ماہِ اپریل میں اللہ ﷻ نے ساحلِ افریقہ میں مجاہدینِ اسلام کو ایک عظیم کامیابی سے نوازا۔افریقہ کے صحرائے اعظم میں کئی لاکھ مربع کلومیٹرکا علاقہ آج اسلامیوں کے زیرِ اختیار ہے۔ مالی میں اہلِ اسلام کی فتح پر مبارک باد اوراختصار کے ساتھ چند حالات، فقہ الواقع اور نصائح پر مشتمل باتیں گزشتہ ماہ مجلّۂ ہٰذا کے ’اداریے‘ میں پیش کی گئی تھیں۔ اس ماہ فتحِ مالی پر مبارک بادِ محض کے بجائے مالی کی تحریک کا پس منظر اور کچھ حالات، نیز مبارک باد پیش کی جا رہی اور اس سیکشن ’فتحِ مالی‘ میں پہلا مضمون حکیم و مدبر قائد شیخ ابو مصعب عبد الودود شہید رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ایسا نادر خط ہے، جو آج کی عالی شان فتوحات کا پیش خیمہ بنا۔
تمہید
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جو حکمت عطا کرنے والی ہے جسے چاہے، اور صلاۃ وسلام ہو خاتم الانبیاء اور ان کی آل و اصحابِ باوفا پر۔
اما بعد:
ادارہ نخبة الإعلام الجهادي ایک اہم خط آپ کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے، جسے ایک تجربہ کار جہاد رہنما نے لکھا ہے۔ اس میں ایک طویل جہادی تجربے کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے، جو امت کے بہترین اور مجاہد طبقے کی تقریباً تیس سال پر محیط حالات و واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں ایسے ادوار بھی شامل ہیں جن میں اسلامی تحریک نے سخت آزمائشیں دیکھی ہیں، جیسے سختی اور کشادگی، اجتماع و افتراق، نعمت اور ابتلاء، تمکین اور کمزوری، اور کبھی قبولیت و اعراض کے مراحل، جن میں مجاہدینِ اسلام نے مرتدین اور حملہ آور صلیبیوں کا بھر پور انداز سے مقابلہ کیا۔ اس دوران مجاہدین نے جنگیں بھی کیں اور پرامن بھی رہے، معرکے بھی لڑے اور حکمرانی بھی کرتے رہے۔ اس تجربے کے دوران مجاہدین نے فکری و عسکری محاذ پر دشمنوں کے ساتھ مختلف مراحل کا سامنا کیا، اور یہی وجہ ہے کہ اس تجربے کے حوالے سے خود جہادی تحریک کے سیاسی مفکر ابو مصعب السوری رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
’’الجزائر کا جہادی تجربہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں جہادی تحریک کے اہم ترین تجربات میں سے ایک ہے، اور معاصر اسلامی بیداری کے اہم ترین اسباق میں شمار ہوتا ہے۔‘‘
یہ بات انہوں نے اس کے ابتدائی مراحل کے بارے میں کہی تھی، تو آج جب اس کے بعد کے مراحل بھی سامنے آ چکے ہیں تو اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اس خط کے مؤلف ان افراد میں سے ہیں جو اس تجربے کے ابتدائی دور سے وابستہ رہے، اور انہوں نے اپنے طویل تجربے کی روشنی میں اپنے ہم عصر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس معاملے پر غور و فکر کیا۔ ان کے ساتھ تحریک کے رہنما اور اہلِ علم کی ایک جماعت بھی شامل رہی، جنہوں نے مختلف آراء کا تبادلہ کیا، تاکہ ایک ایسا جامع فکری نتیجہ سامنے آ سکے جو مضبوط بنیادوں پر قائم ہو۔1کسی بھی تحریک کے لیے اصل چیز یہی ہے کہ اس کو فتح حاصل ہو یا شکست، بہر دو صورت اس تحریک کے قائدین اپنے اعمال و افعال پر بعداً غور کریں اور آئندہ کی حکمتِ عملی و اسٹریٹیجی کو حاصل ہونے والے نتیجہ، یعنی فتح یا شکست کے تناظر میں مرتب کریں۔ قائدین کے لیے لازمی ہے کہ فتح کے بعد وہ کسی ایسے عجب کا شکار نہ ہو جائیں جو ان کو آئندہ کی منصوبہ بندی سے غافل کر دے اور شکست کی صورت میں وہ ایسے دل شکستہ نہ ہوں کہ غلط فیصلوں اور مداہنت پر آمادہ ہو رہیں۔ شیخ ابو مصعب عبد الودود نے جہادِ الجزائر میں پہلے فتح دیکھی اور پھر شکست اور اس کے نتیجے میں حاصل شدہ اسباق کی بنیاد پر ساحلِ افریقہ کے لیے ایک ایسی حکمتِ عملی و اسٹریٹیجی مرتب کی جس کا نتیجہ آج مالی میں فتح کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ حسنِ تدبیر اللہ ہی کی جانب سے ایک قیمتی عطیہ ہے، وما النصر الا من عند اللہ! (ادارہ)
اسی مقصد کے تحت انہوں نے القاعدہ کی قیادت عامہ سے روابط رکھے، اور ان میں سے ممتاز اہلِ علم و فکر سے استفادہ کیا۔ ان میں سرِ فہرست مجدد جہاد امام اسامہ بن لادن اور ان کے وزیر و نائب شیخ ایمن الظواہری تھے۔
اس کے بعد ہمارے ساتھیوں نے خصوصی طور پر جہادی تحریک کی دو علمی قدآور شخصیات ابو یحییٰ اللیبی اور عطیۃ اللہ اللیبی سے خصوصی تعلق و رابطہ قائم رکھا۔
یوں یہ تحریر ایک مکمل اور پختہ شکل میں سامنے آئی، جس میں کوشش کی گئی کہ تجربے کے تمام پہلوؤں کو سمیٹ کر ایک منظم اور جامع فکری خاکہ پیش کیا جائے۔
آپ اس خط کو غور و تدبر کی نظر سے پڑھیں، اس میں معاصر جہاد کے ہزاروں شہداء کے پاکیزہ خون اور ان اہلِ علم کے افکار کی جھلک موجود ہے جنہوں نے اس کی رہنمائی اور قیادت کی۔ اس میں اس جہادی عمل کے تین بڑے ادوار کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کی تفصیل ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں احکامِ شریعت کی معرفت، رخصت و عزیمت کے دروس، احکام و مقاصد اور اس کے عظیم اہداف کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، نیز تاریخ کے واقعات، ان کے اسباق اور مختلف تجربات سے استفادہ کیا گیا ہے۔
فقہِ واقع (حالات حاضرہ) کو مکمل طور پر سمجھنے، امت کے مسائل کی درست تشخیص کرنے، امت کے لیے عملی منصوبہ بندی کی ضرورت کو محسوس کرنے، اور اپنی صلاحیتوں کے ادراک کے ساتھ ساتھ کمزوریوں کو پہچاننے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اسی طرح امت کے ساتھ فکری و عملی تعلق کو مضبوط بنانے اور اسے اس کے دین سے قریب کرنے کی فکر نمایاں ہے، نہ کہ اس کو اجتماعی عمل سے دور کرنا یا دین کے قیام کے نام پر امت میں تفریق پیدا کرنا۔ یہ دونوں ہی راستے شریعت کے خلاف اور ناقابلِ قبول ہیں۔
مختصر یہ کہ جب آپ اس خط کا مطالعہ کریں گے تو اس میں ایک ہمہ گیر اور جامع فکری و عملی منصوبہ پائیں گے، جو امت کو اس کی عزت اور تمکین کی طرف واپس لے جانے کے مقصد سے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ ایسا راستہ ہے جسے نہ علم کی کمی روک سکتی ہے، نہ دشمن کی طاقت اسے کمزور کر سکتی ہے، اور نہ ہی فتنہ و انتشار اسے اپنی راہ سے ہٹا سکتا ہے۔ جیسا کہ ماضی میں بھی ظالم طاقتیں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس مشن کو روکنے میں ناکام رہیں، بلکہ ان کی کوششیں الٹی انہی کے خلاف ثابت ہوئیں۔
اے مجاہد قائد! یہ تحریر آپ ہی لیے ہے، بلکہ اے اسلام کے داعی! خواہ تمہارا مقابلہ کسی بھی قسم کے باطل کے ساتھ ہو، پس تم اس کے اصولِ حکمت کو سمجھو جو ہر حال میں کارآمد ہیں، اور ان کے فروعات و جزئیات میں سے وہ چیزیں بھی جو تمہارے عملی حالات میں تمہارے لیے ممد بن سکیں۔ ان میں دین کو قائم کرنے کی قوت بھی جمع ہے، سیاست کے پُر پیچ راستوں میں لچک بھی، اور دور رس حکمتِ عملی کی منصوبہ بندی بھی اور ان سب پر مستزاد ان میں فقہ و فہم بھی شامل ہے۔ وہی فہم جس سے سیاستِ شرعی کے باریکیاں آسان ہو جاتی ہیں۔
نوجوانانِ امت! یہ تحریر آپ کے لیے بھی ہے، آپ جو اپنے دین کی نصرت کے آرزو مند ہیں، اور اپنے قائد و راہنما کی درست بات کو سمجھنے کے خواہاں ہیں۔ اسے عام فہم لکھا گیا ہے، تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تعمیل کرو:
فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۙ
’’پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لیا کرو۔‘‘
اور جو لوگ اس روش سے اعراض کرتے ہوئے ناسمجھ اور اصاغر کی اتباع کریں تو ان کا انجام گمراہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ عافیت والا معاملہ فرمائے۔
ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس تحریر میں برکت عطا فرمائے، اس کے ذریعے نفع دے اور اصلاح فرمائے۔ بے شک وہی اپنے مدد چاہنے والوں کا مددگار ہے اور ہدایت چاہنے والوں کو ہدایت دینے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نبی مہربان محمد ﷺ پر، ان کی آل اور تمام صحابہ پر درود و سلام نازل فرمائے۔ آمین
ادارہ نخبة الإعلام الجهادي
مقدمہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ابو مصعب عبد الودود کی جانب سے اپنے امراء بھائیوں اور صحرائے اعظم میں مجلسِ شوریٰ کے اراکین کے نام:
فإني أحمدُ إليكم اللهَ الذي لا إلهَ إلا هو، وهو للحمدِ أهلٌ، وأصلّي وأسلّم على خیرته من بریته سیدنا محمدٍ وعلى آله وصحبِه وسلم تسليمًا كثيرًا، أما بعد:
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ میرا یہ مکتوب آپ کو اور آپ کے ساتھ موجود تمام بھائیوں کو دین و دنیا دونوں میں بہترین حال میں پائے۔
یہ تحریر اُن ہدایات اور سفارشات کا مجموعہ ہے جو تنظیم کی قیادت کی جانب سے صحرائے اعظم میں موجود امراء بھائیوں کو عمل کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ یہ مسلسل نگرانی، خیر خواہی اور اُن رہنمائیوں کے سلسلے میں ہے جو صحرائے اعظم میں پیش آنے والی نئی صورتِ حال سے متعلق ہیں۔
خطّۂ ازواد میں جاری جہادی تحریک سے متعلق ہماری کوشش رہی ہے کہ اس حوالے سے عمومی حالات اور اپنے طرزِ عمل کو مختصر انداز میں بیان کریں، کہ یہاں حالات پیچیدہ اور تیزی سے بدل رہے ہیں۔
یہ ہمارے لیے ایک نہایت اہم اور جہادی تحریک کے لیے حساس مرحلہ ہے، جس میں ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اس منصوبے کی خصوصی نگہداشت کریں، اس کے لیے کامیابی کے اسباب فراہم کریں اور حتی المقدور اس میں ناکامی کے عوامل سے اجتناب کریں۔
ہم نے حالیہ دنوں میں مجلسِ شوریٰ کے اجلاسوں میں اس معاملے پر گفتگو کی، اس کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کیا، اور اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ آپ حضرات کو درجِ ذیل ہدایات اور سفارشات سے آگاہ کیا جائے، کیونکہ اس معاملے کی ہمارے جہاد اور مجموعی قضیے کے لیے بڑی اہمیت ہے اور یہ مستقبل کے چیلنجز سے بھی مربوط ہے۔ چنانچہ ہم نے ان ہدایات کو چھ بنیادی نکات میں تقسیم کیا ہے:
- خطّۂ ازواد میں اسلامی جہادی تحریک کا ایک جامع تصور۔
- موجودہ مرحلے میں تنظیم القاعدہ کی صورتِ حال کو منضبط کرنا اور اس کی داخلی و خارجی سرگرمیوں کی نوعیت کا تعین۔
- ازوادی معاشرے کے مختلف طبقات اور غیر ازواد قبائل کے ساتھ تعامل کے لیے مثالی پالیسیوں کا تعین۔
- انصارُ الدین اور ازواد کی تحریکِ آزادی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تناظر میں اہم نکات۔
- عبوری حکومت کی تشکیل اور اس کی پیش رفت کے بارے میں نقطۂ نظر۔
- ممکنہ خارجی فوجی مداخلت کے حوالے سے اہم تجاویز۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور مسلمان بھائیوں کو درستگی اور رہنمائی نصیب فرمائے اور ان اعمال کی توفیق عطا فرمائے جو اسے محبوب اور پسندیدہ ہیں۔
خطّۂ ازواد میں اسلامی جہادی تحریک کا عمومی تصور
کسی بھی تصور کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے اس کی واضح اور جامع تشکیل ایک بنیادی زینہ ہوتی ہے۔ جب تک تصور درست، متوازن اور زیرِ مطالعہ قضیے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے والا نہ ہو، تب تک اس سے اخذ ہونے والی آراء اور فیصلے یا تو ناقص رہتے ہیں یا پھر سرے سے غلط ثابت ہوتے ہیں۔
ہماری اس تحریک کے حوالے سے نہایت ضروری ہے کہ ہم اس کے مجموعی تصور کو قائم کرتے وقت دو اہم امور کو پیشِ نظر رکھیں:
اول یہ کہ عالمی منظرنامے پر غالب بڑی طاقتیں، اگرچہ عسکری تھکان اور مالی بحران کے باعث کمزور اور پسپا دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اب بھی ایسے متعدد ذرائع اور اثر و رسوخ رکھتی ہیں جو ازواد میں ایک اسلامی حکومت کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، خواہ وہ حکومت مجاہدین کے زیرِ قیادت ہو یا عام اسلامی تنظیموں کے ہاتھ میں ہو۔
اور بے شک یہ بات نہایت متوقع ہے بلکہ شاید یقینی بھی کہ کسی نہ کسی شکل میں عسکری مداخلت پیش آئے، خواہ وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ۔ یا پھر یہ کہ ہم پر مختلف ذرائع سے ایک ہمہ گیر معاشی، سیاسی اور فوجی محاصرہ مسلط کر دیا جائے، جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکل سکتا ہے کہ ہمیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا جائے۔ یا عوام کو ہمارے خلاف بھڑکا دیا جائے، بھوک و افلاس پیدا کر کے، اور رسد و تنخواہوں کی بندش کے ذریعے، یا ہمارے اور خطے کی دیگر مسلح سیاسی قوتوں کے درمیان اختلافات اور مسائل پیدا کر کے تنازع کو ہوا دی جائے، اور ان کے ساتھ ’’گاجر اور لاٹھی(Carrot or Stick)‘‘ کی پالیسی اختیار کر کے، تاکہ انہیں ہمارے خلاف اکسا دیا جائے۔
لہذا اس نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوئے ہم پر لازم ہے کہ اپنے فیصلوں میں نہ تو مبالغہ آرائی سے کام لیں اور نہ ہی اپنے اس منصوبے کو اس انداز میں پیش کریں گویا یہ ایک مکمل خود مختار اسلامی حکومت بن چکا ہے، کیونکہ یہ ابھی قبل از وقت ہے، واللہ اعلم۔
بلکہ ضروری یہ ہے کہ ہم حکمت، تدبر اور حقیقت پسندی کا دامن تھامیں اور اس منصوبے کو ایک وسیع اور جامع زاویۂ نظر سے دیکھیں۔ اسے ایک تاریخی اور سنہری موقع سمجھیں جس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے، تاکہ ازوادی عوام کے تمام طبقات کے ساتھ قریبی تعلق قائم کیا جائے، انہیں متحد کیا جائے اور اپنے اسلامی منصوبے کے گرد جمع کیا جائے۔ یہ سب ان کے جائز اور برحق مطالبات کو اپنانے، انہیں پورا کرنے، اور ان پر ایک خالص اسلامی رنگ چڑھانے کے ذریعے ممکن ہے۔
یہ وہ امتیازی حیثیت رکھنی والی قوم ہے جس کے کندھوں پر اس خطے میں اسلامی فتوحات کا بوجھ رہا، اور جس نے سلطنتِ مرابطین کے قیام و استحکام کی ذمہ داریاں بھی اٹھائیں، جس سلطنت نے طویل عرصے تک اسلام کی حفاظت کی اور امت کے دائرۂ اقتدار کا دفاع کیا۔ یہ قوم مستقبل میں بھی اسلام کی نصرت اور اس کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
مزید برآں، یہ ایک نہایت اہم اور قیمتی موقع ہے کہ ازوادی معاشرے کے مختلف طبقات خواہ وہ عرب ہوں، طوارق ہوں یا زنجی (افریقی نژاد) سب کے ساتھ روابط اور تعلقات استوار کیے جائیں، تاکہ مجاہدین اور ان طبقات کے درمیان پائی جانے والی سماجی، سیاسی اور فکری دوریوں کو حتی الامکان کم کیا جا سکے۔ خاص طور پر بڑے قبائل، مختلف رجحانات رکھنے والی نمایاں مزاحمتی تحریکیں، ازوادی معاشرے کے معززین، علماء، جماعتیں، صحافتی حلقے اور باوقار و دیانت دار قوتیں، سب کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا اس مرحلے کی ایک اہم ضرورت ہے۔
یہ بعید نہیں کہ یہ محدود سا مثبت نتیجہ، جو ہماری مختصر سی تجرباتی کوشش کے دوران حاصل ہوا، اور پھر کسی سبب یا دوسرے سبب سے، ہمارے لیے کافی حد تک مفید ثابت ہوا ہو۔ کیونکہ اس نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ہم پہلی بیج کو اس زرخیز زمین میں بو سکیں، اور اسے ایسی اہم کھادوں سے تقویت دیں جو ہر طرح سے اس درخت کی کامیاب نشوونما کے امکانات کو بڑھاتی ہیں، جسے ہم ایک دن بلند و مضبوط اور مستحکم حالت میں دیکھنے کے خواہش مند ہیں، خواہ اس میں کچھ وقت ہی کیوں نہ لگے۔
اگر ایسا ہوا کہ ہماری مختصر سی تجرباتی کوشش کے دوران صرف یہی محدود سا مثبت نتیجہ حاصل ہو سکا، اور پھر کسی نہ کسی سبب سے حکومت بنانے کا منصوبہ ناکام ہو گیا، تو بھی یہی بات ہمارے لیے کافی سمجھی جا سکتی ہے کہ ہم نے اس زرخیز زمین میں ابتدائی عمدہ قسم کا بیج کامیابی سے بو دیا، اور اس زمین کو ایسی اہم اور مؤثر کھادوں سے تقویت دی جو یقیناً اس درخت کی کامیاب نشوونما کے امکانات کو بڑھائیں گی، جسے ہم ایک دن بلند، مضبوط اور پائیدار حالت میں دیکھنے کے خواہش مند ہیں، خواہ اس کے لیے کچھ مزید وقت ہی کیوں نہ لگے۔
اس اہم عامل کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس مرحلے میں سیاسی اور عسکری منظر نامے پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں، اور نہ ہی ہم اکیلے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لینے والے بنیں، کیونکہ یہ اس وقت ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔ اس کے بجائے ہمیں چاہیے کہ ہم بنیادی اور مؤثر قوتوں کو اس عمل میں شریک کریں، جیسے ازواد کی تحریکِ آزادی اور عرب ازوادی تحریک وغیرہ۔ اس طرزِ فکر کے تین بنیادی فوائد ہوں گے:
- پہلا فائدہ یہ ہے کہ ممکنہ ناکامی یا متوقع ناکہ بندی کی صورت میں ہم اکیلے ذمہ دار نہیں ٹھہریں گے، بلکہ خدا نخواستہ اگر ایسا ہوا تو تمام فریق اس کی ذمہ داری عوام کے سامنے مشترکہ طور پر اٹھائیں گے، اور معاملے کو ایک معروضی اور ذمہ دارانہ انداز میں دیکھا جائے گا۔
- دوسرا فائدہ یہ ہے کہ خطے کے انتظام اور بین الاقوامی و علاقائی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ ایک اہم معاملہ ہے جو ہماری موجودہ عسکری، مالی، تنظیمی اور انتظامی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے حکمت یہی ہے کہ ہم اس مرحلے میں اکیلے بوجھ نہ اٹھائیں بلکہ تمام مؤثر فریق اور پورے معاشرے کے طبقات کو اس میں شامل کریں۔
- تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے ہم پر بیرونی اور بین الاقوامی دباؤ میں کمی آئے گی۔
دوم یہ کہ ہمارے اسلامی منصوبے کو ازواد میں ایک نوخیز بچے کی طرح سمجھنا بہت ضروری ہے، جو مختلف مراحل سے گزر کر ہی آہستہ آہستہ نشوونما پاتا ہے اور اپنی مکمل قوت کو پہنچتا ہے۔
یہ موجودہ منصوبہ ایک نومولود بچے کی طرح ہے جو ابھی ابتدائی دنوں میں گھٹنوں کے بل چل رہا ہے اور ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا۔ کیا یہ حکمت ہو گی کہ ہم اس پر ابھی ایسے بوجھ ڈال دیں جو اسے کھڑا ہونے ہی نہ دیں، بلکہ ممکن ہے کہ وہ دب کر رہ جائے یا اس کی سانس ہی رک جائے؟ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ یہ دنیا کے سخت اور دشمنوں سے بھرے ماحول میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، تو ضروری ہے کہ ہم اس کا بوجھ ہلکا کریں، اس کا ہاتھ تھامیں اور اسے سہارا دیں۔
اسی تصور کی بنیاد پر ہمیں چاہیے کہ ہم مخالفین کو غیر مؤثر کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کریں، اشتعال انگیزی اور دشمنی کو بڑھانے والی پالیسیوں سے بچیں، اور اتحادیوں کو اپنے قریب لانے کی کوشش کریں۔ ہمیں اپنے عملی حالات کے مطابق لچکدار رویہ اختیار کرنا چاہیے، اور بعض حقوق سے دستبرداری کے ذریعے بڑے مقاصد حاصل کرنے کی حکمت اپنانی چاہیے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے صلح حدیبیہ میں کیا۔
یہ بات بھی درست نہیں کہ ہر قسم کی دستبرداری کو کمزوری یا دین سے انحراف سمجھا جائے اور نہ ہی ہر مطالبے کو تسلیم کرنا ذلت ہے۔ اصل فقہ یہی ہے کہ بڑے مصالح کو چھوٹے نقصان کے ذریعے حاصل کیا جائے۔ اسی طرح جب یہ منصوبہ برابر کے حریفوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا تو اس موجودہ کمزوری کے دور اور اس آئندہ طاقت و تمکین کے دور میں فرق کرنا بھی از حد ضروری ہے۔
شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ اپنے ایک قدیم خط میں ہمارے امیرِ تنظیم کو لکھا تھا:
’’طاقت کے دور میں مسلمان کافروں سے لڑتے ہیں، یا تو وہ اسلام قبول کرتے ہیں یا جزیہ دیتے ہیں۔ لیکن اگر صورت حال مختلف ہو تو نبی کریم ﷺ کا وہی طرزِ عمل اپنایا جاتا ہے جو غزوۂ احزاب کے موقع پر تھا، جب آپ ﷺ نے قبیلہ غطفان کو مدینہ کے ایک تہائی پھل دینے کی پیشکش کی تھی تاکہ وہ مسلمانوں کا محاصرہ ختم کر دیں۔ اس وقت مدینہ کے پھل ہی اہلِ مدینہ کی معیشت تھی، یوں قبیلہ غطفان سے براہِ راست جنگ کے بجائے اور ان کے اموال کو غنیمت کی حیثیت سے لینے کے بجائے حکمت کے ذریعے بڑے نقصان سے بچا گیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سمجھدار مسلمان قائد حالات کے مطابق ایسے فیصلے کرتا ہے جو بالآخر اللہ کے دین کی نصرت اور اس کے حکم کے نفاذ کی طرف لے جائیں، خواہ اس میں کچھ تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔ اور ان ہی جیسے فیصلوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صلح حدیبیہ کا فیصلہ بھی تھا، جب امن و صلح کی بات ہوئی تو آپ ﷺ نے فوراً قبول کر لی، کیونکہ اسی میں مسلمانوں کی خیر اور بھلائی تھی، اسی طرح ہم پر بھی لازم ہے کہ راہِ جہاد میں اسی طریق پر کاربند رہیں۔
ہم جو ایک ایسے ملک و خطہ زمین کو پانے کے لیے کوشاں ہیں، جہاں شریعت نافذ ہو، یہ حاصل ہو کر رہے گا، مگر اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے کچھ زمینی اسباب بھی رکھے ہیں، جن کے اختیار کرنے کے بعد ہی یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے، ایسا ملک و حکومت کا قیام کچھ دنوں یا ہفتوں کا کھیل نہیں۔ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اس منصوبے کے بنیادی اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ ہم ایسے تمام بڑے اور قوی قبائل کی حمایت و نصرت حاصل کریں۔‘‘
یقینا شیخ رحمہ اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ ہم جس اصلاح و مقصد کے لیے گھروں سے نکلے ہیں، وہ چند دنوں میں حاصل نہیں ہو گا، بلکہ اس کا حصول بتدریج ہو گا، اور اللہ کی سنتوں میں سے تدریج اہم سنت ہے، عوام کی فلاح و اصلاح کا دم بھرنے والے ہر مصلح و مجدد کے لیے اس کی رعایت نہایت ضروری ہے۔
اس حوالے سے حضرت عمر بن عبدالعزیز کا واقعہ مشہور ہے کہ ایک دن ان کے بیٹے عبدالملک ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: آپ اپنے احکامات نافذ کیوں نہیں کرتے؟(مقصد یہ تھا کہ خلاف شریعت تمام معاملات کو بیک جنبشِ قلم ختم کیوں نہیں کرتے)۔ اللہ کی قسم اگر مجھے اور آپ کو کھولتی کڑھائی میں بھی ڈال دیا جائے، مجھے کوئی پرواہ نہیں ہو گی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اطمینان بھرے لہجے میں جواب دیا:
’’بیٹا! اس معاملے میں جلدی نہ کریں، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں شراب سے متعلق ابتدا میں دو بار مذمت اور شناعت فرمائی اور تیسری بار اس کی حرمت نازل فرمائی، مجھے ڈر ہے کہ اگر احکامِ شریعت کو یک دم سے لوگوں پر لاگو کروں تو وہ بھی جواب میں سب کا انکار کر دیں، جس سے فتنہ و فساد ہی پھیلے گا۔‘‘
پس بھائیو! اس اہم معاملے میں کافی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے، اس نازک مرحلے میں محض جذباتی جوش سے گریز کیا جائے اور اپنے سیاسی عمل میں تدریج (مرحلہ وار حکمتِ عملی) کو اپنایا جائے۔ ساتھ ہی مصالح و مفاسد کا خیال رکھا جائے، ان کے درمیان توازن قائم کیا جائے، اور مطلوبہ شرعی سیاست کی پابندی کی جائے۔
کیونکہ اس اہم اور نازک مرحلے میں ان بنیادی امور میں کسی بھی قسم کی لغزش اس نومولود نظام کی پوری زندگی پر ایک بھاری بوجھ بن جائے گی، جسے اٹھانا دشوار ہو گا۔ اور جوں جوں غلطیاں بڑھتی جائیں گی، یہ بوجھ اس کی پشت پر مزید بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ یہ بعید نہیں کہ کسی وقت ہم خود اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا گھونٹ دیں اور اس کی موت کا سبب بن جائیں۔ اور یہ ایک ایسی مصیبت ہو گی جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (سورۃ آل عمران: ۱۶۵)
’’جب تمہیں ایک ایسی مصیبت پہنچی جس سے دگنی تم (دشمن کو) پہنچا چکے تھے تو کیا تم ایسے موقع پر یہ کہتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے آگئی ؟ کہہ دو کہ : یہ خود تمہاری طرف سے آئی ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘‘
اور اسی مقام پر ہمیں ان بعض واقعات کے بارے میں اہم باتیں کرنی ہیں جو حال ہی میں تمہارے ہاں پیش آئے، اور جنہیں ہم ایسی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں جو اس خطے میں جاری ہمارے جہادی منصوبے سے میل نہیں کھاتیں۔ لہٰذا ہم پر اور آپ تمام حضرات پر لازم ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو ان کی تلافی کریں۔
- حرکۃ تحریر ازواد کے خلاف جنگ کا فیصلہ ہمارے نزدیک بہت بڑی غلطی تھی، جبکہ ان سے مذاکرات ہو چکے تھے اور بہت سے معاملات طے پا گئے تھے اور قریب تھا کہ باہم معاہدہ ہو جائے۔ باقی چند معاملات کو بڑی آسانی سے حل کیا جا سکتا تھا، بجائے اس کے کہ طبلِ جنگ بجا دیا جائے۔ قطعِ نظر ان توجیہات و بیانات سے جو ساتھیوں کی طرف سے میڈیا پر نشر ہوتے رہے (اتنے خطرناک معاملے سے متعلق آپ حضرات کی طرف سے ہمیں کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی)، ہم ان توجیہات کو معاشرے میں موجود ایک اہم اور سیاسی فریق کے خلاف جنگ کے لیے جواز نہیں بنا سکتے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ افہام و تفہیم سے کام لے کر باہم اتفاق سے کام کیا جاتا، یقیناً ہمارے منصوبے پر اس خون خرابے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
لہٰذا، امور کی درستی اور اصلاح کے باب میں ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ آپ اس معاملے کی تلافی اور تدارک کی سنجیدہ کوشش کریں، اور اس شگاف کو پاٹنے کے لیے تحریکِ آزادی کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرنے کی راہ اختیار کریں۔ نیز ان کے ساتھ مشاورت کے تسلسل کو برقرار رکھیں تاکہ ان تمام رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے جو سابقہ معاہدے کی راہ میں حائل ہو رہی ہیں۔ ہماری رائے میں یہ اقدام قبیلہ ازواد کی صفوں کے اتحاد کے لیے نہایت ضروری ہے، تاکہ آئندہ بیرونی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ - ان غلط پالیسیوں میں سے ایک، جن کا آپ ارتکاب کر چکے ہیں، شریعت کے نفاذ میں جلد بازی اور اس تدریج کو نظر انداز کرنا ہے، جو ایسے معاشرے میں ناگزیر ہوتی ہے جہاں دینی احکام سے لاعلمی غالب ہو، اور جہاں کی اقوام طویل عرصے تک ان شرعی احکام سے دور رہی ہوں۔ گزشتہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ شریعت کے نفاذ میں نتائج و عواقب کو نظر انداز کرنا لازماً عوام میں دین سے نفرت اور مجاہدین سے بیزاری پیدا کرتا ہے، اور بالآخر اس تجربے کی ناکامی پر منتج ہوتا ہے۔
اور اس مقام پر یہ یاد دہانی بھی نہایت اہم ہے کہ لوگوں کی ایک قلیل تعداد کا شریعت کے نفاذ کو قبول کر لینا اس بات کو مستلزم نہیں کہ پوری قوم بھی اسے اس کی تمام جزئیات کے ساتھ قبول کر چکی ہے۔
اسی طرح ابتدائی مرحلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ شریعت کے نفاذ کے لیے موزوں حالات ہموار کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے، اور یہ کام دعوت، حسنِ خطاب، حکمت اور تعلیم کے ذریعے انجام دیا جائے۔ یہاں تک کہ جب ہمارے پاس حالات سازگار ہو جائیں یعنی مناسب قدرت و اختیار حاصل ہو جائے اور بڑے مفاسد کے پیدا ہونے کا اندیشہ نہ رہے، تب ہم شریعت کے احکام کو نرمی اور حکمت کے ساتھ نافذ کریں۔
اس سلسلے میں ہمارے لیے خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی سیرت بہترین نمونہ ہے، جنہوں نے فساد کی کثرت کے باوجود ان کی اصلاح کے لیے یکبارگی سخت اقدام نہیں کیا، حالانکہ وہ زمانہ نبوت کے قریب تھا اور لوگ ابتدائی تین بہترین صدیوں سے نسبت رکھتے تھے۔
اور ان مثالوں میں سے جن میں ہم سمجھتے ہیں کہ آپ نے جلد بازی سے کام لیا ہے، اور امید کرتے ہیں کہ آپ ان کا اعادہ نہیں کریں گے:
- مزاروں کو منہدم کرنا: کیونکہ موجودہ صورتِ حال ابھی مکمل طور پر سازگار نہیں، بیرونی مداخلت کا خطرہ بھی موجود ہے، اور لوگ ابھی نئے حالات سے مانوس ہو رہے ہیں، لہٰذا اس کے نتیجے میں بڑے مفاسد کا اندیشہ ہے، اور ایسی صورت میں ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے معذور نہیں ہوں گے۔
- اسی طرح دیگر مثالیں یہ ہیں: زنا کی حد نافذ کرنا، لوگوں کو کوڑے لگانا، بزورِ قوت منکرات کی روک تھام، خواتین کو باہر نکلنے سے روکنا، لوگوں کو غیر واجب امور کا پابند بنانا، مباح کھیلوں پر پابندی لگانا، اور گھروں کی تلاشی لینا وغیرہ۔
یہ تمام معاملات خواہ انفرادی طور پر ہی کیوں نہ کیے جائیں، سلفِ صالحین کے طریقے کے خلاف ہیں، جنہوں نے اسلامی احکام کے نفاذ اور لوگوں کی اصلاح میں تدریج اور حکمت کو ملحوظ رکھا۔ لہٰذا، امور کی درستگی کے پیشِ نظر ذمہ داران پر لازم ہے کہ اگر ایسی کارروائیاں کہیں پائی جائیں تو انہیں روکا جائے اور ان ہدایات کی پابندی کی جائے جو ہم نے اس باب میں بیان کی ہیں۔
موجودہ حالات میں القاعدہ کے نظم و نسق کو مرتب کرنا اور اس کی اندرونی و بیرونی سرگرمیوں کی نوعیت واضح کرنا
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت خطّۂ ازواد میں تنظیم القاعدہ کی حیثیت اور اس کی سرگرمیوں کی نوعیت ماضی سے مختلف ہے، کیونکہ ان نئے حالات نے اہم چیلنجز کو جنم دیا ہے، جو ہم سے ایک نئی سوچ کے متقاضی ہیں۔ یہ سوچ تنظیم کے حرکت انصار الدین کے ساتھ تعلق کی نوعیت کو واضح کرے، اور ایسے مناسب عملی طریقۂ کار کا تعین کرے جو ایک طرف ہمارے عالمی جہادی منصوبے کے تسلسل کو برقرار رکھے اور دوسری طرف ازواد کے اسلامی منصوبے کی نگہداشت، اس کی نشوونما اور اس کی ناکامی کے اسباب سے بچاؤ کو یقینی بنائے۔
چونکہ ان دو اہم ذمہ داریوں کو جمع کرنا ایک حقیقی چیلنج ہے، اور حتمی فیصلہ نہایت اہم ہے جس میں بھرپور مشاورت ضروری ہے، اس لیے ہم آپ کے سامنے دو بنیادی تجاویز پیش کرتے ہیں، جن تک ہم نے مختلف پہلوؤں سے غور و فکر کے بعد رسائی حاصل کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اپنی رائے اور شیخ ابو الفضل کی رائے سے ہمیں آگاہ کریں گے کہ ان میں سے کون سی تجویز زیادہ مناسب ہے:
پہلی تجویز
تنظیم کے ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے اور اسے حرکت انصارالدین سے انتظامی طور پر الگ رکھا جائے، تاہم تنظیم کی داخلی اور خارجی سرگرمیوں میں واضح فرق قائم کیا جائے۔
- داخلی سرگرمیوں کے معاملے میں ہم انصار الدین کی امارت کے تابع ہوں گے، یعنی ہمارا امیر ان کے امیر کے تابع ہو گا اور ہماری رائے ان کی رائے کے مطابق ہو گی۔ داخلی سرگرمیوں سے مراد وہ تمام امور ہیں جو آزاد شدہ علاقوں کے انتظام و انصرام اور ان کے معاملات سے متعلق ہوں۔
- جبکہ خارجی سرگرمیوں (جو ہمارے عالمی جہاد سے متعلق ہیں) میں ہم ان سے مکمل طور پر خود مختار رہیں گے، اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ ان سرگرمیوں یا ان کے نتائج کا کوئی بوجھ انصار الدین پر نہ آئے، نیز اس ضمن میں حکومت قائم کرنے کے منصوبے پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
دوسری تجویز
تنظیم القاعدہ کے مجاہدین کے ایک حصے کو الگ کر کے انہیں مکمل طور پر امیرِ انصارالدین کے تصرف میں دے دیا جائے، تاکہ وہ آزاد شدہ علاقوں کے انتظامات سنبھالنے میں شریک ہو سکیں، جبکہ دوسرا حصہ اپنی مکمل خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے صرف بیرونی جہادی سرگرمیوں تک محدود رہے۔
مزید ہم اس مقام پر (خصوصاً انصارالدین کے لیے منتخب حصے کے حوالے سے) یہ تجویز بھی پیش کرتے ہیں کہ آئندہ کے لیے تمام مجاہد بھائی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ حکومتِ ازواد کے مجوزہ آئین میں، اگر وہ وجود میں آئے، یہ صراحت شامل ہو کہ شہریت اور وابستگی کی بنیادی شرط اسلام ہو، اور اس اسلامی حکومت کے دفاع کا عہد کیا جائے، خواہ امن ہو یا جنگ۔ اس طرح ہر اس کوشش کا راستہ بند ہو جائے گا جو القاعدہ اور مہاجرین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی غرض سے کی جاتی ہے، کیونکہ جب وہ اس حکومت کے باقاعدہ شہری شمار ہوں گے تو ایسی باتوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
جہاں تک جہادی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو عمومی طور پر کام کو مرکزی قیادت کی مجموعی حکمتِ عملی اور سابقہ تنظیمی دستاویزات میں دی گئی ہدایات کے مطابق ہونا چاہیے، تاہم یہاں دو اہم پہلو ایسے ہیں جن پر خاص توجہ ضروری ہے:
- اس بات کی ضرورت ہے کہ موجودہ حالات میں ازواد کی سرزمین پر جاری جہادی سرگرمیوں کو وقتی طور پر روک دیا جائے اور توجہ بیرونی سرگرمیوں تک محدود رکھی جائے۔
- خطہ ازواد سے باہر ہونے والے ہر جہادی عمل میں یہ لازم ہے کہ اس سے متوقع فوائد اور اس کے نتیجے میں ازواد کے علاقے پر مرتب ہونے والے ممکنہ نقصانات کے درمیان توازن قائم رکھا جائے۔
ازواد کے متنوع عناصر اور خارجی قوتوں کے ساتھ حسنِ تعامل کے لیے بہترین حکمتِ عملیاں
مجاہدین اور مصلحین کے سابقہ تجربات جیسے صلاح الدین اور یوسف بن تاشفین وغیرہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تحریکوں کی کامیابی کی بنیاد سب سے پہلے اتحادِ کلمہ اور باہمی ہم آہنگی پر تھی۔ انہوں نے داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایسی حکیمانہ اور بہتر پالیسیوں کو اختیار کیا جنہوں نے ان کے اصلاحی منصوبوں کو کامیاب بنایا اور انہیں ناکامی کے اسباب سے محفوظ رکھا۔
لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے طریقے اور ہدایات سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ اسی لیے ہم نے چاہا کہ اپنی ہدایات میں آپ کے لیے ان پالیسیوں کو جمع کر دیں جو مختلف سماجی طبقات کے ساتھ آپ کے تعامل کے لیے ضروری ہیں، اور ساتھ ہی بیرونی فریقوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی رہنمائی فراہم کریں۔ ذیل میں ہم ان امور کو مختصراً پیش کرتے ہیں:
- کوشش کی جائے کہ تمام قبائل کو، ان کے مختلف رجحانات اور مقامی اثر و رسوخ کے ساتھ، بڑے مشترکہ اہداف پر یکجا کیا جائے اور حتی المقدور اس مرحلے میں اختلافات سے درگزر کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے لازم ہے کہ لچکدار پالیسیاں اختیار کی جائیں، جن کے ذریعے داخلی فریقوں کی اکثریت کو ساتھ ملایا جا سکے، اور حتی الوسع اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ ہمارے اور ان کے درمیان کسی قسم کا ٹکراؤ پیدا نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ بھائیوں کو چاہیے کہ ان طبقات کے درمیان موجود وسیع عوامی معاشرے کو نرمی، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ احکامِ اسلام کی طرف دعوت دیں، اور انہیں ایسے طریقے سے اپنے قریب لانے کی کوشش کریں جو اشتعال انگیزی سے پاک ہو۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ان پسماندہ علاقوں میں بسنے والے اکثر افراد اپنی فطرت پر قائم ہوتے ہیں، اور اگر وہ لڑتے ہیں تو عموماً قبائلی حمیت، قومی عصبیت یا اپنے اوپر ہونے والے ظلم اور محرومی کے ردِ عمل میں لڑتے ہیں، جس کا وہ طویل عرصے سے شکار رہے ہیں۔
جہاں تک ظلم کے ازالے کا تعلق ہے تو یہ ایک ایسا مشترک پہلو ہے جس میں ہمارے اور ان کے درمیان وسعت پیدا کی جا سکتی ہے۔ تاہم عصبیت کا معاملہ شریعت کے میزان سے مربوط ہے، اگر اسے درست رخ نہ دیا جائے تو یہ نقصان دہ بن سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے مناسب انداز میں منظم اور قابو میں رکھا جائے تو اس کے بعض فوائد بھی ہیں، جو بعض اوقات ہمارے اندازوں سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ جب کسی مہم پر روانہ ہوتے تو ہر قبیلے کے لیے ایک عَلَم مقرر فرماتے اور اس کی قیادت اسی قبیلے کے فرد کے سپرد کرتے، حالانکہ سب اللہ کے راستے میں اور اس کے کلمے کی سربلندی کے لیے لڑ رہے ہوتے تھے۔ اس کا مقصد ان کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا اور اس بات سے بچنا تھا کہ اسلام ان کے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں کمزور ہو جائے۔پس مقصود یہ ہے کہ ہر ممکن حکمت، تدبیر اور نرمی کے ساتھ ان لوگوں کو اپنے قریب لانے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ - اس مرحلے میں آپ پر لازم ہے کہ تکفیر جیسے حساس مسائل، فرقہ وارانہ معاملات اور ایسے دیگر امور سے اجتناب کریں جنہیں اکثر نوجوان سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کے بجائے عمومی شعار یہ ہونا چاہیے کہ مظلوم اور کمزور مسلمانوں سے ظلم کو دور کیا جائے اور دین کو قائم کیا جائے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ محاذ اور ہدف بنائے جانے والے دشمنوں کے دائرے کو حتی المقدور محدود رکھا جائے۔
پس جس شخص کے دل کو نرم کر کے اس کی تائید حاصل کی جا سکتی ہو، اس کے ساتھ نرمی برتی جائے، اور جسے اپنی طرف مائل کیا جا سکتا ہو، اسے اپنے قریب لایا جائے۔ کیونکہ آپ ایک ایسے ماحول میں کام کر رہے ہیں جو قبائلی عصبیتوں، انتقامی جذبات، سازشوں، ضمیر کی خرید و فروخت اور فتنہ و فساد سے بھرا ہوا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ نہایت دانائی اور باریک بینی سے کام لیں۔ - اس مرحلے میں حکیمانہ پالیسیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کو الگ تھلگ نہ کیا جائے، بلکہ اہلِ فضل، معززین، سرداروں اور ہر علاقے کے بااثر افراد کو انتظامی امور میں شریک کیا جائے۔ یاد رکھیں! کہ ایک عادل اسلامی نظام کا قیام، جو لوگوں کو اللہ کی شریعت کے مطابق چلائے، ایک بہت بڑا کام ہے، جو کسی ایک تنظیم یا تحریک کی محض قوت سے بڑھ کر ہے، چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
لہٰذا ہمارے اہداف میں یہ شامل ہونا چاہیے کہ پوری امت کو، مردوں اور عورتوں سمیت، اس مقصد کے حصول میں شریک کیا جائے، جبکہ اہلِ سبقت اور اہلِ جہاد ایک رہنما اور قائدانہ قوت کے طور پر اس منصوبے کی نگرانی کریں، جو اپنی امت کے لیے جسم میں دل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ - جہاں تک خارجی پالیسیوں کا تعلق ہے تو آپ پر لازم ہے کہ عام عوام کے ساتھ ایک پختہ اور معتدل اندازِ تخاطب اختیار کریں، جو اطمینان پیدا کرے اور کشیدگی کو کم کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف اشتعال انگیز بیانات سے اجتناب کیا جائے، اور بار بار کی دھمکیوں سے بھی پرہیز کیا جائے۔
اسی طرح خاموشی اور طرزِ عمل کے ذریعے یہ تاثر دیا جائے کہ آپ ایک ’’داخلی تحریک‘‘ ہیں، جس کے اپنے مسائل اور ترجیحات ہیں، اور یہ ہرگز ضروری نہیں کہ آپ اپنے کسی توسیعی یا عالمی منصوبے کو نمایاں کریں۔ کیونکہ ایک ایسا محفوظ علاقہ، وفادار آبادی، اور اپنے افراد کے لیے پناہ گاہ کا حصول، جس کے ذریعے آپ اس مرحلے میں اپنے پروگرام کو جاری رکھ سکیں، کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ جبکہ دشمن کی مسلسل کوشش یہی ہے کہ مجاہدین کے لیے کسی بھی ’’محفوظ پناہ گاہ‘‘ کو باقی نہ رہنے دیا جائے، لہٰذا اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
انصار الدین اور تحریکِ آزادیِ ازواد کے مابین طے شدہ معاہدے پر چند اہم نکات
معاہدے کی تفصیلات میں جانے اور اس کے نکات و پہلوؤں کا جائزہ لینے سے پہلے ہم ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں: موجودہ صورتِ حال بعض پہلوؤں سے اس حالت سے مشابہ ہے جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور وہاں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس وقت اس نوخیز نظام کو ہر جانب سے خطرات لاحق تھے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے مدینہ کے داخلی محاذ کو مستحکم کیا، جس میں یہود بھی شامل تھے جو اس معاشرتی توازن کا ایک اہم جز تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کیا جس کے مطابق وہ سب مل کر بیرونی خطرات کے مقابلے میں ایک متحد قوت بنیں اور یہی معاہدہ میثاقِ مدینہ کے نام سے معروف ہوا۔
پس معاہدات اور مفاہمتیں دراصل نبی کریم ﷺ کے طریقِ کار کا بنیادی حصہ ہیں۔ اسی بنا پر ہم سمجھتے ہیں کہ اس مرحلے میں حرکت تحریر ازواد(تحریک آزادی ازواد) کے ساتھ ایک جامع اور پابند معاہدہ کرنا ناگزیر ہے، تاکہ ازواد کے داخلی محاذ کو مضبوط کیا جا سکے اور بیرونی بڑے خطرے کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ مقصود یہ ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت، آپ کی بصیرت، حکمتِ عملی اور حسنِ تدبیر سے رہنمائی حاصل کریں۔ حالانکہ آپ ﷺ نے یہود کے ساتھ، جو انبیاء کے قاتل اور مسلمانوں کے سخت دشمن تھے، بھی معاملہ کیا، جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
ہمیں بارہا یہ اطلاع ملی ہے کہ اس معاہدے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، بلکہ بعض اوقات تصادم بھی ہو رہا ہے، حالانکہ ہم چاہتے ہیں کہ اس کے نفاذ اور عملی صورت دینے میں جلدی کی جائے۔ تاہم ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، اور اس معاہدے کی ضرورت نہایت شدید اور ناگزیر ہے، تاکہ داخلی صفوں کو مضبوط کیا جا سکے، بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جا سکے، اور نئی محاذ آرائیوں کے دروازے بند کیے جا سکیں۔
ان تمام وجوہات کی بنا پر ہم نے مناسب سمجھا کہ اس معاہدے کے مسودے پر چند اہم نکات اور تنبیہات پیش کی جائیں۔
- ہماری رائے میں معاہدے کا یہ مسودہ ایک بڑی اور نہایت اہم کامیابی ہے، اور اپنی ابتدائی شکل ہی میں ہمارے لیے بہت سودمند ہے، خواہ ہم اس میں کسی شق میں کوئی تبدیلی نہ بھی کریں۔ بلکہ ہمارے نزدیک یہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے جس کی توقع کسی ایسی تحریک سے کی جا سکتی تھی جس کے بارے میں گمان تھا کہ اس کا رجحان اور منصوبہ سیکولر نوعیت کا ہے۔
- معاہدے کے مجموعی مزاج اور اس کی تفصیلی شقیں ہمارے لیے کافی حد تک اطمینان بخش ہیں اور سب کے سب ہمارے منصوبے کے حق میں ہیں۔ لہٰذا ہماری رائے ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ میں ہمیں تحریکِ آزادی سے بھی بڑھ کر سنجیدہ ہونا چاہیے، اور اسے روکنا یا اس کی ناکامی کا سبب بننا غلطی ہو گی۔ بعض بھائیوں کی جانب سے اس پر اعتراض سامنے آیا ہے، مگر فی الحال سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحریکِ آزادیِ ازواد کو اپنے ساتھ ملا کر بیرونی چیلنج کے مقابلے کے لیے ایک متحد صف قائم کی جائے۔
جب ہم ایک اسلامی حکومت کے منصوبے پر متفق ہو چکے ہیں اور انہوں نے بھی ہمارے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے تاکہ سب مل کر دشمن کے مقابلے میں ایک قوت بنیں، تو اس مرحلے پر اس سے بڑھ کر اور کیا مطلوب ہو سکتا ہے؟ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ فوراً انصار الدین میں ضم ہو جائیں اور یکایک مجاہد بن جائیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ تصور غیر حقیقی ہے، اور اس کا نتیجہ الٹا ہوگا، وہ ہم سے بدظن اور ہم سے دور ہو جائیں گے، جبکہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
لہٰذا ہمیں جلد بازی سے گریز کرنا چاہیے اور مراحل کو پھلانگنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ تھوڑے صبر، حکمت اور تدریج کے ساتھ، ان شاء اللہ ہم اپنے مطلوبہ نتائج درمیانی مدت میں حاصل کر سکتے ہیں۔
اسی طرح ہمیں یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ ہماری اولین خواہش یہ ہے کہ یہ عناصر کسی ایسے مخالف منصوبے میں تبدیل نہ ہو جائیں جو ہمارے لیے مسائل پیدا کرے اور ہماری مشکلات میں اضافہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم اس سے بہتر نتیجے تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم نے انہیں اپنے ساتھ ملا لیا ہے، اور وہ حکومت کی اسلامی مرجعیت کو قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں، جو اس مرحلے میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
- جہاں تک بعض بھائیوں کے اعتراضات کا تعلق ہے، تو ہمیں ان کی کوئی مضبوط بنیاد نظر نہیں آتی۔ پہلی شرط جسے وہ شامل کرنا چاہتے ہیں کہ ’’ہر وہ عمل جو دین کے کسی اصول کو نقصان پہنچائے، معاہدے کو کالعدم قرار دے گا‘‘ درحقیقت غیر ضروری تکرار ہے، کیونکہ یہ مفہوم پہلے ہی معاہدے کی دوسری شق میں شامل ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت اسلامی ہو گی اور اس کی بنیاد کتاب و سنت پر ہو گی۔
اسی طرح دوسری شرط، جو ایک مفصل اسلامی میثاق سے متعلق ہے، مناسب نہیں کہ اسے اس مرحلے پر ایک عمومی معاہدے میں شامل کیا جائے، جو بنیادی اصولوں کے تعین کے لیے ہے۔ چونکہ دوسری شق پہلے ہی واضح ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ تفصیلی امور کو ایک ایسے علماء کی مجلس کے سپرد کیا جائے جو بعد میں تشکیل دی جائے اور جسے باقاعدہ اختیار حاصل ہو۔
یہ مجلس اس بات کو یقینی بنائے کہ عبوری مرحلے میں تمام معاملات اسلامی تعلیمات کے مطابق چلیں اور کسی قسم کے شرعی احکام کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اسی بنا پر ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اس دوسری شرط کی وجہ سے معاہدے پر دستخط میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہو تو بہتر ہے کہ اس سے دستبردار ہو کر پہلے سے طے شدہ شق کو عملی طور پر نافذ کرنے پر توجہ دی جائے، تاکہ آئندہ مرحلے میں شریعت کی مکمل پابندی یقینی بنائی جا سکے۔
- معاہدے کی دوسری شق میں یہ درج ہے:
’’دونوں فریق اس بات کے پابند ہوں گے کہ ازواد میں ایک اسلامی حکومت کے قیام و تعمیر کے لیے کام کریں، جس کا منہج قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ ہو، اور جو سلفِ صالحین کے طریقے پر قائم ہو۔‘‘
اور ہماری رائے میں واللہ اعلم، اس وقت ازواد کے مسلمان عوام پر کسی خاص فقہی مسلک کو زبردستی مسلط کرنا نہ درست ہے اور نہ ہی حکمت کے تقاضوں کے مطابق۔ کیونکہ یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو عمومی طور پر فقہِ مالکی سے وابستہ ہے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اس معاملے میں انہیں آزادی دی جائے، اور داعیانِ دین اور علماء کو موقع فراہم کیا جائے کہ وہ تدریج کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کریں اور ان کے تصورات کو بتدریج درست کریں۔
جہاں تک فقہی پہلو کا تعلق ہے تو حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں فقہِ مالکی پر باقی رہنے دیا جائے، اور ساتھ ساتھ نصیحت اور دعوت کے ذریعے دلیل کی پیروی کی ترغیب دی جاتی رہے۔ اس مرحلے میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ شریعت کی کھلی خلاف ورزی نہ ہو، یعنی وہ امور جن پر علماء کا اتفاق ہے، ان کی پابندی کی جائے، جبکہ اختلافی اور اجتہادی مسائل کو آئندہ اسلامی حکومت میں علماء کی مجلس کے سپرد کر دیا جائے۔
اختصار کے ساتھ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس شق کی عبارت کو یوں مختصر کر دینا زیادہ مناسب ہوگا:
’’ازواد میں ایک اسلامی حکومت کے قیام و تعمیر کے لیے کام کیا جائے گا، جس کا منہج قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ ہوگا۔‘‘
اسی طرح معاہدے میں جو شق علاقے کی خودمختاری (استقلال) سے متعلق ہے، ہماری رائے میں بہتر یہ ہے کہ اس کی مخالفت نہ کی جائے اور نہ ہی رسمی بیانات میں اس پر زیادہ زور دیا جائے۔ مثلاً یہ کہنا کہ ہم سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتے، یا یہ کہ ہمارے لیے صرف شریعت کا نفاذ اہم ہے اور سرحدوں کی کوئی حیثیت نہیں، ایسے بیانات سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے ہمسایہ ممالک ہمارے خلاف مشتعل اور متحد ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا موجودہ مرحلے میں اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں کہ تحریکِ آزادیٔ ازواد کے ساتھ کسی متعین حدود کے تحت ازواد کی اسلامی حکومت کے قیام پر اصولی اتفاق کر لیا جائے۔
- معاہدے میں اب تک جو نمایاں منفی پہلو سامنے آیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس میں بعض اہم فریق شامل نہیں ہیں، خصوصاً عرب عناصر جو ’الجبهة العربية لتحرير أزواد‘ کی صورت میں موجود ہیں، یا سونغائی اور فُلانی (قبائل)۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس معاملے کا جلد از جلد تدارک کیا جائے، اور بھرپور کوشش کی جائے کہ ان فریقوں کو بھی معاہدے پر دستخط کے لیے آمادہ کیا جائے۔
مزید یہ کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ انہیں بھی عبوری مجلس میں ان کے حجم اور اثر و رسوخ کے مطابق نمائندگی دی جائے۔
عبوری حکومت کی تشکیل اور اس کے انتظامی طریقۂ کار سے متعلق ہمارا نقطۂ نظر
اس حوالے سے تفصیلات میں جانے سے پہلے ہم ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں: حکومت کی تشکیل کا وہ بہترین تصور کیا ہے جو ایک طرف ہمیں حکومت کی اسلامی حیثیت کو یقینی بنائے، اور دوسری طرف اسے ’’القاعدہ طرز کی اسلامی امارت‘‘ یا ’’جہادی حکومت‘‘ کے طور پر بدنام ہونے سے بچائے؟
اس مشکل سوال کا جواب ہی وہ بنیاد ہے جس پر ہمیں اپنی درست حکومتی سوچ قائم کرنی چاہیے، کیونکہ جب بھی ہم (مجاہدین) ہی برسرِاقتدار ہوں گے اور ہماری بالادستی واضح طور پر سامنے آئے گی تو بیرونی مداخلت مزید بڑھے گی اور کشیدگی اور پیچیدگی میں شدت آئے گی۔
اور اگر القاعدہ یا سلفی جہادی حکومت کے بجائے ازوادی عوام اپنی تمام تر اکائیوں، تحریکوں اور قبائل کے ساتھ حکومت قائم کرے گی تو دشمنوں کے لیے اس پر دباؤ ڈالنے کے راستے مشکل ہوں گے۔ اور جب انہیں علم ہو گا کہ یہ حکومت پورے معاشرے کی نمائندہ ہے اور اس کے تمام طبقات اور تحریکوں کی نمائندگی کرتی ہے، تو ان دشمنوں کا مقابلہ ایک پوری قوم سے ہو گا، جس کی مختلف اکائیاں موجود ہیں، اور اس سے ان کے لیے اپنی پالیسی پر عمل درآمد مزید مشکل ہو جائے گا۔
اسی طرح ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم مجاہدین کا ایک مجموعہ چلانے اور ایک حکومت چلانے کے درمیان فرق کو سمجھیں، کیونکہ حکومت کا انتظام ہماری موجودہ صلاحیتوں سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم عوام، قبائل اور تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اہل افراد کو درست طور پر استعمال کریں۔
لہٰذا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا درست تصور یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم حکومت پر مکمل کنٹرول اور اجارہ داری کی ضرورت میں حد سے زیادہ سختی نہ کریں، بلکہ اس کے برعکس ہماری طرف سے کوشش ہونی چاہیے کہ تحریکِ آزادیٔ ازواد اور دیگر تمام اہم فریقوں کو حکومت میں شریک کیا جائے، تاکہ اس حکومت کی نمائندگی زیادہ وسیع اور جامع ہو اور وہ تمام طبقات کی عکاسی کر سکے۔
تاہم یہاں ہمیں متعدد مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں سے اہم ترین یہ ہیں:
- اس عبوری حکومت یا کونسل کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی؟
- حکومت یا کونسل کی سربراہی کس کے پاس ہو اور اس کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟
- معاہدے کی دوسری شق کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے بہترین حکمتِ عملی کیا ہو سکتی ہے، تاکہ اسلامی حکومتِ ازواد کی سلامتی برقرار رہے؟
- تحریکِ آزادی کو اس عبوری کونسل میں کیسے شریک کیا جائے؟ اس میں کن اصولوں کو پیشِ نظر رکھا جائے اور ہر فریق کی نمائندگی کا تناسب کیا ہو؟
- کون سی وزارتیں زیادہ اہم ہیں جن پر ہمیں توجہ مرکوز رکھنی چاہیے، اور کون سی وزارتیں ایسی ہیں جنہیں تحریکِ آزادی کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے؟
- وزراء اور ذمہ داران کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا جائے؟
- کیا ہر وزارت اپنا الگ پروگرام رکھے، یا ایک مشترکہ پروگرام ہو جسے عبوری کونسل منظور کرے؟
ہم ان سوالات کے جوابات کے ذریعے اپنی ایک جامع رائے پیش کرنے کی کوشش کریں گے، جس میں چند تجاویز، نصائح اور خیالات شامل ہوں گے، تاکہ مستقبل میں مذاکرات کے دوران یہ رہنمائی کا ذریعہ بن سکیں۔ خلاصہ درج ذیل نکات میں پیش کیا جاتا ہے:
- حکومت کی بنیادی ذمہ داری عبوری مرحلے کا نظم و نسق چلانا، اسلامی ریاستِ ازواد کے لیے دستور تیار کرنا، اور ایک ایسی مجلسِ شوریٰ تشکیل دینا ہے جس میں ملک کے تمام اہلِ رائے اور بااثر شخصیات شامل ہوں۔
- بہتر ہوگا کہ شیخ ابو الفضل اس کونسل کی سربراہی سنبھالیں، کیونکہ ان کی علامتی حیثیت اور قائدانہ مقام نہایت اہم ہے۔ تاہم، ضروری ہے کہ وہ فیصلہ سازی میں یک طرفہ طرزِ عمل یا اقتدار کے ارتکاز سے گریز کریں اور دیگر جماعتوں کے نمائندوں کو بطور معاون شامل رکھیں گے۔
- حکومت میں مختلف قبائل اور گروہوں کو شامل کیا جائے، جیسے البرابیش، عرب، عربی محاذ کی قیادت، سونغای اور فولانی، نیز بڑے قبائل کے معززین۔ اس کے ساتھ ان افراد کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے معاہدے پر دستخط نہیں کیے، تاکہ انہیں وزارتوں میں نمائندگی دے کر قریب لایا جا سکے۔
- معاہدے کی دوسری شق، جو حکومتِ ازواد کی اسلامی حیثیت سے متعلق ہے، اس کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک خودمختار اعلیٰ اسلامی کونسل قائم کی جائے، جو اس بات کو یقینی بنائے کہ حکومت کے تمام امور شریعت کے مطابق ہوں۔
- ذمہ داریوں اور وزارتوں کی تقسیم کے لیے ایسے اصول اختیار کیے جائیں جن میں اہلیت، قبائلی نمائندگی، اور اسلام و شریعت سے وابستگی تینوں شامل ہوں۔ اہلیت بنیادی شرط ہے، مگر قبائلی توازن بھی اہم ہے، تاکہ ہر بڑے قبیلے کی مناسب نمائندگی ہو۔ اسلام سے وفاداری اور شریعت کی قبولیت، ذمہ دار عہدوں کے لیے ایک لازمی شرط ہونی چاہیے، خاص طور پر انصار الدین کے زیرِ ذمہ عہدوں کے لیے۔
- اہم وزارتیں جیسے دفاع (فوج)، اطلاعات (میڈیا)، عدلیہ، دعوت و امورِ اسلامی، اور تعلیم ان پر خصوصی توجہ دی جائے، باقی وہ وزارتیں جن میں لچک رکھی جا سکتی ہے اور جنہیں دیگر فریقین کے ساتھ تقسیم کیا جا سکتا ہے، ان میں خارجہ امور، مالیات، اور تعمیراتِ عامہ وغیرہ شامل ہیں۔
- وزارتِ دفاع کے لیے تجویز ہے کہ ایک مشترکہ مرکزی قیادتی مجلس قائم کی جائے، جس میں معاہدے پر دستخط کرنے والی تمام جماعتیں شامل ہوں۔ سکیورٹی، حفاظت اور دفاع کی ذمہ داریاں تمام فریقوں میں تقسیم کی جائیں۔
- ہر وزارت اپنا پروگرام پیش کرے، جسے حکومتی کونسل اور مجلسِ شوریٰ میں زیرِ بحث لا کر منظوری دی جائے، اور پھر تمام وزارتیں اسی منظور شدہ پروگرام کی پابند ہوں۔
بیرونی فوجی مداخلت کے حوالے سے اہم ہدایات
چونکہ غیر ملکی فوجی مداخلت کے امکانات قوی ہیں، اس لیے ہم مناسب وقت پر ایک الگ دستاویز فراہم کریں گے جس میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضروری رہنمائی اور مؤثر طریقۂ کار بیان کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔
آخر میں، یہ ہدایات اور مجموعی خاکہ ماضی کی غلطیوں سے بچنے کی ایک کوشش ہے، جن کے تلخ نتائج ہم پہلے بھگت چکے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ انہیں دہرایا نہیں جائے گا اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کو درست فیصلوں اور کامیابی کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین۔
2 رمضان 1433ھ بمطابق 20 جولائی 2012ء
٭٭٭٭٭
- 1کسی بھی تحریک کے لیے اصل چیز یہی ہے کہ اس کو فتح حاصل ہو یا شکست، بہر دو صورت اس تحریک کے قائدین اپنے اعمال و افعال پر بعداً غور کریں اور آئندہ کی حکمتِ عملی و اسٹریٹیجی کو حاصل ہونے والے نتیجہ، یعنی فتح یا شکست کے تناظر میں مرتب کریں۔ قائدین کے لیے لازمی ہے کہ فتح کے بعد وہ کسی ایسے عجب کا شکار نہ ہو جائیں جو ان کو آئندہ کی منصوبہ بندی سے غافل کر دے اور شکست کی صورت میں وہ ایسے دل شکستہ نہ ہوں کہ غلط فیصلوں اور مداہنت پر آمادہ ہو رہیں۔ شیخ ابو مصعب عبد الودود نے جہادِ الجزائر میں پہلے فتح دیکھی اور پھر شکست اور اس کے نتیجے میں حاصل شدہ اسباق کی بنیاد پر ساحلِ افریقہ کے لیے ایک ایسی حکمتِ عملی و اسٹریٹیجی مرتب کی جس کا نتیجہ آج مالی میں فتح کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ حسنِ تدبیر اللہ ہی کی جانب سے ایک قیمتی عطیہ ہے، وما النصر الا من عند اللہ! (ادارہ)







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



