تمام تعریفیں، بلا شرکتِ غیرے، اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں جس نے ہم پر فضل و رحمت کا ارادہ فرمایا اور اپنے حبیبؐ کو ہمارے لیے رحمت و مغفرت کی کنجی و دروازہ بنا کر بھیجا، صلی اللہ علیہ وسلم۔ اللہ کے احسان کے بعد، یہ آپؐ ہی کی محنتوں کی برکتیں اور فیوض ہیں کہ ہم آج اللہ کا کلمہ پڑھنے والے ہیں۔ الٰہی! اتنی رحمتوں کے بعد اب ہم پر اپنی رحمتیں مزید بھی بڑھا دے،آئندہ ہر ثانیے میں اتنی اتنی رحمتیں ہم پر اتار جتنی اس سے قبل کی زندگی میں تُو نے ہم پر نازل فرمائیں۔ ہمیں نبی علیہ الصلاۃ والسلام ہی کے راستے پر چلا، ہماری حاجات کو پورا فرما اور خاتمہ بالخیر اہلِ ’صراطِ مستقیم‘ کی مانند عطا فرما، بصورتِ قتل فی سبیلک، مقبلاً غیر مدبرٍ، آمین!
ہماری فوج کے جہاز |
کسی بندۂ خدا نے کہا:
میری بندوق میرے بھائی کے کام نہ آئے، صرف شادی پر ہوائی فائرنگ کے کام آئے تو ایسی بندوق کا کیا فائدہ؟
ہمارے جنگی جہاز کرتب ہی دکھا سکتے ہیں، ان کا غزہ تک پہنچنا…… این خواب است و محال است و جنون!
مدنی مسجد اسلام آباد |
اسلام آباد کی انتظامیہ نے مدنی مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے اور ساتھ ہی دیگر مساجد کو گرانے کی گردش کرتی فہرست کو جعلی قرار دیا ہے ۔ اسلام آباد انتظامیہ؍ریاست و حکومتِ پاکستان کا یہ اقدام کچھ اسباق لیے ہوئے ہے۔ہم اہلِ دین اگر تمام اختلافات کو پیٹھ پیچھے پھینک کر متحد ہو کر کسی امر پر ڈٹ جائیں تو سامنے کی جابر حکومتیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جایا کرتی ہیں۔
انتظامیہ و ریاست کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ مدنی مسجد کا معاملہ بھی مسجد امیر حمزہ کی مانند نہ ہو جائے (جس کی شہادت کے بعد اسلام آباد میں تحریکِ لال مسجد اٹھی تھی) اور مدنی مسجد کی بحالی کی حالیہ تحریک، نفاذِ شریعت کی تحریک کا رُوپ نہ دھار لے۔
پس ہم اہلِ ایمان مدنی مسجد کی بحالی پر قانع نہ ہو رہیں، بلکہ یہ ارضِ پاکستان جو ہمارے لیے مسجد کی مانند ہے، اس مسجد کو حقیقی معنوں میں مسجد بنانے کے لیے ڈٹ جائیں۔ پاکستان میں نفاذِ شریعت و اقامتِ دین کرنا ہم اہلِ دین پر واجب ہے۔ اگر ہمارے اہلِ دین متحد ہو کر شریعتِ مطہرہ کے بتائے تمام طریقوں اور احکام کے مطابق وقت کے جابر و بے دین حکمرانوں کے خلاف ڈٹ جائیں تو یہ پاکستان بھی حقیقی معنوں میں مسجد بن سکتا ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اہلِ دین پہلے ملک میں نافذ طاغوتی نظام کی حقیقت و اصلیت کو سمجھیں اور پھر اس کے خلاف دامے، درمے، قدمے، سخنے میدانِ عمل میں نکل آئیں۔ نہ کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا کریں اور نہ اللہ کے دین کی خاطر جانیں دینے سے دریغ کریں۔ اس کے نتیجے میں یہ ملک وہ اسلامی سلطنت بنے گا جس کی خاطر آٹھ دہائیاں قبل ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں۔
سنوار کا محل |
حماس کے ایک ذمہ دار جاسر البرغوثی کہتے ہیں:
میں یحیی السنوار کے گھر گیا، اور ہمیں بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ نہ مل سکی کیونکہ گھر بہت چھوٹا تھا، حالانکہ وہ ابو ابراہیم تھے، یعنی غزہ حکومت کے تمام وسائل کے نگران۔ جب ہمیں اندر جگہ نہ ملی، تو یحیی السنوار نے گھر کی دہلیز میں ایک چٹائی بچھا دی، اور ہم وہیں بیٹھ گئے۔
جب ہم بیٹھے تو میں نے ان سے کہا:
”ابو ابراہیم! آپ حماس کے رہنما ہیں۔ آپ کا گھر، جہاں لوگ آپ سے ملنے آتے ہیں، کشادہ ہونا چاہیے۔“
انہوں نے جواب دیا:
”میرے پاس ایک دفتر ہے جو بہت سے لوگوں کو سمو سکتا ہے۔ یہ گھر قریبی لوگوں کے لیے ہے۔ اور میں ایک اصول پر جیتا ہوں:
’دنیا میں جتنا چھوٹا گھر ہوگا، آخرت میں اتنا ہی بڑا ملے گا‘۔“
اے غزہ کے شریر بچو! |
(خالد جمعہ کی ایک انگریزی نظم کی آزاد ترجمانی)
کہاں گئے میرے غزہ کے وہ نونہال
میرے وہ بچے جو ہر صبح میری کھڑکی کے نیچے
شور و غل سے ایک آسمان سر پر اٹھا لیتے تھے
جو میرا کوئی گملا
میرا کوئی گلدان توڑتے
اور بھاگ جاتے
میرے وہ بچے جو میری بالکونی میں کِھلا واحد پھول توڑ دیتے تھے
کہاں گئے؟
کہاں گئے تم سب؟
میرے غزہ کے شریر بچو، کہاں ہو؟!
اے شریرو!
لوٹ آؤ
جتنا شور مچانا ہے مچاؤ
آؤ میرا یہ گلدان، میرے یہ گملے توڑو
میری بالکونی میں بہت سے پھول کھل کر مرجھا گئے
آؤ، ان پھولوں کو توڑنے کی خاطر آؤ
اے شریرو!
جو بھی کرنا ہے کرو، لیکن……
بس آ جاؤ!
اصل بات جنگوں کا بیانیہ (Narrative) ہوا کرتا ہے |
جب کہنے والے مقتول پیشہ ور سپاہیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی ڈھائی سال کی بچی تھی، تو ہم یہ تبصرہ لکھنے والے بھی کوئی بے جان، پتھر دل نہیں۔ ہمارا دل بھی ڈھائی سال کی بچی اور نوزائیدہ بچوں کو دیکھنے جانے والی خبریں سن کر پگھلتے ہیں۔ لیکن……
ایسے پروپیگنڈے کو اپنانے سے پہلے یہ بھی یادر کھیے کہ جنگ دونوں طرف کے سپاہیوں کا خون پیتی ہے، جنگوں میں مرنا مارنا، قربانیاں دینا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔
اصل بات جنگوں کا بیانیہ (Narrative) ہوا کرتا ہے۔ کون حق کی خاطر لڑ کر مرتا ہے اور کون باطل کی خاطر مرتا ہے۔
ورنہ چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں دونوں طرف کے لوگوں کے ہوتے ہیں۔ سبھی بال بچے دار ہوتے ہیں، کسی کے پاس پروپیگنڈے کے سرکاری وسائل ہوتے ہیں تو وہ ہیرو اور مظلوم ایک ہی وقت میں بن جاتا ہے تو کوئی بے آسرا رہ جاتا ہے۔
بس خدا کی صف کا سپاہی ہو تو کیا ہی شاندار موت ہے چاہے لاشہ گھسیٹا جائے اور فرنٹ لائن اتحادی ہو تو تُف ایسی زندگی پر اور تُف ایسی موت پر!
قطر کس کا اتحادی ہے؟ |
عرب صحافی سامی الحمدی کے بقول (تین دہائیاں قبل)قریب تھا کہ دولتِ قطر کو سعودی عرب اپنا باج گزار بنا لیتا، جیسے بحرین کو اس نے بنایا۔ اس غلامی سے بچنے کے لیے قطر نے امریکہ کی مدد چاہی اور امریکی مدد کے لیے instant طریقہ اس طوطے سے تعلق بنانے میں تھاجس طوطے میں امریکہ نامی جن کی جان قید تھی، یعنی اسرائیل۔
۹۰ء کی دہائی میں قطر نے اسرائیل کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اسرائیل کے راستے امریکی اتحاد میں داخل ہو گیا کہ ہمیں سعودی عرب سے بچایا جائے ہم براہِ راست آپ کی غلامی کے لیے آمادہ ہیں۔ قطر میں العدید ائیر بیس اسی غلامی کو قبول کرنے کے بعد قائم ہوئی۔
آج قطر اسرائیلی حملے کی مذمت اور معاً ساتھ ہی جو یہ کہہ رہا ہے کہ ہم امریکی اتحاد سے نہیں نکلے، اس میں ہمارے لیے بڑی عبرت ہے۔ اہلِ دین و جہاد جس مصلحت کی خاطر قطر میں ہیں، ان کے لیے نہیں، لیکن جو قطر کو ’اچھا‘ جانتے ہیں ان کے لیے کسی شاعر نے کہا تھا:
نا بینا جنم لیتی ہے اولاد بھی اس کی
جو نسل دیا کرتی ہی تاوان میں آنکھیں
افغانستان تا شام، کس way of life کی دعوت عالَمِ کفر دے رہا ہے؟ |
وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ ٱلْيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَـٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ;”(سورۃ البقرۃ: ۱۲۰)
”اور کبھی بھی آپ سے یہود اور نصاریٰ راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کی ملت کی پیروی نہ کریں۔“
امام ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”المراد ملتهم: طريقتهم ودينهم.“۔
یعنی ملت سے مراد ان کا طریقہ اور دین ہے۔
آج ملتِ کفر کا عقیدہ و طریقہ و دین (دینِ یعنی طرزِ حیات یا way of life) عموماً گلے میں صلیب لٹکانا اور تحریف شدہ کتابیں پڑھنا اور ان کی پیروی کرنا نہیں ہے۔ آج ملتِ کفر کا طریقہ و دین، جمہوریت، عالمی سرمایہ دارانہ نظام، اقوامِ متحدہ کا تمام انسانوں کو (ایمان و کفر کی تفریق کے بغیر) برابر قرار دینا، جہاد کو غیر قانونی قرار دینا وغیرہ ہے۔ غور کیجیے، یہی طریقہامریکی ٹرمپ کا بھی ہے، برطانوی سٹارمر اور فرانسیسی میکرون کا بھی، وہ گلے میں صلیبیں نہیں لٹکاتے، ان کی ملت یہی جمہوریت و جدید انظمہ ہیں۔ پس آج اگر کسی ”مسلم“ حکمران سے ملتِ کفر راضی ہے تو اس حکمران سے بھی تقاضا گلے میں صلیب لٹکانا نہیں، بلکہ نیو ورلڈ آرڈر کو ماننا اور اس کا قلب و زبان سے تصدیق و اقرار ہے، جمہوریت پر ایمان ہے، یہی دینِ جدید ہے!
فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ دَرَجَةً |
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کسی نے مکان بدلنا ہو، کچھ سفر کرنا ہو، کسی سے ملنا ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو، کوئی چیز بازار سے خریدنی ہو، کسی محبوب کے پاس جانا ہو…… یہ سب لوگوں کی زندگی میں کتنا آسان ہوتا ہے، ایک فون کال کی دوری پر، ایک واٹس ایپ میسج کی دوری پر، بس گاڑی سٹارٹ کیجیے اور پہنچ جائیے۔
لیکن اے اہلِ جہاد!
آپ کی زندگی ایسی نہیں ہے!
آپ نے ان مذکورہ کاموں یا ان کے علاوہ کچھ کرنا ہو تو آپ کو کئی کئی دن صبر کرنا پڑتا ہے۔ کئی کئی ہفتے دعاؤں میں کٹتے ہیں۔ مہینوں مہینوں، سالوں سالوں آپ اپنے پیاروں سے مل نہیں پاتے۔ کیوں!؟ اس لیے کہ آپ نے اہلِ شرف، اہلِ مجد، اہلِ عزیمت کی راہ چنی ہے۔ ان لوگوں کی راہ جن کو قاعدین یعنی بیٹھنے والوں پر اللہ ﷻ نے فضیلت بخشی ہے۔ اب رتبۂ بلند ملا ہے تو اس کی محنتیں، اس کی خواریاں، اس کی زحمتیں بھی بڑی ہی ہوں گی۔ اب مالک ﷻ کا قرب بھی مشکل راہوں سے، بار بار فلک کو دیکھتی ترستی نگاہوں سے، راتوں کو تہجدوں میں اٹھ اٹھ کر مانگنے سے ملے گا۔ وہ ﷻ آپ کا محب بھی ہے اور محبوب بھی، آپ کا قوی و متین رب بھی اور جبار و قھار مولا بھی۔ وہ چاہتا ہے کہ میرا یہ بندہ جس کو میں نے رتبہ دیا ہے میرے سامنے مزید بچھے، مجھ سے مانگے پھر میں اس کو عطا کروں۔
اے سعادت و شہادت کے سفر پر نکلنے والو!
غم نہ کرو!
اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں……
٭٭٭٭٭
