بیت المال کی گاڑی ذاتی کاموں میں استعمال کرنے کا حکم

مرکزی دار الافتاء: امارتِ اسلامیہ افغانستان

بیت المال کی گاڑی ذاتی کاموں میں استعمال کرنے کا حکم

مرکزی دار الافتاء: امارتِ اسلامیہ افغانستان


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء کے محترم رئیس اور تمام ارکانِ دار الافتاء کے نام!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ!

وبعد: میں ایک مجاہد ہوں۔ میرے پاس امارت اسلامی کی ایک گاڑی ہے جس کو میں جہادی امور میں استعمال کرتا ہوں، لیکن وقتاً فوقتاً اس گاڑی کو ذاتی ضروریات کے لیے بھی استعمال کرتا ہوں، تو کیا یہ ذاتی استعمال میرے لیے جائز ہے یانہیں؟

المستفی

راشد

بتوسط: مفتی محمود ذاکری صاحب


نص الفتویحامداً ومصلیاً


خلاصۂ جواب

محترم مستفی صاحب! امارت کے وسائل و اسباب ہر مجاہد کے پاس امانت ہیں، کیونکہ یہ بیت المال ہے، اور بیت المال کے ساتھ انتہائی حد تک احتیاط کی ضرورت ہے، تو یہ جائز نہیں کہ ان اموال کے ساتھ کوئی بد احتیاطی کرے، اور بیت المال کے ساتھ بد احتیاطی غدر اور خیانت ہے، بیت المال میں غدر اور خیانت دنیوی اور اخروی عذاب کا باعث بن سکتی ہے۔ امیر المومنین بھی بیت المال کے مالک نہیں بلکہ صرف ایک متصرف ہیں، اور ان کو تصرف کی اس حد تک اجازت ہے جتنا ایک یتیم کے مال سے یتیم کےوصی اور ولی کو تصرف کی اجازت ہوتی ہے۔

لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایسا ذاتی کام جس کی مجاہد نے مسئولین سے امارت کی گاڑی استعمال کرنے کی اجازت لی ہو اور مسئولین نے اجازت دے دی ہو، یا اس ذاتی کام میں اگروہ مجاہد امارت کی گاڑی استعمال نہ کرے تو مجاہد کے جہادی امور میں توقف واقع ہوسکتا ہو یا مجاہد کو سکیورٹی مسائل پیش آنے کا خوف ہو، تو پھر مجاہد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے ذاتی کام میں امارت کی گاڑی استعمال کرے۔لیکن اگر کسی نے امیر کی اجازت کے بغیر استعمال کیا تو اس کے لیے لازم ہے کہ بیت المال کو اس کا ضمان و تاوان دے دے۔

نوٹ: مسئول افراد کو اجازت صرف مصلحت اور منفعت کی بنا پر ہے، مطلب یہ کہ بڑے امیر سے لے کر ایک فرد مجاہد تک تمام مجاہدین بھر پور کوشش کریں کہ وسائل ِامارت حتی الوسع اپنے ذاتی امور میں استعمال نہ کریں، اور اگر کسی کو امارت کے وسائل استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ اجازت صرف ایک عام منفعت اور مصلحت کی بنا پر ہے۔

اور جس مجاہد کو امارت کی طرف سے کوئی گاڑی یا دوسری چیز ایک کام کے لیے دے دی جائے، تو یہ چیزیں مجاہد اس وقت تک استعمال کرسکتا ہے جب تک وہ اپنے کام پر ہو، اور جب اس سے دیا گیا کام یا مسئولیت لے لی جائے تو وہ اسباب اور وسائل جو اُس کو اِس مسئولیت کے وقت میں دے دیے گئے ہوں ان کو بھی امارت کے مسئول اداروں کے حوالہ کریں گے۔کیونکہ یہ چیزیں اس کو ذاتی ملکیت کے طور پر نہیں دی گئیں جس کو یہ ابھی اپنی ذاتی ملکیت سمجھ رہا ہے۔

اور جس مجاہد سے اس کی رسمی مسئولیت لے لی جائے اور اگر ان کو امارت کی گاڑی یا دوسری چیز کی ضرورت پڑے، سکیورٹی مسائل کے پیشِ نظر یا دوسری وجہ سے، تو اگر مسئولین نے مصلحت کے پیشِ نظر اس کو اس کے استعمال کی اجازت دے دی تواس کے لیے جائز ہے، اور اگر اس کو ضرورت نہ ہو یا مسئولین کو مصلحتاً مناسب نہیں لگا تو اس مجاہد کے لیے جائز نہیں کہ وہ امارتی (بیت المال کے)وسائل استعمال کرے۔

اوپر ذکر کی گئی تفصیل سے وہ وسائل مستثنیٰ ہے جو امارت نے کسی کو ذاتی طور پر دے دیے ہوں کیونکہ ان جیسے وسائل ذاتی سمجھے جاتے ہیں ، اور اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ جس جگہ چاہے اس کو استعمال کرے۔

الدلائل:

 

  1. ’’کتاب الخراج‘‘ للامام ابي یوسف رحمہ اللہ (ص 299، ط: مكتبه نشر القرآن والحديث، بشاور)
  2. ’’الفقه الاسلامي وادلته‘‘ (ص 2842، ج 4، طؒ امير حمزه كتب خانه، كويتا)
  3. ’’الفتاوی الہندیۃ‘‘ (ص ۱۹۱، ج ۱، ط: مکتبہ حبیبیہ کویتا)
  4. ’’الاشباہ والنظائر‘‘ باعلی ’’الحموي‘‘ (ص 329، ج 1، ط: النشاط العربي، بيروت، لبنات)
  5. ’’الفتاوى المهدية‘‘ (ص 646-647، ج 2، ط: المكتبة العربية، كويتا)
  6. ’’درر الاحكام‘‘ شرح ’’مجلة الاحكام‘‘ (ص 53، ج 1، ط: مكتبه حنفيه، كويتا)
  7. ’’شرح المجلة‘‘ لمحمد خالد الاتاسي (ص 163، ج 1، جزء اول، طؒ مكتبه حنفيه، كويتا)
  8. ’’الموسوعة الفقهية‘‘ (ص 265-266، ج 8، ط: مكتبه ميا عبد الحكيم، قندهار)

 

استفتاء نمبر: ۴۴۸۔ فتویٰ نمبر ۴۴۸۔ تاریخِ استفتاء: ۲۲؍۱؍۱۴۴۲ ھ ق۔ تاریخِ صدورِ فتویٰ: ۱۸؍۲؍۱۴۴۲ ھ ق۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version