امنیت کے بنیادی اصول
امنیت کے کچھ عام اصول ہیں جن کو یاد رکھنا ہر مجاہد کی لازمی ذمہ داری ہے۔تاکہ وہ ایسے امنیاتی اقدامات کے ذریعے اپنا، اپنے بھائیوں اور عملی کاموں کی سکیورٹی؍ امنیت کا خاطر خواہ بند و بست کر سکے۔
پہلا اصول: ’بیداری‘ امنیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے
ایک مسلمان کو ہمیشہ بیدار اور ہوشیار رہنا چاہیے تا کہ دشمن کبھی بھی اسے اچانک دبوچ نہ سکےاور اس کے اوپر قابو نہ پا سکے۔ ہر حال میں اور ہر جگہ پربیداری ضروری ہے۔ مجاہد بھائی کو چاہیے کہ کوئی بھی ایسا معاملہ نہ چھوڑے جس کی سکیورٹی کا بندو بست وہ سونے سے پہلے نہ کر لے۔ اسی طرح گھر سے نکلنےسے پہلے، سفر پر جانے سے پہلے اور سفر کے دوران بھی اپنی سکیورٹی کا بندوبست کر لیا کرے، تاکہ اگرخدا نخواستہ کسی جگہ پر اس کا سامنا دشمن سے ہوجائے تو وہ اور اس کے بہت سے ساتھی اس طرح کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہوجائیں۔
اس امنیاتی بیداری کو عمدہ اور بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مجاہد ہمیشہ ایسی معلومات کا حصول کرتا رہے جو اسے اس کے کام میں فائدہ دیں۔خاص طور پر اسے مسلمانوں کے ساتھ سارے ملکوں میں پیش آنے والے حالات اور ان کی خبروں پر نظر رکھنی چاہیے ۔
اسی کے ذیل میں ایسی ضروری کتب جو اسے فائدہ دے سکیں، ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح سے میرے مجاہد بھائیو، آپ کو چاہیےکہ آپ ہر جگہ اپنے مجاہد بھائیوں سے سوال و جواب کے ذریعے معلومات کا تبادلہ کرتے رہیں۔ انہیں کیسے گرفتار کیا گیا؟ ان کی کیا غلطیاں تھیں؟ اور کون کون سے خفیہ ٹھکانے تھے جن کی کھوج لگانے میں دشمن کامیاب ہوا؟ اور آپ کے متعلق دشمن کے پاس کیا کیا معلومات تھیں؟ وغیرہ۔اسی طرح باہر کے ساتھیوں سے بھی معلومات لینی چاہیے ہیں کہ جیل کے باہر کیا ہورہا ہے؟ ہمارے ساتھیوں نے کیا کیا؟ اور کیا کہا؟یہ سارے امور ایسے ہیں جو ایک مجاہد کووسیع معلومات فراہم کرتے ہیں اور اسے ہمیشہ بیدار رکھتے ہیں۔
دوسرا اصول: کَوَر علاج سے بہتر ہے
’کَوَر ‘سے یہاں مراد ایسے اقدامات ، احتیاط ا ور تدابیر ہیں جن کے ذریعے اللہ کے اِذن سے ایک مجاہد دشمن کے ہاتھوں ، اس کی آنکھوں اوراس کے کانوں سے بچ سکتا ہے۔ جبکہ ’علاج‘سے مراد امنیاتی اقدامات میں واقع ہونے والی غلطیوں کا علاج ہے، تا کہ ماضی میں کی گئی امنیتی غلطیوں کے نقصانات کا ازالہ ہوسکے۔
حقیقی بات یہ ہے کہ کسی بھی عمل کے لیے امنیاتی اقدامات کی لازمی منصوبہ بندی ایک ایسی بنیادی چیز ہے جو تمام مراحل میں ایک عام فرد سے لے کر ایک قائد تک ہر مجاہد کے ذہن میں ہونی چاہیے۔ یہ سب اس لیے، تا کہ کاموں کے دوران خطا اور لغزش غالب عنصر نہ بن جائے۔ یہ بات جاننی چاہیے کہ پہلے سے کی ہوئی امنیاتی (سکیورٹی) منصوبہ بندی غلطیوں اور نقصانات کی مقدار اور اثرات کو کم کر دیتی ہے کیونکہ اس منصوبہ بندی کے ذریعے غیر متوقع حالات کا ’علاج ‘ کیا گیا ہوتا ہے۔
اس لیے مجاہد بھائیو، یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ غلطی سر زد ہوجانے کے بعد اس کا ’علاج ‘ اور اس کے لیے امنیاتی اقدامات کرنا بعض اوقات معاملات کو اور پیچیدہ کردیتے ہیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ابتدا ہی سے امنیاتی اقدامات کر لیے جائیں۔
تیسرا اصول: نہ اِفراط نہ تَفریط
’اِفراط‘ زیادتی کرنے کو اور ’تفریط‘ کمی کرنے کو کہتے ہیں، اور بہترین اموروہ ہیں جن میں میانہ روی اختیار کی جائے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا (سورۃ البقرۃ: 143)
’’اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے۔‘‘
یہ عظیم عقیدہ جسے اللہ عزوجل نے ہمارے لیے پسند فرمایا ہمیں اس قابل بناتا ہےکہ ہم تمام امور میں اعتدال کی راہ کو اپنائیں۔ پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ احتیاط کی ضرورت بہت زیادہ ہے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ ہم عمل ہی چھوڑ دیں اور اس میں سُستی سے کام لینا شروع کردیں کہ اس سے ہم نظروں میں آجائیں گے، یا اس کے برعکس ہم اپنے کام کی محبت میں اور اس کو تیزی سے سر انجام دینے کی خواہش میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں۔ یہ ایسا فہم ہے جس کا تمام امور میں لحاظ رکھنا چاہیے۔
اس لیے مجاہد بھائیو، آپ پر واجب ہے کہ جب آپ کوئی امنیاتی اقدام اٹھائیں یا اپنے ساتھیوں کو کوئی اہم کام سونپیں، چاہے وہ کام چھوٹا ہو یا بڑا، تو ان ساتھیوں کو صرف اتنی ہی معلومات فراہم کریں جتنی کی انہیں ضرورت ہے اور انہیں اس میں احتیاط ترک نہ کرنے دیں کیونکہ ایسا کرنا آپ کی غفلت اورکوتاہی اور آپ ہی کا قصور سمجھا جائے گا، بلکہ بعض اوقات بہت بڑا گناہ بھی بن جائے گا جس کے سبب کوئی مجاہد بھائی زخمی ، شہید یا قید ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف انہیں معلومات کا انبار بھی نہ دو جو ان کی ضرورت سے بہت زیادہ ہو، کیونکہ خدانخواستہ اگر وہ گرفتار ہوں یا کسی بھی غیر متوقع مصیبت میں پھنس جائیں توایسی معلومات دیگر معاملات کا دشمن پر کھل جانے کا سبب بن سکتی ہیں ۔ پس بہترین امور میانہ روی کے ہیں اور امور کو ان کی ضرورت کے مطابق ہی وسعت دی جانی چاہیے۔
چوتھا اصول: معلومات صرف متعلقہ فرد کے لیے
معلومات صرف اسی کو دینی چاہیے جس نے اس سے استفادہ کرنا ہو اور بروئے کار لانا ہو، جیسے کہ کوئی معلومات کو محفوظ کرنے کا ذمہ دار ہو یا یہ معلومات کسی کے حوالے کرنے کی ذمہ داری اسے دی گئی ہو یا اس نے کوئی کام سر انجام دینا ہو جس کے لیے یہ معلومات ضروری ہوں۔
اسی طرح مجاہد کے لیے واجب ہے کہ معلومات کو اس کے لیے موزوں اور صحیح جگہ پر رکھے۔ میں نے خود بعض ذمہ داران کو اس معاملے میں سنگین غلطی کرتے ہوئے دیکھا ہے، کہ انہوں نے بارِ ذمہ داری اٹھانے کی تربیت کرنے کے غرض سے بعض ساتھیوں کو بہت سی ایسی معلومات دیں جن کی انہیں چنداں ضرورت نہ تھی اور اس غلطی کا خمیازہ انہیں بعد میں بھگتنا پڑا۔ مقصد یہ نہیں ہے کہ میں مجاہد ساتھیوں کی تعلیم و تربیت کے خلاف ہوں لیکن یہ سب کچھ اس قیمت پر نہیں ہونا چاہیے کہ اُمت کی سطح کے معاملات داؤ پر لگا دیے جائیں اور رازداری کا باب بالکل بند کر دیا جائے۔
بعض ساتھی ایسے بھی ہیں جو تالیفِ قلب یا اطمینان ِ قلب کا دعویٰ کرتے ہوئے معلومات دے دیتے ہیں اور یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ جب ایسا کوئی ساتھی دشمن کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے تو وہ تعذیب کی شدت کی وجہ سے سب کچھ اگل دیتا ہے اور اس طرح ’امیر‘ خود راز افشا کرنے کاحقیقی سبب پیدا کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ معلومات صرف اسی کو دی جائے جس سے متعلق ہو۔
پانچواں اصول: معلومات اپنے وقت پر اور ضرورت کے مطابق
معلومات ہمیشہ’ بقدرِ ضرورت‘ ہی دی جانی چاہیے کیونکہ یہ معلومات ہی ہے جس کی بنیاد پر کوئی کام کیا جاتا ہے۔ مجاہدین کی جماعت ہمیشہ معلومات کے حصول کی طرف لگی رہتی ہے تا کہ اسے اہداف حاصل کرنے میں آسانی ہو اور وہ مختلف امور کو دشمن کے ہاتھوں اور اس کی آنکھوں سے بچا سکے۔ جس طرح دشمن ہمیشہ تمام امکانات اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلمانوں کے راز چرانے اور ان کی معلومات حاصل کرنے کی نا پاک کوششوں میں لگا رہتا ہے۔
لیکن یہ بات بڑے افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ وہ تمام معلومات بڑی سہولت کے ساتھ حاصل کرلیتا ہے کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت اپنی معلومات کی حفاظت کے معاملے میں غفلت کا شکار ہے۔ اس لیے بہت سے قائدین جب کسی مجاہد بھائی کو کوئی کام سونپتے ہیں تو وہ اسے بہت زیادہ معلومات دے دیتے ہیں اور کبھی اسے کسی اہم کام کی انجام دہی کے بعد کہتے ہیں کہ اب میں تمہیں ایسے ایسے معاملات سونپوں گا، حالانکہ کسی بڑے کام کی تکمیل کے بعد کے کچھ عرصے کے لیے ساتھی اپنی سیکورٹی کے لحاظ سے ممکنہ گرفتاری کے خطرے میں ہوتا ہے۔ جب کہ ایسی صورتِ حال میں قائد کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ اپنی معلومات کی حفاظت کرتے اور صرف ضرورت کے مطابق ہی کسی کے ساتھ شریک کرتے۔ جیسا کہ ہم رسول اللہﷺ کا اسوۂ مبارکہ دیکھتے ہیں کہ ماسوائے غزوۂ تبوک کے آپﷺ نے ہمیشہ کسی اور سمت کا ارادہ ظاہر فرمایا اور جس سمت میں دراصل جانا تھا، اسے آخری وقت تک مخفی رکھا۔ یہ اس وجہ سے ہر گز نہ تھا کہ آپﷺ کے اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم کے اندر کوئی نقص تھا بلکہ اس سے مقصود ان کی عسکری تربیت تھی تاکہ وہ ہر کام کو بطریقِ احسن ادا کرسکیں۔
بقدر ضرورت معلومات دینے کے فوائد
اس لیے جب بھی معلومات بقدرِ ضرورت دی جاتی ہے تو اس سے بہت زیادہ فائدے حاصل ہوتے ہیں، مثلاً:
- مجاہدین کی تربیت کہ ان کی معلومات ایک خاص دائرے میں رہے۔
- مامورین کا امیر پر اس کی اعلیٰ تدابیر کے سبب زیادہ اعتماد ۔
- ضروری کاموں کی سکیورٹی کی ضمانت۔
- غیر متوقع غلطیوں کا علاج کیونکہ خفیہ معلومات کی معرفت کا دائرہ تنگ ہوتا ہے۔
معلومات کے معاملے میں امنیت کا خیال نہ رکھنے کے نقصانات
معلومات کے معاملے میں امنیتی اقدامات نہ اٹھانے والے کے لیے بہت سے نقصانات بھی ہیں، مثلاً:
- مثالی سکیورٹی کا فقدان۔
- دشمن کے لیے جماعت کے راز جاننے میں سہولت کیونکہ معلومات جماعت کے افراد میں ایک وسیع دائرے تک پھیل چکی ہوتی ہیں۔
- کاموں کو بہتر طور پر انجام نہ دے سکنا کیونکہ وہ دشمن کی نظروں سے محفوظ نہیں ہیں۔
- غیر متوقع غلطیوں کا علاج مشکل ہوجانا کیونکہ معلومات ساتھیوں کے درمیان بہت مشہور ہوچکی ہوتی ہیں۔
بروقت معلومات
پس جب ہم نے معلومات کی مقدار اور اس کے بقدرِ ضرورت ہونے کو واضح کردیا تو اس کی اہمیت وقت کے ساتھ اور زیادہ ہوجاتی ہے۔ معلومات دراصل وقت کے ساتھ بندھی ہوئی ہوتی ہے، مقصود چاہے اسے جمع کرنا ہو یا پھیلانا۔جہاں تک معلومات جمع کرنے کا تعلق ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ پہلے سے طے کیے گئے منصوبے کے مطابق ہو، جس میں اسے جمع کرنے کا وقت متعین ہو۔ چاہے کسی خاص وقت میں ایسی معلومات کا جائزہ لینا ہو یا پھر اس معلومات کو کسی تک پہنچانا ہو ۔ مثلاً کسی مسؤول نے معلومات کا مشاہدہ کرنا ہو تو مقررہ وقت پر اسے لازمی پہنچادینا چاہیے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تاخیر کے سبب انہیں اس کا علم نہ ہو پائے یا معلومات جمع کرنے والا دشمن کی نظر میں آ جائے۔
جہاں تک معلومات کو پھیلانے کا تعلق ہے تو یہ بھی مقررہ وقت پر ہونا چاہیے اور اس سے قبل معلومات کونہیں پھیلانا چاہیے۔مثلاً:
- دشمن کے خلاف کسی بڑی کارروائی سے پہلے اور بعد میں۔
- جس وقت دشمن مجاہدین پر نظر رکھنے کے لیے تیار کھڑا ہو۔
- جب بڑے پیمانے پر مجاہدین گرفتار ہو رہے ہوں۔
درست وقت پر معلومات فراہم کرنےکے فوائد
ضرورت پڑنے پر ایسی معلومات دینا اور پہنچانا واجب ہے۔ یہی سکیورٹی کے لیے بہتر ہے۔جیسے کہ ہم سیرتِ رسولﷺ میں دیکھتے ہیں کہ آپﷺ عبد اللہ بن جحشؓ کو ایک بند خط دیتے ہیں اور انہیں حکم دیتے ہیں کہ اس خط کو دو دن کاسفر طے کرنے کے بعد کھولنا۔ آپﷺ نے ان کے لیے مناسب وقت متعین فرمادیا جس وقت انہیں وہ معلومات حاصل ہواور ان کے لیے مفید ہو۔ یہ سب مسلمانوں کی معلومات کی سکیورٹی اور حفاظت اور اس رازداری پر ان کی تربیت کے لیے تھا۔ ایسے اقدام کے بہت عظیم فوائد ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
- مستقبل کے کاموں کی امنیت وسکیورٹی کی حفاظت ہے۔
- کاموں کے دوام کی ضمانت ہے۔
- بھائیوں کو غیر مناسب وقت میں معلومات سے دور رکھ کرانہیں پریشانی سے بچانا ہے۔
- کاموں میں غیر متوقع عنصر سے حفاظت ہے۔
چھٹا اصول: ایک غلطی بڑے خطرے کا باعث بن سکتی ہے
بعض غلطیاں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ پہلی غلطی آخری غلطی شمار ہوگی کیونکہ ایسی غلطیوں کے وقوع پذیر ہوجانے کے بعد ان کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ پس جو مجاہد کسی کام کو سر انجام دے رہا ہو اس کے لیے لازمی ہے کہ ووہ اس کام کو جانتا بھی ہو۔ کتنا ہی ہم کسی بھی ساتھی کے بارے میں سنتے ہیں کہ وہ بھائی مائن لگا رہا تھا اور وہ پھٹ گئی اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس بھائی کواس کے بارے میں کوئی علم نہ تھا یا یہ کہ اس نے اس کے متعلق کوئی کتاب پڑھی اور اس کو عملاً کرنے بیٹھ گیا۔
اسی طرح امنیت کے معاملے میں بعض معاملات ایسے ہیں جن میں پہلی غلطی ہی آخری شمار ہوتی ہے بلکہ یہ غلطی اس بھائی کے عمل سے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے جوبغیر علم کے بارود سے کھیل رہا ہوتا ہے۔مثلاً ایسا فرد جو ایک وقت میں جماعت کا حصہ تھا لیکن بعد میں اس کی بصیرت کھوگئی اور وہ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے لگا یہاں تک کہ اس نے مجاہدین کے تمام راز دشمن کو بتادیے ۔ پھر بعد میں وہ توبہ کرلیتا ہے یہاں تک کہ جماعت کا امیر ایک بڑی غلطی کرتے ہوئے اس فردکوجماعت میں دوبارہ اسی حیثیت میں قبول کرلیتا ہے۔ پس ایسا امیر ہرگز اپنے نفس کے علاوہ کسی کو ملامت نہ کرے۔
ہر وہ شخص جو اللہ کے دین کے لیے کام کر رہا ہے اسے چاہیے یہ بات ذہن میں اچھی طرح بٹھا لے کہ ہر زمانے اور ہر جگہ میں دشمن کے لیے کام کرنے والاایسا شخص مسلمانوں کے لیے اصل دشمن سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہاں وہ ایسی غلطیوں کے باعث جو بہت بھاری ہیں کسی ایک آدمی کو نہیں بلکہ پوری جماعت کو خطرے میں مبتلا کررہا ہے اور ہم اللہ سے ایسی باتوں میں سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔
ساتواں اصول: شدید خطرناک حالات میں اصل قاعدہ چھپنا ہے
جب حالات بہت زیادہ شدید ہوں اور دشمن کی طرف سےپکڑ دھکڑ میں بہت تیزی آچکی ہو تو ایسے میں مجاہد بھائیوں کو چاہیے کہ مکمل طور پر کسی پر امن جگہ میں پناہ گزین ہوجائیں۔ ایسی پر امن جگہ جہاں ”امنیت“ یعنی سکیورٹی کی تمام شروط پوری ہوں اور وہ ایسی حالت میں سوائے کسی اشد ضرورت کے اپنی جگہ بالکل نہ چھوڑیں۔کیونکہ تحرک ان کے لیے خطرے کا باعث ہوسکتا ہے اور اس طرح دشمن ان کو آسانی سے گرفتار کرسکتا ہے۔پھر ہمارے دشمن کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ:
’’ہم بھاگنے والے کو پکڑنے کے لیے متحرک ہوتے ہیں اور وہ بہت سے اسباب کی وجہ سے اپنے فرار کے دوران متحرک ہوتا ہے، پس جب دولوگ متحرک ہوں تو وہ کہیں تو مل جائیں گے۔‘‘
حرکت کرنے کے اسباب
یہاں سے ہمارے لیے واضح ہوتا ہے کہ ایک جگہ ٹھہرے رہنا اور حرکت نہ کرنا کس قدر اہم ہے۔ بہت سے ایسے اسباب ہیں جن کے باعث آدمی کو اپنی پناہ گاہ سےحرکت کرنی پڑتی ہے اور پھر اس وجہ سے وہ ظاہر ہوجاتا ہے اس لیے ہم ایسے اسباب کا کچھ مناسب علاج ذکر کردیتے ہیں۔جبکہ ایسے کچھ اسباب درج ذیل ہیں۔
- اپنے گھروالوں بالخصوص خواتین کو اطمینان میں لانا اور ان کو اعتماد میں لینا۔
- بعض بھائیوں کے ساتھ رابطہ کرنا تاکہ بعض کاموں کی وضاحت کردی جائے۔
- اپنے ساتھ کام میں شریک باقی مجاہد ساتھیوں کو اطمینان دلانا۔
- اپنی پناہ گاہ میں تنگ پڑجانا اور کوئی نئی جگہ تلاش کرنا۔
حرکت کرنے کے اسباب کا علاج
جہاں تک ان اسباب کے مناسب علاج کا تعلق ہے تو وہ یہ ہیں:
- کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے اہل و اقارب کو اچھی طرح محفوظ بنانا۔
- پناہ گاہ کی جگہ کا خود انتخاب کرنا جہاں سکیورٹی کی شرائط پوری ہوں اور اسی طرح متبادل جگہ کا انتظام بھی کرنا۔
- اس سارے عرصہ کے دوران اپنے بھائیوں سے رابطہ بالخصوص ٹیلی فونک1ٹیلی فونک رابطے کو آج انٹرنیٹ پر رابطے سے بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔ (ادارہ) رابطہ بالکل کاٹ لینا ۔
- کوئی کام شروع کرنے سے پہلے تمام اہم کاموں کو اچھی طرح نمٹا لینا۔
- اپنا ایسا نائب مقرر کردیں جو آپ کی عدم موجودگی میں جب تک آپ پناہ گزیں ہیں بغیر آپ سے رابطہ کیے آپ کے کام سر انجام دیتا رہے۔
آٹھواں اصول: اپنی عادات کے قیدی نہ بنیں
بہت سے لوگ اپنے کھانے میں، پینے میں،سفر میں،حرکت میں،سونے کے وقت،لہجہ میں اور دوسروں سے بات کرتے وقت کچھ خاص عادات و اطوار اپنا لیتے ہیں ۔جبکہ وہ مجاہد بھائی جو اللہ کے دین کے لیے کام کرتے ہیں وہ بھی ایسے ہی انسان ہیں ، ان کی بھی عادات ہیں ، طور طریقے ہیں اور ایسی ممیز عادات ہیں جن کا انکار نہیں لیکن بعض عادات ایسی ہیں جن کی تاثیر امنیت کے اعتبار سے کچھ اچھی نہیں ہے جیسے بعض بھائیوں کی عادت ہوتی ہے کہ کیسے بھی حالات ہوں وہ کوئی معین لباس پہن لیتے ہیں، یاکسی مخصوص راستے پر گزرنے کو عادت بنالیتے ہیں، یا ایسے اوقات میں حرکت کرتے ہیں جن میں دشمن کی نگرانی کا خوف ہوتا ہے یارابطوں کے لیے ایک ہی وسیلہ اختیار کر لیتے ہیں۔پس یہ تمام اشیاءدشمن کو ایسے مجاہد کی نگرانی کرنے ، اس پر نظر رکھنے اور اس کے حرکات کو سہولت کے ساتھ جاننے میں مدد دیتی ہیں۔پس ان حالات میں اگر کسی کو کوئی اچانک مشکل در پیش آجائے تو اس کے لیے خلاصی کی کوئی راہ آسانی سے سجھائی نہ دے گی۔اس سے ایک مجاہد کے لیے اس بات کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے کہ وہ روزانہ کے معمولات میں عام لوگوں کے ساتھ گھل مل کر ان کی عادات کو جانچے اور ان پر نظر رکھے تاکہ وہ اپنی خاص عادات کا قیدی بن کے نہ رہ جائے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے خطرہ ہے کہ وہ کہیں دشمن کے ہتھے چڑھ جائے۔
پس اللہ کے دین کے لیے کام کرنے والے مجاہد کے لیے ضروری ہے کہ اپنے دل و دماغ میں ایسے مستقل ایمانی فہم کو جگہ دے اور اپنے نفس پرظلم سے بچے۔ پس کسی کا ایسا وطیرہ ہوگا تو اسےہدایت کے ساتھ، سلامتی کے ساتھ دنیا و آخرت میں اللہ کے وعدے کے ساتھ خوش ہو جانا چاہیے ۔ اے اللہ ہمیں دونوں جہانوں میں سلامتی والا بنادے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1ٹیلی فونک رابطے کو آج انٹرنیٹ پر رابطے سے بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔ (ادارہ)
