اصلاحِ معاشرہ | دسویں قسط

سورۃ الحجرات کی روشنی میں

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ؀ (سورۃ الحجرات: ۱۳)

’’اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہارے خاندان اور برادریاں بنادیں تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو، بلاشبہ تم میں سے بڑا عزت دار وہ ہے جو تم میں سب سے بڑا پرہیزگار ہو، بے شک اللہ خوب جانتا، خوب خبر رکھتا ہے۔‘‘

وحدتِ آدمیت (۲)

شعائر اللہ کی عظمت

بہت سے ذہنوں میں یہ بات گردش کرتی رہتی ہے کہ تقویٰ ایک سلبی صفت ہے، اس کے اصل مفہوم میں بچنا اور پرہیز کرنا داخل ہے، جبکہ واقعہ یہ ہے کہ اس کا اصل پہلو ایجابی ہے، ضمیر کے اس احساس کا نام ہے جس کی بنا پر ہر کام میں خدا کے حکم کے مطابق عمل کرنے کی شدید رغبت پیدا ہوتی ہے، امور خیر کی دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے اور ہر برے کام سے نفرت کا جذبہ پیدا ہوجا تا ہے، دلوں میں شعائراللہ کی عظمت بیٹھ جاتی ہے، اور اللہ کا نام آتے ہی دل جھک جاتے ہیں:

وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اﷲِ فَإِنَّھَا مِنْ تَقْوَیٰ الْقُلُوْبَ (سورۃ الحج: ۳۲)

’’اورجو شعائر الٰہی کی تعظیم کرتا ہے، تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘

سورۂ شریفہ کے آغاز ہی میں یہ حقیقت بھی بیان ہوچکی ہے کہ عظمت ِرسالت تقویٰ کا معیار ہے:

إِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ أَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوَیٰ (سورۃ الحجرات: ۳)

’’بلاشبہ جولوگ اللہ کے رسول کے سامنے اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں ، ان ہی کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے۔‘‘

اپنی چاہت اور مزاج کے خلاف منشائے نبویؐ کے آگے جھک جانے کو بھی تقویٰ سے تعبیر کیا گیا ہے، صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بظاہر دَب کر جو معاہدہ فرمایا، اس سے صحابہؓ پر طبعی اثر پڑا، جمعیت بھی تھی، بہادری کے جوہر دکھانے کا وقت معلوم ہورہا تھا، لیکن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے صلح فرمالی، اور صحابہؓ نے سر تسلیم خم کردئیے، اسی کو اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے:

وَأَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوَیٰ

’’اور ان کو تقویٰ کی بات پر لگادیا۔‘‘

آگے ان کی فضیلت بیان فرمائی:

وَکَانُوْا أَحَقَّ بِھَا وَأَھْلَھَا (سورۃ الفتح: ۲۶)

’’اور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اہل تھے۔‘‘

نتیجہ اہل ایمان کے حق میں نکلا، صلح کی مختصر مدت میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ دین میں داخل ہوئے جو کبھی نہیں ہوئے تھے، وجہ یہ تھی کہ ان کو دین سمجھنے کا موقع مل گیا۔

ایفائے عہد اور درگزر

ایک دوسری آیت میں دشمنوں کے ساتھ ایفائے عہد اور حتی الامکان جنگ سے پرہیزکرنے والوں کو متقی فرمایا گیا ہے:

فَأَتِمُّوْآ إِلَیْھِمْ عَھْدَھُمْ إِلیٰ مُدَّتِھِمْ إِنَّ ﷲ َ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (سورۃ التوبۃ: ۴)

’’توتم ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو، بیشک خدا تقویٰ والوں کو پسند فرماتاہے۔‘‘

دوسروں کی خاطر اپنا حق چھوڑ دینے، درگزر کردینے کو بھی تقویٰ سے قریب تر بتایا گیا ہے:

وَإِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفَ مَا فَرَضْتُمْ إِلاَّ أَنْ یَّعْفُوْنَ أَوْ یَعْفُوَ الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ وَإِنْ تَعْفُوْا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی (سورۃ البقرۃ: ۲۳۷)

’’اور اگر تم ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دو، جبکہ تم ان کے لیے مہر متعین کرچکے ہو، تو تمہارے متعین کردہ مہر کا آدھا لازم ہوا، الایہ کہ عورتیں معاف کردیں ، یا وہ معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کا معاملہ ہے، اور اگر تم معاف کرو تو یہ تقویٰ سے قریب تر ہے، (یعنی بجائے آدھا دینے کے پورا دے دو اور نصف کی جو معافی تمہیں مل رہی ہے، اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ)۔‘‘

اہل تقویٰ کی صفات

اہل تقویٰ کی صفات کا بیان قدرے تفصیل سے سورۂ آل عمران میں موجود ہے:

وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ ؁ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ؁ وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ؁ (سورۃ آل عمران: ۱۳۳- ۱۳۵)

’’اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور ایسی جنت کی طرف لپکو، جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے، جو خوشحالی اور تنگی میں خرچ کرتے رہتے ہیں ، اور جو غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ بہتر کام کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، اور وہ لوگ جو کھلی برائی کرجاتے ہیں ، یا اپنی جانوں کے ساتھ ناانصافی کرگزرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں ، سو اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں ، اور کون ہے جو اللہ کے سوا گناہوں کو معاف کرے، اور اپنے کیے پر وہ اصرار نہیں کرتے جبکہ وہ خوب جانتے ہیں ۔‘‘

صبر

دشمنوں کی ایذارسانی پر صبر کرنے والوں کو بھی اہل تقویٰ شمار کیا گیا ہے:

لَتُبْلَوُنَّ فِیٓ أَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوْتُوْا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُوْآ أَذیً کَثِیْراً وَّإِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَإِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الا ُٔ مُوْرِ۔ (سورۃ آل عمران: ۱۶۸)

’’تمہیں ضرور اپنے مالوں اور جانوں میں آزمایا جائے گا، اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب ملی ان سے اور مشرکوں سے تم ضرور بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں ۔‘‘

خیر کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرنے اوربرائیوں میں اس سے بچنے کا تذکرہ تقویٰ ہی کے ساتھ کیا گیا ہے:

وَتَعَاوَنُوْا عَلیٰ الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلیٰ الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوْا ﷲ َ إِنَّ اﷲ َ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (سورۃ المائدۃ: ۲)

’’نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم کی باتوں پر ایک دوسرے مدد مت کرنا اور اللہ سے ڈرتے رہو، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘

نیکیوں کی بنیاد

حاصل یہ ہے کہ تقویٰ تمام نیکیوں کی بنیاد اور اصل الاصول ہے، بقول علامہ سیدسلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کہ:

’’اگر حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہم صرف ایک لفظ میں کرنا چاہیں تو ہم اس کو ’تقویٰ‘ سے ادا کرسکتے ہیں ۔‘‘1سیرۃالنبی۵/۳۱۱

تقویٰ اصلاً تو دل کی ایجابی کیفیت کا نام ہے لیکن اس کے نتائج ایجابی بھی ہیں اور سلبی بھی، ہر خیر کی طر ف بڑھنا اور ہر شر سے بچنا، دونوں باتیں تقویٰ کے لوازمات میں سے ہیں ، کوئی شخص نماز، روزہ کرتا رہے، لیکن کسی کا دل دکھاتا ہو، کسی کو تکلیف پہنچاتا ہو، حق تلفی کرتا ہو، بدنگاہی میں مبتلا ہوجاتا ہو، معاملات میں پختگی نہ رکھتا ہو، جھوٹ بولتا ہو، وعدہ پورا نہ کرتاہو، اور دوسرے گناہوں میں بھی مبتلا ہوجاتا ہو، تو وہ ہرگز متقی کہلانے کا مستحق نہیں ہے، احتیاط کی زندگی گزارنا، اللہ کا ہمہ وقت دھیان رہنا، ہر عمل میں اس کا لحاظ رکھنا کہ وہ کہیں اللہ کو ناراض کرنے والا عمل نہ ہو، یہ تقویٰ ہے۔ اسی لیے ایک صحابیؓ نے تقویٰ کی تعریف کرتے ہوئے ایک بہترین مثال دی، انہوں نے دوسرے صحابیؓ کو جنہوں نے تقویٰ کے بارے میں سوال کیا تھا، خطاب کرکے کہا کہ کیا تمہارا گزر کبھی خاردار راستہ سے ہوا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ کہا کس طرح گزرے؟ انہوں نے جواب دیا کہ کپڑے سمیٹ کر گزرا کہ کہیں دامن کانٹوں میں الجھ نہ جائے۔ فرمایا: اسی کا نام تقویٰ ہے۔‘‘

حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے راستہ کو خاردار کانٹوں سے گھیر دیا ہے2مسند احمد /۷۷۴۱، جو اس میں الجھا، وہ گیا، یہ کانٹے ہیں بے جا خواہشات کے، نفسانیت کے، خودغرضی کے، غرور و گھمنڈ کے، من چاہی کے، ان سے دامن بچا کر زندگی گزارنا تقویٰ ہے، اسی لیے اس کو ’’ملاک الأمر‘‘ یعنی دین کی اصل قرار دیا گیا ہے۔

عزت کا معیار

آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسی لیے اس کو اصل معیار شرافت قرار دیا ہے، اور قرآن مجید نے اسی کو عزت کی کسوٹی بتایا ہے، علامہ سید سلیمان ندوی سیرۃالنبیؐ میں تقویٰ کے مضمون کو ان الفاظ پر ختم فرماتے ہیں :

’’اسلام میں تقویٰ کو جو اہمیت حاصل ہے، اس کا اثر یہ ہے کہ تعلیم محمدی (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے رنگ، وطن، خاندان، دولت، حسب نسب، غرض نوع انسانی کے ان صدہا خودساختہ اعزازی بتوں ، مرتبوں کو مٹا کر صرف ایک ہی امتیازی معیار قائم کردیا، جس کا نام تقویٰ ہے، اور جو ساری نیکیوں کی جان ہے، اور اس لیے وہی معیاری امتیاز بننے کے لائق ہے، چنانچہ قرآن پاک نے بآواز بلند یہ اعلان کیا:

إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ ﷲِ أَتْقـٰکُمْ

’تم میں خدا کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے‘۔‘‘3سیرۃالنبی۵/۲۹۰

آیت شریفہ کا اختتام اللہ تعالیٰ کی جن صفات پر ہورہا ہے، اس سے یہ حقیقت واضح کی جارہی ہے کہ تقویٰ دل کے اندر کی ایک کیفیت ہے، ظاہر میں انسان کتنے ہی تقویٰ کا اظہار کرے مگر اﷲ کے نزدیک وہی ظاہر معتبر ہے جو باطن کا ترجمان ہو، اور وہ دل کی گہرائیوں سے واقف ہے، باریک سے باریک تر اور مخفی سے مخفی تر اشیاء اور حقائق کو وہ جانتا ہے، دنیا میں ایک انسان انسانوں کو دھوکہ دے سکتا ہے، مگر کوئی اپنے مالک کو دھوکہ نہیں دے سکتا، صاف صاف کہہ دیا گیا:

إِنَّ ﷲ َ عِلِیْمٌ خَبِیْرٌ

’’بلاشبہ اللہ خوب خوب جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version