منہ سے اس بات کا اقرار ہے1نشر کردہ ادارہ السحاب برِّ صغیر۔ دنیا میں ’نیو ورلڈ آرڈر‘ کے قیام کے بعد تبدیلی یہ آئی ہے کہ اسی قتلِ عام اور ظلم و جبر اور آمریت کو نئے اور خوبصورت الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ ’قومی مفاد‘ بھی انہیں اصطلاحات میں سے ایک ہے۔ ہر بادشاہ، ہر جرنیل، ہر تخت نشین فیلڈ مارشل کے الفاظ اور اسی کا کردار و عمل ’قومی مفاد‘ ہوا کرتا ہے، اور اس قومی مفاد کی خاطر سب کچھ کرنا روا ہوتا ہے، چاہے چھ لاکھ جانوں اور تاریخِ انسانیت کی سب سے بڑی ہجرت کے نتیجے میں قائم ہونے والی مملکتِ پاکستان کو دو لخت کرنا ہی مقدر ٹھہرے! قیامِ پاکستان کے بعد تاریخ میں پہلی بار مجاہدینِ کشمیر کو ۱۹۴۸-۴۹ء میں Abandon کیا گیا۔ سنہ ۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں ’رضا کاروں‘ کو Abandon کیا، کارگل میں مجاہدین کو Abandon کر کے اپنے سپاہیوں کی لاشیں چھوڑ کر فوج بھاگ گئی، ۲۰۰۱ء میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کو Abandon کیا گیا، ہزاروں مجاہدینِ عرب و عجم کواور امت کی بیٹی عافیہ صدیقی کو Abandon کیا گیا، نائن الیون کے بعد جہادِ کشمیر کی قیادت اور اس جہاد کو Abandon کیا گیا اورآج آزاد کشمیر ہی میں مقبوضہ کشمیر کے مناظر دہرائے جا رہے ہیں۔
یہاں پاکستان فوج کے ملک و ملک سے غدار جرنیلوں کے کردار کو بیان کرنے کے بعد لازمی ہے کہ ایک اہم نکتہ بیان کیا جائے۔ یہ اہم نکتہ پاکستان و برِّ صغیر میں موجود تمام دینی و جہادی تحریکات کے اساسی نکات میں سے ایک ہونا چاہیے۔ مملکتِ پاکستان لاکھوں جانوں اور کھرب ہا روپے کے سرمائے اور املاک کی قربانی کے بعد وجود میں آئی، اس مملکت کو بنانے اور اس کی خاطر قربانیوں کا مقصدِ وحید ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ کا نفاذ اور شریعتِ ’محمد رسول اللّٰہ‘ (علیہ ألف صلاۃ وسلام)کی اقامت تھا۔ دراصل برِّ صغیر کے ایک ٹکڑائے زمین پر ایک ایسا انقلابِ اسلامی برپا کرنا بانیانِ پاکستان کے پیشِ نظر تھا جہاں اولاً اسلام کو مکمل قائم کیا جا سکے، ایمان، عزت، جان، مال اور عقل کی حفاظت ہو سکے ۔ شیخ الاسلام علامہ شبّیر احمد عثمانی نے ایک ایسی نظریاتی مملکت کی اولین پرچم کشائی کی تھی جو ایک ایسا قلعۂ اسلام بنے جہاں سے نواب سراج الدولہ شہید ، سلطان فتح علی ٹیپو شہیداور سیّد احمد شہید کے مقصد کو پورا کیا جا سکے،اسلام کا وہ مضبوط قلعہ جہاں سے شوکتِ اسلام کے لشکر مُشَکَّل ہوں اور اندلس و اقصیٰ کی جانب یہاں سے قافلے نکلیں، وہ اسلام کا مورچہ جو گائے کے پجاریوں کے نرغے سے بابری مسجد تا ازہرِ ہند دار العلوم دیوبند کا دفاع کرے، گھر واپسی، لو جہاد، مسلمانوں کو گھس بیٹھیے بکتے اکھنڈ بھارت کے پرستاروں کو لگام ڈالے، وہ پاکستان جو نبوی پیشین گوئیٔ ’غزوۂ ہند‘ کا پیش خیمہ ہو۔ پس اس مملکت کی نظریاتی و جغرافیائی حدود کی حفاظت اہلِ ایمان کا، اس خطے میں موجود ہر دینی و جہادی تحریک کا شیوہ ہونا چاہیے۔ یہ جاننا بھی لازمی ہے کہ آج امریکہ تا ہندوستان سبھی چاہتے ہیں کہ اس ملک کے حصے بخرے کر کے قوم پرستوں کو تھما دیے جائیں، جیسے کل قوم پرستی کے عنوان تلے بنگلہ دیش بنایا گیا، اسی طرح سندھو دیش، جناح پور، آزاد بلوچستان، سرائیکستان، پشتونستان اور کشمیر بنے گا خود مختار کے نعروں اور ایجنڈوں میں اس ملک کو تقسیم کر دیا جائے۔ ان باتوں سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس امریکی و بھارتی سازش کو کامیاب بنانے کے لیے ارضِ پاکستان میں سب سے بڑی قوت کون سی ہے؟ پاکستان کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر اپنی سازشی اور اکثر نادانی، جہالت اور متکبرانہ سوچ کے ساتھ کون کام کر رہا ہے۔ آئندہ سطور اسی قوت کے مزید کردار و عمل کو واضح کریں گی۔
اگرچہ بنگلہ دیش کے بننے یعنی پاکستان کے دو لخت ہونے میں بھارت کی سازش کار فرما تھی۔ بے شک بھٹو اور شیخ مجیب دونوں نے اقتدار کی ہوس میں پورب و پچھم کو کاٹ دیا۔ لیکن بنگالیوں کو قوم پرست بنانے میں اصل کردار پاکستانی سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا تھا، اس اسٹیبلشمنٹ کا بنگالیوں سے تضحیک آمیز رویہ، ان کو کالا، چھوٹے قد کا اور انگریز کی طرح میز پر بیٹھ کر چھری کانٹے سے کھانےکے آداب سے عاری ہونے کا طعنہ دینا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کا بنگالیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا، ان کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور بنگالی قوم کا بطورِ قوم استحصال کرنا بنگالیوں کو جے بنگلہ کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنا تھا۔ ہم شیخ مجیب کے ادنیٰ سے حامی نہیں، لیکن شیخ مجیب کی زندگی کو غور سے دیکھا جائے اور اس کی سیاسی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو واضح معلوم پڑتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے رویے نے اس کو ’بنگا بندھو‘ بنایا۔ ہم لوگوں کو محروم کرتے ہیں، کرتے ہیں، کرتے ہیں اور پھر ان کو اس بات پر مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ بغاوت کی راہ پر پڑ جائیں۔
یہی منظر بلوچستان میں دہرایا گیا اور آج یہ منظر آزاد کشمیر میں دہرایا جا رہا ہے۔ کشمیری جانتے ہیں کہ آزاد کشمیر حکومت کے بہت سے اساسی فیصلے مری میں بیٹھا پاکستان فوج کا Div Commanderکر رہا ہوتا ہے، منگلا اور آگے کا علاقہ پاکستان فوج کے لیے اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔ کشمیر پر اپنا تسلط جمائے رکھنے کے لیے آزاد کشمیر کی سیاست ایک کھلا قِمار و جوا ہے۔ پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ خصوصاً آئی ایس آئی کے لیے آزاد کشمیر ایک شطرنج کی بساط ہے، ایک ایسی شطرنج کی بساط جس کے دونوں جانب آئی ایس آئی خود ہی کھیلتی ہے۔ آزاد کشمیر میں کوئی سیاسی پارٹی مستحکم نہیں، بادشاہ گر اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس سیاست کے لیے ایسے مہرے؛ پیادے، شہسوار، فیل، رخ، وزیر اور بادشاہ ہیں جو سیاہ و سفید کی تفریق کے بنا، کبھی ایک طرف ہوتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں تو کبھی دوسری۔ایسے سیاسی جغادری پن کے نتیجے میں اللّٰہ کی رحمت سے دور نظامِ جمہوری میں جو عام فرد کے لیے بنیادی حقوق و سہولیات ہیں وہ ان سے بھی محروم ہے۔ لائن آف کنٹرول کے اِ س پار بستی کشمیری قوم جو ’اسلام کی نسبت سے، اسلام کےرشتے سے پاکستانی‘ بنی تھی جب اپنے بنیادی حقوق کے لیے اٹھتی اور آواز بلند کرتی ہے تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا وہی گھسا پِٹا پرانا منجن و چورن بیچا جاتا ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے ’را‘ ملوث ہے۔ ہمیں اس بات سے انکار نہیں کہ بنگلہ دیش بنتے ہوئے اگرتلہ میں سازش ہوئی تھی اور آج بھی مظفر آباد سے میر پور تک ’را‘ کے بہت سے کارندے کام کرتے ہوں گے، آج بھی آزاد کشمیر کی سیاسی تحریک میں ’را‘ کے خدمت گار مثلِ شیخ مجیب موجود ہوں گے، لیکن سوال یہ ہے کہ ’را‘ کو کام کرنے کے لیے زمین کس نے ہموار کی ہے؟ ’ریاست ہو گی ماں کے جیسی‘ لیکن کس ریاست نے ساری زندگی اپنی اولاد کے ساتھ سوتیلی ماں والا رویہ رکھا ہے اور نوالے نوالے کا محتاج اس کو بنایا ہے؟ پھر یہی اولاد بڑی ہو کر، ظلم و جبر سے تنگ آ کر اگر گلی کوچوں میں نکلی ہے تو ایک بار نہیں صد بار ’را‘ اس کو استعمال کر سکتی ہے۔ ذکرِ کشمیر کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں کراچی کے پاس حب کے علاقے سے ہائی وے پر سفر شروع کیجیے، کوئٹہ پہنچیے اور کوئٹہ سے نوشکی اور وہاں سے مکران کی طرف جائیے…… اب اسلام آباد سے لاہور کو عازمِ سفر ہوں اور لاہور سے ملتان و بہاولپور کی طرف…… سڑک کا یہ سفر آپ کو بڑا واضح پیغام دے گا کہ یہ ایک ملک کے دو صوبے تو ہیں لیکن ایک غریب ہے اور دوسرا امیر، حالانکہ ریاست نے تو ماں جیسا ہونا تھا۔ اب بلوچستان سے کچھ نادان اٹھیں، پھر وہ لاکھ بار غلط و نا درست لیکن اسلام و پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو جوڑ کر وہ سیکولر ہو جائیں اور پھر بھارت کے ساتھ مل کر سازشیں کریں تو بتائیے ماں کی پہلے تادیب کریں گے یا اس اولاد کی؟ اسلامی دولت و سلطنت کے اولین فرائض میں سے عوام الناس کے عقائد و دین کی اصلاح کرنا ہے، کیا ’ہماری‘ ریاست بھی یہ کر رہی ہے یا الٹا یہ امریکی ورلڈ آرڈر ہی کی پرچارک ہے، بلکہ ضدِ اسلام میں ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں دفاعِ اسرائیل کی خاطر بیٹھی ہوئی ہے؟
یقیناً ’را‘ بہت سی جگہوں پر ملوث ہے، لیکن جیسے محترمہ فاطمہ جناح کو ’را‘ کا ایجنٹ کہا گیا، بنگالیوں کو ’را‘ کا ایجنٹ کہا گیا، مجاہدین کو ’را‘ کا ایجنٹ کہا گیا، تو اس طرح اپنے حقوق کی خاطر اٹھنے والے کشمیریوں پر پہلے پہلے یہ تہمت لگانے والوں کا کردار بھی دیکھ لیجیے کہ وہ ڈھکے چھپے نہیں بلکہ اعلانیہ ’سی آئی اے‘ کے ایجنٹ ہیں۔ آج آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر جیسا حال برپا ہے، غزہ جیسی ناکہ بندی آزاد کشمیر کے بعض شہروں کی ، کی گئی ہے۔ حبیب جالبؔ نے کہا تھا:
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
ان حقائق کے ساتھ، آزاد کشمیر کے مجاہد صفت اور جہادِ کشمیر کے اعوان و انصار عوام سمیت تمام غیرت مند پاکستانی مسلمان عوام ، خصوصاً علمائے کرام، داعیانِ دین، دینی و سیاسی قیادت، اکابرینِ ملت، شاعروں، صحافیوں، ادیبوں، اصحابِ فکر و دانش کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ظلم کے مقابل دوسرے ظلم کے حامی جانے یا انجانے میں نہ بن جائیں۔ حقوق کی فراہمی اگر کہیں ہے تو بس اسلامی نظام کے قیام میں۔ ذات سے لے کر اجتماع تک، بسترِ خواب سے ایوانِ حکومت تک، نفاذِ شریعت ہی حقوق کا ضامن اور دنیا و آخرت میں فوز و فلاح کا راستہ ہے۔ باقی نام نہاد جمہوریت ہو یا آج کا ہائیبرڈ مارشل لائی آمرانہ نظام، یہ سب سراب ہیں۔ پاکستان اگر اسلام کا قلعہ ہے تو تب جب یہاں نظامِ اسلام قائم ہو، اور پاکستان سے اگر کسی مسلمان کو محبت ہے یا ہونی چاہیے تو اسلام ہی کی خاطر ہونی چاہیے اور یہ محبت وطن پرستی اور وطنیت بقولِ اقبال ایک سیاسی نظریے کی صورت میں نہ بن جائے۔ ہمیں اور ہمارے اہلِ دین حضرات کو جاننا چاہیے کہ اسّی برس ہونے کو آئے لیکن یہ ملک اسلام کا قلعہ نہیں بن سکا، یہاں وہ اسلامی انقلاب نہیں آسکا جس کی خاطر یہ ملک بنایا گیا تھا۔ اہلِ کشمیر کے حقوق ہوں یا بلوچوں کےحقوق کی فراہمی ان سب کا واحد راستہ اسلامی نظام کے قیام کی با برکت محنت ہے۔ جہاں جہاں یہ محنت وعظ و نصیحت سے با ثمر ہو سکے تو کی جائے۔ تزکیہ و دعوت و تبلیغ سے نظامِ اسلامی کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ عوامی انقلابی جلسوں کے اہتمام، عوامی سطح پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تحریکات کی صورت اقامتِ دین کی جد و جہد ہو۔ امت کا غم، اقصیٰ کا درد، فلسطین و اہلِ غزہ کے ساتھ قولاً و فعلاً ہمدردی و معاونت کی فضا عام کی جائے۔ پھر یہ سب کرتے ہوئے یہ بھی ذہن نشین رہے کہ پاکستان میں حالاً قائم نظام ہماری گردنوں پر بزورِ بندوق نافذ کیا گیا ہے۔ کسی دانش ور کا قول ہے کہ شاعری بہت خوبصورت چیز ہے، لیکن مردِ میدان جانتا ہے کہ کیا کام شاعری سے ہوتا ہے اور کس کام کے لیے شمشیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا اپنوں کی بزم ہو تو شاعری و نظم اچھی اور غیروں، غیروں کا کالا انگریزی نظام نافذ کرنے والوں سے سامنا ہو تو شمشیر و گاہِ رزم اچھی!
اللھم اهدنا فیمن هدیت وعافنا فیمن عافیت وتولنا فیمن تولیت وبارك لنا فیما أعطیت وقنا شر ما قضیت إنك تقضی ولا یقضی علیك وإنه لا یذل من والیت ولا یعز من عادیت تبارکت ربنا وتعالیت!
اللھم وفقنا لما تحب وترضى وخذ من دمائنا حتى ترضى .اللھم اهدنا لما اختلف فیه من الحق بإذنك. اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وارضنا وارض عنا. اللھم إنّا نسئلك الثّبات فی الأمر ونسئلك عزیمۃ الرشد ونسئلك شكر نعمتك وحسن عبادتك. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!
٭٭٭٭٭
- 1نشر کردہ ادارہ السحاب برِّ صغیر









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



