مدرسہ و مبارزہ | آٹھویں قسط

مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک

زیرِ نظر تحریر افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجاہد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر افغانستان میں مدارس اور دینی تعلیم کے نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے ، لیکن کتاب میں بیان کی گئی امت مسلمہ کی حالت اور اس حوالے سے جو مطالبہ ایک افغان عالم ِاور مدرسے سے کیا گیا ہے وہ درحقیقت باقی عالمِ اسلام کے علماء اور مدارس سے زیادہ مطلوب ہے۔ اس لیے کہ افغانستان میں تو آج ایک شرعی و اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے جبکہ باقی عالَمِ اسلام اس سے کہیں پیچھے ہے۔ اس کتاب کے اصل مخاطبین علماء و طلبہ ہیں جن کی تاریخ بالاکوٹ، شاملی، صادق پور اور دیوبند کے پہاڑوں، دروں، میدانوں اور مساجد و مدارس کے در و دیوار پر نوشتہ ہے! ومن اللہ التوفیق! (ادارہ)


باب سوم: مدارس کے موجودہ تعلیمی نصاب میں معاصر فکری ادب کی کمی ایک ناقابلِ تلافی خسارہ (۲)

فکری جنگ کو سمجھنا اور اس کا مقابلہ کرنا کیوں ضروری ہے؟

اس لیے کہ جب ہم اس جنگ کی حقیقت کو سمجھ لیں تو ہمیں یہ احساس ہوگا کہ دینی مدارس کے نصاب میں اس جنگ سے متعلق علوم اور فکری لٹریچر کو شامل کرنا کتنا ضروری ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہم اسلام کے دفاع کے لیے ایک نہایت بڑی اور پیچیدہ جنگ میں مصروف ہیں، جو زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں جاری ہے۔ یہ جنگ عسکری، معاشی، فکری، ثقافتی، ادبی، اخلاقی، دینی، سماجی ڈھانچے اور زندگی کے ہر شعبے میں چل رہی ہے، اور اس خلا کو پُر کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

اس پیچیدہ جنگ کے منصوبہ سازوں نے امتِ مسلمہ کے اندر اُن افراد کی بڑی باریکی سے نشاندہی کی ہے جنہیں وہ اپنا ہدف بنانا چاہتے ہیں۔ پھر ہر ایک کو متاثر کرنے کے لیے اُن کی فکر و نظریے کو بدلنے اور ذہن سازی کے مختلف پروگرام اور ذرائع ترتیب دیے ہیں، تاکہ وہ انہیں اسلامی عقائد، افکار اور اقدار سے دور کر کے اپنے پیچھے لگا سکیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بیگانے نظریات اور افکار مسلمانوں کے دل و دماغ میں اس طرح جگہ بنا لیتے ہیں کہ وہی انہیں اصل اور سچ لگنے لگتے ہیں۔

اس جنگ کے ماہرین نے عورتوں کے لیے بھی مخصوص فکری اقدار اور حیثیتیں تراش رکھی ہیں تاکہ مسلمان عورت مغربی اقدار اپنا کر اپنے فطری اور شرعی مقام سے ہٹ جائے۔ ’’عورت کی آزادی‘‘، ’’عورت کے حقوق‘‘ اور ’’مساوات مرد و زن ‘‘ کے نعرے بلند کرکے اسے اپنی دینی ذمہ داریوں کے مقابل لاکھڑا کیا جائے۔

خواتین بھی بغیر اس پر غور کیے کہ آیا وہ حقوق ان کے لیے بہتر ہیں جو اسلام اور ان کی اپنی معاشرت نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں، جن میں ان کا دینی، فکری، اخلاقی اور سماجی مقام محفوظ رہتا ہے، یا وہ حقوق اور مطالبات ان کے حق میں ہیں جو کسی دوسرے دین، دوسری تہذیب، دوسرے عقیدے، دوسرے ماحول یا حتیٰ کہ کسی دوسرے براعظم کے لوگوں نے ان کے لیے طے کیے ہیں، مغربی نعروں کے پیچھے چل پڑتی ہیں؟

ہم دینی مدارس سے وابستہ افراد کو یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ اقتصادی میدان میں بھی مسلمانوں کی معیشتوں پر ایسی مافیا نما تنظیمیں اور ادارے مسلط کیے گئے ہیں کہ سرمایہ، معاشی قوانین، ضوابط، لین دین اور مالی نظام سے متعلق جو کچھ بھی بنتا یا چلتا ہے، اس کی ترتیب اور نظام سازی میں طاقتور حکومتوں اور بڑی عالمی معاشی طاقتوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔

سرمایہ کی تنظیم اور گردش یوں مرتب کی جاتی ہے کہ زمین اور معدنیات تو ہماری ہوں، لیکن ان کے فوائد دوسروں کو پہنچیں۔ اقتصادی سرگرمیاں اس طرح ڈھالی جاتی ہیں کہ مسلمان، خصوصاً اسلامی تحریکیں، کمزور ہوں اور دب جائیں۔ معاشی معاملات کی باگ ڈور ایسے لوگوں کو دی جاتی ہے جن کا دین سے کوئی تعلق اور التزام نہ ہو۔ بڑی بڑی معاشی کمپنیوں کے سربراہان، کلیدی وزارتوں کے وزراء، اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں طے کرنے والے درحقیقت مسلمانوں میں غربت پیدا کرنے والے اور عالمی استحصالی طاقتوں کے شریک کار ہوتے ہیں۔

مدارس سے وابستہ افراد کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ دشمن نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنا ہدف بنایا ہے، اور ہر میدان میں ہمیں کمزور کرنے اور ہمارے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے منظم منصوبے تیار کیے ہیں۔ انہوں نے ایسے افراد تیار کیے، ان کے لیے ادارے اور تنظیمیں بنائیں، اور ان پر ماہرین اور ٹیکنوکریٹس کی ایسی پُر فریب شناخت مسلط کی کہ گویا یہی لوگ اسلامی ممالک کی اصل پہچان ہیں۔ انہیں نظام کے مخلص منتظم، وطن کے رہنما، قوم کے خیرخواہ اور عوام کے حقیقی غم خوار بنا کر پیش کیا گیا۔ یہ تاثر دیا گیا کہ اگر یہ لوگ نہ ہوں تو ملک تباہ ہو جائیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ طبقہ، اپنے تمام عہدوں اور القابات کے باوجود، اس امت کے دین، اقدار، مفادات، ترجیحات اور مستقبل سے کوئی حقیقی وابستگی یا عہد نہیں رکھتا۔

اس حقیقت کو بھی ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہم مسلمان اسلام کے غلبے اور حاکمیت کے لیے ایک عظیم جنگ میں مصروف ہیں۔ لیکن یہ جنگ نہایت پیچیدہ، باریک اور زندگی کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے۔ جب یہ جنگ اس قدر وسیع اور ہر شعبۂ زندگی کو گھیرے ہوئے ہے تو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہمارے علماء، طلباء، اساتذہ، شاگرد اور پڑھے لکھے و ناخواندہ عوام ان سب کی اس جنگ کے بارے میں آگاہی اور بصیرت کس درجےکی ہے؟ کیا وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ یا کم از کم اس کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ کر سکتے ہیں؟

دینی مدارس میں فکری جنگ کے موضوعات سے آگاہی اور اس کے ذریعے لوگوں کو فکری فتنوں کے شر سے بچانا بالکل ایسا ہے جیسے کسی شہر میں حکومت اور نظام قائم ہو، مواصلات کا نظام موجود ہو، موسمیات کا فعال نظام ہو اور محکمہ موسمیات عوام کو علم و سائنس کی بنیاد پر بارش، برفباری اور طوفان کے بارے میں بروقت اور درست معلومات فراہم کرے کہ کس وقت بارش یا طوفان آئے گا، کتنی دیر تک رہے گا، اس کے ممکنہ خطرناک نتائج کیا ہوں گے، اور عوام کو کس طرح کے حفاظتی اقدامات کرنے چاہییں۔ ایسی صورت میں اگر بڑے سیلاب اور طوفان بھی آ جائیں تو بڑے نقصانات نہیں ہوں گے، اگرچہ لوگ سیلاب یا طوفان کو روک نہیں سکتے، لیکن کم از کم اپنی جانوں اور ضروری سامان کو بچا سکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی ملک میں موسمیات کا کوئی نظام یا آگاہی نہ ہو، اور بارش یا طوفان اچانک اس وقت آجائے جب لوگ بے خبر اور سو رہے ہوں، تو جب تک وہ جاگیں گے، تب تک بڑا نقصان ہوچکا ہوگا۔

پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ خطرات کی پہچان، دشمن کے منصوبوں اور سازشوں سے باخبر رہنا، اور اس عظیم و پیچیدہ جنگ کے فکری و فلسفیانہ لٹریچر کو سمجھنا وہ امور ہیں جو ہمیں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں، اور اگر ہم مقابلہ نہ بھی کرسکیں تو کم از کم اپنے آپ اور اپنی قوم کو ایک حد تک ان خطرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اہلِ مدارس کو فکری جنگ کا مقابلہ کیوں کرنا چاہیے؟

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں وابستگانِ مدارس سے مغرب کے فکری اثرات کے سدباب کی توقع کیوں رکھتا ہوں اور اسے ان کی بنیادی ذمہ داری کیوں سمجھتا ہوں؟ اس کے دو اہم دلائل ہیں:

    1. اہلِ مدارس سے اس لیے فکری جنگ کا مقابلہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے کہ دینی تعلیم، دینی رہنمائی اور دینی خدمت کی ذمہ داری انہی کے کندھوں پر ہے۔ فکری اور علمی اعتبار سے دین کا دفاع کرنا بھی انہی کا کام ہے۔

      انہیں چاہیے کہ دشمن کی فکری یلغار کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، دشمن کی طرف سے لوگوں کے دلوں میں ڈالے گئے شبہات کا مدلل جواب دیں، اور نئی نسل کے ان لاکھوں افراد کو جو دشمن کے پروپیگنڈے اور فکری و تہذیبی اثرات کی وجہ سے گمراہ ہوئے ہیں اور دشمنوں پر بھروسہ کرنے لگے ہیں، دوبارہ اپنے دینی اور سماجی اقدار کی طرف لوٹائیں۔

      اگرچہ اسکول اور یونیورسٹیاں علم کے بڑے اور اہم مراکز ہیں، لیکن فی الحال ان سے دشمن کی فکری جنگ کا مقابلہ کرنے کی توقع اس لیے نہیں کی جا سکتی کہ یہ ادارے ایسے سیکولر طرز کے نظاموں کے تحت قائم اور چلائے گئے ہیں، جو نہ دین کی بالادستی پر یقین رکھتے تھے، نہ دین کی اشاعت اور اس کے دفاع کا ارادہ رکھتے تھے، اور نہ ہی اپنے نصاب اور تعلیمی ڈھانچے کو اس مقصد کے لیے بنایا تھا کہ طلبہ ان سے دینی فکر حاصل کریں۔

      یہ درست ہے کہ ان تعلیمی اداروں نے سماجی، ادبی، سائنسی، تجرباتی اور انسانی علوم میں لوگوں کو ماہر بنایا، لیکن فکری لحاظ سے انہوں نے اپنے طلبہ کو نہ اسلامی فکر اور تہذیب میں پروان چڑھایا، اور نہ ہی انہیں مغربی مادی فکر کے زہریلے اثرات سے بچایا۔ ایسے نصاب اور تربیت کے نتیجے میں ایسے پڑھے لکھے طبقے وجود میں آئے جن میں سے اکثر نے معنویت اور دینی ذمہ داریوں کے بجائے مادی مفادات کو ترجیح دی۔ اسی بنا پر وہ یا تو دشمن کے ساتھ کھڑے ہوئے، یا کم از کم دین اور وطن کے دفاع کی جدوجہد میں شامل نہ ہو سکے جس کا فائدہ بالآخر دشمنوں کو ہی ہوا۔

      اس کے برعکس، مدرسے کی فکر سے سیراب ہونے والے اکثر لوگوں نے بیرونی یلغار کے مقابلے میں دین اور وطن کا دفاع کیا، آزمائش کے وقت اپنا استقلال قائم رکھا، فقر اور بھوک پر صبر کیا، اپنے دینی اور سماجی اقدار سے وابستگی دکھائی، اپنے اقدار کی حفاظت کی اور ان پر کسی کے ساتھ سودے بازی نہیں کی۔

    2. اہلِ مدارس سے دشمن کی فکری یلغار کے مقابلے کی توقع اس لیے بھی کی جاتی ہے کہ قوم و ملت کے افراد دینی معاملات میں اہلیانِ مدارس پر اعتماد کرتے ہیں۔ روزانہ کم از کم پانچ وقت ان کی اقتدا کرتے ہیں اور ان کی بات سنتے ہیں، جبکہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے پاس صرف ضرورت کے وقت جاتے ہیں۔

اس فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر اہلِ مدارس عصرِ حاضر کی فکری اور تہذیبی جنگ کے بارے میں فکری لٹریچر، جدید معلومات، اور مقابلے کی حکمتِ عملی رکھتے ہوں، عوام کو دشمن کی فکری جنگ کے خطرے سے آگاہ کرسکیں، اور ایمان کے تحفظ کی اس خطرناک معرکہ آرائی میں لوگوں تک دین کے اصل مفاہیم عصرِ حاضر کی زبان میں پہنچا سکیں، تو عوام ان کے لیے ایسے تیار سپاہی شمار ہوں گے جو ہر حال میں بغیر کسی معاوضے کے ان کی بات مانیں گے اور قربانی دینے پر آمادہ رہیں گے۔

افغان معاشرے میں عوام اور ملّا (امام مسجد)، مسجد اور مدرسے کے درمیان اتنا مضبوط تعلق ہے کہ کوئی آسانی سے اسے توڑ نہیں سکتا۔ افغانستان میں جتنے بھی مغرب نواز نظام اور جماعتیں آئیں اور عوام کو ملّا سے کاٹنے کی کوشش کی، وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکیں کہ عوام اور ملّا کو ایک دوسرے سے جدا کر دیں۔

چونکہ اس معاشرے میں ملّا اور مدرسہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں، اس لیے محراب و منبر کے وارث میں یہ صلاحیت پیدا ہونی چاہیے کہ وہ اس پیچیدہ، ہمہ جہت اور خطرناک جنگ کی قیادت اور رہنمائی کر سکے۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر زمانے کی اپنی فتنہ انگیزیاں اور کفر و گمراہی کی اپنی صورتیں رہی ہیں۔ ان کے خلاف جدوجہد اور ان کے ساتھ علمی مباحثے کے لیے الگ معلومات اور الگ طریقۂ استدلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے ماضی میں ’’منطق‘‘ کے نام سے عقلی علوم پڑھائے جاتے تھے۔

لیکن آج کے دور میں کفر کے افکار، کفر اور اسلام کے درمیان تصادم کے میدان، مقابلے کے ذرائع اور طریقے بالکل بدل چکے ہیں۔ دشمن کے اثر و رسوخ کے وسائل بہت ترقی یافتہ ہو گئے ہیں۔ اس نے فضاؤں پر قبضہ کرلیا ہے، اور کمپیوٹر کے ایک بٹن دبانے سے کروڑوں مسلمانوں تک اپنا پیغام پہنچا دیتا ہے۔ اپنی ریاستوں، کمپنیوں، فلم سازی کے اداروں، سیاسی، علمی و فکری مراکز اور منظم پروگراموں کے ذریعے مسلمانوں کی نئی نسلوں کو متاثر کرتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دینی مدارس بھی اپنے طلبہ کو ایسی تربیت دیں کہ وہ نئے حالات کا بخوبی مقابلہ کرسکیں۔

اگر منطق کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کے ساتھ اس کے ذریعے استدلال کیا جائے، تو آج کی فکری اور اعتقادی گمراہ جماعتیں موجودہ فکری جنگ میں پرانی منطقوں سے استدلال نہیں کرتیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مدارس میں پرانی منطق کی مقدار کم کی جائے اور اس کی جگہ طلبہ کو ایسی نئی منطق اور استدلال سکھایا جائے، جس کے ذریعے آج اسلام کا دفاع کیا جا سکے اور کفر و گمراہی کی جدید شکلوں جیسے کمیونزم، لبرل ازم، نیشنلسٹ نظریات، ریشنلزم (عقل پرستی)، ہیومینزم اور جدید الحاد کی دوسری صورتوں کے خلاف مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

آج دشمن نے مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لیے اپنے افکار، جنگ کے میدان، ذرائع اور مسلمانوں پر ضرب لگانے کے اہداف نہایت باریکی اور مہارت سے طے کر رکھے ہیں۔ آج دشمن نے امتِ مسلمہ کے افراد اور مجموعی طور پر امتِ مسلمہ کو بھی اپنے ہدف بنا رکھاہے تاکہ منظم طریقے سے ان سب میں اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی لے آئے۔

لیکن افسوس کہ ہم مدارس میں ایسی استدلالی منطق نہیں پڑھاتے جو موجودہ فکری، اعتقادی، اخلاقی، تہذیبی اور ثقافتی جنگ کے میدان میں عالم اور طالب علم کے ہاتھ میں استدلال کا مؤثر ہتھیار دے سکے۔

آج مدارس میں ہمارے رائج نصاب کے اثرات کی وجہ سے ہمارا طالب علم جسمانی طور پر اکیسویں صدی میں زندگی گزار رہا ہے، لیکن فکری، نفسیاتی اور تصوراتی لحاظ سے وہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں صدی میں جی رہا ہے۔ البتہ یہ بات میں شریعت کے نصوص اور ان کے فقہی فہم کے حوالے سے نہیں کر رہا، کیونکہ شریعت کے نصوص اور ان کا فقہی فہم کل بھی تازہ تھا، آج بھی تازہ ہے، اور تب تک تازہ رہے گا جب تک یہ دنیا قائم ہے۔

یہ فرق میں اس لحاظ سے ذکر کر رہا ہوں کہ ہر دور میں تہذیبوں کے تصادم اور مقابلے کی صورت میں مختلف ثقافتیں، مختلف اصطلاحات، مختلف استدلال کے طریقے اور مختلف فکری ادبیات وجود میں آتی ہیں، اور اسی وقت ان کے ذریعے اسلام اور مسلم امت کے اقدار کا دفاع کیا جاتا ہے، جس کی بدقسمتی سے آج ہمارے مدارس میں تدریس نہیں کی جاتی۔

اس بات کو واضح کرنے کے لیے کہ مدارس میں پرانی منطق کی اتنی ضرورت نہیں جتنی کہ فکری مقابلے کے جدید علوم کی ضرورت ہے، میں ایک فرضی مثال پیش کرتا ہوں:

فرض کریں کہ ہمارے ہر گاؤں میں پانچ سو گھر ہیں، اور ہر گھر میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کسی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اور یہ تمام نوجوان اس موجودہ فکری، اخلاقی، تہذیبی، دینی، تاریخی اور اقداری جنگ کے شعلوں میں گھِرے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اپنی معاشرت کی حقیقت کے مطابق ایک فرضی شماریہ ذہن میں لیں، تو ان ہزار افراد میں سے شاید بیس، تیس یا پچاس لوگ دینی مدرسے جاتے ہوں گے، لیکن باقی نو سو پچاس افراد اسکول یا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔

اب اگر یہ سوال کریں کہ ان ہزار افراد میں سے کتنے لوگ دینی عالم سے ارسطو، افلاطون اور فارابی کی منطق چاہتے ہیں؟ جواب واضح ہے کہ صرف وہ پچاس لوگ اور بس۔ لیکن وہ لوگ جو الحاد، سیکولرازم، قوم پرستی، انسان پرستی، عقل پرستی اور مغرب کے دیگر وارد شدہ فتنوں سے محفوظ رہنے کے لیے علم حاصل کریں، اور ان کے ذریعے تمام خاندان معاصر فتنوں سے محفوظ رہیں، وہ صرف پچاس نہیں، بلکہ ہزاروں ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم مدرسے میں پرانی منطق کی سولہ کتابیں صرف ایک گاؤں کے پچاس افراد کو تعلیم دینے کے لیے پڑھاتے ہیں، لیکن آج کے زمانے کے فتنوں اور تقاضوں سے ہزاروں مسلمانوں کو آگاہ کرنے اور جدید زمانے کے باطل کی پہچان کرانے کے لیے ایک کتاب بھی نہیں پڑھاتے!

اسلامی دنیا میں فکری جنگ کے مقابلے کے دو عظیم مجاہد علماء

آج عالمِ اسلام میں بہت سے معاصر علماء، داعیانِ دین اور مفکرین نے فکری میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے ایسے علمی و دعوتی کام اور تصنیفات پیش کی ہیں جن کے ذریعے اسلام کے دشمنوں کے فکری اثرات کی روک تھام ہوئی اور مسلمانوں کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا گیا۔

ان علماء میں دو عظیم مجاہد علماء ایسے ہیں جنہوں نے اپنی فکر اور علمی خدمات کے ذریعے پورے عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو کفار کی فکری جنگ کے مقابلے میں بیدار کیا، معاصر جدوجہد کا منہج اور فکری اسلوب سکھایا اور انہیں فکر کے ہتھیار سے مسلح کیا۔ یہ دو عظیم شخصیات درج ذیل ہیں:

  1. علامہ سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ
  2. استاد محمد قطب رحمہ اللہ

علامہ سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ

علامہ ندوی ۱۹۱۴ء میں ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے گاؤں تکیہ کلاں میں ایک عظیم علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، علامہ سید عبدالحی حسنی رحمہ اللہ، نے ہندوستان کے گذشتہ آٹھ صدیوں میں گزرے ہوئے علماء کے تذکروں اور سوانح پر آٹھ جلدوں پر مشتمل ایک عظیم کتاب ’’الاعلام بمن في تاريخ الهند من الأعلام‘‘ لکھی، جو دنیا کی بڑی لائبریریوں میں ایک اہم علمی مأخذ شمار ہوتی ہے۔

علامہ ندوی نے چودہ برس کی عمر تک مروجہ علوم حاصل کیے۔ انہوں نے فارسی، عربی اور انگریزی زبانیں سیکھیں اور پندرہ سال کی عمر (۱۹۲۹ء) میں دارالعلوم ندوۃ العلماء سے درسِ حدیث مکمل کیا۔ اس کے بعد لاہور میں علامہ احمد علی لاہوری رحمہ اللہ سے علمِ تفسیر میں اکتسابِ فیض کیا اور دارالعلوم دیوبند میں علامہ حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے حدیث و تفسیر کی تعلیم پائی۔

۱۹۶۱ء سے لے کر ۱۹۹۹ء تک، یعنی اپنی وفات تک، وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے صدر رہے۔ اسلامی فکر اور امتِ مسلمہ کے اہم مسائل پر انہوں نے تین سو سے زائد کتابیں اور رسائل اور سیکڑوں مقالات تحریر کیے۔

علامہ ندوی نے عربی و اسلامی دنیا کے متعدد علمی مجلات میں لکھا اور دنیا کے بڑے علمی مراکز اور اداروں میں صدر یا رکن رہے۔ چند ادارے درج ذیل ہیں:

  1. صدردارالعلوم ندوۃ العلماء ہندوستان (ہندوستان)
  2. صدر رابطہ ادب اسلامی(ریاض، سعودیہ)
  3. صدر آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز(انگلستان)
  4. ہندوستان میں مسلمانوں کے عائلی قوانین بورڈ کے صدر۔(ہندوستان)
  5. اتر پردیش کے اسلامی تعلیمات بورڈ کے صدر۔(ہندوستان)
  6. رابطۂ عالمِ اسلامی کی تأسیس مجلس کے رکن۔( مکہ مکرمہ، سعودیہ)
  7. اسلامی دعوت کی عالمی مجلس کے بانی ارکان میں شامل۔ (قاہرہ، مصر)
  8. دمشق میں عربی زبان اور لغات کی انجمن کے رکن۔(شام)
  9. قاہرہ میں عربی زبان اور لغات کی انجمن کے رکن۔(مصر)
  10. عربی زبان اور لغات کی انجمن کے رکن۔(اردن)
  11. اسلامی تہذیب و تمدن کی تحقیقاتی شاہی انجمن کے رکن۔ (اردن)
  12. مراکش میں دنیا کی اسلامی جامعات کی عالمی رابطہ کمیٹی کے رکن۔(مراکش)
  13. مدینہ منورہ کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی مشاورتی بورڈ کے رکن۔(سعودیہ)
  14. اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی مشاورتی بورڈ کے رکن۔(پاکستان)
  15. دارالعلوم دیوبند کی مشاورتی مجلس کے رکن۔(ہندوستان)

علامہ ندویؒ کو کافی بہتر واقفیت حاصل تھی کہ مغرب کا معاصر فکری اور اخلاقی فلسفہ بنیادی طور پر الحاد پر مبنی ہے، اور اس کے مقابلے میں موجودہ مسلمانوں کو مضبوط فکری موقف اختیار کرنا چاہیے۔

علامہ ندویؒ نے اپنے زمانے میں اسلامی فکر کے میدان میں ایک ایسا عظیم کام انجام دیا جو بہت کم لوگوں نے کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں میں دین اسلام کو ایک جامع اور مجموعی انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ دیگر علماء نے دینی علوم کے مختلف شعبوں کو علیحدہ علیحدہ اور تخصصی انداز میں پیش کیا ہے، لیکن علامہ ندویؒ نے مختلف دینی موضوعات پر گہری اور تخصصی تحریریں لکھنے کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر بھی اسلام کی معرفت کے بارے میں بھی گہری اور مؤثر تحریریں مرتب کیں۔

علامہ ندویؒ نے دینِ اسلام اور امتِ مسلمہ کو بخوبی سمجھا۔ وہ مسلمانوں کے موجودہ مسائل، ان کے حالات اور درپیش چیلنجز سے خوب واقف عالم تھے۔ انہوں نے موجودہ دور کے مسلمانوں کے لیے اسلام کے بارے میں سلفِ صالحین کے فہم اور فکر کا روشن اور واضح منظرنامہ پیش کیا، اور اس وقت کے کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی فکری اور عسکری برتری کے اسباب و عوامل بیان کیے۔ ساتھ ہی، انہوں نے حالیہ زمانے میں مسلمانوں کی اسلامی فکر اور طریقہ کار سے انحراف کے اسباب و عوامل بھی واضح کیے۔

علامہ ندویؒ نے مسلمانوں کے انحراف کے وہ اسباب اور عوامل بیان کیے جن کے نتیجے میں امتِ مسلمہ نے کفار کے مقابلے میں متعدد میدانوں میں شکست کھائی۔ انہوں نے ان تمام عوامل پر گہرے، پختہ، ہر پہلو سے جائز، منطقی اور حقیقی تبصرے کیے اور تقریباً تین سو کتابیں تصنیف کیں۔

علامہ ندویؒ کی کچھ کتابیں زاہدان میں اہلِ سنت کے بڑے دینی ادارے دارالعلوم مکی کے استاذ، عالم دین اور مولانا محمد شفیع رحمہ اللہ کے شاگرد، شیخ الحدیث مولانا قاسم بنی کمال قاسمی حفظہ اللہ نے فارسی زبان میں ترجمہ کی ہیں، جو عالمِ اسلام کے بڑے فقہی مجامع میں رکنیت رکھتے ہیں، اور یہ کتابیں افغانستان میں بھی پہنچیں، اور الحمدللہ نوجوان طبقے میں ان کے کئی قاری پیدا ہوئے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس امام، روحانی شخصیت، داعی، فقیہ، ادیب، مؤرخ اور امت شناس شخصیت کی کتابیں ہمارے مدارس میں موجود نہیں ہیں اور طلبہ مدارسِ دینیہ ان سے ناواقف ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس عظیم شخصیت کی کتابیں پڑھیں، اور ان کے ہر لفظ کو اپنے دل و جان میں جگہ دیں، تاکہ یہ کہاوتوں کی طرح ہماری زبانوں پر جاری ہو جائیں۔

یہ علامہ ندوی رحمہ اللہ کی ایک کتاب ہے ’’ماذا خسرالعالم بانحطاط المسلمین‘‘ (اردو ترجمہ: انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر)۔ اس کتاب میں انہوں نے وہ دور بیان کیا ہے جب امتِ مسلمہ ترقی کی راہ پر گامزن تھی اور ہر دن عالمِ اسلام کا رقبہ وسیع اور مضبوط ہو تا جارہا تھا۔ اس کتاب میں انہوں نے مسلمانوں کی خصوصیات اور ان کے فکری، تہذیبی اور اخلاقی پہلوؤں پر بات کی ہے کہ وہ کس طرح دوسری قوموں پر برتری رکھتے تھے اور کس طرح وہ اپنی اقدار کو چھوڑے بغیر دیگر اقوام کے علوم اور تہذیبوں سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

علامہ ندوی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں نہایت باریک بینی سے یہ تبصرہ بھی کیا ہے کہ مسلمان کیوں اور کیسے کمزور ہوئے؟ اور اس کمزوری کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ انہوں نے خود کیا کھویا بلکہ ان کے زوال کی وجہ سے پوری دنیا نے کیا کچھ کھویا؟

علامہ ندوی کی یہ کتاب اپنی اہمیت کی وجہ سے دنیا کی پچاس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کی گئی ہے۔ اس کتاب کا پشتو ترجمہ بھی کیا گیا ہے جو ضلع ننگرہار کے کامہ کے معروف اور محترم مصنف سید فضل مولا نے کیا ہے اور یہ کئی بار شائع ہو چکی ہے۔

یہ اہم کتاب جس نے عالمِ اسلام میں بیداری کی ایک وسیع لہر پیدا کی، افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک ہمارے مدارس کے تعلیمی نصاب میں شامل نہیں کی گئی، نہ ہی اسے طلبہ کے لیے مطالعے کے نصاب میں شامل کیاگیا۔ موجودہ سیاسی، فکری اور جدوجہد کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے یہ کتاب ہمارے مدارس کے درجہ سابعہ (موقوف علیہ) میں ایک اہم نصابی کتاب کے طور پر شامل ہونی چاہیے تاکہ نئے فارغ ہونے والے علماء کو مسلمانوں کے فکری عروج اور زوال کے اسباب اور عوامل کا ایک واضح تصور مل سکے۔

اس مقصد کے لیے کہ میں اپنے علماء اور طلبہ کو علامہ ندوی رحمہ اللہ کے فکر سے روشناس کرا سکوں، ان کی چند دیگر اہم کتابوں کے نام ان کے تراجم کے ساتھ درج کر رہا ہوں:

  1. العقیدة والعبادة والسلوک (عقیدہ، عبادت اور سلوک)
  2. السيرة النبوية (نبی کریم ﷺ کی سیرت)
  3. إذا هبت ريح الإيمان( جب ایمان کی باد بہاری چلتی ہے)
  4. في مسيرة الحياة (راہِ زندگی میں)
  5. المسلمون في الهند (ہندوستان میں مسلمان)
  6. الطريق إلى السعادة والقيادة للدول والمجتمعات الإسلامية الحرة ( آزاد اسلامی ریاستوں اور معاشروں کے لیے سعادت اور قیادت کا راستہ)
  7. العقيدة والعبادة والسلوك في ضوء الكتاب والسنة والسيرة النبوية (عقیدہ، عبادت اور سلوک قرآن، سنت اور سیرت کی روشنی میں)
  8. الطريق إلى المدينة (راہِ مدینہ)
  9. الصراع بين الإيمان والمادية (ایمان اور مادیت کے درمیان کشمکش)
  10. إلى قمة القيادة العالمية (عالمی قیادت کی بلندیوں تک)
  11. الإسلام أثره في الحضارة وفضله على الإنسانية (تمدن اور انسانیت پر اسلام کے اثرات اور احسانات)
  12. نظرات في الأدب (ادبیات پر نظر)
  13. أمريكا وإسرائيل كشف حقيقة صارخة وتنبيه على خطر داهم (امریکہ اور اسرائیل، ایک کھلی حقیقت اور بڑے خطرے سے آگاہی)
  14. المدخل إلى دراسة الحديث النبوي الشريف (فہمِ حدیث کی کنجی)
  15. قصص النبيين للأطفال (بچوں کے لیے انبیاء کی کہانیاں)
  16. قصص من التاريخ الإسلامي (تاریخِ اسلام کے کچھ واقعات)
  17. مختارات من الأدب العربي (عربی ادب کے منتخبات)
  18. رجال الفكر والدعوة في الإسلام (اسلام میں دعوت و فکر کے رجالِ کار)
  19. سيرة خاتم النبيين (سیرتِ خاتم النبیینﷺ)
  20. تأملات في القرآن الكريم (قرآن کریم میں غور و فکر)
  21. المدخل إلى الدراسات القرآنية (فہمِ علومِ قرآن)
  22. روائع إقبال (اقبال کے ادبی شاہکار)
  23. التفسير السياسي للإسلام (اسلام کی سیاسی تفسیر)
  24. الاجتهاد ونشأة المذاهب الفقهية (اجتہاد اور فقہی مذاہب کی ابتداء)
  25. النبوة والأنبياء (نبوت اور انبیاء)
  26. الأركان الأربعة (الصلاة، الزكاة، الصوم، الحج) في ضوء الكتاب والسنة مقارنة مع الديانات الأخرى (اسلام کے چار بنیادی ارکان (نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج) کا قرآن و سنت کی روشنی میں دیگر مذاہب سے تقابلی جائزہ)
  27. النبوة والأنبياء في ضوء القرآن الكريم (قرآن کی روشنی میں نبوت اور انبیاء)
  28. سياسة التربية والتعليم السليمة (صحیح تعلیم و تربیت کی پالیسی)
  29. الداعية الكبير الشيخ محمد إلياس الكاندهلوي (بزرگ داعی شیخ محمد الیاس کاندھلوی)
  30. إلى الإسلام من جديد (اسلام کی طرف دوبارہ رجوع)
  31. المرتضى ( سیرتِ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ)
  32. الإسلام والغرب (اسلام اور مغرب)
  33. ردة ولا أبا بكر لها (ارتداد تو ہے مگر ابو بکرؓ نہیں!)
  34. الحضارة الغربية الوافدة وأثرها في الجيل (مغربی تہذیب اور نئی نسل پر اس کے اثرات)
  35. من أعلام المسلمين ومشاهيرهم (مسلمانوں کی نامور شخصیات)
  36. مذكرات سائح في الشرق العربي (مشرقی عرب خطے میں ایک مسافر کے تاثرات)
  37. ربانية لا رهبانية (ربانیت نہ کہ رہبانیت)
  38. المسلمون تجاه الحضارة الغربية (مسلمان اور مغربی تہذیب کا مقابلہ)
  39. النبي الخاتم (آخری نبیﷺ)
  40. المد والجزر في تاريخ الإسلام (تاریخِ اسلام میں مد و جزر)
  41. العرب والإسلام (عرب اور اسلام)
  42. مع الإسلام (اسلام کے سائے میں)
  43. نحو التربية الإسلامية الحرة في الحكومات والبلاد الإسلامية (اسلامی حکومتوں اور ممالک میں آزاد اسلامی تعلیم کی طرف)
  44. القادياني والقاديانية دراسة وتحليل (قادیانی اور قادیانیت: تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ)
  45. مقالات حول السيرة النبوية (سیرتِ نبویؐ پر مضامین)
  46. إزالة أسباب الخذلان أهم وأقدم من إزالة آثار العدوان (ناکامی کے اسباب کو دور کرنا جارحیت کے اثرات ختم کرنے سے زیادہ اہم ہے)
  47. صورتان متضادتان لنتائج جهود النبي الأعظم الدعوية والتربوية وسيرة الجيل المثالي الأول عند السنة والشيعة الإمامية (اہل سنت اور شیعہ کے نزدیک نبی کریم ﷺ کے اولین مثالی دور کے بارے میں دو متضاد تصورات)
  48. أضواء على الحركات والدعوات الدينية في الهند (ہند کی مذہبی تحریکوں اور دعوتی کوششوں پر ایک نظر)
  49. الإسلام والحكم (اسلام اور حکومت)
  50. من نهر كابل إلى نهر اليرموك جولة في غرب آسيا (کابل سے یرموک تک؛ مغربی ایشیا کا سفرنامہ)
  51. واقع العالم الإسلامي ( عالمِ اسلام کے حالاتِ حاضرہ)
  52. الدعوة والدعاة، مسؤولية وتاريخ (دعوت اور داعیان؛ ذمہ داریاں اور تاریخ)
  53. مسؤولية العلماء في الأوضاع المتغيرة (بدلتے حالات میں علماء کی ذمہ داریاں)
  54. موقف العالم الإسلامي تجاه الحضارة الغربية (مغربی تہذیب کے مقابل عالمِ اسلام کا رویہ)
  55. المسلمون وقضية فلسطين (مسلمان اور مسئلہ فلسطین)
  56. أحاديث صريحة في أمريكا (امریکہ میں کھری کھری باتیں)
  57. الإسلام في عالم متغير (اسلام، بدلتی دنیا میں)
  58. بين الدين والمدنية (دین اور تہذیب کے درمیان)
  59. الأمة الإسلامية وحدتها ووسطیتها وآفاق المستقبل (اسلامی امت: اس کی وحدت، اعتدال اور مستقبل کے امکانات)
  60. اسمعوها صريحة مني أيها العرب (اے اہلِ عرب! یہ بات مجھ سے کھلے الفاظ میں سن لو)
  61. تساؤلات وتحديات على طريق الدعوة (دعوت کی راہ میں سوالات اور چیلنجز)
  62. حاجة البشرية إلى معرفة صحيحة للمجتمع الإسلامي (انسانیت کو اسلامی معاشرے کی صحیح پہچان کی ضرورت)
  63. من الجاهلية إلى الإسلام (جہالت سے اسلام تک)
  64. ترشيد الصحوة الإسلامية (اسلامی بیداری کی رہنمائی)
  65. ترجمة السيد الإمام أحمد بن عرفان الشهيد مجدد القرن الثالث عشر (سید احمد شہید، تیرھویں صدی کے مجدد)
  66. الإسلام فوق القوميات والعصبيات (اسلام قومیت اور تعصب سے بالاتر ہے)

استاد محمد قطب رحمہ اللہ

علامہ ابوالحسن علی ندویؒ کے علاوہ عالمِ اسلام کے دوسرے عظیم مفکر استاد محمد قطب ہیں۔ ان کی ولادت ۱۹۱۹ء میں مصر میں ہوئی اور انہوں نے ۲۰۱۴ء میں وفات پائی۔ استاد محمد قطب نہ صرف ایک بڑے اسلامی مفکر اور تعلیم و تربیت کے ماہر تھے، بلکہ انہوں نے انگریزی ادب کی فیکلٹی سے بھی سندِ فراغت حاصل کر رکھی تھی۔ اس تعلیم نے انہیں یہ صلاحیت عطا کی کہ وہ مغربی تہذیب کو اچھی طرح پہچانیں اور اس پر اسلام اور عقل کی روشنی میں تنقیدی نظر ڈال سکیں۔

استاد محمد قطب کو اسلام اور امتِ مسلمہ کو درپیش حالات، نیز مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب پر گہری بصیرت حاصل تھی۔ اسی بصیرت کی روشنی میں انہوں نے اسلامی فکر، کفار کے ساتھ فکری، اعتقادی، ثقافتی، تمدنی اور عسکری میدانوں میں درپیش معرکوں پر نہایت مؤثر اور گراں قدر تصانیف پیش کیں۔ انہوں نے کروڑوں مسلمانوں کی فکری بیداری کے لیے بیش بہا فکری سرمایہ فراہم کیا۔ ان کی چند اہم کتابیں درج ذیل ہیں، جن کے نام اور ان کے تراجم قارئین کی آگاہی کے لیے درج ہیں:

  1. واقعنا المعاصر (ہماری موجودہ حالت)
  2. دراسات في النفس الإنسانية (انسانی نفس پر تحقیقی مطالعہ)
  3. مفاہيم يجب أن تصحح (وہ نظریات جن کی اصلاح ضروری ہے)
  4. دروس من محنة البوسنة والهرسك (بوسنیا اور ہرسک کے سانحے سے حاصل شدہ اسباق)
  5. قضية تحرير المرأة (عورت کی آزادی کا مسئلہ)
  6. المسلمون والعولمة (مسلمان اور گلوبلائزیشن)
  7. قضية التنوير في العالم الإسلامي (عالمِ اسلام میں روشن خیالی کا مسئلہ)
  8. منهج التربية الإسلامية (اسلامی تربیت کا منہج)
  9. هل نحن مسلمون؟ (کیا ہم حقیقی مسلمان ہیں؟)
  10. مكانة التربية في العمل الإسلامي (اسلامی جدوجہد میں تربیت کی اہمیت)
  11. قبسات من الرسول (پیغمبر ﷺ کی حیات سے روشنی کی کرنیں)
  12. دروس تربوية من القرآن الكريم (قرآنِ کریم کے تربیتی اسباق)
  13. دراسات في القرآن الكريم (قرآنی تحقیقی مطالعات)
  14. منهج الدعوة في المرحلة المكية (عہدِ مکی میں دعوت کا طریقِ کار)
  15. كيف نكتب التاريخ الإسلامي؟ (اسلامی تاریخ کیسے لکھی جائے؟)
  16. التطور والثبات في الحياة البشرية (انسانی زندگی میں تغیر اور ثبات)
  17. رؤية إسلامية لأحوال العالم المعاصر (موجودہ دنیا پر اسلامی نقطۂ نظر)
  18. مذاهب فكرية معاصرة (عصرِ حاضر کے فکری رجحانات)
  19. العلمانيون والإسلام (سیکولرزم اور اسلام)
  20. الإنسان بين المادية والإسلام (انسان مادیت اور اسلام کے بیچ)
  21. جاهلية القرن العشرين (بیسویں صدی کی جاہلیت)
  22. هذا هو الإسلام (یہ ہے حقیقی اسلام)
  23. حول تطبيق الشريعة (شریعت کے نفاذ کے مسائل)
  24. ماذا يعطي الإسلام للبشرية؟ (اسلام انسانیت کو کیا دیتا ہے؟)
  25. ركائز الإيمان (ایمان کے ستون)
  26. شبهات حول الإسلام (اسلام کے بارے میں اعتراضات)
  27. المستشرقون والإسلام (مستشرقین اور اسلام)
  28. الجهاد الأفغاني ودلالاته (افغان جہاد اور اس کے اثرات)
  29. حول التفسير الإسلامي للتاريخ (تاریخ سے متعلق اسلامی تجزیے پر ایک نظر)
  30. نظام الإسلام السياسي (اسلام کا سیاسی نظام)
  31. كيف ندعو الناس؟ (لوگوں کو اسلام کی طرف کیسے بلائیں؟)
  32. الصحوة الإسلامية (اسلامی بیداری)
  33. هلم نخرج من ظلمات التيه (آؤ! گمراہی کے اندھیروں سے نکلیں)
  34. الصراع بين الفكر الغربي والفكر الإسلامي (اسلامی اور مغربی فکر کی کشمکش)
  35. صدأ القلوب (دلوں کا زنگ)
  36. لا إله إلا الله عقيدة وشريعة ومنهج حياة (لا إله إلا الله: عقیدہ، شریعت اور نظامِ حیات)
  37. في النفس والمجتمع (انسانی نفس اور معاشرہ)
  38. حول التأصيل الإسلامي للعلوم الاجتماعية (سماجی علوم کی اسلامی اساس)
  39. المخططات الصهيونية (صہیونی منصوبے)
  40. الرحمن عروس القرآن (سورۃ الرحمن: قرآن کی دلہن)
  41. لا يأتون بمثله (قرآن اپنی مثال آپ ہے)
  42. بيعة النساء للنبي ﷺ (خواتین کا نبیﷺ سے بیعت)
  43. مغالطات (غلط فہمیاں)
  44. معركة التقاليد (روایات کی جنگ)
  45. العلمانية (سیکولرزم)

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام کتابیں انٹرنیٹ پر بہ آسانی دستیاب ہیں، جنہیں ہر عالم اور طالبِ علم ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے۔

استاد محمد قطب کی عظیم کتاب ’’واقعنا المعاصر‘‘ (ہمارے موجودہ حالات) امتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ مسائل اور ان کے اسباب و علل کو سمجھنے کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت پر نہایت تفصیلی اور عمیق بحث کی ہے۔

وہ اس نکتہ کو واضح کرتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے فتوحات حاصل کیں، اپنی سلطنتیں وسیع کیں، عظیم الشان نظام قائم کیے، اور دنیا کو دین اور تہذیب کی روشنی عطا کی، تو اس وقت ان کا قرآن اور سنت کے ساتھ تعامل کس نوعیت کا تھا؟ کیا یہ تعامل محض نام کا اور روایتی تھا، جیسا کہ آج کے اکثر مسلمانوں کا طرزِ عمل ہے؟ یا یہ تعامل عقیدے اور عمل پر مبنی تھا؟

استاد محمد قطب وضاحت کرتے ہیں کہ اس دور کے مسلمانوں کا رویہ قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ، اور صحابۂ کرامؓ کے افکار، اعمال اور طرزِ حیات کے ساتھ خالص اعتقادی اور عملی تھا، نہ کہ محض قومی یا روایتی وابستگی پر مبنی خالی نعرے تھے۔

اسلام ان کے قلوب اور اذہان میں رچ بس گیا تھا۔ وہ دین کی حقیقت سے واقف تھے، اس کی حقانیت اور افادیت پر کامل یقین رکھتے تھے، اس کے دفاع کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہتے تھے، اور اس کی راہ میں اپنی جان و مال تک نچھاور کرتے تھے۔ وہ اپنے عقائد پر مضبوطی سے قائم تھے، اور دین کے احکام کو دل سے بجا لاتے تھے۔

مسلمان کیوں زوال پذیر ہوئے؟

استاد محمد قطب کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ امت نے اپنے دین کے ساتھ تعامل کی نوعیت بدل ڈالی۔ امتِ مسلمہ اور اس کے افراد نے انفرادی واجتماعی سطح پر دین، قرآنِ کریم، نبی اکرمﷺ، احادیثِ مبارکہ، اور مجموعی طور پر شریعتِ اسلامی کے ساتھ تعلق کو اعتقادی و عملی وابستگی سے نکال کر صرف نام اور نسبت کی شکل میں باقی رکھا۔

یعنی مسلمان اسلام پر صرف اپنے انتساب پر قانع ہوگئے۔ ’’لا إله إلا الله‘‘ کو محض مسلمانی کا نعرہ سمجھ لیا، نہ کہ زندگی کا مکمل نظام۔

مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے تصور اور عمل کے میدانوں میں خود کو جمہوریت پسند، کمیونسٹ، عقلیت پرست، قوم پرست بنایا، فکری و سماجی میدانوں میں گلوبلائزیشن کے حامل نظریات کو قبول کیا، اور فیصلے کرنے میں شریعت کی بجائے وضعی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے احکام کو معیار بنایا۔معاشرتی زندگی میں مغربی اقدار کو اپنایا، اور عسکری و دفاعی نظام میں نئے عالمی نظام کے پرچم تلے کھڑے ہوگئے۔

انہوں نے ’’لا إله إلا الله‘‘ کو اس مفہوم میں قبول نہ کیا کہ ’’لا إله‘‘ کا مطلب یہ ہو کہ میں کسی دوسرے ’’الٰہ‘‘ کو تسلیم نہیں کرتا، نہ اس کے قانون کو مانتا ہوں، نہ اس کے وضع کردہ اخلاقی اصولوں اور معیاروں کو قبول کرتا ہوں، نہ اس کی تعلیمات پر قائم تہذیب کو تسلیم کرتا ہوں۔ اور ’’إلا الله‘‘ کا مطلب یہ ہو کہ میں عقیدے، عبادت، سیاست، عسکریت، معیشت، اخلاق اور زندگی کے ہر شعبے میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو مانتا ہوں۔ یعنی حق الٰہ اور باطل آلہہ کے مطالبات میں کوئی آمیزش نہیں کرتا۔

استاد محمد قطب فرماتے ہیں کہ جب لوگوں کا دین کے ساتھ تعلق بدل گیا، تو وہ مغرب کے ساتھ جاری جنگ کے تمام میدانوں میں شکست سے دوچار ہوئے۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version