سُلطانئ جمہور | قسط نمبر: ۲۰

وہ آ گیا تھا۔ بالآخر وہ آ گیا تھا۔ باہر گاڑی کا ہارن بجنے کی آواز آ رہی تھی۔ گیٹ پر کھڑا گارڈ فرض شناسی سے آنے والی گاڑی کے لیے گیٹ کھول رہا تھا۔ ’’نسرین!! عمیر آ گیا ہے……فکر مت کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا!‘‘۔ کوئی اسے کہہ رہا تھا، اس کا شانہ دباتے ہوئے اسے تسلی دے رہا تھا۔ ہاں مگر!…… وہ عمیر کا انتظار ہی کب کر رہی تھی……وہ تو کسی اور کی منتظر تھی۔

ننھے ننھے ہاتھ اس کے گالوں پر رکھے، وہ گول گول آنکھوں میں شرارت لیے مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔’امّاں! لولی پولی امّاں!!……عبداللہ پال کَلے گا!!‘ (عبداللہ پیار کرے گا……)۔ وہ بھی شرارت سے اپنا چہرہ اس کی پہنچ سے دور کر رہی تھی، ’نہیں!……عبداللہ تھوک والا پیار کرتا ہے……‘۔معصوم نگاہیں یکایک سنجیدگی سے بھر گئیں،’’نئیں……تھوک نئیں لگائے گا……پکّا وعدہ!‘‘، ’کتنا پکّا؟‘……’اتنا پکّا……اتناپکّا………‘، ننھا منّا دماغ سوچ میں پڑ گیا تھا،’……جیسے خلوٹ……!‘، ہاں اخروٹ آرام سے نہیں ٹوٹتا تھا ناں، ولید ماموں بھی دروازوں کے قبضوں میں اخروٹ پھنسا کر دروازہ بند کرتے اور یوں توڑ کر اسے دیتے تھے۔ نسرین بے اختیار کھلکھلا کے ہنس پڑی،’عبداللہ تم تو دیوانے ہی ہو……!‘، یہ بات ولید اکثر اسے کہتا تھا، ماں کو ہنستا دیکھ کر عبداللہ کے گال بھی بے ساختہ ہنسی سے پھول گئے۔’ہو ناں……؟‘، وہ اسے والہانہ چومتے ہوئےپوچھ رہی تھی، عبداللہ ہنستے ہوئے اثبات میں سر ہلا رہا تھا۔ ’بتاؤ کس کے دیوانے ہو……؟‘، کئی بار کا پوچھا ہوا سوال اس نے شرارت سے دہرایا، جواب اسے معلوم تھا……’آپ کا……!!‘، عبداللہ کی کھلکھلاہٹ اسے اپنے ارد گرد گونجتی محسوس ہوئی۔

سفید چادر والے بیڈ پر لیٹے اس کے وجود میں جنبش ہوئی۔ مختلف نالیوں سے اس کے ساتھ جڑی مشین نے فوراً ٹوں ٹوں کر کے ارد گرد موجود افراد کو خبردار کیا۔ اس کا تنفس ایک بار پھر بگڑ رہا تھا۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی جیسے گھٹتے دم کو اعتدال پر لانے کی کوشش کر رہی ہو۔ کینولا لگے ہاتھ مٹھیوں میں بھینچ گئے تھے ۔ ساتھ والے بیڈ پر بیٹھی صولت بیگم جلدی سے اٹھ کر نسرین کے سرہانے پہنچیں۔ مگر ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کمرے میں موجود سبز اوور آل والی ٹیکنیشن دو نرسوں کو بلا لائی تھی۔ صولت بیگم پیچھے ہٹ کر ایک بار پھر ساتھ والے بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ وہ پریشانی و لاچاری سے نسرین کی جانب دیکھ رہی تھیں، جس کے ارد گرد کھڑی نرسیں اس کا سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ کوئی اس کی ڈرپ میں سیڈیٹِو(سکون آوار دوا) کی مقدار بڑھا رہی تھی اور کوئی کینولا سے گزرتےطاقت بخش محلول کی رفتار چیک کر رہی تھی۔ ذرا سی دیر میں نسرین ایک بار پھر سکون آور غفلت میں ڈوب چکی تھی۔

نرسیں جا چکی تھیں۔ صولت بیگم کی مضطرب نظریں بیڈ پر لیٹی بیٹی کے نچڑے ہوئے چہرے پر تھیں۔ ایک ہی دن میں وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی۔ چہرہ بے جان اور ہر قسم کے رنگ سے عاری تھا۔ آنکھوں کے نیچے حلقے نمایاں ہونا شروع ہو گئے تھے۔ ان کی نظریں نسرین سے ہوتے ہوئے خود اپنے ہاتھ پر پڑیں۔ ابھری ہوئی رگوں والاکمزور و ضعیف ہاتھ جس پر کینولا لگا کر سرجیکل ٹیپ سے مضبوطی سے اسے اپنی جگہ باندھ دیا گیا تھا۔ عشاء کی اذان سے تھوڑی دیر پہلے ہی جب نسرین کو آئی سی یو سے پرائیویٹ وارڈ میں منتقل کیا گیا تو ابوبکر صاحب ان کی دن بھر کی پریشانی، تھکاوٹ اور بھوک کے خیال سے ہسپتال کے کیفے ٹیریا سے کھانے کے لیے ایک سینڈ وِچ اور جوس کی ایک بوتل لے کر آئے تھے۔ وہ بیڈ کے ساتھ رکھی میز پر جوں کے توں پڑے تھے۔ صولت بیگم کی بھوک پیاس مر چکی تھی۔ مگر دن بھر کی ٹینشن اور پریشانی کے آثار بھی ان کے چہرے پر اس قدر واضح تھے کہ ابوبکر صاحب کے کہنے پر نرس نے انہیں بھی ایک ڈرپ لگا دی۔ اب رات کے گیارہ بج رہے تھے، اور نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ نسرین خواب آور دواؤں کے زیر ِ اثر پرسکون نیند سو رہی تھی۔ انہوں نے نڈھال ہو کر گردن بیڈ کی پشت سے ٹکا دی۔

آنکھیں بند کرتیں تو صبح کا منظر کسی فلم کی طرح چلنے لگتا۔ ارشد کے جانے بعد بھی وہ سب اپنی اپنی جگہوں پر گم صم بیٹھے رہے تھے۔ جیسے کسی کو کچھ ہوش ہی نہ ہو……جیسے سمجھ ہی نہ پا رہے ہوں کہ ہوا کیا ہے۔ سب سے پہلے کوئی کچھ بولا تو وہ ولید تھا۔ وہ جیب میں سے اپنا موبائل نکال کر کوئی نمبر ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دو دفعہ لائن کنیکٹ ہوئی مگر دوسری جانب سے فون نہ اٹھایا گیا تو اس نےجھنجھلا کر غصّے سے اپنا موبائل زوار کی طرف اچھا ل دیا۔

’’رابطہ کرو عمیر سے!……کہاں ہے وہ؟……‘‘، اس نے تحکمانہ انداز میں زوارسے کہا۔

’’……میں……مجھے کیا پتہ؟!……میں تو خود تمہارے ساتھ بیٹھا انتظار کر رہا ہوں رات بھر سے……‘‘، زوار نے ایک نظر اپنے پاؤں کے قریب گرے موبائل پر ڈالتے ہوئے جواب دیا۔ کمرے میں موجود تمام افراد کی نظریں اس پر ٹکی ہوئی تھیں، اس نے بہت شدت سے محسوس کیا گویا وہ ان سب میں اجنبی تھا۔دوسری پارٹی کافرد……عمیر کی پارٹی کا ……گھر کا نائب سربراہ۔

’’بکواس مت کرو……!‘‘، ولید غصّے سے دھاڑا، زوار لا شعوری طور پر ایک قدم پیچھے ہٹا ۔’’سب پتہ ہے تمہیں!……یہ سب تم دونوں کی مشترکہ ملی بھگت ہے……اتنے معصوم نہیں ہو تم جتنا بننے کی کوشش کر رہے ہو……!!‘‘۔

’’……میں……میں جھوٹ نہیں بول رہا ولید…… میں نہیں جانتا… جو کچھ ارشد کہہ کر گیا ہے……‘‘، زوار کہنا چاہ رہا تھا، کوئی صفائی پیش کرنا چاہ رہا تھا، مگر ولید اسے کوئی موقع دینے پر تیار نہیں تھا۔ اس کے صبر اور ضبط کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔

’’……ولید !……تم زوار سے کیوں جھگڑ رہے ہو؟……یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں بلکہ ہم سب کو مل کر ارشد کی کہی ان باتوں پر غور کرنا چاہیے……پتہ نہیں یہ کیا چکر ہے جو اس نے چلایا ہے، لیکن اگر ہم ابھی آپس میں ہی لڑتے رہے تو اس میں بہت وقت ضائع ہو جائے گا……‘‘، ابوبکر صاحب ولید کے تیور دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولے۔ انہیں کچھ سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ حالات کس سمت جا رہے ہیں۔ ولید تیزی سے ان کی جانب مڑا، اس کے چہرے پر اب طیش کے ساتھ ساتھ حیرت آمیز بے یقینی بھی تھی۔

’’اگر آپ کو اب بھی ’چکر ‘سمجھ نہیں آ رہا ابّو!……تو معاف کیجیے گا لیکن پھر میرے خیال میں آپ کبھی بھی یہ چکر سمجھ نہیں سکیں گے۔ سب کچھ تو صاف الفاظ میں کہہ گیا ہے ارشد…… اس گھر کے بڑوں نے عبداللہ کا سودا کیا ہے اس کے ساتھ……عبداللہ کل سے اغوا ،لا پتہ یا گم نہیں ہو گیا……کسی سودے کے نتیجے میں ارشد تک پہنچایا گیا ہے……اور ہاں!‘‘، اس نے پیشانی پر ہاتھ مارا، جیسے کوئی بات اچانک سمجھ گیا ہو،’’جبھی تو عبداللہ کسی کیمرے میں نظر نہیں آیا۔ اور جبھی تو عمیر کل سے غائب ہے کسی اہم ترین میٹنگ میں۔ وہ خود بنفس نفیس اپنی گاڑی میں لے کر گیا ہو گا اس کو……یہاں باہر برآمدے سے گیراج تک تو کوئی کیمرہ نہیں لگا ہوا، اور گاڑی میں بیٹھا ہوا ایک بچہ آسانی سے کیمرے کی ویڈیو میں نظر انداز ہو سکتا ہے……یا جان بوجھ کر کیا جا سکتا ہے……‘‘، اس نے آخری جملے کا اضافہ کرتے ہوئے ایک قہر بھری نظر زوار پر ڈالی۔

’’……میں نے کچھ نہیں کیا ولید……نہ مجھے ایسے کسی سودے کا علم ہے……‘‘، زوار ایک بار پھر اپنی صفائی میں بولنا شروع ہوا۔ مگر ابوبکر صاحب ابھی تک حیرانی و پریشانی کے عالم میں بیٹھے تھے۔ انہیں نہ ارشد کے الفاظ پر اور نہ ولید کی تشریح پر……کسی پر یقین نہیں آ رہا تھا۔کچھ بھی ہو جائے، عمیر ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ عبداللہ نسرین کا بیٹا تھا، وہ جانتا تھا نسرین اس کے بغیر ایک پل بھی نہیں گزار سکتی تھی، وہ اتنا بڑا ظلم جانتے بوجھتے نسرین پر نہیں کر سکتا تھا۔ نسرین ماں کے کندھے پر سر رکھے زار و قطار رو رہی تھی۔ صولت بیگم اسے دونوں بازؤوں کے گھیرے میں لیے چپ کرانے کی سعی کر رہی تھیں۔ مگر نسرین کی سسکیوں سے ان کا اپنا دل ادھڑتا جا رہا تھا۔

’’……نہیں ولید……عمیر ایسا نہیں کر سکتا……‘‘، وہ بے یقینی کی کیفیت میں بولے۔

’’……وہ ایسا کر چکا ہے‘‘، ولیدکو یقین تھا، اسےمزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی۔

’’……چاچو آ جائیں تو ابھی سب کلئیر ہو جائے گا……ہم ان سے پوچھ لیں گے ارشد کی باتوں کی حقیقت……‘‘، زوار کا لہجہ کمزور تھا، وہ باقی سب کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ یقیناً اس معاملے کی کوئی اور وضاحت موجود تھی، جو عمیر ہی انہیں دے سکتا تھا۔

’’……ایسا نہیں ہو سکتا ولید……محض ارشد کی باتوں پر یقین کر کے ہم عمیر کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے……زوار ٹھیک کہہ رہا ہے، عمیر کے پاس یقیناً کوئی ٹھوس وجہ ہو گی، کوئی وضاحت ہو گی اس سب کی……‘‘، جاوید صاحب بھی بے یقینی کا شکار لگ رہے تھے۔ گویا سب کچھ کھل کر سامنے آ جانے کے بعد بھی کوئی عمیرکو ملزم ٹھہرانے پر رضامند نہ تھا۔ ولید کو شدید جھنجھلاہٹ ہونے لگی۔’’……اور اگر ایسا ہوا بھی تو بھی یقیناً عمیر کی نیت یہ سب کرنے کی نہ ہو گی……‘‘۔

’’……مگر چاچو! بدقسمتی سے محض اچھی نیت سے کچھ نہیں ہوتا، نیک نیت کے ساتھ درست عمل بھی ضروری ہے……! آپ مانیں یا نہ مانیں، عمیر نے ہم سب کے ساتھ فراڈ کیا ہے……! بلکہ……‘‘، وہ تلخی سے ہونٹ کاٹتے ہوئے بولا،’’ہم نے خود اپنے ساتھ فراڈ کیا ہے……اس جمہوری تماشے کے صورت میں جس میں ہم نے اپنے معاملات اپنے سب سے برے اور بیکار لوگوں کے سپرد کیے ……‘‘۔

اس کے الفاظ پر زوار نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ اپنے کمرے کے دروازے کے قریب کھڑی نبیلہ بھی جز بز ہو کر رہ گئی۔ایسے میں باہر گاڑی کے ہارن پر وہ سب چونک اٹھے۔’’نسرین!……عمیر!‘‘، صولت بیگم کی آواز میں جان پڑ گئی،’’عمیر آ گیا ہے……‘‘۔

اور پھر وہ واقعی آ گیا۔ ٹو پیس سوٹ میں ملبوس، تازہ دم چہرے پر کہیں بھی رت جگے یا تھکاوٹ کے آثار نہیں تھے۔ پیچھے پیچھے نذیر اس کا بریف کیس لیے آ رہا تھا۔ اگر عمیر ان سب کو لاؤنج میں جمع دیکھ کر حیران ہوا تھا تو اس نے اپنے تاثرات سے قطعاً ظاہر نہیں ہونے دیا۔’’خیریت……آج سب یہاں جمع ہیں؟……‘‘، وہ سیڑھیوں کی طرف جاتے جاتے معمول کے انداز میں رک کر پوچھنے لگا، اس کا انداز یوں سرسری اور ہلکا پھلکا تھا، جیسے اسے ماحول اور افراد میں کوئی غیر معمولی پن محسوس ہی نہ ہوا ہو۔

’’……ہاں ……! ہم آپ ہی کے منتظر تھے عمیر……اچھا ہوا آپ بالآخر تشریف لے آئے اور ہماری مجلس کو رونق بخشی…… ‘‘، ولید گہرے طنز کے ساتھ بولا۔ ادب آداب اور القاب کا تکلّف تو وہ چھوڑ چکا تھا، لیکن اس کے انداز میں ایک محسوس کی جانے والی بغاوت اور جارحانہ پن تھا۔ ابوبکر صاحب نے بے اختیار ایک تشویش بھری نگاہ اس پر ڈالی۔ وہ اس وقت نتیجہ خیز گفتگو چاہ رہے تھے، گھر کے افراد کے مابین لڑائی جھگڑا اور منہ ماری وہ آخری چیز تھی جس کی انہیں خواہش تھی۔ وہ کھنکھارتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھے اور عمیر کو مخاطب کیا جو سرد نظروں سے ولید کو دیکھ رہا تھا۔ اسی وقت دروازہ کھلا اور فائزہ بیگم عثمان صاحب کی وہیل چئیر دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئیں۔

’’……عمیر……ہم کل سے تم سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ……یقیناً تم جانتے ہواس وقت گھر میں کون سا مسئلہ چل رہا ہے……ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ارشد آیا تھا، اور جو کچھ وہ کہہ رہا تھا……‘‘، وہ رکے، ایک لمبا سانس لیا اور گہری جانچتی ہوئی نظروں سے عمیر کو دیکھتے ہوئے بولے،’’……جو کچھ وہ کہہ رہا تھا، اس پر ہمیں یقین نہیں آ رہا، یقیناً تمہارے پاس کوئی وضاحت ہو گی……تم جانتے ہو عبداللہ کہاں ہے؟……اس کی گمشدگی میں تمہارا کوئی کردار ہے؟؟‘‘۔

’’یقین نہ کرنے کی وجہ؟……‘‘، عمیر بالآخر ولید سے نظریں ہٹا کر ان کی طرف متوجہ ہوا۔ جب وہ بولا تو اس کا لہجہ ہموار اور سپاٹ تھا۔

’’……یعنی وہ سچ کہہ رہا تھا؟!‘‘، وہ اب بھی تصدیق چاہ رہے تھے، ولید نے بمشکل اپنی جھلّاہٹ پر قابو پایا۔

’’سو فیصد……!‘‘، اس نے بے نیازی سے جواب دیا۔

’’ مگر……مگر کیوں؟……تم نے ہم سے پوچھے بغیر……عمیر! ہم نے تم پر اعتماد کیا تھا……اپنا معاملہ تمہارے سپرد کیا تھا…… اور تم نے……‘‘، ابوبکر صاحب کے جملے پہلے بے ربط……اور پھر خاموش ہو گئے۔ نسرین خاموشی سے ان کے ساتھ آ کھڑی ہوئی تھی…… عمیر کے عین مقابل۔ اس نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے تھے مگر وہ واضح طور پہ سخت ہیجان کا شکار تھی، چہرے پر چھائی غیر معمولی سرخی اور تیز تیز دھونکنی کی طرح چلتا تنفس……اس امر کا واضح ثبوت تھا۔

’’کیا……؟……کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا……؟‘‘، پہلے ہی جملے پر اس کی آواز ٹوٹ گئی، آنسو ایک بار پھر آنکھوں سے بہہ نکلے۔ ابوبکر صاحب نے بے اختیار اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دینے کی کوشش کی، مگر نسرین کو اس وقت تسلّی اور دلاسے نہیں، جواب چاہیے تھے۔ ان کا ہاتھ جھٹک کروہ یکدم عمیر پر جھپٹی ،اس کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑتے وہ چیخ اٹھی تھی، ’’……کیوں کیا تم نے ایسا؟……کہاں ہے میرا عبداللہ؟……بولو! بتاؤ کہاں ہے میرا بیٹا؟!……‘‘۔

عمیر نے ایک ناگوار نظر نسرین پر ڈالی اور دونوں ہاتھوں سے اس کے ہاتھ پکڑ کر اپنا گریبان چھڑانے لگا۔’’……میرے لیے یہ ہر وقت کی عدالت لگانا چھوڑ دیں…… میں اس گھر کا سربراہ ہوں، جو کچھ کرتا ہوں سوچ سمجھ کر کرتا ہوں……‘‘،وہ اپنا گریبان چھڑوانے کی کوشش کرتا ہوا غصّے سے بولا۔’’……اور سب کی مجموعی بہتری کے لیے کرتا ہوں……‘‘۔

’’……سب کی بہتری کے لیے تم نے عبداللہ کا سودا کر لیا……؟!میرے عبداللہ کا!!……بیچ ڈالا میرے بیٹے کو……!!‘‘، وہ حلق کے بل چلّائی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہے۔ عمیر کا گریبان چھوڑ کر اب وہ اس کا منہ نوچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ عمیر اس کے حملوں سے بچنے کے لیے اس کے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا، ابوبکر صاحب بلند آواز میں نسرین کو پکار رہے تھے، وہ اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر وہ کسی طرح ان کے قابو میں نہ آ رہی تھی۔ بہتے آنسوؤں کے ساتھ وہ ہذیانی انداز میں عمیر کو کوس رہی تھی، چلّا رہی تھی،’’ذلیل آدمی…… تم چچا نہیں ڈاکو ہو! لٹیرے ہو!!……کہاں ہے میرا بیٹا؟؟……تم نے بیچ ڈالا میرے بچے کو……!‘‘

اور پھر یکا یک چٹاخ کی زور دار آواز کے ساتھ عمیر کا بھاری ہاتھ نسرین کے چہرے پر پڑا۔ تھپڑ اس قدر شدید تھا کہ وہ تیورا کر پیچھے رکھے صوفے پر جا گری۔ لاؤنج میں لحظہ بھر کو مکمل سناٹا چھا گیا۔وہ سب دم سادھے دیکھ رہے تھے، صولت بیگم تڑپ کر نسرین کی جانب لپکیں، اور پھر…… جیسے ایک طوفانی لہر نے ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ابوبکر اور جاوید صاحب، دونوں مشتعل ہو کر عمیر کی جانب بڑھے، مگر ولید ان سے پہلے اس کے گریبان تک پہنچ چکا تھا۔ اس نے عمیر کو دھکیل کر پیچھے دیوار کے ساتھ لگا دیا اور اس کے چہرے پر تابڑ توڑ مکّوں اور گھونسوں کی برسات کر دی۔

’’……تمہاری یہ جرأت…… میری بہن پر ہاتھ اٹھایا……!‘‘،ولید کے اس اچانک حملے سے عمیر بوکھلا گیا تھا۔ باوجود کوشش کے وہ اس کے مکّوں اور گھونسوں سے اپنا بچاؤ نہ کر پا رہا تھا۔ ابوبکر اور عثمان صاحب جو خود بھی عمیر کو سبق سکھانے کی نیت سے آگے بڑھے تھے، اب ان دونوں کو علیحدہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔زوار پیچھے کھڑا پریشانی کے عالم میں باری باری ان سب کو آوازیں دے رہا تھا ۔ اسے بھی شاید سمجھ نہ آ رہی تھی کہ اسے کس کی مدد کرنی چاہیے، ان حالات میں کس کا ساتھ دینا چاہیے…… صولت بیگم اور دیگر خواتین علیحدہ شور مچا رہی تھیں، کوئی چیخ رہا تھا تو کوئی رو رہا تھا۔ شاید وہ مردوں کو لڑنے سے روکنا چاہ رہی تھیں، ابّا جی بھی پوری قوت سے بیٹوں کو آوازیں دے رہے تھے، مگر کمرے میں پھیلے شور اور آوازوں میں کسی کو ہوش نہیں تھا کہ کون کیا کہہ رہا ہے۔

آخر وہ ان دونوں کو علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ابوبکر اور جاوید صاحب نے بمشکل ولید کو بازؤوں سے پکڑ کر عمیر سے جدا کیا، مگر وہ اب بھی غصّے سے چیختا ہوا اپنے بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا بس نہ چل رہا تھا ورنہ وہ تو شاید آج عمیر کو ختم کر کے ہی دم لیتا۔

’’……ہوش میں آؤ ولید……یہ جذباتی اور جنونی ہونے کا وقت نہیں……تمہارا کیا خیال ہے ہم یونہی چھوڑ دیں گے اس بے غیرت کو؟ مگر اس سے پہلے ابھی عبداللہ کو واپس لانا ضروری ہے……!‘‘، ابوبکر صاحب غصّے سے بولے۔

’’……ہوش میں؟!……اب ہی تو ہوش میں آیا ہوں ابّو……اگر پہلے اپنی آنکھیں کھول کر اس آستین کے سانپ کو پہچاننے کی کوشش کی ہوتی تو آج ہم اس انتہا تک نہ پہنچتے……اور یاد رکھیں! آپ سب……آپ سب قصور وار ہیں!…برباد کر دیا اس جمہوری ڈرامے نے ہمارے گھر کو!!‘‘، وہ اپنے پھٹے ہوئے ہونٹ سے بہتا خون آستین سے صاف کرتے ہوئے پھنکارا۔

دوسری جانب زوار عمیر کی کھڑے ہونے میں مدد کرا رہا تھا۔ عمیر نے اپنا حلیہ درست کرنے کے لیے گریبان بند کرنا چاہا، مگر اس کی شرٹ کے اکثر بٹن ٹوٹ چکے تھے۔ غصّے اور احساسِ ذلّت سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔

’’یہ تم جیسے احمق اور شدت پسند ہیں ولید…… جنہوں نے یہ گھر برباد کردیا ہے‘‘، زوار کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے عمیر غصّے سے چیخا۔ ولید ایک بار پھر بپھر کر اس پر حملہ آور ہونا چاہتا تھا لیکن جاوید صاحب نے اسے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، عمیر نے اچانک قریبی میز پر رکھا بھاری کرسٹل کا گلدان اٹھا یا اور ولید کے سر پردے مارا۔ گلدان اس کے کان کے ذرا اوپر جا کر لگا اور چکنا چور ہو کر فرش پر بکھر گیا۔ ولیداس ایک ہی ضرب سے چکرا کر زمین پر آ رہا۔ اس کے سر سے خون کا فوارہ پھوٹ بہا تھا، اور کمرا نئے سرے سے خواتین اور بچوں کی چیخ پکار سے گونجنے لگا۔

رکو!‘، ’پکڑو!‘، ’بچاؤ!‘، کے شور میں کسی کا دھیان ابّاجی کی طرف نہیں تھا۔ جو سائیں سائیں کرتے دماغ اورسینے میں ابھرتے تیز نشتر کی چبھن جیسے درد سے مغلوب ہو کر اپنی جگہ دوہرے ہو گئے تھے۔

٭٭٭٭٭

رات گہری ہو گئی تھی۔ نسرین اور صولت بیگم کے کمرے سے نکلیں تو ایک طویل راہداری کے اختتام پر زینہ نیچے کی جانب جاتا تھا۔نچلی منزل پر چند راہداریاں دور آئی سی یو کے ایک کمرے کے باہر تین افراد منتظر و متفکر سے بیٹھے تھے۔ رات اتنی گہری ہو چکی تھی کہ آمد و رفت تقریباً مفقود تھی۔ عملے کے بھی بیشتر افراد اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ اکّا دکّا کوئی نرس یا ڈاکٹر کسی مریض کے بلاوے پر یا راؤنڈ لیتا نظر آ جاتا……نائٹ ڈیوٹی پر متعین یہ عملہ بھی رات کے اس پہر تکان زدہ نظر آتا تھا۔ مگر آئی سی یو کے باہر بیٹھےابوبکر صاحب کے چہرے سے صرف تھکاوٹ نہیں، بلکہ ایک شدید ترین پریشانی اور فکر مترشح تھی۔ آنکھوں سے جھلکتی بے بسی میں ایسی عجیب اور شدید قسم کی حسرت تھی، جیسے کوئی شخص جس کو اچانک ہی احساس ہوا ہو کہ زندگی بھر کی کمائی، اچانک ہی ہاتھوں سے پھسل گئی ہو۔ جیسے متاعِ غرور جو کچھ تھا……سب لُٹ گیا ہو، کھو گیا ہو۔

ابوبکر صاحب ایک ہاتھ سے اپنی ڈاڑھی بھینچے، اس پر ٹھوڑی ٹکائے ہوئے بیٹھےتھے۔ وہ اپنی کرسی میں آگے کو ہو کر بیٹھے ہوئے تھے، کہنیاں گھٹنوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔ کتنی دیر سے اسی ایک پوزیشن میں بیٹھے ہونے کے باوجود انہیں تھکاوٹ یا بے آرامی کا ذرا سا بھی احساس نہ ہو رہا تھا۔ ا ن سے ذرا فاصلے پر عثمان صاحب اپنی وہیل چئیر میں بیٹھے اونگھ رہے تھے۔ سب کے سمجھانے اور روکنے کے باوجود وہ گھر رکنے پر تیار نہ ہوئے ۔ ابوبکر اور جاوید صاحب نذیر کی مدد سے ابّا جی اور نسرین کو لے کر ہسپتال کی طرف بھاگے تو ان کے نکلتے ہی عثمان صاحب نے اویس اور زین کی مدد سے ولید کو دوسری گاڑی میں ڈلوایا۔ اس کے سر سے بہتا خون فائزہ اور بینش کی مشترکہ کوششیں بھی نہیں روک سکی تھیں۔ صولت بیگم تو اس پر محض ایک غم اور فکر بھری نگاہ ڈال کر ہی نسرین کے ساتھ ہسپتال چلی گئی تھیں۔ جس کے بیہوش ہوتے ہی وہ کب سے چیخ چیخ کر شوہر ، دیوروں اور بیٹوں کی توجہ لڑائی جھگڑے سے ہٹا کراس کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

وہ ولید کو مرہم پٹی کے لیے قریبی کلینک لے گئے۔آدھ گھنٹے بعد جب وہ ولید کے ہوش میں آنے اور مرہم پٹی کروانے کے بعد کلینک سے نکل رہے تھے تو جاوید صاحب ان تک پہنچے۔ وہ نسرین اور ابّا جی کو ایمرجنسی میں داخل کرا چکے تھے، جہاں سے انہیں فوراً ہی انتہائی نگہداشت کی یونٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ اب ڈاکٹروں کے حوالے کر کے وہ ولید کی خیر خبر معلوم کرنے آئے تھے۔ پھر ولید، زین اور اویس کو تو انہوں نے گھر جانے کا حکم سنا دیا لیکن بڑے بھائی کو باوجود کوشش کے گھر نہ بھیج سکے۔ عثمان صاحب تبھی ان کے ساتھ ہسپتال آ گئے تھے اور صبح سے والد کے کمرے کے باہر بیٹھے ان کے ہوش میں آنے کے منتظر تھے۔

ابّا جی کو دل کا شدید دورہ پڑا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے دل کی حالت ایسی کمزور تھی کہ یہ معجزہ ہی تھا کہ اس سے پہلے انہیں کوئی دورہ نہ پڑا تھا۔ ورنہ ان کے دل کی حالت ایسی تھی کہ ڈاکٹروں کے مطابق ایسے مریض کے لیےتو کھانے پینے میں ذرا سی بد پرہیزی یا اونچ نیچ بھی انجائنا کے چھوٹے موٹے اٹیک کا سبب بننے میں دیر نہیں لگاتی تھی۔ ڈاکٹروں نے ان سے کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہ کی تھی……ابّا جی کی عمر، ان کی حالتِ ضعیفی، اور ان کو پہنچنے والے صدمے کی شدت……کچھ بھی تو ان کے حق میں نہیں تھا……ڈاکٹر انہیں کیا امید دلاتے، وہ محض کندھا تھپتھپا کر یہی کہہ سکتے تھے جو انہوں نے کہا کہ دعا کریں، سب کچھ اوپر والے کے ہاتھ میں ہے……وہ بہر حال اپنی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔

’’بھائی جان……؟! اب کیا ہو گا؟؟‘‘، جاوید صاحب نے تھکاوٹ سے چور لہجے میں پوچھا، یہ وہ سوال تھا جو صبح سے ان سب کے اندر کلبلا رہا تھا۔

’’اصل سوال تو جاوید……یہ ہے کہ یہ اتنا سب کچھ ہو کیسے گیا……ہم اس انتہا پر کیسے پہنچ گئے؟‘‘، ابوبکر صاحب نے مضطرب انداز میں جواب دیا۔

ابوبکر صاحب کی بات پر عثمان صاحب نے سر اٹھایا، ایک گہری نظر بھائیوں پر ڈالی اور آہستہ آواز میں کہنےلگے،’’جب امانت اس کے اہل کو نہ دی جائے…… جب اپنی باگ ڈور ایسے لوگوں کے حوالے کی جائے جن کے لیے ان کے ذاتی مفادات ہی اصل ترجیح ہوں……تو پھرجب وہ آپ کو اپنے مفادات پر قربان کر دیں……پھر شکوہ کیسا؟؟‘‘ ، خاموشی ایک بار پھر ان تینوں کے درمیان پھیل گئی۔ وہ سب جیسے ایک دوسرے سے بھی نظریں چرا رہے تھے۔اور ابوبکر صاحب……وہ اپنا محاسبہ کرتے تو آج بھی انہیں یہ سمجھنے میں دشواری ہوتی تھی کہ آخر وہ کہاں غلط ہو گئے……

وہ ایک جمہوریت سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ جمہور کی رائے کا احترام کیا تھا، کبھی گھر کے قوانین سے روگردانی نہ کی تھی، کبھی جمہوریت کے اصولوں کو نہ توڑا تھا، چاہے اس سے ان کے اپنے اوپر کتنی ہی زد کیوں نہ پڑتی، انہوں نے ہمیشہ جمہوریت کا پاس کیا تھا۔ تو کیا یہ صلہ تھا جو جمہوریت نے انہیں دیا؟ ٹوٹا بکھرا گھر……جس میں سب کے دل ایک دوسرے سے نالاں، ایک دوسرے سے کٹے ہوئے تھے۔نسرین کا مسئلہ، کہ جس کا حل دور و نزدیک کہیں نظر ہی نہ آتا تھا۔ ابّا جی کی بیماری……جس سے نجانے وہ اٹھ بھی پائیں گے یا نہیں……اپنے سربراہ کی نااہلی، اس کے خلاف وہ عدم اعتماد کی فضا جو گھر کے سربراہ کے ساتھ ساتھ دیگر تمام مکینوں کو بھی متاثر کر رہی تھی۔ ان کے درمیان تفرقہ بڑھا رہی تھی۔ معاشی، سیاسی ، معاشرتی اور اخلاقی…… ہر اعتبار سے وہ شدید ترین بحران جس کی نظیر انہوں نے اپنی زندگی میں نہ دیکھی تھی……کیا وہ اسی سب کے مستحق تھے؟؟!

’’ہاشمی صاحب! جمہوریت ایک پورا پیکج ہے…… جس کا حسن یہ ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ ڈرائیونگ سیٹ پر آپ کا چنا ہوا نمائندہ بیٹھا ہے……جبکہ درحقیقت اصل کنٹرول ہمیشہ ہی کسی اور ہاتھ میں ہوتا ہے……!‘‘،ایک جانی پہچانی آواز ایک بار پھر کانوں میں سرگوشی کر رہی تھی، وہ جتنا بھی اس آواز کو جھٹکنے کی کوشش کرتے، جامعہ پنجاب کی مرکزی مسجد میں بیٹھ کر کی جانے والی وہ گفتگو آج بھی روزِ اول کی طرح ان کے دل و دماغ میں گونج رہی تھی۔ ایک تلخ حقیقت کا روپ دھارے سامنے کھڑی ان کا منہ چڑا رہی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

اسے یاد نہیں تھا کہ کبھی عمیر کا سامنا کرنا اس قدر مشکل لگا ہو جتنا آج محسوس ہو رہا تھا۔ زندگی میں پہلی دفعہ اس کا دماغ عمیر سے دور جانے کے بہانے تراش رہا تھا۔ مگر پر کٹے کبوتر کی طرح، چند گھنٹے ادھر ادھر چونچیں مارنے کے بعد بالآخر اسے اسی چھت پر اترنا تھا جس سےاس کا دانہ پانی وابستہ تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہوا تو عمیر ہاتھ میں آئس پیک لیے اپنی چوٹوں کی سوجن کم کرنے میں مصروف تھا۔ اسے اندر آتا دیکھ کر ایک زہریلی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری۔

’’……مل گئی فرصت بھائی کی سیوا سے؟‘‘۔ زوار چپ چاپ بیڈ پر آ بیٹھا، عمیر کی طعن و تشنیع کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔’’یا تم پہرے پر مامور تھے کہ کوئی آ کر پیارے بھائی کی پٹائی نہ کر جائے؟‘‘ ، اسے مستقل خاموش دیکھ کر عمیر نے غصّے سے ہنکارا بھرا۔ ’ہونہہ! بزدل…… ! کیا پتہ تھا یہ اتنا نا مرد ثابت ہو گا……بھگوڑا!!‘، وہ سر جھٹکتے ہوئے بڑبڑایا۔

’’چاچو……!‘‘، زوار جیسے نیند سے جاگتے ہوئے بولا،’’چاچو!! ……یہ اچھا نہیں ہوا……آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا…‘‘، وہ بے چین نظروں سے عمیر کو دیکھ رہا تھا۔

’’کیا……؟؟ کیا نہیں کرنا چاہیے تھا……؟؟!‘‘، عمیر فوراً بھڑک اٹھا۔

’’یہی……عبداللہ والا معاملہ…… وہ آپا کا بیٹا ہے……ان کی زندگی کی واحد خوشی…… آپ کو اسے یوں ارشد کے حوالے نہیں کرنا چاہیے تھا، وہ کیسے اپنی ماں کے بغیر رہے گا……‘‘، شروع میں رک رک کر بولتے زوار کی زبان آخر تک قدرے رواں ہو گئی تھی، مگر عمیر کی جھڑکی نے فوراً ہی اس کی’بولتی‘ بند کر دی۔

’’بکواس بند کرو!……یہ جذباتی قسم کے زنانہ ڈائیلاگ کسی اور کے سامنے بولنا، ……جیسے باپ کے بغیر اتنے مہینوں سے رہ رہا تھا، ویسے ہی ماں کے بغیر بھی رہ لے گا……‘‘۔

’’لیکن چاچو……آپا کا کیا ہو گا؟!……وہ عبداللہ کے بغیر کیسے رہیں گی؟ ‘‘، نسرین کی آنسو بھری آنکھیں ذہن میں ابھریں تو زوار کی زبان پھر مچل اٹھی،’’……کتنا برا ہوا یہ سب……آخر کیوں کر لی آپ نے یہ ڈیل؟؟‘‘۔

’’……کیوں کر لی میں نے یہ ڈیل؟؟‘‘، عمیر نے غصّے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے آئس پیک ساتھ رکھی میز پرپٹخا اور زوار کی جانب رخ کرتا ہوا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔’’کیوں حوالے کر دیا میں نے عبداللہ کو ارشد کے؟؟……اس لیے کہ ارشد اس کا باپ ہے! اس سے محبت کرتا ہے۔ اس کی تربیت اور پرورش کا ذمہ دار ہے……اور عبداللہ کو زندگی میں وہ بہترین مواقع فراہم کرنے کی نہ صرف استطاعت رکھتا ہے بلکہ دل و جان سے آمادہ ہے اور خواہش بھی رکھتا ہے ۔ وہ اس کے لیے وہ سب کر سکتا ہے جو ہم نہیں کر سکتے……!

اور اس لیے کہ نسرین ہماری بیٹی ہے جسے ساری زندگی ہم نے اپنے گھر نہیں بٹھانا۔ کل کو نسرین کی دوسری شادی کریں گے تو عبداللہ اس کے لیے سوائے ایک لائبِلِٹی(بوجھ اور ذمہ داری) کے کچھ ثابت نہیں ہو گا……!

اور اس لیے بھی کہ میں نے صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے گھرانے کی بہتری مد نظر رکھ کر فیصلے کرنے ہوتے ہیں، اور عبداللہ کو اس کے باپ کے حوالے کرنے میں ہی ہمارے گھرانے کا مجموعی فائدہ تھا، جس مشکل دور سے ہم گزر رہے ہیں، تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس ڈیل کے بدلے میں ارشد ہماری جو مالی مدد کرے گا ،اس کی اس وقت ہمارے گھر کو کس قدر ضرورت ہے……!!

اور……اورسب سے بڑھ کر زوار…… تمہارے لیے……!کیونکہ تمہاری وجہ سے ہم ارشد کے گھر سے تعلق نہیں توڑ سکتے جیسے نسرین چاہتی ہے۔ عبداللہ اپنے باپ کے پاس پرورش پائے گا تو ہی تم ارشد کی بہن سے شادی کرنے کا اپنا خواب پورا کر سکتے ہو…… سمجھے……؟! ‘‘، عمیر نے چبا چبا کر جملہ مکمل کیا۔زوار ہونّقوں کی طرح اس کی جانب دیکھ رہا تھا، جو اپنی بات مکمل کر کے دوبارہ پیچھے رکھے تکیوں پر نیم دراز ہو گیا تھا۔ اس نے ساتھ رکھی میز سے آئس پیک اٹھا کر دائیں آنکھ کے نیچے ا س جگہ رکھ لیا ، جہاں ابھی سے جلد نیلی ہونا شروع ہو گئی تھی۔

’’……اور جانتے ہو زوار؟ اس پورے گھر میں میرے علاوہ کوئی نہیں، جس نے ان تمام باتوں پر……اس معاملے کے ہر پہلو پر اتنا غور کیا ہو……اور پھر سب کے بھلے کے لیے ایک اچھا فیصلہ کیا ہو……مگر صلے میں مجھے کیا ملتا ہے؟؟ گالیاں اور بد دعائیں……کوسنے، طعنے……اور یہ……‘‘، اس نے اپنے پھٹے ہوئے گریبان اور سوجے ہوئے چہرے کی جانب اشارہ کیا، ’’یہ بدلہ ہے، اس گھر کے لوگوں کی فکر کرنے کا……ان کی خاطر اپنا خون جلانے کا‘‘۔

’’……اونہہ!! زندگی جوش سے نہیں، ہوش سے گزاری جاتی ہے۔……ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے خود ساختہ غیرت کے پیمانوں سے ہی باہر نہیں نکلتے……کسی صورتحال سے فائدہ اٹھانا تو دور کی بات، ہم اپنے لیے ہی مشکلات کا انبار لگائے چلے جاتے ہیں……محض ان جذباتی اور احمقانہ جذبات کے پیچھے زندگی نہیں گزاری جاتی…… ‘‘، وہ اب اپنے آپ سے بڑبڑا رہا تھا۔

٭٭٭٭٭

’’زوار……!‘‘، جاوید صاحب صبح صبح گھر سے نکلنے سے پہلے عمیر کے دفتر کے باہر کھڑے تھے۔ چند دن ہوئے تھے کہ دفتر کے باہر دروازے کے ساتھ ہی زوار نے اپنی میز لگا لی تھی۔ وہ اب محض گھر کا نائب سربراہ اور عمیر کا پرسنل سیکرٹری ہی نہیں، اس کا پیون اور گھر کی حدود کے اندر اس کا گارڈ بھی تھا۔ شروع شروع میں یہاں بیٹھنا اسے بے حد عجیب محسوس ہوا ۔ ہر آتے جاتے کے سامنے بھی اسے عجیب شرمندگی کا احساس ہوتا رہتا، نگاہیں بھی جھکی جھکی رہتیں۔ مگر تھوڑے ہی عرصے میں اسے اس اضافی پوسٹ کی اہمیت معلوم ہو گئی جب پہلے نبیلہ عمیر سے ملاقات کی خواہش لے کر آئی اور اس کے کچھ دیر بعد بینش۔ عمیر نے دونوں کو ہی چند دن بعد آنے کا کہہ کر لوٹا دینے کی ہدایت کی۔ اسی شام ولید کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو وہ بھی دندناتا ہوا چلا آیا۔ اگر عمیر نے اسے پہلے ہی سے ولید اور گھر کے دیگر ’شدت پسندوں‘ سےہوشیار نہ کر دیا ہوتا تو شاید ایک بار پھر گھر میں دو روز قبل والی صورتحال پیدا ہو جاتی۔ مگر ولید کو جارحیت پر آمادہ دیکھ کر زوار نے فی الفور اپنے موبائل کے سپیڈ ڈائل میں محفوظ نذیر کا نمبر ملایا، اور اگلے چند منٹ میں نذیر اور امانت دونوں ولید کو بازوؤں سے پکڑ کر اس کے کمرے کی جانب دھکیل رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد عمیر کی ہدایت پر ولید کا کمرہ باہر سے لاک کر دیا گیا، کیونکہ جب تک گھر کے حالات معمول پر نہ آ جاتے، وہ ولید کی جانب سے مزید کسی فتنہ و فساد کا خطرہ مول نہ لینا چاہتے تھے۔ یہ علیحدہ بات کہ ولید کو کمرے میں بند کرنے سے اب پورا گھر پہلے سے زیادہ متاثر ہو رہا تھا۔ ولید ہر کچھ دیر کے بعد دروازے پر مکّوں اور لاتوں کی برسات شروع کر دیتا اور اونچی آواز میں عمیر اور زوار کو وہ کچھ سناتا رہتا، جو آج سے پہلے کسی نے انہیں نہیں کہا تھا۔

کچھ وقت لگا مگر آہستہ آہستہ زوار کااعتمادبھی بحال ہو گیا اور اپنے لیڈر کی دور اندیشی اور حکمت بھرے فیصلوں پر شرحِ صدر بھی حاصل ہو گیا۔ پھر جلد ہی نگاہوں کی جھجک بھی جاتی رہی۔ اور اب وہ انتہائی سکون سے جاوید صاحب کی جانب دیکھ رہا تھا جو اس کے سامنے چند کاغذ لیے کھڑے تھے۔

’’……یہ ہسپتال کے بلز ہیں……عمیر سے کہو مجھے جلدی سے ڈھائی لاکھ کا چیک بنا دے، میں جاتے ہوئے کیش کرا لوں گا……‘‘، وہ بلز اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولے، انہیں آج جلدی ہسپتال پہنچنا تھا۔

’’……میرے خیال میں آپ خود ہی ان سے بات کر لیں تو بہتر ہو گا……‘‘، زوار نے اٹھ کر آفس کا دروازہ کھولا اور عمیر کو مطلع کرنے اندر داخل ہو گیا۔ چند منٹ بعد جاوید صاحب عمیر کے سامنے بیٹھے تھے۔

’’……جاوید بھائی ……آپ کے پاس ہسپتال کے ان اخراجات کو کَوَر کرنے کے لیے کوئی ذاتی فنڈ ہے؟‘‘، وہ ان سے پوچھ رہا تھا۔

’’میرے پاس ذاتی فنڈ کہاں سے آئے گا؟……تم جانتے تو ہو تمام تر آمدنی اس آفس کے اکاؤنٹ میں اکٹھی ہوتی ہے، ……اور پھر تم ہی سب میں اسے تقسیم کرتے ہو……‘‘، وہ الجھے ہوئے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے بولے۔

’’……ہوں……! جانتا ہوں!……ظاہر ہے مجھے نہیں پتہ ہو گا تو کس کو پتہ ہو گا……لیکن بات دراصل یہ ہے کہ ہسپتال کا اتنا بے تحاشا خرچہ برداشت کرنے کے لیے بنک میں کوئی رقم موجود نہیں……!‘‘، عمیر نے پر سکون انداز میں انہیں مطلع کیا۔ جاوید صاحب اسے دیکھ کر رہ گئے۔

’’……کیا مطلب ہے کوئی رقم نہیں؟؟……کیا ہمارا بنک بیلنس صفر ہے؟ ……وہ بے تحاشا رقم……لاکھوں روپے جو ہم ہر مہینے بنک میں جمع کراتے ہیں……کہاں ہیں وہ؟‘‘، اندر ہی اندر بڑھتی ہوئی بے چینی دباتے ہوئے وہ غصّے سے بولے۔

’’……وہ ’بے تحاشا‘ رقم ہر مہینے اس گھر کے اخراجات پورا کرنے میں صرف ہوتی ہے بھائی صاحب‘‘، اس نے مڑ کر پیچھے رکھی فائلنگ کیبِنٹ میں سے ایک نیلے رنگ کی فائل نکال کر ان کے سامنے رکھی،’’……یہ تمام آمدن اور خرچ کا ریکارڈ ہے ، چاہیں تو دیکھ لیں اوراپنا اطمینان کر لیں……‘‘۔

’’……ابھی ہمارے بنک اکاؤنٹ میں چند لاکھ روپے موجود ہیں، لیکن اگر وہ ہسپتال کے اخراجات پر خرچ کر دیں تو مہینے کے آخر میں معمول کا راشن خریدنے کے پیسے بھی نہیں بچیں گے، اس کے علاوہ گھر کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی کوئی رقم نہیں بچے گی……‘‘، انہیں تیزی سے فائل کے اوراق پلٹتے دیکھ کر عمیر نے اطمینان سے اپنی کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔

’’میرے پاس اس وقت اس بحث میں پڑنے کا وقت نہیں ہے……ابّا جی کو جلد از جلد ہارٹ سرجری کی ضرورت ہے……ہمیں آج ہی ہسپتال کے واجبات بھی ادا کرنے ہیں اور آپریشن کے لیے رقم بھی جمع کروانی ہے……جس طرح بھی ہو، تم اس رقم کا بندوبست کرو……!‘‘، جاوید صاحب نے فائل میز پر رکھتے ہوئے حتمی انداز میں کہا۔

’’معذرت کے ساتھ بھائی جان!…… مگر کم از کم میرے لیے یہ ممکن نہیں!……میں پہلے ہی نہ صرف بنک سے بلکہ بعض دوستوں سے بھی قرضہ لے چکا ہوں……اب کون مجھے مزید قرضہ دے گا؟‘‘۔

’’تم اس گھر کے سربراہ ہو……‘‘،

’’……میں اس گھر کا سربراہ ہوں جس کے خلاف آپ سب عدم اعتماد کی تحریک چلا رہے ہیں…… اچھا ہے، آپ خود ان مسائل سے نبٹیں تو معلوم ہو کہ کن کانٹوں پر چل کر میں یہ گھر سنبھالتا ہوں……!‘‘، عمیر ان کی بات کاٹتا ہوا بیگانگی سے بولا۔

٭٭٭٭٭

جو بھی کرنا تھا ابھی کرنا تھا۔ اگر وہ آج یہ قدم نہ اٹھاتی تو شاید آئندہ کبھی اپنے اندر اس کی ہمت پیدا نہ کر پائے گی۔ اس کے صبر کی انتہا ہو چکی تھی۔ مزید کوئی بھی مسئلہ برداشت کرنے کی استطاعت اس میں نہ تھی۔ دونوں بچوں کے ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی، اپنے آپ کو اندر سے مضبوط کر رہی تھی۔ حد ہو چکی تھی، اب اسے یہاں سے نکلنا ہی تھا۔ دروازے کے پاس رکھا اپنا بیگ اٹھا کر وہ نکلنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے آتی آواز نے اس کے قدم روک لیے۔

’’بینش!……کیا ہوا؟ تم کہیں جا رہی ہو کیا؟……‘‘، فائزہ بیگم حیرت بھرے لہجے میں بولیں۔

’’ہوں……! گھر جا رہی ہوں……‘‘، بینش نے خشک انداز میں جواب دیا اور جانے کے لیے مڑی۔

’’گھر؟……کون سے گھر؟……‘‘، فائزہ بیگم نے الجھ کر پوچھا۔

’’……اپنے گھربھابھی!……اپنے میکے جا رہی ہوں میں!……‘‘، اس نے کوفت بھری نظر ان پر ڈالی، ایک تو یہ بے وقت کی پوچھ گچھ……

’’……مگر بینش!……ابھی تو کوئی بھی گھر پر نہیں ہے، صولت آپا بھی نہیں……سارے حالات تمہارے سامنے ہیں……تم بھی چلی جاؤ گی تو میں اکیلی سب کیسے سنبھالوں گی……؟‘‘، وہ یکدم پریشان ہو کر بولیں۔

’’تو میں کیا کروں……اس گھر کے مسائل تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتے۔ تنگ آ گئی ہوں میں ہر روز کے تماشے سے۔ جب دیکھو کوئی نیا ڈرامہ چل رہا ہوتا ہے……‘‘، وہ بےزاری سے بولی۔

’’……جو بھی ہے بینش……یہ تمہارا بھی گھر ہے……‘‘،

’’گھر؟……گھر کہتی ہیں آپ اسے؟……یہ گھر نہیں پاگل خانہ ہے!……اورمیرا کیا ہے اس میں؟! کوئی تعلق نہیں میرا اس گھر سے، سن لیا آپ نے……جا رہی ہوں میں یہاں سے، جہاں ہر روز ایک نئی مصیبت منہ پھاڑے کھڑی ہوتی ہے……! ‘‘، وہ فائزہ بیگم کو حق دق چھوڑ کر بچوں کو کھینچتی ہوئی باہر نکل گئی۔ ابھی نہیں تو کبھی نہیں……وہ جانتی تھی کہ آج وہ اس گھرسے جان چھڑاکر نہ نکلی تو ہمیشہ کے لیے اسی گرداب میں پھنس جائے گی۔

٭٭٭٭٭

کتابوں میں پڑھا تھا اور لوگوں سے سنا تھا کہ اقتدار ایسی چیز ہے جو بھائی کو بھائی کا، بیٹے کو باپ کا اور سگے رشتوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتی ہے۔ جس دل میں ایک دفعہ طاقت و اقتدار کی ہوس پیدا ہو جائے ، پھر یہ ہوس سر کٹوا کر ہی جاتی ہے۔ آج وہ اس حقیقت کا مشاہدہ کھلی آنکھوں سے کر رہا تھا۔

وہ دو دن سے اپنے کمرے میں بند تھا۔ اسے کمرے میں لاک کرنے سے پہلے زوار اس کا لیپ ٹاپ اور موبائل اٹھانا نہیں بھولا تھا۔ گویا اسے صحیح معنوں میں ساری دنیا سے کاٹ دیا تھا۔ گھر کے دیگر مرد تو گھر میں تھے نہیں……زین، اویس اور صہیب جو لڑکوں میں بڑے اور سوجھ بوجھ والے تھے، ان کوبھی گھر، ہسپتال اور کاروبار سے متعلقہ مختلف ذمہ داریاں سپرد کی گئی تھیں، لیکن یہ ممکن نہیں تھا کہ ولید کی یہ کمرہ بندی ان کے علم میں نہ ہوتی۔ اس کے باوجود ان سمیت گھر کی خواتین اور لڑکیوں کی اس کے معاملے میں یہ ساکت و جامد قسم کی خاموشی اعصاب شکن تھی۔

اس کا کمرہ بالائی منزل پر تھا، کھڑکی کے آگے لوہے کی مضبوط ریلِنگ لگی تھی، لیکن لوہے کی یہ سلاخیں اسے کمرے میں بند رہنے پر مجبور کیے ہوئے نہ تھیں۔ وہ چاہتا تو دروازے کے ساتھ زور آزمائی کرتا یا نذیر جو فی الحال اسے دیکھ کر گونگابہرا بن جاتا تھا، اس کے آنے جانے کے اوقات میں ہی باہر نکلنے کی کوشش کرتا۔ اگر وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں قید ہونا برداشت کر رہا تھا تو وجہ محض عثمان صاحب تھے۔ جنہوں نے ہسپتال جانے سے پہلے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ وہ اس سے صبر اور ہوشمندی کی توقع کرتے ہیں۔ غصّے اور جلد بازی میں اٹھائے ہوئے ایک قدم کا بھگتان بعض اوقات پورے پورے خاندان کو بھگتنا پڑتا ہے، لہٰذا اسے چاہیے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے گھرانے اور اپنے پیاروں کی خاطر، اپنے آپ کو غصّے اور انتقام کی خواہش کے حوالے نہ کرے، بلکہ جو بھی قدم اٹھائے سوچ سمجھ کر اٹھائے۔

ان دو دنوں میں اس نے گھر کے افراد میں سے کسی کی شکل نہ دیکھی تھی۔ کھانے کی ٹرے نذیر خاموشی سے دروازہ کھول کر دروازے کے بالکل ساتھ رکھ جاتا۔ وہ کھا لے تو کھا لے ورنہ اگلے کھانے کے وقت نئی ٹرے آ جاتی اور پچھلی ٹرے جوں کی توں اٹھا لی جاتی۔نذیر اس سے کوئی بات کرنا تو درکنار، اس کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھتا بھی نہ تھا ۔ اس نے خود شروع شروع میں اس سےایک آدھ جملے پر مشتمل کوئی بات کی تھی، مگر جواب میں نذیر کا صم بکم انداز دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کی وفاداریاں کس کے ساتھ ہیں۔ آج پورے دو دن بعد گھر کے افراد میں سے کوئی اس کے پاس آیا تو وہ نبیلہ تھی۔نجانے اس کے کمرے کی چابی اس کے پاس کہاں سے آئی لیکن اس کا انداز بتا رہا تھا کہ اس کی یہ آمد گھر کے حکّام سے پوشیدہ ہے۔ نبیلہ کو دیکھ کر جو شکوہ اس کی زبان پر آنا چاہ رہا تھا، وہ اس کی اس وضاحت سے دم توڑ گیا کہ گھر کے افراد میں سے کوئی بھی عمیر کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتا، پہلے ہی حالات اس قدر بے یقینی کا شکار ہیں کہ کوئی بھی مزید مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ یہ اسی کی ہمت تھی کہ وہ تمام تر خدشات اور اندیشوں کے باوجود عمیر اور اس کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی نظروں سے چھپ کر اس سے ملنے چلی آئی۔ اس کے سینے میں یکا یک چھوٹی بہن کے لیے محبت، شفقت اور تشکر کے جذبات ابھرے۔ ان کی غلطیوں نے انہیں کس نہج پر پہنچا دیا تھا، اس نے غصّے اور افسوس کے ملے جلے جذبات میں گھِر کر سوچا۔ مگر اس کی یہ کیفیت ذرا دیر ہی باقی رہی، نبیلہ کو بیٹھے ابھی ذرا ہی دیر ہوئی تھی کہ اس کی باتیں سن کر محبت و شفقت بھرے تمام جذبات ہوا ہو گئے اور اب وہ اسے کینہ توز نظروں سے گھور رہا تھا۔

’’……ولید بھائی ! آپ چاہیں تو آج جس مشکل اور پریشانی میں گھِرے ہوئے ہیں، اسی کو اپنے لیے ایک سنہری موقع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہم میڈیا کا سہارا لیں گے، انٹرنیشنل تنظیموں کی حمایت حاصل کریں گے……اس سارے معاملے کو دنیا کے سامنے لائیں گے……پھر دیکھیے گا چاچو کی کیسے ہوا نکلتی ہے…!!‘‘، اسے ہمہ تن گوش پا کر وہ بڑے جوش و خروش سے اس کے سامنے آئندہ کا لائحۂ عمل پیش کر رہی تھی۔ اگلا سربراہِ خانہ ولید ہو سکتا تھا……بشرطیکہ وہ ہمت کا مظاہرہ کرے اور حالات کو اپنے موافق کرنے میں نبیلہ کا ساتھ دے۔

’’ایک بار زوار اور چاچو کی یہ ساری غیر جمہوری حرکتیں ہم منظرِ عام پر لے آئیں……اس کے بعد ہم انہیں اپنی انگلیوں پر نچا سکتے ہیں……ان کی پھیلائی ہوئی یہ ساری مصیبت حل کی جا سکتی ہے……‘‘۔

’’اچھا!……اور تمہاری بات مان کر پہلا فائدہ جو حاصل ہو گا وہ یہ ہے کہ ہم اپنے گھر کے تماشے کا معاشرے میں مزید اشتہار لگوا سکتے ہیں۔ اور بتاؤ……اس کے علاوہ کیا فائدہ ہو گا؟ ……کیا عبد اللہ واپس آ جائے گا؟……کیا آئندہ کے لیے سب کو سبق حاصل ہو جائے گا کہ فیصلوں کی بنیاد اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات نہیں بلکہ دین اور ایمان ، خاندانی روایات پر مبنی ٹھوس اصولوں کو بنایا جاتا ہے؟……کیا ہم آئندہ کے لیے اس قسم کے حادثات اور مصیبتوں سے محفوظ ہو جائیں گے……اور کیا ہاشمی ہاؤس کو کوئی معقول، اور اس منصب کے قابل، سربراہِ خانہ نصیب ہو جائے گا؟؟………یا یہ محض کوئی پرانا بدلہ اتارنے یا اپنے لیے کرسی کی راہ ہموار کرنے کی ایک گھٹیا کوشش ہے؟‘‘، وہ سخت لہجے میں بولا۔

’’کیوں نہیں بھائی!‘، وہ ہکلائی،’’……یہ سب عبد اللہ کو واپس لانے کے لیے ہی تو ہے۔ ……ہم کہہ سکیں گے کہ ہمارے سربراہِ خانہ نے جمہور کی منشاء کے برخلاف عبد اللہ کے حوالے سے ارشد سے ڈیل کی……ہم اپنا مقدمہ عدالت میں لے جائیں گے……‘‘

’’بس کرو نبیلہ! ……عبد اللہ کو اسی طرح سیڑھی بنانے کی کوشش مت کرو جیسے تم نے ماضی میں آپا کو بنایا……!کچھ تو رشتوں کا تقدس برقرار رہنے دو!!‘‘، وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے غصّے سے بولا۔ نبیلہ کا رنگ پھیکا پڑا، چند لمحے خاموشی سے اس کی طرف دیکھتے رہنے کے بعد وہ کندھے اچکا کر بولی،’’ٹھیک ہے بھائی!……میں تو آپ ہی کے لیے کہہ رہی تھی……آپ کو نہیں پسند یہ بات تو نہ سہی……میں چلتی ہوں اب……‘‘۔

وہ کمرے سے باہر نکل گئی، لاک میں چابی گھومنے کی آواز آئی اور پھر نبیلہ کے دور جاتے قدموں کی……کمرے کے اندر ولید نے اپنا کھولتا ہوا سر دونوں ہاتھوں میں گرا دیا۔

٭٭٭٭٭

’’کیا ہوا؟‘‘، جاوید صاحب کی پریشان صورت دیکھتے ہی عثمان صاحب نے پوچھا۔

’’اچھی خبر نہیں ہے……‘‘، جاوید صاحب نے دونوں بھائیوں کے چہروں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

’’تم بتاؤ……اب تو بری خبروں کی بھی عادت ہو ہی گئی ہے‘‘، ابوبکر صاحب حوصلے سے بولے۔

’’عمیر کا کہنا ہے کہ بنک میں اتنی رقم نہیں جو ابّا جی کے علاج کے لیے کافی ہو……مزید قرضے کا بھی وہ انتظام نہیں کر سکتا……اس کے بقول وہ پہلے ہی گھریلو معاملات کے لیے بنک اور دوستوں سے بہتیرا قرضہ لے چکا ہے……‘‘۔

’’ہوں……یعنی بہ الفاظِ دیگر ہم ابّا جی کے علاج کے لیے عمیر سے کوئی امید نہ رکھیں، جو بھی کرنا ہے خود ہی کرنا ہے؟‘‘، عثمان صاحب بین السطور مفہوم تک پہنچنے میں تیز تھے۔

’’عثمان……یہ کیسے ممکن ہے کہ آمدن اور لوگوں سے لیے ہوئے قرضوں کے باوجود عمیر کے پاس گنجائش نہ ہو……ہمیں اس سے بات کرنی چاہیے‘‘، ابوبکر صاحب پریشانی سے بولے۔

’’رہنے دیں بھائی جان……تمام ریکارڈ اور تمام فائلوں میں حساب آخری ہندسے تک درست ہو گا……آپ کو سب فائلیں ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر اور پاک صاف ملیں گی……کیونکہ ان میں پہلے ہی نہایت مہارت سے ہاتھ کی صفائی دکھائی جا چکی ہے…… لہٰذا یہ تسلیم کر لیں کہ عمیر سے کوئی بھی توقع رکھنا بیوقوفی ہے۔ آپ جانتے ہیں ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ جلد آپریشن نہ کیا گیا تو ابّا جی کے کومے میں جانے کا خطرہ ہے، اور اگر وہ کومے میں چلے گئے تو ریوائول مزید مشکل اور پیچیدہ ہو جائے گا۔ اس لیے ہم نے جو بھی کرنا ہے ، جلد از جلد کرنا ہے…… ‘‘۔

’’تو پھر……یہی چارہ رہ جاتا ہے کہ امّی جان کے نام پر جو اکاؤنٹ کھلوایا تھا اس میں سے پیسے نکال لیے جائیں……کتنی اماؤنٹ ہو گی اس میں عثمان ……پندرہ لاکھ تک تو ہو گی یقیناً……؟‘‘، ابوبکر صاحب اپنی خواہش کے خلاف عثمان صاحب سے پوچھ رہے تھے۔ اس اکاؤنٹ میں وہ تینوں بھائی نہایت خاموشی اور راز داری سے پیسے جمع کر رہے تھے کہ ان کی خواہش تھی کہ اپنی مرحومہ والدہ کی جانب سے کوئی مسجد یا مدرسہ تعمیر کریں، جو ان کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے بھی صدقۂ جاریہ بن جائے۔

’’اس سے زیادہ ہی ہونے چاہییں……کم از کم بھی بائیس لاکھ تو تھے، ……آخری دفعہ جب میں نے چیک کیا ……کیوں جاوید؟‘‘عثمان صاحب نے استفہامیہ نظروں سے جاوید صاحب کی طرف دیکھا۔ جاوید صاحب ایک گہری سانس لیتے ہوئے قریب رکھی کرسی پر ڈھے گئے۔ انہوں نے بے بسی اور بد بختی سے سر نفی میں ہلاتے ہوئے غم سے چور انداز میں جواب دیا:

’’کچھ بھی نہیں ہے بھائی!……میں نے عمیر کا جواب سنتے ہی وہ اکاؤنٹ چیک کیا……مگر وہ خالی پڑا ہے۔ محض چند ہزار روپے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اس میں……!!‘‘

(جاری ہے ، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version