اگر آپ کو کہیں ایسی خواتین نظر آئیں جو اپنا جسم اور بال اچھی طرح ڈھانپے ہوئے ہوں، اور جن میں سے ایک ایک کے پیچھے چھ سے بارہ بچوں کی قطار ہواور ان میں سے اکثر گھرداری، بچے پیدا کرنےاور ان کی پرورش کرنے کے علاوہ کئی کئی نوکریاں بھی کررہی ہوں تاکہ وہ اپنے گھریلو اخراجات پورے کرسکیں اور ان سے پوچھنے پر معلوم ہو کہ ان کے شوہر حضرات نے اپنے آپ کواپنے دینی مدارس میں دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے وقف کردیا ہے اور وہ اس پر فخر کرتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ مردوں کو اللہ رب العزت نے اپنے دین کا علم حاصل کرنے ہی کےلیے پیدا کیا ہے لہٰذا وہ اس شوہر کی خدمت، اس کا گھر چلانے کے لیے نوکری کرنے اور اس کے ڈھیروں ڈھیر بچے پیدا کرنے اور ان کی پرورش کرنے کو نہ صرف اپنی ذمہ داری بلکہ اپنے لیے سعادت سمجھتی ہیں بلکہ اس سب کے بدلے میں اگر انھیں اپنے شوہر سے ان تعلیمات کا کچھ حصہ سیکھنے کا موقع مل جاتا ہے جس کا علم حاصل کرنے کے لیے وہ یکسوئی کے ساتھ دن رات ایک کیے ہوئے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے……تو ہرگز ان پر دہشت گرد، بنیاد پرست، قدامت پرست ملّا کا لیبل لگانے کی غلطی مت کیجیے گا کیونکہ یہ مسلمان مجاہدین کے گھروں کی خواتین نہیں بلکہ قدامت پرست یہودی خواتین ہیں جن کے شوہروں نے خود کو تورات کی تعلیم کے لیے وقف کررکھا ہے، ریاستِ اسرائیل انہیں ماہانہ وظیفہ دیتی ہے، وہ اس دو سالہ لازمی فوجی سروس سے بھی مستثنیٰ ہیں جس کی پابندی ہر اسرائیلی مرد کو کرنی ہوتی ہے، ان کے یہاں مخلوط تعلیمی ادارے، مخلوط عبادت گاہیں نہیں ہوتیں، ان کی خواتین (کم از کم گھٹنوں تک) مکمل ساتر لباس پہنتی ہیں اور بچوں کی کثرت پر فخر کرتی ہیں کہ وہ سب بھی بڑے ہوکر ان کے دین کے عالم بنیں گے۔ جدید طرز زندگی کو یہ لوگ گناہ سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قدامت پرست یہودی مردوں کی بیشتر تعداد کہیں نوکری کرنے کے قابل نہیں کہ وہ مخلوط اور آزاد ماحول سے ہم آہنگ نہیں ہوپاتے لہٰذا ان کے لیے ایسے ادارے قائم کیے جارہے ہیں کہ جہاں صرف قدامت پرست یہودی ہی کام کرتے ہیں، ان کے کام کی جگہ کے ساتھ ہی ان کے لیے عبادت کا کمرہ بھی بنایا جاتا ہے، ان کے دفتر میں محض حلال (کوشر) غذا ہی ملتی ہے اور خواتین اور مردوں کے کام کے کمرے بالکل جدا ہوتے ہیں۔
کیوں! حیرت ہوئی نا یہ سب جان کر!!! یہ یہودی وہ ہیں کہ پوری دنیا کا میڈیا ان کے ہاتھ میں ہے اور یہ ساری دنیا کو فحاشی اور عریانی کی راہ پر ڈال رہے ہیں؛ جبکہ ان کے اپنے مذہب پر پیروکار ان کی عورتیں اپنی آواز تک نامحرم کو سنانا شرعاً ناجائز سمجھتی ہیں اور وہ ایسا لباس پہنتی ہیں جس سے جسم نہ جھلکتا ہو، قمیض کےگلے چھوٹے اور آستینیں کلائی تک ہوں اور اگر وہ شادی شدہ ہوں تو گھر سے باہر نکلتے ہوئے وہ سر بھی ڈھانپتی ہیں مگر دوسری طرف ’یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود‘!!! اسی یہودی مقبوضہ ریاست اسرائیل کی سرحد سے جڑی مملکت مصر کا حال یہ ہوچکا ہے کہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں، جہاں اعلانیہ شراب بکتی ہے، حجابی خواتین ، جنہوں نے اپنے سر ڈھانپ رکھے ہوں نہ کہ چہرہ، کا داخلہ ممنوع ہے۔ یہ ممنوعیت قانونی نہیں مگر عملی ضرور ہے اور ان ہوٹلوں میں جانے والا طبقہ بھی وہ ہے کہ عورت نے اگر سر ڈھانپ بھی رکھا ہو تو اس کا لباس مکمل طور پر مغربی ہی ہوتا ہے۔
اس وقت دنیا کے نقشے پر تین خالص نظریاتی ریاستیں موجود ہیں۔ ایک امارت اسلامیہ افغانستان، دوسری مملکت ایران اور تیسری ریاست اسرائیل۔یہ کیا طرفہ تماشا ہے کہ یہودیت کے پرچارک تو خواہ فلسطینیوں کو ان کے ذاتی گھروں سے نکال کر ان کی املاک پر قبضہ کریں، ان کے شہروں پر بمباری کریں، ان کی بستیوں کو ڈھا کر وہاں یہودی بستیاں بسائیں، انہیں ان کی مسجد اقصی کی زیارت تک سے روک دیں، ان کے سکول جانے والے ننھے بچوں تک کو خوف سے مرجانے پر مجبور کریں، عام فلسطینی شہریوں کی گاڑیوں پر گولیاں برسا کر نہتے شہریوں کو شہید کریں یا شام میں مجاہدین پر بمباریاں کرتے پھریں یا دوسرے ملکوں کے اندر گھس کر مجاہدین کو گھات لگا کر شہید کریں اور علی الاعلان اس کی ذمہ داری بھی قبول کریں تو ان کی جانب انگلی تک اٹھانا جرم ہے، جبکہ امارت اسلامی افغانستان کے طالبان مجاہدین کو خود ایک فریق مان کر ان کے ساتھ معاہدہ کرنے کے باوجود ان کے وزراء تک پر ملک سے باہر جانے پر پابندی ہو، ان کے لیے انہی کے اموال تک رسائی ناممکن بنا دی جائے اور انہی کا مال انہیں امداد کے نام پر اس طرح دیا جائے کہ وہ ان کی مرضی و منشا کے مطابق استعمال بھی نہ ہوسکے، معاہدے کے باوجود ڈرون حملے جاری رکھے جائیں اور نفاذِ شریعت کی کوششوں پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو یہ عین جائز، حق اور انصاف کا تقاضا ہے!!! جملۂ معترضہ ملاحظہ ہو کہ افغانستان کا وہ طبقہ جو دارالحکومت کابل میں طالبان کی آمد کی خبر سنتے ہی سر پر پاؤں رکھ کر اپنے ’آقاؤں‘ کے قدموں میں جگہ پانے کے لیے ایسا بھاگا کہ غالباً سیلاب سے بچنے والے بھی ریسکیو ہیلی کاپٹر کو دیکھ کر اس طرح نہیں بھاگتے، ’روشن‘ مستقبل اور ’آزادی‘ کی تلاش میں آج نہ یہاں کا رہا نہ وہاں کا۔ جن کے وعدوں پر اعتماد کرکے یہ افغان (جو افغان قوم کے نام پر دھبہ ہیں) اپنا وطن اپنے گھر بار اپنے رشتہ دار چھوڑ کر ہوائی جہاز کے دروازوں اور پروں سے لٹکے، وہ انہیں انتہائی بوسیدہ ہوٹلوں کی عمارتوں میں (جن کی چھتیں ٹپک ٹپک کر راہداریوں میں تالاب بنائے دیتی ہیں) ایک ایک کمرہ دے کر، روزانہ ایک جیسی، بہ مشکل گزارے لائق باسی خوراک دے کر،اور خاندانوں کو منتشر کرکے علیحدہ علیحدہ علاقوں میں رہائش پذیر ہونے پر مجبور کرکے فارغ ہوچکے ہیں۔ دہائی دینے پر عملی مشکلات کا رونا ان ’مہاجرین مال‘ کے سامنے رودیا جاتا ہے اور بس۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔ یہ خود ساختہ ’مہاجرین‘ ایک ایک کمرے کے اندر کئی کئی افراد مقید ہوکر نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ تعلیم کا سلسلہ بھی ان کا یہاں منقطع ہے۔ باہر نکلنے کی آزادی بھی یہاں مسدود ہے (افغانستان میں نہیں)، کام کرنے کے مواقع بھی تاحال پیدا نہیں ہوئے…… لیکن امید بہار رکھ…… یقیناً یہاں ان کا مستقبل افغانستان میں رہنے کے مقابلے میں بہت روشن ہے۔
دنیا میں اگر کوئی قوم بحیثیتِ مجموعی اپنی تاریخ اپنی شناخت، اپنے دین اور شعائر دین سے بے بہرہ اور بے نیاز نظر آتی ہے تو وہ مسلمان ہے۔ غلامی کے مختلف ادوار نے مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں سے ان کے دین پر فخر کھرچ کر نکال دیا ہے، اب وہ حصول دنیا ہی کو عزت اور کامیابی کا ضامن سمجھتے ہیں اور اپنے دین پر عمل حتیٰ کہ اپنے دین سے منسوب ہونے کا اظہار کرنے کو ہی تنزلی کا باعث جانتے ہیں۔ جو اپنے آپ کو بہت اچھا مسلمان سمجھتا ہے اس کا حال بھی یہ ہے کہ وہ نظریاتی طور پر جس بات کو صحیح کہتا ہے اس کا عمل اس کے بالکل خلاف ظاہر ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود ایک ویڈیو کلپ میں جب ایک مسلمان نوجوان سے اس کی آئیڈیل شخصیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو بولا: چونکہ میں مسلمان ہوں لہٰذا میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کو اپنا آئیڈیل بتاؤں گا، البتہ موجود لوگوں میں میرا آئیڈیل فلاں مشہور سوشل ميڈيا انفلوئسنر ہے۔ گویا ایک ہی جملے میں آسمان اور زمین کو، اکرم الاکرمین اور اسفل السافلین کو ایک کردیا۔ دوسری طرف مغضوب علیہم یہود کا یہ حال ہے کہ جہاں ایک طرف وہ دنیاوی ترقی، لبرل ازم، سیکولرازم کی زندہ مثال ہیں، وہیں انہوں نے اپنے بچے بچے کے دل و ذہن میں مسلمان کے خلاف تعصب، مسجد اقصیٰ ڈھانے کا خواب اور ریاست اسرائیل کی قدر و قیمت بخوبی جمارکھی ہے۔ الجزیرہ چینل کی نشر کردہ ایک دستاویزی فلم میں فلسطین میں بسنے والے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی روز مرہ زندگی اور ان کے خیالات و تصورات کا کسی حد تک جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ اور بات کہ انٹرویو کے لیے جن شخصیات کا چناؤ الجزیرہ نے کیا ان میں ایک قدامت پسند یہودی ربی ہے اور اس کے مقابلے میں ایک سادہ سا مسلمان دکاندار۔ مسلمان کی بیٹی کا خواب یونیورسٹی جانا اور وکیل بنناہے، جبکہ یہودی کی بیٹی تورات میں درج احکام کی پابندی، ماں کا ہاتھ بٹانے اور خدا کو راضی کرنے کو اپنا نصب العین بتاتی ہے۔ نیز یہودی ربی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر اس کی بیٹی کسی غیر یہودی سے شادی کرلے تو اس کا کیا ردعمل ہوگا، تو اس کا جواب مسلمان کے جواب کے بالعکس تھا جس نے کہاتھا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کی بیٹی کسی غیر مسلم سے شادی کرے، یہ شرعاً ناجائز ہے، جبکہ ربی نے کہا کہ اس کی پہلی کوشش تو یہ ہوگی کہ اس کی بیٹی کا شوہر یہودی بن جائے، اگر وہ اس پر راضی نہ ہو تو وہ اپنی بیٹی کو نصیحت کرے گا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اچھی طرح نباہ کرے تاکہ ان کی جو اولاد پیدا ہو اسے وہ سہولت کے ساتھ باعمل یہودی بنا سکے۔ آنے والی نسلوں کی خاطر شوہر سے نباہ کرنا اور ان نسلوں کے اندر یہودیت اتارنا اور انہیں ان کے دین سےجوڑے رکھنا یہودی عورت کی زندگی کا مقصد ہے۔ مسلمان عورتوں کو ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسے بے حیا نعروں کے پیچھے لگا کر ان کے گھر اور خاندان تباہ کرنے والے، بچوں کی پیدائش اور پرورش کو ان کے لیے کلنک کا ٹیکہ بنا دینے والے، گھرداری اور شوہر کی خدمت کو حقوق نسواں کے منہ پر تھپڑ قرار دینے والے بزبان خود کہتے ہیں کہ ’ہم کم عمری سے ہی اپنے بچوں کی تربیت یہودی اقدار کے مطابق کرتے ہیں‘۔
یہ وہ واضح فرق ہے کہ جس کی طرف مسلمانوں کو دل کی آنکھیں کھول کر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسلمان کو اللہ رب العز ت نے شیر بنا کر حکومت کرنے کے لیے پیدا کیا ہے بھیڑ بنا کر نہیں کہ آنکھیں کھلی مگر دماغ بند کرکے جھومتے جھامتے چلتے چلے جائیں۔ جہاں جس نے جس نعرے کے پیچھے لگا دیا بغیر سوچے سمجھے اس کی پیروی کرنے لگیں۔ آج اگر ہمارے بچے قرآن پاک حفظ کریں، اس کی تعلیم حاصل کریں، مدارس دینیہ میں اپنے دین کا علم حاصل کریں تو ان کی دنیاوی ضروریات کی فکر کرنا مملکت کا فرض ہے اور مملکت اگر اپنے فرائض سے غافل ہے تو استطاعت رکھنے والے اصحاب خیر کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔فلاحی خیراتی اداروں کو چندہ دینے والوں کی تعداد بہت ہے، مگر اپنے دین کا علم حاصل کرنے، اس دین کے نفاذ کی عملی کوشش کرنے والوں کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف ظلم کا بازار گرم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ہر ظلم کے سامنے سر جھکاتے چلے جارہے ہیں۔ مسلمان ظالم نہیں ہوتا تو مظلوم اور مسکین بن کررہنا بھی اس کی شان کے خلاف ہے۔ جو سر ظلم کے خلاف اٹھنا نہیں جانتا اس کا مقدر یا ظالموں کی ٹھوکریں سہنا ہوتا ہے یا اسے کاٹ دیا جاتا ہے۔ حق دار کو اس کا حق اس کی مسکنت نہیں بلکہ اس کی قوت کی بنا پر ملتا ہے، اس کو حق ملتا ہے جو خود کو حق دار ثابت کرے۔ مسلمان خواہ کشمیری ہو یا ہندی، ایغور ہو یا روہنگیا، افریقی ہو یا ایشیائی اسی وقت سر اٹھا کر جی سکے گا جب وہ اپنے دین کےساتھ جڑے گا اس دین کے ساتھ جو اسے آسمانوں کی بلندی سے جوڑتا ہے، جو کائنات کے مالک کے ساتھ اس کا رابطہ استوار کرتا ہے اور جو اسے اس کی شناخت عطا کرتا ہے، ھو سمّٰکم المسلمین، ان سب کو ایک رنگ میں رنگتا ہے؛ سرخ، زعفرانی، سیاہ یا زرد رنگ میں نہیں بلکہ اللہ کے رنگ میں ، صبغة اللَّه……
اور اس امت کے لیے اللہ کے رنگ کےسوا کوئی رنگ نہیں، اللہ کے رنگ کو چھوڑ کر یہ جس رنگ میں بھی رنگنا چاہے گی ، جس کی چال بھی چلنا چاہے گی ذلت و خواری ہی اس کا مقدر ہوگی۔
قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی
ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی!
٭٭٭٭٭