143۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ لِکُلِّ شَیْءٍ شِرَّۃً وَّلِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتَرَۃً فَاِنْ صَاحِبُھَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوْہُ وَاِنْ اُشِیْرَ اِلَیْہِ بِالْاَصَابِعِ فَلَا تَعُدُّوْہُ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز میں حرص ونشاط ہے ( یعنی زیادتی وانہماک ) اور ہر زیادتی میں سستی ہے (یعنی ہر اس فعل میں جو زیادتی کے ساتھ کیا جائے سستی پیدا ہوجاتی ہے ) پس اگر عمل کرنے والے نے میانہ روی سے کام لیا اور میانہ روی کے قریب رہا ( یعنی افراط وتفریط سے بچا رہا ) تو اس کے نجات پا جانے کی اُمید ہے ( یعنی اس کی کامیابی کی اُمید ہے ) اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا گیا ( یعنی مشہور ہونے کے لیے اس نے عبادت میں زیادتی اور مبالغہ کیا اور وہ مشہور ہوگیا) تو تم اس کو ( صالح اور عابد ) شمار نہ کرو۔
تشریح: شِرَّۃٌمیں ش پر زیر ہے اور را پر تشدید وزبر ہے جس کا ترجمہ حرص ورغبتِ شدیدہ ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعض عابد شروع میں عبادت میں اس قدر مبالغہ اور انہماک کرتا ہے کہ کچھ ہی دن میں تھک کر سست ہو کر بیٹھ جاتا ہے پس یہ زیادتی سبب ِکمی ہی نہیں بلکہ سبب ترکِ عبادت کا بن جاتی ہے ۔ اسی لیے دوسری حدیث میں وارد ہے : خَیْرُ الْعَمَلِ اَدْوَمُہٗ وَإِنْ قَلَّ سب سے بہتر وہ عمل ہے جو تھوڑا ہو مگر ہمیشہ ہوتا رہے ۔ پس عبادت میں میانہ روی اور اعتدال رکھے تاکہ ہمیشہ اس عمل کا نباہ ہوسکے، اور بہت مبالغہ کرنے والا کچھ دن میں صراطِ مستقیم سے ہٹ جاتا ہے۔ اور بزرگوں کا تجربہ ہے کہ اعمال میں میانہ روی اور اعتدال اہل اللہ اور کاملین کی صحبت اور ان کی مجلس میں حاضری کی برکات سے حاصل ہوتا ہے اور استقامت کی نعمت اہل اللہ کے تعلق اور مصاحبت ہی سے عطا ہوتی ہے، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے : کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ترجمہ: صادقین کے ساتھ رہو۔ مراد صادقین سے مشائخ وبزرگانِ دین ہیں۔
144۔ وَعَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بِحَسْبِ امْرِیٍٔ مِّنَ الشَّرِّ اَنْ یُّشَارَ اِلَیْہِ بِالْاَصَابِعِ فِیْ دِیْنٍ اَوْ دُنْیَا اِلَّا مَنْ عَصَمَہُ اللہُ۔ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِیْ شُعَبِ الْاِیْمَانِ
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی بُرائی کےلیے اتنا کافی ہے کہ دین یا دنیا میں اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے مگر وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔
تشریح: مشائخ نے فرمایا ہے: اٰخِرُ مَایَخْرُجُ مِنْ رَّاْسِ الصِّدِّیْقِیْنَ حُبُّ الْجَاہِ سب سے آخر میں صدیقین اولیائے کرام کے سر سے جو نکلتی ہے وہ حُبِّ جاہ ہے۔ پس گوشہ نشینی اورگم نامی ہر حالت میں مفید اور سلامتی کا راستہ ہے۔ اور یہ حدیث ان لوگوں کے لیے ہے جو مخلوق میں دنیا کے لیے حبِّ جاہ اور شہرت اور قبولیت کے طالب ہیں،اور جو محفوظ اور مقبول اور مخلص بندے ہیں وہ مستثنیٰ ہیں۔ چناں چہ اللہ ربّ العزت اپنے کلام میں فرماتے ہیں:وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًاخاص بندوں کے لیے اس حالت کو بیان فرمایا۔ حضرت حکیم الاُمت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تفسیر یوں نقل فرمائی ہے کہ اے اللہ! ہمارے ازواج وذرّیات کو متقی بنادیجیے تاکہ مجھے جو آپ نے ان کا امام اور بڑا بنایا ہے تو میں امام المتقین بنوں۔نقل ہے کہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے سوال کیا کہ تو لوگوں میں مشہور ہے یعنی انگشت نمائی تیری طرف ہوتی ہے تو فرمایا کہ اس حدیث سے مراد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہے کہ دین میں بدعتی ہو اور اس کی بدعت کے سبب انگشت نمائی اس کی طرف کی جاتی ہو یا دنیا میں فاسق ہو اس کے سبب ایسا ہو، اور جو دنیا میں غنی ہو اور مال داری کے ساتھ مشہور ہو لیکن فسق وفجور میں نہ پڑے اور دین میں سنت کے طریقے کی اتباع کرتا ہو وہ اس کلیہ میں داخل نہیں، وباللہ التوفیق۔اور معلوم ہو کہ بدون طلبِ جاہ اور شہرت کے بعض اہل اللہ بہت مشہور ہوجاتے ہیں ان کے لیے یہ شہرت مضر نہیں بلکہ یہ شہرت دین کی اشاعت کے لیے مفید ہوتی ہے اور کثیر مخلوق ان سے فیض حاصل کرتی ہے اور ایسے مخلص بندے حق تعالیٰ کی خاص حفاظت میں ہوتے ہیں اوریہ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ( الآیۃ ) کا ظہور ہوتا ہے۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ عن قریب ان کے لیے (صالحین کے لیے ) محبت پیدا فرماویں گے۔ یہ شہرت من جانب اللہ ہوتی ہے۔حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کا شعر ہے
میں تو نام و نشاں مٹا بیٹھا
میرا شہرہ اُڑا دیا کس نے
ایسی شہرت مضر نہیں۔
فصلِ سوم
145۔ وَعَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ اَنَّہٗ خَرَجَ یَوْمًا اِلٰی مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مُعَاذَ ابْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبْکِیْ فَقَالَ مَایُبْکِیْکَ؟ قَالَ یُبْکِیْنِیْ شَیْءٌ سَمِعْتُہٗ مِنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اِنَّ یَسِیْرَ الرِّیَاءِ شِرْکٌ وَمَنْ عَادٰی لِلّٰہِ وَلِیًّا فَقَدْ بَارَزَ اللہَ بِالْمُحَارَبَۃِ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْاَبْرَارَ الْاَتْقِیَاءَ الْاَخْفِیَاءَ الَّذِیْنَ اِذَا غَابُوْا لَمْ یُتَفَقَّدُوْا وَاِنْ حَضَرُوْا لَمْ یُدْعَوْا وَلَمْ یُقَرَّبُوْا قُلُوْبُھُمْ مَصَابِیْحُ الْھُدٰی یَخْرُجُوْنَ مِنْ کُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَۃٍ۔ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِیْ شُعَبِ الْاِیْمَانِ
ترجمہ:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک روز مسجدِنبوی کی طرف گئے تو دیکھا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: معاذ ! کون سی چیز تم کو رُلا رہی ہے؟ معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: مجھ کو وہ بات رلا رہی ہے جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ تھوڑی سی ریا بھی شرک ہے اور یہ کہ جو شخص اللہ کے دوست سے دشمنی رکھے( یعنی اپنے قول وفعل سے اس کو اذیت پہنچائے ) اس نے گویا اللہ سے جنگ کی اورمقابلہ کیا ( اور جو شخص اللہ سے مقابلہ کرے گا تباہ ورسوا ہوگا )۔ اللہ نیکو کاروں، پرہیزگاروں اور ان مخفی حال کے ( گم نام ) لوگوں کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ نظروں سے غائب ہوں تو ان کو پوچھا نہ جائے اور جب موجود ہوں تو ان کو بلایا نہ جائے اور (بلایا جائے تو) پاس نہ بٹھایا جائے ان لوگوں کے دل چراغِ ہدایت ہیں( کہ اس کے نور سےراہِ راست پائی جاتی ہے ) اور یہ لوگ ہر تاریک زمین سے ظاہر وپیدا ہوتے ہیں۔
تشریح:’’شرک ہے ‘‘سے مراد شرکِ عظیم ہے یا ایک نوعِ شرک سے ہے یعنی وہ نہایت پوشیدہ ہے اور بہت کم لوگ اس سے سالم رہتے ہیں یعنی اقویا بھی چہ جائیکہ ضعفا، پس یہ من جملہ اسبابِ گریہ سے ہے۔ اور سببِ گریہ دوسرا اولیا کو ایذا دینا ہے، اوراکثر اولیا پوشیدہ ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اَوْلِیَائیْ تَحْتَ اَفْنَائِیْ لَایَعْرِفُھُمْ غَیْرِیْ؛ اولیا میرے عرش کے صحن کے درمیان ہیں ان کو میرے علاوہ نہیں پہچانتے ہیں دوسرے ۔اور انسان بدزبانی سے خالی نہیں۔ تو ہوسکتا ہے کہ بدون ارادہ بعض اولیا کی شان میں گستاخی ہوئی ہو اور ان کو اذیت ہوئی ہو اور مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا کا وبال آپڑے،اور بزرگوں نے فرمایا ہے کہ دین دار وہ ہے جو حق تعالیٰ کے احکام کی عظمت کو پہچانےاورخلقِ خدا پر شفقت کرےاورشرکِ جلی وخفی اور تمام ممنوعات سے پرہیز کرے۔ بعض مقبول بندے ایسے پوشیدہ ہیں کہ وہ پریشان بال وحال ہیں، روایت ہے: رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ لَایُعْبَأُ بِہٖ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَأَبَرَّہٗ؛بعضے بندے پراگندہ بال غبار آلود ہیں اور لوگ ان کی پروا بھی نہیں کرتے (یعنی مخلوق میں بے قدر ومنزلت ہوتے ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے درجے کے مقبول ہوتے ہیں کہ) اگر وہ قسم کھالیں کسی بات پر تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کردیتے ہیں ۔
خاکسارانِ جہاں را بحقارت منگر
تو چہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد
ترجمہ: دنیا کے خاکساروں کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو تجھے کیا خبر کہ اس گردو غبارمیں دُرِّ شہسوار پوشیدہ ہو۔ ان کو چراغِ ہدایت فرما کر اس حدیث سے یہ بتادیا گیا کہ خالی خاکساری اور فقیری اور خواری بے اختیاری میں یہ فضیلت نہیں جب تک کہ تقویٰ اورنورانیت باطن میں نہ ہو۔حق تعالیٰ فرماتے ہیں: اِنْ اَوْلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ اور نہیں ہیں ولی اس کے مگر پرہیز گار بندے۔پس غیر متقی ہر گز ولی نہیں ہوسکتا۔
146۔وَعَنْ شَدَّادِ ابْنِ اَوْسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ
ترجمہ:شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ جس نے نماز پڑھی دکھانے کے لیے اس نے شرک کیا اور جس نے روزہ رکھا دکھانے کے لیے اس نے شرک کیا اور جس نے خیرات کی دکھانے کے لیے اس نے شرک کیا۔
تشریح:یعنی جو عمل دکھانے کے لیے کیا جاوے وہ شرکِ خفی ہے، اور شرکِ جلی بت پرستی کرنا ہے۔ مشائخ سے منقول ہے :مَا مَنَعَکَ مِنَ اللہِ فَھُوَ وَثَنُکَ جو چیز تجھ کو روک دے اللہ سے ( یعنی اللہ کی اطاعت سے ) وہ تیرا بت ہے۔
147۔ وَعَنْ مُّعَاذِ ابْنِ جَبَلٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَکُوْنُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ اَقْوَامٌ اِخْوَانُ الْعَلَانِیَۃِ اَعْدَاءُ السَّرِیْرَۃِ، فَقِیْلَ یَارَسُوْلَ اللہِ! وَکَیْفَ یَکُوْنُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ذٰلِکَ بِرَغْبَۃِ بَعْضِھِمْ اِلٰی بَعْضٍ وَّرَھْبَۃِ بَعْضِھِمْ مِّنْ بَعْضٍ۔
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخری زمانے میں چند قومیں ایسی پیدا ہوں گی جو ظاہر میں دوست ہوں گی لیکن باطن میں دشمن ۔ پوچھا گیا:یا رسول اللہ!یہ کیوں کر ہوگا؟ فرمایا :یہ اس طرح ہوگا کہ ان میں سے بعض بعض سے غرض ولالچ رکھیں گے اور بعض بعض سے خوفزدہ ہوں گے۔
تشریح: یعنی اغراضِ دنیویہ کے سبب دوستی رکھیں گے، جب غرض نہ ہوگی بیگانہ ہوں گے اور غرضِ متوقع نہ پوری ہونے سے دشمن ہوجاویں گے۔ خلاصہ یہ کہ نہ ان کی محبت اللہ کے لیے ہوگی نہ ان کا بغض اللہ کے لیے ہو گا۔ پس اس زمانے میں نہ مخلوق کی محبت کا اعتبار ہوگا نہ مخلوق کی عداوت کا اعتبار ہوگا کیوں کہ ان کی محبت وعداوت کا تعلق اغراضِ فاسدہ اور مقاصدِ کاسدہ سے ہوگا۔
148۔وَعَنْ شَدَّادِ ابْنِ اَوْسٍ اَنَّہٗ بَکٰی فَقِیْلَ لَہٗ مَا یُبْکِیْکَ؟ قَالَ شَیْءٌ سَمِعْتُ مِنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ فَذَکَرْتُہٗ فَاَبْکَانِیْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اَتَخَوَّفُ عَلٰی اُمَّتِی الشِّرْکَ وَالشَّھْوَۃَ الْخَفِیَّۃَ، قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ! اَتُشْرِکُ اُمَّتُکَ مِنْ بَعْدِکَ؟ قَالَ: نَعَمْ! اَمَا اِنَّھُمْ لَا یَعْبُدُوْنَ شَمْسًا وَّلَا قَمَرًا وَّلَا حَجَرًا وَّلَا وَثَنًا وَّلٰکِنْ یُّرَاءُوْنَ بِاَعْمَالِھِمْ، وَالشَّھْوَۃُ الْخَفِیَّۃُ اَنْ یُّصْبِجَ اَحَدُھُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَہٗ شَھْوَۃٌ مِّنْ شَھَوٰتِہٖ فَیَتْرُکَ صَوْمَہٗ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ
ترجمہ:حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک روز ) وہ روئے۔ پوچھا گیا:کیوں روتے ہو؟انہوں نے کہا:مجھے اس بات نے رلایا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میں اپنی اُمت پر شرکِ مخفی اور مخفی خواہشات سے ڈرتا ہوں ۔ میں نےعرض کیا: یارسول اللہ ! کیا آپ کی اُمت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ فرمایا:ہاں، خبردار ! میری اُمت سورج کو نہ پوجے گی، چاند کی عبادت نہ کرے گی ، پتھر کی پرستش نہ کرے گی اور نہ بتوں کے آگے سجدہ کرے گی لیکن اپنے اعمالِ خیر لوگوں کو دکھائے گی۔ اور مخفی شہوت یہ ہے کہ مثلاً ان میں سے کوئی شخص صبح کو روزہ دار اٹھے گا پھر کوئی خواہش نفسانی خواہشات میں سے پیش آئے گی ( مثلاً کھانے پینے کی خواہش یا جماع کی خواہش ) اور وہ روزے کو توڑ دے گا۔
تشریح:کسی نیک عمل کو دکھانے کے لیے کرنا شرکِ خفی کہلاتا ہے، اور یہ ارشاد کہ روزے کو توڑ دے گا یعنی لَا تُبْطِلُوْا اَعْمَالَکُمْ کا لحاظ نہ کرے گا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: لَا تُبْطِلُوْا اَعْمَالَکُمْ اور نہ باطل کرو اپنے اعمال کو۔
149۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَا ھُوَ اَخْوَفُ عَلَیْکُمْ عِنْدِیْ مِنَ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ؟ فَقُلْنَا بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللہِ! قَالَ اَلشِّرْکُ الْخَفِیُّ اَنْ یَّقُوْمَ الرَّجُلُ فَیُصَلِّیْ فَیَزِیْدُ صَلٰوتَہٗ لِمَا یَرٰی مِنْ نَّظَرِ رَجُلٍ۔ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ
ترجمہ:حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مسیح دجال کا ذکر کررہے تھےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا :خبردار! کیا تم کو میں ایک اور بات نہ بتلاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے زیادہ خطرناک ہے؟ ہم نے کہا:ہاں! خبر دیجیے یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( وہ خطرناک چیز ) شرکِ خفی ہے، اور شرکِ خفی یہ ہے کہ مثلاً آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہےاور نماز پڑھتا ہے اور زیادتی کرتا ہے نماز میں ( یعنی لمبے چوڑے ارکان ادا کرتا ہے ) محض اس لیے کہ کوئی شخص اس کو نماز پڑھتے دیکھ رہا ہے۔
تشریح: دجال سے ریا کا خطرہ زیادہ معلوم ہوتا ہے کیوں کہ دجال کے جھوٹے ہونے کی علامات ظاہر ہوں گی اور مقدمۂ ریا دل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
کلیدِ درِ دوزخ است آں نماز
کہ درچشمِ مردم گزاری دراز
ترجمہ:وہ نماز دوزخ کی کنجی ہے جو لوگوں کو دکھانے کے لیے لمبی چوڑی پڑھی جائے۔
150۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَوْ اَنَّ رَجُلًا عَمِلَ عَمَلًا فِیْ صَخْرَۃٍ لَّا بَابَ لَھَا وَلَا کُوَّۃَ خَرَجَ عَمَلُہٗ اِلَی النَّاسِ کَائِنًا مَّا کَانَ
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر کوئی شخص کسی ایسے بڑے پتھر کے اندر کوئی عمل کرے جس میں نہ تو دروازہ ہو اور نہ کوئی روشن دان، اس کے عمل کی خبر لوگوں کو ہوجائے گی خواہ وہ عمل کسی قسم کا ہو۔
تشریح:مراد یہ ہے کہ اگر کوئی مخلص بندہ اپنے اخلاص کے سبب اپنے نیک اعمال کو بہت ہی مبالغہ کے ساتھ پوشیدہ کرے اور ایسی جگہ چھپ کر ذکر ونوافل ادا کرے جہاں سے مخلوق کو پتا چلنا نہایت مشکل ہو تب بھی حق تعالیٰ اس کے اعمالِ صالحہ کی اطلاع مخلوق تک پہنچادیں گے یعنی بندے کو خود اپنے اعمال کے اظہار کی حاجت نہیں اور دکھانے کی نیت سے اعمال کو ضائع کرنے اور ثواب سے خود کو محروم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جب کہ اخلاص کے ساتھ صرف رضائے حق کے لیے عبادت کرنے کی خوشبو کو خود حق تعالیٰ پھیلادیتے ہیں۔پس بندے کو چاہیے کہ اپنے مولیٰ کی رضا کے لیے اپنے اعمالِ صالحہ وطاعات کو مخفی کرنے میں کامل احتیاط سے کام لے ۔ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کا قول حضرت حکیم الاُمت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل فرمایا ہے کہ جس طرح مخلوق کو دکھانے کے لیے نیکی اور عبادت کرنا رِیا ہے اسی طرح مخلوق کےخوف سے یعنی رِیا کے خوف سے ترکِ عبادت بھی ریا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مخلوق کو نظر سے ہٹا دے اور عظمت وکبریائی حق تعالیٰ کی سامنے رکھے جیسا کہ آفتاب کے ہوتے ستارے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ مقام منتہی اور کامل کا ہے۔ مبتدی کے لیے طاعات ومعمولاتِ نافلہ کا اخفا ہی مناسب بلکہ ضروری ہے۔ اور بعضے جاہل صوفیا جو جماعت سے مسجد میں نماز نہیں ادا کرتے اور ریا کا خوف ظاہر کرکے فرائض بھی گھروں میں ادا کرتے ہیں تو یہ ان کی سخت نادانی اور جہالت ہے۔ صرف نوافل اور طاعاتِ نافلہ کے لیے یہ حکم سمجھے۔ حدیث ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جس شخص کے اندر کوئی اچھی یا بُری خصلت چھپی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ایک علامت اس سے ظاہر فرماتے ہیں جس کے سبب وہ صورت سے پہچان لیا جاتا ہے۔
151۔وَعَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَا اَخَافُ عَلٰی ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ کُلَّ مُنَافِقٍ یَّتَکَلَّمُ بِالْحِکْمَۃِ وَیَعْمَلُ بِالْجَوْرِ۔ رَوَی الْبَیْھَقِیُّ الْاَحَادِیْثَ الثَّلَاثَۃَ فِیْ شُعَبِ الْاِیْمَانِ
ترجمہ:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا:میں اس اُمت پر ( یعنی اپنی اُمت پر ) ہر منافق کے شر سے ڈرتا ہوں جو علم وحکمت کی تو باتیں کرتا ہے اور ظلم کے کام کرتا ہے۔
تشریح:یعنی وعظ کہتا ہے لوگوں کو معتقد بنا کر ان سے دنیا کا کوئی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اور خود اس پر عمل نہیں کرتا کہ اس کا دل تقویٰ کے نور سے خالی ہوتا ہے اور یہی صفت منافقوں کی ہے۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے وجود سے اپنی اُمت پر خوف فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ جملہ خدامِ دین کی اس فتنے سے حفاظت فرمائیں، آمین۔ اور سب کے صدقہ میں اس عبد ناکارہ کی حفاظت فرمائیں،آمین ۔
152۔وَعَنِ الْمُھَاجِرِ ابْنِ حَبِیْبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللہُ تَعَالٰی اِنِّیْ لَسْتُ کُلَّ کَلَامِ الْحَکِیْمِ اَتَقَبَّلُ وَلٰکِنِّیْ اَتَقَبَّلُ ھَمَّہٗ وَھَوَاہُ فَاِنْ کَانَ ھَمُّہٗ وَھَوَاہُ فِیْ طَاعَتِیْ جَعَلْتُ صَمْتَہٗ حَمْدًالِّیْ وَوَقَارًا وَّاِنْ لَّمْ یَتَکَلَّمْ
ترجمہ:حضرت مہاجربن حبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:میں حکیم کے ہر کلام کو قبول نہیں کرلیتا لیکن میں اس کے ارادہ اور نیت کو قبول کرتا ہوں۔ اگر اس کی نیت اور محبت میری اطاعت میں ہے تو میں اس کی خاموشی کو اپنی تعریف قرار دیتا ہوں اور وقار، اگرچہ وہ کلام نہ کرے۔
تشریح:یعنی اگر کلام کرے دین کا اور نیت دنیا ہو تو وہ دنیا ہی ہے اور اگر خاموشی اختیار کرے اللہ تعالیٰ کی محبت واطاعت کے لیے تو وہ خاموشی محمود اور حمدوثنا کے رتبے میں مقبول ہے اور مایۂ وقار علم کا ہے۔ اسی سبب سے مشائخ سے منقول ہے کہ اللہ والوں کی خاموشی بھی ہادی ہے، جس طرح سے ان کا نطق درجۂ قال سے ہادی ہے ان کا سکوت بھی درجۂ حال سے ہادی ہے ۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
خامش اند ونعرۂ تکرارِ شاں
می رودتا یار وتختِ یار شاں
ترجمہ: اولیاء اللہ خاموش بھی ہوتے ہیں اس وقت بھی ان کے باطن سے حق تعالیٰ تک مناجاتِ خاصہ وفریادِ خاص کا رابطہ قائم رہتا ہے۔
رونے اور ڈرنے کا بیان
فصلِ اوّل
153۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَّلَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر تم اس چیز کو جان لو جس کو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روؤاور بہت کم ہنسو ۔
تشریح:اس حدیث میں تنبیہ فرمائی گئی ہے اُمت کو کہ جاہلوں اور غافلوں کے طریقۂ حیات سے اجتناب کرے یعنی زیادہ ہنسنے اور زیادہ راحت وعیش سے زندگی کو بچائے اور اُمید پر خوف کو غالب رکھے مگر بڑھاپے میں خوف پر اُمید کو غالب رکھے بالخصوص دنیا سے رخصت ہونے کے قریب ایام میں عفو ورحمت کا مراقبہ زیادہ رکھے۔
154۔ وَعَنْ اُمِّ الْعَلَاءِ الْاَنْصَارِیَّۃِ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَاللہِ لَا اَدْرِیْ وَاللہِ لَااَدْرِیْ وَاَنَا رَسُوْلُ اللہِ مَایُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِکُمْ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
ترجمہ: حضرت ام العلاء انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اگر چہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں لیکن اللہ کی قسم!یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ( معاملہ ) کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا ( معاملہ کیا جائے گا)۔
تشریح:یہ حدیث اس وقت وارد ہوئی جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا جو کبائر مہاجرین صحابہ میں سے تھے،انتقال ہوا اور جنّت البقیع میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کے بعد ان کی پیشانی کا بوسہ دیا اور آنسو بہائے اور بہت عنایات فرمائیں۔ایک عورت نے، جو وہاں حاضر تھی کہا کہ اے ابنِ مظعون! بہشت تجھ کو مبارک ہو کہ عاقبت تیری بخیر ہے۔پس آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو زجر وتنبیہ فرمائی کہ غیب کے فیصلوں پر ایسے یقین کے ساتھ دعویٰ کرنا اور پھر رُو برو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جرأت سے بولنا بے ادبی اور نادانی ہے۔ اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے متعلق یہ فرمانا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہوگا یہ دراصل آپ کا غلبۂ استحضارِ عظمت وکبریائی حق سے راہِ ادب اختیار کرنا ہے اور حقیقت کلام کی مراد نہیں،یا یہ مراد ہو کہ عاقبت کا حال تفصیل کے ساتھ معلوم نہیں اگر چہ مجملاً آپ کو علم تھا کہ عاقبت جملہ انبیا علیہم السلام کی بخیر ہے، یا مراد یہ ہو کہ میں نہیں جانتا موت سے مروں گا یا قتل سے، اور نہیں جانتا میں کہ تم پر اگلی اُمتوں کی طرح سے عذاب نازل ہوگا یا نہیں۔ اور حق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس آیت کے نزول سے قبل ہے:لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہوا کہ عاقبت بخیر ہے ۔ کَذَا قِیْلَ.
155۔ وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَرَأَیْتُ فِیْھَا امْرَاَۃً مِّنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ تُعَذَّبُ فِیْ ھِرَّۃٍ لَھَا رَبَطَتْھَا فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَدَعْھَا تَاْکُلَ مِنْ خَشَاشِ الْاَرْضِ حَتّٰی مَاتَتْ جُوْعًا وَّرَأَیْتُ عَمْرَو ابْنَ عَامِرِنِ الْخُزَاعِیَّ یَجُرُّ قُصْبَہٗ فِی النَّارِ وَکَانَ اَوَّلَ مَنْ سَیَّبَ السَّوَائِبَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پیش کی گئی میرے سامنے دوزخ کی آگ ( یعنی شب معراج میں یا خواب میں یابیداری میں ) میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا جس کو ایک بلی کے معاملے میں عذاب کیا جارہا ہے جس کو اس نے باندھ کر رکھا تھا؛ نہ تو وہ اس کو کھانے کو دیتی تھی اور نہ اس کی رسی کھولتی تھی کہ وہ حشرات الارض میں سے ( چل پھر کر ) کچھ کھالے یہاں تک کہ وہ بلی بھوک سے مرگئی، اور میں نے عمر و بن عامر خزاعی کو دیکھا جو اپنی آنتوں کو دوزخ کی آگ میں کھینچ رہا تھا اور یہ سب سے پہلا شخص تھا جس نے سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی۔
تشریح:پہلے زمانۂ جاہلیت میں رواج تھا کہ جو اونٹنی ہمیشہ مادّہ جنتی یا کوئی مسافر دور دراز سے آتا یا کوئی بیمار شفا پاتا تو اونٹنی آزاد کرتے اور اس کو چھوڑدیتے، اس پر سواری نہ کرتے، جہاں سے وہ چاہتی چرتی، پانی پیتی اور اس عمل کو بت کے تقرب کا ذریعہ سمجھا جاتا۔ اس رسم کی ابتدا کرنے والا اور بنیاد رکھنے والا یہی عمرو بن عامر خزاعی ہے۔ اور علما نے لکھا ہے کہ بتوں کی پرستش کی ایجاد کرنے والا بھی یہی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض آدمی ابھی سے دوزخ میں ہیں۔ اور بعض علما نے کہا ہے کہ قیامت کے دن جو اس پر ہونے والا ہے وہ حالت آپ پر منکشف کی گئی اور صورت اس کی دکھادی گئی۔ واللہ اعلم۔
156۔ وَعَنْ اَبِیْ عَامِرٍ اَوْ اَبِیْ مَالِکِنِ الْاَشْعَرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَیَکُوْنَنَّ مِنْ اُمَّتِیْ اَقْوَامٌ یَّسْتَحِلُّوْنَ الْخَزَّ وَالْحَرِیْرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ وَلَیَنْزِلَنَّ اَقْوَامٌ اِلٰی جَنْبِ عَلَمٍ یَّرُوْحُ عَلَیْھِمْ بِسَارِحَۃٍ لَّھُمْ یَاتِیْھِمْ رَجُلٌ لِّحَاجَۃٍ فَیَقُوْلُوْنَ ارْجِعْ اِلَیْنَا غَدًا فَیُبَیِّتُھُمُ اللہُ وَیَضَعُ الْعَلَمَ وَیَمْسَخُ اٰخَرِیْنَ قِرَدَۃً وَّخَنَازِیْرَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔
ترجمہ: حضرت ابو عامر یا ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ میری اُمت میں کچھ قومیں ایسی ہوں گی جو خز اور ریشم کو اور شراب کو اور باجوں کو حلال وجائز کرلیں گی اور ان میں سے کچھ قومیں اونچے پہاڑوں کے پہلو میں قیام اختیار کریں گی یعنی ان کی جائے قیام مشہور اور نمایاں جگہ ہوگی کہ گدا اور محتاج سب ان کو دیکھنے آئیں گے اور حاجتیں طلب کریں گے۔ رات کے وقت ان کے مویشی (جو چرنے کو گئے تھے) واپس آئیں گے (پیٹ بھرے ہوئے اور تھنوں میں دودھ بھرا ہوا) اور ایک سائل ان کے پاس حاجت کے سبب آئے گا (تاکہ مویشی کے دودھ سے محظوظ ہو) وہ اس سے کہہ دیں گے کہ کل ہمارے پاس آنا، پھر رات ہی کو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا اور پہاڑ کو ان کے بعض آدمیوں پر گرادے گا اور بعض کی صورتوں کو مسخ کردے گا اور بندر اور سؤر بنادے گا جو قیامت تک اسی شکل و صورت میں رہیں گے۔
تشریح:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خسف اور مسخ کا عذاب اس اُمت پر بھی ہوگا جیسا کہ اگلی اُمتوں پر ہوا۔ پس حدیثوں میں جو اس کی نفی آتی ہے وہ یا تو محمول ہے اس معنیٰ پر کہ اس اُمت کے اوّل زمانہ میں ایسا نہ ہوگا، اور یا محمول ہے کہ تمام اُمت پر خسف و مسخ نہ ہوگا پس بعض پر ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
157۔وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا اَنْزَلَ اللہُ بِقَوْمٍ عَذَابًا اَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ کَانَ فِیْھِمْ ثُمَّ بُعِثُوْا عَلٰی اَعْمَالِھِمْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
ترجمہ:حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے تو یہ عذاب ہر اس شخص کو گھیر لیتا ہے جو اس قوم میں ہوتا ہے (یعنی صالح اور غیر صالح) پھر (آخرت میں) لوگوں کو مع ان کے اعمال کے اٹھایا جائے گا۔
تشریح: یعنی دُنیا میں عذاب کے اندر نیک اور بُرے سب شامل ہوں گے لیکن آخرت میں ہر ایک اپنے عمل کے موافق جزا دیا جاوے گا، اگر نیک ہے اچھا بدلہ دیا جاوے گا اور بُرا ہے تو بُرا بدلہ پائے گا۔
158۔ وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَا مَاتَ عَلَیْہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن ہر بندہ اس حال میں اُٹھایا جائے گا جس حال پر کہ وہ مرا ہے۔
تشریح:یعنی ایمان پر یا کفر پر، طاعت پر یا معصیت پر، ذکر پر یا غفلت پر جس حالت میں مرے گا اسی حالت میں قیامت کے دن اُٹھایا جاوے گا۔پس اعتبار خاتمہ کا ہے کہ دیکھیے آخری حالت کس کی کیا ہوتی ہے۔ اسی سبب سے حق تعالیٰ کے مقبول بندے یعنی اولیائے کرام اپنے خاتمہ کے خوف سے لرزاں وترساں رہتے ہیں اور جاہل فقیر اور وہ اہلِ علم جو اہل اللہ کی محبت سے خود بینی کے سبب دور رہتے ہیں وہ دعویٰ اور پندار اور تکبر کی باتیں کرنے میں دلیر ہوتے ہیں۔ حق تعالیٰ اس بیماری سے اُمتِ مسلمہ کی حفاظت فرمائیں ۔ آمین ۔
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
ایماں چو سلامت بہ لبِ گور بریم
احسنت بریں چستی و چالاکی ما
ترجمہ: جب ایمان کو سلامتی کے ساتھ ہم قبر میں لے جائیں گے تو اس وقت ہم اپنی موجودہ چالاکی اور چستی پر تحسین وتعریف کریں گے۔ کیوں کہ اعتبار خاتمہ کا ہے اور ابھی اس کا علم ہم کو نہیں۔
فصلِ دوم
159۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا رَاَیْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ ھَارِبُھَا وَلَا مِثْلَ الْجَنَّۃِ نَامَ طَالِبُھَا۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دوزخ کی آگ کی مانند نہیں دیکھا ( یعنی ایسی شدید وہولناک چیز نہیں دیکھی ) کہ اس سے بھاگنے والا سوتا ہے اور جنّت کی مانند نہیں دیکھا کہ اس کا طلب کرنے والا سوتا ہے۔
تشریح: یعنی دوزخ کے عذاب سے جیسا کہ بھاگنا چاہیے اس طرح لوگوں کا عمل نہیں بلکہ بھاگنے کے بجائے سوتے ہیں۔ اور دوزخ سے بھاگنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کو گناہوں سے بچایا جاوے اور نیک اعمال میں سستی نہ کرے۔اسی طرح جنّت کی نعمتوں کی طرف جس طرح رغبت کے ساتھ دوڑنا چاہیے اس طرح عمل نہیں بلکہ دوڑنے کے بجائے سوتا ہے۔ اور جنّت کی طرف بھاگنے کا مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال کا اہتمام کیا جاوے اور گناہوں سے بچا جاوے۔
160۔وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنِّیْ اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ اَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَھَا اَنْ تَأَطَّ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا فِیْھَا مَوْضِعُ اَرْبَعِ اَصَابِعَ اِلَّا وَمَلَکٌ وَّاضِعٌ جَبْھَتَہٗ سَاجِدًا لِلّٰہِ وَاللہِ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَّلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَّمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَی الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ اِلَی الصُّعُدَاتِ تَجْاَرُوْنَ اِلَی اللہِ، قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ یّٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ شَجَرَۃً تُعْضَدُ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ
ترجمہ:حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جس چیز کو دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے ( یعنی علاماتِ قیامت اور حق تعالیٰ کی صفاتِ قہریہ) اور جس بات کو میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے ( یعنی احوالِ آخرت کے اسرار اور قیامت کی ہولناکیاں اور عذابِ دوزخ کی شدت )،آسمان آواز بلند کرتا ہے اور اس کو آواز کرنے کا حق ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے!آسمان میں چار انگشت جگہ بھی ایسی نہیں جہاں فرشتے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنا سر رکھے سجدہ میں نہ پڑے ہوں ۔ اگر تم کو اس بات کا علم ہوجائے جس کو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور زیادہ روؤ اور نہ عورتوں سے بستروں پر لذت حاصل کرو اور جنگلوں کی طرف اللہ تعالیٰ سے نالہ وفریاد کرتے ہوئے نکل جاؤ۔
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد غلبۂ خوف سے فرمایا: کاش! میں کوئی درخت ہوتا جس کو کاٹ ڈالا جاتا۔
تشریح:بعض فرشتے قیام میں ہیں اور بعض رکوع میں ہیں بعض سجدہ میں ہیں۔ اور اس حدیث میں صرف سجدہ کا تذکرہ ہے تو ممکن ہے کہ یہ صورت ایک آسمان کے ساتھ ہو۔ واللہ اعلم۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول کہ کاش میں درخت ہوتا اسی طرح کے اقوال اور بھی اکابر اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کاش میں بکری ہوتا اور ذبح کرکے مجھے کھاجاتے، دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کاش کہ میں پرندہ ہوتا جہاں چاہتا چلا جاتا اور کچھ احکامِ شریعت اس پرنہیں۔ اور یہ حضرات وہ ہیں جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بشارت جنّت کی دی گئی تھی پھر اوروں کو کیا کہیے۔ اگر چہ وعدہ مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، لیکن خوفِ درگاہ ِبے نیازی کمرتوڑے ڈالتا ہے ۔ آسمان آواز بلند کرتا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اژدہام وہجومِ ملائکہ سے آسمان چر چر بولتا ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



