جمہوری عدالتیں اور اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنا | پہلا حصہ

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کرنے کا مقصد یہ بیان فرمایاکہ ’’وہ صرف اللہ کی عبادت کریں‘‘……لیکن اگر عدالت میں قرآن نافذ نہ ہو،تجارت عالمی مالیاتی اداروں کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت کی جاتی ہو،نظامِ حکومت جمہوری ہو……تو اللہ کی عبادت کس طرح کی جاسکتی ہے؟

حالانکہ اللہ تعالیٰ کا منشا تو یہ ہے کہ روئے زمین سے تمام باطل ادیان کو مٹاکر اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین قائم کردیا جائے۔صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ کافر بھی اس دین کے عطا کردہ نظام کے تحت زندگی گزایں تاکہ کوئی طاقت ور کسی کمزور پر ظلم نہ کرسکے،مظلوم کو انصاف دلایا جائے،غریب کو عزت سے جینے کا حق دیا جائے۔

اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم صرف مسلمانوں کے مسائل ہی میں نہیں ہے بلکہ کفار کے مسائل و مقدمات(سوائے کچھ شخصی و عائلی معاملات کے)اسی الٰہی دستور وآئین کے ذریعہ حل کیے جائیں گے۔لیکن آپ سوچوں کی پستی اور اللہ تعالیٰ کے صریح حکم سے غفلت کا اندازہ لگائیے کہ کافروں کے مابین فیصلہ تو دور کی بات، مسلمانوں کی عدالتیں مسلمانوں کے مابین فیصلے کافروں کے قانون سے کرتی ہیں۔اسی کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ان فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے پولیس اور فوج بنائی گئی ہے جو اس کفر کو جبراًنافذ کرتی ہے،اس کی رِٹ کو یقینی بناتی ہے۔حالانکہ اللہ کاقرآن ہی وہ قانون ہے جس کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں:

فَاحْکُم بَیْنَہُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء ہُمْ عَمَّا جَاء کَ مِنَ الْحَقّ……(سورۃ المائدۃ:۴۸)

’’سو آپ اس (دستور) کے مطابق فیصلہ کیجیے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے،اور ان(کافروں) کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے……‘‘

یہاں ہم جمہوری نظام کے ایک اساسی ستون ،یعنی جمہوری عدالتوں کا جائزہ لیں گے اور اس غرض سے اس بنیادی سوال کا جواب جاننے کی کوشش کریں گے کہ ان عدالتوں میں اللہ کی شریعت کی بجائے انسانوں کے تراشے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے کرنے کا جو عمل جاری ہے، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

اللہ کی شریعت کے علاوہ کسی اور قانون سے فیصلہ کرنا

اہل سنت والجماعت کو اللہ رب العزت نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے منتخب فرمایااوردین کو افراط و تفریط اور کمی وزیادتی سے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ قرآن وسنت کو اس کے صحیح معنی ومفہوم کے ساتھ بیان کرنے اور اس کو سلف صالحین کی تشریحات کے مطابق سمجھنے کی توفیق عطا فرمائی تاکہ یہ طبقہ دین مبین کو ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک کرکے،تشددوغلو کے خاردار راستوں سے بچا کر اعتدال کی شاہراہ پر چلائے۔

چنانچہ امت ہر دور میں تاریک سے تاریک فتنوں میں بھی کامیابی سے سفر کرتی رہی۔دشمنانِ دین کی طرف سے اڑائے گئے گردوغبارمیں بھی اس جماعت نے حق کی راہِ اعتدال کو نہیں چھوڑا،علمائے اہل سنت نے اس قافلے کو فکری ڈاکوؤں،مذہبی سوداگروں اور ایمان کے دشمنوں سے بچا کر منزل کی جانب رواں دواں رکھا ہوا ہے۔

آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’لاتزال طائفۃ من أمتی ظاھرین علی الحق لا یضرھم من خذلھم حتی یأتی أمر اللہ.‘‘ (صحیح مسلم )

’’میری امت کی ایک جماعت حق کی خاطر قتال کرتی رہے گی،حق پر غالب رہے گی،جس نے ان کا ساتھ چھوڑاوہ اس جماعت کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجائے۔‘‘

چنانچہ دیگر موضوعات کی طرح اس مسئلہ(اللہ کے نازل کردہ قانون سے فیصلہ نہ کرنا) میں بھی ہر دور کے علمائے حق نے اپنے دور میں پائی جانے والی کمی و زیادتی کو بیان کرتے ہوئے اس مسئلے کو شریعت کی تعلیم کی روشنی میں سمجھایا ہے۔

لہٰذااس دور میں بھی اہل علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے سامنے موجود صورتِ مسئلہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں،صرف اس کے ظاہری حالات اور مبہم اصطلاحات کا استعمال ہوتا دیکھ کر اس کے مطابق اس کی شرعی حیثیت کو بیان نہ کریں، تاکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں امت کی رہ نمائی کرسکیں۔نہ تو اپنی طرف سے کسی مسئلہ میں تشدد اختیار کریں، اگر شریعت نے لوگوں کو گنجائش دی ہے تو یہ اپنی طرف سے ان پر سختیاں نہ عائد کریں،اور نہ ہی آسانیاں پیداکرنے کے چکر میں دین کی ان سرحدوں کو ہی پامال کربیٹھیں جو کفرواسلام میں امتیاز قائم رکھتی ہیں۔

لیکن افسوس کہ اس دور میں،زیربحث مسئلہ میں لوگوں نے انتہائی سستی اورمداہنت سے کام لیا ہے۔اور اب تو یہ حال ہے کہ عوام تو عوام ،اہل علم گھرانوں میں بھی اس بات کا احساس نہیں کہ اللہ کی شریعت کے علاوہ کسی او ر قانون کے تحت زندگی کی سانسیں لینا،غیر اللہ کے آئین کو حاکم ماننا،اس پر خاموش رہنا،راضی رہنا یہ کوئی چھوٹا موٹا گناہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سخت الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔

کس قدر زیادتی ہے کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی سخت وعید کو کوئی اپنی طرف سے ہلکا کرکے پیش کرے،کسی صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو غلط جگہ پر پیش کرے۔شہنشاہِ ارض وسماء لوگوں کو ڈرا رہے ہیں کہ جس نے ہمارے آئین کے علاوہ کسی اور آئین سے فیصلہ کیا وہ کافر ہے……لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کی دھمکی کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں،خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی جری کرتے ہیں کہ نہیں کوئی بات نہیں،یہ کوئی ایسا بڑا جرم نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو۔گویا (نعوذباللہ) احکم الحاکمین کی وعید نہ ہوئی،کوئی معمولی بات ہوگئی!اعاذنااللہ منہ!

اسی طرح یہ بھی اہل سنت کے مسلک کے خلاف ہے کہ قرآن و حدیث کے ظاہری ترجمہ کو دیکھ کراس کو وہ معنی پہنادیے جائیں جو اسلافِ امت سے ثابت نہیں ہیں۔

اپنے دور میں درپیش کسی مسئلہ میں ہم اس وقت غلطہ کربیٹھتے ہیں جب کسی مسئلہ کے بارے میں ہم اس کا ظاہر دیکھ کر فیصلہ سناتے ہیں اور اس تفصیل کو طلب نہیں کرتے جو سلف صالحین نے بیان فرمائی ہے۔اسی طرح دوسری غلطی یہ ہوتی ہے کہ اسلافِ امت کی بیان کی گئی تفصیل کو ہم آج ایسی جگہ ثابت کرجاتے ہیں جہاں وہ منطبق ہو ہی نہیں سکتی۔

زیربحث مسئلہ(قرآن کے خلاف فیصلہ کرنا)بھی اسی قسم کے مسائل میں سے ہے جن میں صورتِ مسئلہ کی گہرائی میں جائے بغیر موجودہ نظام کے بارے میں شرعی حکم بیان کردیا جاتا ہے۔بندہ نے کوشش کی ہے کہ صورت مسئلہ کو پوری طرح کھول کر بیان کردیا جائے تاکہ علمائے حق شریعت کی روشنی میں ہماری رہ نمائی کریں۔

تنبیہ:

غیر قرآن سے فیصلہ کرنے والا کافر ہوجاتا ہے یا نہیں؟اس بحث میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ ساری بحث صرف ایک شرعی حکم سے متعلق ہے۔یعنی کوئی جج یا حکام قرآن کے تمام فیصلے نافذکرتا ہے لیکن صرف ایک قطعی طور پر ثابت شدہ شرعی حکم میں غیرِ قرآن سے فیصلے سناتا ہے (مثلاًزنا کی شرعی سزا کو بدل کر انگریزی قانون میں بیان کردہ سزا کے مطابق فیصلے کرتا ہے) تو کیا وہ مکمل دائرۂ اسلام سے خارج ہوگیا یا نہیں؟

آیت کا شان نزال

پہلے اس آیت کی شان نزول(پس منظر) سمجھتے چلیں،اس کے بعد اس آیت کی تفسیرمیں مشہور مفسرین (متقدمین و متاخرین) کے اقوال بیان کیے جائیں گے۔اگر ہم اس بحث کو اچھی طرح سمجھ لیں تو ان شاء اللہ اسلام وکفر ،جس کو جدید دجالی ذہنوں نے خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے،الگ الگ ہوجائیں گے۔

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ۝(سورۃ المائدۃ: ۴۴)

’’اور جو اللہ کے نازل کردہ(قرآن) سے فیصلہ نہ کریں وہی لوگ کافر ہیں۔‘‘

معارف القرآن میں مفتی شفیع صاحبؒ نے اس کی شانِ نزول امام بغویؒ کے حوالہ سے اس طرح بیان فرمائی ہے:

’’یہ زنا کا واقعہ ہے۔خیبر کے یہودیوں میں یہ واقعہ پیش آیا او رتورات کی سزا کے مطابق ان دونوں کو سنگسار کرنا لازم تھا۔مگر یہ دونوں کسی بڑے خاندان کے افراد تھے۔یہودیوں نے اپنی قدیم عادت کے مطابق یہ چاہا کہ ان کے لیے سزا میں کمی کی جائے اور ان کو یہ معلوم تھا کہ مذہب اسلام میں بڑی سہولتیں دی گئی ہیں،اس بنا پر اپنے نزدیک یہ سمجھا کہ اس سزا میں بھی تخفیف ہوگی۔خیبر کے لوگوں نے اپنی برادری بنی قریظہ کے لوگوں کو پیغام بھیجا کہ اس معاملہ میں فیصلہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) سے کرادیں۔چنانچہ کعب بن اشرف وغیرہ کاایک وفد ان لوگوں کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہواور سوال کیا کہ شادی شدہ مردوعورت اگر زنا میں مبتلا ہوں تو ان کی کیا سزا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم میرا فیصلہ مانو گے؟انہوں نے اقرار کیا۔

اس وقت جبریل امین ‘اللہ تعالیٰ کا یہ حکم لے کر نازل ہوئے کہ ان کی سزا سنگسار کرکے قتل کردینا ہے۔ان لوگوں نے جب یہ فیصلہ سنا تو بوکھلا گئے اور ماننے سے انکار کردیا۔جبریل امین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے یہ کہیں کہ میرے اس فیصلے کو ماننے یا نہ ماننے میں ابن صوریا کو حکم بنا دو۔اور ابن صوریا کے حالات و صفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد سے پوچھا کہ کیاتم اس نوجوان کو جانتے ہو جو گورا مگر ایک آنکھ سے معذور ہے،فدک میں رہتا ہے،جس کو ابن صوریا کہا جاتا ہے؟سب نے اقرار کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا،آپ لوگ اس کو کیسا سمجھتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ علمائے یہود میں روئے زمین پر اس سے بڑا کوئی عالم نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بلاؤ۔چنانچہ وہ آ گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم دے کر پوچھا کہ اس صورت میں تورات کا کیا حکم ہے؟ وہ بولا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو دی ہے!اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قسم نہ دیتے اور مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ غلط بات کہنے کی صورت میں تورات مجھے جلا ڈالے گی تو میں یہ حقیقت ظاہر نہ کرتا۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی طرح تورات میں بھی یہی حکم ہے کہ ان دونوں کو سنگسار کرکے قتل کردیا جائے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھر تم پر کیا آفت آئی کہ تم تورات کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہو؟ابن صوریا نے بتالایا کہ اصل بات یہ ہے کہ زنا کی شرعی سزا تو ہمارے مذہب میں یہی ہے لیکن ہمارا ایک شہزادہ اس جرم میں مبتلا ہوگیا،اس کی رعایت کرتے ہوئے ہم نے اس کوچھوڑ دیا،سنگسار نہیں کیا۔پھر یہی جرم ایک معمولی آدمی سے سرزد ہوا تو ذمہ داروں کو سنگسار کرنا چاہا۔تو مجرم کے خاندان والوں نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ اگر شرعی سزا اس کو دینی ہے توپہلے شہزادے کو دو ورنہ ہم اس پر یہ سزا جاری نہ ہونے دیں گے۔یہ بات بڑھی تو سب نے مل کر صلح کرلی کہ سب کے لیے ایک ہی ہلکی سزا تجویز کردی جائے اور تورات کا حکم چھوڑ دیا جائے ،اور اب یہی سب میں رواج ہوگیا۔‘‘

امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒ نے بھی اس آیت کی شانِ نزول اسی واقعے کو قرار دیا ہے۔دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ تورات میں مذکور یہ سزا منہ کالا کرکے دونوں کو الٹا گدھے پر بٹھا کر شہر کا چکر لگوانا پھر کوڑے مارنا تھی۔

چندقابلِ غور باتیں:

أ۔   آپ ان یہود کی تورات کی سچائی وصداقت پر ایمان دیکھیے کہ وہ غلط بات کہنے کی صورت میں اس بات سے ڈر رہا ہے کہ تورات اس کوجلا ڈالے گی۔اس کے ساتھ اللہ کی وحدانیت پر یقین بھی ملاحظہ فرمائیے کہ قسم دیے جانے پر ایسا سچ بولنے پر آمادہ ہوگیا جس سے اس کی پوری قوم ومذہب کی بے عزتی ہوتی تھی۔

ب۔   انہوں نے تورات کے حکمِ سنگسار کا اس طرح انکار نہیں کیا تھا کہ وہ ان کے منزل من اللہ (اللہ کی جانب سے نازل کردہ) ہونے کے منکر ہوگئے تھے، بلکہ انہوں نے تورات کے حکم کے مقابلہ میں اپنی طرف سے ایک اور قانون منظو رکرلیا تھا،اور اسی کو نافذ کردیا تھا۔

ج۔   علمائے یہود نے تورات کے اندر رجم کرنے کے حکم کو مٹا کر اپنا ترمیم شدہ قانون کسی دستاویز یا دستور کی شکل میں لکھا نہیں تھا اور نہ ہی تورات کے قانون کے مقابلے میں کوئی دستور تحریری طور پر تیار کیاتھا۔بلکہ ابھی تک تورات میں اللہ کا نازل کردی قانونِ رجم ہی موجود تھا،یہ ترمیم صرف زبانی کلامی کی گئی تھی۔جب کہ آج قرآن کے مقابلے میں ایک دستور تحریری طور پر تیار ہے جس کوپڑھایا جاتا ہے اور قرآن کی بجائے اسی کوجبراًملک میں نافذ کیا گیا ہے۔اس کے اندر بے شمار خلافِ شرع ترمیمات موجود ہیں ،پھر بھی اس کو اسلامی کہا جاتا ہے۔گویا قرآن اسلامی نہیں بلکہ اسلامی وہ ہے جو آئین پاکستان میں ہے۔یا جو چور کے ہاتھ کاٹنے او رشادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے کے قوانین محمدصلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے وہ اسلامی نہیں،بلکہ اسلامی وہ ہیں جو قوانین پاکستان میں ہیں؟

د۔   اس واقعے سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نازل کردہ قانون میں ترمیم کرنے والوں پر کفر کا حکم لگایا گیا۔

اب آپ ذرا غور فرمائیے کہ آج جمہوریت کے لادین علم بردار اور اس کے مسلح محافظین بھی تو ایسا ہی کررہے ہیں۔بلکہ اس سے کہیں زیادہ بدتر جویہود کرتے تھے۔ آپ آج جمہوریت میں شریک سیکولر جماعتوں کو دیکھیے کہ وہ کس ڈھٹائی کے ساتھ اس قرآن کے احکامات کو وحشت ودرندگی کہتے ہیں،ان کو فرسودہ اور تاریک دور کے قوانین کہتے ہیں،قوت کے زور پر ان کو نافذ ہونے سے روکتے ہیں،اس میں نہ کسی شرافت ،نہ ہی کسی خوفِ الٰہی کی پروا کرتے ہیں……پھر کیا وجہ ہے کہ یہود تو اس حکم ماأانزل اللہ (اللہ کے قانون)کے مطابق فیصلہ نہ کرنے یا اس میں ترمیم کرنے سے مطلقاًکافر اور ان جاحدین ومنکرین کے حق میں اتنے دلائل کہ کبھی ان کو پکا سچا مسلمان ثابت کیا جائے،کبھی امام المسلمین بنادیا جائے!

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ اور مفسرین کرام

اب آئیے اس آیت کو امت کے ان مفسرین کی تفاسیر سے سمجھتے ہیں جن پر اتفاق ہے۔امام المفسرین ابن جریر طبری ؒ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

یقول تعالیٰ ذکرہ: ومن کتم حکم اللہ الذی انزلہ فی کتابہ،وجعلہ حکما بین عبادہ فاخفاہ ،وحکم بغیرہ، کحکم الیہود……{فاولئک ھم الکافرون}یقوم: ھولاء الذین لم یحکموابما انزل اللہ فی کتابہ ،ولکن بدلوا وغیرہ حکمہ و کتمواالحق الذی فی کتابہ {ہم الکافرون}یقول:ھم الذین سترواالحق الذی کام علیھم کشفہ وتبینیہ وغطوہ عن الناس واظھروالھم غیرہ و قضوابہ لسحت اخذوہ منھم علیہ(جامع البیان فی تأویل القرآن )

’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:اور جس نے اللہ کے اس حکم کو چھپایا جو اس نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے،اور جس کو اپنے بندوں کے مابین قانون بنایا ہے،چنانچہ اس نے اس قانون کو چھپایا اور یہود کی طرح اس کے علاوہ فیصلہ کردیا……(وہ کافر ہیں)یعنی یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ سے فیصلہ نہیں کرتے ،بلکہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کو تبدیل کردیتے ہیں اور اس حق کوچھپاجاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے۔

(ایسے لوگ کافر ہیں)جنہوں نے اس حق کو چھپایا جس کا کھول کر بیان کرنا ان پر لازم تھا،اور لوگوں کی آنکھوں سے اس حق کو اوجھل رکھا،اور لوگوں کے سامنے اس حق کے علاوہ دوسری بات ظاہر کی،اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا،رشوت کی وجہ سے جو انہوں نے لی تھی۔‘‘

فائدہ:

امام ابن جریر طبریؒ نے اس آیت کی تفسیر میں جو تفصیل بیان فرمائی ہے وہ آج کے عدالتی نظام میں مکمل پائی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کو چھپانا ،یعنی مقدمات کے دوران میں کبھی اس کا ذکر ہی نہ کرنا کہ زیر بحث مقدمات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا قانون کیا ہے بلکہ اپنے بنائے قانون ہی کواسلامی آئین کہنا اور یہ کہنا کہ ہماری عدالتیں اسلامی آئین کی رو سے ہی فیصلے کرتی ہیں،اللہ تعالیٰ کے قانون میں تبدیلی کرنا (جیسے شادی شدہ زانی کو سنگسار کی بجائے چند سال جیل کی سزا وغیرہ)……یہ سب وہی باتیں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہود کو کافر قرار دیا۔

اس آیت کی تفسیر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

’’من جحد ما انزل اللہ فقد کفر،ومن اقربہ ولم یحکم فھو ظالم فاسق۔‘‘

’’جو اللہ تعالیٰ کی حدود( سنگ ساری،کوڑے مارنا وغیرہ) میں سے کسی بھی قانون کا انکار کرے،تو وہ کافر ہوگیا،اور جس نے ان سب باتوں کا اقرار کیالیکن ان قوانین کے مطابق فیصلے نہیں کیے تو وہ ظالم و فاسق ہے۔‘‘

حضرت عکرمہؒ نے فرمایا:

معناہ:ومن لم یحکم بما انزل اللہ جاحدابہ فقد کفر،ومن اقر بہ ولم یحکم بہ فھو ظالم فاسق(الکشف والبیان،الجزء۵)

’’اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کے قانون کا انکار کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے ،تو وہ واقعی کافر ہوگیا۔اور جو اس قانون کا اقرار کرے اوراس کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہ ظالم و فاسق ہے۔‘‘

قرآن کے قانون پر ایمان لانا……ایک شبہ اوراس کی وضاحت

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ کے بارے میں اسلاف نے جو یہ فرمایا جاحدابہ (یعنی جو اللہ تعالیٰ کے قانون کا انکار کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہ واقعاً کافرہوگیا) ،اس سے لوگوں کو شاید یہ شبہہ ہوا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس کو قرآن کا حصہ یا اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہونے کا یقین نہ رکھتا ہے۔چنانچہ اگر کوئی اس پر ایمان رکھتے ہوئے قرآن کے قانون کے علاوہ سے فیصلے کرتا ہے تو وہ کفراکبرنہیں بلکہ کفر مجازی یا کفردون کفر(یعنی چھوٹا کفر) ہے۔

وضاحت:

ایسا سمجھنا اسلام کی عبارت کو سمجھنے میں غلطی ہے۔یعنی جس طرح خوارج نےاس آیت سے مطلقاًکفراکبر مراد لیا اور اعتدال سے ہٹ گئے،اسی طرح اس آیت میں بیان کیے گئے کفر کو مطلقاًکفردون کفریا کفراصغر قراردینا بھی اہل سنت کے راستے سے ہٹ جانا ہے۔یاد رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کفردون کفر کو مطلقاًنہیں استعمال کیا بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دفاع میں بیان کیا ہے۔

ہمارے اسلاف نے واضح طور پر یہ فرمایا ہے کہ یہ حاکم اس بات کا یقین رکھتا ہو کہ متعلقہ مقدمے میں قرآن کے قانون سے فیصلہ کرنا واجب ہے اوراس کے خلاف کرنے پر خود کو گناہ گار اور سزاکامستحق سمجھتا ہے۔صرف اتنا کافی نہیں کہ وہ ان قوانین کو قرآن کا حصہ سمجھے اور اس کے مطابق فیصلے کو واجب نہ سمجھے۔یہودی بھی ان آیات کو،جو رجم کے بارے میں تھیں تورات کا حصہ مانتے تھے،لیکن فیصلے میں اس کی جگہ دوسرا قانون بنا لیا تھا اور اسی کو شرعی قانون ثابت کررہے تھے۔چنانچہ قرآن نے ان کے اس عمل کر کفرِاکبر قراردیا۔

نیر یہ بات ذرا غور کرنے کی ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن کی کسی آیت کو منزل من اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ نہ مانے تو وہ صرف اس نظریے کی وجہ سے ہی فوراًکافر ہو جائے گا۔اس کے بارے میں یہ بحث کرنا فضول ہے کہ قرآن کے قانون کے علاوہ سے فیصلہ کرنے سے کافرہوتا ہے یا نہیں؟لہٰذا اس آیت کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہوسکتا۔علمائے امت نے اس کا مطلب یہی بیان کیا ہے کہ قرآن کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو واجب سمجھتا ہو اور اس کے علاوہ کسی بھی قانون سے فیصلہ کرنے کو گناہ سمجھتا ہو۔

اس بات کو امام بیضاوی،امام ابوبکرجصاص ،شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ،امام ابن قیم جوزیہ،امام ابن ابی العزحنفی،حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ﷭وغیرہ نے اور زیادہ واضح اورکھول کر بیان کیا ہے۔ اہل علم حضرات کو امام صاحبؒ کی عبارت پر غور کرنا چاہیے ۔چنانچہ بعض مفسرین نے وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ کی تفسیر میں اختصار کے طور پرصرف اتنا فرمایاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ پر ایمان نہ رکھتا ہو۔لیکن ان کی مراد وہی ہے جو دیگر مفسرین امت کی ہے کہ اس سے فیصلے کو واجب سمجھتا ہو۔

وقال ابن مسعود والسدیّ: من ارتشی فی الحکم وحکم فیہ بغیر حکم اللہ فھو کافر(الکشف والبیان،الجزء۵)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور امام سدیؒ نے فرمایا:’’جس نے فیصلہ کرنے میں رشوت لی اور اس فیصلہ میں اللہ کے قانون کے علاوہ سے فیصلہ دیا تو وہ قاضی (جج) کافر ہے‘‘۔

فائدہ:

ان دونوں حضرات کے نزدیک ایسا شخص بالکل کافر ہے۔

قال ابن مسعود والحسن: ھی عامۃ فی کل من لم یحکم بما انزل اللہ من المسلمین والیہودوالکفار ای معتقداذلک و مستحلالہ فأمامن فعل ذلک وھو معتقدأنہ راکب محرم فھو من فساق المسلمین (الجامع لأحکام القرآن المعروف تفسیر القرطبی؛الجزء۶،تفسیر سورۃ المائدۃ: ۴۴)

عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اور حسن بصریؒ نے فرمایا:’’یہ آیت مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر کفار میں سے ہر اس شخص کے بارے میں عام ہے جو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے۔یوں جو اللہ تعالیٰ کی شریعت سے فیصلہ نہ کرے اور اپنے اس فعل کے صحیح اور(قانونی) ہونے کانظریہ رکھتا ہو(تو وہ شخص صریح کافر ہے)۔البتہ جو اس کام کو حرام سمجھتے ہوئے کرے تو وہ فاسق مسلمانوں میں سے ہے‘‘۔

ذرا آج کے نظام جمہوریت پر غو رکیجیے اور فیصلہ کیجیے کہ کیا ان عدالتوں والوں کی نہایت غالب اکثریت اپنے فیصلوں کو گناہ سمجھتی ہے؟وہ تو اپنے نزدیک بہت بڑا خیر کا کام کررہے ہیں۔اورکیا یہ عدالتیں غیرِ قرآن سے فیصلے کرنے کو حلال یعنی قانونی نہیں سمجھتیں؟

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا:

’’جی ہاں!لیکن تم (یعنی یہ امت) ان یہود کے راستے پر قدم بقدم چلو گے‘‘۔(الجامع لأحکام القرآن المعروف تفسیر القرطبی؛ الجزء۶،تفسیر سورۃ المائدۃ: ۴۴)

علامہ آلوسی ؒنے ’روح المعانی‘ میں امام شعبی کی یہ رویت نقل کی ہے:

’’سورہ مائدہ کی یہ تینوں آیات (وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ …… فأولٰئک ھم الفاسقون…… فأولٰئک ھم الظالمون)،ان میں سے پہلی اس امت کے لیے ہے، دوسری یہود اور تیسری نصاریٰ کے بارے میں ہے۔‘‘

علامہ آلوسی ؒفرماتے ہیں:

’’اس بنیاد پر یہ لازم آتا ہے کہ مسلمانوں کی حالت یہودونصاریٰ سے بدتر ہوگی‘‘۔(روح المعانی؛الجزء ۵،تفسیر سورۃ المائدۃ:۴۴)

آج کفریہ عدالتوں کو اسلامی ثابت کرنے والے اور کفریہ جمہوری نظام کو اسلامی قرار دینے والے یہودونصاریٰ سے آگے نہیں بڑھے تو اور یہ سب کیا ہے؟

تفسیر ابن جریر میں بھی امام شافعیؒ کا یہ قول بیان کیا گیا ہے کہ:

’’اس آیت میں کافر ہونے کا حکم مسلمانوں کے بارے میں ہے(یعنی جو اللہ تعالیٰ کی شریعت سے فیصلہ نہ کریں)۔‘‘

مشہور حنفی فقیہ اورمفسر امام نسفیؒ(۷۱۰ھ وفات) تفسیرِ نسفی میں فرماتے ہیں:

أی مستھیناًبہ’’یعنی جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کو کم اہم سمجھتے ہوئے،اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر ہے۔‘‘

تو کیا آج جمہوری نظام کے مقابلے میں نفاذِ شریعت کو بے وقعت نہیں سمجھا جارہا؟ تو پھر توپ و تفنگ اور جنگ کس بات کی؟دہلی کی سپریم کورٹ کس کی عظمت کی داستان سناتی ہے؟اسلام آباد کی عدالتِ عالیہ میں اللہ تعالیٰ کے قانون کا کیا حشر کیا جاتا ہے؟پارلیمنٹ کا بنایا قانون ،وحی سے اعلیٰ ،اوروحی کا قانون اس وقت تک قانون نہیں بن سکتا جب تک پارلیمنٹ اس کی منظوری نہ دے دے !بتائیے کون اہم ہے اور کون غیر اہم؟ کس قانون کی رِٹ کو قائم رکھنے کے لیے سوات تاوزیرستان جنگ جاری ہے؟حالانکہ مجاہدین تو مطالبہ ہی اللہ تعالیٰ کی شریعت کا کررہے ہیں؟

امام بیضاویؒ (۶۹۱ھ وفات) کا نام کس طالب علم کے لیے نیا ہے؟آپؒ نے تفسیربیضاوی میں اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی ہے:

{ومن لم یحکم بما انزل اللہ }مستھیناًبہ منکراًلہ{ فأولٰئک ھم الکافرون}لاستھانتھم بہ وتمردھم بأن حکموابغیرہ،ولذلک وصفھم بقولہ{الکافرون}

’’اور جس نے اللہ تعالیٰ کی شریعت سے فیصلہ نہیں کیا،اس قانون کو کم اہم سمجھتے ہوئے( اس کے علاوہ کو زیادہ اہم سمجھا)اس کے مطابق فیصلہ کرنے کے وجوب کا انکار کرتے ہوئے،تو وہ کافر ہے،اس قانون کو کم اہم سمجھنے کی وجہ سے اور اس کے علاوہ سے فیصلے پرڈٹے رہنے کی وجہ سے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کوالکافرون قراردیا۔‘‘

بتایئے کون غیر اسلامی قوانین پر ڈٹا ہوا ہے اور اس کے لیے جنگ کرتا ہے؟

اسی طرح علامہ زمخشریؒ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔انہوں نے تفسیرکشاف میں یہی تفسیر کی ہے۔

تنبیہ:

علامہ زمخشریؒ اورامام بیضاویؒ کا یہ قول کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے علاوہ کسی قانون سے فیصلے پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے وہ کافر ہیں ،آج جمہوری عدالتی نظام پر کتنا صادق آتا ہے۔یہ عدالتیں غیرِ قرآن سے فیصلوں پر سالوں سے ڈٹی ہوئی ہیں،بلکہ قرآن کے مقابلے میں بنائے گئے قوانین کی رِٹ کو یقینی بنانے کے لیے لڑنے کو جہاد کہتی ہیں…… کیا اہلِ حق اس کا حکم بیان کرپائیں گے؟

ابوالفرج ابن جوزیؒ(۵۰۸۔۵۹۷ھ)’زادالمسیر‘ میں فرماتے ہیں:

……ومن لم یحکم بما أنزل اللہ جاحداً، وھویعلم أن اللہ أنزلہ، کما فعلت الیھود، فھو کافر……

’’……جس نے اللہ تعالیٰ کی شریعت سے فیصلہ نہیں کیا،اس کے وجوب کا انکار کرتے ہوئے،حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قانون ہے،جیسا کہ یہود نے کیا تھا،تو وہ کافر ہے……‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر مفسرین نے جو اس آیت کے ضمن میں یہ فرمایا کہ ’’جو اللہ تعالیٰ کے قانون کا انکار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قانون کے علاوہ فیصلہ کرے‘‘اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ اس کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حصہ نہ مانتا ہو،بلکہ یہ ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کرنے کے واجب ہونے کا اعتراف نہ کرتا ہو۔

مفتی شفیع صاحبؒ نے ’معارف القرآن‘ میں وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے:

’’یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے احکام کو واجب نہیں سمجھتے اور ان پر فیصلہ نہیں دیتے بلکہ ان کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں وہ کافرومنکر ہیں، جن کی سزا دائمی عذابِ جہنم ہے۔‘‘(معارف القرآن؛تفسیرسورۃ المائدۃ: ۴۴)

حضرت حسن بصریؒ نے فرمایا کہ:

’’یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی لیکن ہمارے اوپر بھی واجب ہے۔‘‘(بحوالہ تفسیر طبری آیت ھذا)

امام ابوبکرجصاصؒ فرماتے ہیں:

’’اور عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ،حضرت حسن بصری ؒ اور حضرت ابراہیمؒ فرماتے ہیں کہ یہ حکم عام ہے ہر اس شخص کے بارے میں جو قرآن کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا اور غیر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔‘‘(احکام القرآن للجصاص؛الجزء:۳،ص:۵۳)

اسی طرح ابولبختریؒ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا یہ بنی اسرائیل کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ:

’’جی!(البتہ یادرکھو کہ)بنی اسرائیل بھی تمہارے بھائی ہیں اگر تم یہ سوچتے ہو کہ میٹھا میٹھا تو سارا تمہارے لیے ہے اور کڑواکڑوا سارا بنی اسرائیل کے لیے ہے، (تو)نہیں!بلکہ تم ضرور ان کے طریقے کی پیروی کرو گے۔‘‘(احکام القرآن للجصاص؛الجزء:۳،ص:۵۳)

یعنی جو بات اپنے اوپر دشوار گزرے اس کو کہیں کہ یہ حکم تو بنی اسرائیل کے لیے تھااور جس میں نفس پہ کوئی دشواری نہ ہواس کو خود اپنالیں۔

امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’جن حضرات نے اس آیت کے بارے میں یہ کہا کہ یہود کے بارے میں ہے،(فرمایا) یہ ضعیف دلیل ہے کیونکہ تفسیر میں اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ خاص سبب کا۔‘‘(مفاتیح الغیب المعروف تفسیر الرازی؛ الجزء ۶،تفسیرسورۃ المائدۃ:۴۴،أبوعبداللہ محمد بن عمربن الحسن بن الحسین التمیمی الرازی الملقب بفخر الرازی)

مزید فرماتے ہیں:

’’امام عطاؒ(تابعی) نے فرمایا :یہ ’کفردون کفر‘ ہے یعنی ’یہاں کفر سے مراد کفرِ اصغر ہے‘۔ اورامام طاؤسؒ(تابعی) نے فرمایا: ’یہ ایسا کفر نہیں جو ملت سے خارج کردے جیساکہ اللہ اور یوم آخرت کاانکار ملت سے خارج کردیتا ہے‘۔گویا ان حضرات نے اس آیت کو کفرِ نعمت کہا ہے،یہ قول بھی ضعیف ہے۔کیونکہ لفظ کفرجب مطلق بولا جاتا ہے تو اس سے کفر فی الدین(یعنی بڑاکفر) مرادہوتا ہے۔‘‘

جن حضرات نے یہ کہا کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو تمام مقدمات میں اللہ کے قوانین کے خلاف فیصلے کرے وہ کافر ہے،البتہ جو بعض مقدمات میں ایسا کرے وہ کافر نہیں ہے۔امام رازیؒ اس کا رد فرماتے ہیں:

لوکانت ھذہ الآیۃ وعیداًمخصوصاًبمن حکم اللہ تعالیٰ فی کل ما أنزل اللہ تعالیٰ لم یتناول ھذاالوعیدالیھودبسبب مخالفتھم حکم اللہ فی الرجم،وأجمع المفسرون علی أن ھذاالوعیدیتناول الیھودبسبب مخالفتھم حکم اللہ تعالیٰ فی واقعۃ الرجم…قال عکرمۃ:قولہ {ومن لم یحکم بما انزل اللہ }انما یتناول من أنکربقلبہ وجحدبلسانہ،أمامن عرف بقلبہ کونہ حکم اللہ وأقربلسانہ کونہ حکم اللہ،الاأنہ أتی بما یضادہ فھوحاکم بما أنزل اللہ تعالیٰ،ولکنہ تارک لہ،فلایلزم دخولہ تحت ھذہ الآیۃ،وھذاھو الجواب الصحیح واللہ أعلم

’’اگر اس آیت میں خاص ان لوگوں کے لیے وعید ہوتی جو تمام فیصلوں میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کریں تو اس میں ان یہود کے لیے وعید نہ ہوتی جو حکمِ رجم میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کررہے تھے۔جب کہ تمام مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس آیت میں ان یہود کے لیے وعید ہے جو واقعۂ رجم میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کررہے تھے…… عکرمؒہ کا کہناہے:’اس آیت میں اس شخص کا حکم ہے جو اللہ تعالیٰ کے قانون کا دل سے انکارکرے اور زبان سے انکار کرے۔البتہ وہ شخص جو دل سے اس قانون کے منجانب اللہ ہونے کی تصدیق کرے اور زبان سے بھی اقرار کرے،لیکن عملاًاس کے مخالف فیصلہ کرے تووہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرنے والا کہلائے گا،لیکن اس کو چھوڑنے والا ہوگا،چنانچہ وہ اس آیت میں داخل نہیں‘۔یہی جواب صحیح ہے۔‘‘(ایضاً)

وضاحت:

یہاں پھر یاد دلاتے چلیں کہ امام رازیؒ نے جو دل کی تصدیق اور زبان سے اقرار کی بات کی ہے،اس سے مراد وہی ہے جو پہلے بیان کیا گیا ،کہ اس کے مطابق فیصلے کے واجب ہونے کا اقرار کرتا ہو۔نیز یہ بات بھی یاد رہے کہ امام رازیؒ یہ حکم اس ریاست،حاکم یا جج کا بیان کررہے ہیں جو باقی تمام احکام میں قرآن کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور صرف ایک قطعی اور صریح شرعی حکم میں قرآن کے خلاف فیصلہ کرتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک سے لے کرتاتاریوں کے ہاتھوں سقوطِ بغداد(۶۵۶ھ بمطابق ۱۲۵۷ء) تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ قرآن کے مقابلے میں کسی اورقانون کوبطورِ آئین ملک میں نافذ کیا گیا ہو۔اس امت میں اس بات کا تصور بھی نہیں تھا کہ عدالتیں قرآن کے علاوہ کسی انسان کے بنائے آئین کے مطابق فیصلے کریں۔ غیرِ قرآن سے فیصلہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ صرف یہ صورت ہوتی تھی کہ جج رشوت لے کر فیصلے میں ڈنڈی ماردیتا۔چنانچہ مذکورہ آیت کے ضمن میں جو بھی بحث بڑے کفر یا چھوٹے کفر کی رہی وہ اسی صورت حال کو سامنے رکھ کر کی جاتی رہی،کیونکہ علماء عموماًانہی باتوں کو بیان کرتے ہیں جو ان کے دور میں عامۃ المسلمین کو درپیش ہوتی ہے۔

لیکن جب عالم ِ اسلام پر تاتاری حملہ آور ہوئے ،دارالخلافہ بغداد پرقبضہ کرلیا، پھر اس کے بعد یہ لوگ مسلمان ہوگئے۔لیکن نظامِ حکومت قرآن کی بجائے ایک ایسے آئین سے چلانے لگے جو کچھ چنگیز خان کا بنایا ہواتھا او رکچھ شقیں اسلام سے بھی جمع کرلی گئی تھیں۔اس کو ’’الیاسق یاالیاس‘‘ کہاجاتا تھا۔

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے حافظ ابن کثیر ؒ نے اس قانون کے بارے میں فتویٰ دیا کہ:

’’جس نے اس شریعتِ محکمہ کو چھوڑاجو محمد بن عبداللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)پر، جو کہ خاتم النبیین ہیں، نازل ہوئی،اور منسوخ شریعتوں میں سے کسی کے پاس فیصلہ لے کر گیا تو وہ کافر ہوگیا۔تو اس شخص کا کیا انجام ہوگا جو(چنگیز خان کے بنائے آئین)الیاس کے مطابق فیصلے کرائے اور اس کوشریعتِ محمدی علی صاحبہا السلام پر مقدم رکھے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا شخص بالاجماعِ امت کافر قراردیاجائے گا۔‘‘(البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر)

سوآپ سوچیے کہ قرآن کے علاوہ سے فیصلہ کرتی عدالتوں کو اسلامی کہنا…… یہ کتنا بڑاجرم ہے؟

ابوجعفرنحاسؒ(۳۸۸ھ) نے فرمایا:

’’میں کہتا ہوں کہ فقہاء کا اس بات پراجماع ہے کہ جو شخص یہ بات کہے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنا واجب نہیں تو وہ کافر ہوگیا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ایک قانون کو رد کردیا۔‘‘ (معانی القرآن)

مشہورحنفی فقیہ امام ابواللیث سمرقندیؒ(وفات۳۷۵ھ) نے اس کی تفسیر میں فرمایا:

یعنی:اذالم یقر،ولم یبین…یعنی:ھذہ الآیۃ عامۃ فمن جحدحکم اللہ فھومن الکافرین

’’یعنی جب وہ کسی مسئلے میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق سزا کے حق وسچ ہونے کا اقرار نہ کریں،اورنہ اس قانون کو بیان کریں……یعنی یہ آیت عام ہے جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کا انکار کرے وہ کافروں میں سے ہے۔‘‘(تفسیر بحر العلوم للسمرقندی)

برِّصغیر کے اہل علم طبقے کے لیے نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ (وفات ۱۳۰۷ھ) کوئی اجنبی شخصیت نہیں۔نواب صاحب’’نیل المرام‘‘ میں اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’اس آیت میں لفظ من عام ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ حکم کسی خاص ایک جماعت کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا حکم ہر حاکم یا جج کے لیے ہے۔‘‘

آیت کی تفسیر اور تاریخی پس منظر

اس آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے یہ فرمایا کہ اس آیت میں کفر سے مراد کفردون کفر یعنی چھوٹا کفر ہے۔نیزبعض مفسرین نے یہ فرمایا کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔آئیے اس کووضاحت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ابن عباس رضی اللہ عنہماکا یہ قول کہ ’’لیس الکفرالذی یذھبون الیہ‘‘، ’’یہ وہ کفر نہیں جو وہ مراد لیتے ہیں‘‘،خوارج کے بارے میں کہا گیا ہے۔کیونکہ خوارج اس آیت کو بنیاد بنا کر بغیر کسی تفصیل کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کفر کا حکم لگاتے تھے۔ حالانکہ اہل ِ سنت کے نزدیک اس میں تفصیل ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہماکے الفاظ یذھبون الیہ(جو کفر وہ مراد لیتے ہیں)صاف بتا رہے ہیں کہ یہ گفتگو خوارج کے جواب میں ہے،کیونکہ اہلِ سنت کا یہ مسلک تھا ہی نہیں کہ وہ اس آیت کو بنیاد بنا کر نعوذ باللہ کسی صحابیٔ رسول کوکافر قرار دیتے۔لہٰذا جب اہلِ سنت کا یہ مسلک تھا ہی نہیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے بارے میں یہ کیوں فرماتے ’’جو کفر وہ مراد لیتے ہیں‘‘۔

اسی طرح مشہور تابعی ابومجلزؒ کی وہ گفتگو جو آپ سے بنی عمروبن سدوس کے لوگوں نے اس بارے میں کی۔یاد رہے کہ یہ لوگ خوارج تھے۔ابوملجزؒنے ان کو یہی سمجھایا کہ اس آیت میں مطلقاًکفر کا حکم نہیں ہے بلکہ تفصیل ہے۔

اس بحث میں اگر ایک تاریخی پس منظر کو ہم سمجھ لیں تو اس آیت کی تفسیر سمجھنا انتہائی آسان ہوجائے گا۔یہ روایات ہیں،جن کو امام ابن جریرطبریؒ نے اپنی تفسیر میں اثر نمبر۲۰۲۵ اور۱۲۰۲۶ کے تحت روایت کیا ہے۔اس روایت میں جو گفتگو ہے وہ حضرت ابومجلزؒ اور بنی عمروبن سدوس کے لوگوں کے درمیان ہے۔یاد رہے کہ حضرت ابومجلزؒ بڑے تابعین میں سے ہیں اور آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے تھے۔جب کہ بنوعمرو بن سدوس کے جو لوگ آپ سے بات کرنے آئے تھے یہ لوگ پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے،بعد میں خوارج بن گئے تھے۔

ان کا کہناتھا کہ علی رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نعوذ باللہ مرتد ہوگئے۔دلیل کے طور پر وہ اس آیت کو پیش کرتے تھے کہ جو اللہ کے نازل کردہ سے فیصلہ نہ کرے وہ کافر ہے۔چنانچہ اس بحث نے اس دور میں زیادہ زور پکڑا۔لہٰذاصحابہ اور تابعین نے ان کے جواب میں یہ فرمایا کہ اس آیت سے جوتم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کفرثابت کرنا چاہتے ہو،وہ یہ نہیں ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ میں وہ چیز پائی ہی نہیں جارہی جو تم ثابت کرنا چاہتے ہو،لہٰذا اس آیت کو دلیل کے طور پر پیش کرنا باطل ہے۔آپ حضرت ابومجلزؒ کے الفاظ کو دیکھیں تو بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی۔

ابومجلزؒ سے خوارج نے پوچھا کہ ان تینوں آیتوں(جس میں اللہ کی شریعت سے فیصلہ نہ کرنے والے کے بارے میں کافر،فاسق اورظالم ہونے کا بیان ہے) کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟کیا یہ حق ہیں؟ابومجلزؒ نے جواب دیا:جی ہاں! خوارج نے پوچھا:تو کیا یہ امراء اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا:

ھودینھم الذی یدینون بہ،وبہ یقولون ،الیہ یدعون ،فان ھمترکواشیئامنہ عرفواأنھم قدأصابواذنبا

’’یہ شریعت ہی تو ان کا دین اور نظام ہے جس کو وہ بطورِ دین اپناتے ہیں، اسی کے وہ قائل ہیں اور اسی کی جانب لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔اور اگر اس میں سے کچھ چھوڑ دیں تو وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے گناہ کا کام کیا ہے۔‘‘

آگے اور گفتگو ہے پھرآخر میں فرمایا کہ:

’’یہ آیت یہودونصاریٰ اورمشرکین اور ان جیسے لوگوں کے بارے میں ہے۔‘‘(تفسیر طبری،الجزء ۱۰)

یعنی جو مسلمان امراوحکام اسی شریعت کو آئین کے طور پر اپنے ملک میں نافذ کردیں،اسی نفاذ شریعت کے قائل ہوں،اور اسی کی دعوت دیں ،پھر اگر کسی قانون پر عمل کرنے میں سستی یا تاخیر ہوجائے تو خود کو گناہ گار سمجھیں،تو یہ آیت ایسے امراکے بارے میں نہیں ہے۔یہ تو ان حکمرانوں کے بارے میں ہے جو یہودونصاریٰ اورمشرکین کی طرح ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کو چھوڑ بیٹھیں۔نہ اس کو ملک میں آئین کے طور پر نافذ کریں،نہ اس کی بات کریں اورنہ ہی اس کی دعوت دیں۔یعنی ملک میں شریعت بھی نافذ نہ کریں اوران کی عدالتیں غیر شرعی قانون کے مطابق فیصلے کریں اور پھر خود کو گناہ گار بھی نہ سمجھیں ،تو اس وقت ایسے حکمران یہودونصاریٰ کی طرح مکمل کافر ہوں گے۔لیکن تم (خوارج) جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس آیت کی رو سے کافرثابت کرنا چاہتے ہوتو یادرکھو کہ یہ آیت ان کے بارے میں نہیں ہے،بلکہ یہ آیت یہودونصاریٰ اوران لوگوں کے بارے میں ہے جو مقدمات میں یہودیوں جیسے کام کریں۔

اب شاید آپ بات سمجھ گئے ہوں گے کہ جن صحابہ یا تابعین مفسرین نے اس آیت کے بارے میں یہ کہا کہ یہ مسلمانوں کے بارے میں نہیں بلکہ یہودونصاریٰ کے بارے میں ہے تو ان کا مطلب یہی ہے کہ خوارج اس کوصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر منطبق کرنا چاہتے ہیں،یہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کفر سے پاک تھے جو اس آیت میں بیان کیا گیا،جو یہود کے اندر تھا کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کو چھوڑ کر اپنے بنائے آئین سے فیصلہ کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی شریعت کو چھوڑ بیٹھے تھے، پھر اس کو اپنے لیے قانونی اور آئینی قراردے دیا تھاچنانچہ خود کو اس برے فعل پر گناہ گار بھی نہیں سمجھتے تھے۔

البتہ ان مفسرین کے نزدیک بھی اس آیت کا حکم عام ہے۔یعنی وہ باتیں جو یہود میں تھیں اگر کسی مسلمان ریاست،حکام یا جج میں وہ باتیں پائی جائیں گی تو وہ بھی یہود کی طرح مکمل کافرہوگا۔جیسا کہ ابومجلزؒ کی روایت میں یہ موجود ہے کہ ’’جو ان یہودونصاریٰ کی طرح کرے گا، یہ آیت ان کے بارے میں ہے۔

یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ امام المفسرین ابن جریرطبریؒ نے اس آیت پر خوب بحث کے بعد اپنی رائے اس طرح بیان فرمائی ہے:

’’ میرے نزدیک ان تمام اقوال میں زیادہ درست یہ قول ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی،کیونکہ اس آیت سے پہلے اوربعدوالی آیات بھی یہود کے بارے میں ہیں……تو اگر کوئی کہنے والا یہ اعتراض کرے کہ اللہ تعالیٰ نے تو اس حکم کو ہر اس شخص کے لیے عام رکھا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت سے فیصلہ نہ کرے تو آپ کس طرح اس کو (یہود کے ساتھ)خاص کردیا؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کا عام حکم بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قانون کا انکار کرتے ہوئے چھوڑتے ہیں،چنانچہ فیصلہ میں اللہ تعالیٰ کے قانون کو اس طرح چھوڑنے والے،جس طرح ان(یہود نے)چھوڑا،کافرہیں۔اسی طرح جوکوئی بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کا انکارکرتے ہوئے چھوڑے گا وہ کافر ہے۔جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم (قانون)کا انکار کرنا بعد اس کے کہ اس کو معلوم ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل کیا ہے،یہ ایسا ہے جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنا،بعداس کے کہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کا علم ہے‘۔ ‘‘(تفسیر طبری؛الجزء ۱۰)

Exit mobile version