دیکھنے کے دو زاویے اور دو انجام [چراغِ راہ | آخرى قسط]

استاد اسامہ محمود نے یہ سلسلۂ مضامین ’اصحاب الاخدود‘ والی حدیث کو سامنے رکھ کر تحریر کیا ہے۔ (ادارہ)


ایمان افروز خاتمہ

بادشا ہ اپنی ضد و تکبر پراڑا رہا جبکہ نوجوان صبر ویقین کاپہاڑ بن کراس کے سامنےحق کی دعوت پیش کرتا رہا، اسے ڈرانے دھمکانے اور راہِ حق سے اس کے قدم ڈگمگانے کے لیے وہ سب کچھ کیاگیا جو اس طاغوت کے بس میں تھا، راہب کو اس کے سامنے ہی آرے سے چیر کر دوٹکڑے کیاگیا لیکن نوجوان نہیں جھکا، اس کی دعوت پر ایمان لانے والا وزیر بھی شہیدکیا گیا……مگر یہ دیکھ کر بھی اس کی یکسوئی اور عزائم کی بلندی متاثر نہیں ہوئی ، وہ جانتا تھاکہ اس سفر میں ایسی آزمائشیں نشان ِ راہ ہوا کرتی ہیں اوراللہ کی خاطر کھڑے ہونے والے ان سے گھبرایانہیں کرتے بلکہ ان مصائب میں صبر واستقامت کا نمونہ بن کر ڈٹنے اور جمنے کو ہی اللہ کی قربت کاذریعہ سمجھتے ہیں…… پھر اس کے قتل کرنے کے فرامین جاری ہوئے اور ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ اس کو جان سے مارنے کے لیے لے جایا بھی گیا، مگرہردفعہ مارنے والے خود مرجاتے جبکہ وہ اللہ کی نصرت سے زندہ سلامت بادشاہ کے دربار میں واپس پہنچ جاتا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو اس کی ذلت و ضلالت کا احساس دلاتا، بادشاہ یہ سب دیکھ کربھی نرم نہیں پڑا ، وہ کسی بھی قیمت پر اس کو قتل کرنا چاہتاتھا مگر عملاً ایسا کرنا اس کے بس میں نہیں تھا ، اس لیے کہ بادشاہ کے ارادے اور نوجوان کے بیچ نوجوان کی دعا حائل تھی اور ہر بار وہ بچ جاتا تھا ، بالآخر یہ منفرد واقعہ ان ایمان افروز مناظر پر منتج ہوتا ہے:

’’ لڑکے نے باشاہ سے کہا: تو مجھے قتل نہیں کرسکتا جب تک کہ تو وہ نہ کرے جس کا میں تجھے حکم دوں۔ بادشاہ نے کہا وہ کیا؟ لڑکے نے جواب دیا: سب لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پرلٹاؤ۔ پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالو، اس تیر کو کمان کے حلقے میں رکھو اور پھر کہو ’بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ‘ اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر مجھے تیر مارو۔ اگر تم اس طرح کرو گے تو (تب ہی )مجھے قتل کرسکتے ہو……(بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا قتل ہوگیا اور جیسے ہی لڑکا شہیدہوا) سب لوگوں نے کہا:’ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ‘ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے……

بادشاہ کو کہا گیا کہ تجھے جس بات کا ڈر تھا اب وہی کچھ ہوگیا (اور وہ یہ )کہ لوگ ایمان لے آئے ۔ پھر بادشاہ نے گلیوں کے دہانوں پر خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندقیں کھودی گئیں اور ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی۔ بادشاہ نے کہا جو آدمی ہمارے دین میں واپس نہیں لوٹے گا اسے آگ بھری اس خندق میں ڈال دیا جائے گا۔ لوگوں کو خندق میں ڈالا جانے لگا…… یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا وہ عورت خندق میں گرنے سے گھبرائی تو اس بچے نے اپنی ماں سے کہا: اےمیری ماں! صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے۔‘‘

یہ مناظر بعض اہم امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور آج اس سلسلے کاآخری حلقہ ہے اور اس میں ان امور پر ان شاء اللہ بات ہوگی۔

حق کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟

کیا وجہ ہے کہ اللہ کی غیر معمولی اور محیرالعقول نشانیاں دیکھ کر بھی بادشاہ حق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا اور آخرتک وہ حق کے خلاف ہی کھڑا رہا ؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ قبول ِحق کے لیے سر کی آنکھوں سے زیادہ دل کا بینا ہونا ضروری ہوتا ہے اور چونکہ وہ دل کا اندھا تھا اس لیے حق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا، یہی ہر دور میں حق کے مقابل کھڑے ہونے والے فراعنہ کی دشمنی کا اہم سبب ہوا کرتاہے……اللہ رب العزت کا فرمان ہے ﴿فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾(سورۃ الحج: ۴۶)……’’ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں ‘‘۔ اور یہ دل اندھے کیوں ہوجاتے ہیں؟ وہ کیا وجہ ہے کہ جس کے سبب حق سنا اور دیکھاتو جاتاہے ، بلکہ پہچانا بھی جاتاہے مگر قبول نہیں کیا جاتا؟ اس کی وجہ ضد اور تعصب ہے ، خواشِ نفس کی غلامی اور شہوات کی پرستش ہے، دنیا کے مال ومتاع اور جاہ و منصب کی حرص اس کاباعث ہے اور جب یہ زنگ دل کو لگنے دیاجاتاہے توپھرچشم ِسر سے تو نظر آتاہے کہ کیاحق ہے اور کیا باطل ہے مگر باوجوداس کے چار دن کے ان عارضی کھلونوں کی خاطر دائمی عذاب کا سودا کیا جاتاہے ۔ایسے میں یہ سوال کہ کل کیا ہوناہے اور موت کے بعد اس کا کیاانجام ہوگا،اس کی پرواہ نہیں ہوتی بلکہ دنیا کی حرص و لالچ دل کو حق کے معاملے میں بالکل بے حس کردیتی ہے۔پھر باوجود یہ کہ ایسا کرنے والا اپنے آپ کو بڑا دانا سمجھتاہے اور ہوسکتاہے کہ دنیا کے غلام بھی ایسے ’ ’کامیاب ‘‘شخص کو اپنے لیے نمونہ عمل سمجھتےہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ’عقل مند ‘ بےعقلی اورجہالت کی اُس آخری سطح پر گرچکاہوتاہے کہ حیوان بھی جس سے پناہ مانگتے ہیں۔

نجران کےپادری ابوحارثہ کا واقعہ مشہور ہے جو آپﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھا۔ جب وہاں رسول اللہﷺ کا مبارک خط پہنچا ا اور آپ ﷺ کی رسالت نجران میں موضوع بحث بن گئی تو یہ اور اس کا چچا زاد بھائی کرز بن علقمہ بھی خچروں پر سوار اسی موضوع پر گفتگو کررہے تھے ۔ ابوحارثہ کی سواری کو ٹھوکر لگی اور وہ سواری سے گرگیا ۔ اس کے بھائی کرز کی زبان سے رسول اللہﷺ کے متعلق بددعا نکلی ، ابوحارثہ نے فوراً منع کیا ، کہا،خبردار محمد(ﷺ) کو بددعا نہیں دینا،اللہ کی قسم آپ ﷺوہی پیغمبر ہیں جن کا ذکر تورات اور انجیل میں آیاہے ، بھائی نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر آپ ایمان کیوں نہیں لاتے ہیں؟ پادری نے کہا اگر میں ان پر ایمان لے آیا توہرقل (روم کے بادشاہ )کی طرف سے جو عزت و دولت ملتی ہے وہ پھر کہاں سے ملے گی؟ بھائی کا ضمیر ابھی زندہ تھا ، دنیا کی محبت نے اس کی روح کو نہیں کھایا تھا، لہٰذا یہ سنتے ہی اس نے اپنی سواری مدینہ کی طرف موڑدی اور اسے بھگاتے ہوئے کہا کہ اللہ کی قسم! اب میں مدینہ پہنچ کر ہی رکوں گا ، اس نے جاکر اسلام کی دولت سے اپنا دامن بھرلیا اور صحابہ کرام میں شامل ہوکر شہادت کی موت پالی جبکہ ابوحارثہ اپنے کفر پر ہی اڑا رہا۔

اسلام قوت چاہتا ہے!

ایک دوسرا نقطہ بھی یہاں واضح ہوتاہے اور وہ یہ کہ اعدائے دین کی دین دشمنی کا سبب صرف یہ نہیں ہے کہ وہ حق جانتے نہیں ہیں اور اگر انہیں صحیح طرح حق اور باطل کے بیچ فرق دکھایا جائے تو وہ خود ہی سرتسلیم خم کرکے حق کا راستہ چھوڑ دیں گے ۔ نہیں! اکثر وبیشتر حق کی دشمنی کا اہم سبب آخرت کی زندگی پر دنیا کو ترجیح دیناہوتاہے اور ایسے میں دعوتِ حق کے ساتھ ساتھ ضروری ہوتاہے کہ قوت و طاقت کے ذریعے حق کے راستے سے ایسے دشمنان دین کی رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔ اگر اللہ کے دین کوغالب کرنا اور انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی رحمت میں داخل کرنا ہماراہدف ہے تو ہمارے سامنےواضح ہونا چاہیے کہ اس کا راستہ صرف شبہات دور کرنا نہیں ہے ، شبہات کا علاج بذاتِ خود اہم ہے اور اس کا ذریعہ کتاب ہے ، علم ہے، دعوت و تبلیغ اور علمی بحث و مباحثہ ہے مگر محض ان ذرائع سےحق کبھی غالب نہیں ہوا ہے۔ حق کے مقابل جو طاقتیں کھڑی ہوجاتی ہیں ان کے ظلم و فساد کا سبب معلومات کی کمی نہیں ہوا کرتا، بلکہ اس کا باعث ان کا شہوات کا اسیر ہونا ہوتاہے ،وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس حق کو قبول کیاگیا تو ہماری شیطانی آزادی اور ظالمانہ سرداریاں کیسے ساتھ ساتھ چلیں گی؟ اگر اسلام رائج ہوگا، گندی تہذیب ختم ہوگئی اور اسلام کی عفت و حیا اور عدل ، سادگی اور قناعت والا نظام قائم ہوا توپھر ظلم واستحصال پر قائم یہ سرمایہ دارانہ نظام کیسے چلے گا؟ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ایسے دل کے اندھوں اور انسانیت کو حق سے محروم کرنے والے طواغیت کے علاج کے لیے محض کتاب نہیں بھیجی ہے ، بلکہ اس کے ساتھ تلوار بھی بھیجی ہے اور یہ جہاد ان طواغیت کے خلاف اُس وقت تک فرض کیا گیاہے جب تک یہ مغلوب اور اللہ کا دین غالب نہ ہوجائے۔اسلام قوت چاہتاہے اور بغیر قوت کے چونکہ توحید کا اظہار نہیں ہوتا، اس کے بغیر منکر کا ازالہ ناممکن ہے ، جابروں اور ظالموں کا شر قوت استعمال کیے بغیر دور نہیں کیا جاسکتا،اس لیے دین حق پر کماحقہٗ عمل بھی نہیں ہوسکتا اور جس مقصد کے لیے یہ دین متین اللہ نے بھیجا ہے، وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا ، اور وہ مقصد یہ ہے کہ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی ، سب اللہ کی بندگی و غلامی سے عبارت ہوجائے اور ایسا ہونا صرف تب ہی ممکن ہے جب حق کے پاس قوت ہو ۔ اقبال رحمہ اللہ نے اس حقیقت کواچھے پیرایہ میں بیان کیا ہے، کہتے ہیں:

وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگِ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کاپیام

غصہ ،جذبۂ انتقام اور جہاد

یہاں ایک پہلو یہ بھی مدنظر رہے کہ بادشاہ کو غصے اور انتقام کی آگ نے بالکل اندھا کردیاتھا اوراس کیفیت میں اس نے وہ سب کچھ کیا جس کے ذریعے وہ سینے میں لگی آگ کو ٹھنڈا کرسکتاتھا،یہاں تک کہ نوجوان ہی کی تجویز پر بھی اس نے من و عن عمل کیا اور نتیجے میں دیکھنے والے سب لوگ مسلمان ہوگئے حالانکہ اسی سے وہ بچنا چاہتاتھا۔ انتقام اور غصہ دونوں انسان کی فطرت میں ہیں مگر انہیں عقل کے تابع رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔ عقل یہ ہے کہ غصہ کرنے اور انتقام لینے سے پہلے دیکھا جائے کہ کون سا عمل مفید ہے اور کون سا نقصان دہ ،کون سا قدم اٹھانے سے ہمارے جہاد اور دعوت کو تقویت ملے گی اورکس سے الٹانقصان ہوگا، اس کے بجائے اگر نتائج کی پرواہ کیے بغیر بس انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنا ہی ہمارا مقصد بن جائے تو اس سے کسی درجے میں وقتی خوشی تو مل جائے گی مگر اس کے بعد نقصان سارا ہم ہی کواٹھانا ہوگا اور یہ نقصان انفرادی طورپر دنیا وآخرت کا نقصان ہوگا اور اجتماعی طورپرــ چونکہ اس سے دین دشمن فائدہ اٹھائیں گے اس لیےــ ہماری دعوت وتحریک ہی کو اس کی بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ جب غصے کی آندھی چلتی ہے تو عقل کا چراغ بجھ جاتاہے۔ طواغیت کی خواہش ہوتی ہے کہ مجاہدین غصے اور انتقام میں ایسے اقدامات اٹھائیں جو الٹا دین دشمنوں ہی کے ایجنڈے کو تقویت دیں اور جن کے بعد یہ طواغیت مجاہدین کے مبنی بر عدل پیغام کو ظلم و فساد دکھاسکیں۔ اللہ کے دشمنوں کے خلاف ہمیں اپناغصہ ضرور نکالنا چاہیے اور یہی غصہ نکالنے کی اصل جگہ ہے ، انتقام بھی لازماً لینا چاہیے کہ جہاد کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد مومنین کے سینوں کی وہ آگ ٹھنڈی کرنا بھی ہے جو دشمنان دین کے ظلم وفساد کے باعث اہل ایمان کے دلوں میں لگی ہوتی ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾(سورۃ التوبۃ: ۱۴،۱۵)’’ ان سے جنگ کرو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے، انھیں رسوا کرے، ان کے خلاف تمہاری مدد کرے، اور مومنوں کے دل ٹھنڈے کردے۔ اور ان کے دل کی کڑھن دور کردے، اور جس کی چاہے توبہ قبول کرلے اور اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل ‘‘۔ مگر لازم ہے کہ اس کے لیے منصوبہ سازی اور اس پر عمل درآمد عقل و شریعت کے تابع ہو ۔ پہلے شرعی لحاظ سے جائز و ناجائز دیکھنا ضروری ہے ، پھر مفید و غیر مفید کے پیمانے پر اپنا قول وعمل جانچنا لازم ہے ، اس کے بعدجاکر جب انتقام لیاجائےگا تو ہی دعوت وتحریک کو تقویت ملے گی اور اہم تر یہ کہ ایسے اقدامات سے ہی اللہ کی رضا اور اس کی نصرت نصیب ہوگی اور یہی طواغیت کے نقصان کاسبب بنے گا۔

اسلام کی بڑی کرامت

یہاں شیخ ابوقتادہ حفظہ اللہ نے چند ایک اچھے نقاط کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کو ماضی میں جو عروج ملا، رسول اللہ ﷺ کے ذریعے جزیرۂ عرب میں جو اسلام غالب ہوا ، تو یہ خارق عادت انداز میں رسول اللہ ﷺ کے معجزوں کےسبب ہوا اور اب چونکہ معجزوں اور کرامات کا دور نہیں ، اس لیے اسلام کا غلبہ اب ناممکن ہے ۔ شیخ کہتے ہیں کہ ایسا کہنا رسول اللہﷺ کی سیرت کو نظر انداز کرنا ہے اوردورِ حاضر کے موجود حقائق کی طرف سے بھی آنکھیں بند کرنا ہے، نیز ایسا کہنے کا مقصد اہل ایمان کو مایوس کرنا ہےتاکہ وہ اہل اسلام کی مغلوبیت کوایک حقیقت کے طورپر قبول کریں اور اس حالت سے نکلنے کے نہ خواب دیکھیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی عملی جدوجہد کریں ۔سرورِ کائنات رسول اللہﷺ کو اللہ رب العزت نے کئی معجزات عطا کیےاور یہ معجزات اہل ایمان کے لیے دلوں کے اطمینان میں اضافے کاباعث بنے جبکہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے اتمام حجت ثابت ہوئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں اللہ کی نشانیاں بے شمار ہیں ، یہ نشانیاں اللہ کی قدرت وحکمت اور اسلام کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کی اکثریت یہ نشانیاں دیکھ کر مسلمان ہوئی ۔شیخ فرماتے ہیں کہ سچ یہ ہے کہ جو کائنات میں تکوینی اصولوں کی صورت میں موجود اللہ کی ان نشانیوں سے اثر نہیں لیتا، اس کے لیے اگر یہ اصول تبدیل ہوجائیں اور کوئی خارق عادت نشانی اس کے سامنے آجائے تو تب بھی وہ حق قبول نہیں کرے گا اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے اپنی خواہش کو ہی معبود بنایا ہوتاہے۔اللہ رب العزت کا فرمان ہے: ، ﴿وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يُّنَزِّلَ اٰيَةً وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾۔(سورۃ الانعام: ۳۷)……’’ یہ لوگ کہتے ہیں کہ (اگر یہ نبی ہیں تو) ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ تم (ان سے) کہو کہ اللہ بیشک اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کردے، لیکن ان میں سے ا کثر لوگ ( اس کا انجام) نہیں جانتے۔‘‘۔ اسی طرح اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ جو زمین میں زندگی ہے یہ أعظم الآیات ہے اگر کوئی سوچے اور تدبر اور تفکر سے کام لے ﴿ وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ﴾ (سورۃ الانعام: ۳۸)……’’ اور زمین میں جتنے جانور چلتے ہیں، اور جتنے پرندے اپنے پروں سے اڑتے ہیں، وہ سب مخلوقات کی تم جیسی ہی اصناف ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر ان سب کو جمع کر کے ان کے پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا۔ ‘‘۔ اور پھر آگے سورۃ الشعراء میں فرماتے ہیں، ﴿طٰسۗمّ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ وَمَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَيَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ﴾ (آیات:۱ تا ۶)……’’ طسم ۔ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔ (اے پیغمبر) شاید تم اس غم میں اپنی جان ہلاک کیے جار ہے ہو کہ یہ لوگ ایمان (کیوں) نہیں لاتے۔ اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں۔ (ان کا حال تو یہ ہے کہ) ان کے پاس خدائے رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے، یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اس طرح انھوں نے حق کو جھٹلا دیا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ جن باتوں کا مذاق اڑاتے رہے ہیں، اب عنقریب ان کے ٹھیک ٹھیک حقائق ان کے سامنے آجائیں گے۔ ‘‘

پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کرامات کا دور گزر نہیں گیا ہے، اللہ کی نصرتیں خارق عادت انداز میں آج بھی جاری وساری ہیں مگر کوئی ہو جو ان نشانیوں پر غور کرے اور ان سے سبق لے ۔ خود اس دین متین کا اپنی صحیح صورت میں موجود ہونا اور ہر دور میں اہل حق کا اس دین کا پیغام لےکر کھڑے رہنا اوراس کی خاطر قربانیاں دینا کیا کوئی کم کرامت ہے؟ دین اسلام کومٹانے کے لیے جو سازشیں ہوئی ہیں اور آج ہو رہی ہیں اور شہوات و شبہات کے سمندر میں اہل ایمان کو غرق کرنے کے لیے جو ہمہ جہت اور انتہائی خطرناک حملے جاری ہیں ، ایسےحملے اگر کسی اور دین کے خلاف ہوتے تو وہ کب کا ختم ہوچکا ہوتا، مگر چونکہ اسلام کی حفاظت کا اللہ نے وعدہ کیا ہے اور اس امت کی خوبی ہی اللہ کے نبی ﷺ نے یہ بیان کی ہے کہ یہ گمراہی پر کبھی متفق نہیں ہوگی ، اس لیے کفار کی تمام تر سازشوں ، منصوبوں اور حملوں کے باوجود یہ دین اپنی صحیح شکل میں نہ صرف موجود ہے ،بلکہ اس میں قلوب و اذہان کو فتح کرنے کی قوت جس طرح ماضی میں موجود تھی آج بھی اس میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ عیسائیت اور یہودیت کا تقابل اس کے ساتھ کیجیے، ان ادیان میں ان کے آغاز ہی میں تحریف ہوگئی اور ابھی سو سال بھی نہیں گزرے تھے کہ اصل دین کہیں نہیں رہا، مگر سبحان اللہ اسلام کی یہ زندہ کرامت ہے کہ ہر دور میں ایسے افراد روئے زمین پر موجود رہے جو اس کو آلائشوں سے پاک اور تروتازہ اپنی اصلی حالت میں محفوظ رکھیں۔ پھر اس دین کی حفاظت و غلبے کے لیے لڑنے والے مجاہدین کودیکھیے کہ ان کی موجود گی کی پیشین گوئی بھی رسول اللہﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے کی تھی اور آج چشم سر سے دیکھاجاسکتاہے کہ پوری دنیا نے انہیں ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت اور وسائل لگائے مگر کیا یہ مجاہدین ختم ہوئے ، کیا جہا د فی سبیل اللہ کی دعوت اور اس کے لڑنے والے قافلے ماضی کا قصہ بن گئے ، نہیں یہ قافلے آج بھی جاری و ساری ہیں اور آئے روز ان میں اضافہ ہورہاہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں ،پھر ان جہادی لشکروں کے ساتھ اللہ کی مدد ونصرت کی کہانیاں اگر کوئی جمع کرے تو کتابو ں کی کتابیں تو تیار ہوں گی مگر یہ کہانیاں ختم نہیں ہوں گی ۔اہل ایمان کے ساتھ بالعموم اور اہل جہاد کے ساتھ بالخصوص اللہ کی نصرتوں کی داستانیں بہت زیادہ ہیں ، جہادِ افغانستان ،پاکستان اور جہادِ ہند سے لےکر شام و فلسطین ، جزیرۂ عرب ، صومالیہ اور مالی جہاں بھی جہاد ہورہاہے ، ہر جگہ اللہ کی نصرتوں اور خارق عادت کرامات کی نہ ختم ہونے والی داستانیں ہیں۔ پھر امارت اسلامی کو دنیا کے طاقت ور ترین ممالک کے مقابل اللہ نے جوفتح عطا کی ہے یہ عصر حاضر میں اللہ کی ایسی عظیم الشان نشانی ہے کہ جس کو صاف دل کے ساتھ اگر کوئی بڑے سے بڑا کافر بھی دیکھے تو وہ مسلمان ہوجائے گا۔یہ سب اس زندہ دین کی زندہ کرامتیں ہیں اور یہ بتاتاہے کہ یہی انسانیت کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا سچا اور تاقیامت رہنے والا دین ہے۔

دعوت جو لہو سے دی جائے!

نوجوان کو نظر آیا کہ بادشاہ اس کو بہر صورت قتل کرنا چاہتاہے مگر اس نے نہ فرار کی راہ اپنائی اور نہ ہی بادشاہ کے سامنے رحم کی اپیلیں شروع کیں ،اس نے ارادہ کیا کہ اپنی موت کو حق کی گواہی اور اس کی طرف دعوت کے لیے استعمال کرے، یوں اس نے خود ہی ایسا طریقہ بادشاہ کو بتایا کہ جس کو استعمال کرکے وہ شہید توہوا مگر اس کی شہادت سے ہدایت وجرأت لوگوں کو نصیب ہوئی اور سب نے نوجوان کے رب پر ایمان کا اعلان کردیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ ادنی چیز ہی اعلیٰ پر قربان کی جاتی ہے ، دنیا کی زندگی بہت قیمتی ہے مگر نوجوان کا دین اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے اسی وجہ سے تو اس نے زندگی کو دین پر قربان کردیا اور یہ لوگوں کے بادشاہ کا دین چھوڑنے اور نوجوان کا دین قبول کرنے کا سبب بن گیا۔ نوجوان نے خود سے اپنی موت کا طریقہ دشمن کو بتادیا اور یہ عمل بلاشبہ ایک استشہادی عمل تھا۔دشمن کو نقصان دینے کے لیے اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں شہید کرنا استشہادی کہلاتاہے۔ علمائے امت نے استشہادی حملوں کا جواز اور بعض مواقع پر انہیں محمود جو قراردیاہے تو وہ قرآن ، حدیث اور اقوال صحابہ کے علاوہ حدیث کے خاص اس واقعے سے بھی دلیل لیتے ہیں ۔ ان حملوں کے جواز پر علمائے جہاد نے کئی کتابیں مرتب کی ہیں اور ثابت کیاہے کہ دین کی منفعت، اپنی نجات اور دشمن کو نقصان دینے کی غرض سے اپنی جان لینا خودکشی نہیں ، بلکہ بہترین شہادت ہے ۔

امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ اپنی تفسیر’احکام القرآن ‘ میں ﴿وأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ (سورۃ البقراء: ۱۹۵)’’ اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو ‘‘کے تحت لکھتے ہیں: ’’ امام محمد بن الحسن شیبانی نے سیر کبیر میں بیان کیا ہے کہ اگر ایک مسلمان تن تنہا دشمن کے ایک ہزار افراد پر حملہ آور ہو جائے تو اس پر کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس مجاہد کے دل میں بذریعہ شہادت اپنی نجات یا بذریعہ شجاعت دشمن کو نقصان پہنچانے کا جذبہ موج زن ہو۔ اگر ان میں سے کوئی جذبہ بھی کار فرما نہ ہو تو میرے نزدیک اس کا یہ اقدام مکروہ ہوگا اس لیے کہ وہ اپنی جان ہلاکت میں ڈالے گا اور اس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ایک انسان کو یہ قدم اسی وقت اٹھانا چاہیے جبکہ اس سے اپنی نجات یا مسلمانوں کی منفعت مقصود ہو۔ اگر اسے نہ تو نجات کی طمع ہو نہ ہی دشمن کو نقصان پہنچانے کا جذبہ بلکہ وہ یہ قدم محض مسلمانوں میں حوصلہ اور جرأت پیدا کرنے کے لیے اٹھا رہا ہو تاکہ اس کی دیکھا دیکھی دوسرے مسلمان بھی ایسا ہی قدم اٹھائیں اور یا تو دشمنوں کو نقصان پہنچائیں یا خود جام شہادت نوش کرلیں، تو ایسی صورت میں بھی ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں ۔ کیونکہ اگر اسے صرف دشمن کو نقصان پہنچانے کا جذبہ اس اقدام پر ابھارتا اور اپنی نجات کا اسے کوئی خیال نہ ہوتا تو بھی اس کا دشمن پر حملہ کرنا میرے نزدیک کوئی غلط بات نہ ہوتی۔ٹھیک اسی طرح اگر وہ دشمن کی صفوں میں گھس کر دوسروں کو نقصان پہنچانے کا جذبہ لے کر حملہ آور ہوتا ہے تو میرے نزدیک اس کا بھی یہی حکم ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اجر کا مستحق ہوگا …… اگر اس کے دل میں صرف دشمنوں کو مرعوب کرنے کا جذبہ ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ دشمن کو نقصان پہنچانے کی بہترین شکل ہے اور اس میں مسلمانوں کے لئے منفعت کا پہلو بھی موجود ہے۔‘‘

امام محمد نے فرد واحد کے حملے کی جتنی صورتیں بتائی ہیں وہی صورتیں درست ہیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی صورت درست نہیں ہے اور ان ہی صورتوں پر ا ن لوگوں کی تاویل کو محمول کیا جائے گا جنہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس شخص پر اس آیت کے مفہوم کو چسپاں کیا تھا جو تن تنہا دشمنوں پر حملہ کرنے کی نیت سے نکل کھڑا ہوا تھا۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس شخص کے اس اقدام کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔اس لیے ایسی صورت میں اسے اپنی جان تلف نہیں کرنی چاہیے تھی، اس سے نہ دین کو کوئی فائدہ پہنچتا نہ مسلمانوں کو۔ اگر اس کی جان جانے کی صورت میں دین کو کوئی نفع ہوتا تو یہ تو ایسا مرتبہ و مقام ہے جس کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی متعدد بار تعریف فرمائی۔ ارشاد باری ہے ﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جان و مال کی خرید اری کرلی ہے کہ انہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں اور پھر دشمنوں کو قتل بھی کرتے ہیں اور ان کے ہاتھوں قتل بھی ہوتے ہیں۔اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہے﴿ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ اور تم ان لوگوں کو ہرگز مردہ مت سمجھو جو اللہ کے راستے میں قتل ہوئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں اپنے رب کی طرف سے رزق مل رہا ہے۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾ ’’اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا کے حصول کی خواہش میں اپنی جان کا سودا کر لیتے ہیں‘‘۔ ان آیات اور ان جیسی دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں۔

آپ کس طرف کھڑے ہیں؟!

یہاں شیخ ابوقتادہ نے ایک اچھے نقطے کی طرف اشارہ کیاہے اور وہ یہ کہ لوگوں نے کہا ’’آمنا بربّ الغلام‘‘، ’’ہم لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے‘‘ یہ ثابت کرتاہے کہ ایمان محض قلبی وذہنی عمل کا نام نہیں ، بلکہ یہ اس بات کا بھی اعلان ہے کہ کس حزب کی طرف اپنی نسبت کرنی ہے ، کسی گروہ کا ساتھ دینا ہے اور کسی سے براءت و بےزاری دکھانی ہے ۔ لوگوں نے دیکھاکہ بادشاہ اور نوجوان کے بیچ کشمکش ہے اور بالآخر بادشاہ نے نوجوان کو شہید کردیا، اس کے بعد انہوں نے صرف یہ نہیں کہا کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں ، بلکہ ان کا یہ کہنا کہ ہم نوجوان کےرب پر ایمان لے آئے ، یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم اس کشمکش میں کس گروہ کی طرف کھڑے ہیں ۔ انہوں نے گویا اعلان کردیا کہ ہم بادشاہ کے دین سے باغی اور نوجوان کے دین کے پیرو اور علم بردار ہیں۔ اسلام کی بنیاد کلمہ لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ہے، غیر اللہ سے انکار اس کی پہلی شرط ہے اور اس کے بعد اس میں صرف ایک اللہ کے مالک ومعبود ہونے کا اقرار ہے۔گویا اس میں ہرطاغوت سے انکار پہلے ہے اور صرف اللہ کی اطاعت و بندگی کا اعلان بعدمیں ہے۔ اللہ کی بندگی کے مقابل جو بھی اپنی اطاعت کرواتاہے وہ طاغوت ہے اور یہ کلمہ طاغوت سے انکار اورصرف رحمان کی بندگی کا اقرارہے۔ اس میں شیطان کے بندوں سے براءت و عداوت ہے اور رحمان کے بندوں کی تائید وحمایت ہے۔ اب اللہ پر ایمان کا دعوی کرنا جبکہ اللہ کے دشمنوں کی صف میں کھڑے ہونا اور ان کی غلامی کرنا دعوی ایمان کے ساتھ کیسے میل کھاتاہے؟ اس طرح ایمان کا دعوی مگر حق و باطل کی جنگ میں باطل کے مقابل نہ کھڑا ہونا اور اس جنگ سے لاتعلق رہنا بھی دعوی ایمان پر سوالیہ نشان کھڑاکرتاہے۔ اللہ کی کتاب نے بتادیاہے کہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے بیچ جنگ ازل سے جاری ہے ، اللہ پر ایمان لانے والے رحمان کے طرف دار بن کر حزب الشیطان کے خلاف لڑتے ہیں جبکہ حزب الشیطان رحمان کے گروہ کے خلاف صف آراء ہے ، ایسے میں ایمان کا دعوی مگر بیچ میں تماشائی بن کر کھڑے رہنا ،اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

تھامنے والا بھی وہ ہی ہے!

جب آگ میں خاتون کو اس کے بچے سمیت ڈالاجانے لگا تو خاتون آگ کے شعلے دیکھ کر گھبرا گئی ، ایسے میں اللہ نے اس کی گود میں موجود بچے کو گویائی عطا کی اور اس نے کہا’صبر کرو اماں تم حق پر ہو‘‘ یہ سن کر والدہ کا دل مطمئن ہوا اور اس نے بے خوف ہوکر آگ میں چھلانگ لگادی ۔ یہ اللہ کی بندوں سے محبت ہے کہ ایسے مواقع پر کہ جس میں قدم ڈگمگانے کاخدشہ ہو وہ بندے کا دل ایمان سے بھرتاہے اور اس میں ایسا اطمینان و سرور ڈالتاہے کہ جس سے راہ ِحق پر اس کو استقامت ملتی ہے اور سخت سے سخت گھاٹی سے بھی وہ کامیابی کے ساتھ گزرجاتاہے۔ ایک مومن کے حق میں حقیقی کامیابی یہ ہے کہ وہ کفرو طغیان کے مقابل ثابت قدمی دکھائے اور زندگی کی آخری رمق تک راہ ِ ایمان پر قائم رہے۔ اگر بندہ اپنے رب کے ساتھ مخلص ہو ، تو وہ رب بھی اس کی مزید ہدایت اور ثابت قدمی کا سامان اسے فراہم کرتاہے ﴿وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ﴾(سورۃ محمد: ۱۷) ’’ اور جن لوگوں نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا ہے اللہ نے انھیں ہدایت میں اور ترقی دی ہے، اور انھیں ان کے حصے کا تقوی عطا فرمایا ہے۔‘‘۔ اور اللہ رب العزت کا فرمان ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾(سورة محمد: ۷) ’’ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ ( کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جما دے گا۔ ‘‘۔ اصل چیز عزم وارادہ اور عمل ہے، اللہ کے ساتھ یہ عہد ہی اہم ہے کہ مرتے دم تک اللہ صرف تیری بندگی کروں گا، اس عہد و پیماں میں اگر بندہ سچا ہو ، تو پھر اسے پوراکرنے کی استطاعت بھی اللہ ہی دیتاہے ، راستہ دکھانے ، اس راستے پر چلانے اورسفر کو آسان کرنے والا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ہے، بس بندے کا اللہ ہی کی خاطرچلتے رہنے کا عزم و ارادہ ہونا ضروری ہے۔

دو زاویہ ہائے نگاہ!

دیکھنے کے دو انداز ہیں، ایک یہ کہ اس بستی میں امن تھا، اتفاق تھااور خوش حالی تھی ، کوئی بدامنی یا بدمزگی نہیں تھی اور سب لوگ زندگی کے مزے اڑا رہے تھے مگر یہ نوجوان تھا کہ جس نے اس بستی کی ساری خوشیاں غموں میں تبدیل کردیں۔ اس نے ہی اتفاق کو اختلاف میں بدلا اور پوری کی پوری بستی اس کے سبب ہی آگ وخون میں ڈوب گئی ،وہ برداشت اور حکمت سے اگر کام لیتا ، بادشاہ کے سامنے کچھ لو ، کچھ دو کا راستہ اختیارکرتا اور کسی درمیانے حل پر متفق ہوجاتا تو لوگوں کویہ قیامت نہ دیکھنی پڑتی … … دوسرا انداز یہ ہے کہ بستی کفر ، گمراہی اور ظلمات میں ڈوبی تھی ،مگر نوجوان کے ذریعے اللہ نے اس کو ہدایت دی ،وہ مردہ تھی نوجوان نے ایمان کی روح اس میں پھونک دی اور پھر یہ نوجوان ہی تھا کہ جس کے باعث سب کو اللہ نے شہادت کے اُس رتبۂ عالیہ سے نوازا جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں فوز کبیر ’ عظیم کامیابی ‘کانام دیا ہے۔ جی ہاں کامیاب ان کو نہیں کہا جنہوں نے آگ کے گڑھے کھود کر ان میں ان مظلومین کو ڈالا، ان کے لیے توعذاب شدید کامژدہ سنایا، وہ ناکام و نامراد ہوئے اور ہمیشہ کی بدبختی ان کو نصیب ہوئی ، جبکہ جو جل گئے ، آگ کے گڑھوں میں دب گئے ، وہ چونکہ اللہ کی خاطر ختم ہوئے ، اس لیے انہیں کامیاب کہاگیا۔کامیابی و ناکامی کے تعین میں کتنا بڑا فرق ہے! پہلے زاویے میں خیر وشر کاپیمانہ بس دنیاوی امن ہے ، اللہ کی رضا اور ہدایت کے لیے اس میں کوئی گنجائش نہیں، کفر و ضلالت اور اللہ سے بغاوت کا راج ہی کیوں نہ ہو لیکن اگر امن قائم ہو،دنیاوی ترقی اگر ہورہی ہو تو بس یہی زندگی کا حاصل ہے، اس سے آگے کسی چیز کی ضرورت نہیں……جبکہ دوسرے میں ہدایت اور اللہ کی رضا کا ملنااول واصل مقصد ہے ، اس کے بعد حصول امن کی باری آتی ہے……اس نقطۂ نظر میں اللہ کی خاطراگر قربانیاں دینی پڑیں ، تنگی، مصیبت ، فاقہ اور موت کا اگر سامنا ہوجائے تو یہ سب سعادت ہے ، اس سے اللہ کی دائمی رضا اور اس کی ہمیشہ کی نعمتیں ملیں گی ۔ پہلا جاہلیت کا پیمانہ ہے ،اور ہر دور میں جاہلیت کابیوپارکرنے والوں نے اپنے عوام کو اسی کے ذریعے ڈرایاہے اور حق و راہ حق کو اس پیمانے کے ذریعے ہی عوام کی نظروں میں متنفر ٹھہرایاہے۔جبکہ دوسرا پیمانہ اللہ اور اس کے اولیاء ،انبیاء ، صدیقین اور شہداء کا پیمانہ ہے ،اور یہی خیرو شر کا حقیقی پیمانہ ہے ، اس لیے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد دنیا اور اس کی چار دن کی زندگی نہیں،اس دنیا میں آمد کا مقصد دین ہے، اللہ کی بندگی ہے۔ وہ اس لیے پیدا نہیں ہوا ہے کہ دنیاوی مال ومتاع اور جاہ ومنصب کا یہاں اسیر رہے اور جب اسے موت آئے تو اس حال میں آئے کہ اس نے اپنی عمر عیش وعشرت میں گزاری ہو،نہیں! وہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ اپنے خالق کی بندگی کرے اور جب اس کی زندگی کاخاتمہ ہو تو اس کے نامۂ اعمال میں وہ اعمال صالحہ ہوں کہ جو موت کے بعد کی حقیقی اور دائمی زندگی میں اس کے کام آئیں ، لیکن اگر ایسا نہ ہو اور اس کی زندگی اس اصل مقصود کے برعکس گزری ہو ،تو ساری زندگی اور اس کی یہ ساری نعمتیں خود اسی کے لیے وبال ثابت ہوں گی۔جاہلیت کل کی ہو یا آج کی اس کا مقصودومطلوب دنیا کا امن ،اس کی لذت اور اس کی عارضی خوش حالی ہے اور اس کے حصول میں اس کے ہاں سستی ترین چیز جو پہلے قدم پر دان کردی جاتی ہے وہ اللہ کی بندگی کا شعور ہے ۔ جس رب نے جان دی ، دنیا کی ساری نعمتیں دیں اس میں اُس اللہ کی طرف پیٹھ پیر کر بس ان نعمتوں کی بندگی کی جاتی ہے اورایسے میں اگر کوئی اللہ کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتاہے، اُس رب کی غلامی کی طرف بلاتاہے جس نے یہ ساری نعمتیں عطا کیں تو اُسی پر امن و امان خراب کرنے کا الزام لگایاجاتاہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انتہائی بدترین جگہ وہ قطعہ زمین ہے جہاں امن اور ترقی تو ہومگر وہاں کے رہنے والے اپنے رب اللہ کے باغی ہوں اور اس کرۂ ارض پر دو ہی جگہیں انتہائی مبارک ہیں ، ایک وہ جہاں اللہ کا دین غالب ہو اور فرد و معاشرہ سب اللہ کے شکرگزار وفرماں بردار ہوں، دوسری وہ جگہ جہاں اللہ کا دین غالب تو نہیں ہو ،مگر اس دین کو غالب کرنے کے لیے حق کا باطل کے خلاف جہاد جاری ہو اور اس کشمکش کے ذریعے لوگ اللہ کے ساتھ جڑتے ہوں ، اس کے دین کے داعی،غازی اور پروانے بنتے ہوں اور اس جنگ کے اندر شہادتیں مل رہی ہوں اور اللہ اپنے محبوبین کا چناؤ کررہاہو۔کفر و اسلام کے بیچ جنگ کو لوگ بدامنی کہتے ہیں ، اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ کہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اُس امن سے کروڑہا اور ارب ہا گنا بہترہے جس میں اللہ کی نافرمانی پر اتفاق ہو اورجس میں باطل کے خلاف حق کالشکر کھڑا نہ ہو…… اس واقعے کو دیکھ کر ایک اور پہلو بھی ملاحظہ ہو، وہ یہ کہ اللہ رب العزت حق کی گواہی کا امر دیتاہے ،اللہ کی بندگی ، ظلم کے خلاف اٹھنے اور عدلِ اسلامی کا جھنڈا بلند کرنے کا حکم دیتاہے ، اس کے نتیجے میں اگر کفر ظلم ڈھاتاہے تو اس کےذمہ دار خود ظالم وکافر ہوتے ہیں ،حق کا غلبہ چاہنے والے نہیں ہوتے ہیں ۔ یہ آخرت پر دنیا کو ترجیح دینا اور دنیا کے بندے بنناہے کہ ظلم وجبر اور اللہ سے بغاوت اور حق تلفی پر قائم نظام تو قبول کیاجاتاہے ، اس میں قائم امن کواہم ترین نعمت تو بتایا جاتا ہومگر ظلم کے خلاف اٹھنے اور اللہ کی عبادت کی طرف لوٹنے کی دعوت کو امن خراب کرنا کہاجاتاہو اور ایسا کرنے والوں کو فسادی اور انسان دشمن جیسے القابات دیے جاتے ہوں۔ یہ جاہلیت کے پیمانے ہیں ، اسلام کا پیمانہ یہ نہیں ہے ، اگر اس امت نے اللہ کی رضا حاصل کرنی ہو، اگر اس نے دنیا میں حق کی گواہی دینی ہو اور اپنی ذمہ داری اگراس نے پوری کرنی ہو تو اس کو جاہلیت کے پیمانے چھوڑنے ہوں گے اور دنیا کو صرف انہی پیمانوں سے دیکھناہوگا جو اللہ رب العزت کے وضع کردہ ہیں، ایسا ہوگا تو یہ دنیا حقیقی امن اور خوش حالی سے ہم کنار ہوگی ، ورنہ امن کے نام پر بدامنی اور ترقی کے نام پر تباہی وبربادی کا یہ دجل اسی طرح قائم ہوگا اور چونکہ اسلام نہیں ہوگا اور اس لیے سلامتی بھی نہیں ہوگی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانیت تنگی ، بے چینی اور تباہی کی طرف گامزن ہوگی۔ کامیابی اور خوشحالی کا راستہ بس یہی ہے کہ ہم دنیا کو اس نگاہ سے دیکھیں جس سے دیکھنے کا اللہ ہم سے تقاضہ کرتاہے اورپھر اپنی مرضی و چاہت ایک طرف رکھ کر بس وہی سوچیں اور وہی کریں جو ہمارا رب ہم سے مطالبہ کرتاہے ،ایسا ہم نے کیا تو دنیا میں بھی ہم اللہ کی رحمتیں سمیٹیں گے اور آخرت میں بھی ناکامی ونامرادی کا سامنا نہیں کریں گے ،بلکہ اللہ کے محبوب وکامیاب بندوں میں شمار ہوں گے ۔اللہ ہمیں ایسے خوش نصیبوں میں شامل فرمائے اور ہماری نظر و عمل کو بھی اپنا محبوب بنائے اور ہمارا انجام بھی وہ کرے جو ہمیں محبوب ہو،آمین ثم آمین ۔

یہاں یہ حلقہ ختم ہوا اور اس کے ساتھ وہ سلسلہ مضامین بھی اپنے اختتام کو پہنچا جو اصحاب اخدود کی اس حدیث کو بنیا د بناکر ہم نے شروع کیا تھا۔ اللہ شیخ ابوقتادہ فلسطینی حفظہ اللہ کو ڈھیر وں اجر سے نوازے اور ان کے علم وعمل میں برکت ڈالے ، ان کی خیر عام کرے کہ ان مضامین کو شروع کرنے کی بنیاد شیخ حفظہ اللہ کی شرح ِ حدیث بنی ۔ان مضامین میں جو کچھ عرض کیا ،اللہ سے دعا ہے کہ اس کی خیر ہمیں دیں ، اس کے شر سے ہمیں بچائے اور اپنے دربار میں اس ٹوٹی پھوٹی کوشش کو قبول فرمائے، آمین ثم آمین ۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم محمد وآلہ وصحبہ أجمعین

تمت بالخیر

٭٭٭٭٭

Exit mobile version