آزمائش و ابتلا کو نعمتوں میں کیسے بدلیں؟ آزمائش کی نعمت کا مزہ کیسے حاصل کریں؟ قطع نظر اس سے کہ آپ کو زندگی میں کس کس مشکل کا سامنا ہے، آپ ایک پرسکون زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ آپ ہر معاملے کا سامنا مثبت اندازِ فکر اور امید و حوصلے سے کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ وہ گہرا و قریبی تعلق کیسے بنا سکتے ہیں، کہ آپ کو اس کی ذات کے سوا کسی کا خوف اور کسی سے امید نہ رہے؟ آپ ایک ناقابلِ شکست عزم اور ایک ناقابلِ شکست شخصیت کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ آپ اپنے دل کا تزکیہ کیسے کریں، کہ قسمت و تقدیر کو الزام دینا چھوڑ دیں تاکہ اللہ سے ایک سالم و پاکیزہ دل کے ساتھ ملاقات کر سکیں؟ آپ اپنے خالق و مالک، اپنے ربّ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اپنی محبت کو کیسے خالص و غیر مشروط بنا سکتے ہیں؟ تحریرِ ہٰذا میں آپ کو ان سوالوں کے جواب، اور مزید بہت کچھ ملے گا، ان شاء اللہ! (ادارہ)
اللہ سے اپنی محبت مضبوط بنیادوں پر کھڑی کریں
آخری گفتگو کے دوران ہم نے دیکھا کہ اللہ سے مشروط محبت کرنے والوں کی محبت کا انحصار اللہ کی جانب سے نعمتوں کے جاری رہنے پر ہوتا ہے (جیسے مال و دولت، صحت، آزادی، گھریلو حالات کا مستحکم ہونا، معاشرتی سٹیٹس وغیرہ)۔
کیا آپ نے محسوس کیا کہ یہ سب دنیاوی نعمتیں فانی ہیں؟سو دیکھیے کہ ایک مشروط عاشق کی محبت کو کتنے خطرات لاحق ہیں: مال کا چلا جانا ……یعنی غربت و فقر۔ صحت کا چلا جانا…… یعنی بیماری۔ آزادی کارخصت ہو جانا ……یعنی قید ۔ گھریلو استحکام ختم ہو جانا ……یعنی خاندانی مسائل۔ جس شخص نے ان بنیادوں پر اللہ سے محبت کی…… ذرا سوچیے کہ اس کا کیا حال ہوتا ہے جب ان فانی بنیادوں میں سے کسی کے ختم ہو جانے سے اسے آزمایا جاتا ہے؟ اس کے ایمان کی پوری عمارت ہی ایک جانب کو ڈھلک جاتی ہے اور اس کی محبتِ الٰہی سمیت، ان ناقص بنیادوں پر کھڑی یہ عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ اللہ سے میری محبت ایسی ہی ناقص بنیادوں پر کھڑی ہے جو کسی بھی لمحہ، کسی بھی آزمائش کے نتیجے میں منہدم ہو سکتی ہے؟یعنی کیا اللہ سے میری محبت کی بنیاد دنیاوی نعمتیں ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مصیبت و آزمائش وہ بہترین ذریعہ ہے جس سے آپ اس سوال کا جواب تلاش کر سکتے ہیں، اور اس اعتبار سے مصیبت اللہ کی جانب سے آزمائش کے بھیس میں نعمت و رحمت ہے۔ جب آپ کسی مصیبت کے ذریعے آزمائے جاتے ہیں اور آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو اس مصیبت سے خلاصی عطا فرمائے اور آپ پر اپنی نعمت و رحمت کا سایہ فرمائے، لیکن ممکن ہے کہ مشیّتِ الٰہی یہ ہو کہ آپ کی آزمائش ابھی مزید بڑھے اور مزید شدت اختیار کر لے۔ تب ہی آپ جان سکتے ہیں کہ اللہ کے لیے آپ کی محبت دنیاوی نعمتوں کی بحالی و روانی سے مشروط تھی یا نہیں۔
میں ایک ایسی آزمائش میں مبتلا ہوا کہ میں اپنی آزادی، اپنے گھرانے، اپنے بچوں، اپنے احباب، اپنے مال و دولت اور اپنے ذریعۂ معاش …… ان سب سے یکدم محروم ہو گیا! میں نے اللہ سے دعا کی ، لیکن تقدیرِ الٰہی یہی تھی کہ میری آزمائش میری توقعات سے بڑھ کر طویل ہو گئی ۔ اس آزمائش نے مجھے مجبور کیا کہ میں سوچوں کہ کیا میں اب بھی اللہ سے محبت کرتا ہوں؟
اس سوال نے مجھے یہ اندازہ لگانے میں مدد کی کہ میرے دل میں اللہ کے لیے محبت کسی حد تک مشروط ہے،اور مجھے موقع ملا کہ میں اللہ سے اپنی محبت نئی، مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر تعمیر کروں۔
میرا آپ سے سوال ہے: کیا آپ ایک ایسا گھر خریدنے پر آمادہ ہوں گے جس کے بارے میں آپ جانتے ہوں کہ اس کی بنیادیں کمزور ہیں، اور جو کسی بھی وقت منہدم ہو سکتا ہے؟ تو اللہ سے آپ کی محبت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟جو کہ صرف آپ کی زندگی کا مقصد و حاصل ہی نہیں، بلکہ آپ کے پیدا کیا جانے کا سبب بھی ہے۔
ہمارے ربّ نے ہمیں پیدا کیا تاکہ ہم اس کی عبادت کریں۔ اس(عبادت) میں محبت، تقدیس و تعریف اور فرمانبرداری شامل ہیں۔ تو کیا آپ اس پر راضی ہیں کہ اللہ کے لیے اپنی محبت کمزور بنیادوں پر کھڑی کریں اور اپنی محبت کو ہر لمحہ داؤ پر لگائے رکھیں؟
ظاہر ہے کہ آپ ایسا نہیں چاہیں گے۔
لہٰذا آپ کو چاہیے کہ مضبوط و مستحکم بنیادوں پر ، محبت الٰہی کی عمارت کی تعمیرِ نو کریں۔ اس عمارت کی بنیادوں میں درجِ ذیل چیزیں شامل ہونی چاہئیں:
- اس بات پر مضبوط و غیر متزلزل یقین کہ اللہ ، اپنی عظمت و بزرگی کے سبب، جو واحد و یکتا ہے، لائقِ عبادت ہے۔ اور اللہ کے نام و صفات پر غور کرنا اور دیکھنا کہ کیسے ان کا ہماری زندگی میں اظہار ہوتا ہے۔ اللہ سے اپنی محبت تعمیر کرنے کی یہ سب سے بڑی اور مضبوط بنیاد ہے۔
- دل کا جنّت اور اس کی نعمتوں کے خیال سے جُڑا ہونا۔
- اللہ کی جانب سے ہدایت کی نعمت پر شکرگزاری اور قدر دانی کا اظہار کرنا۔
- اپنی حالیہ یا آئندہ صورتحال سے بے نیاز ہو کر اللہ کی جانب سے عطا ہوئی سابقہ نعمتوں پر شکرگزار ہونا۔
- اللہ کی جانب سے ملنے والی بے شمار نعمتوں کا ادراک کرنا جن سے حالاً بھی ہم مستفید ہو رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ کی موجودہ حالت ابتلا و پریشانی یا محرومی ہی کی ہولیکن اس کے باوجود ہم اللہ کی بے شمار نعمتوں اور رحمتوں کی بارش میں ہمہ وقت بھیگ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ ہم ان نعمتوں کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں، لہٰذا ہم نہ ان نعمتوں کا شمار کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر اظہارِ شکر کرتے ہیں۔
- اللہ کی خود پر رحمت کو محسوس کرنا، اور اس پر غور کرنا۔ہماری شر سے حفاظت کرنے میں، ہمیں ہدایت حاصل کرنے کے اسباب مہیا کرنے میں، ہماری کمزوریوں اور گناہوں کی پردہ پوشی کرنے میں، اور ہمیں ایسے لوگوں سے گھیرنے میں جو ہم سے محبت کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ نرمی و حسنِ سلوک سے پیش آتے ہیں، یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ یہ سب بھی اللہ کی جانب سے ملنے والی نعمتیں ہیں۔ اپنے طور پر میں نے یہ کیا کہ اپنے زمانۂ ابتلا کے دوران جب سورۃ الضحی پڑھی تو اللہ کی خود پررحمت کے بے شمار مظاہر کو یاد کیا، جس سے مجھے بے حدتقویت و راحت ملی، دلی سکون حاصل ہوا ، اللہ کی اپنے قرب میں موجودگی کا احساس ہوا اور یہ یقین حاصل ہوا کہ اللہ جل و علیٰ، میرے لیے بہترین نتائج و عواقب کا خواہاں ہے۔
- اللہ کی نعمتوں پر غور و فکر کرنا، مکمل قلبی شعور کے ساتھ اللہ کی جانب رجوع کرنا۔ اس کی مشیّت پر دل میں رضا پیدا کرنا، اس کی موجودگی کا استحضار ہونا، اس کا قرب حاصل کرنے کی طلب ہونا اور اس کے کلام (قرآن مجید)سے جُڑنا۔
اوپر ذکر کی گئی یہ سب بنیادیں مضبوط و مستحکم ہیں۔یہ نہ فنا ہوتی ہیں نہ تبدیل ہوتی ہیں۔ اللہ کے نام و صفات، آخرت میں مطلوب و مقصود مقام، سابقہ نعمتیں، اور یہ حقیقت کے قطعٔ نظر اس سے کہ آپ محرومی و ابتلا کے کس دور سے گزر رہے ہیں، اس کے باوجود آپ اللہ کی رحمت و عطا میں مکمل طور پر ڈوبے ہوئے ہیں۔آپ پورے اعتماد کے ساتھ ان بنیادوں پر اللہ تعالیٰ سے محبت کی عمارت کی تعمیرِ نو کر سکتے ہیں۔ ان بنیادوں کو راسخ کرنے کے بعد، ہر وہ رحمت یا مصیبت سے خلاصی جو اللہ کی جانب سے آپ کو ملتی ہے، آپ کے حال یا مستقبل میں، آپ کے دل میں اللہ کی محبت میں اضافہ تو کرے گی، لیکن وہ کبھی اللہ سے آپ کی محبت کی شرط نہیں بن پائے گی۔
کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ بنایا ہے کہ لوگوں کے دل دنیاوی مال و متاع حاصل کرنے سے جُڑتے ہیں اور ان میں محبت و اعتماد پیدا ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعض لوگوں (مومنین و مشرکین) کو مالِ غنیمت میں سے کچھ حصّہ دیا کرتے تھے تاکہ ان کے دل اسلام کی جانب راغب ہوں اور اسلام پر انہیں استحکام حاصل ہو۔یہ لوگ ’المؤلف قلوبھم‘ کی صنف سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان پر یہ مال خرچ کرنا خود مصارفِ زکاۃ میں بھی شامل ہے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے، لیکن دلوں کو دنیاوی مال و متاع کے ذریعے جوڑنا محض ایک وقتی ذریعہ ہے تاکہ وہ لوگ جن کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، ان کے دلوں اور اسلام کے درمیان موجود یہ نفسیاتی رکاوٹیں دور ہو جائیں اور وہ اسلام کی حقّانیت جان سکیں اور اس پر راضی ہو جائیں۔ جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں اس کے بعد ان کا ایمان قائم رکھنے کے لیے ان دنیاوی اسباب کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی حدیث، جسے امام مسلمؒ اپنی صحیح میں نقل کرتے ہیں:
’’ان کان الرجل لیسلم ما یرید الا الدنیا، فما یسلم حتی یکون الاسلام احب الیہ من الدنیا وما علیھا.‘‘
’’آدمی اسلام قبول کرتا ہے جبکہ اس کا مقصد صرف دنیا (کا فائدہ ) ہوتا ہے، یہاں تک کہ اسلام اس کے نزدیک دنیا اور اس میں جو کچھ ہےسے بڑھ کر محبوب ہو جاتا ہے۔‘‘
ایک شخص دنیاوی نعمتوں کے حصول کی خاطر اسلام قبول کرتا ہے…… یعنی اس کا ایمان نعمتوں کے ساتھ مشروط ہے! لیکن قبولِ اسلام کے کچھ عرصے بعد اس کا دل ایمان کی روشنی سے منوّر ہو جاتا ہے، اور اسلام اسے ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہو جاتا ہے۔ اس کی محبت جو پہلےایک مشروط محبت تھی،اب اللہ کے لیے ایک حقیقی، پائیدار اور غیر مشروط محبت میں ڈھل جاتی ہے جس کی بنیادیں مضبوط اور غیر متزلزل ہیں۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے تو بعض لوگوں نے اسلام ترک کر دیا۔ تب کیا ہوا؟ وہ لوگ جن کی محبت مشروط تھی، جن کے دل دنیاوی مال و متاع کی محبت میں مبتلا تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال اور ان کے سرداروں کی بغاوت کے ذریعے ان کی آزمائش ہوئی تو انہوں نے اسلام ترک کر دیا۔ جبکہ ’المؤلف قلوبہم‘…… وہ لوگ جنہوں نے مضبوط بنیادوں پر اللہ کے لیے محبت اپنے دلوں میں تعمیر کر لی تھی…… یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے پورے عزم و ہمت کے ساتھ اسلام کا بھرپور دفاع کیا ، اور اس کی خاطر تن من دھن کی قربانی دی!
اپنی پوری زندگی کو ’المؤلف قلوبہم‘ کی صنف میں شامل رہتے ہوئے گزار دینا ایک پُر خطر کام ہے۔ یہ اس لیے بھی ناقابلِ قبول ہے کیونکہ آپ کی محبت ہر وقت خدشات و خطرات کے سائے میں لرزتی رہتی ہے اور کسی بھی وقت اس کے فنا ہوجانےکا خطرہ موجود رہتا ہے۔
لہٰذا اللہ کے ساتھ ایک غیر مشروط محبت پیدا کرنے کا یہ تصور ہمیں ہمارےدین کا بھی ایک گہرا فہم عطا کرتا ہے۔ مثلاً جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ پڑھتے ہیں:
’’ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَی اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ. ‘‘ (بخاری ومسلم)
’’اللہ کے نزدیک اعمال میں سے سب محبوب وہ عمل ہے جس پر اسے کوئی کرنے والا ہمیشگی کے ساتھ کرے اگرچہ وہ کم ہو۔‘‘
اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اللہ کی موسمی قسم کی ، وقتاً فوقتاً کی جانے والی عبادت کے پیچھے محرک کسی آزمائش میں مبتلا ہونا یا کسی نعمت کی شکر گزاری کا وقتی احساس پیدا ہونا ہوتا ہے۔ بالخصوص اگر اس (دورِ عبادت )کے بعد طویل ادوار عبادت سے محرومی کے ساتھ گزارے جاتے ہوں۔اس کے برعکس عبادت کے ایسے افعال جو مستقل و بلا ناغہ کیے جاتے ہوں، اللہ کے لیے ایک گہری اور راسخ ہوئی محبت کی علامت ہیں جو حالات و واقعات سے متاثر نہیں ہوتی۔
لہٰذا عزیز قارئین! اگر آپ خود کو اللہ کے لیے مشروط محبت میں مبتلا پاتے ہیں، تو اس کا ادراک کیجیے، اور اس صورتحال کی درستگی میں فوراً جُت جائیے۔کہ یہ ایک ایسی مصیبت ہے جو بہت سی دنیاوی مصیبتوں سے بڑی اور بد تر ہے۔ بلکہ یہ تو ایمان کو لاحق ایک بیماری ہے اور زندگی میں ہمارے مقصد کو مسخ کر دینے والا مرض ہے۔
خلاصۂ کلام
اللہ سے مشروط محبت کا خاتمہ کیجیے اور اس کے ساتھ اپنی محبت کی عمارت کی از سرِ نو تعمیر کریں، مضبوط و مستحکم بنیادوں پر!
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



