مغربی میڈیا نے کس طرح اسرائیلی نسل کشی کو ’جعلی خبروں‘ میں تبدیل کرنے میں مدد دی؟ |
جوناتھن کک مڈل ایسٹ آئی کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ مغربی میڈیا، اسرائیل کی نسل کشی کو ’’جائز قرار دینے‘‘ کے لیے لازم و ملزوم رہا ہے۔جس طرح اسرائیل نے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیوں کو بدنام اور خارج کرکے غزہ کے قحط کو ’انجینئر‘ کیا ہے، اسی طرح وہ فلسطینی صحافیوں کو بدنام اور قتل کرکے قحط کی مناسب کوریج کو روک رہا ہے۔
جو چیز سب سے زیادہ حیران کن ہے وہ ہے مغربی میڈیا کا اسرائیل کے جھوٹ کو فروغ دینے میں مسلسل تعاون۔ جرمنی کے سب سے مقبول اخبار، بِلڈ bildنے ایک فرنٹ پیج خبر شائع کی جس پر لکھا تھا: ’’غزہ میں صحافی کے بھیس میں دہشت گرد مارا گیا۔‘‘ نہ یہ وضاحت کہ یہ فلاں کا دعویٰ ہے، نہ ہی کوئی اقتباس کوظاہر کرتے واوین۔ مغربی کوریج سے جو سیاق و سباق غائب ہے وہ یہ کہ اسرائیل نے گزشتہ دو سالوں میں غزہ میں 240 سے زیادہ فلسطینی صحافیوں کو قتل کیا ہے، دونوں عالمی جنگوں، کوریا کی جنگ، ویتنام کی جنگ، سابق یوگوسلاویہ کی جنگوں اور افغانستان کی مشترکہ جنگوں میں مارے گئے تمام صحافیوں کی کل تعداد سے زیادہ۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے حال ہی میں تبصرہ کیا کہ اسرائیل غزہ پر کسی بھی قسم کی آزادانہ رپورٹنگ کو ختم کرنے کے لیے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ ہدف بنا کر قتلِ عام کا پروگرام چلا رہا ہے۔
اسرائیل کے جعل ساز بیانیے اس وجہ سے کام کرتے ہیں کہ مغربی صحافیوں کی ان ڈس انفارمیشن مہمات کو قبول کیا جاتا ہے اور مغربی سامعین بھی انہیں مان لیتے ہیں۔یہ اس لیے کام کرتے ہیں کیونکہ مغرب کے سیاسی اور میڈیا طبقوں کی طرف سے نسل در نسل ہمارے اندر ایک گہری نسل پرستی کو فروغ دیا گیا ہے۔ غزہ کی نسل کشی کی پردہ پوشی اور اس میں مغربی ملی بھگت، نسل پرستانہ، نوآبادیاتی ایجنڈوں کی ایچ ڈی (HD) میں ایک تصویر فراہم کرتی ہے جسے ہم ’خبریں‘ کہتے ہیں۔
اسرائیل کی طرف سے غزہ کے عوام کا بڑے پیمانے پر قتل عام اور ان کی فاقہ کشی، جو اب اسرائیل کے تیار کردہ قحط کے طور پر باضابطہ طور پر تصدیق شدہ ہے،کا جواز شروع سے ہی بے سر و پا جھوٹ کے تسلسل میں بنایا گیا تھا جیسے شیر خوار بچوں کے سر قلم کیے گئے، اوون میں بچوں کو ڈال دیا گیا، اجتماعی عصمت دری کی گئی وغیرہ وغیرہ۔
اس سے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اسرائیل نے اسی طرح کے اشتعال انگیز جھوٹ کو آگے بڑھایا۔ اس نے اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کو منقطع کر دیا اور محصور غزہ کے ہسپتالوں کو تباہ کر دیا، اس کے طبی عملے کو قتل کیا، جیل میں ڈالا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ غزہ کے تمام 36 ہسپتالوں پر حملہ کیا گیا ہے ۔ ایسے حملے جن کا مضمر استدلال یہ تھا کہ وہ حماس کے ’’کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز‘‘ کے اوپر بنائے گئے تھے، حالانکہ وہ مراکز کبھی نہیں ملے۔اس بیانیے کو وسعت دیتے ہوئے، اسرائیل نے غزہ کے سرکردہ ڈاکٹروں کو پکڑا اور جیلوں میں ڈال دیا، جبکہ وہ معزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے نہ ختم ہونے والے شدید دباؤ کے دوران علاج کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہے تھے۔ اسرائیل نے مغربی صحافیوں کو غزہ تک رسائی سے روک دیا اور پھر فلسطینی صحافیوں کو ایک ایک کر کے غزہ سے نکال دیا، یہاں تک کہ 200 سے زیادہ قتل ہو چکے، جن میں صرف گزشتہ چند ہفتوں میں 11 بشمول مڈل ایسٹ آئی اور الجزیرہ کے معاونین شامل ہیں۔ دوسروں کو بیرون ملک حفاظت کے لیے فرار ہونے پر مجبور کیا گیا ۔
مغربی پریس نے گزشتہ 22 مہینوں کی نسل کشی کے دوران اپنے صحافیوں کے انخلاء کے بارے میں کوئی آواز نہیں اٹھائی، اجتماعی طور پر لاپرواہی کا مظاہرہ کیاحالانکہ غزہ میں ان کے ساتھیوں کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا تھا۔ اسرائیل نے ایک فضائی حملے کا جشن بھی منایا جس میں چھ فلسطینی صحافی مارے گئے، جن میں الجزیرہ کے لیے غزہ سٹی کو کور کرنے والی پانچ افراد کی ٹیم بھی شامل تھی۔
اسرائیل غزہ شہر کی باقیات کوآخری حد میں دھکیلنے کے لیے ساٹھ ہزار فوجیوں کو بلا رہا ہے، جہاں تقریباً 10 لاکھ فلسطینی موجودہیں۔ جن میں سے نصف بچے ہیں اور بھوک سے مر رہے ہیں۔ ان شہریوں کو یا تو مار دیا جائے گا یا حراستی کیمپ میں لے جایا جائے گا، اسرائیل مصر کی سرحد کے قریب ایک ’’انسان دوست شہر‘‘ بسانے کی بات کررہا ہے۔ وہاں، وہ اپنے حتمی انخلاء کا انتظار کریں گے، ممکنہ طور پر جنوبی سوڈان کی جانب، ایک ناکام ریاست جو پہلے ہی خانہ جنگی کا شکار ہے۔
کیا ترکی اور متحدہ عرب امارات صومالیہ میں امریکی مفادات کے نگہبان بن رہے ہیں؟ |
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے مضمون ’’To Halt the Jihadist Advance in Somalia, Work with Turkey and the UAE‘‘ میں مصنف ایدو لیوی (Ido Levy) کے مطابق صومالیہ میں القاعدہ سے منسلک گروپ الشباب نے حالیہ برسوں میں نمایاں پیش قدمی کی ہے، خاص طور پر جولائی 2025ء میں وسطی صومالیہ کے شہر مہاس پر قبضہ کرنے کے بعد۔ صومالیہ کی وفاقی حکومت (FGS) کو 2022ء میں شروع کی گئی فوجی کارروائیوں کے باوجود، جن میں امریکی تربیت یافتہ داناب بریگیڈ اور مقامی قبائلی ملیشیا شامل تھیں، الشباب کے خلاف کامیابی برقرار رکھنے میں ناکامی ہوئی۔ اس کی وجہ فوج کی کرپشن، سیاسی تنازعات، اور افریقی یونین (AU) کے مشن کی کمزور حمایت ہے۔
مضمون میں تجویز دی گئی ہے کہ الشباب کی پیش قدمی روکنے کے لیے ترکی اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے ساتھ تعاون کو مضبوط کیا جائے، جو صومالی فوج کے لیے تربیتی پروگرام چلا رہے ہیں۔ ترکی اور UAE خطے میں اثر و رسوخ کے لیے ماضی میں ایک دوسرے کے مد مقابل تھے، لیکن اب ایک غیر رسمی معاہدے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ان کے تربیتی پروگراموں کو بہتر بنانے اور AU مشن کے لیے فنڈنگ کی تجدید سے صومالیہ کی سکیورٹی فورسز کو تقویت مل سکتی ہے۔
مضمون میں زور دیا گیا ہے کہ امریکہ کو ان ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے پروگرام بڑے پیمانے پر قابل توسیع ہیں، جبکہ امریکی حمایت یافتہ داناب پروگرام محدود ہے اور یورپی یونین کا تربیتی مشن ناکافی ہے۔ مزید برآں، مضمون میں الشباب کے حوالے سے عالمی خطرات بالخصوص امریکی مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی کے حوالے سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
ترکی نے مبینہ طور پر الشباب کے خلاف حملوں میں پہلے سے استعمال ہونے والے TB2 ڈرون کی معاونت کے لیے Akinci ڈرون بھی صومالیہ بھیجے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے سرکاری طور پر 2014ء میں SNA اہلکاروں کو تربیت دینا شروع کی لیکن موغادیشو کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے اس نے پروگرام کو 2018ء سے 2022ء تک معطل کر دیا۔ اس نے فروری 2024ء میں اس پروگرام کو دوبارہ منجمد کر دیا جب الشباب نے دارالحکومت میں جنرل گورڈن کیمپ پر حملہ کیا، جس میں چار اماراتی افسران اور ایک بحرینی افسر ہلاک ہوا۔ ابوظہبی نے مصر، اریٹیریا، یوگنڈا، اور جبوتی میں SNA کے فوجیوں کی تربیت کے لیے مالی امداد بھی کی ہے تاکہ AU کے دستوں کی جگہ لینے کے لیے اعلیٰ معیار کے باقاعدہ یونٹوں کو ترتیب دیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق یوگنڈا میں تربیت یافتہ افراد کے ایک گروپ نے ملٹری پولیس یونٹ تشکیل دیا جس نے موغادیشو میں الشباب مجاہدین کے خلاف اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں امریکی حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ وہ ترکی اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے صومالی فورسز کو دی جانے والی تربیت کے فریم ورک میں اس امر کو یقینی بنائیں کہ فورسز کا فوکس الشباب رہے یعنی اگر فورسز کو داخلی سیاست یا دیگر علاقائی تنازعات میں استعمال کیے جانے کا خدشہ ہو تو اسے روکنے کا طریقہ کار موجود ہو۔
یہ وہی پالیسی ہے جو امریکہ نے پاکستان کے لیے اپنا رکھی ہے کہ جو جہاز اور جنگی سازوسامان امریکہ سے حاصل کیے گئے ہیں وہ پاکستان و افغانستان میں فقط مجاہدین کے خلاف استعمال ہوں اور اگر پاکستان انہیں بھارت کے خلاف استعمال کرے یا کرنا چاہے تو اس کی روک تھام کے لیے راستے موجود ہوں۔ مسلم ممالک پر مسلط کی گئی افواج کی یہی حقیقت ہے جو مسلمانوں کے وسائل اور خون پسینے کی کمائی پر پلتی ہیں مگر انہیں پابند کیا جاتا ہے کہ یہ امریکہ و مغرب کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہی خود کو کھپائیں۔
عرب افواج کی مصر میں النجم الساطع 2025 فوجی مشقیں |
غاصب و قابض اسرائیل کی فلسطینیوں کی جاری نسل کشی کے دوران اس کے بالکل پڑوس مصر میں دوسرے پڑوسیوں بشمول سعودی عرب سمیت 44 ممالک کی فوجی مشقیں ہورہی ہیں۔ یہ مصر کے شمالی حصے میں واقع محمد نجیب فوجی اڈے پر ’’النجم الساطع 2025‘‘ (Bright Star) فوجی مشقیں ہیں جو 28 اگست تا 10 ستمبر جاری رہیں گی۔ اس کے آفیشل لوگو میں پاکستان کا جھنڈا بھی شامل ہے۔ ایک خبر کے مطابق پاکستان ان مشقوں میں بطور آبزرور شرکت کررہا ہے۔
مشقوں میں مشترکہ آپریشنز کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے جن میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، غیر روایتی جنگ، لوجسٹک سپورٹ، طبی انخلا، بحری سلامتی اور آبی آپریشنز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حقیقی گولہ بارود کے ساتھ فائرنگ کی مشقیں، اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک نقل و حرکت کے تربیتی مراحل بھی انجام دیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے! برائٹ اسٹار مشترکہ فوجی مشقوں کا ایک سلسلہ ہے جس کی قیادت امریکہ اور مصر کرتے ہیں۔ مشقوں کا آغاز 1980ء میں ہوا، جس کی جڑیں 1977ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے سے ملتی ہیں۔ اس پر دستخط کے بعد، امریکی مسلح افواج اور مصری مسلح افواج نے مصر میں مل کر تربیت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق مصر نے مبینہ طور پر صحرائے سینا میں تقریباً چالیس ہزار فوجیوں کو تعینات کیا ہے، جو 1979ء کے مصر،اسرائیل امن معاہدے کے تحت منظور شدہ بائیس ہزار سے تقریباً دوگنا ہے۔ مصر کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ سے باہر دھکیلتا ہے تو یہ فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر آمد کو روکنے کے لیے ایک دفاعی اقدام ہے۔
اسرائیل مصر کو قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے 35 ارب ڈالر کی ایک نئی اور بڑی ڈیل پر دستخط کر چکا ہے۔ یہ ڈیل قابض اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا برآمدی معاہدہ قرار دی جا رہی ہے۔ یہ گیس مشہور ’’لیویاتھان‘‘ فیلڈ سے حاصل کی جائے گی، جو بحیرہ روم کے پانیوں میں قابض اسرائیل کے ساحل کے قریب واقع ہے۔ اس فیلڈ میں قدرتی گیس کے ذخائر کا اندازہ تقریباً 600 ارب مکعب میٹر لگایا گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق اب اسرائیل 2040ء تک مصر کو 130 ارب مکعب میٹر گیس برآمد کرے گا، یا جب تک مکمل مقدار فراہم نہ ہو جائے
کیا انڈونیشیا کو امریکی بحریہ کے ایم آر او آپریشنز کی میزبانی کرنی چاہیے؟ |
اگست میں، انڈونیشیا کی سب سے بڑی میری ٹائم مینوفیکچرنگ کمپنی PT PAL، جو سرکاری ملکیب بھی ہے، نے نیویارک، کیلیفورنیا، جنوبی کیرولائنا، مغربی ورجینیا، نیواڈا اور واشنگٹن سے امریکی کانگریس کے عملے کے لیے ایک دورے کی میزبانی کی۔ ملاقات کا مقصد انڈونیشیا اور امریکہ کے درمیان بالخصوص بحری دفاع اور صنعتوں کے شعبے میں تعاون کے مواقع تلاش کرنا اور اسے مضبوط بنانا تھا۔ میٹنگ میں، PT PAL نے کہا کہ وہ ہند–بحرالکاہل کے علاقے میں کام کرنے والے امریکی بحریہ کے جہازوں کے لیے دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہال (MRO) کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ارسٹیو رزکا درماوان (Aristyo Rizka Darmawan) جو بین الاقوامی قانون کے لیکچرر اور آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں ، اس اہم پیشرفت کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’ اس منصوبے کے اہم جغرافیائی سیاسی مضمرات پر غور کرتے ہوئے، انڈونیشیا کو اس منصوبے کے ساتھ آگے بڑھنے سے پہلے تمام خطرات اور مواقع کا بہت احتیاط سے اندازہ لگانے کی ضرورت ہے۔ اگر انڈونیشیا امریکی بحریہ کو ایم آر او خدمات فراہم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو خطے میں بین الاقوامی مسلح تصادم کی صورت میں اس کے لیے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو جائے گا۔
دیکھ بھال، مرمت، اور اوور ہال (ایم آ ر او) کسی بھی بحریہ کے لیے ضروری آپریشنز ہیں۔ وہ بحری جہازوں کو بحال اور مرمت کرنے کے قابل بناتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ کام کرنے کی بہترین حالت میں ہوں۔ امن کے وقت میں بحری صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے ایم آر او اہم ہے، لیکن ظاہر ہے کہ مسلح تصادم کے دوران یہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
انڈو پیسیفک خطے میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے ساتھ، خاص طور پر آبنائے تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین جیسے گرم مقامات کی وجہ سے، امریکہ نے حال ہی میں اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے، جس میں بحریہ کے جہازوں کی ایک قابل ذکر تعداد کو تعینات کرنا بھی شامل ہے۔ اس مشن کے لیے موثر تعاون کو یقینی بنانے کے لیے، امریکہ کو اب خطے میں مزید ایم آر او خدمات کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں اس نے روایتی امریکی شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ امریکی فوجی اثاثوں کی دیکھ بھال کے لیے ایم آر او معاہدوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان میں جنوبی کوریا، جاپان، فلپائن اور آسٹریلیا شامل ہیں۔
لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ امریکہ ایم آر او معاہدوں کو خطے میں اپنے روایتی فوجی شراکت داروں اور اتحادیوں سے ہٹ کر غیر اتحادی ممالک جیسے انڈونیشیا تک بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انڈونیشیا کا سٹریٹیجک مقام، جس میں انتہائی اہم بین الاقوامی سمندری راستے جیسے ملاکا، لومبوک اور آبنائے سنڈا شامل ہیں، انڈو پیسیفک میں کام کرنے والی تمام بحری افواج کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ انڈونیشیا کے خطے میں اپنے ایم آر او پروجیکٹ کی توسیع کا حصہ بننے کا خواہش مند کیوں ہے۔
امریکہ کے ساتھ ٹیرف مذاکرات کے دوران، آئی ڈی این ٹائمز کا ایک مضمون لیک ہوا کہ بحری سکیورٹی تعاون میں اضافہ انڈونیشیا کی پیشکشوں میں سے ایک تھی جس میں ٹیرف میں 32 فیصد سے 19 فیصد تک کمی کی گئی تھی۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے حتمی بیان میں معاہدے کے حصے کے طور پر میری ٹائم سکیورٹی کا خاص طور پر ذکر نہیں کیا گیا، لیکن اگر امریکہ اور انڈونیشیا آنے والے برسوں میں اپنے میری ٹائم سکیورٹی تعاون میں اضافہ کرتے ہیں، تو ایم آر او منصوبہ شروع کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہوگا۔ انڈونیشیا کو اس سے کیا معاشی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں وہ اپنی جگہ ہے مگر کم از کم تین اہم خطرات بھی ہیں۔ پہلا، ایم آر او منصوبہ خطے میں امریکہ اور چین کی دشمنی کو تیز کر سکتا ہے۔ چین ہمیشہ سے خطے میں امریکی بحریہ کی موجودگی پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتا رہا ہے اور ایم ار او پیش کر کے انڈونیشیا خطے میں امریکی بحری موجودگی کی حمایت کرے گا۔ یہ انڈونیشیا چین تعلقات اور تعاون کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔ دوسرا، انڈونیشیا کو ایم آر او کے مقام کا فیصلہ کرتے وقت محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف رسائی کا تعین کرتا ہے بلکہ سیاسی پیغام بھی دیتا ہے۔ مثال کے طور پرامریکہ کی طرف سے فلپائن میں تعمیر کی گئی حالیہ مرمت کی فیسلٹی پلوان شہر میں تعمیر کی گئی تھی، جو براہ راست بحیرہ جنوبی چین کی طرف ہے۔ اگر بحیرہ جنوبی چین میں فوجی اضافہ ہوا تو یہ فیسیلٹی واضح طور پر تنازع میں ملوث امریکی اثاثوں کے لیے مددگار ثابت ہو گی۔ تیسرا، انڈونیشیا کے لیے ایم آر او آپریشنز کی تفصیل پر بات کرنا ضروری ہے۔ انڈونیشیا میں کس قسم کے فوجی جہاز ایم آ ر او سے گزریں گے۔ کیا ان میں جنگی جہاز، کروزر، تباہ کن، فریگیٹس اور کارویٹ شامل ہوں گے؟ یا کیا صرف غیر جنگی معاون جہاز ہی قبول کیا جائے گا؟ یہ بہت اہم ہے کیونکہ اگر چین اور امریکہ کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوتا ہے تو اس کے انڈونیشیا کی غیر جانبداری پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ پچاس کی دہائی سے انڈونیشیا نے ہمیشہ ’غیر جانبدار، آزاد اور فعال‘ خارجہ پالیسی پر زور دیا ہے، جو اسے کسی بھی ملک کے ساتھ کسی بھی فوجی اتحاد کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ دیکھنا مشکل ہے کہ ایم آر او کے انتظامات اس نقطہ نظر کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔ اگر امریکہ مسلح تصادم کے دوران انڈونیشیا کی ایم ار او خدمات استعمال کرنا چاہتا ہے تو انڈونیشیا کے لیے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنا اور تنازع میں نہ پھنسنا بہت مشکل ہوگا۔
انڈونیشیا میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کے خلاف پرتشدد مظاہرے |
انڈونیشیا میں حالیہ احتجاجی مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کی وجہ سے متعدد صوبوں میں پارلیمنٹ کی عمارتیں نذرِ آتش ہوئیں۔ یہ احتجاج اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے مجوزہ منصوبے کے خلاف شروع ہوئے۔ صدر پرابوو سوبیانتو کی جانب سے عوامی ردعمل کو کنٹرول کرنے کے لیے بیان بھی جاری کیا گیا مگر تب تک دیر ہوچکی تھی۔ حالات کشیدہ ہوگئے، اور نذرِ آتش ہونے والی عمارتوں میں کئی افراد جاں بحق ہوئے۔ بعدازاں، سیاسی جماعتیں اراکینِ پارلیمنٹ کی مراعات میں کٹوتی پر متفق ہوگئیں، اور صدر نے پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کیا۔ انڈونیشیا دنیا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے، لیکن اس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان آمدنی کا فرق نمایاں ہے، جو سماجی تناؤ کو بڑھاتا ہے۔ حالیہ احتجاج اس عدم مساوات کی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ پارلیمنٹ کی مراعات میں اضافے کو عوام نے اشرافیہ کی بے حسی کے طور پر دیکھا۔ حکمران طبقے کی تنخواہوں اور مراعات کے معاملے پر احتجاج اسی بداعتمادی کا نتیجہ ہیں، کیونکہ عوام سمجھتی ہے کہ وسائل کا غلط استعمال ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے بجائے اشرافیہ کے مفادات کے لیے ہو رہا ہے۔ کالم نگار تنویر قیصر انڈونیشیا کی اس صورتحال کا موازنہ پاکستان سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’پاکستان اور انڈونیشیا ، دونوں اسلامی ممالک کے عوام سنگین سماجی ، سیاسی اور معاشی مسائل و مصائب کے لحاظ سے ایک ہی کشتی میں سوار ہیں ۔فرق یہ ہے کہ انڈونیشیائی عوام کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا ہے اور وہ دیوانہ وار’اپنی‘ حکومت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہُوئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں ، جب کہ پاکستان کے عوام نے ابھی یہ راستہ اختیار نہیں کیا ہے ۔ اس عوامی صبر سے ہماری حکومت اور ہمارے ہمہ قسم کے حکمرانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عوام میں حکومت کے خلاف باہر نکلنے کی سکت ہے نہ ہمت۔‘‘
امریکہ ہمارے ساحلوں سے دور رہے:وینزویلا |
وینزویلا کے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے ساحلوں اور علاقوں سے دور رہے کیونکہ کیریبین میں امریکی بحریہ کی تعیناتی سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کارابوبو میں خطاب کرتے ہوئے روڈریگز نے امریکی حکومت پر بحیرہ کیریبین میں جنگی بحری جہاز بھیجنے پر معاندانہ اقدامات کا الزام عائد کیا۔انہوں نے واشنگٹن کو سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مسائل خود حل کریں اور وینزویلا کے ساحلوں اور علاقے سے دور رہیں۔ روڈریگز نے متنبہ کیا کہ اگر امریکہ نے ان کے ملک پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو وینزویلا ان کے لیے ’سب سے بڑا ڈراؤنا خواب‘ بن جائے گا۔ بعد ازاں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ کیریبین میں امریکی فوج کی تشکیل کا مقصد ان کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔ مادورو نے مزید کہا کہ وینزویلا امن کا خواہاں ہے لیکن اس کی فوج امریکی افواج کے کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ وہ فوجی دھمکی لگا کرحکومت کی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اگر وینزویلا پر حملہ کیا گیا، تو ہم فوری طور پر اپنے علاقے کے دفاع کے لیے مسلح جدوجہد کی طرف بڑھیں گے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ لاطینی امریکی منشیات کے کارٹلز سے نمٹنے کے لیے ایک آپریشن ہے، جس کی وجہ سے وینزویلا کے خلاف ممکنہ فوجی مداخلت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ وینزویلا کے رہنما نے ملک کی سرحدوں کے ساتھ فوجیوں کو تعینات کیا ہے اور ہزاروں شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قوم کے دفاع کے لیے مسلح ملیشیاؤں میں شامل ہوں۔ وینزویلا میں تقریباً ایک لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ یہ کل آبادی کا 0.4 فیصد بنتے ہیں۔ ان مسلمانوں میں سے زیادہ تر مسلمانوں کا تعلق شام لبنان فلسطین اور ترکی سے ہے۔
گیمبیا سے روانہ ہونے والی مہاجرین کی کشتی مغربی افریقہ کے ساحل کے قریب ڈوب گئی، 70 افراد جاں بحق |
گیمبیا کی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ واقعہ یورپ کی طرف جانے والے ایک مقبول نقل مکانی کے راستے پر حالیہ برسوں میں پیش آنے والے سب سے مہلک حادثات میں سے ایک ہے۔ کشتی گیمبیا سے روانہ ہوئی تھی اور اس پر زیادہ تر گیمبیا اور سینیگال کے تقریباً 150 شہری سوار تھے، جن میں سے 16 کو بچا لیا گیا ہے، موریطانیہ کے حکام نے بدھ اور جمعرات کو 70 لاشیں برآمد کیں، جب کہ عینی شاہدین کے مطابق 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ مغربی افریقہ کے ساحل سے کینری جزائر تک بحرِ اوقیانوس کا نقل مکانی کا راستہ دنیا کے سب سے مہلک راستوں میں شمار ہوتا ہے، جو عام طور پر افریقی مہاجرین اسپین پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یورپی یونین کے مطابق، گزشتہ سال 46 ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کینری جزائر پہنچے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کامیناندو فرونتیراس کے مطابق اس خطرناک سفر کے دوران 10 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جو 2023ء کے مقابلے میں 58 فیصد اضافہ ہے۔ گیمبیا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے خطرناک سفر پر نہ نکلیں، جو بے شمار جانیں نگل رہا ہے۔ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے قریب ہونے کی وجہ سے یونان طویل عرصے سے یورپ کی جانب خطرناک نقل مکانی کے راستوں کا مرکز رہا ہے، جہاں لوگ جنگ، ظلم و ستم اور غربت سے بچنے کے لیے نکلتے ہیں۔ گیمبیا ایک چھوٹا سا غریب مغربی افریقی ملک ہے جس کی آبادی 95 فیصد مسلمان ہے ۔
برطانیہ نے 1808ء سے 1965ء تک گیمبیا پر مکمل یا جزوی کنٹرول برقرار رکھا، جب تک کہ گیمبیا کو مکمل آزادی نہ مل گئی۔ برطانیہ نے گیمبیا پر قبضہ نوآبادیاتی عزائم کے تحت کیا تھا، جو 19ویں صدی میں یورپی طاقتوں کے افریقہ میں وسائل، تجارت، اور جغرافیائی بالادستی کے حصول کی دوڑ کا حصہ تھا۔ گیمبیا، اپنی جغرافیائی اہمیت اور گیمبیا دریا کے باعث، جو مغربی افریقہ میں تجارت کے لیے اہم راستہ تھا، برطانوی نوآبادیاتی ایجنڈے کے لیے پرکشش تھا۔ گیمبیا دریا مغربی افریقہ میں تجارت کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ تھی، جو برطانوی تاجروں کو اندرونی علاقوں تک رسائی فراہم کرتی تھی۔ گیمبیا مغربی افریقہ میں برطانوی نوآبادیاتی مفادات کے لیے ایک اسٹریٹجک علاقہ تھا۔ یہ علاقہ فرانس کے نوآبادیاتی دائرہ کار (خاص طور پر سینیگال) کے قریب تھا، اور برطانیہ اس خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتا تھا۔ گیمبیا کو بحری اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جو برطانوی بحریہ کے لیے اہم تھا۔ برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے گیمبیا کے وسائل، خاص طور پر مونگ پھلی اور دیگر زرعی مصنوعات، کو اپنی معیشت کے لیے استعمال کیا۔ مقامی کسانوں کو کم قیمتوں پر اپنی فصلیں فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا، جس سے مقامی معیشت کمزور ہوئی۔
ٹیکسوں کا سخت نظام نافذ کیا گیا، جو مقامی آبادی پر بوجھ تھا اور اکثر انہیں غربت کی طرف دھکیلتا تھا۔ برطانوی نوآبادیاتی حکام نے مقامی اسلامی اور روایتی ثقافتوں کو دبانے کی کوشش کی۔ اسلامی مدرسوں اور دینی تعلیم پر پابندیاں عائد کی گئیں، اور عیسائی مشنریوں کو فروغ دیا گیا، جس سے مقامی مسلم آبادی میں بے چینی پھیلی۔ مقامی روایات اور رسومات کو کمتر سمجھا جاتا تھا، اور نوآبادیاتی نظام نے مغربی طرزِ تعلیم اور ثقافت کو مسلط کرنے کی کوشش کی۔ برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے مقامی افراد کو فوجی خدمت اور جبری مشقت کے لیے بھرتی کیا، خاص طور پر تعمیراتی منصوبوں اور نوآبادیاتی انتظامیہ کے دیگر کاموں کے لیے۔ غلاموں کی تجارت کے خاتمے کے بعد بھی، کچھ غیر رسمی جبری مشقت کے نظام جاری رہے، جن میں مقامی افراد کو کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ مقامی قبائل اور مسلم رہنماؤں کے نوآبادیاتی قبضے کے خلاف مزاحمت کو سختی سے دبایا گیا۔ اگرچہ گیمبیا میں بڑے پیمانے پر مسلح بغاوتیں کم تھیں، لیکن چھوٹے پیمانے پر مزاحمتی تحریکوں کو فوجی طاقت کے ذریعے کچل دیا جاتا تھا۔ مقامی رہنماؤں کو گرفتار کیا جاتا تھا یا جلاوطن کر دیا جاتا تھا، اور ان کے اختیارات کو کمزور کرنے کے لیے نوآبادیاتی نظام کے تحت نئے مقامی عہدیدار مقرر کیے جاتے تھے۔
نوآبادیاتی دور میں گیمبیا کی معاشی ترقی کو نظر انداز کیا گیا۔ بنیادی ڈھانچے (جیسے سڑکیں، اسکول، اور ہسپتال) کی ترقی بنیادی طور پر نوآبادیاتی انتظامیہ کے مفادات کے لیے کی گئی، نہ کہ مقامی آبادی کی فلاح کے لیے۔ – مقامی لوگوں کو نوآبادیاتی انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں سے محروم رکھا گیا، جس سے ان کی سماجی ترقی محدود ہوئی۔ برطانوی نوآبادیاتی دور نے گیمبیا کی معاشی، سماجی، اور ثقافتی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا۔ نوآبادیاتی استحصال، معاشی لوٹ کھسوٹ، اور ثقافتی دباؤ نے مقامی آبادی پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔ گیمبیا کو 1965ء میں برطانیہ سے آزادی ملی، لیکن نوآبادیاتی دور کے اثرات، جیسے کہ معاشی کمزوری اور سماجی ناہمواری، طویل عرصے تک ملک پر اثر انداز ہوتے رہے۔
نوجوان کی خودکشی پر ’اوپن اے آئی‘ کے خلاف مقدمہ اور عرب ممالک کی جانب سے اے آئی سیکٹر میں کثیر سرمایہ کاری
|
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک جوڑے نے اپنے نو عمر بیٹے کو خودکشی کی ترغیب دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ 16 برس کے ایڈم رائن کے والدین میٹ اور ماریا رائن نے کیلیفورنیا کی عدالت میں یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ ’اوپن اے آئی‘ کے خلاف اس نوعیت کی پہلی قانونی کارروائی ہے جس میں اسے کسی شخص کو خودکشی کی ترغیب دینے کے الزام کا سامنا ہے۔ مقدمے کے اندراج کے لیے رائن خاندان نے ایڈم اور چیٹ جی پی ٹی کے درمیان چیٹ لاگز بھی بطور ثبوت پیش کیے ہیں جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’اوپن اے آئی‘ نے ایڈم کے خودکشی کے خیالات کی حوصلہ افزائی کی۔ مقدمے کے مطابق ایڈم نے ستمبر 2024ء میں چیٹ جی پی ٹی کو ہوم ورک میں مدد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ وہ اسے موسیقی اور جاپانی کامکس سمیت اپنی دلچسپیوں کو تلاش کرنے اور یونیورسٹی میں کیا پڑھنا ہے اس بارے میں رہنمائی کے لیے بھی استعمال کر رہا تھا۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ چند ماہ میں چیٹ جی پی ٹی رائن ایڈم کا بااعتماد ساتھی بن گیا اور اس نے اپنی پریشانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے بھی اس سے سوالات کرنا شروع کیے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ جنوری 2025ء سے برائن نے چیٹ جی پی ٹی سے خودکشی کے طریقوں پر بات چیت شروع کی۔ مقدمے کے مطابق چیٹ لاگز کے اختتام پر یہ پتا چلتا ہے کہ برائن نے اپنی زندگی ختم کرنے کے منصوبے کے بارے میں لکھا تھا۔ جیفری ہنٹن، جو کہ اے آئی کی ایک اہم شخصیت اور نوبل انعام یافتہ ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ ہم جلد ہی یہ سمجھنے کی صلاحیت کھو دیں گے کہ مشینیں کیا سوچ رہی ہیں۔ ون ڈیسیئن پوڈ کاسٹ کے ایک حالیہ ایپی سوڈ میں، ہنٹن نے تشویش کا اظہار کیا کہ چیٹ بوٹس اور دیگر جدید AI سسٹمز ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اندرونی زبانیں تیار کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ مجھے حیرانی نہیں ہوگی اگر انہوں نے سوچنے کے لیے اپنی زبان تیار کی، اور ہمیں کوئی اندازہ نہیں کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں، ابھی کے لیے، زیادہ تر بڑے زبان کے ماڈل انگریزی میں کام کرتے ہیں، جس سے ڈویلپرز کے لیے اپنی منطق کا پتہ لگانا ممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اے آئی اس سے آگے بڑھتا ہے تو ہم مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔ ہنٹن کا خیال ہے کہ ہم ایک ایسے لمحے کے قریب ہیں جہاں مصنوعی ذہانت ایسے طریقوں سے سوچ سکتی ہے جسے کوئی بھی انسان ٹریک یا سمجھ نہیں سکتا۔ ہنٹن نے گوگل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کام کیا۔ 2023ء میں، اس نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا، عمر یا کام کے بوجھ کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے تاکہ وہ آزادانہ بات کر سکیں۔
سعودی عرب اے آئی سیکٹر میں میں اربوں ڈالر مالیت کے منصوبے پر کام کررہا ہے۔ تیل کی کم قیمتوں اور نیوم سٹی جیسے میگا پراجیکٹس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرتے ہوئے، سعودی ریاست امید کر رہی ہے کہ ڈیٹا اور کمپیوٹنگ سہولیات کی بڑھتی ہوئی مانگ آنے والی دہائیوں میں ایک قابل اعتماد آمدن اور تیل کی آمدن کے متبادل کے طور پر بھی کام کرے گی۔ طارق امین، جو سعودی اے آئی کمپنی ہیومین کے سی ای او ہیں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہماری خواہش بہت واضح ہے۔ ہم امریکہ اور چین کے بعد دنیا میں AI فراہم کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک بننا چاہتے ہیں۔ یہ پروجیکٹ اس سال مئی میں اس وقت شروع کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ Humain کا مقصد ڈیٹا سینٹرز، انفراسٹرکچر، کلاؤڈ پلیٹ فارمز وغیرہ کو فراہم کرنا ہے، جس سے انہیں امید ہے کہ سعودی عرب کو خطے کے AI مرکز کے طور پر جگہ ملے گی۔ لیکن سوال بہرحال موجود ہے کہ یہ امیدیں پوری ہو پائیں گی؟ سعودی عرب کو ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات سے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے، جو ابوظہبی میں اسٹار گیٹ کیمپس سمیت متعدد منصوبوں پر امریکی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ اپنی بڑی شراکت داری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ Stargate پروجیکٹ نجی شعبے کی AI پر مرکوز پانچ سو بلین ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری ہے، جس کا اعلان OpenAI نے جنوری میں ابوظہبی کی سرمایہ کاری فرم MGX اور جاپان کے SoftBank کے اشتراک سے کیا تھا، اور اسے Oracle، Nvidia اور Cisco Systems کی مدد سے بنایا جائے گا۔
برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ ہراسگی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ |
برطانیہ بھر میں مسلمان حملوں کی زد میں ہیں۔ مسلم خاندانوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کہیں نقاب اور حجاب میں خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے اور بچوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ مساجد میں توڑ پھوڑ اور نمازیوں پر چھریوں سے حملے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ’بے ترتیب‘ نہیں ہے۔ یہ نفرت کا ایک نمونہ ہے جو سیاست دانوں اور میڈیا نے بدتر بنا دیا ہے، جو جھوٹ پھیلاتے ہیں اور انتہائی دائیں بازو کو اپنی خطرناک بیان بازی سے اکساتے ہیں اور وہ اس ماحول کو بنانے میں مدد کر رہے ہیں جہاں یہ نفرت انگیز تشدد پروان چڑھ رہا ہے۔ مبصرین کے نزدیک ان واقعات کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سیاسی بیانات، میڈیا کی رپورٹنگ، اور سماجی تناؤ شامل ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 12 ماہ میں برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف 816 نفرت انگیز واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی عکاسی کرتے ہیں۔
خاص طور پر 14 سے 45 سال کی مسلم خواتین کو اسلامی لباس (جیسے حجاب) پہننے کی وجہ سے زیادہ نشانہ بنایا گیا، اور حملہ آور زیادہ تر 15 سے 35 سال کے انگریز مرد تھے۔ 29 جولائی 2024ء کو ساؤتھ پورٹ میں ایک ڈانس ورکشاپ پر چاقو کے حملے میں تین لڑکیوں کی ہلاکت کے بعد، غلط معلومات پھیلائی گئیں کہ حملہ آور ایک مسلمان تھا۔ اس افواہ نے انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کو نسل پرستانہ مظاہروں اور تشدد کے لیے اکسایا، جس سے ملک بھر میں انتشار پھیلا۔ ان فسادات نے مسلم کمیونٹیز میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا، اور بہت سے لوگوں نے اپنے معمولات منسوخ کر دیے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے جنوری میں برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے خلاف نسل پرستانہ اور اسلاموفوبیا پر مبنی سیاسی اور میڈیا بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چند افراد کے اقدامات کو 17 لاکھ برطانوی پاکستانیوں سے جوڑنا غلط ہے۔ مساجد کے باہر چاقو کے ساتھ مشکوک افراد کی موجودگی، مسلم دکانوں اور مساجد پر نسل پرستانہ گرافیٹی، اور ہوٹلوں میں پناہ گزینوں کے خلاف حملوں کی کوششیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ ایک واقعے میں باسلڈن میں ایک مسلم خاتون اور اس کے بچے کو دکانوں پر انگلینڈ کے جھنڈوں کی پینٹنگ کے دوران نسل پرستانہ گالیاں دی گئیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک مسلم سکول ٹیچر کو پبلک ٹرانسپورٹ پر تعصب کا نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک خاتون نے انہیں کہا کہ وہ ٹیچر نہیں ہونی چاہیے اور ان کے طالب علموں کو برا بھلا کہا۔ اسی طرح، مسلم خواتین کے حجاب کھینچنے اور ’’واپس اپنے ملک جاؤ‘‘ جیسے جملے بھی عام ہوچکے ہیں۔
روہنگیا پناہ گزینوں کی بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان میں مشکلات |
بنگلہ دیش کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں تقریباً آٹھ ہزار روہنگیا مسلمان تشدد سے بچنے کے لیے برما کے راخائن ریاست سے بھاگ کر بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔ برما کی حکمران فوجی جنتا اور بدھ اکثریتی افراد پر مشتمل ایک طاقت ور نسلی ملیشیا اراکین آرمی کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ ہی ملک میں حالات مزید بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ بنگلہ دیش حکومت میں پناہ گزینوں کے امور کے دفتر کے ایک سینئر اہل کار محمد شمس الدجیٰ نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ بنگلہ دیش پر پہلے ہی بہت زیادہ بوجھ ہے اور اس قابل نہیں ہے کہ مزید روہنگیا کو جگہ دے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ محمد توحید حسین نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر کابینہ میں سنجیدہ بحث کرے گی اور اگلے دو سے تین دن کے اندر اس بحران کو حل کرلے گی۔ روہنگیا کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے، حسین نے کہا کہ اضافی پناہ گزینوں کے لیے انسانی بنیادوں پر پناہ گاہ فراہم کرنے کی اب ملک میں صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید دراندازی روکنے کی کوشش کی جائے گی لیکن سرحد کو مکمل طور پر سیل کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایک ملین سے زیادہ روہنگیا اس وقت جنوبی بنگلہ دیش میں انتہائی گنجان آباد کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں ۔ انہیں اپنے وطن واپسی کی امید بہت کم رہ گئی ہے، جہاں انہیں شہریت اور بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔
یواین ایچ سی آر کے ترجمان بابر بلوچ نے بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد روہنگیا بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔ تاہم، امدادی وسائل کی شدید کمی کی وجہ سے خوراک، طبی خدمات، اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔ ستمبر 2025ء تک طبی خدمات اور ایندھن کی فراہمی بند ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ دسمبر تک خوراک کی امداد ختم ہو سکتی ہے، جس سے دو لاکھ تیس ہزار بچوں کی تعلیم بھی خطرے میں ہے۔ دوسری جانب بھارت سے بھی روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ سخت سلوک اور ملک بدری کی پالیسیوں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ بھارت میں یہ روہنگیا پناہ گزین اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت ریاستیں انہیں ’’غیر قانونی تارکین وطن‘‘ قرار دے کر ملک بدر کر رہی ہیں۔
آسام کے گول پارہ میں ایک 37 سالہ روہنگیا خاتون نے بتایا کہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (BSF) نے اس کے خاندان کو بندوق کی نوک پر بنگلہ دیش جانے پر مجبور کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ دہلی پولیس نے 40 روہنگیا پناہ گزینوں کو حراست میں لے کر انڈمان و نکوبار جزائر بھیجا، جہاں انہیں بحریہ کے جہازوں پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے کہا کہ بھارت کی یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، کیونکہ روہنگیا میانمار میں ظلم و ستم سے بھاگ کر آئے ہیں۔ ان کے پیسے، فون، اور UNHCR کارڈز ضبط کیے گئے، جو ان کی مشکلات کو مزید بڑھاتا ہے۔
مختلف پاکستانی حکومتی ذرائع اور اراکان ہسٹوریکل سوسائٹی کے مطابق پاکستان میں تقریباً دو لاکھ روہنگیا مہاجرین مقیم ہیں۔ ان سب نے بنگلہ دیش اور بھارت کا خطرناک سفر کیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ انسانی اسمگلنگ سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے غیر دستاویزی تارکین وطن میں برمی باشندوں کی تعداد چودہ فیصد ہے۔ حالیہ برسوں میں، روزگار کی تلاش میں برمی خواتین کی بڑی تعداد ملک میں داخل ہوئی ہے۔ مختلف ذرائع نے ان خواتین کی تعداد ہزاروں میں بتائی ہے۔ پاکستان میں روہنگیا آبادی کو شہریت اور مناسب شناختی دستاویزات نہ ملنے کی وجہ سے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی سہولتوں تک محدود رسائی ہوتی ہے۔ 2018ء میں امید کی کرن نظر آئی جب سابق وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ روہنگیا کو شناختی کارڈ دیے جائیں گے البتہ اس اعلان پر عمل درآمد تاحال ایک چیلنج ہے۔
بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی مسلمانوں کے خلاف مہم میں تیزی |
اتر پردیش سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق بہت سے مسلمانوں کو مقامی انتہاپسند ہندووں کے احتجاج کے سبب، قانونی طور پر خریدی گئی جائیدادوں کو خالی کرنے یا فروخت کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ مظفر نگر اور بریلی میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، جہاں مسلم خریداروں کو قانونی ملکیت کے باوجود زبردستی نکال دیا گیا تھا۔ ایک سیاسی کارکن اور عوامی ہند پارٹی کے صدر راؤ ندیم نے کہا کہ انہیں ایک ہندو فروخت کنندہ سے مکان خریدنے کے بعد دائیں بازو کے ہندو گروپوں نے نشانہ بنایا۔ مخالفین نے تعمیراتی ورکرز پر حملہ بھی کیا، آخر کار انہیں نقصان میں جائیداد بیچنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بریلی میں، ایک مسلمان خاتون جنہوں نے ایک ہندو خاندان سے اپارٹمنٹ خریدا تھا، پر ’لینڈ جہاد‘ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا اور وہ اب تک اپنے گھر میں جانے سے قاصر ہے۔ یہاں تک کہ لکھنؤ میں، بین المذاہب بقائے باہمی کے لیے سماج وادی پارٹی کے قومی ترجمان سمیت کئی خاندانوں کو مکانات کی تلاش کے دوران بار بار مسترد ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔ قانونی ماہرین اس رجحان کو نظامی امتیاز کی ایک شکل کے طور پر بیان کرتے ہیں جیسے یہودی بستیوں کو اسرائیل میں فروغ دیا جارہا ہے وہی طریقہ کار یہاں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اپنایا جارہا ہے۔ جولائی 2025ء میں ہریانہ کے ایک علاقے میں مسلم خاندانوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جہاں ہندو انتہاپسند گروہوں نے مبینہ طور پر گھروں کو نذر آتش کیا۔ اہم مذہبی تقریبات کے دوران ہندو انتہاپسند لیڈروں کی جانب سے نفرت انگیز تقاریر کا سلسلہ بھی تسلسل سے جاری ہے۔ بی جے پی اور ان سے منسلک دیگر انتہاپسند تنظیمیں ضلعی سطح پر جس قسم کے بھی اجتماعات کا انعقاد کرتی ہیں وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی۔ جو اکثر تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ کہیں مسلمانوں پر لو جہاد کا الزام لگایا جاتا ہے تو کہیں ہندووں کو ترغیب دی جاتی یے کہ وہ مسلمان لڑکیوں کو ورغلا کر شادیاں کریں اور ان کا مذہب تبدیل کروائیں ۔ کہیں انہیں اکسایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان خواتین کی آبروریزی کریں۔ ہندو قوم پرست کارکن، جیسے کہ راکیش تومر، نے ’لو جہاد‘ اور ’ٹریڈ جہاد‘ جیسے سازشی نظریات کو فروغ دیا ہے، جن کا مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ یہ بیانات آن لائن بڑے پیمانے پر پھیلائے جاتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی صورتحال حالیہ برسوں میں تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ ہندو قوم پرستی کا عروج اور حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، 2014ء سے بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسلم گھروں کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے مسمار کیا گیا، جس سے 8 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ اس کے علاوہ، اٹھارہ ہزار سے زائد افراد کو معمولی جرائم یا بلا کسی جرم کے مختلف الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ ہندو قوم پرست گروہوں نے مسلم کاروباروں کے معاشی بائیکاٹ کی مہمات چلائی ہیں۔ مثال کے طور پر، اتراکھنڈ میں ہندو دکانداروں کو اپنی دکانوں پر نام کے بورڈ لگانے کی ترغیب دی گئی تاکہ ہندو صارفین صرف ان سے خریداری کریں۔
بی جے پی کی جانب سے یکساں سول کوڈ کے نفاذ اور رام مندر کی تعمیر جیسے اقدامات نے مسلم برادری میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کی ہے۔ بھارت میں ہندو قوم پرستی کے عروج نے، جو بی جے پی اور آر ایس ایس جیسے گروہوں کی سرپرستی میں فروغ پا رہی ہے، مسلم اقلیت کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ تشدد، نفرت انگیز تقاریر، اور امتیازی پالیسیوں نے مل کر مسلم برادری کے بنیادی حقوق، جیسے کہ زندگی، آزادی، اور معاشی مواقع کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ بھارتی آئین سیکولر ہے، لیکن عملی طور پر ریاست کا کردار ایک فاشسٹ متعصب ہندو ریاست کی طرز کا ہے۔
پاک چین 8.5 ارب ڈالر کے معاہدے |
پاکستان اور چین نے زراعت برقی گاڑیوں، شمسی توانائی، صحت، کیمیکل وپیٹرو کیمیکلز، آئرن اورا سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے 8ارب 50کروڑ ڈالر مالیت کے21 مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام سرخ فیتے ختم کریں گے، چین اور پاکستان کے مشترکہ شراکت داروں کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدوں کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر ہے، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے جن کی مالیت سات ارب ڈالر ہے۔ یوں مجموعی طور پر دستخط ہونے والے مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی مالیت 8 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
معیشیت کی معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے شخص کے ذہن میں یہ سوال ضرور آئے گا کہ ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کے معاہدوں میں کتنے ارب ڈالر کی مصنوعات چین پاکستان سے خریدے گا ؟ اور پاکستان چین سے کتنے ارب ڈالر کی مصنوعات خریدے گا ؟ گزشتہ چند دہائیوں کے پاک چین تجارتی اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی چین کو ہونے والی ایکسپورٹ کا موازنہ اگر چین سے کی جانے والی امپورٹس سے کیا جائے تو اس میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ یعنی یہ صاف اور واضح خسارہ ہے جس کا نتیجہ ایک طرف تو روپے کی گرتی قیمت کی صورت میں نکلتا ہے تو دوسری جانب چین اپنی مصنوعات کا سیلاب لاکر مقامی انڈسٹری کی تباہی کا بھی سبب بنا ہے۔ اور اگر مذکورہ بالا ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کے معاہدوں کا بڑا حصہ پاکستان میں سرمایہ کاری ہے تب بھی سوال موجود رہے گا کہ کیا یہ قرضوں کی شکل میں ہیں اور کیا پاکستان کو بھاری سود کے ساتھ واپس کرنے ہوں گے؟ پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کمال ڈھٹائی کے ساتھ کہا کہ ’’چینی سرمایہ کاری سے 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور 2018ء میں پاکستان توانائی کی ضروریات میں خود انحصار ہو گیا‘‘۔ بجلی کی اس نام نہاد خودانحصاری سے تو پاکستانی قوم کا بچہ بچہ واقف ہے ۔ بجلی کے بلوں سے تنگ افراد کی جانب سے خودکشی کے واقعات کی تعداد بھی کم نہیں ۔ کیا دنیا کا کوئی ایسا ملک ہے جہاں بجلی کے بل لوگوں کو خودکشیوں پر مجبور کریں؟ پاکستان کی صنعتوں کی تباہی کی ایک بڑی وجہ بجلی و گیس کی کمی اور بڑھتی قیمتیں ہی ہیں۔
٭٭٭٭٭
