اس تحریر میں مختلف موضوعات پر کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کی آراء پیش کی جاتی ہیں۔ ان آراء اور کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کے تمام افکار و آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ادارہ)
I Love Muhammad تحریک کے خلاف حکومتی کارروائی |
یوں تو ہندوستان کے مسلمانوں پر ہندو انتہا پسندوں کے ڈھائےجانے والے ظلم کی خود پوری ایک تاریخ ہے لیکن مودی اور اس کے ہندتوا نظریے نے اسلام و مسلمانوں اور ان کے عقیدے کو ماضی میں جس طرح نشانہ بنایا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ سیکولر اور جمہوری کہلانے والی مودی حکومت نے ایک طرف مسلمانوں کے آئینی و شہری حقوق غصب کیے (شہریت ترمیمی ایکٹ کے ذریعے)، مسلمانوں کی مساجد و اوقاف کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کر کے انھیں مندر بنایا۔ وقف ترمیمی ایکٹ کے ذریعے وقف بورڈز میں ہندوؤں کی تقرریاں کیں، یکساں سول کوڈ کے ذریعے مسلمانوں کے شادی،طلاق اور وراثت کے قوانین ختم کیے ( یہ ابھی صرف اتر اکھنڈ میں نافذ ہے جبکہ ریاستی سطح پر نفاذ کی کوشش جاری ہے)، گائے ذبیحہ کے خلاف سخت سزائیں دی گئیں اور مذہبی آزادی کے نام پر (anti conversion act) نافذ کیا گیا تاکہ لوگوں کو قانونی طور پر اسلام قبول کرنے سے روک سکیں۔ یہ صرف ان اقدامات کی ایک جھلک ہے جو مودی حکومت قانونی طور پر مسلمانوں کو کمزور اور بے اختیار کرنے کے لیے کر رہی ہے، جبکہ مسلمانوں اور دین اسلام پر حملوں کی تفاصیل اس قدر وسیع اور تکلیف دہ ہیں کہ ان کا احاطہ یہاں ممکن ہی نہیں۔
ان میں ہندوؤں کے جانب سے مسلمانوں کی ماب لنچنگ، ’’لو جہاد‘‘ کے نام پر مسلمان نوجونوں پر تشدد، ان کا قتل، ان کا معاشی بائیکاٹ، یوگی اور اس جیسے بھگوا حکومتی غنڈوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے گھروں اور املاک کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کرنا، خصوصاً ہندو مذہبی تہواروں کے مواقع پر مسلمانوں کی مساجد اور مسلمان آبادی پر منظم انداز میں حملے کرنا۔ یہیں پر بس نہیں بلکہ مسلمانوں کے دین و ایمان پر ، ان کے عقائد و عبادات پر حتیٰ کہ ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن نبی رحمۃللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بھگوا ہندوؤں نے شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہو۔ اس سے پہلے بھی انتہا پسند ہندُتوا لیڈر اور ان کے ناپاک مذہبی پیشوا توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ ۲۰۲۲ء میں ملعونہ نوپور شرما نے اپنی نجس زبان سے نبی پاک ﷺ کے خلاف زہر اگلا تھا۔ اس ملعونہ کی حمایت میں ایک ہندو درزی نے سوشل میڈیا پر ایک توہین آمیزپوسٹ کی جس کے بعد دو غیرت مند مسلمان نوجوانوں نے اس کا سر قلم کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ اکتوبر ۲۰۲۴ء میں ایک ہندو پنڈت توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا، جبکہ آر ایس ایس کے جنونی ہندو وقتاً فوقتاً عزت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرکے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے رہتے ہیں۔فداک ابی و امی
’’آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ مہم کیا ہے اور کیسے شروع ہوئی؟
ستمبر ۲۰۲۵ء بارہ ربیع الاوّل کے دن مسلم کمیونٹی میں دینی تقریبات منعقد کی گئیں جن میں اتر پردیش کے شہر کانپور میں ایک لائیٹ بورڈ پر لکھا ہوا آئی لو محمد(I love Muhammad) کو متشدد بھگوا ہندوؤں نے نفرت انگیز کہہ کر اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جس کے نتیجے میں درجنوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔ جب اس سادہ سے اظہارِ عقیدت و محبت کو بلا وجہ متنازع بنایا گیا تو ہندوستان کے مختلف شہروں اور سوشل میڈیا پر اس نے ایک مہم کی صورت اختیار کر لی اور مختلف شہروں میں “آئی لو محمد” اور مذہبی آزادی پر حکومتی حملے کے خلاف احتجاج شروع ہوئے جو ستمبر اور اکتوبر میں جاری رہے ۔ میڈیا پر آنے والی رپورٹس کے مطابق بھگوا حکومت نے ڈھائی ہزار مسلمانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے کارروائیاں کی گئیں۔ بریلی میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج کو روکنے کے لیے مسلمان نمازیوں پر تشدد ، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کی گئیں جبکہ سزا کے طور پر مسلمانوں کے گھروں کو بھی بلڈوزر سے مسمار کر دیا گیا۔
الجزیرہ پر ایک تحریر ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کی صحیح عکاسی کرتے ہے:
Are We Muslims or Mujrims? How hate become India’s daily entertainment | Ismail Salahuddin
’’وہ معاشرے جہاں مظالم چھپے ہوئے نہیں بلکہ اس قدر معمول کا حصہ بن چکے ہیں کہ وہ اب حیران نہیں کرتے، یہ آج کا ہندوستان ہے۔ دن دہاڑے مسلمان قتل ہوتے ہیں، لیکن اکثریت کی نظر میں یہ پس منظر میں مچے شور سے زیادہ کچھ نہیں۔
اس کے ساتھ اب نفرت خاموشی سے نہیں کی جاتی، یہ ایک تماشہ بن چکی ہے۔ جب کانپور میں مسلمانوں نے کتبے اٹھائے جن پر لکھا تھا ’I Love Muhammad‘، تو پولیس نے ان کو تحفظ فراہم نہیں کیا بلکہ ۱۳۰۰ کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں۔ اظہارِ محبت ہی جرم قرار دے دیا گیا۔ لیکن جب مہاراشٹر یا مدھیہ پردیش میں ہندتوا بلوائی اکٹھے ہوتے ہیں اور کھلم کھلا نسل کشی کے نعرے لگاتے ہیں، تو ٹیلی ویژن کا عملہ یا تو ان کی تعریفوں کے بل باندھنے لگتا ہے یا پھر خاموشی سے نظر انداز کر دیتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد ایک طرح کا ڈرامہ بن چکا ہے، ایک ایسا سکرپٹ جہاں مسلمان ہمیشہ ملزم ہوتے ہیں، اور ہندتوا قوتیں تہذیب کے محافظین کا کردار ادا کرتی ہیں۔
……وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ اس تماشائی ثقافت کی علامت ہے۔ اپنے سرکاری سٹیج سے وہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا ہے، انہیں ’گھس بیٹھیے‘ اور ’دہشت گردوں کے ہمدرد‘ کہتا ہے۔ یہ کسی ایرے غیرے کی باتیں نہیں ہیں، یہ حکمران اشرافیہ ہے۔ لیکن پھر بھی نام نہاد اپوزیشن جماعتیں اس پر غم و غصے کا اظہار نہیں کرتیں بلکہ اپنے نرم کیے گئے ہندتوا کے ورژن کو پیش کرتی ہیں، اس مقابلے میں لگی ہیں کہ کون زیادہ ’ہندو نواز‘ نظر آتا ہے، جبکہ مسلمانوں کے خوف کو دبا دیا جاتا ہے۔ اس دو جماعتی اتفاق رائے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مسلمان اب ہندوستان میں سیاسی رعایا نہیں ہیں بلکہ سیاسی نمائشی سامان ہیں۔
مسلمانوں کے لیے اس کی قیمت صرف جسمانی نہیں، یہ نفسیاتی اور بقا سے بھی جڑی ہے۔ آج مسلمان کی حیثیت سے جینا مستقل مشتبہ شخص کی حیثیت سے جینا ہے، مسجد میں نگرانی، بازار میں بد گمانی، کلاس روم میں شک۔ ہر جمعہ کی نماز خطرہ لگتی ہے ۔ لاؤڈ سپیکر پر دی جانے والی ہر اذان کی آواز کچھ لوگوں کے لیے اشتعال انگیز ہوتی ہے، حالانکہ یہ ایک طبقے کی دل کی دھڑکن ہے۔‘‘
[Al-Jazeera English]
اتر پردیش کے شر پسند وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے مسلمانوں کو کھلے عام دھمکی دی:
’’یاد رکھو! جب بھی تم نے (آواز اٹھانے کی) جرأت کی ، تو تمہیں اسی طرح مارا پیٹا جائے گا جیسے تمہیں بریلی میں مارا پیٹا گیا۔…… ہم تمہیں ایسا سبق سکھائیں گے کہ تمہاری آنے والی نسلیں بھی احتجاج کرنے کی جرأت نہیں کریں گی۔‘‘
جہاں ایک طرف ہندوؤں کو اپنے کفریہ نعرے (جے شری رام وغیرہ) لگانے کی اور اپنے مذہبی تہواروں میں شور و غل اور فساد مچانے کی آزادی ہے تو وہیں مسلمانوں کی بے ضرور مذہبی تقریبات کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، اور بھگوا غنڈوں کو I Love Muhammad کا نعرہ بھی مذہبی اشتعال انگیزی کا باعث محسوس ہو رہا ہے۔
اس حوالے سے ایک لکھاری افروز عالم ساحل لکھتے ہیں:
Beyond Islamophobia: India cracks down on ‘I Love Muhammad’ posters | Afroz Alam Sahil
’’بہت سے شہروں میں، ہندو تہواروں کے دوران گلیاں باقاعدگی سے ’جے شری رام‘ کے نعروں سے گونجتی ہیں، جلوس بغیر کسی رکاوٹ کے نکلتے ہیں اور شہر کے ہر کونے میں سیاسی بینر آویزاں ہوتے ہیں۔ مگر جب مسلمان پر امن طور پر اپنے جذبات کا اظہار بینرز کے ذریعے کرتے ہیں تو حکام فوری طور پر ایف آئی آر کاٹتے ہیں، گرفتاریاں کرتے ہیں اور الزامات عائد کرتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار اب صرف ’قانون کی حکمرانی‘ کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ گہرائی میں موجود مسلمان دشمنی کی علامت بن چکا ہے۔ ریاستی اداروں کی خاموشی، یا بعض اوقات ملی بھگت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اکا دکا واقعات نہیں ہیں، بلکہ یہ واضح پیغام اور ہندتوا گروہوں کی خاموش منظوری کا منظم نمونہ ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ مسلمان بینر کیوں لگاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا بھارت میں مذہبی اظہار کی آزادی تمام شہریوں کے لیے یکساں طور پر محفوظ ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو ایک سادہ بینر پر مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ صرف ایک پوسٹر کا معاملہ نہیں، یہ آئین پر اور اپنے عقائد پر عمل کرنے کے لیے تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے بارے میں کلیدی سوالات اٹھاتا ہے۔‘‘
[Daily Sabah]
ہندوستانی میڈیا کا ردّ عمل
بات جب مسلمانوں کے حقوق کی آتی ہے تو ’’گودی میڈیا‘‘ دنیا کو ’’سب اچھا‘‘ اور ’’سب کا ساتھ،سب کا وکاس‘‘ کے جھوٹے دعووں کی نقلی تصویر دکھاتا ہے ، اس لیے اس سے کسی قسم کی امید رکھنا بےکار ہے۔ لیکن ہم نے جب ہندوستان کے مسلم دانشوروں اور صحافیوں کی تحریروں کو کھنگالا تو جو آراء سامنے آئیں ان کی ایک جھلک قارئین ملاحظہ کریں:
’’آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے خلاف یوگی حکومت کی نفرت| میگزین ڈیسک
’’اس پورے منظر نامے میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہو رہا ہے۔ ان کے دلوں میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کیا جا رہا ہےان کی نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ اپنے عقیدے کے ساتھ وفادار ہیں تو ان پر ظلم ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ حقیقت بھی ہے کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے مزاحمت اتنی ہی جنم لیتی ہے۔ ’آئی لو محمد‘ تحریک پر ہونے والے ظلم نے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ انہیں اپنے دین اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے پر امن لیکن مضبوط انداز میں کھڑا ہونا ہوگا۔ یوگی حکومت کے مظالم وقتی ہیں۔ لیکن عشقِ رسول دائمی ہے اور یہی طاقت مسلمانوں کو ہر دور میں جرأت اور حوصلہ عطا کرتی ہے۔
یوں ’آئی لو محمد‘ تحریک کے خلاف کارروائی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ ہندوستانی حکومت کی پالیسی مسلمانوں کو کمزور کرنے اور دبانے کی ہے۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہےکہ ظلم زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔ مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم ایک دن حکومت کے لیے سوالیہ نشان بنیں گے۔ اور محبت رسول ﷺ کی طاقت ہمیشہ مسلمانوں کو زندہ اور متحد رکھے گی۔ یوگی حکومت کی چیرہ دستی اگرچہ اس وقت طاقتور دکھائی دیتی ہے لیکن یہ سچائی کبھی نہیں بدل سکتی کہ مسلمانوں کی اصل طاقت ان کا ایمان اور ان کا عشقِ رسول ہے جسےکوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔‘‘
[اردو ٹائمز]
راج کرنا ہے کرو، آگ نہ لگایا کرو| رشید الدین
’’آئی لو محمد ﷺ کا نعرہ یقیناً ایمانی حرارت پیدا کرتا ہے لیکن ہمیں سوچنا ہوگا کہ اس نعرے کی اگر کوئی مخالفت کرے تو وہ بلواسطہ طور پر توہین رسالت کے زمرے میں آئے گا۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہےکہ اس مقدس نام کو سیاسی اغراض کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے پاس فی الوقت کوئی متنازع مسئلہ نہیں ہے جسے ایجنڈا بنا کر وہ ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کر سکیں۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کو اچانک میدان میں اتارا گیا جنہوں نے بابری مسجد اور گیان واپی کے بارے میں متنازع بیانات دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ دونوں مساجد پر ہندوؤں کی دعویداری درست ہے۔ جسٹس چندر چوڑ کے اس بیان کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہےاور گودی میڈیا کے مختلف چینلوں میں ان کے انٹرویوز کا سلسلہ جاری ہے۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی منظم سازش کے تحت ’آئی لو محمدﷺ‘ کے نعرے پر مسلمانوں کو مشتعل کرنا چاہتے ہیں تاکہ سارے ملک میں ماحول کو فرقہ ورانہ رنگ دیا جا ئے۔ مسلمان بنیادی طور پر جذباتی ثابت ہوا ہے ۔ لیکن اسوہ حسنہ میں ہمیں حکمت کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔ جذباتی فیصلوں کے بجائے اگر حکمت سےحالات کو نمٹا جائے تو مخالفین کے منصوبوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔حضوز اکرم ﷺ سے محبت و عقیدت کے بارے میں ایک مسلمان کواظہار کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایمان کا جز لاینفک ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے سامنےمحبت رسول ﷺ کے اظہار سے کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ جو ازلی طور پر دشمن اسلام ہوں، ان سے احترام کی امید کرنا فضول ہے۔ راہول گاندھی کی مخالف ووٹ چوری مہم نے بہار میں بی جے پی کی کشتی کو بھنور میں پھنسا دیا ہے۔ ملک گیر سطح پر بی جے پی کی جانب سے الیکشن کمیشن کی مدد سے کی گئی ووٹ چوری نے عوام کو باشعور بنا دیا ہے اور بہار میں شکست بی جے پی کے لیے نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔ ان حالات میں ’آئی لو محمدﷺ‘ کو فرقہ ورانہ رنگ دے کر مخالف ووٹ چوری مہم کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اتر پردیش کے حالات کے بعد ووٹ چوری مخالف مہم سے عوام کی توجہ ہٹانے میں کسی حد تک کامیابی ضرور ملی ہے۔ وقف ترمیمی قانون، لداخ میں نوجوانوں کا احتجاج، منی پور تشدد اور دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی اس مہم کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔ اتر پردیش کے بعد بہار میں بھی فرقہ ورانہ کارڈ کھیلنے کی تیاری ہے تاکہ الائنس کی مہم کمزور ہو اور ہندتوا ووٹ بنک کو متحد کیا جا ئے۔ نریندر مودی اور نتیش کمار کے پاس کوئی ایسا کارنامہ نہیں جس کی بنیاد پر بہار میں ووٹ مانگ سکیں۔ لہذا فرقہ ورانہ ایجنڈا ہی کام آ سکتا ہے۔ مسلمانوں کی سیاسی اور مذہنی قیادت کے علاوہ سماجی جہت کاروں کو نازک حالات میں صحیح رہنمائی کرنی چاہیےتاکہ زعفرانی سازش کا شکار ہونے سے مسلمان بچ جائیں۔ بی جے پی نے مسلمانوں کو ’آئی لو محمدﷺ‘ پر بھڑکانے کے لیےیوگی ادتیہ ناتھ اور دوسرے نفرت کے سوداگروں کو میدان میں اتار دیا ہے لیکن مسلمان ہوش اور حکمت کے ذریعے صورتحال کا مقابلہ کریں کیونکہ فراست کو مسلمانوں کی میراث اور اثاثہ کہا گیا ہے۔ موجودہ وقت اور حالات مسلمانوں کی مومنانہ فراست کا امتحان ہیں۔‘‘
[روزنامہ سیاست]
انڈیا میں دن بدن بڑھتے مسلمانوں پر حملے ، ان کے عقائد کو نشانہ بنانا خصوصاً پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بار بار گستاخی کرنا ایک سوچے سمجھے ہندتوا ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جس کا اصل مقصد مسلمانوں کو کمزور کرنا، ان میں خوف اور مایوسی پھیلانا اور انہیں اسلام اور نبی اکرم ﷺ کے خلاف ہونے والی ہر بات یا حرکت پر اتنا امیون(immune) کر دینا ہے کہ وہ اس متعلق بالکل ہی بے حس ہو جائیں۔ اسی لیے اس وقت ہندوستان میں مسلمان دو طرح کے طبقات میں بٹے نظر آتے ہیں۔ ایک وہ مسلمان جو ماب لنچنگ اور ہندوؤں کے تشدد سے ڈر کر اپنی دینی شناخت چھپاتے پھرتے ہیں، جبکہ دوسرا طبقہ ان مسلمانوں کا ہے جو اپنی دینی شناخت کا برملا اظہار تو کرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ایک ’’پر امن شہری‘‘ ثابت کرنے کے لیے ہندوؤں کے ظلم کے خلاف دبی دبی اور ڈری سہمی سی آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ ان ہی میں ایک طبقی ایسا بھی ہے جو ہندوؤں کی گستاخیوں کا جواز تلاش کر کے اس متعلق جواب نہ دینے کو ’’دانشمندی اور حکمت‘‘ گردانتا ہے۔
بجھی ہے عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
اس وقت انڈیا میں مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر زبردستی ان سے ’’جے شری رام‘‘ جیسے ناپاک اور کفریہ کلمات کہلوائے جاتے ہیں اور یہ بہت عام سی بات ہے، جبکہ آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سننا بھی ان سے برداشت نہیں ہے۔ گائے کا پیشاب پینے والی ملیچھ قوم کی ایسی جرات کیسے ہو گئی کہ امت محمدیہ ﷺ کو سر عام ذلیل کر رہی ہے اور وہاں کے مسلمان ،راہنما اور علماء یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں اور کوئی عملی اقدام کوئی لائحہ عمل نہیں بنا رہے؟ یہاں تو عام مسلمانوں کی عزت پامال ہونا روز کا معمول ہے لیکن بات اب نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی ہے جس پر جان قربان کرنا بھی عظیم فریضہ ہے!
صلی اللہ علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
٭٭٭٭٭
