اصطلاحات و اصلاحات
مغربی استعمار کے آغاز سے لے کر تقریباً ڈیڑھ صدی تک، افغانستان سمیت بیشتر اسلامی ممالک اور ان کے باشندے مغربی افکار و نظریات سے شدید متاثر رہے۔ یہاں تک کہ ان کا اسلامی تشخص دھندلا کر مسخ ہو گیا۔ اسلامی اقدار اور روایات کی جگہ رفتہ رفتہ سیاسی، اقتصادی، تہذیبی اور معاشرتی میدانوں میں غیر اسلامی اور مغربی تصورات نے لے لی۔
ایسے حالات میں ملا محمد عمر مجاہدؒ نے اپنی مختصر مگر مؤثر قیادت کے دوران حکومت اور افغان عوام کو دوبارہ ان کے اسلامی تشخص کی طرف لوٹانے کی سعی کی۔ چنانچہ ۲۵ صفر المظفر ۱۴۱۹ھ بمطابق ۳۱ مارچ ۱۹۹۸ء کو انہوں نے درجِ ذیل فرمان جاری فرمایا:
’’قابلِ احترام وزارتِ عدل!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ملک میں شرعی نظام کے استحکام اور دوام کے پیشِ نظر، سپریم کورٹ کی نگرانی میں علماء کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جس کے سامنے ملک کے تمام قوانین اور اصول پیش کیے جائیں۔ ان میں سے غیر شرعی قوانین اور دفعات کو حذف کیا جائے، اور امارت کی منظوری کے بعد انہیں سرکاری جریدے میں شائع کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
والسلام
خادمِ اسلام
امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد‘‘
افغانستان کی سابقہ حکومتوں نے اپنے آئین و قوانین بڑی حد تک فرانسیسی قانون سے ماخوذ کیے تھے، جن میں جزوی طور پر فقہِ حنفی کی بعض دفعات بھی شامل کر دی گئی تھیں۔ یوں یہ ایک ایسا مرکب بن گیا تھا جس میں اسلامی اور غیر اسلامی عناصر باہم خلط ملط ہو گئے تھے۔
ملا محمد عمر کے اس فرمان کے بعد علماء کی ایک کمیٹی نے پورے آئین اور قانونی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا، اور ان تمام دفعات کو حذف کر دیا جو شرعی احکام سے متصادم تھیں۔
آئین و قانون کی اس اصلاح کے بعد معاشرتی، تہذیبی اور تعلیمی شعبوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں۔ اسی سلسلے میں افغانستان کے مرکزی اور صوبائی ریڈیو چینلز کے لیے ’’شریعت غگ ریڈیو‘‘ کا نام اختیار کیا گیا۔
شریعت ہی کے نام سے امارتِ اسلامیہ کا مرکزی اخبار بھی شائع ہوتا تھا۔ اسی دور میں تمام نشریات سے غیر شرعی اور نامناسب مواد کو ختم کر دیا گیا، اور اس کی جگہ دینی و اصلاحی مجالس، اسلامی اشعار و ترانے، اور خالص افغانی روایات سے متعلق مختلف پروگرام نشر کیے جانے لگے۔
یہ تبدیلی محض ظاہری نوعیت کی نہیں تھی بلکہ ایک بنیادی اور اصولی تبدیلی تھی۔ امارتی اسٹیج سے نظامت کے فرائض انجام دیے جاتے، جبکہ غزلوں، داستانوں اور دیگر دلچسپ مگر جائز اور افغان روایات سے ہم آہنگ پروگرام بھی نشر کیے جاتے تھے۔
۱۱ مارچ ۱۹۹۶ء کو قندھار شہر میں واقع ایک قدیم اور معروف سینما کو امیر المومنین کے حکم پر منہدم کر دیا گیا، اور اس کی جگہ ’’جامع عمر‘‘ کے نام سے ایک عظیم جامع مسجد اور مدرسے کی بنیاد رکھی گئی۔
اسی طرح ملا محمد عمر مجاہدؒ کے حکم سے صوبہ بامیان سمیت مختلف علاقوں میں موجود قدیم آثارِ جاہلیت، خصوصاً بدھا کے مجسموں کو بھی انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت کے احیاء کے طور پر منہدم کر دیا گیا۔
ثقافت اور فنون کے شعبے میں افغانی ثقافت کے احیاء کے لیے بھی بھرپور کوششیں کی گئیں۔ سرکاری اور تعلیمی اداروں میں مغربی لباس کے بجائے افغانی لباس اور پگڑی کے استعمال کی ترغیب دی جاتی تھی۔ مختلف قومی دنوں اور تہواروں کے حوالے سے بھی مغربی یا غیر اسلامی رسومات کے بجائے عیدین اور کفار سے آزادی اور جہادی ایام کو منانے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
امارتِ اسلامیہ نے ان تمام اہم اصطلاحات کو دوبارہ زندہ کیا جو وقت گزرنے کے ساتھ یا تو فراموش کر دی گئی تھیں یا بھلا دی گئی تھیں۔ ملک کا سرکاری نام ’’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘‘ رکھا گیا، اور سربراہِ حکومت کو صدرِ جمہور یا بادشاہ کے بجائے ’’امیرالمومنین‘‘ کا لقب دیا گیا۔
اسی طرح سرکاری تقویم کے لیے ہجری کیلنڈر کو اختیار کیا گیا، کیونکہ رمضان المبارک، ایامِ عید، حج اور دیگر بابرکت دینی ایام اسی کیلنڈر کے مطابق منائے جاتے ہیں۔ البتہ ضرورت کے پیش نظر ملک کا قدیم ہجری شمسی نظام بھی برقرار رکھا گیا۔
امارتِ اسلامیہ کی مسلح افواج کو ’’ملی اردو‘‘ (قومی فوج) کے بجائے ’’اسلامی اردو‘‘ (اسلامی فوج) کا نام دیا گیا، اور یوں بین الاقوامی سطح پر اسلامی اخوت کے اس تصور کو دوبارہ زندہ کیا گیا جو مدتوں سے فراموش ہو چکا تھا۔ دنیا بھر کے ہر مستضعف اور مظلوم مسلمان کے لیے اپنی آغوش وا کی گئی، اور ان کے ساتھ حقیقی اخوت و بھائی چارے کا برتاؤ اختیار کیا گیا۔ مختلف ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کی آواز بلند کی گئی، اور فلسطین، کشمیر، برما اور چیچنیا جیسے اہم مسائل پر واضح، دو ٹوک اور غیر مبہم موقف پیش کیا گیا۔
اسی تسلسل میں، جب چیچنیا میں روس مخالف مجاہدین نے ایک آزاد اور خود مختار حکومت قائم کی، تو ملا محمد عمر دنیا کے وہ واحد اسلامی سربراہِ مملکت تھے جنہوں نے اس حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔
امارتِ اسلامیہ مسلمان معاشرے کی اقدار و روایات کے تحفظ اور فروغ میں اس قدر سنجیدہ تھی کہ ریاست الوزراء (ایوانِ وزیرِ اعظم) کی جانب سے تمام سرکاری اداروں کو یہ ہدایت جاری کی گئی کہ رسمی خط و کتابت اور بیانات میں انگریزی اصطلاحات کے بجائے پشتو، فارسی یا عربی متبادل اختیار کیے جائیں، تاکہ قومی و اسلامی تشخص کو مضبوط اور نمایاں بنایا جا سکے۔
تعمیر و ترقی سے متعلق خدمات
افغانستان، سوویت یونین کی جانب سے کی جانے والی بمباریوں اور طویل جنگوں کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکا تھا۔ اس کے بعد مسلح گروہوں کے مابین داخلی کشمکش نے بھی ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہاں تک کہ زیرِ زمین بچھائی گئی بجلی کی تاریں تک چرا لی گئیں اور بجلی کے کھمبوں کو کاٹ کر کباڑ کے طور پر فروخت کر دیا گیا۔
ایسے حالات میں امارتِ اسلامیہ کو ایک ویران، اجڑا ہوا اور لوٹا ہوا افغانستان ملا، جہاں انتہائی درجے کی غربت اور جنگ کے تباہ کن اثرات نے ہر شعبۂ زندگی کو مفلوج کر رکھا تھا۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
تاہم ان تمام نامساعد حالات کے باوجود، امارتِ اسلامیہ کے مخلص، پرعزم اور جانباز طالبان ذمہ داران نے اپنے مختصر دورِ حکومت میں ملک اور اپنے ہم وطنوں کے لیے ایسی خدمات انجام دیں جو یقیناً ناقابلِ فراموش ہیں۔ ذیل میں ان خدمات کا مختصر مگر جامع تذکرہ پیش کیا جاتا ہے۔
۱۔ بجلی
طالبان نے برقی توانائی پیدا کرنے والے مراکز کو ازسرِنو فعال کیا۔ بجلی پیدا کرنے والی مشینوں کے وہ پرزے، جنہیں مسلح جتھوں نے کباڑ سمجھ کر فروخت کر دیا تھا، تلاش کر کے واپس حاصل کیے گئے اور دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر عوام کے استفادے کے لیے مہیا کر دیے گئے۔
ملک کا دارالحکومت، جو اس سے قبل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، طالبان نے ماہیپر، نغلو اور سروبی ڈیموں کی بجلی کو ایک مربوط نظام میں منسلک کر کے کابل کو ایک بار پھر روشنی سے منورکر دیا۔
ہلمند کے علاقے کجکئی سے لے کر قندھار شہر تک بجلی کے کھمبے اور تاریں مکمل طور پر ناپید ہو چکی تھیں۔ ان علاقوں میں نئے کھمبے نصب کیے گئے، نئی تاریں بچھائی گئیں، اور یوں بجلی کی فراہمی بحال کی گئی۔ اسی طرح ملک کے دیگر بڑے شہروں تک بھی بجلی پہنچائی گئی، اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترکمانستان سے بجلی درآمد کرنے کا عمل بھی شروع کیا گیا۔
۲۔ حکومتی املاک
بلدیاتی اداروں (میونسپلٹی) نے مختلف شہروں میں بیت المال کی غصب شدہ اور چوری شدہ املاک کو بازیاب کرایا، اور شہری ماسٹر پلان کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر اصلاحی اقدامات کیے جاتے رہے۔
ملک بھر میں وزارتوں، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اور ثقافتی عمارتوں کو، جو خانہ جنگی کے باوجود مکمل تباہی سے محفوظ رہی تھیں، دوبارہ فعال بنایا گیا۔
اسی طرح ملک کی عمومی شاہراہیں، جو خانہ جنگی کے باعث تباہ ہو چکی تھیں، امارتِ اسلامیہ نے اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مرمت و بحالی کا کام انجام دیا۔ قندھار، ہرات اور کابل کی اہم شاہراہوں کو پختہ کیا گیا، جبکہ شہری سڑکیں، جو ٹینکوں کی آمد و رفت سے شکستہ حال ہو گئی تھیں، ازسرِنو تعمیر کر کے بہتر حالت میں بحال کی گئیں۔
۳۔ تعلیم اور تعلیمی ادارے
ملک میں موجود تعلیمی اداروں کی بحالی کے ساتھ ساتھ سینکڑوں نئے مدارس بھی قائم کیے گئے۔ دینی اور عصری تعلیم کے لیے ایک نیا اور مربوط نصاب ترتیب دیا گیا۔ امارتِ اسلامیہ عسکری امور کے بعد سب سے زیادہ بجٹ تعلیم و تربیت کے شعبے کے لیے مختص کرتی تھی۔
ملک کے تمام بڑے شہروں میں وہ یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیمی مراکز، جو طویل عرصے سے غیر فعال تھے، دوبارہ فعال بنا دیے گئے۔ بین الاقوامی نگران ادارے، اگرچہ امارتِ اسلامیہ کے بارے میں مختلف موقف رکھتے تھے، تاہم اپنے سرکاری اعداد و شمار میں اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ امارت کے دینی و عصری تعلیمی اداروں میں دس لاکھ سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں۔
تعلیمی میدان میں امارت کا ایک نمایاں کارنامہ یہ بھی تھا کہ ماضی میں شہروں میں دینی مدارس نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن امارتِ اسلامیہ کے دورِ حکومت میں ملک کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں دینی مدارس قائم کیے گئے۔ اس اقدام کے اثرات آج بھی واضح طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ شہروں میں مدارس، طلبہ اور علماء کی تعداد میں اضافے سے دینی و سماجی میدان میں مثبت تبدیلیاں سامنے آئیں، جبکہ شہری ماحول میں دینی تہذیب و ثقافت کے فروغ اور اشاعت کے لیے بھی بہتر مواقع فراہم کیے گئے۔
۴۔ تعمیر ِمساجد
امارتِ اسلامیہ کے دورِ حکومت میں مساجد کی تعمیر، ترمیم اور توسیع کے شعبے میں قابلِ ذکر خدمات سر انجام دی گئیں، ملک کے عسکری اور سول اداروں خصوصاً وزارتوں میں جہاں ماضی میں مساجد نہیں تھیں، وہاں مساجد کا قیام عمل میں لایا گیا۔
۵۔ تہذیب وثقافت
ثقافت کے شعبے میں ایک طرف تو تمام نشریات اور ثقافتی سرگرمیوں کی اصلاح کی گئی، اسلامی ثقافت کی توسیع و ترویج کے لیے بنیادی اقدامات کیے گیے، اس کے علاوہ ادبی محفلوں، مشاعروں، اور مختلف نشریات کے ذریعے کوشش کی جاتی تھی کہ مسلمان عوام کو اپنی خالص اسلامی اور افغانی ثقافت سے ہم آہنگ اور عادی کیا جائے۔
امارتِ اسلامیہ کی جانب سے متعدد اخبارات اور رسائل شائع کیے جاتے تھے، جن میں اہم یہ ہیں: ہفت روزہ شریعت، ہفتہ وار کابل ٹائمز، روزنامہ ہیواد، روزنامہ انیس، قندھار سے شائع ہونے والا روزنامہ طلوع افغان، مزار سے روزنامہ بیدار، ننگرہار کا روزنامہ ننگرہار اور ہرات کا روزنامہ اتفاقِ اسلام۔ اسی طرح ملک بھر کے مختلف صوبوں میں ماہانہ جرائد بھی شائع ہوتے تھے، جیسے سنائی، وڑانگہ، قندوز اور دیگر رسائل و اخبارات۔
اس کے علاوہ مجلہ خلافت، مجلہ قندھار، الامارۃ الاسلامیۃ (عربی و انگریزی) نیز وزارتِ صحت، وزارتِ دفاع، سپریم کورٹ، علوم اکیڈمی اور دیگر سرکاری اداروں کے مستقل رسائل بھی شائع ہوتے تھے، جو امارتِ اسلامیہ کی ابلاغی پالیسی کے مطابق ترتیب دیے جاتے اور نشر کیے جاتے تھے۔
امارتِ اسلامیہ کا ایک مرکزی ریڈیو اسٹیشن کابل میں شریعت غگ ریڈیو کے نام سے قائم تھا، جو روزانہ صبح و شام خبریں، تجزیات اور مختلف پروگرام نشر کرتا تھا۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف صوبوں میں مزید چودہ علاقائی ریڈیو اسٹیشنز بھی فعال تھے، جو مقامی سطح پر نشریاتی خدمات انجام دیتے تھے۔
۶۔ صنعت
صنعت و پیداوار کے شعبے میں ہلمند میں واقع بست نامی کارخانہ شامل تھا، جہاں روئی دھننے، گھی اور صابن سمیت مختلف اشیاء تیار کی جاتی تھیں۔ اسی طرح پل خمری میں غوری سیمنٹ فیکٹری، قندوز میں سپین زر فیکٹری جہاں گھی اور روئی کی تیاری ہوتی تھی، اور مزار شریف میں بجلی پیدا کرنے اور کھاد تیار کرنے کا کارخانہ بھی قائم تھا۔
اسی طرح ملک بھر میں مختلف پیداواری ادارے اور کارخانے، جو خانہ جنگیوں کے باعث بند ہو چکے تھے، امارتِ اسلامیہ کے دورِ حکومت میں دوبارہ فعال کیے گئے اور انہیں بھر پور انداز میں بحال کیا گیا۔ حتیٰ کہ غوری سیمنٹ فیکٹری، جہاں پہلے روزانہ صرف پچاس (۵۰) ٹن سیمنٹ تیار ہوتا تھا، امارتِ اسلامیہ کے آخری ایام تک اس کی پیداوار بڑھ کر روزانہ چار سو (۴۰۰) ٹن تک پہنچ گئی تھی۔
۷۔ مواصلات (ٹیلی کمیونی کیشن)
مواصلات کے شعبے کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگوں کے نتیجے میں پورے افغانستان کا مواصلاتی نظام شدید طور پر متاثر ہو کر درہم برہم ہو گیا تھا۔ امارتِ اسلامیہ کے دورِ حکومت میں ۹۳ کا مواصلاتی کوڈ دوبارہ فعال کر دیا گیا اور یوں ملک کا بیرونی دنیا سے رابطہ بحال ہوا۔
بڑے شہروں میں ڈیجیٹل ملٹی لائن نظام کے تحت ہزاروں لائنوں پر مشتمل جدید آلات نصب کیے گئے۔ اسی طرح سیٹلائٹ ٹیلی فون کی درآمد سے عوام کو درپیش مواصلاتی مشکلات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
امارتِ اسلامیہ کی وزارتِ مواصلات نے ملک میں موبائل فون سروس کو فعال اور عام کرنے کے لیے ایک مغربی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا، جس کے نتیجے میں افغان بیسیم کمپنی قائم ہوئی۔ تاہم بین الاقوامی پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ کچھ عرصہ تعطل کا شکار رہا۔ بعد ازاں اسی کمپنی نے اسی نام سے موبائل فون سروس کا آغاز کیا اور یہی کمپنی ملک میں موبائل سروس کی بنیاد بنی۔
۸۔ فضائی نقل و حمل
فضائی سفر اور نقل و حمل کے شعبے میں بھی امارتِ اسلامیہ نے قابلِ ذکر اقدامات کیے۔ ماضی کی جنگوں کے باعث فضائیہ اور آریانا افغان ایئرلائن کو شدید نقصان پہنچا تھا، تاہم طالبان نے ملک کے تمام قابلِ استعمال طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو جنگی کمانڈروں سے واپس لے کر قومی اثاثے کے طور پر محفوظ کر لیا۔
ایئرپورٹس اور ریڈار نظام کی بھی مرمت و بحالی کی گئی۔ امارتِ اسلامیہ کے دورِ حکومت میں ۹ ٹرانسپورٹ طیارے، ۱۶ جنگی جہاز اور ۱۹ مختلف ہیلی کاپٹر، جو جنگوں کے دوران ناکارہ ہو چکے تھے اور پرواز کے قابل نہ رہے تھے، مرمت کے بعد دوبارہ فعال بنا دیے گئے۔
امارتِ اسلامیہ اور خصوصاً ملا عمرؒ ملک اور عوام کی معاشی مشکلات کے حل کے لیے نہایت سنجیدہ تھے۔ اس ضمن میں ایک اہم مسئلہ مالیاتی نظام کی اصلاح تھا۔ امارتِ اسلامیہ کے وزیرِ خارجہ متوکل صاحب اس بارے میں بیان کرتے ہیں:
’’ملا محمد عمر مجاہدؒ نے مالیاتی نظام اور افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا، جس میں افغانستان کے مرکزی بینک اور وزارتِ مالیات کے اہم ذمہ داران شامل تھے۔ ربانی دورِ حکومت میں روس کی جانب سے پانچ ہزار اور دس ہزار کے نوٹ بڑی مقدار میں شائع کیے جاتے تھے، جبکہ جنرل دوستم بھی غیر رجسٹرڈ نوٹ جاری کرتا تھا، جس کے نتیجے میں کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور معیشت کی حالت ابتر ہو گئی تھی۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ ایک معیاری نئی افغانی کرنسی جاری کی جائے، جو اپنی قدر برقرار رکھتے ہوئے عوام کا اعتماد حاصل کر سکے اور طویل عرصے تک قابلِ استعمال رہے۔ مزید یہ کہ ربانی کے سبز رنگ کے پچاس افغانی اور دوستم کے سو افغانی نوٹ کو ختم کر کے ایک متحدہ کرنسی نظام رائج کیا جائے۔
اسی مقصد کے تحت امارتِ اسلامیہ نے ایک افغانی سے لے کر ایک ہزار افغانی تک نو مختلف مالیت کے نوٹوں کے ڈیزائن تیار کیے، جن پر قومی اور تاریخی یادگاروں کی تصاویر شامل کی گئیں۔ خفیہ نشان کے طور پر میرویس بابا کے مزار کو منتخب کیا گیا۔ نوٹوں کی طباعت اور مخصوص کاغذ کی فراہمی کے لیے جرمنی کی ایک کمپنی سے معاہدہ طے پایا، جس کے تحت پہلی قسط کی ادائیگی بھی کر دی گئی۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا۔ بعد ازاں امریکی حملے کے بعد جب حامد کرزئی برسراقتدار آیا تو یہ عمل مکمل کیا گیا، پرانی کرنسی واپس لے کر ختم کی گئی اور نئی افغانی کرنسی ملک بھر میں رائج کر دی گئی۔‘‘
اس کے علاوہ معادن، صحت، زراعت، آبپاشی، ٹرانسپورٹ، کھیل اور دیگر متعدد شعبوں میں حتی المقدور اہم اقدامات اور خدمات انجام دی گئیں۔
تاہم امارتِ اسلامیہ کو ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں مسلسل جنگوں، بین الاقوامی پابندیوں اور بعض ہمسایہ ممالک کے رویّوں جیسے چیلنجز کا سامنا رہا، جو ان منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے۔
ان منصوبوں میں عالمی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کے ساتھ معاہدات بھی شامل تھے، نیز مختلف نوعیت کی مشینری کی درآمد بھی اس کا حصہ تھی۔
اسلامی سرزمین کی اقدار کا دفاع
افغانستان اُن معدودے چند اسلامی ممالک میں سے ہے، جو تقریباً نوّے فیصد (۹۹٪) سے زائد مسلمان آبادی پر مشتمل ہے۔ اس سرزمین میں خلافتِ اسلامیہ کے زوال کے بعد، خاص طور پر عباسی دور کے اختتام کے ساتھ، ایک مستقل اور خود مختار اسلامی سلطنت کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ افغانستان، یا قدیم خراسان، طویل عرصے تک مسلمانوں کے لیے ایک اہم جغرافیائی مرکز رہا، جہاں سے اسلامی فکر و تہذیب کو فروغ ملا اور تاریخی پیش رفت کا ایک سلسلہ جاری رہا۔
موجودہ دور میں مغربی اور غیر اسلامی افکار کی یلغار نے اسلامی اخوت اور وحدت کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسلامی شناخت کے بجائے قومیت اور وطنیت جیسے تصورات کو مقدس حیثیت دے کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ طالبان کے نزدیک ایسی تعبیرات دراصل فکری انحراف کا سبب بنتی ہیں، کیونکہ اسلام کی بنیاد محض جغرافیائی حدود یا وطن پر نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی ہمہ گیر وحدت پر قائم ہے۔
اسی تناظر میں افغانستان اور اس کے عوام کو ایسے معاشرے کی تشکیل کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیے جہاں اسلامی اقدار کا تحفظ یقینی ہو، اور قومی و ملکی مفادات کے ساتھ ساتھ دینی اصولوں کی پاسداری بھی پوری طرح ملحوظ رکھی جائے۔ امارتِ اسلامیہ کا قیام بھی اسی فکر اور نظریے کا مظہر ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک و قوم کو ایک مستحکم، باوقار اور روشن مستقبل کی طرف لے جانا ہے۔ چنانچہ افغانستان، اس کے عوام، اور ان کی اقدار و مفادات کا دفاع اپنے منصبی فرائض میں شامل سمجھا جاتا ہے۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان نے ملک کی خود مختاری کو اس شان سے بحال اور محفوظ کیا کہ شاید گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ سرزمین اور اس کے باشندے کبھی اس قدر حقیقی معنوں میں آزاد نہ رہے ہوں۔ افغانستان کے امور کی باگ ڈور ملا محمد عمر مجاہد کے ہاتھ میں تھی۔ جن افراد نے ان کے آزاد مزاج، خود دار طبیعت اور حریت پسند فطرت کو قریب سے دیکھا، وہ اس امر کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ معاصر تاریخ میں افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک نے ان جیسا باوقار، جری اور آزاد منش مسلمان حکمران کم ہی دیکھا ہے۔
امارتِ اسلامیہ کے امیر، ملا محمد عمر مجاہد، ایسے صاحبِ عزم مسلمان رہنما تھے جو اپنے تمام سیاسی، عسکری اور معاشی فیصلوں کے ساتھ ساتھ داخلی و خارجی پالیسیوں کا تعین بھی خالصتاً اپنے عقیدے، شریعتِ اسلامی اور اسلامی معاشرے کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کرتے تھے۔ وہ نہ تو بین الاقوامی طاقتوں کے دباؤ کو خاطر میں لاتے تھے، نہ عالمی اداروں کی خوشنودی کے طلب گار تھے، اور نہ ہی ہمسایہ ممالک یا روایتی سیاست کے زیرِ اثر آتے تھے۔ اسی طرح دیگر بااثر حلقوں کی رضا یا لحاظ بھی ان کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوتا تھا۔
فیصلوں اور سیاسی اقدامات میں ملا صاحب کی خود مختاری کی سب سے بہترین مثال شیخ اسامہ بن لادن کا اور اسی طرح بدھا کے بتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ تھا، جس میں بین الاقوامی طاقتوں سے لے کر اقوامِ متحدہ اور ہمسایہ ملک پاکستان نے اپنے اعلیٰ سطح کے وفود بھیج کر یہ کوشش کی کہ ملا صاحب اپنے فیصلے سے رجوع کر لیں، لیکن آخر کار یہ تمام قوتیں اپنے مقاصد میں ناکام رہیں اور ملا محمد عمر مجاہد نے اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنایا۔
امارتِ اسلامیہ نے ملک کی خود مختاری کے ساتھ ساتھ ملکی سرحدوں کا دفاع بھی بخوبی کیا، یہاں تک کہ پوری ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ساتھ برمل، پکتیکا، زازی اریوب، خوست اور طورخم کے علاقوں میں ہمسایہ ملک پاکستان کی افواج کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں، اور فرضی سرحد سے متصل افغانستان کی سرزمین پر قائم بعض اڈوں، بنکروں اور مورچوں کو تباہ کر دیا گیا۔
امارتِ اسلامیہ نے ملک کو حتمی تقسیم سے بھی محفوظ رکھا۔ طالبان سے پہلے عبدالعلی مزاری نے افغانستان کے اندر ہزارستان کے نام سے ایک مستقل ملک کا نقشہ تیار کر رکھا تھا اور مغربی کابل میں مقیم اپنے حامیوں کو ملتِ غربِ کابل کے نام سے پکارتا تھا۔ جنرل دوستم نے شمالی صوبوں میں اپنی مخصوص کرنسی متعارف کرا رکھی تھی اور خود غرض و مفاد پرست ہمسایہ ممالک کی سرپرستی میں ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے کوشاں تھا۔ اسی طرح مغربی افغانستان میں اسماعیل خان اپنے آپ کو امیر کہلواتا تھا، اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسلامی معاشرے کے دشمن عناصر اس کوشش میں تھے کہ یہ مسلمان مزید تقسیم اور انتشار کا شکار ہوں۔ تاہم امارتِ اسلامیہ نے ان تمام افراد کی ریشہ دوانیوں کو ناکام بنا دیا اور افغانستان کو ایک بار پھر ایک پرچم اور اسلامی حکمرانی کے تحت متحد کر دیا۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



