وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ (سورۃ آل عمران: ۱۶۹)
’’ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے۔‘‘
تاریخِ عزیمت کے افق پر کچھ ستارے ایسے چمکتے ہیں جن کی روشنی زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ وہ مٹی کے ایسے پیکر ہوتے ہیں جو زمین پر چلتے ضرور ہیں مگر ان کا دل عرشِ الٰہی کی وسعتوں سے جڑا ہوتا ہے۔
27 جون کا دن، تاریخِ اسلام کے ایک ایسے ہی گمنام مگر لازوال مردِ حُر کی یاد دلاتا ہے جس نے بیس سال قبل،27 جون 2006ء کو خراسان کی تپتی دھرتی پر اپنے خون سے عشق و مستی کا ایک نیا باب رقم کیا تھا۔
یہ داستانِ شوق ہے کاروانِ حریت کے اس عظیم مجاہد کی، جسے دنیا حسیب الرحمٰن شہید کے نام سے جانتی ہے۔
ان کے سفرِ عشق کی ابتدا 2000ء سے پہلے کشمیر کی ان سنگلاخ وادیوں، فلک بوس چوٹیوں اور برفانی دروں سے ہوئی تھی جہاں مظلوموں کی آہیں اور سسکیاں غیرتِ مسلم کو پکار رہی تھیں۔
حسیب الرحمٰن شہید نے عیش و آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر جوانی کی امنگوں کو کشمیر کے مقدس جہاد کی نذر کر دیا۔
وہ ایک طویل عرصے تک وادیٔ کشمیر کی وادیوں اور چٹانوں پر غازیوں کے صفِ اول کے مسافر بنے رہے۔ کشمیر کا ایک ایک پہاڑ، ایک ایک غار اور وہاں کی یخ بستہ ہوائیں ان کے سجدوں اور ان کے عزمِ صمیم کی گواہ ہیں۔
وہ ایک ایسا دور تھا جب وادیٔ کشمیر مظلوم ماؤں بہنوں کے تحفظ اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کے نعروں سے گونجتی تھی، اور حسیب الرحمٰن اسی کاروانِ حریت کا دھڑکتا دل تھے۔
لیکن پھر غزوۂ گیارہ ستمبر کے بعد عالمی استعمار کی جانب سے امتِ مسلمہ پر آزمائش کا کوہِ گراں ٹوٹ پڑا۔ اس معرکے کے بعد جب عالمی استعمار اور فرعونی طاقتوں نے اسلام پر یلغار کی تو مسلم دنیا کے حکمرانوں کے قدم ڈگمگا گئے۔ پاکستان کی دھرتی پر مسلط آمر پرویز مشرف نے خوف، بزدلی اور امریکی خوشنودی کی خاطر ایک ایسا شرمناک اور تاریخی یوٹرن لیا جس نے امت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔
ریاستی پالیسیوں کا رخ راتوں رات بدل دیا گیا، جہادِ کشمیر پر سرکاری پابندیاں عائد کر دی گئیں، سرحدیں سیل ہو گئیں اور حریت کے پروانوں کو اپنے ہی گھر میں مجرم بنا کر دیوار سے لگانے کی ناپاک کوشش کی گئی۔
یہ وہ کٹھن گھڑی تھی جب اچھے اچھے مصلحتوں کے گورکھ دھندے میں الجھ گئے، ہتھیار ڈال کر بیٹھ گئے یا حالات کا رونا روتے رہے، لیکن حسیب الرحمٰن شہید کا خمیر کسی اور مٹی سے اٹھا تھا۔ ان کے نزدیک جہاد کسی زمین، خطے یا حکومتی پالیسی کا محتاج نہیں تھا، بلکہ وہ تو ربِ کائنات کا ابدی حکم تھا۔
جب کشمیر کے راستے مسدود کیے گئے تو انہوں نے وطنی حدود کے بتوں کو پاش پاش کیا اور اپنے ایمان کی چنگاری کو لے کر ہجرت کی راہ لی۔ انہوں نے اس خراسان و افغانستان کے کوہساروں کا رخ کیا جہاں عالمی کفر کا سب سے بڑا بت، امریکہ، اپنی پوری مادی طاقت کے ساتھ دندناتا پھر رہا تھا۔
حسیب الرحمٰن شہید کی مادی زندگی میں ایک کٹھن آزمائش ان کی بینائی کی شدید کمزوری تھی۔
میری آنکھوں کے بجھنے سے مایوس نہ ہو
میں نے اس تیرگی کے پار بھی اک جہاں دیکھا
انہیں نظر کی بے حد تکلیف تھی، بینائی اتنی کم تھی کہ رات کے اندھیرے میں ٹارچ کے بغیر ان کے لیے چند قدم چلنا بھی ناممکن ہو جاتا تھا۔ دنیا مادی آنکھوں سے دیکھتی تھی کہ یہ شخص اندھیروں کا قیدی ہے اور چلنے کے لیے بیساکھی یا روشنی کا محتاج ہے، لیکن زمان و مکان کے مالک نے ان کے قلبِ منیر کو بصیرت اور ایمان کے اس لازوال نور سے منور کر رکھا تھا جس کے سامنے دنیا کی تمام مادی روشنیاں، ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ ہیچ تھیں۔
وہ مادی دنیا میں بھلے ایک ٹارچ کے محتاج رہے ہوں، مگر ان کا ایمان انہیں آفاق سے پرے سدرۃ المنتہیٰ دکھاتا تھا جہاں اندھیروں کا کوئی گزر نہیں تھا۔
آج سے بیس سال قبل،27جون 2006ء کو افغانستان کے صوبہ ارزگان کی مقدس دھرتی پر، حسیب الرحمٰن شہید نے اپنے عشق کی آخری اور سب سے بڑی قیمت چکانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے اپنی بینائی کی ہر کمزوری کو توکل اور استقامت کے ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا جہاں مادی وسائل دم توڑ دیتے ہیں۔
انہوں نے مادی دنیا کے تمام بندھنوں کو توڑتے ہوئے ایک عظیم اور تاریخ ساز فدائی معرکہ سر انجام دیا۔
انہوں نے اندھیروں کو چیرتے ہوئے پیش قدمی کی، اور امریکی استعمار کی فرعونی فوج اور ان کے کبر و غرور پر صاعقہِ الٰہی بن کر گرجے۔
وہ محض ایک عسکری حملہ نہیں تھا۔
وہ تو نورِ توحید کا ظلمتِ کفر پر فیصلہ کن وار تھا۔ اس ہولناک معرکے کی گونج نے جہاں صلیبیوں کے تکبر کو خاک و خون میں ملا دیا، وہیں حسیب الرحمٰن شہید کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لافانی بنا دیا۔ جب اس جہادِ مقدس کے میدان سے پہلی بار ان کی خبر ملی،،تو پیغام لانے والوں نے روایتی الفاظ میں موت کا نوحہ نہیں پڑھا، بلکہ پکارنے والوں نے پکار کر رشک و مسرت کے ساتھ یہ مژدہ سنایا کہ:
’’مبارک ہو، بھائی حسیب کی شادی ہو گئی ہے جنت میں۔‘‘
آج دو دہائیاں بیت چکی ہیں، مگر اس مردِ حر کے خون کی خوشبو آج بھی برصغیر سے لے کر خراسان کے پہاڑوں تک رچی بسی ہے۔ مادی آنکھوں سے اوجھل ہونے والا وہ مسافر، جو زمین پر ایک ٹارچ کا محتاج تھا، آج رب کے حضور اس مقامِ رفیع پر فائز ہے جہاں اس کی پاکیزہ روح نبی الملاحم، حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے عین مصداق سبز پرندوں کے قالب میں ڈھل چکی ہے۔ نحسبہ کذالک واللہ حسیبہ
وہ روحیں جو عرشِ الٰہی کے سائے تلے لٹکتی ہوئی سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، اور جنت الفردوس کے باغات، لہراتی نہروں، اور عالی شان محلات کی سیر کو ہر پل محوِ پرواز رہتی ہیں، جہاں نہ کوئی اندھیرا ہے اور نہ کسی روشنی کی محتاجی۔
27 جون کا دن امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کے لیے ایک ابدی پیغام ہے کہ راہیں بھلے بدل جائیں، حکمران بھلے سودے بازی کر لیں، اور جسمانی اعضاء بھلے ساتھ نہ دیں، لیکن اگر دل میں توحید کا سودا سچا ہو اور محبوب کے رخِ زیبا سے ملاقات کا شوق صادق ہو، تو انسان مٹی کے مادی قید خانوں سے نکل کر عرشِ بریں کا مہمان بن جاتا ہے۔
سلام ہو عزیمت کے اس راہی پر، جس کا خون بیس سال بعد بھی امت کے نوجوانوں کے دلوں میں ایمان کی شمعیں روشن کر رہا ہے۔
٭٭٭٭٭
