“بی بی سی” اپنی مکاری، کالے کو سفید اور بدترین ظلم کو بہترین انصاف کے طور پر بتانے میں، آج کے میڈیا میں ایک استاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام و عالمِ اسلام کے متعلق اس نے جو اصطلاحات و اسلوب رائج کیا، اس کو تو عرصہ دراز ہو چکا اور اب دنیا اس کی عادی ہو چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود عالمی سطح پر روزانہ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں، جس کے لیے انہوں نے ایسے شیاطین بٹھا رکھے ہیں جو رات کو دن دکھانے میں ماہر ہیں۔ ایسے ہر موقع پر کہ جس میں ان کا ظلم اور جھوٹ واضح ہو رہا ہو، یہ اپنے عملے کو ایک “انٹرنل میمو” جاری کرتی ہے کہ جس سے وہ زہر کو تریاق دکھا سکیں۔

حال ہی میں امریکی فوج کی طرف سے وینزویلا کے صدر کو اس کے صدارتی محل سے ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ اٹھانا پوری دنیا کے لیے حیرت انگیز تھا۔ یہ یہاں رائج جنگل کے اُس قانون کا ایک کھلا مظاہرہ تھا جو “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس” کے اصول پر بنا ہے۔ یہ ہر زاویے سے اغوا کا واقعہ تھا جو عموماً ڈاکو لٹیروں کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ مگر “بی بی سی” کے ہاتھوں کی صفائی دیکھیے کہ اس کے دفتر میں اُس دن جو “انٹرنل میمو” تقسیم ہوا، اس میں اس اغوا کے لفظ کا استعمال سختی سے منع کیا گیا تھا اور اس کی جگہ اس میں یہ زور دیا گیا تھا کہ “گرفتار” یا “پکڑ لینے” جیسی اصطلاحات ہی استعمال کی جائیں، یعنی “امریکی فوج نے صدر مادورو کو پکڑ لیا، گرفتار کر لیا”۔
خدا کا کرنا، یہ میمو بی بی سی دفتر سے لیک ہوگیا اور میڈیا کی زینت بن گیا، جس کی بی بی سی تردید نہ کر سکا۔
اب اصطلاحات کا فرق دیکھیے:
اول ذکر کردہ اصطلاح، یعنی اغوا، موجودہ حقیقت کو واضح کرتی ہے، اور وہ یہ کہ امریکہ مجرم اور ڈاکو ہے جبکہ وینزویلا کا صدر بے قصور ہے۔ جبکہ بی بی سی کی ثانی الذکر جادوئی اصطلاح نے مجرم کو بے قصور جبکہ مظلوم کو ڈاکو اور لٹیرا بنا دیا۔
یہ ہے وہ عالمی نظام جس کے مطابق ہمیں جینے اور اپنی سوچ، فکر، جذبات اور اخلاق تک وضع کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ہم بھی اُنہی کو جائز اہداف کہتے ہیں جنہیں مغرب جائز کہے اور اُن اہداف کو ناجائز اور دہشت گردی کا نام دیتے ہیں جن کو مغرب دہشت گردی کہے۔ نتیجتاً ہم بطورِ امت مجبور ہیں کہ ان کے ظلم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں، یہ اعتراف کر لیں کہ چونکہ ان کی ٹیکنالوجی کا مقابلہ اب بس میں نہیں، بالخصوص (نوٹ کیجیے) جب یہ ٹیکنالوجی معصوم بچوں اور بندوق لیے مجاہدین میں فرق نہیں کرتی، اس لیے پھر ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ہم ہوشیاری و دانائی سے کام لے کر غلامی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تسلیم کر لیں، اور غلامی بھی ایسی کہ جس میں نہ دین ہمارا اپنا ہو اور نہ ہی زمین، معیشت، تہذیب و معاشرت ہمارے اختیار میں ہو، سب کچھ بس وہ ہو جو امریکہ و مغرب ہمیں ڈکٹیٹ کریں۔ یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی بندۂ مومن اٹھے اور “فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ”، (جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جیسے اس نے تم پر کی) پر عمل کرے تو دوسروں سے پہلے پھر ہم مسلمان ہی اس مردِ مجاہد کو دہشت گرد کہیں اور اس سے برأت کرنا اور اس کو برا بھلا کہنا ہی وقت کا فیشن، اپنے آپ کو مہذب، سِوَلائزڈ بلکہ صحیح مسلمان ثابت کرنے کا واحد ذریعہ سمجھیں۔
یہ ہے وہ غلامی جس میں ہم جکڑے ہوئے ہیں اور جب تک ہم نے عمل سے پہلے فکر میں اس سے نجات کی کوشش نہ کی ہو، یہ غلامی کی زنجیریں سخت سے سخت تر ہوتی جائیں گی، یہ ٹوٹیں گی کبھی نہیں۔