’’جب انہوں (خفیہ ایجنسیوں) نے مجھ پکڑا تو میں یہی سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان قیدیوں کے لیے رحمت کے طور پر بھیجا ہے۔
میں نے (جیل میں قید ) ساتھیوں کو (حملے کی)دعوت دی اور ترتیب بنائی۔ میں نے ساتھیوں کو یہی کہا کہ جیل پر(اندر سے) حملہ کریں گے تاکہ ان کا غرور خاک میں مل جائے۔ میں نے اللہ پر توکل کیا اور دعائیں مانگیں۔ تقریباً آٹھ نو ماہ کے قریب میں نے مسلسل استخارہ کیا اور تقریباً دس کے قریب قیدی مجاہد ساتھیوں کو میں نے اعتماد میں لیا اور ان سے میں نے مشورہ کیا کہ ہم اس جیل پر(اندر سے) فدائی حملہ کریں گے۔
اس کے لیے ہم نے ایک منظم منصوبہ بنایا اور اس پر عمل شروع کردیا۔ میں نے ساتھیوں کو کہا کہ جب یہ منصوبہ پورا ہو گا تو اس دن اللہ ہمیں فتح یاب فرمائے گا۔ ہمارا منصوبہ آج مکمل ہو گیا اور اس کے فوراً بعد ہم نے حملہ کر دیا۔ چار پانچ کے قریب اہلکاروں کو میں نے قتل کیا اور کچھ اہلکاروں کو اینٹوں سے مار کر ہلاک کیا۔
ان کا دفتر ہمارے قبضے میں آگیا ۔ اس کے بعد فوج کی دو گاڑیاں آ گئیں۔ ہم نے ان پر فائرنگ کی اور ایک میجر کو زندہ پکڑ لیا۔ ہمارے ایک ساتھی نے ان پر گرنیڈ پھینکا جس سے فوجی دم دبا کر بھاگ گئے۔‘‘
یہ الفاظ ہیں ایک مجاہد بطل کے، تحریکِ طالبان پاکستان سے وابستہ ایک مجاہد کمانڈر کے جس کا نام ’ضرار‘ تھا۔ حافظ ضرار شہید رحمۃ اللہ علیہ، جس نے امریکی شروع کردہ وار آن ٹیرر کے تحت بنائے گئے ادارے ’کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ‘ سی ٹی ڈی کے صوبۂ سرحد کے ضلع بنوں کے مرکز اور جیل پر نہتا ہونے کے باوجود حملہ کیا۔ پھر محض نہتا ہی نہیں، قیدی بھی، سلاخوں کے پیچھے بند، سی ٹی ڈی کے عقوبت خانے میں بند قیدی۔ ایک ایسا مجاہد قیدی جس کا جسم تو پنجرے میں بند تھا لیکن روح و قلب آزاد تھے۔ آپ اس کے الفاظ پڑھ ہی چکے ہیں کہ جب وہ گرفتار ہوا تو تبھی اس نے سوچا کہ اللہ نے مجھے جیل میں قید دیگر قیدی مجاہدین کے لیے رحمت بنایا ہے۔ نفاذِ اسلام کا نام جس ملک میں جرم بنا دیا گیا ہو، وہاں ایک شخص اسی نفاذِ اسلام کی خاطر، شریعت دشمنی میں امریکی ورلڈ آردڑ مسلط کرتی فوج اور خفیہ ایجنسیوں سے لڑتا ہوا گرفتار ہو جائے…… ہزاروں لاپتہ قیدیوں کی داستانیں اس نے بھی سنی ہوں گی…… ڈرل مشینوں سے چھلنی جسموں کی روح فرسا کہانیاں اس کو بھی معلوم ہوں گی…… تربیلا اور حافظ آباد کے ڈیموں اور بیراجوں کے گیٹوں کی گراریوں میں قیمہ کردہ مجاہدوں کی نعشوں کا اسے بھی پتہ ہو گا……سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مظفر گڑھ تا ملتان جعلی مقابلوں میں شہید کیے گئے مجاہد ساتھیوں کو یہ بھی جانتا ہو گا…… لیکن اس نے تو اپنا رمزی نام شاہِ بدر و حنین صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار صحابی ضرار ابنِ ازور رضی اللہ عنہ کے نام پر ’ضرار‘ رکھا تھا،وہ ضرارؓ کہ جب میدانِ جنگ میں اترتے تو زرہ پہننا تو ان کے لیے عار تھا، وہ شجاعت و بہادری میں قمیض اتار دیتے ، نیزہ تان لیتے اور کافروں کا خون بہاتے، وہ ضرارؓ ابنِ ازور جن سا ماؤں نے ان کے بعد کوئی نہیں جنا…… یہ ضرارؒ بھی جب دنیا کی ظالم ترین فوج کے جیل خانے میں پہنچا تو ’ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مومنین‘ کی عملی تفسیر بن گیا…… اس نے ’کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ‘ کی آیتِ قرآنی کو اپنا شعار بنا لیا…… پھر امریکی غلام آئی ایس آئی کی غلام سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کے ہر کوڑے پر، ہر چلتی ڈرل مشین پر، ہر ناخن ادھیڑتے زنبور پر، ہر داغنے والی استری پر، زنجیروں کی ہر جھنکار پر اسے ’ولا تھنوا ولا تحزنوا‘ کی صدا سنائی دیتی۔
جسم قید تھا، لیکن سوچ آزاد تھی۔ ضرار نے منصوبہ بنایا اور اپنا منصوبہ صورتِ استخارہ اللہ کے سامنے پیش کر دیا۔ پھر استشارہ کیا، ساتھیوں کو اعتماد میں لیا۔ جب وقت آیا تو ضرار اپنی کوٹھری سے کسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر اس نے ایک سی ٹی ڈی کے اہلکار پر حملہ کر دیا۔ وہیں کہیں ایک اینٹ مل گئی۔
؏ہیں ابابیلوں کی مانند حوصلے اپنے جواں
ابابیلوں نے کنکر برسائے تھے، ضرار نے جہاد فی سبیل اللہ کو ٹیررازم کہنے والے ادارے کے اہلکار کو اینٹ کے وار سے جہنم واصل کر دیا۔ اسی اہلکار کا اسلحہ حاصل کیا اور اسی اثنا میں چار پانچ مزید شریعت کے دشمنوں کو جہنم واصل کر دیا۔ مزید اسلحہ غنیمت کیا گیا اور سی ٹی ڈی کے مقامی ہیڈ کوارٹر اور جیل میں تعینات ایک صوبیدار میجر سمیت آٹھ اہلکاروں کو یرغمال کر کے جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ اسی روز قریبی فوجی مراکز سے دو عدد فوجی گاڑیاں مجاہدین کا حملہ ختم کرنے کے لیے آئیں جن پر تحریکِ طالبان پاکستان سے وابستہ مجاہدینِ اسلام نے بھرپور جوابی حملہ کیا اور ان حملہ آوروں میں بھی ایک میجر کو زندہ پکڑ لیا۔
یہ واقعہ ۱۸ دسمبر ۲۰۲۲ء بروز اتوار کا ہے۔
مجاہدین نے قیدی بنائے گئے انہی فوجی اہلکاروں کے غنیمت میں حاصل کردہ موبائل فونوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی ایک ویڈیو بنائی اور پاکستانی فوج و حکومت سے مطالبہ کیا کہ
’’ہم مجاہدینِ اسلام ہیں، ہم نے جیل پر قبضہ کر لیا ہے اور فوجی اہلکاروں کو قیدی بنا لیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں آزاد علاقوں کی طرف محفوظ راستہ دیا جائے۔ اگر ہمیں محفوظ راستہ دیا جاتا ہے تو ہم حلفاً کہتے ہیں کہ قیدی بنائے گئے افراد کو ہم رہا کر دیں گے۔ لیکن اگر حکومت و فوج نے ہمارا یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو ہمیں مجبوراً ان یرغمالی جنگی قیدیوں کو قتل کرنا پڑے گا اور جنگ لڑنی پڑے گی۔‘‘
اپنے مبنی بر حق شرعی مطالبے کو پورا کرنے کے لیے مجاہدین نے مستقل فوج و حکومت سے رابطہ رکھا اور قبائلی عمائدین پر مشتمل آٹھ جرگے بھیجے گئے، لیکن فوج نے مجاہدین کا مطالبہ قبول کرنے سے سراسر انکار کر دیا اور آپریشن کی تیاریاں شروع کر دیں۔ مجاہدین کے علاوہ اس خفیہ جیل میں پندرہ کے قریب عام لوگ بھی تھے، فوج نے ان کو بھی محفوظ راستہ نہیں دیا اور ان کے بخیر و عافیت ان کے گھر والوں تک پہنچائے جانے کے مطالبے کو بھی قبول نہیں کیا۔
امیر تحریکِ طالبان پاکستان، محترم مفتی نور ولی محسود صاحب نے ان قیدی مجاہدین کے نام پیغام میں کہا:
’’ آپ کا یہ عمل ان شاء اللہ، اللہ جل جلالہ کی رضا کی خاطر ہے تو اللہ پاک آپ کو آپ کے اس عمل میں سرخرو فرمائیں گے، بصورتِ دیگر اللہ پاک کی جانب سے آپ کو وہ کامیابی ملے گی جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا ہے (یعنی شہادت فی سبیل اللہ)۔
کسی بھی صورت میں دشمن کے سامنے سر نہ جھکائیں ، ایک مرتبہ غیرت کی ہے تو اب سر قربان کریں مگر دشمن کے سامنے مجاہدین کو ذلیل نہ کریں ۔ ان کفار، مرتدین، منافقین و زنادقہ کے (خلاف) قربانی پیش کریں …… انہوں نے جیلوں میں اور جیلوں سے باہر ہمیشہ ہمیں دھوکہ دیا ہے ، وعدہ خلافی کی ہے۔ ان سے دھوکہ نہ کھائیں، اپنے موقف پر ڈٹے رہیں، امتِ مسلمہ کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں ۔ اللہ ہر حال میں تمہاری مدد فرمائیں گے!‘‘
اسی موقع پر تحریکِ طالبان پاکستان کے نائب امیر، مفتی مزاحم صاحب نے بھی ان فدائی مجاہدین کو شریعتِ محمدی (علیٰ صاحبہا ألف صلاۃ وسلام) کے بجائے کفری جمہوریت کو پاکستان میں بزورِ بندوق نافذ کرنے والی فوج اور خفیہ ایجنسیوں سے جنگ جاری رکھنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا:
’’ہمارا مقصد اور ہدف اعلائے کلمۃ اللہ ہے جو بالکل واضح ہے اور اسی مقصد کے لیے ہم نے کفری جمہوری نظام کے خلاف اٹھ کر جنگ شروع کی ہے۔ اس راستے میں شہید ہونا، قید ہونا یا زخمی ہونا ایک لازمی امر ہے۔تمام ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں۔ہماری جنگ اعمال کی جنگ ہے، یہ ایمان اور عمل سے ہی لڑی جاتی ہے۔ وہ ساتھی ادھر عمل کے میدان میں ہیں اور ہم ادھر ان کے لیے دعائیں مانگیں گے۔اس صورتِ حال کے لیے مسنون اذکار کا اہتمام کریں اور ان کی استقامت کے لیے دعا کریں۔‘‘
مجاہدینِ صوبہ سرحد و قبائل کا قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک یہی مطالبہ رہا ہے کہ ان کے علاقوں میں شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نفاذ کیا جائے اور ان کے علاقوں کو ان کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن شروع دن سے ہی امریکی بلاک کا حصہ بننے والی پاکستانی سول و فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ان مجاہدین سے غداری کی، بلکہ ان پر فوجی آپریشن مسلط کر دیے۔ کمانڈر نیک محمد وزیر شہید اور کمانڈر عبد اللہ محسود شہید سے لے کر بیت اللہ محسود شہید، مفتی ولی الرحمٰن محسود شہید، کمانڈر خالد سجنا محسود شہید، ماسٹر صاحب اعظم طارق محسود شہید، مولانا فضل اللہ شہید اور استاد فاتح سواتی شہید ثم ان کے آج موجود ورثا و خلفا تک سبھی کی جنگ نفاذِ شریعت اور اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر امریکی غلام سول و فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مسلط کردہ غیر اسلامی جمہوری نظام کے خلاف ہے۔ ان کا نفاذِ شریعت اور سرحد و قبائل کے علاقوں کو واپس لینے کا مشن مقامی طور پر نہ پاکستانی حکومت و فوج کو قبول ہے اور نہ ہی عالمی طور پر آج دنیا میں کفر کے امام، طاغوتِ اکبر کو یہ روا ہے۔ پورے قبائل اور علاقۂ سرحد میں نفاذِ اسلام ہو جائے، اس کو تو برداشت کرنا طاغوتِ زمانہ امریکہ کے لیے ناممکن ہے ہی، آٹھ ارب آبادی کی دنیا میں ایک چھوٹے سے سی ٹی ڈی کے مرکز پر جب محض پینتیس مجاہدینِ اسلام قبضہ کر لیتے ہیں اور وقتی طور پر کچھ زیادہ نہیں صرف اپنی جانوں کی حفاظت اور آزاد علاقوں تک محفوظ رسائی کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس پر بھی امریکہ کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں۔امریکی ڈپارٹمنٹ آف سٹیٹ کا ترجمان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اتحادی ہونے کے امر کی از سرِ نو تائید کرتا، ’پاکستانی فرینڈز‘ کی مدد کی یقین دہانی کرواتا ہے۔
کمانڈر حافظ ضرار شہید کی قیادت میں کل پینتیس مجاہدین نے پانچ دن تک امریکی و پاکستانی فوج کے آپریشن کا مقابلہ کیا (تحریکِ طالبان پاکستان کے اعلامیے کے مطابق مقامی ذرائع نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران امریکی ڈرون بنوں کی فضا پر منڈلا رہے تھے) اور بالآخر اپنے رب سے کیا وعدہ کہ ’ہم موت پر بیعت کرتے ہیں اور ہم استشہادی مجاہدین ہیں‘ وفا کیا اور جامِ شہادت نوش کر گئے۔یہ کارروائی ۱۸ دسمبر ۲۰۲۲ء کو شروع کی گئی اور ۲۳ دسمبر ۲۰۲۲ء کی صبح تک جاری رہی۔ اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کی شہادتیں قبول فرمائیں اور پاکستان سمیت پورے برِّ صغیر میں اسلام کا بول بالا فرمائیں، آمین!
٭٭٭٭٭