دوسرا باب: امنیت اور جاسوسی
یہ ایک ایسا اہم موضوع ہے جس کی طرف مسلمان جماعتوں کو بہت زیادہ دھیان دینا چاہیے ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں کہ جب دشمن انہیں نئے نئے اسلوب اپنا کر پھنسانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔امنیت کی اہمیت اس وقت اور بھی زیادہ واضح ہو جاتی ہے ، کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی اسلامی جماعتیں جنہوں نے اِس میدان (یعنی امنیت) کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا تھا، ان پر دشمن نے ایسی کاری ضربیں لگائیں جس سے ان جماعتوں کے اندر ایسی واضح تبدیلیاں واقع ہوئیں جن کے نتیجے میں وہ اپنی نشاط انگیزی کھو بیٹھیں۔
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نوجوان جہاد سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں جب وہ دیکھتے کہ بہت سے اعمال کے کھُل کر ظاہر ہو جانے کے سبب تحریک کی صفوں کو پہنچنے والا نقصان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس نوجوانوں کی توجہ ایسی تحریک پر فوراً مرکوز ہو جاتی ہے کہ جودشمن کو اچانک اُچک لے اور خود تحریک کو پہنچنے والے نقصانات بھی کم ہوں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ (سورۃ الانفال:60)
’’اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں اُن (کافروں) سے مقابلے کے لیے تیار کرو۔‘‘
’قوت‘ کے اسبا ب میں سے ایک دشمن سے اپنی ’منصوبہ بندی اور تحرک‘ کو مکمل طور پر مخفی رکھنا ہے، تاکہ فتح صحیح معنوں میں حاصل کی جا سکے۔ اور یہ بات فقہی قاعدے کے تحت بھی اسی طرح سے ہے:
ما لا یتم الواجب الا بہ فھو واجب
’’کسی واجب کو سرانجام دینے کے لیےجس چیز کی ضرورت ہو وہ بھی اسی طرح واجب ہوگی۔‘‘
سیرت نبویﷺ میں امنیت کی مثالیں
نبیٔ معصوم جنابِ محمد رسول اللہﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہمیں اس معاملے میں اعلیٰ ترین مثال پیش کرتی ہے تاکہ ایسے شرعی اسباب کو اپنایا جائے۔”المنہج الحَرَکی للسیرة النبویة“ کے مصنف نبیﷺ کے ہجرت کے دوران انجام دیے گئے چند افعال کا ذکر کرتے ہیں جو ایک مسلمان مجاہد پر’امنیت‘ کے عوامل کی اہمیت اور ان کی دلالت واضح کرتے ہیں۔پس ان میں سے ہیں:
- دشمن کو دھوکےمیں رکھنے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نبی کریمﷺ کے بستر پر رات گزارنا۔
- نبی کریمﷺ کا قیلولے کے وقت سیدنا ابوبکرؓ کے گھر جانا ،جبکہ ایسے وقت میں بہت کم ہی انسان اپنے گھر سے باہر ہوتے ہے۔
- سیدنا ابوبکرؓ کے گھر سے نکلتے وقت آپ ﷺ کا (آمد و رفت کے) دروازے کے علاوہ احتیاطاً دوسرا راستہ اختیار کرنا، کہ کہیں دشمن جاسوسی نہ کر رہا ہو ۔
- غارکی طرف رخ کرنا تاکہ مدینہ کے راستے پر دشمن کی مدد نہ پہنچ سکے۔
- ایسا غار اختیار کرنا جو مدینہ کے راستے میں نہیں تھا تاکہ دشمن تلاش کرتے ہوئے بھٹک جائے۔
- عبد اللہ بن ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہماکے ذریعے مکہ کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کی مسلسل معلومات رکھنا۔
- حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ذریعے زادِ راہ کے تحفظ کا اہتمام۔
- حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ چرواہے تھے، کے ذریعے حضرت عبد اللہ اور حضرت اسما ءرضی اللہ عنہما کے قدموں کے نشان مٹانے کا اہتمام۔
- غار میں تین دن مسلسل پناہ لینا تاکہ دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچا جاسکے۔
- حرکت کرنے میں خفیہ اندازاور مکمل رازداری اپنائے رکھنا، یہاں تک راستے میں ایک آدمی ملا جس نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آدمی مجھے راستہ دکھاتا ہے، تو وہ آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے جواب سے راستہ بتلانے والا (رہبر) ہی مراد لیتا ہے جبکہ آپ کی مراد خیر کا راستہ دِکھلا نے والےکی تھی۔
اگر ایک مسلمان اللہ کی کتاب اور سنتِ رسولﷺ میں وارد اِسلامی اخلاق کی پابندی کرے تو اس کی امنیت (سکیورٹی) کی ضروریات بغیر کسی لمبے چوڑے تردد کے پوری ہوجائیں۔
جب مسلمان امنیت کے قواعدکو لازم پکڑ لیتا ہے تو لازمی اسے اس کے فوائد حاصل ہوتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
- ذاتی طور پر ’امنیتی‘ کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔
- ہر فرد کے پاس صرف اتنی ہی معلومات ہوتی ہیں جتنی اس کے لیے ضروی ہے۔
- جماعت کے راز افشاءنہیں ہوتے، سوائے ان کےجن کے لیے وہ خاص ہوتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اسْتَعِينُوا عَلَى إِنْجَاحِ الحَوَائِجِ بِالْكِتْمَانِ
’’اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رازداری کا سہارا لو۔‘‘
اور آپﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
’’جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘
نبی کریم ﷺ کے ان فرامین کو لازم پکڑنے والا مسلمان ہمیشہ اسی بات پر حریص رہتا ہےکہ معلومات اسی بندے تک پہنچائے جس کے لیے وہ ضروری ہے۔ یہی وہ خیر ہے جو ان احادیث میں مذکور ہے، اسی لیے جو افراد اس کی پابندی کرتے ہیں وہ اس کے ساتھ ثواب بھی پاتے ہیں کیونکہ ایسا کر کے وہ کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام رہے ہوتے ہیں۔ اس معنی میں بہت سی احادیث وارد ہیں جو اسی مفہوم کی طرف دلالت کرتی ہیں جیسے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
ان الرجل لیلقی بالکلمة لا یلقی بھا بالا
’’بے شک آدمی کبھی منہ سے ایسی بات نکالتا ہے جو اس کے لیے وبال بن جاتی ہے۔‘‘
مختلف افراد کے لیے امنیت کے تقاضے
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر فرد کے لیے کسی بھی عمل میں اس کا خاص حصہ ہوتا ہے جو کہ دوسروں سے مختلف ہوتا ہے اور اسی طرح معلومات کی مقدار بھی دوسروں سے مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً قائد کے پاس موجود معلومات کی کثرت کسی بھی دوسرے فرد سے زیادہ ہوتی ہے اسی لیے اس کی سکیورٹی کی بھی ضرورت اشد ہوتی ہے۔ اسی طرح جس قسم کے حالات اور ماحول میں انسان چلتا پھرتا ہے اس کے مطابق ہی سکیورٹی (امنیت) کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک ایسا شخص جو اعلانیہ دعوت کے میدان میں کام کرتا ہے اس کا کردار اس شخص سےبالکل مختلف ہوگا جس کا کام عسکری میدان میں خفیہ کام سر انجام دینا ہے۔اس لیے ہر شخص کے کام کو دیکھ کر ہی امنیتی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ دعوت کے میدان میں موجود شخص کا کام ہے دعوت دینا، بھرتی کرنا، معاونت فراہم کرنا اور اموال جمع کرنا وغیرہ ۔ پس ہر ایک عمل کے لیے علیحدہ امنیتی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اسی طرح عسکری میدان کے آدمی کا کام ہے اسلحہ، معلومات، ٹریننگ وغیرہ ۔ لہذا اس کے لیے اٹھائے جانے والے امنیتی اقدامات دوسرے افراد سے مختلف ہوں گے۔اصلِ عام اس میں یہ ہے کہ ہر معاملے میں امنیتی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ کسی بھی مرحلے پر ہدف ظاہر نہ ہو۔
امنیت میں افراط و تفریط
افراط کہتے ہیں کسی چیز میں بہت زیادتی اور شدت کرنے کو۔تفریط کہتے ہیں کسی چیز میں کمی،سستی اور غفلت برتنے کو۔
اس لیے امنیتی اقدامات اٹھانے میں امور کو ان کی صحیح جگہ پر رکھنا بہت ضروری ہے۔ مثلاً ایک عام فر د جو اپنی احتیاط اور رازداری میں بہت زیادہ مبالغہ آمیزی سے کام لیتا ہے اس کا اسے کوئی فائدہ نہیں، بلکہ اس کے بر عکس اس کی طرف نظریں اٹھتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈال لیتا ہے۔ یہ غفلت برتنا ہے جو اس جگہ مناسب نہیں۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی جو بہت اہم اورخفیہ کام سر انجام دے رہا ہوتا ہے، وہ بہت خطرناک معلومات دوسروں تک پہنچا رہا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود احتیاط سے کام نہیں لے رہا ہوتا، ایسا شخص اپنے مجاہد بھائیوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہےاور ان کے عمل کو ظاہر کردیتا ہے۔
جبکہ مطلوب ان دونوں کے درمیان توازن ہے اور اس میں کہیں بھی معاملات کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سا کام خفیہ ہے اور کون سا کام اعلانیہ ہے۔ پس ہر وہ کام جو لوگوں کے ساتھ دعوت ، ان کی ہدایت و ارشاد سے متعلق ہے اس کو اعلانیہ طریقے سے سر انجام دیا جاتا ہے، جس حد تک حالات اجازت دیں۔ جس کی مثال ہم نے اوپر کی سطور میں دعوتی اور عسکری فرد کے اعمال میں فرق کر کے بتادی ہے۔اسی طرح وہ امور جو عسکری ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی اہمیت کے مطابق امنیتی اقدامات کے حصار میں ہوں۔یہ تمام ایسے امور ہیں جو بصیرت کے محتاج ہیں، جن کی تسلسل کے ساتھ جانچ کی جانی چاہیے تاکہ امور اپنی صحیح سمت میں گامزن رہیں۔
امنیت اور جدت
ہم امنیت کے معا ملے کو کسی جامد قالب میں نہیں رکھ سکتے جہاں اسے ایک ہی انداز میں ادا کیا جائے، بلکہ اچھے امنیتی اقدامات کے لیے ضروری ہے کہ حالات کے مطابق اور باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے ان میں بہتری لانے کی کوششیں کی جائیں۔ پس قیادت اور افراد کو چاہیے کہ ہمیشہ اعلیٰ امنیتی ماحول تک پہنچنے کے لیے محنت اور لگن جاری رکھیں۔
اسی طرح ہر جماعت کو چاہیے کہ دشمن کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں اور امکانات اور ان کے وسائل کے ترقی یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ہمیشہ امنیتی اقدامات کی بہتری کے لیے جدید وسائل و طریقوں کو بروئے کار لاتی رہے۔اس کے ساتھ سابقہ تجربات اور مہارتوں سے بھی استفادہ کرے اور جماعت کے خلاف کیے جانے والے امنیتی اقدامات کی ہر وقت اطلاع رکھے۔
امنیت کے فوائد
اوپر کی سطور میں ہم نے یہ مطالعہ کیا کہ ایک مجاہد کی زندگی میں امنیت کی کس قدر اہمیت ہے اور یہ کہ امنیت ہدف کے حصول میں سب سے بڑا سبب ہے اور اسی امنیت کے سبب اللہ کے اذن سےدشمن پرخونریز ضربیں لگائی جاسکتی ہیں۔یہاں ہم دوبارہ امنیت کے کچھ فوائد ذکر کرتے ہیں تاکہ اس کی مزیدتاکیدکا سبب بن جائیں۔پس امنیت کے فوائد میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
- اس سے دشمن کے خلاف ’غیر متوقع‘ ہونے کی برتری حاصل ہوتی ہے اور یہ جنگ میں دشمن کے خلاف کامیابی کا بنیادی اصول ہے۔امنیت (سکیورٹی) خود جنگ کے اہم ترین اصولوں میں سے ہے۔
- امنیت ایک جماعت کو مکمل بیداری کی حالت میں رکھتی ہے کہ اس کے خلاف کیا کیا منصوبہ بندیاں ہورہی ہیں جس سے وہ جماعت ہمیشہ تیاری کی حالت میں رہتی ہے تاکہ دشمن کی ضربات کو بروقت روک سکے۔
- امنیت سے جماعت کے اندر دشمن کی نقب زنی کا امکان کم ہوجاتا ہے جس کی دشمن ہمیشہ کوشش میں رہتا ہے تاکہ جماعت کے اندر انتشار پیدا کیا جاسکے۔
- امنیت یعنی سکیورٹی سے اللہ کے اذن کے ساتھ جماعت کے خسارے کم ہوجاتے ہیں اور اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کو کم نقصان پہنچتا ہے۔
ہم یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ امنیت کی اہمیت اپنے اثر سے بہت واضح ہوجاتی ہے۔ جب ہم نے بعض اسلامی جماعتوں کو دیکھا جنہوں نے امنیتی اقدامات نہیں اٹھائے تو دشمن کی لگا تار ضربوں نے ان جماعتوں کا ہدف کی طرف سے رخ ہی پھیر کر رکھ دیا ،جس کے باعث بالآخر وہ جماعتیں جھکنے اور سرنڈر ہونے پر مجبور ہوگئیں۔اسی طرح بہت سے نوجوان جہاد چھوڑ جاتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ اعمال دشمن کے سامنے مسلسل منکشف ہورہے ہیں اور جماعت کی صفوں میں خسارے اور نقصانات بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ نوجوان جہاد کی طرف اس وقت بہت زیادہ راغب ہوتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ مجاہدین دشمن پر ناگہانی آفت کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں اور باذن اللہ بغیر کوئی قابل ذکر نقصان اٹھائے دشمن کو مصیبت سے دوچار کردیتے ہیں۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
