پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین بحرانوں سے گزر رہا ہے اور اس کی سراسر ذمہ داری نااہل حکمرانوں، ان کے کٹھ پتلی نمائندوں اور ان کے کرپٹ مشیروں اور وزیروں پر عائد ہوتی ہے۔ آج وطنِ عزیز پاکستان کے جس شعبے، جس شہر اور جس صوبے کو بھی اٹھا کردیکھیں اس کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ آدھا ملک بارشوں اور سیلاب سے ڈوب چکا ہے۔ مکانات، دکانیں اور املاک سیلابی پانی سے تباہ و برباد ہوچکی ہیں، عوام کا اربوں کا مالی نقصان ہوا ہے اور ناقابلِ تلافی جانی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ ایسے میں ڈوبے ہوئے ایک شہرِ کراچی کے دورے اورصدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف سمیت ملک کے چوٹی کے سیاسی قائدین کے کراچی میں اکٹھ، بیانات اور تصاویر کی حیثیت عوام کی کھوپڑیوں کے مینار پر فاتحانہ انداز میں کھڑے ہوکر تصویریں بنوانے کی سی ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ مِنی پاکستان کہلائے جانے والے، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی کو ہی یہ اعزاز کیوں کر ملا کہ تمام سیاسی قائدین وہاں اکٹھے ہوگئے، یہ ہم سب ہی جانتے ہیں۔ کراچی سیاسی پتّا ہے، جسے پیپلز پارٹی اپنے مفادات کے لیے کھیلتی ہے اور وفاق اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے؛ مگر کراچی کے عوام کو اس کے نتیجے میں محض سیوریج ملا پانی، ڈوبی ہوئی املاک، گندے پانی سے پھوٹتی بیماریاں، گھپ اندھیرا، اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی ’سہولیات‘ ہی ملتی رہی ہیں۔ کراچی کے جو علاقے پوش ترین کہلاتے ہیں، ان کے رہائشی بھی اب اپنی آرام دہ خواب گاہوں سے، گھروں میں سیوریج کا پانی داخل ہونے ، بجلی ناپید ہونے اور پینے کا پانی دستیاب نہ ہونے کا رونا روتے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان حالات میں کیا کوئی ہے جو اہالیانِ پاکستان کا پرسانِ حال ہو؟
کراچی ایک بڑا شہر ہے اور بالخصوص اسی ایک شہر کی اگر بات کی جائے تو قدرتی و مصنوعی آفات کے مواقع پر عوام کی حقیقی مدد فلاحی امدادی تنظیمیں ہی کرتی نظر آتی ہیں۔ مگر اس مرتبہ ان کی کارکردگی بھی نسبتاً سست نظر آرہی ہے۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ حکومت اور حکومتی مشینری نے خود تو ویسے ہی ملک چلانا نہیں؛ بقول چیف جسٹس، ’اس حکومت میں نہ ملک چلانے کی اہلیت ہے اور نہ ہی قابلیت‘؛بلکہ اس میں کام کرنے والے جتنے کل پرزے ’اتفاقاً‘ باقی رہ گئے ہیں انھیں بھی بےکار کرنے کا بیڑا اس حکومت نے اٹھا رکھا ہے، اور فلاحی ادارے جو عوام ہی کی مدد سے عوام ہی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں، ان کی بھی کہیں گاڑیاں ضبط کرلی جاتی ہیں تو کہیں ٹیکس کے نام پر زکوۃ و صدقات و خیرات کا کروڑوں روپیہ ہضم کرلیا جاتا ہے، کہیں یہ کہہ کہہ کر ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے کہ ان تنظیموں کے سرکردہ افراد کا اپنا کردار شفاف نظر نہیں آتا…… غرض یہ کہ باقاعدہ ایک مشن کے تحت ملک کی لُٹیا ڈبونے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے موجودہ حکومت و انتظامیہ اور ان کے سرپرستوں نے۔
فی الحال ہم ایک شہر کراچی پر ہی توجہ اس لیے مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ یہ شہر آبادی، صنعت کاری، بندرگاہ اور دیگر وجوہات کی بنا پر پاکستان کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اگر اس شہر کا یہ حال ہے تو پھر باقی شہروں اور دیہاتوں کی دگرگوں حالت کا اندازہ خود ہی کرلیجیے۔ معلوم ہوا کہ شہر کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاق کی جانب سے گیارہ ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا…… بڑی واہ واہ ہوئی؛ مگر ابھی اس واہ واہ کی دھول بیٹھی بھی نہ تھی کہ حکومت کے اپنے ہی ایوانوں سے ایسے ایسے اعداد و شمار اس بجٹ اور اس میں موجود وفاق اور صوبۂ سندھ کے حصے کے بارے میں سامنے آنے لگے کہ کہنے والوں نے یہ تک کہہ دیا کہ جس طریقے سے پاکستان میں فیصلہ سازی ہورہی ہے اس طریقے سے تو ایک گھر کے کچن کے اخراجات اور بچوں کی فیس کا حساب بھی نہیں کیا جاتا۔
ایک طرف یہ سب حالات ہیں؛ ماضی قریب میں میڈیا پر نشر ہونے والی چند تصاویر اور ویڈیوز ہی کو گر دیکھا جائے تو کراچی کیا اور سندھ کے دیگر علاقے کیا، سب ہی پانی اور اندھیرے میں ڈوبے نظر آتے ہیں، پھر خیبر پختونخوا کی طرف سوات، چترال، گلگت…… یہ تمام علاقے شدید ترین سیلاب سے متاثر ہوئے مگر میڈیا پر اگر ذکر آیا بھی تو وہاں پھنس جانے والے سیاحوں کا، اور رہے وہاں کے عوام، تووہ تو پہلے بھی اپنے رب ہی کے بھروسے پر زندگی گزارتے تھے اور اب بھی اپنے رب کی مدد کے ساتھ اپنے بچاؤ کے لیے کچھ کرہی لیں گے، ان کے بارے میں کسی کو سوچنے اور فکر کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے!!!
ان حالات میں کہ جب کلفٹن اور ڈیفنس تک کے رہائشی آپ کو پانی، بجلی اور سیوریج کی بنیادی سہولیات کے لیے احتجاج کرتے اور پورے ملک کے کروڑوں عوام آٹے، چینی، مہنگائی، بجلی، پٹرول، بارش، سیلاب و بے روزگاری کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں، سیاسی حلقے چیخ رہے ہیں کہ اس حکومت نے ملک کو اپنی تاریخ کے ریکارڈ قرضوں تلے دبا دیا ہے، بین الاقوامی سفارت کاری بالکل نااہل ثابت ہوچکی ہے، دشمنوں کو دوست بنانے کی خواہش میں اپنے دوستوں سے بھی یہ ملک ہاتھ دھو بیٹھا ہے، ایسے وقت میں ملک کے وزیر اعظم بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنے اوپر انحصار کرنے والا ملک بنے اور قرضوں کا بوجھ اس ملک سے بالکل ختم ہوجائے!!! کیا وزیر اعظم کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے جس سے وہ یہ کردکھانا چاہتے ہیں؟؟؟ جب آپ نے اپنے ملک کی تمام تر صنعتیں بجلی اور گیس کی عدم فراہمی کے سبب بند کردی ہیں اور ایک سی پیک کا ہار گلے میں لٹکائے آپ کشکول پھیلائے چین کی جانب اپنی بھکاری نگاہیں اٹھائے دیکھ رہے ہیں، تو کیا خاک پاکستان خود انحصاری کی منزل طے کرے گا!!! کہتے ہیں کہ عوام کو مشکل وقت دیکھنا پڑے گا کیونکہ نیچے سے اوپر تک سب تبدیل ہونے والا ہے…… مگر یہاں تو تبدیل ہوتا کچھ نظر نہیں آرہا سوائے پانچویں کے بعد چھٹے آئی جی پنجاب کے!!! مدینۂ ثانی کے نعرے لگانے والے اگر یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی خاطر عوام تکلیف برداشت کریں تو انھیں خود اور حکومتی ایوانوں میں بیٹھے افراد کو سب سے پہلے اس تکلیف سے گزرنا چاہیے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کیے ہوئے مدینہ میں جب خلیفۂ راشد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں قحط آتا ہے، تو عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی آخری حد تک کوشش کرنے والے سیدنا عمر کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ جسم پر محض ہڈیاں اور ماس باقی رہ جاتا ہے۔ کہنے والے نے جب کہا کہ اے امیر المومنین! آپ اپنے اوپر اتنی سختی نہ کریں؛ کچھ تو اپنی صحت کا خیال رکھیں تاکہ آپ عوام کی خدمت کے قابل رہ سکیں، تو خلیفۂ راشد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا جواب دیا کہ مسلمان عوام تو بھوکے ہوں اور عمر پیٹ بھر کر کھائے!!! مگر مدینۂ ثانی کے دعویٰ دار تو مزید سے مزید ٹھونسے جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہماری تنخواہیں بڑھاؤ ہمارے گھروں کے اخراجات پورے نہیں ہوتے اور عوام! تو عوام پر لازم ہے کہ وہ تبدیلی کی خاطر فاقے سے، سیلابی پانی میں ڈوب کر، بے روزگاری کے ہاتھوں خودکشی کرکے جانیں دیں؛ کیونکہ جانیں دیے بغیر تو تبدیلی نہیں آتی!!! یہاں لینے کے باٹ اور ہیں اور دینے کے باٹ اور! جب ووٹ لینے ہوں تو حقوق، انصاف، سہولیات کی فراہمی کے وعدے اور دیگر خوشنما نعرے اور جب کارکردگی دکھانی ہو تو پھر عوام تکلیف برداشت کریں!! کیسے دہرے معیارات ہیں تسبیح ہاتھ میں لپیٹ کر شان دار انٹرویو دینے والوں کے!
پاکستان ایک آتش فشاں کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ہر سمت ابلتا لاوا پھٹنے اور ہر چیز کو خاکستر کردینے کو تیار ہے ۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کا صبر تمام ہی ہوا چاہتا ہے۔ اہل ایمان پر لگائی جانے والی قدغنیں روز بروز سخت ہوتی جارہی ہیں۔ پاکستان FATF کی گرے سے بلیک لسٹ میں جائے یا نہ جائے، مگر اس کے حکمران اسے اپنے عوام اور اہل دین کی نگاہوں میں بلیک لسٹ کرکے ضرور رہیں گے۔
اے ہمارے محبوب اہالیانِ پاکستان! آپ ہمارے اپنے ہیں۔ آپ کا دکھ درد ہمارا دکھ درد ہے اور آپ کو ملنے والی خوشی اور راحت پر ہم خوش ہیں، ہم آپ ہی کی فلاح کے حریص ہیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ آپ سب کے سب اپنی دنیا برباد کرکے اپنی آخرت سنوارنے کے لیے نکل کھڑے ہوں، بلکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ آپ کو دنیا میں بھی راحت ملے اور آپ کی عاقبت بھی خراب نہ ہو۔ یہ نااہل حکمران آپ کو آپ کے دین سے بےگانہ کرکے آپ کو محض پیٹ کے بندے بنا کررکھنا چاہتے ہیں، یہ آپ کو اور آپ کی جان و ایمان کو دو بوری آٹے کے عوض خرید لینا چاہتے ہیں؛ جان رکھیے ! یہی فتنۂ دجال ہے کہ جب انسان محض خوراک کے چند نوالوں اور چند بوند پینے کے پانی کے لیے ترس رہا ہوگا اور بظاہر اسے سب کچھ میسر ہو گا مگر اپنے ایمان کے سودے کی شرط پر۔ پس فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ کو اپنا دین و ایمان بچانے کے لیے آواز بلند کرنی ہے، جس کے نتیجے میں آپ کو دنیا و آخرت کی راحت و آسانی ملے گی ان شاءاللہ، یا دوسری صورت میں اپنی جان بچانے کی کوشش میں اپنا ایمان کھونا ہے اور اس کا نتیجہ دنیا و آخرت کی تباہی ہے۔ دنیا میں تو آپ اب بھی تکلیف اٹھا ہی رہے ہیں، ضروریاتِ زندگی کے حصول کے دروازے ابھی بھی آپ پر بند ہیں، مگر اللہ کی رحمت کا در اب بھی کھلا ہے۔ اپنے اور اپنے بچوں کے دین اور ایمان کو بچانے کی خاطر نفاذِ شریعت کا مشن لے کر اٹھیے کہ شریعت ہی میں آپ کی جان اور آپ اور آپ کی نسلوں کے ایمان کی بقا ہے۔ شریعت کی ٹھنڈی چھاؤں تلے ہی آپ کو دنیا و آخرت کا سکون میسر آسکتا ہے۔ آپ ہی کے گلی محلّوں سے وہ فرزانے بھی نکلے ہیں جنھوں نے اپنے اور اپنی امت کے ایمان کی شمع جلائے رکھنے کے لیے لہو دیا ہے اور وہ عند اللہ سرخرو ہوگئے ہیں، ان شاءاللہ، آپ کو بھی ان کے نقوش ہائے قدم پکار رہے ہیں۔ شیطان آپ کو ڈراتا ہے کہ ہم اور ہمارے بیٹے اگر نفاذِ دین کی جدوجہد کے لیے اٹھے تو پسِ زندان ڈال دیے جائیں گے، مار دیے جائیں گے، عقوبت کا نشانہ بنیں گے…… کیا آج پاکستان کی سڑکوں پر آپ کی اور آپ کی اولاد کی جان، مال اور عزت محفوظ ہے؟ پاکستان کی جیلوں اور خفیہ قید خانوں میں کیا فقط اللہ کے نام لیوا بند ہیں؟ ذرا تھانوں میں جاکردیکھیں کہ روزانہ کی بنیاد پر نشانۂ تعذیب بننے والے کیا سب کے سب اللہ کے نام پر اٹھ کھڑے ہونے والے تھے!! جب آپ نے مسلمان ہونے کا دعو یٰ اللہ رب العزت کے سامنے پیش کیا ہے تو بہرحال آپ آزمائے جائیں گے؛ رب تعالیٰ کے فرماں بردار بن کر اس کی رضا کے حصول کے رستے میں یا اپنے رب کے نافرمان بن کر اس کی مشیت سے فرار کے رستے میں !!! فیصلہ آپ کا ہے۔
وما علینا الّا البلاغ المبین







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



