تعارف
واٹس ایپ، دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ ایپ ہے، جس کے ۱۸۰ ممالک میں ۳ ارب سے زیادہ یوزرز ہیں۔1WhatsApp now has more than 3 billion users a month – Tech Crunch (May 1, 2025)
واٹس ایپ کو یاہو (Yahoo) کمپنی کے د و سابق ملازمین جان کوم (Jan Koum) اور برائن ایکٹن (Brian Acton) نے متعارف کروایا۔ جبکہ ۲۰۱۴ء میں فیس بک نے اس پلیٹ فارم کو ۱۹ ارب ڈالر کے بدلے ان سے خرید لیا۔ 2Exclusive: The Rags-To-Riches Tale of how Jan Koum built WhatsApp into Facebook’s new $19 billion baby – Forbes (February 19, 2014)
واٹس ایپ اپنے یوزرز کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن (E2EE) کو اپنی نمایاں خصوصیت قرار دیتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کا دعویٰ ہے کہ اس پر بھیجے جانے والے پیغامات، کالز، تصاویر اور ویڈیوز اس حد تک محفوظ ہیں کہ صرف بھیجنے والا (sender) اور وصول کرنے والا (receiver) ہی ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، کوئی تیسرا فریق حتیٰ کہ واٹس ایپ بھی ان تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔
لیکن حقیقت اس دعوے سے قدرے مختلف ہے ۔ واٹس ایپ وسیع پیمانے پر میٹا ڈیٹا جمع کرتا ہے، معلومات اپنی پیرنٹ کمپنی ’میٹا‘ اور اس کے ذریعے دیگر کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ شیئر کرتا ہے اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کرتا ہے، علاوہ ازیں اس میں کئی سکیورٹی خامیاں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ یہی چیزیں اس کے دعووں اور حقیقت کے درمیان واضح تضاد کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس تحریر میں ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ واٹس ایپ نہ تو اپنے یوزرز کی پرائیویسی کا صحیح معنوں میں خیال رکھتا ہے اور نہ ہی وہ ایسی سکیورٹی فراہم کرتا ہے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔
یوزرز کا میٹا ڈیٹا جمع کرنا (Metadata Collection)
واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن (E2EE) صرف پیغامات کا مواد انکرپٹ کرتا ہے، لیکن اس کا اطلاق اس وسیع میٹا ڈیٹا پر نہیں ہوتا جو یہ پلیٹ فارم مسلسل جمع اور محفوظ کرتا رہتا ہے۔ مثلاً آپ کس سے رابطہ کر رہے ہیں، اس کا فون نمبر کیا ہے، اس سے کتنی دفعہ رابطہ کیا، ہر دفعہ کتنی دیر رابطہ کیا، کتنے وقفے سے آپ اس سے رابطہ کرتے ہیں، کس تاریخ اور کس وقت آپ نے کس سے رابطہ کیا۔ آپ جو ڈیوائس استعمال کر رہے ہیں اس کی تفصیلات، مثلاً اس کا آپریٹنگ سسٹم کون سا ہے، ورژن کیا ہے، بیٹری لیول کتنا ہے، ڈیوائس میں آپ کتنی زبانیں استعمال کرتے ہیں، آپ کس آئی پی (IP) سے رابطہ کرتے ہیں ، آپ کی موجودہ لوکیشن کیا ہے وغیرہ۔
یہ سب معلومات مل کر یوزرز کی سوشل سرگرمیوں اور ڈیوائس کے استعمال کے متعلق ایک تفصیلی اور مکمل تصویر کشی کرتی ہیں جو واٹس ایپ، اس کے ذریعے سے میٹا کمپنی (سابقہ فیس بک) کے پاس محفوظ ہوتی ہیں، میٹا اشتہارات کے لیے یہ معلومات اشتہارات کی کمپنیوں کو فراہم کرتی ہے، اور کسی یوزر کے حوالے سے مطالبے پر اس کی یہ ساری معلومات حکومتوں کے ساتھ بھی شیئر کرتی ہے۔
اگر واٹس ایپ کا یہ دعویٰ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس کے میسجز واقعی اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوتے ہیں اور خود واٹس ایپ بھی اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا پھر بھی میٹا ڈیٹا کے ذریعے سے ہی اس قدر معلومات جمع ہوجاتی ہیں کہ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق اس سے یوزرز کی زندگی کی بہت سی نجی تفصیلات سامنے آ جاتی ہیں، مثلاً اس کا سوشل سرکل کیا ہےاور وہ کن لوگوں سے کتنا قریبی تعلق رکھتا ہے، اس کی عادات ، اس کی سفر کی روٹین، اور اس کے رویوں کا خاکہ، اور یہ سب کچھ اصل میسجز پڑھے بغیر حاصل ہو رہا ہوتا ہے،اور یہ سارا ڈیٹا مطالبےپر سکیورٹی اداروں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے جس سے وہ پیغامات پر رسائی حاصل کیے بغیر بھی آسانی سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کس نے کس سے رابطہ کیا، کب کیا اور کتنی دیر کیا وغیرہ جو سکیورٹی اداروں کے لیے کسی فرد کی بہت باریک بینی سے نگرانی کو ممکن بنا دیتا ہے۔3How WhatsApp’s metadata collection puts your privacy at risk – Ultimate Systems Blog (October 24, 2024)
میٹا ڈیٹا کلیکشن کا یہ معاملہ واٹس ایپ کے ’’ویو ونس‘‘ (View Once) فیچر کے ساتھ بھی منسلک ہے، جو کہ واٹس ایپ میں ڈس اپئیرنگ (disappearing) تصاویر، ویڈیوز کا ایک فیچر ہے۔ اگرچہ اس فیچر کے ذریعے بھیجا گیا مواد ایک دفعہ دیکھے جانے کے بعد خود بخود ڈیلیٹ ہو جاتا ہے، لیکن اس سے منسلک میٹا ڈیٹا ڈیلیٹ نہیں ہوتا بلکہ اس کا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے کہ کس وقت آپ نے اپنے کس رابطے کو یا کسی رابطے نے آپ کو ’ویو ونس‘ پیغام بھیجا اور وہ تصویر تھی یا ویڈیو۔ اور یہ معلومات یوزرز کے پیغامات بھیجنے کے طریقہ کار اور جحان کو جانچنے کے لیے سکیورٹی اداروں کے لیےبہت مفید ہوتی ہیں۔4 Meta’s Data: Meta’s WhatsApp Fix for View Once and its Impact on Metadata by Tal Be’ery – Medium (December 9, 2024)
یہ ساری معلومات تو براہ راست میسجنگ سے متعلقہ ہیں لیکن واٹس ایپ صرف اسی حوالے سے میٹا ڈیٹا جمع نہیں کرتا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے وہ آپ کی ڈیوائس کی تفصیلات بھی جمع کر رہا ہوتا ہے۔ مثلاً آپ کی بیٹری کتنی چارج ہے، کتنے چارج پر استعمال کرتے ہیں، کب کب چارج کرتے ہیں، آپ کے آپریٹنگ سسٹم کی اپ ڈیٹ کی کیا صورتحال ہے، آپ جو کی بورڈ استعمال کر رہے ہیں اس میں آپ کتنی زبانیں ڈال رکھی ہیں وغیرہ۔ یہ ایسی معلومات ہیں جنہیں یوزرز اپنے میسجنگ سے غیر متعلقہ تصور کرتے ہیں لیکن واٹس ایپ یہ ساری معلومات جمع کرتا ہے اور ان کے ذریعے یوزر کے رویے، عادات اور معمولات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس طرح یوزر کی پروفائلنگ کی جا سکتی ہے جو کہ اشتہاری کمپنیوں اور سکیورٹی اداروں دونوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں۔5Uncovering WhatsApp’s Metadata Practices: What You Need to Know About Your Privacy – NewsPoint (June 3, 2025)MoreMo
حکومتوں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون
واٹس ایپ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن (E2EE) کے سبب وہ پیغامات کا مواد سکیورٹی اداروں کو فراہم نہیں کر سکتا، لیکن وہ حکومتوں اور سکیورٹی اداروں کو میٹا ڈیٹا اور یوزرز کی دیگر معلومات فراہم کر کے ان کے ساتھ کھلے عام تعاون کر رہا ہے۔ یہ تعاون یوزرز کی اہم معلومات کا استحصال ہے جسے واٹس ایپ کے مکمل طور پر پرائیوٹ پلیٹ فارم ہونے کی نفی ہوتی ہے۔
اس کی ایک نمایاں مثال اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کی نگرانی کے لیے واٹس ایپ کے استعمال کی ہے۔ دی انٹرسیپٹ (The Intercept) نے ۲۰۲۴ء میں ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ اسرائیلی داخلی سلامتی کے اداروں نے واٹس ایپ کے میٹا ڈیٹا کا سہارا لے کر فلسطینی کارکنوں اور احتجاجی منتظمین کو ٹریک کیا، رابطوں کے نیٹ ورکس تیار کیے اور اہم شخصیات کی نشاندہی کر لی۔ اس کے علاوہ اسرائیل کسی فلسطینی کے بارے میں تعین کرنے میں کہ وہ دہشت گرد ہے یا نہیں، واٹس ایپ کے میٹا ڈیٹا سے بھی مدد لیتا ہے جس سے وہ معلوم کرتا ہے کہ یہ شخص کس کو کال کرتا ہے، کس کو میسج کرتا ہے اور کون سے واٹس ایپ گروپس میں شامل ہے۔6The undisclosed Whatsapp vulnerability lets governments see who you message – The Intercept (May 22, 2024)
مزید برآں، میٹا کی داخلی سکیورٹی ٹیمیں پوری دنیا کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہتی ہیں اور مطالبے پر میٹا ڈیٹا اور یوزرز کی دیگر معلومات انہیں فراہم کرتی ہیں۔ اس کی وجہ سے پوری دنیا کی حکومتوں کو بے شمار معلومات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے جسے وہ بڑے پیمانے پر اپنے شہریوں کی نگرانی (surveillance) کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں اور کسی خاص شخص کے حوالے سے تحقیقات کے لیے بھی۔ یہ سارے حقائق واٹس ایپ کی مارکیٹنگ امیج سے بالکل برعکس ہیں جس میں واٹس ایپ کو ایک ’سکیور‘ اور ’پرائیوٹ‘ رابطے کا ذریعہ دکھایا جاتا ہے۔7How Facebook undermines privacy protections for its 2 billion WhatsApp users – ProPublica (September 7, 2021)
انکرپشن میں ممکنہ بیک ڈورز
واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن (E2EE) سگنل پروٹوکول (Signal Protocol) پر مبنی ہے، جو اپنی مضبوط سکیورٹی کے باعث قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ جہاں سگنل کا پورا کوڈ اوپن سورس (Open Source) ہے اور اسے کوئی بھی ’آڈٹ‘ (Audit) کر سکتا ہے، واٹس ایپ میں اس کا نفاذ (Implementation) مکمل طور پر پروپرائیٹری (Proprietary) اور کلوزڈ سورس (Closed Source) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوزرز اور آزاد ماہرین یہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ واٹس ایپ میں میٹا نے کوئی خفیہ راستے (Backdoors) شامل کیے ہیں یا نہیں جن کے مدد سے میٹا پیغامات کو ڈی کرپٹ کر سکتا ہو۔
سکیورٹی محققین کا کہنا ہے کہ کلوزڈ سورس (Closed Source) سافٹ وئیر ہمیشہ کمپنی کے دعووں پر اندھا اعتماد کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ سگنل کے برعکس جہاں کوڈ میں آنے والی ہر تبدیلی پبلک آڈٹ (Public Audit) سے گزرتی ہے، واٹس ایپ کے یوزرز کو، کسی قسم کی شفافیت کے بغیر، محض میٹا کی یقین دہانیوں پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومتی دباؤ کے تحت بیک ڈورز شامل کیے جانے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، بالخصوص اس لیے بھی کہ میٹا پہلے ہی حکام کے ساتھ بڑے پیمانے پر تعاون کر رہی ہے۔
اگرچہ واٹس ایپ میں بیک ڈورز کے دعوے ابھی تک قیاس آرائیوں پر ہی مبنی ہیں، لیکن میٹا کے پرائیویسی سکینڈلز کی تاریخ اور حکومتوں کی جانب سے نگرانی (Surveillance) کے مطالبات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں۔ چاہے میٹا ان دعووں کی تردید کرتا ہے لیکن واٹس ایپ کے کوڈ کے کلوزڈ سورس (Closed Source) ہونے کا مطلب ہے کہ اگر واقعی بیک ڈورز موجود ہیں تو وہ ہمیشہ چھپے ہی رہیں گے۔8Can governments intercept end-to-end encrypted Whatsapp communication through lawful interception? – Information Security, Stack Exchange (May 1, 2016)
ہیکنگ اور وائرسز کے خطرات
واٹس ایپ کو متعدد سکیورٹی کمزوریوں کا ہمیشہ سامنا رہا ہے۔ جن کی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
- فروری ۲۰۱۵ء میں واٹس ایپ کے ویب کلائنٹ کی ایک کمزوری کے نیتجے میں ہیکرز یوزرز کی چیٹ ہسٹری چوری کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب تک اس مسئلے کا حل کیا گیا، اس وقت تک ہیکرز دس کروڑ یوزرز کی چیٹ ہسٹری چرا چکے تھے۔
- مئی ۲۰۱۶ء میں سرور کی ایک کمزوری کے باعث ۱۶ لاکھ یوزرز کے فون نمبرز اٹیکرز کے ہاتھ لگے۔
- اپریل ۲۰۱۷ء میں واٹس ایپ کے کالنگ فیچر میں ایک بڑی کمزوری کا انکشاف ہوا، جس کی وجہ سے کوئی ہیکر دو افراد کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ کال کو براہ راست سن سکتا تھا۔ جب تک یہ کمزوری دور کی گئی لگ بھگ ۳۰ کروڑ یوزرز اس سے متاثر ہو چکے تھے۔9 What’s up with WhatsApp? – A critique of security challenges at the world’s largest VoIP app – Polynom Blog (August 27, 2023)
- سب سے زیادہ بدنامِ زمانہ معاملہ مئی ۲۰۱۹ء میں سپائی ویئر(Spyware) ’پیگاسس‘ (Pegasus) کے حملوں کا ہے۔ پیگا سس ایک اسرائیلی ہتھیار ساز کمپنی ’این ایس او گروپ‘ (NSO Group) کا تیار کردہ سپائی ویئر ہے جسے مئی ۲۰۱۹ء میں دنیا بھر میں صحافیں، کارکنوں اور سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ مئی ۲۰۱۹ء میں ۱۴۰۰ ڈیوائسز پر یہ وائرس بھیجا گیا۔ ایک ’زیرو کلک‘ کمزوری کے ذریعے کسی نمبر پر صرف مس کال بھیجنے سے ہی یہ وائرس اس ڈیوائس میں انسٹال ہو جاتا تھا۔ اس طرح واٹس ایپ کی انکرپشن کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ وائرس پوری ڈیوائس پر ہی قابو پا لیتا تھا، جس سے پیغامات، کالز، مائکروفون اور کیمرہ ہر چیز تک رسائی ممکن ہو گئی۔10Judge rules NSO Group liable for spyware hacks targeting 1,400 WhatsApp user devices – The Record Media (December 1st, 2024) اس وائرس کو صرف اسرائیل نے استعمال نہیں کیا بلکہ اسے بنانے والی کمپنی نے اسے مختلف ممالک کی حکومتوں کو بیچا جنہوں نے اسے اپنے شہریوں کی سرویلنس کے لیے استعمال کیا۔11Pegasus (spyware) – Wikipedia English
- نومبر ۲۰۲۲ء میں ہیکرز نے ۸۴ ممالک سے تعلق رکھنے والے ۵۰ کروڑ یوزرز کے فون نمبرز حاصل کر لیے جنہیں ہیکر فورمز پر بیچ دیا گیا۔
- اس وقت یوزر کو دھوکا دے کر ان کی معلومات چرانے کے واقعات (Phishing Attacks) میں سے ۹۰ فیصد واٹس ایپ کے ذریعے سے ہو رہے ہیں۔12Must know Phishing statistics in 2023 – Cyphere
- دسمبر ۲۰۲۴ء میں اسرائیلی سابق وزیر اعظم ایہود بارک کی کمپنی ’پیراگان سلوشنز‘ (Paragon Solutions) نے واٹس ایپ گروپس میں ایک زیرو کلک حملہ کیا، جس میں ایک پی ڈی ایف گروپ چیٹ میں شیئر کی گئی، جس کے صرف گروپ میں پریوئیو (preview) دیکھنے پر ہی پیگا سس کی طرح کا ہی ایک اور سپائی وئیر’گریفائٹ‘ (Graphite) یوزر کے سسٹم میں انسٹال ہو جاتا تھا۔ نہ تو یوزر کو پی ڈی ایف کو کلک کرنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی ڈاؤنلوڈ کرنے کی۔ اس حملے کے نتیجے میں ۲۴ کے قریب ممالک میں ۱۰۰ صحافیوں اور اسرائیل مخالف تنظیموں کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی پوری ڈیوائس پر کنٹرول حاصل کر کے ان کا ڈیٹا چرایا گیا۔13Meta’s WhatsApp says spyware company Paragon targeted users in two dozen countries – Reuters (January 31, 2025) میٹا کی اپنی رپورٹس کے مطابق پیراگان سلوشنز کی جانب سے واٹس ایپ کے یوزرز پر یہ حملے ۲۰۲۵ء میں بھی جاری رہے۔14US-backed Israeli company’s spyware used to target European journalists, Citizen Lab finds – AP News (June 12, 2025)
ان سب خطرات کے پیش نظر، کئی حکومتوں، بشمول امریکہ، نے سرکاری ڈیوائسز میں واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے، تاکہ حساس معلومات محفوظ رکھی جا سکیں۔ یہ عملی سکیورٹی خامیاں اس واضح فرق کو اجاگر کرتی ہیں جو واٹس ایپ کے دعووں اور حقائق کے درمیان پایا جاتا ہے۔
حاصلِ کلام
واٹس ایپ نے اپنی عالمی مقبولیت کو ہمیشہ اس دعوے پر استوار کیا ہے کہ یہ ایک ’سکیور‘ اور ’پرائیوٹ‘ میسجنگ پلیٹ فارم ہے جہاں یوزرز کی بات چیت کسی تیسرے فریق کی مداخلت سے محفوظ ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت اس بیانیے کے برعکس ہے۔ سب سے پہلے تو جس طریقے سے واٹس ایپ نے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن استعمال کی ہے خود اس پر ہی سوالیہ نشان موجود ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میٹا ڈیٹا کا وسیع پیمانے پر جمع کیا جانا، پوری دنیا کی حکومتوں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون، اور تقریباًہر سال بڑے پیمانے پر اس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیے جانے والے حملے ایسے پہلو ہیں جو یوزرز پرائیویسی کے لیے شدید خطرات کا باعث ہیں۔
میٹا ڈیٹا یوزرز کی روزمرہ زندگی اور سماجی تعلقات کی ایک انتہائی دقیق اور مکمل تصویر پیش کرتا ہے، لیکن یہ وہ پہلو ہے جسے واٹس ایپ اپنی تشہیر میں کم ہی اہمیت دیا کرتا ہے، حالانکہ یہی ڈیٹا یوزرز کے رویوں، عادات، تعلقات اور نقل و حرکت کو ظاہر کر دیتا ہے، پھر یہ ڈیٹا یوزرز سے متعلقہ حکومتوں اور سکیورٹی اداروں کو مطالبے پر فراہم کرنا اس غلط فہمی کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے کہ یہ کسی بھی سطح پر کوئی ’پرائیویٹ‘ پلیٹ فارم ہے۔
اس کے علاوہ پیگاسس جیسے ’زیرو کلک‘ وائرس حملے اور دیگر متعدد ہیکنگ اور فشنگ کے مستقل پیش آنے والے واقعات بھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ واٹس ایپ کی سکیورٹی ناقابل تسخیر نہیں اور کسی بھی وقت یوزرز کا ڈیٹا ہیکرز یا حکومتی عناصر کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔
ان سب مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ واٹس ایپ کے سکیورٹی اور پرائیویسی کے دعووں کی تھیوری سے آگے کوئی حیثیت نہیں، عملی طور پر یہ پلیٹ فارم یوزرز کے ڈیٹا کے استحصال اور سرویلنس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
بد قسمتی سےمجاہدین میں ٹیلی گرام کے بعد واٹس ایپ سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا پلیٹ فارم ہے۔ واٹس ایپ کی سکیورٹی کے حوالے سے بارہا خدشات سامنے آنے کے باوجود اس پلیٹ فارم کو جہادی دعوت، بھرتی اور حساس معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سائبر سکیورٹی (Cyber Security) زیرو ٹرسٹ (Zero Trust) کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس میدان میں کسی کے بھی دعووں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی جتنے بھی بلند و بانگ دعوے کر لے کہ ان کی انکرپشن دنیا کی بہترین انکرپشن ہے، وہ دنیا کے سب سے پرائیوٹ پلیٹ فارم ہیں اور ان کی سکیورٹی ناقابل تسخیر ہے، یہ دعوے اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہو سکتے جب تک کہ ان کی پشت پر عملی ثبوت موجود نہ ہوں۔ اور عملی ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز شفافیت اپناتے ہوں، کم سے کم تر میٹا ڈیٹا جمع کرتے ہوں اور ان کا کوڈ اوپن سورس ہو جسے آزاد اور با اعتماد ذرائع نے آڈٹ کیا ہو۔ وہ پلیٹ فارم جو اس معیار پر پورا اترتے ہوں ان کے مجموعی طریقہ کار کی جانچ اور اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی ان میں سے کسی پلیٹ فارم کو سب سے زیادہ اعتماد اور استعمال کے قابل تصور کیا جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭
- 1WhatsApp now has more than 3 billion users a month – Tech Crunch (May 1, 2025)
- 2Exclusive: The Rags-To-Riches Tale of how Jan Koum built WhatsApp into Facebook’s new $19 billion baby – Forbes (February 19, 2014)
- 3How WhatsApp’s metadata collection puts your privacy at risk – Ultimate Systems Blog (October 24, 2024)
- 4Meta’s Data: Meta’s WhatsApp Fix for View Once and its Impact on Metadata by Tal Be’ery – Medium (December 9, 2024)
- 5Uncovering WhatsApp’s Metadata Practices: What You Need to Know About Your Privacy – NewsPoint (June 3, 2025)MoreMo
- 6The undisclosed Whatsapp vulnerability lets governments see who you message – The Intercept (May 22, 2024)
- 7How Facebook undermines privacy protections for its 2 billion WhatsApp users – ProPublica (September 7, 2021)
- 8Can governments intercept end-to-end encrypted Whatsapp communication through lawful interception? – Information Security, Stack Exchange (May 1, 2016)
- 9What’s up with WhatsApp? – A critique of security challenges at the world’s largest VoIP app – Polynom Blog (August 27, 2023)
- 10Judge rules NSO Group liable for spyware hacks targeting 1,400 WhatsApp user devices – The Record Media (December 1st, 2024)
- 11Pegasus (spyware) – Wikipedia English
- 12Must know Phishing statistics in 2023 – Cyphere
- 13Meta’s WhatsApp says spyware company Paragon targeted users in two dozen countries – Reuters (January 31, 2025)
- 14US-backed Israeli company’s spyware used to target European journalists, Citizen Lab finds – AP News (June 12, 2025)
