اَلقاعِدہ کیوں؟ | ساتویں قسط

میں القاعدہ میں کیوں شامل ہوا؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ وکفیٰ والصلاۃ والسلام علیٰ أشرف الأنبیاء.

اللّٰھم وفقني کما تحب وترضی والطف بنا في تیسیر کل عسیر فإن تیسیر کل عسیر علیك یسیر، آمین!

(۱۰) ……کیونکہ وہ راہِ ملتِ ابراہیم ﷤ پر چلنے والے
خوش نصیب ترین لوگوں میں سے ہیں!

جان لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی کی ملت کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:

وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ(سورۃ البقرۃ۱۳۰)

’’ اور کون ہے جو ابراہیمؑ کے طریقے سے انحراف کرے ؟ سوائے اس شخص کے جو خود اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرچکا ہو۔ ‘‘

پس بے وقوف وہی ہے جو ملتِ ابراہیمؑ سے انحراف کرے۔ بندۂ مومن تو ہمیشہ شرعی نصوص کا تابع ہوتا ہے، اور اگر عقل و شریعت کے درمیان جھگڑا واقع ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی عقل پر شک کرے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمیں شریعت کے مقابلے میں نہ بے ہودہ پالیسیوں کی ضرورت ہے اور نہ کھوکھلی عقلوں کی۔ میں نے اس نکتے کے عنوان میں کہا تھا کہ القاعدہ کے علماء و مجاہدین ملتِ ابراہیم علیہ السلام پر چلنے والے لوگوں میں سے خوش نصیب ترین لوگوں میں سے ہیں۔

بھائیو! آئیے! ہم اللہ کے کلام کے مطابق ملتِ ابراہیم علیہ السلام کا تجزیہ کرتے ہیں اور پھر ان باتوں کو حالات پر منطبق کر کے دیکھتے ہیں کہ آیا معاملہ ایسا ہی ہے یا نہیں؟ فلہٰذا اس عنوان میں موجود میرے دعوے کو رد کرنے میں جلد بازی نہ کیجیے۔ آئیے اللہ پاک کا یہ فرمان دیکھتے ہیں:

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۡ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ (سورۃ الممتحنہ:۴)

’’ تمہارے لیے ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کرتے ہو، ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تمہارے (عقائد کےمنکر ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک تم صرف ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ۔ ‘‘

پس ہمارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے طرزِ حیات میں بہترین نمونہ ہے۔ جب وہ کمزوری کے دور میں تھے تو انہوں نے کفار اوران کی عبادت سے برأت کا اعلان کیا، اور بعض علماء کے بقول یہ اعلانِ برأت باطل عبادتوں اور باطل ادیان سے قبل ان ادیان اور ان خاص قسم کی عبادتوں کے پجاریوں سے ہے۔ اس لیے کہ انسان بعض دفعہ باطل طریقوں اور باطل عبادتوں سے تو برأت اختیار کرتا ہے، لیکن دنیوی مفادات کی بنا پر عبادت کرنے والوں یعنی لوگوں سے برأت نہیں کرتا۔ پس کوئی ملتِ ابراہیم کا سچا پیروکار اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ باطل ادیان کے ساتھ ساتھ ان باطل ادیان کے پیروکاروں سے بھی بیزاری و برأت کا اظہار نہ کرے۔ پھر ان حضرات نے صرف اعلانِ برأت ہی نہیں کیا، بلکہ مزید یہ بھی کہا کہ كَفَرْنَا بِكُمْ ، ’ہم نے تمہارا کفر کیا‘، تاکہ اللہ کے دوستوں اور اللہ کے دشمنوں کے درمیان واضح حدِ فاصل معلوم ہو جائے۔ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا، ’اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہوگیا ہے ‘، ان حضرات نے دشمنی کو نفرت و بغض پر مقدم رکھا کیونکہ دشمنی اعلانیہ ہوتی ہے، اور یہ دشمنی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ یہ اللہ کے کافر، اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان نہ لے آئیں۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے، اب آپ آئندہ سطور میں دیکھیے کہ کیسے اس ملت کی صفات القاعدہ پر بھی منطبق ہوتی ہیں۔

(۱۱) …… ہے ملتِ ابراہیمؐ کا تقاضا: کفار سے برأت!

القاعدہ امتِ مسلمہ کی مضبوط ترین اسلامی جماعتوں میں سے ایک ہے جو کفار سے برأت کا اعلان کرتی ہے، خواہ وہ کافرِ اصلی ہوں یا مرتدین۔ تعجب کی بات ہے کہ کچھ لوگ وضعی یا اللہ کی شریعت کے مقابلے میں بنائے گئے قوانین کو کفر مانتے ہیں اور اس مسئلے پر اہل السنۃ کا اجماع بھی نقل کرتے ہیں، مگر ان قوانین کے بنانے اور دل و جان سےماننے والوں سے برأت اختیار نہیں کرتے۔حالانکہ یہ غیر شرعی قوانین ان ریاستوں کے آئین میں واضح طور پر موجود ہیں، فلاں صفحہ، فلاں قانون، فلاں سیکشن ، فلاں دفعہ وغیرہ۔ لیکن آپ کہتے ہیں کہ یہ قانون تو کفری ہے لیکن اس کو وضع کرنے والے اوراسے غیر اللہ کا قانون جاننے کے باوجود بزورنافذ کرنے والے مسلمان ہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر اتمامِ حجت نہیں ہوا۔ اب بتائیے کہ اتمامِ حجت ظاہری مسائل میں قائم کیا جاتا ہے یا خفیہ مسائل میں؟ علماء کہتے ہیں کہ ’اتمامِ حجت کا اطلاق صرف خفیہ عقائد پر ہوتا ہے‘۔ ایک واضح عمل ہے جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہے، کیا اس پر پہلے اتمامِ حجت کیا جائے؟ کیا یہ بتایا جائے کہ سود و رِبا، ایل جی بی ٹی کیو پلس (LGBTQ+)، ٹرانس جینڈرازم، زناء بالرضاء، اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے نکاح کو ’حرام‘ قرار دینا، یہ سب خود حرام امور ہیں اور کتابوں سے ایسے واضح منکرات و حرام افعال کے لیے نصوص نکال کر لائی جائیں، پھر اتمامِ حجت ہو کہ زنا حرام ہے، پھر ان قانون سازوں کو سمجھایا جائے؟ فیا للعجب!

شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’حجة الله برسله قامت بالتمكن من العلم، فليس من شرط حجة الله تعالى علم المدعوين بها، ولهذا لم يكن إعراض الكفار عن استماع القرآن وتدبره مانعاً من قیام حجة الله تعالى عليهم، وكذلك إعراضهم عن استماع المنقول عن الأنبياء وقرأة الآثار المأثورة عنهم لا يمنع الحجة إذ المكنة حاصلة.‘‘ (الرد علی المنطقیین)

’’اللہ کی حجت اس کے رسولوں کے ذریعے علم تک رسائی سے قائم ہو جاتی ہے، اور یہ شرط نہیں کہ جن پر حجت قائم ہو، وہ اسے جانتے بھی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ کفار کا قرآن سننے اور اس پر غور کرنے سے اعراض کرنے کے سبب سے اللہ کی حجت ان پر قائم ہونے سے مانع نہیں ہے۔ اسی طرح انبیاء کی منقول باتوں کو نہ سننا اور آثار و روایات کا مطالعہ نہ کرنا بھی اتمامِ حجت کے قائم ہونے میں مانع نہیں ہے، کیونکہ علم حاصل کرنے یا حق کو سمجھنے کی کوشش کی قدرت و صلاحیت موجود ہے۔‘‘

کویت کے آئین میں شہری قوانین کی دفعہ اول دیکھیے:

’’اگر کوئی قانونی نص موجود نہ ہو، تو قاضی عرف کے مطابق فیصلہ کرے گا…… اور اگر عرف بھی نہ ہو تو فقہِ اسلامی کی روشنی میں، بشرطیکہ وہ ملک کے حالات اور مفادات سے ہم آہنگ ہو۔‘‘

خود ہی فیصلہ کیجیے، اللہ کی شریعت اور فقہِ اسلامی کی اس آئین و قانون میں کتنی حیثیت ہے؟

آئینِ پاکستان کے باب ۹ ’اسلامی احکام کا انطباق‘کی دفعہ ۲۲۷، شق اول میں درج ہے:

’’ پاکستان میں تمام موجود ہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے گا اور کوئی ایسا قانون نافذ نہیں کیا جائے گا جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔‘‘

جب پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں اسی مذکورہ شق پر بحث ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے لیے اس آئین کی تمام شقیں ایک جیسی ہیں (یعنی کوئی بھی اور انسانی ساختہ غیر شرعی شق بھی اور یہ بات بھی کہ یہاں قرآن و سنت کے مخالف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، دونوں باتوں کی حیثیت برابر ہے) اور کس شق کو کیسے ترجیح دینی ہے اور کیسے اس کی تطبیق کرنی ہے یہ کام عدالت عظمیٰ کا ہے۔

کیا اللہ کی شریعت اور غیر اللہ کے بنائے قوانین و آئین سازی، اس کی تشریح اور اس کے نفاذ کرنے والے عین مسلمان ہیں ؟ستم بالائے ستم یہ کہ اس قسم کی قانون سازی اور اس قسم کے آئین کے بعد، مثلِ ’چوری پر سینہ زوری‘ یہ ہے کہ ایسے ہی کالے قوانین کی بنیاد پر ان جدید ’ریاستوں‘ کو ’اسلامی‘ کہا جائے کی دھونس بھی ہے۔ یعنی حقوقِ نسواں بل سے حالیہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے نکاح کو ’اسلامی‘ آئینِ پاکستان کے مطابق ’حرام ‘ قرار دینے تک کے مسئلے پر جو بولے، اور جو ان قوانین و آئین و دساتیر کے اس کفری مواد کو کفر کہے تو وہی ’خارج عن ملتہ‘، یہ شخص خارجی و تکفیری ہے؟

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

ملتِ ابراہیم کفار سے دشمنی اور بغض کا اعلان ہے، اور القاعدہ یہود، نصاریٰ اور منافقین سے شدید ترین دشمنی رکھنے والے اہلِ ایمان میں سے ایک تنظیم ہے، بر خلاف ان لوگوں کے جو انہیں کافر سمجھتے ہیں لیکن کمزوری کا بہانہ بنا کر اپنے اس عقیدہ کا اظہار نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ تم طاغوتوں سے برأت کو کمزوری کے بہانے کیوں چھپاتے ہو؟ جبکہ تمہارا یہ آج کا دور تو مکی دور سے زیادہ طاقت ور ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا اصل پیغام علی الاعلان اور ببانگِ دہل پیش کیا!

پس اب معاملہ یہ ہے کہ یا تو تم لوگ واقعی مشکلات و مصائب برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور یہ واقعی کمزوری ہے (اور یہ عذر بھی مقبول ہو سکتا ہے اگر معاملہ صرف حق بات کو آزمائشیں برداشت نہ کر سکنے کے سبب چھپانے کی حد تک ہو، لیکن اگر تم حق کے خلاف بولنا بھی شروع کر دو اور کفری قوانین ہی کو اسلامی کہنا شروع کر دو تب یہ عذر کیسے قبول ہو گا؟) یا تم مصالح و مفاسد کے مطابق اظہار و کتمان کا دعویٰ کرتے ہو۔ لیکن یاد رہے وہ مصالح جو ملتِ ابراہیم کے خلاف جا رہے ہوں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے!

دو چیزوں میں واضح فرق ہونا چاہیے:

  1. وہ باتیں جن کا اظہار بہر حال و کیفیت ضروری ہے چاہے ہم کمزور ہی کیوں نہ ہوں، ان میں دعوت کے بنیادی اصول جیسے ’لا الٰہ الا اللہ‘ کا اعلان اور اللہ کے سوا جن جن کی عبادت کی جاتی ہے ان سب سے ’کفر‘۔ پرانے زمانے میں صلیب و اصنام ہی کی عبادت کی جاتی تھی، دورِ جدید کے اصنام بھی جدید ہو گئے ہیں، بقولِ عارفِ لاہوری اقباؔلؒ:

    اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور
    مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور

    ان جدید ’حرموں‘ میں انسانی خود ساختہ قوانینِ (وضعی)، جمہوریت، ریاست و وطن کے بت، اقوامِ متحدہ اور اس کے واضح کفری چارٹر جو دینُ اللہ کو انتہائی محدود ذاتی دائرے میں مقید کرتے ہیں، نظامِ اقامتِ صلاۃ تا جہاد کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہیں، وغیرہ۔ اس طرح جن امور کو صراحتاً بیان کرنا ضروری ہے تو اس میں مظاہرۃ الکفار یعنی کفار سے دوستی و ولاء کا تعلق، شرک و مظاہرِ شرک کی حفاظت اور ان سب مذکورہ یا اس نوعیت کے غیر مذکورہ امور سے برأت شامل ہے۔

  2. رہیں وہ باتیں جن کو چھپانا لازمی ہے تو ان میں مسلمانوں کی ملاقاتیں، خفیہ مجالس، جہاد و جہاد کے لیے تیاری کے مراحل، دیگر خدماتِ دین جن کے سبب کفار مسلمانوں کو اذیت دیتے ہیں تو ایسے امور سے متعلقہ افراد کی تفصیلات کو خفیہ رکھنا، نیز دیگر ضروری راز وغیرہ۔

القاعدہ نے اسوۂ ملتِ ابراہیم پر عمل کرتے ہوئے دنیا بھر کے طاغوتوں سے اعلانِ برأت کیا اور اپنی خفیہ سرگرمیاں مصلحت کے تحت چھپائیں۔ اب ملتِ ابراہیم کے زیادہ قریب کون ہوا؟ القاعدہ اور دیگرِ مجاہدین یا وہ جس نے طاغوتوں کا ہر قسم کا کفر جانتے ہوئے بھی ان سے نرمی برتی؟

کچھ حضرات کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ وہ ظاہر میں عوام اور عوامی اجتماعات کے سامنے کہتے ہیں کہ یہ حکمران مسلمان اور شرعی اولو الامر ہیں۔ پھر یہی لوگ اپنے بعض خاص حلقوں میں کہتے ہیں کہ یہ حکمران نہ اپنے ظاہر میں مسلمان ہیں نہ اپنے باطن میں ، یہ حکمران منافقوں سے بھی اسفل ہیں بلکہ یہ تو کافر ہیں کافر!

کیا ملتِ ابراہیم اس کا نام ہے کہ اسامہ بن لادن و ایمن الظواہری پر ظاہراً و باطناً طعن و تشنیع کی جائے، حالانکہ ان کا امت پر ایک عظیم احسان ہے، وہ کافروں کی ناک خاک آلود کرنے والے ہیں۔ ملتِ ابراہیم تو کفار کے لیے دشمنی اور نفرت کا اعلان ہے۔

القاعدہ نے یہود و نصاریٰ اور ان کے منافق ایجنٹوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ہے، اور اس نے خلافتِ اسلامیہ کے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر، فلپائن تا اندلس دوبارہ قائم ہونے تک جہاد کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ جہاد صرف اندلس کی آزادی تک نہیں رکے گا، بلکہ یہ سلسلے آگے بڑھے گا یہاں تک کہ کفار کی سرزمینیں بھی فتح ہو جائیں، رومۃ الکبریٰ کے چوراہے، لندن کے ایوان اور واشنگٹن کا وائٹ ہاؤس۔ پس ایسا اعلان اور ایسا منصوبہ رکھنے والی امت خوش نصیب ترین امت اور ملتِ ابراہیم ہے اور القاعدہ اسی کا ہراول دستہ ہے۔ ہم تو رسولِ محبوب، محمدِ مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کے امتی عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے وارث ہیں، جنہوں نے جہاں تک ان کی سواریوں نے ساتھ دیا تو وہاں تک جہاد برپا کیے رکھا۔ پھر جب وہ افریقہ کے مغربی کنارے تک پہنچ گئے اور سامنے ایک ٹھاٹیں مارتا سمندر تھا تو وہاں انہوں نے اپنے گھوڑے کو سمندر میں ڈال دیا اور کہا:

’’اللھم اشهد أني قد بلغت المجهود، ولولا هذا البحر لمضيت في البلاد أقاتل من كفر بك حتى لا يعبد أحد من دونك!‘‘

’’اے اللہ تو گواہ رہ کہ میں نے اپنی بھرپور کوشش کر لی ہے، اور اگر یہ سمندر میری راہ میں حائل نہ ہوتا تو میں تیرے دین کے دشمنوں سے لڑتا ہوا آگے بڑھتا رہتا، یہاں تک کہ زمین پر کوئی تیرے سوا معبود باقی نہ رہتا۔‘‘

’’يا ربّ لولا هذا البحر لمضيت في البلاد مجاهداً في سبيلك.‘‘

’’اے میرے ربّاگر یہ سمند آڑے نہ آتا تو میں تیرے راستے میں جہاد کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا۔‘‘

خود امریکہ، جو کہ آج اسلام و اہلِ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے، یہی امریکہ گواہی دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ القاعدہ سے ڈرتا ہے اور دشمنی رکھتا ہے۔ شیخ اسامہ کو شہید کرنے کو امریکہ نے اپنی عظیم ترین کامیابی بیان کیا۔ رہے امریکہ کے دم چھلے اور غلام و خادم حکمران تو وہ بھی اسلام دشمنی اور امریکی وفا میں سب سے زیادہ القاعدہ ہی سے دشمنی رکھتے ہیں اور القاعدہ ہی کی قیادت کو امریکیوں کو بیچنے میں اپنے لیے سب سے بڑا فخر جانتے ہیں۔ کسی کے حق پر ہونے کی اس سے بڑی گواہی کیا ہو گی کہ اللہ کا دشمن اس کا دشمن ہو۔

اے بندۂ مسلمان! آج کے دور میں کاملاً و اکملاً ملتِ ابراہیم کی راہ پر عمل تبھی ممکن ہے جب اس راہ پر چلنے کی بھاری قیمت چکانے کا عزم و حوصلہ موجود ہو۔ اس کے لیے اپنے نفس کو اذیت برداشت کرنے کے لیے تیار کرنا پڑتا ہے اور ان تکلیفوں سے گزرے بغیر ملتِ ابراہیم کی راہ پر چلنا…… ایں خیال است و محال است و جنوں!

کچھ لوگ اس راہ کے ساتھ جڑنے اور اس راہ کے ساتھ جوڑنے کے بجائے اس راہ کو چھپانےپر راضی و قانع ہو جاتے ہیں، اس لیے کہ وہ تبدیلی لانے پر قادر نہیں ہوتے۔ ایسے حضرات سے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے دو راہیں ہیں۔

  1. بات کو بیان کرنے کی قدرت
  2. تبدیلی لانے کی صلاحیت

پس اگر ہمارے پاس بات کہنے کی حد تک ہی قوت ہو تو یہی ہم سے مطلوب ہے، اس کو عملی تبدیلی برپا کر دینے سے مشروط نہیں کرنا چاہیے۔ تبیان و بیانِ حق خود ایک مستقل عبادت ہے جیسا کہ براہیمی ملت کا طریقہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہج ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تبدیلی لانے کی قوت نہیں تھی، تب بھی آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے تبیان و بیانِ حق فرمایا اور اعلان فرمایا کہ تبدیلی کی قوت تبھی حاصل ہو گی جب تبیان و بیانِ حق ہو چکا ہو گا۔ پس جو ملتِ ابراہیم علیہ السلام کی طرف نسبت رکھتا ہو تو وہ جان لے کہ اس راہ پر چلنے والوں کو اس راہ کی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔ حضرتِ سیّدہ سمیّہ رضی اللہ عنہا، ان کے شوہر حضرتِ سیّدنا یاسر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مثالیں نہایت واضح ہیں۔

اللھم اجعلنا هادين مهتدين، غير ضالّين ولا مضلّين، سلماً لأوليائك، وحرباً علی أعدائك، نحب من أحبك، ونعادي بعداوتك من خالفك. اللهم هذا الدعاء ومنك الإجابة، اللهم هذا الجهد وعليك التكلان، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، آمين!

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version