۱۳ زیرِ نظر مضمون مولانا مفتی محمدتقی عثمانی دامت برکاتہ ٗ کا تحریر کردہ ہے جو ’مکتبہ دارالعلوم کراچی ‘ کے نشرکردہ حضرت مفتی صاحب کے مجموعۂ مضامین ’نفاذ شریعت اور اس کے مسائل ‘ سے لیا گیا ہے ۔ یہ مضمون آپ نے تب تحریر فرمایا تھا جب جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت کے آخری ماہ و سال تھے ۔ مضمون میں حضرت مفتی صاحب نے جمہوریت اور اسلام میں فرق واضح کیا ہے ، حکمران طبقہ کی ذہنیت پر تنقید کی ہے اور بتایاہے کہ پاکستان میں اسلام مخالف مقتدر طبقہ نفاذ اسلام سے بچنے کے لیے کیسے حیلے بہانے تراشتا ہے۔
آج حالات کیا ہیں اور ہمارا دین ہم سے کیا تقاضہ کرتاہے ، اس لحاظ سے کچھ ضروری اضافے ہم نے کیے ہیں ۔ حضرت مفتی صاحب کا مضمون من و عن نقل کیا جارہاہے ، جبکہ ہماری طرف سے کیے گئے اضافوں کو کھڑے قوسین ’[]‘میں درج کیا گیا ہے۔ (ابومحمد عزام )
ربیع الثانی ۱۴۰۸ھ بمطابق ۵ دسمبر ۱۹۸۷ءکے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں صفحۂ اول پر جلی سرخیوں کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی ہے:
’’مدینہ منورہ (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم محمد خان جونیجو نے مدینہ منورہ میں پاکستانیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں وہی شریعت نافذ ہوگی جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔‘‘
کاش کہ ہمارے ملک کے انتظامی سربراہ اس کے بجائے یہ فرماتے کہ ’’ملک میں وہ شریعت نافذ ہوگی جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے قابل قبول ہو‘‘۔ لیکن درحقیقت یہ فقرہ اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ ذہن میں ’’نفاذِ شریعت‘‘ کا نہ صرف یہ کہ تصور واضح نہیں ہے، بلکہ وہ ’’شریعت‘‘ اور اس کے نفاذ کے بارے میں شدید غلط فہمیوں میں الجھا ہوا ہے۔ یہ غلط فہمیاں ایک ایسی ذہنیت کی پیداوار ہیں جس نے اس ملک میں چالیس سال سے نفاذِ شریعت جیسے اہم مسئلے کو معرضِ التواء میں ڈالا ہوا ہے۔
اس ذہنیت کی پہلی خرابی تو یہ ہے کہ اس کے نزدیک ’’شریعت‘‘ کا نفاذ عوام کی مرضی کے تابع ہے، اگر عوام چاہیں گے تو وہ نافذ ہوگی ورنہ نافذ نہیں ہوگی۔ اس طرز فکر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک عرصے سے ’’جمہوریت‘‘، ’’جمہوری اقدار‘‘، ’’جمہوری افکار‘‘ اور ’’جمہوری آزادیوں‘‘ کا وظیفہ سمجھے بوجھے بغیر اتنی کثرت سے پڑھا ہے کہ ’’جمہوریت‘‘ بذات خود ’’خیرِ مطلق‘‘ بن کر رہ گئی ہے، وہی ہمارے فکر و عمل کا آخری ہدف بنی ہوئی ہے، اسی کے قیام اور بحالی کے لیے ہم نے تن من کی بازی لگا رکھی ہے، اسی کو ہم نے ایسا ’’مرکزنجات‘‘ قرار دے رکھا ہے کہ گویا ہماری اجتماعی فلاح و بہبود کا ہر کام اسی ’’جمہوریت‘‘ سے حاصل ہوگا، اور جو بھلائی ’’جمہوریت ‘‘ کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے حاصل ہو، وہ بھلائی کہلانے کی مستحق ہی نہیں ہے۔
اسی ذہنیت کا ایک شاخسانہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک ’’اسلام‘‘ بھی وہی معتبر ہے جو جمہوری طریقوں سے یا جمہوری روایات کے تحت آئے۔ اس کے بغیر (معاذ اللہ) اسلام کی کوئی بات بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جب تک یہ الٹا طرزِ فکر باقی رہے گا، ملک میں حقیقی اسلام کا نفاذ ہرگز نہیں ہوسکےگا، اس لیے کہ یہ طرزِ فکر ’’اسلام‘‘ اور ’’شریعت‘‘ کے بنیادی مفہوم ہی سے متضاد ہے۔ ’’اسلام‘‘ اللہ تعالیٰ کے آگے جھک جانے کا نام ہے، اور اس کی ’’شریعت‘‘ کے واجب العمل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کا حکم ہے اور ایک بندے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ اسے مان کر اس پر عمل کریں۔ خواہ عوام اس سے خوش ہوں یا ناراض ہوں۔ اتباع ِ شریعت کا مقصد مخلوق کو نہیں، خالق کو راضی کرنا ہے، لہٰذا اس کے نفاذ کے پیچھے قوتِ حاکمہ عوام کی مرضی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔ ’’اسلام‘‘ عوام کے پیچھےپیچھے چلنے اور ان کی خواہشات کی پیروی کے لیے نہیں، بلکہ ان کی قیادت و رہنمائی کرنے اور انہیں نفسانی خواہشات کی غلامی سے نکالنے کے لیے آیا ہے، قرآن کریم کا ارشاد ہے:
﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ﴾ (سورة المومنون: ۷۱)
’’اگر حق ان لوگوں کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو آسمان و زمین میں فساد پھیل جائے ۔‘‘
’’اسلام‘‘ تو ایسے ماحول میں آیا تھا کہ اس کے اردگرد عوام کی اکثریت شروع میں اسے ناپسند کرتی تھی، اگر ’’عوام کی مرضی‘‘ ہی فیصلہ کن ہوتی تو اسلام کو کبھی بھی نافذ ہونا نہیں چاہیے تھا۔ وہ تو ہمیشہ مخالفین کے نرغے میں پروان چڑھا ہے، اس نے لوگوں کے طعنے سہہ کر اور ملامتیں سن کر اپنی راہ بنائی ہے اور عوام کی خواہشات کے پیچھے چلنے کے بجائے ان کی اصلاح کو اپنی منزل مقصود قرار دیا ہے، لہٰذا ’’اسلام‘‘ کو ’’عوام کی مرضی‘‘ اور ’’جمہوریت‘‘ کے تابع قرار دینا درحقیقت اسلام کے بنیادی تصور ہی سے متضاد ہے۔
[[دینی تحریکات جب غلبۂ اسلام کے لیے ’’جمہوری جدوجہد ‘‘میں قدم رکھتی ہیں تو وہ اس مقصد کے لیے اُس راستے کو چنتی ہیں جو بنیادی طور پراسلام کے عطا کردہ تصور سے الٹ ، ایسا راستہ ہے کہ جس پر چل کر نہ پہلے کبھی اسلام غالب ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہٗ نے نفسِ جمہوریت پر رد کیا ہے اور واضح فرمایا ہے کہ نفاذ ِ اسلام کے عمل کو عوام کی مرضی کے تابع کرنا کیسے اسلام کے منافی ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ دینی تحریکات اسلامی نکتۂ نظر سے بھی جب جمہوری سیاست میں شامل ہوتی ہیں تو ایسا کرکے وہ جمہوری تصورسے آزادنہیں ہوجاتیں ،بلکہ وہ اسی ہی کی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت کا حصول اپنا مقصد بنالیتی ہیں ۔ عوام کی اصلاح اور ان کی رہنمائی کا فرض پیچھے رہ جاتاہے اور عوام کی حمایت اور ان کے پیچھے چلنا اصل مقصد بن جاتاہے ۔ اس جدوجہد نے جو نتائج اب تک برآمد کیے ہیں ان کا مشاہدہ ہم پچھلے ستّر سالوں سے کرتے آرہے ہیں۔ اسلام لانا نہ لانا، شریعت نافذ کرنا اور نہ کرنا تو دور کی بات خود دینی جماعتیں اپنے دعوت و عمل میں اتباعِ شریعت پر ہی سمجھوتہ کرتی ہیں اوریوں تقاضۂ شریعت پورا کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ عوام کی اکثریت کوحامی بنانا ایسی مجبوری بن جاتاہے کہ قدم قدم پر پھر اللہ کو راضی کرنے کی بجائے عوام کو راضی کرنا مقصود بن جاتاہے اور یوں جوں جوں سفر بڑھتاہے توں توں منزل سے دوری واقع ہوتی ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کوخیرباد کہاجاتاہے اور اکثر کوتو منکرات تک کی بھی خاموش یا علانیہ تائید کرنا پڑتی ہے ۔ حق و باطل کی تمیز کے لیے اہلِ حق اور اہلِ باطل کے درمیان وجہِ نزاع نظر آنا ضروری ہے مگر یہاں پھر کوئی ایسی بات اور موقف ظاہر نہیں کیا جاتاہے کہ جو باطل پرشرعی نقطۂ نگاہ سے رد کرتاہو، اس لیے کہ اسلامی نقطۂ نظر پیش کرناعام لوگوں کے اندر مقبول نہیں ہوتا اور اہم یہ کہ جو طبقات عوام پر ناجائز کنٹرول رکھتے ہیں ، یعنی میڈیا اور مقتدرطبقات ، اسلامی نقطۂ نگاہ ان طبقات کے مفادات کا چونکہ مخالف ہوتاہے اور ان کے ساتھ ٹکراؤ عوامی تائید سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہوتاہے ، اس لیے پھر ایک ایسا طرز بیان اور طرز تحریک اپنایا جاتاہے جو شیطانی طاقتوں کو بھی مکمل طور پر مقبول ہو۔]]
پھر یہ بھی عجب ستم ظریفی ہے کہ عموماً ’’ سب کے لیے قابل قبول‘‘ ہونے کے اس ’’نظریے‘‘ کی ساری زد بےچاری ’’شریعت‘‘ ہی پر پڑتی ہے، یہ خیال ہمارے ’’جمہوریت پسند‘‘ حکام اور دانش وروں کو بہت کم آتا ہے کہ جو قوانین ہم پر چالیس سال سے مسلط چلے آرہے ہیں وہ کتنے افراد کے لیے ’’قابل قبول‘‘ ہیں؟ وہ کون سے عوام ہیں جنہوں نے ان قوانین کو سندِ منظوری عطا کی ہے؟ اور ’’سب کے لیے قابل قبول‘‘ کی یہ شرط ان قوانین پر کیوں لاگو نہیں ہوتی……؟ وہاں تو حال یہ ہے کہ بدیسی اور غیر مسلم حاکم ہمارے سینوں پر بندوق رکھ کر یہ قوانین ہمارے سروں پر مسلط کرگیا، اور ہم ہیں کہ انہیں چالیس سال سے اپنے اوپر نہ صرف لادے چلے آرہے ہیں، بلکہ مسلمان عوام کی فریاد و فغاں کے باوجود اس بات پر مُصر ہیں کہ یہ قوانین غیر محدود مدت تک عوام پر مسلط رہیں گے، تاآنکہ ایسی ’’شریعت‘‘ وجود میں نہ آجائے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔
یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اگر اسلام کو ٹھیک ٹھیک نافذ کیا جائے گا تو اس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کے ذاتی مفادات کو نقصان پہنچے گا، کسی کی آمدنی کم ہوجائے گی، کسی کے خرچ میں اضافہ ہوگا، کسی کی لیڈری جاتی رہے گی، کسی کے منصب پر حرف آئے گا، کسی کی بے مہار آزادی میں فرق پڑے گا، کسی کے عیش و تنعم میں کمی ہوگی، اور ایسے افراد جو ملکی مسائل کو اسی قسم کے مفادات کے دائرے میں رہ کر سوچتے ہیں وہ یقیناً ایسے احکام کے نفاذ کی مخالفت کریں گے، یا کم از کم انہیں ناگوار سمجھیں گے جو ان کے ذاتی مفادات کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ اسی ملک میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی تعداد کم ہے لیکن اثر و رسوخ خاصا ہے اور وہ نظریاتی طور پر اسلامی قانون کے بجائے لادینی طرز زندگی کو پسند کرتے ہیں، اور نفاذ اسلام کے ہر اقدام کی کسی نہ کسی حیلے بہانے سے مخالفت کرتے رہتے ہیں، ظاہر ہے کہ ایسے لوگ اسلام کے ٹھیک ٹھیک نافذ ہونے سے کیسے خوش ہوسکتے ہیں؟ لہٰذا ’’سب خوش رہیں‘‘ کی پالیسی کے ساتھ ’’شریعت‘‘ کا نفاذ عملاً ممکن ہی نہیں ہے۔ اگر شریعت پر عمل کرنا ہے، اور اللہ کے لیے کرنا ہے تو اس کے لیے کچھ حلقوں کی مخالفت مول لینی ہی پڑے گی، اگر ہم اس مخالفت کے لیے تیار نہیں ہیں تو نفاذ شریعت کے کام سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو لینے چاہییں۔
[[حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہٗ نے جس اقلیتی طبقے کا ذکر کیا ہے یہ آج پہلے سے زیادہ قوی بھی ہے اور انتہائی مؤثر بھی ۔ اس نے روزگار اور ترقی،بلکہ رزق تک کے راستوں پر بھی قبضہ جمایا ہوا ہے اور عوام کی فکر واخلاق بنانے کے ادارے اور ہتھیار بھی ان ہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ ان کی یہ کوشش کوئی چھپی ہوئی نہیں ہے کہ عوام شبہات و شہوات کے سمندر میں ہی ہمیشہ ڈوبے رہیں ، ظاہر ہے یہ ہوگا تبھی تو اس طبقہ کے مفادات محفو ظ رہ سکیں گے ۔ایسی صورت حال میں دین اسلام کے نفاذ کو اکثریت کی رائے کے تابع کرنا خدمت ِدین نہیں ہے ، بلکہ دین و انسانیت کی خدمت یہ ہے کہ دعوتی، سیاسی اور عسکری میدان میں ایسی قوت تشکیل دی جائے کہ جو اکثریت کو غلام بنانے والی اس اقلیت کے ہاتھ روکے ، اس کا مقابلہ کرے اور اس سے اس مظلوم اکثریت کو آزادی دلائے ۔یہی عقلی اور شرعی راستہ ہے اور اس کے سوا اگر کوئی راستہ ہم اپنا تے ہیں اور صرف اسی پر دینی تحریکات کو پابند کرتے ہیں تو یہ نفاذ شریعت کے کام سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھونا ہے ۔ ]]
تیسرے یہ ’’سب کے لیے قابل قبول‘‘ ہونے کی شرط تو ایسی ہے کہ اگر اس پر ٹھیٹھ معنی میں عمل کیا جائے تو کسی جمہوری ملک میں کوئی سیکولر قانون بھی نافذ نہیں ہوسکتا، کوئی بڑے سے بڑا جمہوری ملک بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کے تمام قوانین سے اس کے تمام باشندے مکمل طور پر مطمئن اور خوش ہیں، کیونکہ سب کو پوری طرح خوش رکھنے کا کوئی طلسماتی نسخہ اس ٹھیٹھ جمہوری حکومت کے پاس بھی نہیں ہے جسے ’’عوام کی حکومت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ وہاں بھی زیادہ سے زیادہ یہی کیا جاسکتا ہے کہ اکثریت کی منظوری حاصل کرلی جائے ، اور وہ اکثریت بھی قانونی اکثریت ہوتی ہے جس کا حقیقی اکثریت ہونا ضروری نہیں ہے۔
اب یہ منطق کسی قدر عجیب ہوگی کہ دنیا کی ہربات کو نافذ کرنے کے لیے تو اکثریت کا اتفاق کافی ہو، لیکن ’’شریعت‘‘ کے نفاذ کے لیے سب کا اتفاق ضروری قرار دیا جائے، جس کا حصول کم از کم اسباب و ظواہر کی اس دنیا میں عملاً ناممکن ہے۔
محترم وزیر اعظم صاحب نے جو بات کہی ہے کہ ’’ایسی شریعت نافذ ہوگی جو سب کے لیے قابل قبول ہو‘‘ تو شاید اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہو کہ ہمارے ملک میں مختلف فرقے یا مکاتب فکر پائے جاتے ہیں، اور نفاذ شریعت کے لیے ان سب کا اتفاق ضروری ہے۔
لیکن اس سلسلے میں بھی ہماری گزارش یہی ہے کہ اگر اس اتفاق کا مطلب یہ ہے کہ ہر ہر جزوی قانون پر تمام مکاتب فکر کا اتفاق ضروری ہے ، تو ایسا اتفاق بھی بحالات موجودہ ناممکن ہے۔ اگرچہ مسلمانوں کے فرقہ وارانہ اختلاف کا جو شور مچا ہوا ہے، کم از کم قانونی مسائل میں یہ اختلافات اتنے زیادہ اور اتنے سنگین نہیں ہیں، تاہم بہت سے جزوی قوانین ایسے ہیں جن میں مختلف مکاتب فکر کے نظریات آپس میں متضاد ہیں، اور ان جزوی قوانین کی حد تک سب کا اتفاق حاصل نہیں ہوسکتا۔
کیا اس عدم اتفاق کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ شریعت کبھی نافذ نہ ہو، اور انگریزی قانون بدستور مسلط رہیں؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے اور اس مسئلے کا حل معقولیت کے ساتھ تلاش کیا جائے تو اس کے دو ہی راستے عقلاً ممکن ہیں، ایک یہ کہ کوئی بالاتر اتھارٹی ایسی ہو جو ان مکاتب فکر کے نظریات میں حق و باطل کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور اس فیصلے کے مطابق جو نظریہ حق ہو، اسے قانون بنا دیا جائے، لیکن اگر ایسی کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے تو پھر رفعِ نزاع کا کوئی راستہ اس کے سوا ممکن نہیں ہے کہ بنیادی طور پر شریعت کی اس تعبیر کو اختیار کیا جائے جو ملک کے اکثریتی مکتبِ فکر کی تعبیر ہو۔ البتہ جو معاملات عبادات اور نکاح و طلاق اور وراثت سے متعلق ہیں، ان میں ہر مسلم مکتب فکر کے لیے الگ قانون سازی کی جائے۔
چنانچہ ۱۹۵۱ء میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے سربرآوردہ علماء نے جمع ہوکر جو ۲۲ دستوری نکات مرتب کیے تھے، اس میں سب نے اس اصول پر اتفاق کیا تھا کہ ملک کا عام قانون ایک ہوگا، لیکن ہر مکتبِ فکر کے شخصی قوانین میں اسی مکتب فکر کی تشریح و تعبیر معتبر ہوگی، اور یہی بات ۱۹۷۳ء کے دستور میں بھی طے کردی گئی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی حقیقت پسندانہ، منصفانہ اور قابلِ عمل حل کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
یہ حل ۱۹۵۱ء اور ۱۹۵۳ء میں علماء کے مشترکہ اجتماع میں بھی تجویز کیا گیا تھا، اس کے بعد ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسے باقاعدہ آئینی حیثیت بھی دے دی گئی۔ جس کے بعد فرقہ وارانہ اختلافات کا مسئلہ بھی ہمیشہ کے لیے طے ہوجانا چاہیے اور اب از سرِ نو اس مسئلے کو اٹھانا ایک طے شدہ بات کو بلاوجہ پیچیدہ بنانے کے مترادف ہے۔
آخر میں ہم محترم وزیر اعظم کی خدمت میں یہ دردمندانہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ اس ملک کی حیات و بقاء کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی جسم کے زندہ رہنے کے لیے اس میں روح کا وجود ضروری ہوتا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم سب مسلمان ہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فرض عائد ہے کہ ہم اس کے احکام کو اس کی زمین میں نافذ کریں، اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان کا مقصد وجود ہی یہ تھا کہ اس خطے میں مسلمان اپنے دین کو عملاً برپا کریں۔ اس لیے بھی ضروری ہے کہ موجودہ حکومت کی وجہِ جواز اسلام کے نفاذ کے سوا کچھ اور نہیں، اور وہ انہی وعدوں کے ساتھ برسر اقتدار آئی ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے زمانے میں نفاذِ اسلام کا فریضہ انجام دے گی۔
لہٰذا موجودہ حکومت پر پچھلی تمام حکومتوں سے زیادہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا یہ فریضہ اخلاص اور تن دہی کے ساتھ انجام دے۔ اقتدار نے کبھی کسی کا ساتھ نہیں دیا، یہ سایہ کسی بھی وقت ڈھل سکتا ہے۔ لیکن اقتدار کے سائے میں انجام دیے ہوئے اچھے برے کام صرف تاریخ ہی میں محفوظ نہیں ہوتے، بلکہ اس جہان میں بھی ریکارڈ ہوجاتے ہیں جہاں ہر انسان کو اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔
[[جنرل ضیاء کی حکومت ختم ہوئی، جو پاکستان میں ’اسلامائزیشن‘ کی کوشش کی معراج سمجھی جاتی ہے؛ نفاذ شریعت کا کہہ کر جنرل ضیاء نے ریفرنڈم کرایا اور پھرکئی قوانین بھی جنرل ضیاء نے آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیے؛ اس کے باوجود بھی حقیقت یہ ہے کہ شریعت نافذ نہیں ہوسکی (حضرت مفتی صاحب مدظلہ ٗ کا یہ مضمون اس کا ثبوت ہے، کہ مذکورہ مضمون کےقریباً ایک سال یا کچھ کم عرصہ بعد ہی جنرل ضیاء الحق حادثے میں جاں بحق ہوگئے )۔ نیت اور ارادہ اللہ جانتاہے اور اس کا فیصلہ اللہ کریں گے مگر اُس وقت کی مجموعی صورت حال دیکھ کر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں اسلام اور اسلامی جذبات کا بھرپور استحصال ہوا۔ سیکولر جماعتوں کے مقابل دینی جماعتوں کی ہمدردیاں اور تائید تو خوب حاصل کی گئی مگر جنرل ضیاء الحق کی زندگی میں بھی اسلام عملاً ویسے کا ویسا ( نعوذ باللہ) ’یتیم ‘ ہی رہا ، اور اس کے جانے کے بعد تو اسلامائزیشن کی ظاہری نمود و نمائش کی بساط بھی فوراًلپیٹ دی گئی اور صرف چند یادگار باقیات ہی رہ گئیں ۔ہاں اہلِ دین کے لحاظ سے دیکھاجائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ماضی اور حال میں یہ فرق ضرور ہے کہ ماضی میں اہلِ دین نفاذِ دین کا مطالبہ کرتے تھے اور اس مطالبے کو عوامی اور قومی سطح پرموضوع بحث بھی رکھتے تھے مگر پچھلے بیس پچیس سالوں سے اس طرح کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی ، اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ پاکستان میں رائج نظام میں چونکہ ایسا کوئی مطالبہ پورا ہونا ناممکن ہے اور کوئی دوسرا آپشن دستیاب نہیں ہے ، غالباً یہ اس وجہ سے کہ اہل دین مایوس ہوکر اب زیادہ ’حقیقت پسند‘ہو گئے ہیں ۔ اوپر سے ’اصل‘مقتدر طبقات نے بھی ایسے کسی مطالبے پر سیاست کرنے سے یہ کہہ کر منع کر رکھا ہے کہ اس سے انتہا پسندی کو ہوا ملتی ہے (اس حوالے سے مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی گواہی یاد رہے )، پس مین اسٹریم کے اہل دین دفاعی پوزیشن پر کھڑے ہیں اور دین کے غلبے کی جگہ اہلِ دین کے ’حقوق ‘ بچانے کی فکر زیادہ نظر آرہی ہے ۔پھر مزید افسوس یہ کہ دوسری طرف اہلِ دین ہی میں ایک طبقہ یہاں قائم اس نظامِ باطل کے باوجود بھی ریاستِ پاکستان کو ’اسلامی ریاست ‘ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے اور یہاں کے نظام اور اس کے حکمرانوں کو وہ سارے حقوق دے رہاہے جو نظام ِ خلافت اور شرعی اولوالامر حکمرانوں کے لیے ہی شریعت ِ اسلامی کے لحاظ سے خاص ہوتے ہیں۔ اس سب کا نتیجہ ہے کہ عملی تحریک تو دور کی بات نفاذ ِ شریعت کی دعوت اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی بنانے کی پکار بھی قومی سطح پر ختم ہو گئی ہے ۔]]
خدا کرے کہ اس حقیقتِ عظمیٰ کے استحضار کے ساتھ ہم سب کے دل میں مخلوق کے بجائے اپنے خالق کو راضی کرنے اور اسی کی خوشنودی حاصل کرنے کی فکر پیدا ہوجائے، تو ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں۔
اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ، آمین.
محمد تقی عثمانی
۲۰ربیع الثانی ۱۴۰۸ھ
چند اہم نقاط
[[ہم یہاں چند اہم نقاط عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔ نفاذِ شریعت اور غلبۂ دین کا کام ایسا ہلکا نہیں کہ محض قانون سازی سے ممکن ہوجائے ، ضروری ہے کہ شرعی نظام کو غالب کرنے کے لیے ایک ایسا مومن ، صالح ، قوی اور مجاہد گروہ بھی موجود ہو جو سب سے پہلے اللہ کے احکامات کو اپنے اوپر نافذ کرے اور پھر اس نظام کو نافذ کرنے کے لیے کھڑا ہو اور اس کے راستے میں جو نفس و شیطان کے بندے رکاوٹ بنتے ہیں ، ان کا علاج بھی کرسکے۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہونے کا ایک بڑا سبب ایسی جماعت کا مفقود ہونا ہے ۔ دینی جماعتوں نے مطالبات کے ذریعے بعض قوانین اگر بنوا لیے تو چونکہ قوانین بنانے اور انہیں نافذ کرنے والے خود یہ اہل دین نہیں تھے ، بلکہ اس سارے عمل میں یہ اُن طبقات اور قوتوں کی طرف دیکھ رہے تھے جو اسلام بےزار تھیں اور اسلام کانام محض مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتی تھیں ، لہٰذا ایک طرف تو انہوں نے اہم شرعی قوانین کو سرے سے شاملِ قانون ہی نہیں کیا اور دوسری طرف جو چند ایک اسلامی قوانین شامل کیے بھی تو قانون سازی اورپھر ان کی تنفیذ میں ایسے بڑے چور دروازے چھوڑے کہ جس کے سبب مثبت کی جگہ منفی اثر ہوا اور حدود و شریعت جیسے مقدس نام بھی کھلا مذاق بن گئے ۔ تصور کریں کہ کبھی بھی کسی قاتل کو یہ کہہ کر سزا نہیں دی گئی کہ یہ قصاص ہے ،شرعی حکم قاتل پر نافذ ہوا اور نہ ہی کسی زانی اور بدکار کو آج تک شرعی سزا دی گئی ہے ۔ قانونِ توہینِ رسالت کا شور بہت رہا ہے مگر آج تک کسی ایک گستاخ کو بھی اس کے تحت سزا نہیں دی گئی ہے، بلکہ الٹا ایسے گستاخوں کو ریاستی تحفظ میں امریکہ وکینیڈا بھیجا گیا ۔حقیقت تو یہ ہے مگر دوسری طرف اللہ کے دین کے ساتھ ظلم دیکھیے کہ ریمنڈڈیوس جیسے متکبر امریکی قاتل کو جب ’باعزت‘ امریکہ بھیجنا اور اپنے آقاؤں کی ناراضگی سے بچنا مقصد بن گیا تو اس کارِ قبیح کے لیے حدود قوانین کا سہارا لیا گیا اور اعلان ہوا کہ شرعی قانون کے تحت دیت ادا ہوئی اور معاملہ اسلامی قانون کے تحت ہی حل کیا گیا۔ یہ شریعت کے ساتھ ایسا مذاق ہے کہ آسمان نہ پھٹ پڑے اور زمین شق ہوجائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ محض قوانین کچھ نہیں ہیں ، ایمان ، قوانین اور اخلاق تینوں ایک ضابطہ حیات بناتے ہیں، جب تک قانون نافذ کرنے والی قوت خود اس ضابطۂ حیات کو دل و جان سے چاہنے والی نہ ہو تو کبھی بھی وہ ضابطۂ حیات میدانِ عمل میں رائج نہیں ہوتا اور کبھی بھی وہ قوانین نافذ نہیں ہوپاتے۔ لہٰذا اس حقیقت کو ذہن میں رکھ کر وجہ سمجھ آ سکتی ہے کہ پاکستان میں جو بعض شرعی قوانین موجود ہیں وہ کیوں کر اسلام کی بجائے نظامِ باطل ہی کی خدمت میں استعمال ہوتے ہیں ۔
آخری اور اہم بات!!
نفاذِ شریعت اور غلبۂ اسلام کی منزل کا راستہ فوجی انقلاب نہیں ہے ۔ پاکستان میں ضیاءالحق ، مصر میں جمال عبدالناصر اور سوڈان میں عمرالبشیر جیسی مثالیں یہ حقیقت سمجھانے کے لیے کافی ہیں ، دینی جماعتوں نے ان سب فوجی آمروں کی اقتدار سنبھالنے میں مدد کی ،مگر تمام تر تعاون کا نتیجہ محض ان آمروں کے اقتدار کے استحکام کے طورپر ہی نکلا اور اسلام اُسی طرح اجنبی ہی رہا۔ یاد رہے کہ مصر میں اخوان المسلمین کو جمال عبدالناصر نے کچل دیا جبکہ اسے حکومت میں لانے کے لیے اخوان نے ہی کندھا دیا تھا۔ حکومت میں آنے سے پہلے ناصر نے اخوان کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اسے اقتدار میں لانے کے لیے اخوان ساتھ دے تو وہ حکومت میں آکر شریعت نافذ کرے گا۔ اخوان نے شرط قبول کی اور اس کی مدد کی مگر اقتدار میں آکر وہ وعدے سے مکر گیا اور اخوان کے خلاف خونی کریک ڈاؤن کردیا۔
نفاذ دین کا راستہ جمہوری جدوجہد بھی نہیں ہے ۔لہٰذا ضروری ہے کہ نفاذ شریعت کے لیے سنجیدہ طبقات جمہوری کھیل تماشوں کا حصہ نہ بنیں ۔ اسی طرح حکمران طبقات سے مطالبات اور ان کے سامنے احتجاجا ت کا شغل بھی مکمل طورپر لاحاصل ہے ، نفاذِ شریعت کا عمل شریعت سے بےزار اور مغربی طرزِ حیات کے دلدادہ حکمران طبقے سے شروع نہیں ہوتا، یہ عمل نیچے سے شروع ہوتاہے ، اس کی جائے پیدائش معاشرہ ہے ۔ اس کی تحریک عوام میں اٹھتی ہے ، ’’اتباع شریعت اور نفاذ شریعت‘‘ کے محور کے گرد یہ تحریک لوگوں کو جمع ہونے کی دعوت دیتی ہے ، ان کی تربیت اور صف بندی کرتی ہے ۔ جمہوری سیاست کی آلائشوں سے یہ دامن بچاتی ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض شرعی مصالح و مفاسد کا خیال رکھ کرنبھاتی ہے ۔ اس جدوجہد و سفر میں ایک وقت آتا ہے جب دعوت و اعداد کے ذریعہ یہ تحریک قوت پکڑتی ہے اور باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکھڑا ہونے کے پھر یہ قابل ہوجاتی ہے ۔ ایسے میں پھر اگر کوئی داخلی یا خارجی طاقت اس انقلاب کا راستہ روکتی ہے ، ہتھیار کے زور پر اسے دباتی ہے تو یہ بھی’’وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا‘‘پر عمل کرتی ہے اور بالآخر وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِله!کو اپنا طریق و منزل رکھ کر میدان ِعشق میں اترجاتی ہے، شہادتوں اور سعادتوں کی تاریخ رقم ہوجاتی ہے اور انعام میں اللہ کا دین اللہ کی زمین پر غالب ہوجاتاہے ۔
ضروری نہیں کہ اس تحریک سے خون کے دریا بہہ پڑیں اور پاکستان ایک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کی طرف چلا جائے، پاکستان میں اہلِ دین کا طبقہ کم نہیں، یہ طبقہ عوام میں بھی ہے اورخواص میں بھی ۔ پھر اللہ سے امید ہے کہ پاکستانی فوج میں بھی بہت جلد غلبہ ٔ دین کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کی کمی نہیں ہوگی ۔لہٰذا جس طرح افغانستان میں اللہ نے دعوت و جہاد کے ذریعہ وہاں ’ امارت اسلامی ‘ کی حکومت قائم کی ، یہاں بھی بعید نہیں کہ کچھ عرصہ قربانیوں کے بعد’ امارت اسلامی پاکستا ن ‘ قائم ہوجائے ، پھر پاکستان کو چونکہ اللہ نے بڑی نعمتوں سے نوازا ہے، اس لیے ایسا ہونا پورے برصغیر بلکہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی اچھا شگون ہوگا۔]]
٭٭٭٭٭