امت مسلمہ کے ماضی، حال و مستقبل کا کوئی دن ایسا نہیں جو فدائیت و قربانی سے خالی ہو۔اس سب فدائیت و قربانی کا مقصدِ محض اللّٰہ ﷻکو راضی کرناہے۔ اس رضا کو کیسے حاصل کیا جائے تو فرمان ہے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ(سورۃ آلِ عمران: ۳۱)
’’(اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللّٰہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللّٰہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور اللّٰہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔ ‘‘
پس ذاتِ مہربان و غفور و رحیم کی رضا، اتباعِ سنتِ حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں ہے۔ آپ کے نقشِ پا پر اپنا قدم رکھ رکھ کر چلتے جانا، یہاں تک کہ موت ہم کو اپنے آغوش میں لے لے۔ یہی اصل بات ہے، اور رضائے الٰہی کا اصلی محل آخرت ہے اور اس دارِ قرار میں مالک کو راضی کرنے کے لیے اس دارِ فانی میں جو بھی قربان کر دیا جائے، تو اس کی کوئی قیمت و اہمیت و حیثیت نہیں۔ یہی سیرت المصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پیغام ہے۔
سیرتِ حبیب (علی صاحبہا ألف صلاۃ وسلام) میں کوئی ادنیٰ سا معاملہ بھی بے حکمت و بے تدبیر نظر نہیں آئے گا، کوہِ صفا پر ہادی علیہ الصلاۃ والتسلیم کی ندا سے دارِ ارقم و شعبِ ابی طالب ، ہجرتِ حبشہ، عقبہ کی گھاٹی، ہجرتِ مدینہ، مواخات، میثاقِ مدینہ، بدر و خندق، حدیبیہ و خیبر، تبوک و فتحِ مکہ تک ہر ہر قدم اسرار و حِکم و تدبر سے معمور ہے۔ تدبیر کرنا، اسباب و وسائل اختیار کرنا اس جہان میں ’رضائے الٰہی‘ کی خاطر غلبہ حاصل کرنے کا لازم و ملزوم جزو ہے۔ حکمت تو دراصل سنت ہی کا دوسرا نام ہے۔
لیکن ایک بڑی اہم چیز، جس سے سنتِ حبیبؐ لبریز ہے، بلکہ آپؐ کے اس جہان میں تشریف لانے سے قبل، آپؐ کے آباء کےاسوے سے لے کر آپ کے نواسوں کی زندگی (بلکہ یومِ قیامت) تک ظاہر و باہِر ہے، وہ ہے قربانی، فدائیت، سرفروشی، جانبازی۔ یہاں محضِ ’خدمت‘ و ’محنت‘ کافی نہیں ہیں۔ یہاں با تدبیر جرنیل صرف کافی نہیں ہیں۔ ایسے جرنیل و امیر با تدبیر کا کیا کرنا جو اعلیٰ اعلیٰ منصوبے بنائے لیکن اس کی زندگی اس عملِ پیہم و عملِ فداکاری سے خالی ہو۔ وہ بے لوثی و قربانی جس کے بنا دنیا میں تبدیلی تو کجا، کسی چھوٹے سے گھر کا چولہا بھی نہیں جلتا۔ ہر دعوت فدائیت کی طلب گار ہے اور اس فدائیت و قربانی کا آغاز اپنے نفس اور اپنے گھر کی قربانی سے ہوتا ہے۔ ابراہیم کو وحی کی جاتی ہے اور وہ اپنا پیارا اسماعیل، اپنا نورِ نظر، لختِ جگر، اپنے ارمانوں کا جہان، اپنی کم و بیش ایک صدی کی دعاؤں کا نتیجہ، اپنے بڑھاپے کی محبوب اولاد، ایک چٹان پر لٹا کر ذبح کر دیتے ہیں، علیہما الصلاۃ والسلام۔دینُ اللّٰہ کے قیام اور قیامت تک اس دین میں کوئی تحریف واقع نہ ہو تو ابراہیم و اسماعیل و سیّدنا محمد (علیہم الصلاۃ والسلام) کے بیٹےحسین ابنِ علی (رضی اللّٰہ عنہما)اپنے اطہر و مطہر گھرانے کے ساتھ اپنا سب کچھ لٹا و کٹا دیتے ہیں۔
اندھیری شب ہے، جدا اپنے قافلے سے ہے تُو
ترے لیے ہے مرا شعلۂ نوا قندیل
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیلؑ
امتِ مسلمہ کے چودہ ساڑھے چودہ قرنوں میں کوئی لمحہ اس فداکاری سے خالی نہیں گزرا۔ سب تدبیریں، بہترین منصوبہ بندیاں، اعلیٰ حکمتیں اور اسٹریٹیجیاں مرتب کر کے، مالک کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے ملا عمر، اسامہ بن لادن و یحیی السنوار جیسے نابغۂ روزگار قائدین اسی ذہبی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ آج کی دنیا کی بساط پر چلی جانے والی ہر چال، فری میسنز، یہودی بڑوں کے پروٹوکولز، واشنگٹن و لندن کی سیاست کے تابع نہیں، بلکہ اسامہ بن لادن اوریحیی السنوار کی چلائی، محض حکمت و تدبیر پر قائم چالوں سے ہی نہیں، بلکہ ان اعلیٰ چالوں کے ساتھ ان ناموروں کی فداکاری و قربانی کی مثالوں سےعبارت ہے۔ جنہوں نے جنگ و سیاست کے نقشوں کو اپنے دماغوں سے مرتب کیا، جنگی شطرنج میں طاغوتِ اکبر کے قلعوں اور بُرجوں کو الٹا اور اپنے جسم کا آخری قطرۂ خون، اسماعیلؑ تا حسینؓ کی پیروی میں بہا دیا۔ یہی کامل کردار آج ہم سب سے، ہمارے اپنے اپنے دائروں، زاویوں، ایوانوں اور میدانوں میں مطلوب ہے۔ تاریخ نے اپنے سب سے قیمتی اور سنہری ابواب کھول رکھے ہیں، ان صفحات پر اپنا اپنا نام، خونِ جگر سے لکھوائیے، جس خونِ جگر بہانے والے کی حالت روزِ قیامت یہ ہو گی کہ جب اس کا جسد زندہ کیا جائے گا تو خون کا رنگ تو خون والا، لیکن اس کی خوشبو مشک سی ہو گی!
اللھم اهدنا فیمن هدیت وعافنا فیمن عافیت وتولنا فیمن تولیت وبارك لنا فیما أعطیت وقنا شر ما قضیت إنك تقضی ولا یقضی علیك وإنه لا یذل من والیت ولا یعز من عادیت تبارکت ربنا وتعالیت!
اللھم وفقنا لما تحب وترضى وخذ من دمائنا حتى ترضى .اللھم اهدنا لما اختلف فیه من الحق بإذنك. اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وارضنا وارض عنا. اللھم إنّا نسئلك الثّبات فی الأمر ونسئلك عزیمۃ الرشد ونسئلك شكر نعمتك وحسن عبادتك. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!
٭٭٭٭٭








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



