نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پانچویں قسط

شریعت اسلامیہ کی روشنی میں

by سیف العدل
in اپریل 2026ء, فکر و منہج
0

بسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

حصہ دوم: اجتماعی عمل (Teamwork)

وحدتِ صف

اسلام نے اپنے پیروکاروں میں امت کی روح پیدا کرنے پر خاص توجہ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ؀ (سورۃ المؤمنون: ۵۲)

’’اور حقیقت یہ ہے کہ یہی تمہارا دین ہے، (سب کے لیے) ایک ہی دین، اور میں تمہارا پروردگار ہوں، اس لیے دل میں (صرف) میرا رعب رکھو۔‘‘ 

اور اس نے ہر دنیوی علامت پر دین کی علامت کو مقدم رکھا، تاکہ لوگوں کو اس چیز سے جوڑے جو فنا نہیں ہوتی۔ پس دین سب سے پہلے آتا ہے تاکہ نفس کی خواہشات کو ختم کرے اور انسانی نفس کو نرگسیت (خود پرستی) اور خود غرضی سے نکال کر اجتماعی عمل کی روح (Team Spirit) اور ایک امت کے تصور کی طرف منتقل کرے، اور ان کے درمیان فضیلت کا معیار تقویٰ اور اللہ کی رضا کے حصول کو قرار دیا۔ اور اس کا اعلان رسول اللہ ﷺ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) مسلمانوں کے سب سے بڑے اجتماع میں کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے۔ ’’إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ‘‘ (اللہ تعالىٰ کے ہاں تم میں سے وہ شخص سب سے زیادہ معزز ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے)، کیا میں نے پیغام الٰہی  پہنچا دیا؟‘‘1شیخ البانی﷫ نے فرمایا: یہ روایت صحیح ہے، لیکن اسے سنن کی طرف منسوب کرنا وہم ہے، کیونکہ ان میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا، بلکہ یہ مسند احمد میں ہے۔ میں کئی برس پہلے تک اس کے بارے میں توقف میں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اس کی بہت سی اسانید جمع کرنا آسان فرمایا اور میں نے ان پر کلام کی تحقیق کی، تو مجھ پر واضح ہوا کہ یہ روایت اپنی مجموعی اسانید کی بنا پر صحیح ہے۔ مزید دیکھیں: صحیح الترغیب 2964، سلسلہ احادیث صحیحہ: 2700، اور غایۃ المرام:313، ماخذ: تراجعات  الالبانی۔

اس مقام پر ان تفصیلات میں جانا ممکن نہیں جو دینِ اسلام نے صفوں کے اتحاد کو قائم کرنے کے لیے بیان کی ہیں، لہٰذا میں یہاں صرف ان چند امور کا اجمالی جائزہ لینے پر اکتفا کروں گا جن پر امت کی تربیت ہوئی۔

امت کو عدل پر تربیت دی گئی تو مساوات قائم ہوئی، شراکت پر تربیت دی گئی تو محاسبے کا نظام وجود میں آیا، شوریٰ پر تربیت دی گئی تو داخلی امن میسر ہوا، اور وفاداری و نصرت پر تربیت دی گئی تو وہ نسل پرستی، قبائلی تعصب، جماعت پرستی  اور ہر اُس چیز سے آزاد ہو گئی جو امت کو تقسیم کرتی ہے۔ دین نے ایک بے مثال معاشی پروگرام پیش کیا جس نے امت کو کفالت اور تعاون پر پروان چڑھایا، جس کے نتیجے میں الفت، اخوت اور بھائی چارے کی روح پھلی پھولی۔ اس تربیت کا ثمر صفوں کے اتحاد اور ان کی مضبوطی کی صورت میں ظاہر ہوا، جس نے امت کو اس کی سیاسی اور عسکری تحریکات میں سنہری ادوار عطا کیے جن میں وہ قیادت، معیشت، تنظیم، اسٹریٹجی اور غلبے (کنٹرول) میں کامیابی حاصل کرنے میں ممتاز رہی اور یہی تمام میدانوں میں فتح کے حصول کے عناصر ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس امت کے بارے میں فرماتا ہے:

 خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ ۭمِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ؁ (سورۃ آل عمران: ۱۱۰)

’’(مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے۔ ‘‘

امت پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین، عادات و روایات اور اقدار و ثقافت کے مطابق مستند بنیادوں اور اصولوں پر از سرِنو تعمیر کرے تاکہ وہ اپنی سابقہ عزت و شان کی طرف لوٹ آئے، اور میکاولی اور اس کے پیروکاروں کی وراثت سے آنے والی ہر اجنبی (و مغربی) چیز کو اپنے سے دور کرے۔2اٹلی سے تعلق رکھنے والا نیکولو میکاولی (Machiavelli 1469-1527) وہ پہلا سیاسی مفکر سمجھا جاتا ہے جس نے سیاست کو اخلاقیات سے علیحدہ کر کے پیش کیا۔ اپنی کتاب ’دی پرنس‘ میں میکاولی لکھتا ہے: ’’ایک کامیاب حکمران کو اپنے الفاظ اور وعدے کو نبھانے سے اگر کسی طرح کا سیاسی نقصان ہو رہا ہو تو اسے ہرگز اپنے الفاظ کی پاسداری نہیں کرنی چاہیے‘‘۔ ایک اور مقام پر کہتا ہے: ’’اگر آپ کو یہ انتخاب کرنا ہو کہ آپ ایک ایسا حکمران بنیں جس سے عوام خوفزدہ ہوں یا ایسا حکمران جس سے عوام محبت کریں، تو آپ کو خوفزدہ کرنے والا حکمران بننا چاہیے‘‘۔ میکاولی نے سیاست کو مذہب اور اخلاقیات سے آزاد کرایا، وہ پہلا سیاسی مفکر تھا جس نے کُھل کر لکھا ہے کہ سیاست اصل مفادات پر مبنی ہونی چاہیے اور سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ میکاولی جدید سیاست میں مذہب کو ایک رکاوٹ سمجھتا تھا، وہ صرف پولیٹکل سائنس کا ہی بانی نہیں بلکہ سیکولر سیاست کا بھی بانی تھا۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حکمران کے لیے ریاست کی مضبوطی، بقا اور استحکام سب سے اہم ہیں، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز ذریعہ (بشمول فریب اور طاقت) استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آج کل کی قومی ریاستیں میکاویلی کے اسی نظریے پر چلتی ہیں۔ (مترجم)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا  ۠وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِٓ  اِخْوَانًا  ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا  ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِھہ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ؁وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ؁ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ  ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ؁ (سورۃ آل عمران: ۱۰۳ – ۱۰۵)

’’ اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آ جاؤ۔ اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آ چکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑ گئے، ایسے لوگوں کو سخت سزا ہو گی۔ ‘‘

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ  ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ؀ (سورۃ التوبۃ: ۶۰)

 ’’صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا اور ان اہلکاروں کا جو صدقات کی وصولی پر مقرر ہوتے ہیں۔ اور ان کا جن کی دلداری مقصود ہے۔ نیز انہیں غلاموں کو آزاد کرنے میں  اور قرض داروں کے قرضے ادا کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کی مدد میں خرچ کیا جائے۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ ‘‘

وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۝ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۝ (سورۃ الحجرات: ۹، ۱۰)

’’ اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ چنانچہ اگر وہ لوٹ آئے، تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو، اور (ہر معاملے میں) انصاف سے کام لیا کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔   حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔ ‘‘

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا ۡ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ ٻوَمَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ ۾ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَــظَ فَاسْتَوٰى عَلٰي سُوْقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۭ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا؀ (سورۃ الفتح: ۲۹)

 ’’محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔  اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو توراۃ میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہو گئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کاشت کار اس سے خوش ہوتے ہیں۔  تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کر لیا ہے۔ ‘‘

اور حالیہ مصائب اور دین کے درمیان کوئی ربط نہیں، کیونکہ روح، عقل اور جسم کی تربیت ایک چیز ہے اور سائنسی ترقی ایک دوسری چیز۔ اس کی پیش رفت اور ارتقا میں پوری انسانیت نے مل کر، حضرت آدم ﷤کے عہد سے لے کر قیامت تک، حصہ لیا ہے۔ یہ ایک انسانی وراثت ہے جو کسی ایک قوم یا نسل کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ زندگی کے مختلف میدانوں میں انسانی محنت کا ثمر ہے۔

چنانچہ امت ایک نہایت خطرناک مرحلۂ مشقت میں ہے، وہ اس جہالت کا شکار ہے جو مغرب نے اس پر مسلط کی، وہ ان ایجنٹ حکمرانوں سے نالاں ہے جنہوں نے دین اور امت سے غداری کر کے اقتدار کی کرسیاں خریدیں اور وہ اس درآمد شدہ تربیت سے دوچار ہے جو انسان کو بہترین ساخت اور صحیح فطرت سے کھینچ کر فطری پستی کی طرف لے جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اسفل السافلین میں جا گرتا ہے۔ جب تک وہ صحیح تربیت کی طرف واپس نہیں لوٹتی اور جہالت سے نجات حاصل نہیں کرتی، انسانیت اور امت خراب تربیت کی بیماریوں کا شکار رہے گی، جن کے لیے لازماً ایسے اقدامات اور پالیسیاں درکار ہیں جو اجتماعی حرکت کو منضبط کریں تاکہ بیداری اور ہوش میں آنے کے مراحل کو آسان بنایا جا سکے، تاکہ امت اپنی سرزمین پر دوبارہ اقتدار حاصل کرے اور عالمی سیاسی فیصلوں کی مہلک آفات سے نہ صرف آزاد ہو، بلکہ اپنے رب کی ہدایت اور اس دین کے مطابق فیصلے کرنے لگے جسے اس نے لوگوں کے لیے پسند فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا    ۭ (سورۃ المآئدۃ: ۳)

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کر لیا ۔‘‘

5- قیادت اور صفوں کی وحدت کی اسٹریٹجی

قیادت، تنظیم، اسٹریٹجی، معیشت اور کنٹرول

انسان اپنے ساتھیوں سے پہچانا جاتا ہے، شیر لگڑ بگڑوں کی ٹیم کی قیادت نہیں کرتا، اور شیروں کی قیادت صرف ببر شیر ہی کیا کرتا ہے۔ اور جتنا بہتر وہ آپس میں رابطہ رکھ سکیں انہیں اتنی ہی کامیابی حاصل ہو گی، مہارت اس بات میں ہے کہ قائد اور اس کے کارکنان کے درمیان ہم آہنگی اور کنٹرول ہو، اور انہیں تخلیق کے لیے کھلی فضا دی جائے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے مجموعے (گروپ) کی ساخت کو سمجھتے ہیں، یا اسے مناسب انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔

قائد کی موجودگی، اس کی حوصلہ افزائی اور ترغیب دینے کی صلاحیت، سپاہیوں کے باہمی تعامل اور ان کے مجموعی مقصد کے احساس میں اور انہیں ہدف کے حصول کے لیے عمل کی آزادی دینے میں ظاہر ہوتی ہے اور ٹیم اسپرٹ (Team Spirit) کو فروغ دینے میں نظر آتی ہے جو انہیں ناقابلِ مزاحمت جوش عطا کرتی ہے۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ آپ ان کے ساتھ کام کے نتائج کی ذمہ داری اٹھائیں، چاہے نتائج جیسے بھی ہوں، بہرحال کامیابی یا ناکامی کے اولین ذمہ دار آپ ہی ہیں۔

٭٭٭٭

مشکل توازن یہ ہے کہ قیادت کے لیے موزوں افراد کا انتخاب کیا جائے اور ان پر کنٹرول رکھا جائے اور انہیں منصوبے کی حدود سے باہر نکلے بغیر تخلیق کی آزادی دی جائے، تاکہ وہ آپ کے خیالات اور منصوبوں کی روح کو نافذ کریں، نہ کہ محض مشینیں بن جائیں۔

شریف و قابل لوگوں کا سوچنے کا اپنا انداز، مخصوص لائحۂ عمل اور کچھ نفسانی خواہشات ہوتی ہیں۔ اگر آپ ان پر حد سے زیادہ دباؤ ڈالیں گے تو انہیں بگاڑ دیں گے، وہ آپ کے خلاف خاموش بغاوت کریں گے اور موقع پا کر آپ کے منصوبوں کو ناکام بنانے کا انتظار کریں گے۔ لیکن اگر آپ ان سے چشم ‌پوشی کریں گے تو وہ اقتدار کے لیے خود غرضانہ اندرونی کشمکش میں مبتلا ہو کر بگاڑ کا شکار ہو جائیں گے، جو تیزی سے زوال یا شکست اور کنٹرول کے کھو جانے پر منتج ہوتی ہے۔

اگر آپ کا مطمح مقاصد میں یگانگت پیدا کرنا، ان کے باہمی تعامل کو بہتر بنانا اور ٹیم اسپرٹ کو فروغ دینا ہے تو آپ کو چاہیے کہ اہلیت اور تجربے کے حامل افراد کا انتخاب کریں، نہ کہ صرف وفا داری اور رفاقت کے حامل افراد کا۔ انہیں مہارتوں کے مطابق مناسب شعبوں میں تقسیم کریں، ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کریں اور انہیں کامیاب بنانے کے لیے وسائل فراہم کریں۔ پورے نقشے میں یونٹوں اور شعبوں کے مابین تعاون کو مربوط کریں، معلومات کی تیز تر ترسیل اور بروقت ردِعمل کے لیے مواصلاتی ذرائع پر توجہ دیں، فیصلہ سازی میں شراکت کے لیے مشاورت کا ماحول نافذ کریں، ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کے مواقع دے کر لچک دار گنجائش فراہم کریں تاکہ ان کی امنگیں پوری ہو سکیں۔ اور نگرانی، سوال و جواب اور احتساب میں سنجیدگی، مضبوطی اور احتیاط اختیار کریں (یعنی موقع کی مناسبت سے انعام، سزا،  یا معافی دیں) یہ سب چیزیں آپ کو وقار اور احترام دلاتی ہیں اور خود سرانہ بغاوت کی روح کو کچل دیتی ہیں۔

جن باتوں کی طرف آپ انہیں بلاتے ہیں، خود آپ کے لیے ان پر قائم رہنا ضروری ہے،کیونکہ آپ کا یہ عمل ان کے لیے ایک الہام ہو گا جس سے وہ آپ کی پیروی کرتے رہیں گے۔ انہیں خالق سے اور اُس کے پاس موجود اجر و ثواب سے جوڑنا، اور اُن کے دلوں میں ایمان کی پرورش کرنا، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ساتھ ان کی وفا داری کو مضبوط کرتا ہے۔ تربیت اور تزکیۂ نفس کے ذریعے اُن کی دیکھ بھال دِلوں کے میل کچیل کو دور کرتی ہے۔ عدل و انصاف پر اصرار آپ کے درمیان حسد اور بغض کو ختم کرتا ہے۔ اُن کے باہمی اختلافات میں جلد اصلاح کی کوشش محبت اور اعتماد کا ماحول پیدا کرتی ہے۔ اسلامی یکجہتی و احساسِ ذمہ داری کی روح کو عام کرنا اخوت و بھائی چارے کے رشتوں کو مضبوط کرتا اور دوستیوں کو سہارا دیتا ہے۔ وفاداری، اخلاص، قربانی اور فداکاری کے معانی پھیلانا محسنین کی ایک نسل کو جنم دیتا ہے۔ اور ان شاء اللہ یہ سب، نفس کی خواہشات اور اس کی سرکشی کو کچل دیتا ہے۔

٭٭٭٭

کچھ قائدین میں منصوبہ بندی، باریکیوں کا خیال رکھنے اور ہنگامی حالات کی تیاری کی فطری صلاحیت شاندار ہوتی ہے، مگر وہ فتح کے ایک نہایت اہم ستون ’کنٹرول‘ کو کھو دیتے ہیں۔ یہاں کنٹرول سے مراد ہے: احکامات کی وضاحت، چین آف کمانڈ (Chain of Command) اور مواصلاتی نیٹ ورک جس کے ذریعے احکامات، معلومات اور فیصلے منتقل ہوتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ اور نیٹ ورک مطلوبہ انداز میں کام نہ کریں، اور حکم مبہم انداز میں دیا گیا ہو، تو کسی بھی حکمتِ عملی یا اسٹریٹجی کو منصوبے کے مطابق نافذ کرنا ممکن نہیں رہتا۔

چین آف کمانڈ (Chain of Command) کی پہلی صف ایسے شیروں پر مشتمل ہونی چاہیے جو فنِ چال بازی (Maneuver) اور جھپٹنے میں ماہر ہوں، اور جب وہ احکامات وصول کریں تو ان کے نفاذ کے لیے ضروری اسباب اختیار کریں۔ تاہم، اگر وہ لگڑ بگڑوں میں سے ہوں تو سب سے پہلا خیال یہی کرتے ہیں کہ حکم کی تاویل کیسے کی جائے، خاص طور پر اگر حکم شائستہ اور کمزور لہجے میں دیا گیا ہو۔ وہ آپ کے احکامات میں وہی کچھ دیکھیں گے جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں، اور اصل ہدف کو مرکزی کوشش سے محض ایک ممکنہ ہدف میں تبدیل کر دیں گے۔

چین آف کمانڈ (Chain of Command) کی دوسری صف، جو براہِ راست عمل درآمد کی ذمہ دار ہوتی ہے، اگر عمومی قیادت کے ساتھ ان کا مواصلاتی رابطہ شامل نہ ہو، اور انہیں ملنے والے احکامات تاویل کا شکار ہو چکے ہوں، تو وہ ہر حرکت میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوں گے، اپنی فطری سمجھ کے مطابق اقدام کرنے سے خوف زدہ رہیں گے اور ان کے سپاہی بھٹکتے ہوئے جھنڈ میں بدل جائیں گے۔ یوں قیادت کے سر پر موجود غیر یقینی اور ابہام، نچلی سطح پر انتشار اور سستی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

٭٭٭٭

چین آف کمانڈ(Chain of Command) میں ٹوٹ پھوٹ کے علاوہ، ایک اور زیادہ عام غلطی بھی ہے جس میں بہت سے قائدین ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کرتے وقت مبتلا ہو جاتے ہیں، اور وہ ہے واقعات کو الٹی سمت سے دیکھنا۔ چنانچہ اس صورت میں آپ اپنے نااہل افسروں کو الزام دیتے ہیں، یا ناکافی ٹیکنالوجی کو، یا غلط انٹیلی جنس معلومات کو، وغیرہ۔ اگر آپ کا تجزیہ اسی انداز میں جاری رہا تو ناکامی آپ کا مستقل مقدر بن جائے گی اور شکست آپ کے ساتھ ساتھ چلتی رہے گی۔

اور حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز اہرام (Pyramid) کی چوٹی سے شروع ہوتی ہے۔ آپ کی ناکامی یا کامیابی کا تعین آپ کی قیادت کے انداز، آپ کے تیار کردہ قیادت کے سلسلے اور چین آف کمانڈ (Chain of Command) کے ساتھ رابطے کے نیٹ ورک سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کے احکامات مبہم یا کمزور ہوں تو جب وہ میدان تک پہنچیں گے تو اپنا مفہوم کھو چکے ہوں گے۔ چین آف کمانڈ (Chain of Command) آپ ہی کی تخلیق ہے، یہ ایک فنی اور ہنر مندی کا عمل (Skilled Work) ہے جس کے لیے اہتمام اور توجہ درکار ہوتی ہے، اسے نظر انداز کرنا صرف خطرے کو جنم دیتا ہے۔ کامیابی کا انحصار اس رفتار پر ہے جس سے معلومات قائدین کے مواصلاتی نیٹ ورک کے ذریعے دونوں سمتوں میں پہنچتی ہیں۔

کنٹرول کی کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ چین یا زنجیر نے ذیل میں دی گئی اپنی ایک یا زیادہ کڑیاں کھو دی ہیں: احکامات کی وضاحت، چین آف کمانڈ (Chain of Command)، مواصلاتی نیٹ ورک (Communication Network)۔

٭٭٭٭

جب کسی نئے عسکری کمانڈر کا انتخاب کیا جاتا ہے تو بیورو کریسی (افسر شاہی) کے ساتھ ایک خاموش اندرونی کشمکش جنم لیتی ہے، اسی طرح اعلیٰ کمانڈروں میں سے اُن لوگوں کے ساتھ بھی جو اسی منصب کے خواہاں ہوں3اس چیز سے مسلمان بھی مستثنی نہیں ہیں، یہ ایک انسانی معاملہ ہے جو نفس کی خواہشات، ملکیت اور غلبہ حاصل کرنے کی چاہ کے تابع ہوتا ہے، اور تمام قائدین خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرح (دنیا سے بے رغبت) نہیں ہوتے، تاریخ اقتدار کے حصول اور منصب تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی اندرونی سازشوں سے بھری پڑی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صحیح اسلامی تربیت کے خلاف ہے، لیکن یہ انسانی نفس میں پائی جانے والی ایک حقیقت ہے۔۔ فیصلہ سازی کو کون کنٹرول کرتا ہے اور اس کے نفاذ کے دوران بھی اس کنٹرول کو برقرار رکھتا ہے۔

قیادت کی سطح پر کنٹرول کے لیے داخلی کشمکش، پیش بینی اور دانائی کا تقاضا کرتی ہے۔ نئے کمانڈر کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری چیلنجز میں الجھنے سے گریز کرے، اسے مخالفین کی خواہش کے مطابق وقت ضائع کرنے اور گروہی لڑائیوں میں طاقت کے زیاں سے بچنا چاہیے  اور اسے چاہیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات میں اس طرح نہ ڈوبے کہ مجموعی تصویر اوجھل ہو جائے۔

بیوروکریسی (افسر شاہی) کی کیفیت اور مسابقتی ماحول میں تبدیلی کے لیے کمانڈر کو دو امور میں پہل کرنا ہو گی:

  1. اپنے اس عملے کا انتخاب اور تقرر جو اس نے خود منتخب کیا ہو4میں پہلے بھی واضح کر چکا ہوں کہ یہ لوگ لازماً شریف و قابل (شیروں) میں سے ہوں، نہ کہ لگڑ بگڑوں میں سے جن کی بہترین صفت محض وفاداری ہوتی ہے۔ ان شریف و قابل لوگوں (یعنی نجباء) کو قائد اپنے سفر کے دوران منتخب کرتا ہے، ان کی تربیت کرتا ہے، انہیں کام میں لگاتا ہے، اور عام حالات میں اور دباؤ کے تحت بھی ان کی دیانت، اہلیت اور حسنِ تصرف کی جانچ کر چکا ہوتا ہے۔ یہاں ایک نہایت اہم نکتہ قابلِ توجہ ہے: پرانے نظام کے علاج کے لیے یہ طرزِ عمل قابلِ قبول اور دانشمندانہ ہے، کیونکہ وہ سب کے سب موجودہ نظام کے اندر ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن انقلابات یا گوریلا جنگوں کی صورت میں یہی طرزِ عمل سیاسی حماقت شمار ہوتا ہے، کیونکہ یہاں ہم کسی ایسے حریف سے دوچار نہیں ہوتے جو کسی ایسے نظام کے دائرے میں مقابلہ کر رہا ہو جسے ہم قائم رکھنا چاہتے ہیں، بلکہ ایک ایسے دشمن سے واسطہ ہوتا ہے جو اُس نظام کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے سرگرم ہوتا ہے جسے ہم خود منہدم کرنے میں مصروف ہیں۔، اسے خود تربیت دی ہو اور خود کام پر لگایا ہو، اور جن کی قابلیت و صلاحیت اور عام حالات میں نیز دباؤ کے تحت اُن کے حسنِ تصرف کی عملی زندگی میں جانچ ہو چکی ہو۔
  2. اُن افراد کی تربیت و اصلاح پر کام کرنا جو چین آف کمانڈ (Chain of Command) میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں اور انہیں بالواسطہ انداز میں ٹیم اسپرٹ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا۔

حزم و احتیاط حکمت کا تقاضا ہے، اور اُن عناصر کے ساتھ ضروری ہے جن کا نئے انتظامی انداز (ادارے) کے ساتھ ہم آہنگ ہونا مشکل ہے۔ ایسے عناصر کو عملی سفر میں ساتھ نہیں لے جایا جا سکتا اور انہیں لازماً کسی دوسرے ادارے میں کام کرنے کے لیے روانہ ہونا ہو گا۔

نئے کمانڈر کو چاہیے کہ وہ ایسے معاونین مقرر کرے جو اس کے وژن میں شریک ہوں اور اس کے انداز کے مطابق عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایسے معاونین اسے ہر مشکل شخص کے ساتھ مذاکرات میں وقت ضائع کرنے سے بچاتے ہیں، ٹیم اسپرٹ کو پھیلانے میں کردار ادا کرتے ہیں تاکہ وہ ایک عمومی پالیسی بن جائے، کم یا بے فائدہ اجلاسوں میں اس کی جگہ نمائندگی کرتے ہیں اور اسے چھوٹی چھوٹی تفصیلات میں ڈوبنے سے بچاتے ہیں تاکہ وہ مجموعی تصویر پر توجہ دے سکے۔ وہ بلا شک و شبہ چین آف کمانڈ (Chain of Command) اور کنٹرول کو عمومی طور پر اور بالواسطہ طور پر مضبوط کرتے ہیں، اس طرح لوگ آپ پر آمر ہونے کا الزام لگائے بغیر آپ کی پیروی کریں گے۔ یہی خاموش داخلی کشمکش میں زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی اعلیٰ مہارت ہے۔

٭٭٭٭

اگر میدانِ جنگ مختلف دھڑوں یا تنظیموں میں تقسیم ہو تو وہ ایک خطرناک میدان ہوتا ہے۔ مختلف مزاج رکھنے والے دھڑے ایک ہی دشمن کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں، گویا ایک ایسا لشکر جس کی پانچ یا اس سے زیادہ قیادتیں ہوں۔ لوگ گروہوں میں ہوتے ہیں، ان کے اپنے سیاسی رجحانات اور کسی دھڑے یا تنظیم سے وابستگیاں ہوتی ہیں اور وہ جو کچھ کہتے یا کرتے ہیں وہ صرف اپنی تشہیر اور دوسروں کو خوش کرنے کے لیے ہوتا ہے۔

اگرچہ فرد دلیر اور تخلیقی ہوتا ہے، مگر یہ گروہ خطرہ مول لینے سے ڈرتا ہے اور اپنے خوف میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس کا اپنا ایک خاص ذہن ہوتا ہے،ایک محتاط ذہن، فیصلہ سازی میں سست اور تخیل سے بالکل خالی۔

جب آپ مختلف حوالہ جاتی پس منظر رکھنے والے کئی دھڑوں یا تنظیموں پر مشتمل اتحاد قائم کرتے ہیں تو جنگ اور کنٹرول کے اہم ترین اصولوں میں سے ایک (وحدتِ قیادت) کی خلاف ورزی کی اجازت نہ دیں۔ بعض لوگ اس خواہش کے تحت کہ کچھ قائدین خود کو جمہوری ظاہر کریں، گروہ کو مزید اختیار دے دیتے ہیں اور فیصلہ سازی اور اسٹریٹجی کی تشکیل گروہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ یہ تعمیر نہیں بلکہ تخریب ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہم شوریٰ کی عبقریت اور اس لچک کو سمجھتے ہیں جو وہ قائد کو عطا کرتی ہے۔

تقسیم شدہ قیادت تباہی کا نسخہ ہے اور یہ تاریخ کی عظیم ترین عسکری شکستوں کی بڑی وجہ رہی ہے۔ کسی عملی محاذ (Operational Sector) کے لیے دو یا اس سے زیادہ کمانڈروں کی تقرری انہیں دشمن سے لڑنے کے بجائے آپس میں الجھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ناگزیر ہے کہ اتحاد کی قیادت کے لیے ایک ہی عسکری قائد منتخب کیا جائے، جس کے زیرِ کمان تمام سپاہی ہوں، جو پورے میدان کی نگرانی کرے، اور جسے اتحادی دھڑوں کی جانب سے مکمل اختیارات تفویض ہوں۔ اسے چاہیے کہ اپنے ہیئتِ ارکانِ جنگ (General Staff) کا نہایت احتیاط سے انتخاب کرے اور انہیں ایک متحد ٹیم بنا دے۔ قدیم کہاوت ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔

٭٭٭٭

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْهِ شُرَكَاۗءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ؀ (سورۃ الزمر: ۲۹)

’’ اللہ نے ایک مثال یہ دی ہے کہ ایک (غلام) شخص ہے جس کی ملکیت میں کئی لوگ شریک ہیں جن کے درمیان آپس میں کھینچ تان بھی ہے اور دوسرا (غلام) شخص وہ ہے جو پورے کا پورا ایک ہی آدمی کی ملکیت ہے۔ کیا ان دونوں کی حالت ایسی جیسی ہوسکتی ہے ؟ الحمدللہ (اس مثال سے بات بالکل واضح ہوگئی) لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ ‘‘

’’حکومتی نظاموں میں فرقہ وارانہ، نسلی اور مذہبی تقسیم اپنے اندر ناکامی کے بیج لیے ہوتی ہے۔ ان کی مثالیں  لبنان اور عراق ہیں اور وہ سب جو ان کے نقشِ قدم پر چلے۔ یہ ٹائم بم ہیں جو تھوڑی سی بھی حاصل شدہ کامیابیوں کو تباہ کرنے کے قریب ہیں۔ فرقوں کے قائدین کو مبارک باد اور ان کے پیروکاروں پر افسوس، اور لبنان و عراق کے لیے کوئی رونے والا نہیں۔‘‘

’’امارت اسلامیہ افغانستان پر تمام نسلوں اور مسالک و مذاہب کی نمائندگی کرنے والی حکومت تشکیل دینے پر زور، (کیا یہ) افغان عوام کے درمیان مزید انتشار کے عناصر بونے کی دعوت ہے؟۔ جبکہ لبنان میں سہ فریقی حکومتی نظام (عیسائی، سنی، شیعہ) اور عراق میں (کرد، سنی، شیعہ) نے کیا حاصل کیا؟ ان نظاموں نے سہ فریقی اقتدار کی راکھ تلے ہر قسم کی آگ کو زندہ رکھا اور لبنان میں انہدام اور عراق میں ٹوٹ پھوٹ اسی منحوس سہ رخی نظام کو قبول کرنے والوں کا مقدر ہے۔ (اگر یہی بہترین نظام ہے تو) ہمیں فلسطین (اسرائیل) میں ایسی دعوے کیوں سنائی نہیں دیتے؟ (کیوں) برطانوی و امریکی حمایت یافتہ نسلی یہودی قابض نظام کی جگہ،  یہودی، عیسائی اور مسلمان، تینوں کی نمائندگی کرنے والا سہ رخی نظام (نافذ نہیں کیا جاتا؟)!‘‘5عابر سبيل کی غیر مطبوعہ کتاب “الف تغريدة وتغريدة” (ایک ہزار ایک ٹویٹس)۔

٭٭٭٭

  • مؤثر چین آف کمانڈ (Chain of Command) بنانے کا بنیادی قدم یہ ہے کہ ایسے با صلاحیت لوگوں کی ٹیم جمع کی جائے جو آپ کے اہداف اور اقدار میں آپ کے شریک ہوں۔ آپ کو ایسے افراد تلاش کرنے چاہییں جو آپ کی کمی کو پورا کریں اور وہ مہارتیں رکھتے ہوں جو آپ میں نہیں ہیں۔ کبھی بھی کسی شخص کا انتخاب صرف اس کی چمک دار ذاتی کارکردگی (CV) کی بنیاد پر نہ کریں، اس کی ظاہری پرت (Makeup) کے نیچے اس کی نفسیاتی ساخت کو دیکھیں، اور ایسے لوگوں کو ترجیح دیں جو خود پرست نہ ہوں۔ اپنی بنائی ہوئی ٹیم پر اعتماد ضرور کریں، مگر اس کے اسیر نہ بنیں۔ اگر آپ کو مشہور لوگ میسر آئیں تو ہوشیار رہیں کہ آپ ان سے غائب نہ ہوں، کیونکہ آپ کی غیر حاضری ان کے لیے اپنی الگ طاقت کی بنیاد بنانے کا موقع بن جاتی ہے۔
  • ان کے ساتھ ساتھ ایک ایسے طبقے سے بھی خبردار رہیں جو تنظیموں کے اندر پنپتا ہے، اپنے مفادات کے پیچھے دوڑتا ہے اور اپنا ذاتی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ایک گروہ پیدا کرتا ہے تاکہ مضبوط ڈھانچے میں دراڑ ڈال سکے۔ یہ طبقہ آپ کے احکامات کی تشریح اپنے مقاصد کے مطابق کرتا ہے۔ اپنے ارکان (سٹاف) اور شاخوں (Wings) کے کمانڈر منتخب کرنے سے پہلے ان کی اچھی طرح چھان بین کریں اور ذاتی مفاد رکھنے والوں کی تقرری سے گریز کریں۔ لیکن اگر بد قسمتی سے وہ شامل ہو ہی جائیں تو انہیں فوراً الگ کر دیں، انہیں تنظیم کے اندر چال بازی کے لیے نہ تو وقت دیں نہ ہی گنجائش۔ جب انہیں پہچان لیں تو حسنِ ظن میں حد سے زیادہ نہ جائیں، فوراً علیحدگی اختیار کریں تاکہ وہ اپنی طاقت کی بنیاد بنانے سے رک جائیں، جس سے وہ پورے نظام کو تباہ کرنے کے لیے حرکت میں آ سکتے ہیں۔
  • معلومات کی ترسیل کی رفتار کو یقینی بنانے کے لیے مورچوں سے (رابطوں کا) ایک مختصر سلسلہ برقرار رکھیں، تاکہ جنگی حالات کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگی بہتر ہو۔ عظیم کمانڈر اپنے سپاہیوں کے ساتھ مسلسل اور کثرت سے موجود رہتے ہیں، لیکن کبھی کبھار انہیں اپنے سپاہیوں کے پیغامات دیکھنے اور ان کی پیروی کے لیے قابلِ اعتماد افراد کو مقرر کرنا چاہیے۔ جنگ کے دوران، رسمی نیٹ ورک کے متوازی، ایک غیر رسمی نیٹ ورک بھی قائم کریں جو آپ تک میدانِ جنگ کے حقائق پہنچائے، کیونکہ رسمی نیٹ ورک عموماً سست ہوتا ہے۔ غیر معمولی سفیروں کا ایک گروپ تشکیل دیں جنہیں آپ میدان میں گہرائی تک بھیجیں تاکہ معلومات لائیں یا پہنچائیں، یا دشمن سے مذاکرات کریں۔ یہ ٹیم آپ کو چین آف کمانڈ میں لچک اور سخت ماحول میں تدبیر کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔
  • احکامات کی شکل و مضمون پر خود توجہ دیں، مبہم احکامات کی کوئی قدر نہیں ہوتی اور جب وہ ایک سطح سے دوسری سطح تک منتقل ہوتے ہیں تو الٹ بھی ہو سکتے ہیں۔ اپنے احکامات واضح رکھیں، ان میں اہم نکات کی تفصیل ہو اور ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تجاویز شامل ہوں۔ یہ طرز آپ کے افسران کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ آپ کیسے سوچتے ہیں، اس لیے اپنے احکامات کو اتنا متاثر کن بنائیں جو مجموعی منصوبے کے دائرے میں تخلیق اور شراکت کی گنجائش پیدا کریں۔

٭٭٭٭

تبدیلی کے عمل پر خوف صرف اندرونی حرکات، اختلافات، نوجوان قائدین کے عزائم اور اقتدار کی جستجو سے پیدا ہونے والی تشویش تک محدود نہیں ہوتا، سب سے بڑا خطرہ ہمیشہ باہر سے آتا ہے۔  یا دشمن کی طرف سے، جس کی چالیں، مکاری اور سازشیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہوتیں۔  یا اتحادیوں کی طرف سے جب وہ میدان چھوڑ دیتے ہیں، جب افق پر انہیں اپنے اتحاد کے مقصد کے پورا ہونے کے اشارے دکھائی دینے لگتے ہیں۔  یا پھر یہ خطرہ اُن حامیوں کی جانب سے آتا ہے جو تبدیلی کی تحریک کو مالی مدد فراہم کر رہے ہوتے ہیں، اور یہی سب سے خطرناک وار اور سب سے کاری ضرب ہوتی ہے۔ اس وقت یہ واضح ہو جاتا ہے کہ تبدیلی کا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں نہیں رہا، بلکہ ہم نے اسے خوش دلی سے اپنے حامیوں (Supporters) یا سرمایہ فراہم کرنے والوں (Financers) کے سپرد کر دیا ہے۔ تب ہمیں معاشی خود مختاری کا مفہوم سمجھ آتا ہے۔ مختصراً، فیصلہ سازی کی خود مختاری میں جو حصہ ہم کھو دیتے ہیں وہ اس مالی مدد کے برابر، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے جو ہمیں ملتی ہے۔ اور اس کے بدلے ہم حامی (Supporter) کی شرائط کے تابع ہو جاتے ہیں، چاہے وہ تنازع کی شدت پر اس کے اثر کے ذریعے ہوں، یا آزاد شدہ علاقوں میں آئندہ یا حالیہ معاشی مراعات پر اس کے اصرار کے ذریعے، جن کے بل بوتے پر وہ تحریک پر خرچ کی گئی رقم سے کئی گنا زیادہ واپس حاصل کر لیتا ہے۔

لہذا، فیصلہ سازی کی خود مختاری کو اتحادیوں اور حامیوں کے خطرات سے بچانے کے لیے ہمیں اخراجات کم کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے6دیکھیں کتاب: الصراع ورياح التغيير الجزء الثالث، باب’اتحادی‘۔، مراحل کو جلدی جلدی طے کرنے سے گریز کرنا چاہیے، پیداواری علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہیے [مثلاً: کھیت، تیل، خام مال، وسائل اور معدنیات کی کانیں وغیرہ]، اپنے منصوبے تیار کرنے چاہییں اور نجی سرمایہ کاری قائم کرنی چاہیے۔ عوامی حمایت اور پوری امت کی تائید پر پورے اطمینان کے ساتھ بھروسا کیا جا سکتا ہے، اور اسی طرح ہم تبدیلی، خود مختاری اور حاکمیت کے سفر کے لیے استحکام اور اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ مالی اعانت کا خطرہ داخلی کنٹرول کے عمل کو در پیش خطرات سے بدتر ہے، البتہ خطرہ دونوں میں موجود ہے۔

٭٭٭٭

افغانستان میں مخلص اور غیر مخلص رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد رہی اور اسے ایک ہی شرعی مرجعیت (یعنی فقہ حنفی) بھی حاصل تھی۔ دشمنوں سے پہلے، خود اتحادیوں نے اسٹریٹجی کو بگاڑنے کی کوشش کی، مجاہدین کو سات پارٹیوں میں تقسیم کر دیا گیا، پھر ان سات پارٹیوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا اور معاشی تعاون کے سائے میں تصادم کی شدت کو منظم کیا، جس کے نتیجے میں قیادت کی وحدت ختم ہو گئی اور کنٹرول کھو گیا، افراتفری اور اندرونی لڑائی پھیل گئی، اور اس سے بھی زیادہ تلخ یہ کہ سوویت یونین پر فتح کا ذائقہ بھی تیز کڑواہٹ بھرا تھا۔ پھر اس سبق کو نہایت باریکی سے سمجھا گیا، اور جب مجاہدین امارتِ اسلامیہ کے پرچم تلے اور امیرالمومنین اور ان کے ماتحتوں کی قیادت میں منظم ہوئے تو انہوں نے کامیابی کے پانچ ستون حاصل کیے: قیادت کی وحدت، عوامی مالی اعانت، اسٹریٹجی، تنظیم اور کنٹرول۔

تنازع کے وہ میدان یا وہ ساحاتِ تصادم جو قیادت،  اسٹریٹجی، تنظیم، کنٹرول اور مالی وسائل سے محروم ہوں، لفظ کے پورے مفہوم میں ’افراتفری‘ (Chaos) کی حالت میں رہتے ہیں، کوئی کسی کی بات نہیں سنتا، کوئی مشترکہ نکتہ نہیں ہوتا، فیصلہ کن اختیار بیرونی اتحادیوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے، ہر دھڑا اپنی مرضی کرتا ہے، ان کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں کسی اتفاق (یا معاہدے) سے خالی ہوتی ہیں، اور کبھی کبھی تو محض یہ جاننے کے لیے منعقد کی جاتی ہیں کہ حریف کے پاس کیا ہے، ان کا بار بار ہونا مزید وقت حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے، (پس ان حالات میں سمجھ لیجیے کہ) ان کے درمیان تصادم آنے والا ہے، اور مکار دشمن موقع کی تاک میں ہے۔

لہٰذا، ہم سب کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ قیادت کی وحدت، معیشت، تنظیم، اسٹریٹجی، اور کنٹرول میں سے کسی ایک میں بھی خرابی، ایسی بھول بھلیوں میں داخلے پر منتج ہوتی ہے، جن سے نکلنا سب سے پہلے اللہ کی توفیق اور پھر قیادت کی جانب سے اس خرابی کی اصلاح کے لیے کی جانے والی جدوجہد پر ہی موقوف ہے۔

٭٭٭٭

آمرانہ مزاج رکھنے والے سربراہ بُرے اور متکبر ہوتے ہیں، ان کے ساتھ کام کرنے والوں کی اکثریت ان سے نفرت کرتی ہے، اور ان کا ساتھ وہی دیتے ہیں جو جانتے ہیں کہ فائدہ کہاں سے اٹھایا جاتا ہے، ہر وہ شخص جو اپنا مستقبل محفوظ کرنا چاہتا ہے محض ان کی خوشامد کرتا ہے۔ ان سربراہوں کے تکبر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ انتظامی درجہ بندی کے  ہرم (Vertical Hierarchy) کو ہی دیکھتے ہیں، جو انہیں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیتا ہے، یعنی اختیارات و طاقت کے ذریعے انتظام (حکم دینے اور منع کرنے کے انداز میں)، پس یہ عملی طور پر تو کامیاب ہو سکتا ہے مگر معاشرتی و سماجی طور پر مکمل طور پر ناکام ہے۔ اسی سبب تنظیمیں اکثر پُرتشدد جھٹکوں، ہڑتالوں اور دھرنوں کا شکار ہوئی ہیں اور بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد ان متکبروں سے ٹکرا کر تنظیمیں چھوڑ گئے ہیں۔

یہ لوگ معاشرتی سطح پر کسی بھی افقی ہم آہنگی (Horizontal Homogeneity) کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔ ذمہ داری کا زینہ نہایت اہم اور خطرناک ہے، اور لوگوں کی قیادت اور ان کا انتظام کرنا ایک الگ چیز ہے۔ محبت اور عقل کے ساتھ انتظام ہی کامیابی کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ دلوں اور ذہنوں کی طاقت ہے، جو کام اور فرد دونوں کا خیال رکھتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میں لفظ ’’سربراہ‘‘ کے بجائے ’’ذمہ دار (مسئول)‘‘ کی اصطلاح کو ترجیح دیتا ہوں، کیونکہ ’’ذمہ داری (مسئولیت)‘‘ ایک ایسا تصور ہے جو ہر سمت میں چلتا ہے، جبکہ ’’سربراہ‘‘ کا راستہ صرف اوپر سے نیچے کی طرف ہوتا ہے۔ افسوس! آج کتنے زیادہ ’’سربراہان‘‘ ہیں مگر ’’ذمہ داران (مسئولین)‘‘ بالکل نایاب ہیں۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

  • 1
    شیخ البانی﷫ نے فرمایا: یہ روایت صحیح ہے، لیکن اسے سنن کی طرف منسوب کرنا وہم ہے، کیونکہ ان میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا، بلکہ یہ مسند احمد میں ہے۔ میں کئی برس پہلے تک اس کے بارے میں توقف میں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اس کی بہت سی اسانید جمع کرنا آسان فرمایا اور میں نے ان پر کلام کی تحقیق کی، تو مجھ پر واضح ہوا کہ یہ روایت اپنی مجموعی اسانید کی بنا پر صحیح ہے۔ مزید دیکھیں: صحیح الترغیب 2964، سلسلہ احادیث صحیحہ: 2700، اور غایۃ المرام:313، ماخذ: تراجعات  الالبانی۔
  • 2
    اٹلی سے تعلق رکھنے والا نیکولو میکاولی (Machiavelli 1469-1527) وہ پہلا سیاسی مفکر سمجھا جاتا ہے جس نے سیاست کو اخلاقیات سے علیحدہ کر کے پیش کیا۔ اپنی کتاب ’دی پرنس‘ میں میکاولی لکھتا ہے: ’’ایک کامیاب حکمران کو اپنے الفاظ اور وعدے کو نبھانے سے اگر کسی طرح کا سیاسی نقصان ہو رہا ہو تو اسے ہرگز اپنے الفاظ کی پاسداری نہیں کرنی چاہیے‘‘۔ ایک اور مقام پر کہتا ہے: ’’اگر آپ کو یہ انتخاب کرنا ہو کہ آپ ایک ایسا حکمران بنیں جس سے عوام خوفزدہ ہوں یا ایسا حکمران جس سے عوام محبت کریں، تو آپ کو خوفزدہ کرنے والا حکمران بننا چاہیے‘‘۔ میکاولی نے سیاست کو مذہب اور اخلاقیات سے آزاد کرایا، وہ پہلا سیاسی مفکر تھا جس نے کُھل کر لکھا ہے کہ سیاست اصل مفادات پر مبنی ہونی چاہیے اور سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ میکاولی جدید سیاست میں مذہب کو ایک رکاوٹ سمجھتا تھا، وہ صرف پولیٹکل سائنس کا ہی بانی نہیں بلکہ سیکولر سیاست کا بھی بانی تھا۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حکمران کے لیے ریاست کی مضبوطی، بقا اور استحکام سب سے اہم ہیں، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز ذریعہ (بشمول فریب اور طاقت) استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آج کل کی قومی ریاستیں میکاویلی کے اسی نظریے پر چلتی ہیں۔ (مترجم)
  • 3
    اس چیز سے مسلمان بھی مستثنی نہیں ہیں، یہ ایک انسانی معاملہ ہے جو نفس کی خواہشات، ملکیت اور غلبہ حاصل کرنے کی چاہ کے تابع ہوتا ہے، اور تمام قائدین خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرح (دنیا سے بے رغبت) نہیں ہوتے، تاریخ اقتدار کے حصول اور منصب تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی اندرونی سازشوں سے بھری پڑی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صحیح اسلامی تربیت کے خلاف ہے، لیکن یہ انسانی نفس میں پائی جانے والی ایک حقیقت ہے۔
  • 4
    میں پہلے بھی واضح کر چکا ہوں کہ یہ لوگ لازماً شریف و قابل (شیروں) میں سے ہوں، نہ کہ لگڑ بگڑوں میں سے جن کی بہترین صفت محض وفاداری ہوتی ہے۔ ان شریف و قابل لوگوں (یعنی نجباء) کو قائد اپنے سفر کے دوران منتخب کرتا ہے، ان کی تربیت کرتا ہے، انہیں کام میں لگاتا ہے، اور عام حالات میں اور دباؤ کے تحت بھی ان کی دیانت، اہلیت اور حسنِ تصرف کی جانچ کر چکا ہوتا ہے۔ یہاں ایک نہایت اہم نکتہ قابلِ توجہ ہے: پرانے نظام کے علاج کے لیے یہ طرزِ عمل قابلِ قبول اور دانشمندانہ ہے، کیونکہ وہ سب کے سب موجودہ نظام کے اندر ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن انقلابات یا گوریلا جنگوں کی صورت میں یہی طرزِ عمل سیاسی حماقت شمار ہوتا ہے، کیونکہ یہاں ہم کسی ایسے حریف سے دوچار نہیں ہوتے جو کسی ایسے نظام کے دائرے میں مقابلہ کر رہا ہو جسے ہم قائم رکھنا چاہتے ہیں، بلکہ ایک ایسے دشمن سے واسطہ ہوتا ہے جو اُس نظام کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے سرگرم ہوتا ہے جسے ہم خود منہدم کرنے میں مصروف ہیں۔
  • 5
    عابر سبيل کی غیر مطبوعہ کتاب “الف تغريدة وتغريدة” (ایک ہزار ایک ٹویٹس)۔
  • 6
    دیکھیں کتاب: الصراع ورياح التغيير الجزء الثالث، باب’اتحادی‘۔
Previous Post

اپسٹین فائلز اور مجاہدین کا موقف

Next Post

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | تیسری قسط

Related Posts

کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | ساتویں قسط

1 مئی 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | بارہویں قسط

1 مئی 2026
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | اکتیسواں درس

1 مئی 2026
سیرتِ رسولﷺ کے سائے میں | دسویں قسط
اُسوۃ حسنۃ

سیرتِ رسولﷺ کے سائے میں | سولہویں قسط

1 مئی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | تیسری قسط

1 مئی 2026
وی پی این (VPN) انڈسٹری کی حقیقت!
اوپن سورس جہاد

وی پی این (VPN) انڈسٹری کی حقیقت!

1 مئی 2026
Next Post
غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | تیسری قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اپریل 2026ء
اپریل 2026ء

اپریل 2026ء

by ادارہ
1 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version