نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home اُسوۃ حسنۃ

سیرتِ رسولﷺ کے سائے میں | سترہویں اور آخری قسط

معاصر جہاد کے لیے سیرتِ رسول ﷺ سے مستفاد فوائد و حِکَم!

by محمد متین مغل
in اُسوۃ حسنۃ, مئی 2026ء
0

غزوۂ غابہ یا ذی قرد (۲)

اونٹوں کے ریوڑ کی خاطر لشکرکشی

اگر ہم اس غزوے کے سبب (یعنی کفار کے صدقے کے اونٹوں پر حملے )کو نظر انداز کر کے یہ دیکھیں کہ مسلمانوں نے اس کے ردعمل میں کتنی بڑی قوت جمع کر کے نکالی اور کتنی قربانی دی تو اندازہ یہی ہو گا کہ کسی بہت بڑے سبب کے تحت یہ سب کچھ ہوا ہے ۔

اتنی جانوں کو خطرے میں ڈالا گیا اور کچھ شہادتیں بھی ہوئیں، مدینہ منورہ سے پانچ سو قدسی نفوس کا لشکر نکلا ،جس کی کمان رسول اللہ ﷺ بنفسِ نفیس فرما رہے  تھے اور سبب کیا تھا؟ صدقے کے اونٹوں پر حملہ ہو جانا۔ جو اونٹ کفار لوٹ کر لے گئے تھے وہ شاید ایک مسلمان کی دیت کی مقدار سے بھی کم ہوں [مسلمان کی دیت سو اونٹ ہے]، دراصل بات صرف اونٹوں کی نہیں تھی، اب یہ عزت اور اقتدار کا مسئلہ تھا [معاصر اسلوب میں کہہ سکتے ہیں کہ کفار نے صدقے کے اونٹ لوٹ کر مدینہ منورہ کی اسلامی حکومت کی رٹ کو چیلنج کر دیا تھا]، ظلم کا جواب دینا ضروری تھا ،تاکہ آئندہ کوئی اور کافر ایسی زیادتی کا سوچ بھی نہ سکے۔

[دستِ ظالم کو توڑنا دین کا سبق ہے]

ان معاملات میں مسلمان حد درجے حساس ہوتا ہے ،ذرہ برابر ظلم برداشت نہیں کرتا، وہ انتہائی خود دار اور باطل کے مقابل پورے فخر سے کھڑا ہوتا ہے ،دین و ناموس کی بابت بلا کا غیور ہوتا ہے ،کیونکہ اس کا تو دین ہی عزت اور غیرت کا دین ہے اور ان صفات کو اپنے ماننے والوں میں پیدا کرتا ہے ۔ ارشادِ باری ہے:

اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا    ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ؀ (سورۃ الحج: ۳۹)

’’جن لوگوں سے لڑائی کی گئی (اب)انہیں اجازت دی گئی (لڑنے کی) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔‘‘

وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ؀ (سورۃ الشوریٰ: ۳۹)

’’اور (یہ مسلمان وہ لوگ ہیں )جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں ۔‘‘

اسلام نے اسے اپنے معزز دین، نفس اور ناموس کے دفاع کا سبق دیا ہے، بلکہ اسے سکھایا ہے کہ اگر اپنے تھوڑے سے مال کا ظالمانہ قبضے سے دفاع کرتے اس کی جان چلی جائے تو وہ شہید ہے ۔

سعید بن زید رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا:

من قتل دون مالہ فھو شھید ومن قتل دون دمہ  فھو شھید ومن قتل دون دینہ فھو شھید ومن قتل دون اھلہ فھو شھید1ابوداود،ترمذی،نسائی ،ابن ماجہ

’’جو اپنا مال بچاتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنی جان بچاتے مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنا دین بچاتے مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل و عیال کو بچاتے مارا گیا وہ شہید ہے۔‘‘

بلکہ اسلام تو ہر ظلم کے مقابل اپنے ماننے والوں کو غیور وبہادر دیکھنا چاہتا ہے ،رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

ما من مسلم یظلم مظلمۃ  فیقاتل فیقتل الا  قتل شھیدا2مسند احمد،رقم:۶۹۱۳

’’جس مسلمان پر کوئی ظلم ہوتا ہے اور وہ لڑتا ہے ،پھر وہ مار دیا جاتا ہے تو وہ شہید ہے۔‘‘

[وہ دہشت گرد کہہ کر تم کو حق سے موڑنا چاہیں]

کفار نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح ان بہترین صفات کو مسلمانوں کے ماحول، عمل اور زبان حتیٰ کہ دل تک سے کھرچ کر نکال دیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اس ظلم و ذلت کو راضی خوشی گوارا کر لیں اور آہ تک نہ کریں۔ وہ ہمیں یوں ذبح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم زبان پہ ایک حرفِ شکایت بھی نہ لائیں۔ اسی پر بس نہیں ،بلکہ وہ ہمیں باور کروا رہے ہیں کہ اس ظلم و زیادتی اور قتل و غارت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا ہی ترقی و آگے بڑھنے کی علامت ہے، آزادی کی انتہا ہے، عقل و اعتدال کا تقاضا ہے۔

مسلمانوں کی دماغی تطہیر [درحقیقت تنجیس] کے لیے کفار  نت نئے حربے اختیار کرتے ہیں کہ کسی طرح انہیں اپنے حقوق کے دفاع سے  متنفر   کر دیا جائے۔ کبھی تو پاکیزہ الفاظ و صفات کو مسخ کرتے ہیں، جہاد کو فساد کہتے ہیں، مسلمانوں کے قاتلوں کو معصوم و بے گناہ کہتے ہیں، مجاہدین کی غلطیوں کی تاک میں رہتے ہیں اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجاہدینِ اسلام کو بدنام کیا جائے، جہاد و مجاہدین کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں،کبھی مجاہدین کے منہج میں جزوی یا کلی بہتان طرازی کے لیے علم کی طرف منسوب افراد کو استعمال کرتے ہیں، ان افراد میں سے کچھ برضا  و رغبت یہ کام کرتے ہیں اور بعض سے جبراً کروائے جاتے ہیں۔ کبھی خود سے جہاد کے منفی اور ذلت آمیز طریقے گھڑ کر ان کے درمیان موازنہ کرتے ہیں، تاکہ بھولے بھالے لوگوں کو شکار بنایا جائے کہ وہ بھی شرعی حقوق کے دفاع کو ظلم و فساد سمجھیں اور شکست خوردہ نفسیات پر مبنی طریقوں کے علاوہ کوئی اور حل انہیں سجھائی نہ دے، اور انہیں ہی وہ اپنی حتمی کامیابی سمجھ بیٹھیں ۔پاک ہے وہ ذات جس نے عقل بانٹی ہے!

[زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن]

ہم پر چلایا جانے والا کفار کا سب سے خطرناک تیر جس وہ ہماری فطرت کو مسخ اور اچھی صفات کو ختم کرتے ہیں ،جو دین اور علمِ ِ دین سے منسوب افراد کی صورت میں سامنے آتا ہے، جنہیں اسلامی مفکر بھی کہا جاتا ہے ،ذلت پسندی کی یہ باتیں جو پہلے جارج اور پیٹر [یعنی کافر مفکرین  و مستشرقین]کی زبانوں سے نکلتی تھیں اب اسلامی کہلانے والی زبانوں سے ’’اسلامی فتوے‘‘ اور ’’اسلامی فکر‘‘ کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں ،اسلام ان ہفوات سے بَری  ہے۔ فالی اللہ المشتکیٰ

شعر کا ترجمہ:

بھیڑیے کو اس کے ظلم پر  کیا کریں ملامت!
جب چرواہا خود  ہی ریوڑ کا دشمن بن جائے!

شہادت کی خاطر دشمن کے لشکر میں گھس جانا

اس حدیث سے اس بات کا جواز ملتا ہے کہ تنہا ایک مسلمان دشمن کے کثیر تعداد لشکر میں حملہ کر کے گھس سکتا ہے ،خواہ اس کی جان کیوں نہ چلی جائے، کیونکہ حضرت سلمہ بن اکوع  رضی اللہ عنہ نے تنہا دشمن کے لشکر کا مقابلہ کیا[اس کا پیچھا کیا]، اخرم اسدی اور ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہما پیچھے سے ان سے آملے اور اخرم رضی اللہ عنہ شہید بھی ہو گئے، رضی اللہ عنھم اجمعین۔

امام ابن النحاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’یہ صحیح حدیث اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ تنہا ایک فرد کا دشمن کے جمِ غفیر پر حملہ آور ہونا درست ہے، گو جان جانے کا امکان غالب ہو، اگر حملہ آور طلبِ شہادت میں مخلص ہے [اپنی شجاعت کی دھاک بٹھانا مقصود نہ ہو]،جیسا کہ اخرم رضی اللہ عنہ نے کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس پر ناگواری ظاہر نہیں فرمائی، اور آپ ﷺ کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے بھی اس قسم کی سرفروشی سے منع نہیں کیا، بلکہ حدیث اس طرح کی فداکاری کی فضیلت اور پسندیدہ ہونے پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنھما کی مدح فرمائی ،ان کے کارنامے کو سراہا، حالانکہ یہ دونوں حضرات تن تنہا دشمن کے کثیر لشکر پر چڑھ دوڑے تھے، اسلامی لشکر کے آ ملنے کا انتظار نہیں کیا تھا۔ کافر ڈاکو ایک بڑے لشکر کی صورت میں تھے اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی تھی کہ ان پر حملہ آور ہونے کے لیے سو منتخب صحابہ کا دستہ انہیں دے کر روانہ کیا جائے، تو اگر وہ کفار ایک کثیر لشکر نہ ہوتے تو سو منتخب افراد کے لشکر کی درخواست کیوں کی جاتی؟ میں نے کسی عالم کو نہیں دیکھا کہ اس نے انغماس کے باب میں اس حدیث کو ذکر کیا ہو، حالانکہ یہ اس باب میں سب دلائل سے واضح ہے۔ واللہ اعلم!‘‘3مشارع الاشواق؛۱:۵۳۹۔۵۴۰

نیز دیگر صحیح احادیث سے بھی تنہا ایک فرد کا دشمن کے لشکر میں گھس کر حملہ آور ہونے کا جواز ثابت ہے ۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ہمارا رب اس بندے سے  خوش ہوتا ہے، جو اس کی راہ میں لڑتا ہے، پھر شکست ہوتی ہے (یعنی لشکرِ اسلام کو)،ایسے میں وہ اپنے فرض کو جان لیتا ہے اور لوٹ آتا ہے [ہاری ہوئی جنگ میں کفار کے خلاف آخری سانس تک لڑتا ہے ]یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا جاتا ہے، سو اللہ رب العزت اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں: میرے اس بندے کو دیکھو جو میرے پاس موجود نعمتوں کی طلب اور میرے عذاب کے خوف سے لوٹ آیا، یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔‘‘4ابوداود،۲۵۳۶

امام ابن النحاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اگر اس موضوع پر اس صحیح حدیث کے علاوہ کوئی اور دلیل نہ ہوتی تو یہ بھی انغماس کی فضیلت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔‘‘5مشارع الاشواق؛۱:۵۳۲

[شہیدی حملے نوازل میں سے ہیں]

معاصر علماء کے ایک گروہ نے اس طرح کی احادیث سے استشہادی حملوں کے جواز پر استدلال کیا ہے، شہیدی حملوں کا جواز اختلافی مسائل میں سے ہے، بعض علماء جواز کے قائل ہیں اور بعض عدمِ جواز کے۔ اس اجتہادی دائرے  کے اندر اختلاف کرنے میں کوئی حرج نہیں، اہم بات یہ ہے کہ اس اصل مسئلے میں اختلاف نہ کیا جائے جس کا ایک جزو شہیدی حملہ ہے، یعنی جہاد کی فرضیت اور حملہ آور دشمن کے خلاف امت کا دفاع، جب کوئی عالم جہادی جزئیات میں اختلاف سے آگے بڑھ جاتا ہے اور خود جہاد کی فرضیت میں اختلاف کرتا ہے تو پھر اس کے اجتہادات مہلک ہوتے ہیں  اور وہ خود کو اہل حق کی تنقید کا جائز ہدف بنا لیتا ہے ۔

ایک عالم جو اصل مسئلے میں دیگر علماء کی موافقت کرے ،پھر اس کے تحت آنے والی جزئیات میں اختلاف کرے اور دوسرا وہ عالم جو اصل مسئلے میں ہی اختلاف کرے اور اس اصولی اختلاف کی بنیاد پر جزئیات میں بھی اختلاف کرے، تو جزئیات میں بظاہر اختلاف کی یکسانیت کے باوجود دونوں میں اساسی فرق ہے ۔

پہلی صورت میں دونوں فریقوں کا راستہ ایک ہے، جیسے دو شخص ایک راستے پر جا رہے ہوں، بعض انتظامات میں دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے، لیکن دونوں چلیں ایک ہی راستے پر، اور دوسری صورت کی مثال ان دو افراد کی سی ہے جو شروع سے ہی دو مختلف راستوں پر متضاد سمت میں سفر کر رہے ہوں، بات سمجھانے کے لیے ہم ایک آسان سی فقہی مثال کو لیتے ہیں۔

[دباغت دینے کا مسئلہ]

مردار کی کھال دباغت دینے سے پاک ہوتی ہے یا نہیں ؟اس بابت علماء  کے دونوں طرح کے اقوال موجود ہیں ،پس اگر ہم کہیں کہ مردار کی کھال دباغت دینے سے پاک ہو جاتی ہے تو اس سے بنے مصلے پر نماز ہو جائے گی، اس سے بنے ڈول میں پانی پاک ہو گا، اس سے وضو و غسل صحیح ہو گا، وغیرہ۔

اور اگر ہم یہ کہیں کہ پاک نہیں ہوتی تو پھر اس پر نماز درست نہیں ہو گی، اس میں پانی ناپاک ہو جائے گا ،اس سے وضو وغیرہ درست نہیں ہو گا، وغیرہ۔

یہاں آپ نے دیکھا کہ جزئیات میں اختلاف کی وجہ اصلِ مسئلہ میں اختلاف ہے ،تو یہ دوسری صورت کی مثال ہے جس میں اصول میں اختلاف کی وجہ سے جزئیات میں اختلاف پیدا ہوتا ہے ۔

پہلی صور ت یعنی اصول میں اتفاق کے باوجود جزئیات میں اختلاف کی وضاحت کے لیے بھی ہم اسی مثال کو لیتے ہیں، جن حضرات کے نزدیک مردار کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے، ان حضرات کا بھی اس مسئلے کی بعض جزئیات میں اختلاف ہے، ایک یہ مسئلہ طہارت کا حکم عام ہے [کہ ہر مردار کی کھال پاک ہو جائے گی] یا اس میں استثنا ہے یعنی درندوں کی کھال پاک نہیں ہوتی، نیز دباغت کے بعد پاک ہو جانے سے ان کا کھانا حلال ہے یا نہیں؟ کتبِ فقہ میں اور بھی جزئیات مذکور ہیں ،یہاں ہمارا مقصد فقط دونوں صورتوں میں فرق کو واضح کرنا ہے۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ مؤخر الذکر صورتوں میں اختلاف اصلِ حکم میں اختلاف کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک اور مقابل دلیل کی وجہ سے ہے ،کیونکہ اس بات پر  یہ حضرات  متفق ہیں کہ مردار کی کھال دباغت دینے سے پاک ہو جاتی ہے، البتہ بعض جزئی مسائل میں دلیل کی بنا پر آپس میں آراء کا اختلاف پیدا ہو گیا۔

[فرضیتِ جہاد منصوص مسئلہ ہے]

اصل بات کی طرف آتے ہیں، ایک معاملہ یہ ہے کہ ہم جہاد کی فرضیت اور کفار کے حملے کا دفاع کرنے کے قائل ہوں ،پھر اس جہاد و دفاع کی جزئیات میں ہم آپس میں اختلاف کریں، دلیل کی روشنی میں کیا جانے والا یہ اختلاف چنداں مضر نہیں ،لیکن اگر جہاد و دفاع کی فرضیت کا ہی انکار کر دیا جائے اور پھر اس  انکار کی بنیاد پر جزئیات کا ابطال کیا جائے تو یہ یکسر مختلف معاملہ ہے اور اس بے دلیل اختلاف کی ہمارے دین میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں ۔

اختلاف کی گنجائش اجتہادی مسائل میں ہوتی ہے ،کیونکہ وہاں نص نہیں ہوتی، لیکن جہاں نص موجود ہو(جیسا کہ موجودہ صورتحال میں جہاد کی فرضیت کا مسئلہ )تو اس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، یہ اصولی طور پر طے شدہ مسئلہ ہے، آج کی صورتحال میں دشمن کے مقابلے میں دفاع کا وجوب اتنا واضح اور بیّن ہے کہ عقل اور فطرتِ سلیم بھی اس کا انکار نہیں کر سکتی، چہ جائیکہ شریعت مطہرہ اس حوالے سے ابہام کا شکار ہو، اتنا واضح کہ اس کی مزید وضاحت از حد مشکل ہے، اور اس کے دلائل اتنے کثیر ہیں کہ سوائے انتہائی  جاہل یا مفاد پرست کے اور کوئی اس میں اختلاف نہیں کرتا۔

[موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست]

موقع محل کی مناسبت سے آ جانے والی اس بحث کو ہم بند کرتے ہیں ،اور اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ میدانِ جہاد میں آگے بڑھ کر خطرات سے کھیلنا اور جان ومال کو داؤ پر لگانا ایک ایسا کام ہے کہ اس جذبے کی تہہ تک پہنچنے اور اس کا راز پانے سے عقل عاجز ہے، کیا چیز ہے جو موت کو محبوب، سختی کو مطلوب اور خوف کو مرغوب بنا دیتی ہے۔

جب بندۂ مومن کے دل میں خوف و رجا دونوں پہلو قوی ہوں اور اپنے رب سے اس کا تعلق محبت، امید، خوف اور تعظیم کے لحاظ سے مضبوط ہو تو [کمالِ ایمان کی بنا پر ] اس کا قلب روشن ہو جاتا ہے ،سارے پردے ہٹ جاتے ہیں، وہ جنت کو حور و قصور اور اشجار و انہار کے ساتھ دیکھتا ہے اور اڑ کر اس جنت تک پہنچنا چاہتا ہے، وہاں رہ بسنے کا طالب ہوتا ہے۔

جہنم کو اس کے تمام عذابوں، ہولناکیوں اور جہنمیوں کی چیخ و پکار سمیت دیکھتا ہے  اور خوف سے اس کا پِتّہ پانی ہو جاتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے ہر راستے کی طرف دوڑتا ہے ،پھر اسے نظر آتا ہے کہ جنت تک پہنچانے اور جہنم سے بچانے والا ایک ہی راستہ ہے ،جس پر دنیاوی زندگی کا معمولی پردہ حائل ہے ،سو وہ آگے بڑھ کر جلدی سے اس پردے کو چاک کر دیتا ہے ،راہ میں حائل تلواروں کی دھاریں اور موت کی چنگھاڑیں اسے روک نہیں سکتیں اور وہ ان سب سے گزر کر زندگی کا پردہ چاک کر کے ،موت کی وادی سے گزر کر اپنے ہدف تک پہنچ جاتا ہے۔ عاشق جب اپنے محبوب کے در تک جانے کا راستہ دیکھ لے تو بھلا کون اسے روک سکتا ہے؟ اور جب وہ محبوب تک پہنچ جائے تو خوف کیسا ؟

بہادروں کی تعریف ومدح سرائی

ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کے تحت فوائد میں لکھتے ہیں کہ بہادر شخص نیز دیگر اصحابِ فضیلت کی تعریف اچھی بات ہے ،بالخصوص جب وہ کوئی اچھا کام کرے ،تاکہ وہ مزید ایسے کام کرے، بشرطیکہ تعریف کی وجہ سے اس کے فتنے میں پڑنے کا خطرہ نہ ہو۔

[یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے]

کامیاب امیر وہی ہے جسے قیادت کا فن اور سیاست کے گُر آتے ہوں، وہ افراد کو ایسے طریقے سے چلائے جس سے افراد کا بھی بھلا  ہو اور اجتماعیت کو بھی   فائدہ پہنچے۔

پھر ایک مسلمان امیر میں یہ خصوصی وصف بھی ہونا چاہیے کہ وہ اس کا لحاظ رکھے کہ اس کی سیاست، الٰہی احکام کے مطابق ہو اور اس میں اس کا مقصد فرضِ عبدیت کو بجا لانا ہو، سو لازم ہے کہ وہ اخلاصِ نیت کی طرف سے غافل نہ ہو، اس سے اس کے فیصلوں میں برکت آئے گی۔

[منصبِ امارت کی حساسیت]

امیر کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ کوئی بھی معاملہ (خواہ کوئی بات ہو یا عملی کام ) کرنے سے پہلے یا فیصلہ  کرنے سے پہلے بار بار سوچنا چاہیے،کیونکہ اس کے  درست یا غلط فیصلوں کا اثر پوری جماعت پر پڑتا ہے۔

سو امیر پر لازم ہے کہ اسے اپنے ساتھ موجود افراد، اقوام اور گروہوں کی نفسیات کا بخوبی اندازہ ہو، تاکہ وہ ان کے ساتھ ویسا تعامل کرے جس سے انہیں اور عمومی اجتماعیت کو فائدہ ہو، اگر کوئی بہادری کا مظاہرہ کرے،آگے بڑھ کر کوئی کارنامہ انجام دے تو اگر اس کی تعریف کرنے میں فائدہ ہو کہ وہ مزید ایسے کام  کرے تو اس کے کام کو سراہے، لیکن اگر یہ خوف ہو کہ وہ فتنے اور کِبر کا شکار ہو جائے گا توا س کی تعریف نہ کرے۔

[دشمن کے آگے اکڑنا مطلوب ہے]

اسی سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی اس حدیث سے سمجھ آتی ہے اور اہلِ علم نے اسے  ذکر بھی  کیا ہے ،یعنی ضرورت کے موقع انسان اپنی تعریف بھی کر سکتا ہے کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، یہ اس نسبی تفاخر میں داخل نہیں جس سے منع کیا گیا ہے، مقتضائے حال کی بنیاد پر اس کی اجازت ہے۔

یہ فخر و اکڑ جنگ میں دشمن کے مقابل اکڑنے کے قریب ہے[بلکہ اس میں داخل ہے ،کیونکہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے کفار کو خطاب کر کے عین تعاقب کے وقت یہ الفاظ کہے]جنگ کے علاوہ اس کی اجازت نہیں، یعنی انسان اگر بہادر ہے تو دشمن پر رعب ڈالنے کے لیے اپنی بہادری کی تعریف کر سکتا ہے ۔

نیز جب بہادری کی تعریف کرنے سے قلب میں جرات پیدا ہو، بہادری میں اضافہ ہو اور دشمن پر رعب بیٹھے تو بھی تعریف جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

[جہاد اپنے طرز کی البیلی عبادت]

یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ شریعت نے بعض عبادات میں عام اصول سے ہٹ کر کئی رخصتیں دی ہیں ،یا تو اس وجہ سے کہ اس میں فرد کے لیے کئی بڑی مصلحتیں ہیں ،جیسے نفل نماز بلا عذر بھی بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے ،بلکہ بعض علماء کے مطابق تو لیٹ کر اور چلتے ہوئے بھی پڑھ سکتے ہیں ،نیز سفر میں نفل نماز سواری پر قبلے کی طرف رخ کیے بغیر بھی پڑھ سکتے ہیں ،یا پھر شریعت کی دی ہوئی رخصتوں میں امت کے لیے کئی عظیم مصلحتیں ہوتی ہیں ،جیسے جہاد میں [دشمن کے مقابلے میں ]اکڑنے اور غرور کرنے کی اجازت ہے ،اپنی مدح کی اجازت ہے، بال سیاہ کرنے کی اجازت ہے۔

از قبیلِ رخصت دیگر بھی کئی امور ہیں جو اس لائق ہیں کہ انہیں ایک مستقل کتابچے میں جمع کر کے بتایا جائے کہ ان میں سے کون سے امور جائز ہیں اور کون سے ناجائز ،اور کون سی باتیں مشروط ہیں [مثال: دار الحرب میں مونچھیں بڑھانا، ناخن بڑھانا، سانپ بچھو وغیرہ کو قتل نہ کرنا ،بلکہ زہر نکال کر زندہ چھوڑ دینا وغیرہ]،امیر و مامور سبھی مجاہدین کو یہ احکام سیکھنے کی ضرورت ہے ۔

البتہ ایک بات پر تنبیہ کرنا لازم ہے ،وہ یہ کہ جو امور جہاد کے علاوہ جائز یا پسندیدہ نہیں ،جہاد میں ان کے جواز کا سبب یہ ہے کہ ان کا فائدہ نقصان سے زیادہ ہے، تو مصلحت و مفسدے کے توازن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اور نیت کی درستگی سے بھی غفلت برتنے کی گنجائش نہیں [یعنی ان مخصوص امور کی بجا  آوری کے لیے محض شرائط کا پور اکر لینا کافی نہیں ،اخلاصِ نیت بھی لازم ہے]،اللہ تو ظاہری چیزوں کو بھی جانتا ہے اور ہمارے دلوں کے بھید سے بھی واقف ہے ۔

اس حدیث سے اس بات کا وجوب معلوم ہوتا ہے کہ خطرے کے وقت لشکر  یا دستے کو چیخ کر ایسے کلمے سے مخاطب کیا جائے جس سے انہیں خطرے کا پتہ چل جائے، نیز عزیمت اور مشکل راستہ اختیار کرنے کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے [جیسا کہ حضرت سلمہ، اخرم اسدی اور ابوقتادہ رضی اللہ عنھم نے اختیار کیا]۔ اور تیر اندازی کی فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے  تنہا تیر چلا چلا کر ان کا مقابلہ کیا ، ان سے سارا لوٹا ہوا مال بازیاب کروایا اور الٹا ان کا سامان بھی غنیمت کیا، علاوہ ازیں جنگ میں انتہائی  تیز دوڑنے کا جواز بھی اس سے معلوم ہوتا ہے ،اور بھی متعدد فوائد ہیں جو غور کرنے والوں پر ظاہر ہوں گے  ۔واللہ اعلم!

تمت بالخیر
۲۳ ذوالقعدۃ ۱۴۴۷ھ
۹ مئی ۲۰۲۶ء

کلماتِ تشکر

[ہم یہاں مفتی محمد متین مغل (زیدہ مجدہ) کے بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے عبقری قائد و عالم شیخ  منصور شامی شہید رحمۃ اللہ علیہ کی عربی تالیف کا ترجمہ کیا۔  یاد پڑتا ہے کہ اس عربی تحریر کے اس مقام پر رکنے یا ختم ہونے کا سبب شیخ منصور شامی کی شہادت تھا، ورنہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک، منور و مطہر سیرت میں بہت سے اور غزوات باقی ہیں جن  سے فوائدِ و حکم (جہاد و حکومت داری اور اسٹریٹیجی وغیرہ) کے استنباط و بیان کی اس مخصوص اسلوب میں حاجت باقی ہے۔ ہم مجلّہ نوائے غزوۂ ہند کے توسط سے مفتی محمد متین  مغل صاحب اور دیگر علمائے کرام سے استدعا کرتے ہیں کہ شیخ منصور شامی رحمۃ اللہ علیہ کے شروع کردہ اس سلسلے کو مفادِ امتِ حبیب  صلی اللہ علیہ وسلم میں جاری و ساری رکھیں۔ وما توفیقنا الا باللہ! (ادارہ)]

٭٭٭٭٭

  • 1
    ابوداود،ترمذی،نسائی ،ابن ماجہ
  • 2
    مسند احمد،رقم:۶۹۱۳
  • 3
    مشارع الاشواق؛۱:۵۳۹۔۵۴۰
  • 4
    ابوداود،۲۵۳۶
  • 5
    مشارع الاشواق؛۱:۵۳۲
Previous Post

اللہ سے حسنِ ظن | چوتھی قسط

Next Post

مئی 2026ء

Related Posts

عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد
عالمی منظر نامہ

عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد

25 مئی 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | آٹھویں قسط

25 مئی 2026
قبائلِ ازواد میں جاری جہاد کے حوالے سے عمومی ہدایات
فتح مالی

قبائلِ ازواد میں جاری جہاد کے حوالے سے عمومی ہدایات

25 مئی 2026
امام کے ساتھ گزرے ایام | پانچویں نشست
تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

امام کے ساتھ گزرے ایام | پانچویں نشست

25 مئی 2026
نہایت  اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل
اداریہ

نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل

25 مئی 2026
مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

25 مئی 2026
Next Post
مئی 2026ء

مئی 2026ء

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version