غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | پانچویں قسط

ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان شہید مجاہدینِ پاکستان و برِّ صغیر کے درمیان کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ان کے یہاں ڈاکٹر ابو خالد کے نام سے معروف ہیں۔ پیش تر ان کی کتاب ’عصرِ حاضر کے جہاد کی فکری بنیادیں‘ زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو کر عام و خاص قارئین تک آج سے گیارہ سال قبل پہنچ چکی ہے ۔ ڈاکٹر ابو خالد رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری کتاب ’غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں‘ ، مؤلف شہید نے مارچ ۲۰۱۲ء میں مکمل کی، لیکن مختلف النوع وجوہات کی بنا پر اب تک شائع نہ ہو سکی۔


باب  چہارم: ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ (۲)

تغلق خاندان (۱۳۲۰ء تا ۱۴۱۴ء)

غازی ملک جنہیں غیاث الدین تغلق کے نام سے ہندوستان کا سلطان بنایا گیا تھا ترک نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ علاؤ الدین کے زمانے میں جب منگولوں کے حملوں کا خطرہ موجود رہتا تھا توعلاؤ الدین نے اپنے وفا دار اور آزمودہ کار سالاروں کو لاہور اور ملتان کے علاقوں میں حاکم تعینات کیا تھا۔ غازی ملک بھی انہی سالاروں میں سے ایک تھے۔ انہیں لاہور کے قریب دیپال پور کے علاقے میں حاکم بنایا گیا۔ علاؤ الدین کے زمانے میں ہونے والے تمام منگول حملوں میں غازی ملک نے انتہائی دلیری، شجاعت اور دانشمندی کا ثبوت دیا اور کئی دفعہ اکیلے ہی منگولوں کے لشکروں کو شکست دی۔ خسرو خان کے فتنے کو ختم کر کے انہیں غیاث الدین تغلق کے نام سے سلطان بنا دیا گیا۔ غیاث الدین تغلق کا دور صرف چار سال اور چند ماہ پر مشتمل تھا مگر اس کا دور تاریخ میں بہت اہم ہے۔ اس دور کی اہمیت کو ہم مندرجہ ذیل نقاط میں پیش کر تے ہیں :

غیاث الدین تغلق ۱۳۲۵ء میں انتقال کر گئے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے سلطان محمد تغلق کے نام سے تخت پر بیٹھے۔ محمد تغلق نے ستائیس سال حکومت کی۔ گو محمد تغلق ایک قابل حکمران تھے مگر انہوں نے کئی بڑی سیاسی غلطیاں کیں جس کی وجہ سے ان کی حکومت کا آخری دور بغاوتوں کا گھر بن گیا۔ مگر محمد تغلق ہر دفعہ ان بغاوتوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ محمد تغلق کے دور کے کارناموں اور سیاسی غلطیوں کو ہم ذیل میں اختصار کے ساتھ درج کرتے ہیں:

اس صورت حال میں محمد شاہ ٹیکس میں اضافہ کرتے تو حالات مزید خراب ہو جاتے۔ اس لیے محمد شاہ کا آخری زمانہ انہیں بغاوتوں کو ختم کرنے میں گزر گیا۔ محمد شاہ ۱۳۵۰ء میں ٹھٹھہ کے قریب سندھ کی ایک بغاوت کو کچلنے کے دوران فوت ہو گئے۔ محمد شاہ کے بعد ان کے چچاذاد بھائی فیروز شاہ تغلق حکمران بنے۔ انہوں نے چالیس سال حکومت کی۔ ان کا دور امن آتشی اور ترقی کا دور تھا۔ ان کے زمانے میں رعایا خوش حال تھی اور اشیاء کی فروانی اور ارزانی تھی۔ ان کی حکومت کی اہم باتیں درج ذیل ہیں :

فیرو زشاہ تغلق کی وفات کے بعد ان کا پوتا تغلق شاہ ثانی کے نام سے تخت پر بیٹھا مگر اپنی حرکتوں کی وجہ سے ایک سال بعد قتل ہو گیا۔ اس کے دوسرے پوتے ابوبکر کو بادشاہ بنایا گیا مگر اس کے چچا ناصر الدین نے تخت پر قبضہ کر لیا۔ اب اس میں اور نصرت خان میں جنگ شروع ہو گئی۔ ابھی یہ جنگ ہو رہی تھی کہ تیمور لنگ نے ہندوستان پر حملہ کر دیا۔ محمود شاہ نے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر شکست کھائی اور پہاڑوں میں جا چھپا۔ تیمور نے دہلی میں قتل عام کیا، غنیمت لوٹی اور جہاں سے آیا تھا وہاں واپس ہو گیا۔ اس کے جانے کے بعد ایک سالار اقبال خان نے نصرت شاہ کو شکست دے دی۔ کچھ عرصے کے بعد ملتان کے حاکم خضر خان نے اقبال خان کو شکست دی اور اسے قتل کر دیا۔ ۱۴۱۴ء میں ناصر الدین مرگیا۔ اس کا کوئی وارث نہ تھا۔ خضر خان نے دہلی کے تخت پر قبضہ کر لیا یوں بادشاہت تغلق خاندان سے سادات خاندان میں چلی گئی۔

خاندان سادات(۱۴۱۴ء تا ۱۴۵۲ء)

تیمور کے حملے کے بعد ہندوستان کی معاشی حالت بہت خراب ہو گئی۔ بستیوں کی بستیاں ویران ہو گئیں۔ اس دور میں تغلق خاندان زوال پزیر  ہو گیا اور اس کی جگہ خضر خان دہلی کے تخت پر بیٹھا۔ اس کی زندگی کے سات سال ہندوستان کو ایک دفعہ پھر سے ایک مرکزی حکومت کے تحت منظم کرنے کی کوشش میں صرف ہو گئے، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا مبارک شاہ تخت پر بیٹھا۔ اس نے بھی اپنی زندگی اسی جدوجہد میں گزار  دی۔ مبارک شاہ نیک سیرت بادشاہ تھا اور شریعت کا پابند تھا۔ اسے ہندوؤں کے ایک گروہ نے قتل کر دیا۔ مبارک شاہ کے قتل کے بعد اس کے وزیر نے اس کے بیٹے محمد شاہ کو تخت پر بیٹھا دیا۔ اس کی حالت ایک یرغمال سے زیادہ نہ تھی۔ اس وزیر کے خلاف بغاوت ہو گئی، اور وہ قتل ہوا۔ محمد شاہ ہندوستان کے حالات کے میں کو ئی بہتری نہیں لا سکا۔ اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا علاؤ الدین بادشاہ بنا اس میں کوئی صلاحیت نہ تھی۔ اس نے اپنا دار الحکومت دہلی سے بدایوں منتقل کر دیا۔ اس طرح دہلی کا تخت خالی ہو گیا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر لاہور کا حاکم بہلول لودھی دہلی کے تخت پر قابض ہو گیا۔ علاؤ الدین نے اسے پیغام بھیجا کہ تم میرے بھائی ہو اس لیے میں نے دہلی کی حکومت تمہیں دے دی ہے۔ اس طرح بادشاہت سید خاندان سے لودھی خاندان میں منتقل ہو گئی۔

لودھی خاندان( ۱۴۵۲ء تا ۱۵۲۶ء)

لودھی خاندان افغان پشتون خاندان تھا۔ اس خاندان کے لوگ تجار ت کے لیے ہندوستان آتے رہتے تھے۔ ان میں بہلول لودھی کا دادا بہرام خان گیروز شاہ کے زمانے میں ملتان کے حاکم مردان دولت کی فوج میں شامل ہو گیا۔ خضر خان نے اس بہرام کے بیٹے ملک شاہ کو سرہند کا حاکم بنا دیا۔ بہلول لودھی ملک شاہ کا بھتیجا اور داماد تھا۔ ملک شاہ کے مرنے کے بعد تمام پنجاب بہلول لودھی کے قبضے میں آگیا۔ سید خاندان کے بادشاہ علاؤ الدین کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بہلول لودھی ہندوستان کے پائے تخت دہلی پر قابض ہو گیا۔ بہلول لودھی جب ہندوستان کا بادشاہ بنا تو ہندوستان تیمور کے حملے کے بعد سے ہونے والے اثرات سے ابھی نہیں نکل سکا تھا اور تیمور کے بعد خاندان سادات ہندوستان کو ایک منظم مملکت میں تبدیل کر نے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ بہلول لودھی نے ہندوستان کو ایک دفعہ پھر ایک منظم مملکت میں تبدیل کر دیا۔ بہلول لودھی نے ۳۸ سال حکومت کی، اس کے بعد اس کا بیٹا سکندر لودھی تخت پر بیٹھا۔ سلطان سکندر لودھی کا زمانہ ہندوستان کے عروج کا زمانہ تھا۔ عدل و انصاف، معاشی ترقی میں یہ دور اپنی مثال آپ ہے۔ سکندر لودھی نے انتیس سال حکومت کی، اس کے بعد اس بیٹا ابراہیم لودھی تخت پر بیٹھا۔ ابراہیم لودھی کا دور بھی عروج کا دور تھا۔ ابراہیم لودھی مزاج کا سخت واقعہ ہوا تھا۔ اس کا چچا دولت خان اس سے ناراض ہو گیا اور وہ بابر سے جا ملا۔ اس نے بابر سے وعدہ کیا کہ اگر وہ اس کی مدد کرے تو لاہور تک کا علاقہ اس کو دے دیا جائے گا اور لاہور سے آگے دولت خان کی حکومت ہو گی۔ مگر بابر کے ارادے کچھ اور تھے۔ یوں ۱۵۲۶ء میں بابر نے ابراہیم لودھی کی فوج کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا۔ یوں ہندوستان کی حکومت لودھی خاندان سے نکل کر مغلیہ خاندان میں منتقل ہو گئی۔

مغلیہ سلطنت(۱۵۲۶ء تا ۱۸۵۷ء)

مغلیہ سلطنت کا آغاز ۱۵۲۶ء میں پانی پت کی لڑائی میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر دہلی پر قبضے سے ہوتا ہے۔

بابر (۱۵۲۶ء تا ۱۵۳۰ء)

بابر ۱۴۸۳ء میں سمرقند میں پیدا ہوا۔ بابر کا تعلق چنگیز خان کی آٹھویں اور تیمور لنگ کی چوتھی نسل سے تھا۔ اس کا باپ سمرقند کا حاکم تھا۔  باپ کا انتقال بابر کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ اس کے چچا نے اس کے باپ کی حکومت پر قبضہ کر لیا اور بابر کو سمرقند سے بھاگنا پڑا۔ اس نے ہمت نہ ہاری اور دوبارہ سمرقند پر قبضہ کر لیا، مگر کچھ عرصے بعد اس کو یہاں سے پھر نکلنا پڑا۔ سمرقند  سے مایوس ہو کر اس نے کابل پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا۔ کابل میں بھی اسے بہت سی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سازشوں سے مقابلہ کرنے کے بعد اس نے ایک دفعہ پھر سمرقند پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا۔ مگر آٹھ ماہ بعد اسے دوبارہ سمرقند سے نکلنا پڑا۔ اب اس نے سمرقند کا خیال چھوڑ دیا اور اپنی نظریں ہندوستان پر جما دیں۔ وہ پنجاب کوتیموری سلطنت کا حصہ سمجھتا تھا۔ حالات نے اس کا ساتھ دیا جب ابراہیم لودھی کے اپنے رشتے دار اس کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے بابر کو ہندوستان آنے کی دعوت دی۔ بابر نے بہت کم فوج کے ساتھ ابراہیم لودھی کو شکست دے دی۔ اس کے بعد بابر نے رانا سنگھا کو شکست دی اور اس طرح اس کا اقتدار ہندوستان میں قائم ہو گیا۔

ہمایوں (۱۵۳۰ ءتا ۱۵۴۰ء)( ۱۵۵۵ء تا ۱۵۵۶ء)

بابر کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں بادشاہ بنا۔ جس دور میں ہمایوں بادشاہ بنا اس وقت بہت سے افغان سردار مغلوں سے حکومت چھننے کے لیے جد جہد کر رہے تھے۔ ان میں ایک بہادر شاہ گجرات میں دوسرا محمود شاہ لودھی اور تیسرا فرید خان جو بعد میں شیر شاہ سوری کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے ہمایوں سے ہندوستان کی حکومت چھین لی۔ ہمایوں ہندوستان سے بھاگ کر ایران کے بادشاہ طہماسپ شاہ کے پاس چلا گیا۔ طہماسپ شاہ نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ہمایوں بارہ سال طہماسپ شاہ کے پاس رہا۔ جب شیر شاہ سوری انتقال کر گیا اور اس کے بیٹے حکو مت کو نہ سنبھال سکے تو ہمایوں نے دوبارہ ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ اس فتح کے بعد ہمایوں سیڑھی سے پھسل کر انتقال کر گیا۔

شیرشاہ سوری(۱۵۴۰ء تا ۱۵۴۵ء)

تاریخ کے اس موڑ پر یہ ضروری ہے کہ ہم اس شخص کا ذکر ضرور کریں جس نے مغلوں کو شکست دے کر نہ صرف ہندوستان کے تخت پر قبضہ کر  لیا بلکہ پانچ سالوں کے قلیل عرصے میں ہندوستان میں ایک ایسا نظام قائم کر دیا کہ جس کی بنیاد پر مغلوں نے مستقبل میں اپنی حکومت کے نظام کو منظم کیا۔ یہ نظام آج بھی کسی نہ کسی سطح پر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں قائم ہے۔ یہ شخص فرید خان ہے جو تاریخ میں شیر شاہ سوری کے نام سے مشہور ہے۔ فرید خان سہسرام کے حاکم حسن خان کے ہاں پیدا ہوا۔ حسن خان کی چار بیویاں تھیں، اس کی سب سے چھوٹی بیوی ایک نو مسلم ہندو تھی۔ حسن خان مکمل طور پر اس بیوی کے زیر اثر تھا۔ اس بیوی کا نام چاندنی تھا۔ اس کی خواہش یہ تھی کہ اس کے بیٹے حسن خان کی جاگیر کے وارث بنیں۔ مگر اس کے راستے کا سب سے بڑا کانٹا فرید خان تھا۔ وہ ہر وقت فرید خان کو اپنے باپ کی نگاہ سے گرانے کی کوشش میں مصروف رہتی۔ اس کام میں اسے بہت کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کا باپ اس سے ناراض ہو گیا۔

فرید خان جونپور کے حاکم کے پاس آگیا جو کہ اس کے باپ کا دوست تھا۔ یہاں فرید خان نے تعلیم حاصل کی اور فن حرب میں تربیت حاصل کی۔ جونپور میں اس کے جوہر سامنے آنا شروع ہوئے۔ اس کے باپ نے جب اس کی شہرت سنی تو وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا اور جاگیر اس کے حوالے کر دی۔ فرید خان نے پوری جاگیر میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ اس نے پوری جاگیر کی ترتیب کو بدل دیا۔ اس نے مالک اور مزارع اور کسان کے درمیان اتنا مضبوط تعلق پیدا کر دیا کہ سب مل کر جاگیر کی پیدا وار میں اضافہ کرنے لگے۔ اس بات نے فرید خان کی اہمیت کو بہت بڑھا  دیا۔ مگر اس کی سوتیلی ماں اس کے خلاف سازشوں میں مصروف رہی اور اس نے حسن خان کی ناک میں دم کر دیا جس کے نتیجے میں حسن خان نے اپنے بیٹے فرید خان سے درخواست کی کہ وہ یہ جاگیر چھوڑ دے۔ فرید خان باپ کا فرماں بردار تھا، اس نے جاگیر کو چھوڑ دیا۔

جاگیر سے نکل کر فرید خان بابر کے ایک افسر جنید برلاس کی توسط سے بابر کے محافظ دستے میں شامل ہو گیا۔ بابر نے جب فرید خان کی صلاحیتوں کو دیکھا تو اسے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ اس صورت حال میں فرید خان نے بابر سے بنگال میں جاگیر حاصل کی اور اپنی جاگیر پر چلا گیا۔ یہاں سے فرید خان کا عروج شرو ع ہوتا ہے۔ اس نے بنگال اور بہار کے حاکموں کو معزول کر کے دونوں صوبوں پر قبضہ کر لیا۔ فرید خان کی اس قوت کا سن کر ہمایوں نے اس کے خلاف فوج کشی کی۔ اس فوج کشی کے دوران ایک بغاوت کو ختم کرنے کے لیے اس کو گجرات جانا پڑا۔ اس نے شیر شاہ (فرید خان) کے ساتھ صلح کر لی۔ اب شیر شاہ کو منظم ہونے کا موقع مل گیا۔ اس نے پہلے گنگا کے کنارے چونسہ کے مقام پر ہمایوں کی فوج کو شکست دی اور پھر قنوج کے میدان میں دوبارہ شکست دی اس کے بعد اس نے ہمایوں کا تعاقب پنجاب تک کیا۔ ہمایوں ایران بھاگ گیا اور فرید خان شیر شاہ کے نام سے ہندوستان کا بادشاہ بن گیا۔

شیر شاہ سوری نے صرف پانچ سال حکومت کی۔ مگر اس نے ہندوستان کے زرعی ، معاشی ، مالیاتی اور حکومتی نظام میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کا اختصار سے ذیل میں ذکر کرتے ہیں :

جلال الدین اکبر(۱۵۵۶ء تا ۱۶۰۶ء)

ہمایوں کی وفات کے بعد جلال الدین محمد اکبر ۱۵۵۶ء میں تخت نشین ہوا۔ اس وقت وہ دہلی سے باہر اپنے استاد بیرم خان کے ساتھ ایک مہم پر تھا۔ بیرم خان نے  گورداس پور کی ایک عید گاہ میں اس کی رسم تاج پوشی کی۔ اس کے بعد اس نے پانی پت کے میدان میں ہیمون کو شکست دے کر دہلی اور آگرہ پر قبضہ کر لیا۔ دہلی میں اس نے اپنی رسم تاج پوشی دوبارہ ادا کی۔ اکبر نے سن ۱۵۵۶ء سے ۱۶۰۵ء تک تقریباً پچاس سال حکومت کی۔ اس کی حکومت کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کی حکومت کا پہلا ۱۵۵۶ء سے ۱۵۷۹ء تک محیط ہے۔ اس دور میں اکبر ایک راسخ العقیدہ مسلمان کی حیثیت سے نظر آتا ہے جس کا مقصد دین اور رعایا کی خدمت ہے۔ ۱۵۷۹ء سے لے کر ۱۶۰۵ء تک کا دور وہ دور ہے جسے اس کی دینی گمراہی کا دو کہا جاتا ہے۔ اس دور میں اکبر نے ایسے عقائد کا برملا اظہار شروع کر دیا اور اس کی دعوت دوسروں کو دینا شروع کردی جسے کسی صورت بھی اسلام کے دائرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ ذیل میں اکبر کے دور بادشاہت کے دونوں ادوار کا ایک اجمالی خاکہ پیش کر تے ہیں :

اکبر کی حکومت کا دوسرا دور سن ۱۵۷۹ء سے شروع ہو کر اس کی موت ۱۶۰۵ء تک چلتا ہے۔ اس دور میں اس کے عقائد میں تبدیلی واقعہ ہونا شروع ہو گئی یہاں تک کہ یہ ایک مکمل دین کی شکل اختیار کر گیا۔ اکبر اس دین میں شامل ہونے کی دعوت دیتا تھا۔ جس کو دین الہٰی کہا جاتا ہے۔ اکبر کے دین کے عقائد کیا تھے؟ دین الہٰی کو قبول کرنے کی وجوہات کیا تھیں ؟ اس بارے میں ہم ذیل میں اختصار سے ان کا ذکر کرتے ہیں۔

غرض کہ اکبر کا یہ دین ہندو مت ، بدھ مت ، جین مت ، پارسی مذاہب کا مرقع تھا۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکبر نے یہ دین الٰہی کیوں شروع کیا ؟اس کی بہت سی وجوہات ہیں جو کہ علماء نے بیان کیں ہیں جنہیں ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں :

اکبر کے دین الٰہی  نے ہندوستان میں مذہبی رواداری کی نئی تشریح پیش کی تھی۔ مذہبی روداری کی آڑ میں اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس کے اس عمل سے اسلام کے بنیادی عقیدہ توحید اور اس کے مسلمہ اصولوں پر کیا زد پڑتی۔ یا دوسری بات یہ تھی کہ وہ اس بات کو جانتا تھا اور اس نے یہ بات جانتے بوجھتے ہوئے اور شعور کے ساتھ کی۔ صورتحال جو بھی ہو اکبر کے اس دین الہٰی کی وجہ سے مسلمانوں اور ہندوؤں میں ایک نئے معاشرتی تعلقات کا آغاز ہوا۔ یہ تعلقات اب ذاتی اور کاروباری سطح سے بڑھ کر ہندو مسلم شادیوں تک پھیل گئے۔ بادشاہ خود بھی مشرک عورتوں سے شادیاں کرتے اور ان کے شہزادے اور امراء بھی یہ کام کرنا شروع ہو گئے۔ جہانگیر کے زمانے میں بھی یہ کام جاری رہا۔ اس طرح ہندو مسلم شادیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی نسل میں توحید کے عقیدے، شریعت کی پابندی اور احترام وہ نہ رہا جو اس سے پہلی نسلوں میں موجود تھا۔ ہندو مسلم رواداری کی یہ نئی تشریح اب ایک بیماری کی طرح مسلم معاشرے میں پھیل گئی۔ جب دین کے مسلمہ عقائد اور شریعت کا احترام کے معیار کم ہونا شروع ہو ا تو اس نے انسان کے ذاتی مفاد اور مقاصد زندگی کوبھی تبدیل کر دیا۔ اب دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہو گئی۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کے زوال میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کا ذکر ہم بعد میں انشا اللہ کریں گے۔

نورالدین جہانگیر(۱۶۰۶ء تا۱۶۲۷ء)

۱۶۰۶ء میں اکبر کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا سلیم نور الدین جہانگیر کے لقب سے تخت پر بیٹھا۔ جہانگیر کا دور ۱۲۲۶ء میں اس کی موت کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ جہانگیر کا دور ہندوستان میں امن اور عدل کا دور تھا۔ گو اس کے دور میں چند ایک بغاوتیں بھی اٹھیں مگر ان کو دبا دیا گیا۔ جہانگیر کے زمانے کے اہم واقعات مندرجہ ذیل ہیں :

شاہجہان (۱۶۲۷ء تا ۱۶۵۹ء)

جہانگیر بادشاہ کے انتقال کے بعد شاہجہان ہندوستان کا بادشاہ مقرر ہوا۔ شاہجہان۱۶۲۷ء سے ۱۶۵۸ء تک تقریباً تیس سال تک ہندوستان کا بادشاہ رہا۔ اس کا دور مغل دور کے عروج کا دور ہے۔ شاہ جہان کے دور میں ہندوستان کی خوشحالی اور تعمیرات ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے۔ اس کے دور کے اہم واقعات کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں :

اورنگ زیب عالمگیر (۱۶۵۹ ءتا ۱۷۰۷ء)

اورنگ زیب عالمگیر ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا سب سے مضبوط اور طاقت ور آخری بادشاہ تھا۔ اس نے پچاس سال حکومت کی۔ اس کی حکومت ہندوستان میں مسلمانوں کا آخری عروج ثابت ہو کیونکہ اس کے بعد اورنگ زیب عالمگیر کے جانشین اس کی حکومت کو سنبھال نہ سکے اور یہ حکومت بتدریج زوال پذیر ہوتے ہوئے بالآخر۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے کے ساتھ ختم ہو گئی۔ اورنگ زیب کے دور کے اہم واقعات درج ذیل ہیں :

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version