پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

‏پاک بھارت تعلقات میں اتار چڑھاؤ سے سبھی واقف ہیں لیکن گزشتہ چند سالوں سے بھارتی سرکار مختلف نوعیت کی اور مختلف فرنٹس پر پاکستان کے خلاف جس جارحیت کا ارتکاب اب تسلسل سے کر رہی ہے، ماضی میں اس کے خلاف پاکستان کی حکومت اگرچہ زبانی کلامی ہی رد عمل دیا کرتی تھی لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے اس تکلف سے بھی جان چھڑا لی گئی ہے ۔ سوائے گزشتہ سال مئی کی جنگ کے ، جس کو پاکستان نے سٹریٹیجک مقاصد کے لیے پروجیکٹ کیا اور فوائد سمیٹے۔ ذیل میں ہم ان بھارتی اقدامات کا ایک خلاصہ پیش کرنے کے ساتھ اس وجہ کو بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو پاکستانی حکومت کو ان اہم مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے، حتیٰ کہ میڈیا کو بھی انہیں ہائی لائٹ کرنے سے روکنے پر مجبور کر رہا ہے۔

آپریشن سندور 2 کی تیاری کر رہے ہیں: انڈین آرمی چیف

انڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر  دویدی نے ایک بیان میں کہا کہ انڈیا آپریشن سندور 2.0 کی تیاری کر رہا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ حالیہ صورت حال کے باوجود فوجی تیاری برقرار ہے۔ اس نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپریشن سندور اب بھی جاری ہے‘‘۔ اس نے موجودہ صورت حال کو ’’عارضی جنگ بندی‘‘ قرار دیا۔ جنرل دویدی نے براہِ راست پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ انڈین فوج مکمل طور پر تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو نیا آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ صرف فوج ہی نہیں بلکہ فضائیہ اور بحریہ بھی مکمل تیاری میں ہیں۔ اس کے مطابق تینوں افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل کی جنگی صورت حال کے لیے ہر وقت تیار رہا جا سکے۔ جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ  ’’انڈین فوج اور تینوں مسلح افواج آپریشن سندور 2.0 کے لیے بھر پور تیاری کر رہی ہیں، اگر یہ ہوتا ہے۔ اس وقت ہم تینوں افواج کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور آئندہ جنگی تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں‘‘۔

چین اور پاکستان کی کوئی مشترکہ سرحد نہیں ہے : بھارتی وزیر خارجہ

پاکستان کا وزیر اعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کے سرکاری دورے پر گیا۔ اس دورے کے اختتام پر چین اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس اعلامیے کی ایک سطر میں کہا گیا ہے کہ ’’دونوں فریقوں (یعنی پاکستان اور چین) نے آمادگی ظاہر کی کہ برابری اور باہمی فائدے کے اصولوں کے تحت سرحد پار آبی وسائل میں تعاون کیا جائے گا‘‘۔ اس کے جواب میں انڈیا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چونکہ چین اور پاکستان کے درمیان کوئی مشترکہ سرحد ہی نہیں ہے تو ’’سرحد پار آبی وسائل میں تعاون‘‘ کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔

انڈیا نے یہ بھی کہا کہ وہ چین اور پاکستان کے درمیان ۱۹۶۳ءکے سرحدی معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا اور جموں و کشمیر کے حوالے سے مشترکہ بیان میں شامل نکات کو بھی مسترد کرتا ہے۔ بھارتی جانب سے یہ بیانات صرف یہاں تک ہی نہیں رہے بلکہ ایک اور بیان میں انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی جانب سے کہا گیا کہ حکومتِ انڈیا نے گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے ۷ جون 2026ء کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد کے پاکستانی منصوبے پر پاکستان کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔ بیان کے مطابق انڈیا گلگت بلتستان کو جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور وہاں انتخابات کے انعقاد کو قبول نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا ان تمام کوششوں کو مسترد کرتا ہے جن کے ذریعے پاکستان اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں کوئی انتظامی یا سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے۔ حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اس سنگین نوعیت کے دعووں اور بیانات کے باوجود نہ ہی پاکستان کے وزیراعظم اور نہ فوجی ترجمان کی جانب سے کوئی سخت جواب دیا گیا بلکہ وزرات خارجہ کی جانب سے ایک رسمی مذمتی بیان جاری کر دیا گیا۔

انڈیا نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا

سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نے اس ’’نام نہاد عدالت‘‘ کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا تھا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انڈیا کے یک طرفہ فیصلے کا نوٹس لے کیونکہ اس معاہدے کی معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن اور سلامتی کے لیے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط محدود کرنے کے علاوہ دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو بھی معطل کر دیا تھا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا تاہم اِن تینوں دریاؤں (سندھ، چناب، جہلم) کے بھی 20 فیصد پانی پر انڈیا کا حق ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے سابق ایڈیشنل کمشنر شیراز میمن کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی بنیادی ذمہ داریوں میں کم از کم سال میں ایک مرتبہ دونوں ممالک کے واٹر کمشنرز کا اجلاس ہونا، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنا اور دونوں اطراف دریاؤں پر جاری پراجیکٹس پر دوسرے ممالک کی معائنہ ٹیموں کے دورے کرنا شامل ہے۔ دونوں ممالک کے انڈس واٹر کمشنرز عموماً مئی کے مہینے میں یہ اجلاس کرتے تھے اور دونوں ممالک کی حکومتوں کو اس کی سالانہ رپورٹ یکم جون کو پیش کی جاتی تھی۔ شیراز میمن کے مطابق عمل درآمد کی معطلی کا مطلب یہ ہے یہ اجلاس، معائنہ دورے یا دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی ڈیٹا  شیئرنگ نہیں ہو گی۔  محسن لغاری کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ اگر انڈیا کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق آگاہ نہیں کیا جاتا تو اس سے منصوبہ بندی پر فرق پڑ سکتا ہے۔ ’’کبھی ضرورت سے کم پانی ملے گا تو کبھی بہت زیادہ پانی سیلاب کے خدشات بڑھا دے گا‘‘۔

8.7 کلومیٹر طویل سرنگ کے ذریعے چناب کا پانی بیاس میں موڑنے کا بھارتی منصوبہ

انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس منصوبے کی تشہیر کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’’انڈیا اب پرانے اصولوں کے تحت نہیں کھیلے گا‘‘۔ 22 مئی کو اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر بی جے پی نے لکھا کہ ’’سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بعد اب بل آخر انڈیا اب اپنے مغربی دریاؤں کی صلاحیتوں کا ہائیڈرو پاور، واٹر سکیورٹی اور سٹریٹجک استعمال کرنے جا رہا ہے‘‘۔ بی جے پی کی اس پوسٹ کے مطابق یہ سرنگ آٹھ اعشاریہ سات کلومیٹر پر محیط ہو گی، جو دریائے چناب سے اضافی پانی بیاس کی طرف موڑ دے گی۔ یہ سرنگ انڈین ریاست ہماچل پردیش کے ضلع کوکسار میں بنے گی۔ اے این آئی کے مطابق چناب بیاس لنک منصوبہ چھبیس ارب بیس کروڑ روپے کی لاگت سے بنے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا نے دریائے چناب سے تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فُٹ پانی کا رُخ اپنے بیاس کے نہری نظام پر موڑنے کے منصوبے کے لیے کمپنیوں سے بولیاں مانگی ہیں اور اس کے خطے میں ’’سنگین نتائج‘‘ سامنے آئیں گے۔  دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ انڈیا پانی کو ’’بطور ہتھیار‘‘ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ’’اس کے نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ خطے کے استحکام، بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کے لیے بھی خطرناک نتائج ہوں گے‘‘۔

پاکستان میں موجود سابق کشمیری رہنماؤں اور کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ

پاکستان میں گزشتہ سالوں میں تسلسل کے ساتھ ان کشمیری رہنماؤں اور کارکنان کی ملک بھر میں ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی تھی جو ماضی میں جہاد کشمیر سے منسلک رہے۔ ان میں بہت سے افراد ایسے بھی تھے جنہیں عسکری معاملات ترک کیے سالوں بیت چکے تھے اور وہ معمول کی زندگی اور اپنے روزگار میں مشغول تھے۔ ان ٹارگٹ کلنگز پر حکومت اور پاکستانی میڈیا کی پراسرار خاموشی شکوک و شبہات کو جنم دیتی رہی کہ آخر ملک بھر میں ان افراد کی نشاندہی اور ان کی روٹین کے متعلق بھارتی ایجنسیوں کو معلوم ہونا کیسے ممکن ہے ۔ یہ کسی ایک یا دو تین شہروں کے واقعات بھی نہیں تھے۔ ٹارگٹ کلنگ کا یہ سلسلہ جب طویل ہوا اور عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی ہائی لائٹ ہونے لگا تو حکومت پاکستان معذرت خواہانہ لہجے میں رسمی کارروائی اور مؤقف دینے پر مجبور ہوئی ۔ صحافی ماجد نظامی اس صورتحال پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’خوش آئند یہ بھی ہے کہ اتنے سال بعد ریاست ان معاملات پر اپنا مؤقف دے رہی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے ان حساس معاملات پر رپورٹ کرنے والے پاکستانی صحافیوں کو ’قومی مفاد‘ کے خلاف کام کرنے پر ’محبتوں‘ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔‘‘

واضح رہے کہ اس سے قبل باجوہ دور میں یہ رپورٹ ہو چکا تھا کہ حکومت پاکستان نے ایک موقع پر بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اور یہ ثابت کرنے کے لیے پاکستان اب حقیقی معنوں میں مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے میں سنجیدہ ہے ، عسکریت پسندوں کے ایک منصوبے کی اطلاع بھارتی حکومت کو باضابطہ طور پر سفارتی رابطے کے ذریعے پہنچائی تھی۔ اس تناظر میں یہ الزام درست معلوم ہوتا ہے کہ ان ٹارگٹ کلنگز میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی معاونت پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کی ۔

ان واقعات سے کچھ مزید پیچھے چلتے ہیں تاکہ یہ سمجھنے میں آسانی رہے کہ جو کچھ ہو رہا تھا وہ پاکستان کی فوجی ڈاکٹرائن کا حصہ تھا اور ان واقعات کا آپس میں ربط اور تعلق ٹھوس تھا۔

5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات

5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے  مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر دیا۔ اس کے تحت ریاست کو دو وفاقی خطوں (جموں و کشمیر، اور لداخ) میں تقسیم کر دیا گیا۔ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو حاصل نیم خود مختار اور خصوصی آئینی درجہ ختم کر دیا گیا۔ آرٹیکل 35 اے کی منسوخی سے ریاست کے ’’مستقل باشندوں‘‘ کے خصوصی حقوق، بشمول زمین کی خریداری اور سرکاری ملازمتوں کا تحفظ، ختم ہو گئے۔ مقبوضہ ریاست کو مرکز کے زیرِ انتظام دو الگ الگ علاقوں (Union Territories) میں تقسیم کیا گیا۔ اس فیصلے سے قبل وادی میں مواصلاتی نظام (انٹرنیٹ، فون) معطل کر کے سخت کرفیو نافذ کر دیا گیا اور سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے ان بھارتی اقدامات پر معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا گیا، تقریباً ویسا ہی جیسے قبائل میں امریکی ڈرون حملوں پر منافقانہ احتجاج ریکارڈ کروایا جاتا رہا۔ اصل صورتحال چند سالوں کے بعد پہلی دفعہ صحافی حامد میر نے خاتون صحافی اور اینکر  نسیم زہرہ کے پروگرام میں ہوشربا  انکشافات کے ذریعے واضح کی۔ صحافی حامد میر کو اس پر تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا کہ وہ یہ حقائق اتنی دیر سے (2023ء میں) کیوں منظر عام پر لائے؟ شاید اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے ریٹائر ہونے کا انتظار کرتے رہے ۔جنرل باجوہ نومبر 2022ء میں ریٹائر ہوا۔ پاکستان میں حاضر سروس آرمی چیف کے کسی بڑے جرم کو بے نقاب کرنا یقینی طور پر پاکستان میں موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے۔ دوسری بات حامد میر نے جو انکشافات کیے وہ معلومات تو دو درجن دوسرے صحافیوں کو بھی تھی ان میں سے بھی کبھی کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ لب کشائی کرتا۔ حامد میر نے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور عمران خان کو کشمیر میں مودی کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات کا مبینہ طور پر پہلے سے علم تھا اور وہ پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہ رہے تھے۔ پاکستان کے نجی چینل پر اینکر  نسیم زہرہ کے شو میں کیے گئے انکشافات کے مطابق جنرل باجوہ نے 25 صحافیوں کے سامنے کہا تھا کہ ’’ہم جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہیں، لہٰذا ہمیں بھارت سے صلح کر لینی چاہیے‘‘۔

پاکستان فوج نے اس بارے میں  باقاعدہ رد عمل نہیں دیا۔ البتہ فوج کے قریب سمجھے جانے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف نے معاشی مشکلات کا تو کہا ہو گا لیکن بھارت کے ساتھ جنگ کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کا بیان مبالغہ آرائی ہے۔ نسیم زہرہ کے ٹاک شو میں حامد میر کا دعویٰ تھا کہ کشمیر کا سودا جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیا جس کی تفصیلات قوم کے سامنے نہیں آئیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سیز فائر یعنی جنگ بندی کے اعلان کے بعد مودی نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔ اس بارے میں شاہ محمود قریشی کو جب پتہ چلا تو اس نے وزیر اعظم عمران خان سے بات کی۔ اس پر عمران خان نے اسے بتایا کہ جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض اس بارے میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کے بعد عمران خان نے جنرل فیض کو کہا کہ وزارت خارجہ کو ’’آن بورڈ‘‘ لیا جائے جس کے بعد جنرل باجوہ نے وزارت خارجہ میں ایک بریفنگ کا اہتمام کیا جس میں اس نے کہا کہ ہمارا جنگی ساز و سامان بہت پرانا ہو چکا ہے اور ہم بھارت کے ساتھ جنگ نہیں لڑ سکتے۔ حامد میر نے نسیم زہرہ کو بتایا کہ جنرل باجوہ اس سے پہلے ایسی بریفنگ ہم صحافیوں کو بھی دے چکا تھا جس میں اس کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جنگی صلاحیت بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جب حامد میر نے کہا کہ جنرل باجوہ نے 25 صحافیوں کے سامنے کہا کہ ہم جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہیں، لہٰذا ہمیں بھارت سے صلح کر لینی چاہیے تو اینکر  نسیم زہرہ نے کہا کہ عام طور پر ایسے بیان پر آرمی چیف کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے۔ حامد میر  نے اس بارے میں وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ بات پہلے بھی کی تھی :

’’یہی بات دسمبر میں ہوئی تھی اور مئی 2021ء میں اس وقت کی تھی جب اپریل میں ہمیں بریفنگ دی گئی اور اس کے چند دن بعد صحافی اسد طور پر حملہ ہوا تو نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرے کے دوران میں نے یہی بات کی تھی کہ ہمیں بتایا جا رہا ہے ہم بھارت سے لڑنے کے قابل نہیں ہیں۔‘‘

تحقیقات کے سوال پر حامد میر کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کون کرے گا، کیونکہ ’’پوری کی پوری ریاست اس میں ملوث ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس بارے میں عمران خان کی حکومت کے دوران کشمیر کے حوالے سے مودی کے اقدامات سے قبل بتایا تھا کہ ’’یہ معاملہ ختم ہونے جا رہا ہے، اس میں امریکی صدر ٹرمپ بھی شامل تھا اور جنرل باجوہ نے جنرل فیض کے ساتھ مل کر بالا ہی بالا سب معاملات طے کر دیے تھے‘‘۔

حامد میر نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے کئی بار یہ بات کی جس پر میں نے اس سے کہا کہ مسئلہ کشمیر بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہئیں، لیکن یہ سب پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے اور ’’اس پر جنرل باجوہ کا ایک ہی ردعمل ہوتا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیوں کہ پارلیمان میں جان ہی نہیں ہے کہ وہ یہ سب بات چیت کر سکے‘‘۔ حامد میر کے بقول ’’میں نے ان سے کئی بار کہا کہ مشرف نے بیک ڈور چینل سے من موہن سنگھ سے بات کی لیکن وہ ناکام رہے۔ اب بھی بیک ڈور کے ساتھ بات چیت ناکام رہے گی ۔ جس طریقے سے یہ لوگ بات کر رہے تھے وہ درست نہیں تھی کہ ملک میں کسی کو پتا ہی نہیں اور جنرل فیض اجیت دوول کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر حل کر رہے تھے‘‘۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کے خلاف جنگ لڑنے کے وسائل نہ ہونے کا بہانہ تراشا گیا تھا لیکن اصل وجہ امریکی ڈکٹیشن تھی۔

بھارت کے متعلق پالیسی میں امریکی کردار

اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ بھارت کے متعلق پالیسی میں امریکی مفادات کا کتنا عمل دخل ہے اور پاکستان کی فوجی اشرافیہ بھارت کے متعلق پالیسی طے کرتے ہوئے پاکستانی مفادات کو اولین ترجیح رکھتی ہے یا اصل فیصلہ ساز امریکہ ہے یا پاکستانی جرنیل امریکی مزاج اور امریکہ کی طے کردہ ریڈ لائنز میں رہتے ہوئے پالیسی بناتے ہیں۔

قیام پاکستان کے فورا بعد کچھ ہی عرصے میں پاکستان امریکی کیمپ میں شامل ہوا ۔ اگرچہ اس وقت پاکستان کو لا تعداد مسائل درپیش تھے لیکن  امریکی امداد کے حصول کا سبب فوج اور دفاعی اخراجات تھے۔

جون 1951ء میں امریکہ کوریا جنگ ہوئی جس میں پاکستان نے امریکہ سے تعاون کیا ۔ کوریا میں اقوام متحدہ کی فوجی کارروائی کو سپورٹ کیا اور کوریا میں پاکستانی فوج کی ایک بریگیڈ بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی بدلے میں امریکہ نے فوج کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن حکومت پاکستان نے واشنگٹن سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بھارت کے خطرے کے پیش نظر پاکستان کو دفاع اور سلامتی کی گارنٹی دی جائے۔ امریکہ کے انکار پر پاکستان نے کوریا میں فوج بھیجنے کا فیصلہ تبدیل کیا البتہ اقوام متحدہ کی کاروائیوں کی سیاسی حمایت کی۔1A history of Pakistan Army by Brian Clougley 

بقول   عائشہ جلال، لیاقت علی خان (اس سے قبل) 1950ء میں امریکہ کے دورے کے دوران بھی یہی مطالبہ کر چکے تھے کہ اگر امریکہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی گارنٹی دے تو پاکستان کو بڑی فوج کی ضرورت نہیں۔ 2 The State of Martial Rule by Ayesha Jalal 

16 اکتوبر 1951ء لیاقت علی خان کو قتل کر دیا جاتا ہے اور دہائیوں بعد اس راز سے پردہ ہٹتا ہے کہ پاکستانی اداروں نے لیاقت علی خان کے قاتل کی بیوہ کو مرتے دم تک پروٹوکول اور آسائشوں کے ساتھ رکھا اور اس کی اولادوں کو جائیدادوں سے نوازا گیا، اس کے علاوہ بھی کافی تفصیل اب اخباروں میں شائع ہو چکی ہے جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو پاکستانی ایجنسیوں نے ہی قتل کروایا۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد جنرل ایوب کی حکومت میں امریکیوں سے تعلقات یکسر تبدیل ہو گئے، اب بھارت کے متعلق کوئی مطالبہ شرط نہیں بنتا ۔ ایوب امریکیوں سے تعلقات مستحکم کرنے میں اتنا آگے گیا کہ ایک موقع پر امریکی اہلکار سے کہا:

’’اگر آپ چاہیں تو ہماری فوج آپ کی فوج بن سکتی ہے۔‘‘3 United States and Pakistan (1947-2000) By Dennis Kux 

ایف ایس اعجاز الدین لکھتے ہیں کہ جنرل یحییٰ نے یکم اگست 1969ء کو لاہور میں امریکہ کے صدر نکسن سے علیحدہ ملاقات کی اور وزارت خارجہ کو اعتماد میں نہ لیا، اس طرح اس نے ایوب کی روایت کو برقرار رکھا۔ 4 The White House and Pakistan

جرنیلوں کی امریکہ کے سامنے یوں بچھے جانے کی پالیسی کے نتائج پاکستانی قوم نے 1971ء کی جنگ میں دیکھ لیے جب امریکی بحری بیڑے کے متعلق فقط افواہیں اڑائی گئیں لیکن بھارت کے خلاف پاکستان کی کوئی عملی مدد نہ کی گئی۔ بعد میں کئی مصنفین یہ حقیقت واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کا اس تنازع میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور یہ صرف دکھاوا تھا۔

حسین حقانی نے اپنی کتاب ’’Pakistan Between Mosque and Military‘‘ میں کارگل جنگ کے متعلق لکھا:

’’ابتدا میں پاکستان نے فوجی اہلکاروں کی انوالومنٹ سے انکار کیا اور کشمیری عسکریت پسندوں پر الزام لگایا مگر پھر انڈیا نے مشرف اور چیف آف جنرل سٹاف عزیز خان کی کال ریکارڈنگ ریلیز کر دی۔ جس نے کسی شبہ کی گنجائش ہی نہ چھوڑی کہ وہاں کارگل میں فوج ہی ہے۔ مشرف اور عزیز میں یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب مشرف بیجنگ میں تھا اور لیفٹننٹ جنرل عزیز خان جی ایچ کیو راولپنڈی میں۔ یہ راز ہی رہا کہ انڈیا کو اس کال تک رسائی کیسی ہوئی۔ لیکن پاکستانی ایجنسیز کا شک تھا کہ یہ ریکارڈنگ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے کی اور پھر اسے انڈیا کو فراہم کیا تاکہ پاکستان کو شرمندہ کیا جا سکے اور کارگل سے پسپائی کے لیے دباؤ ڈالا جائے ۔‘‘

حسین حقانی نے اپنی کتاب میں یہ انکشافات آئی ایس آئی اور ایم آئی افسران سے ہونے والی گفتگو کے توسط سے کیے ہیں۔

یہ نکتہ غور طلب ہے کہ کارگل آپریشن کے متعلق اس وقت کا وزیر اعظم نواز شریف تک لاعلم تھا۔ لیکن امریکیوں کے پاس معلومات تھیں کہ اس آپریشن کا ماسٹر مائنڈ مشرف ہے ۔ امریکیوں نے فوج کو پسپائی کے لیے دباؤ ڈلوایا، فوج نے نواز شریف کو امریکہ بھجوایا، جنگ بندی ہوئی، عوام میں تاثر ابھرا کہ فوج جنگ جیت رہی تھی مگر نواز شریف امریکہ کے پریشر میں آگیا۔ نواز شریف کی عزت مجروح ہوئی اور مشرف کارگل بوائے کے نام سے اس وقت ہیرو بن گیا۔ اس وقتی اور جھوٹی مقبولیت نے مشرف کے اقتدار پر قبضے میں مدد دی۔ اس صورتحال کا موازنہ اگر آپ گزشتہ سال مئی کی پاکستان بھارت جنگ سے کریں تو اس میں بھی امریکی انجینئرنگ کے کچھ اثرات ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ اس جنگ سے قبل پاکستانی فوج کو غزہ کے حوالے سے عملی اقدام کرنے کا دباؤ تھا۔ لیکن اس جنگ سے ساری توجہ اس طرف مبذول ہوئی ۔ اور چند روزہ جنگ میں جیتنے کے دعوے کو جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا فوج نے اسے اپنی طاقت اور سیاسی اثر رسوخ بڑھانے کے لیے بہت برے اور ظالمانہ انداز سے استعمال کیا ۔

مئی 2025ء میں پاک بھارت جنگ کے بعد امریکی کانگریس کی کانگریشنل ریسرچ سروس نے ایک رپورٹ ’’India-Pakistan Conflict in Spring 2025‘‘جاری کی جس میں واضح لکھا کہ:

’’2005ء کے بعد سے، امریکہ اور ہندوستان نے ایک اسٹریٹجک پارٹنر شپ کو آگے بڑھایا ہے،   اس کا ایک حصہ چین کی بڑھتی ہوئی ترقی کے انسداد کے طور پر،  اور دو طرفہ سیکورٹی تعاون کئی دہائیوں کی سرد جنگ کے دور کے خاتمے کے بعد بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے۔

کانگریس اور یکے بعد دیگرے چار صدور نے امریکہ بھارت تعلقات کو وسیع اور گہرا کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات، جو سرد جنگ کے دوران ایک قریبی اتحاد تھے، گزشتہ 15 سالوں میں کمزور ہوئے ہیں کیونکہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کی سٹریٹیجک مطابقت میں کمی واقع ہوئی ہے۔‘‘

اس سے قبل امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹس امریکی حکومت کو یہ تجاویز دے چکی ہیں کہ وہ پاکستانی حکومت کو سختی سے اس بات کا ادراک کروائیں کہ بھارت کو امریکہ چین کے خلاف کھڑا کرنے کے لیے مکمل فراغت دینا چاہتا ہے، ایسے میں اگر بھارت کی توجہ کشمیری عسکریت پسندوں سے نمٹنے میں صرف ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھا جائے گا اور پاکستان کو سخت ردعمل بھگتنا ہو گا۔

پاکستان کا ایک مضحکہ خیز اقدام سابق ائیر مارشل جواد سعید کے کورٹ مارشل کا بھی ہے۔ 2019ء میں انڈیا نے جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بالا کوٹ پر حملہ کیا تو اُس وقت جواد سعید نے انڈیا کی اس کارروائی کے خلاف بطور ایئر مارشل پاکستان کے ’’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘‘ کی سربراہی کی تھی اور اسی آپریشن کے نتیجے میں انڈین ایئرفورس کا پائلٹ ابھینندن گرفتار ہوا تھا۔ سابق ائیر مارشل کا نام ائیر چیف کے اُمید واروں کی لسٹ میں بھی شامل ہوا تھا ۔ یہ بھی واضح رہے کہ 2019ء میں پاکستان اور بھارت کی اس فضائی جھڑپ پر امریکہ کی جانب سے پاکستان سے باز پرس کی گئی تھی کہ پاکستان نے امریکی ایف سولہ جہاز کیوں استعمال کیے اور پاکستان کی جانب سے وضاحت دی گئی کہ ہم نے ایف سولہ نہیں بلکہ دوسرے چینی ساختہ جہاز استعمال کیے۔ یہ بھی رپورٹس منظر عام پر آئیں کہ ایف سولہ کی مرمت کے بہانے ایف سولہ کا انتظام امریکی کنٹریکٹررز کے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔

ایران جنگ کے سبب امریکی قربت

ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ ایران جنگ میں پاکستان بالخصوص عاصم منیر کے غیر معمولی کردار کے سبب امریکہ سے تعلقات میں جو گرم جوشی آئی ہے شاید یہی سبب ہے کہ پاکستان کی فوجی اشرافیہ بھارتی عزائم کو سیریس نہیں لے رہی۔ بلاشبہ ان مذاکرات میں مغربی میڈیا نے امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے جبکہ پاکستانی میڈیا نے مبالغہ آرائی کی سب ہی حدیں پار کر دی ہیں۔ لیکن اصل حقیقت کیا ہے یہ آنے والا وقت طے کرے گا۔ بعض تجزیہ نگاروں کی رائے میں  پاکستان امریکہ تعلقات ہمیشہ ٹرانزیکشنل رہے ہیں، سرد جنگ، افغان جنگ،  گیارہ ستمبر کے بعد، پہلے فائدہ اٹھایا گیا، پھر پابندیاں و ڈرون حملے ہوئے۔ اس لیے موجودہ سٹیج کو بھی ’’بہترین سطح‘‘ نہیں کہہ سکتے بلکہ حالیہ ضرورت، ایران تنازع میں پاکستان کی یونیک پوزیشن یعنی ایران کے ساتھ سرحد اور امریکہ کے ساتھ روابط، کی وجہ سے ہے۔ جیسے ہی امریکہ ایران تنازع کم ہوا یا نئی ترجیحات، جیسے انڈیا کے ذریعے چین کو لگام دینا، سامنے آئیں، یہ گرم جوشی ٹھنڈی پڑ سکتی ہے۔

آزاد کشمیر میں کریک   ڈاؤن

آزاد کشمیر میں بنیادی حقوق کے حوالے سے اٹھنے والی تحریک کو ان دنوں میں جس انداز سے کچلا گیا ہے یہ وہی طریقہ کار تھا جو حال ہی میں پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اگر مزید وضاحت کریں تو یہ طریقہ ہندوستان میں مسلم آبادیوں کے خلاف بھی استعمال ہوتا ہے جہاں سکیورٹی فورسز کے ہمراہ نقاب پوش غنڈے ہوتے ہیں جو عوامی املاک کی توڑ پھوڑ کرتے ہیں اور اس توڑ پھوڑ کا الزام مظاہرین پر لگا کر ایک وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی فورسز کا یہ طریقہ کار ایک ایسی جگہ استعمال کرنا جسے وہ اپنی شہ رگ کہتی آئی ہے، اور اس وقت جب ہندوستان نئے حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے، یہ پاکستان کی دفائی لائن کو اپنے ہاتھوں تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور فوج کے حمایت یافتہ نام نہاد صحافیوں نے بھی ایک ساتھ محاذ کھولتے ہوئے ان احتجاجوں کو بھارتی سازش اور احتجاج کرنے والوں کو را  کے ایجنٹ حتیٰ کہ خوارج تک کہنا شروع کر دیا ہے۔ کچھ سال پہلے جنرل شفاعت، جو پرویز مشرف کا ملٹری سیکرٹری رہا اور بعد ازاں کور کمانڈر لاہور تعینات ہوا، اس سے متعلق ایک سٹوری منظر عام پر آئی تھی۔  پرویز مشرف کے دور میں موصوف نے بھارتی فلموں کی نمائش پر پاکستان میں پابندی ہٹوائی اور پھر بھارتی فلم ڈائریکٹر سے اپنی بیگم کے نام لندن میں مہنگا اپارٹمنٹ لیا،  اس کے علاوہ امریکہ میں بھی اس کے بیٹوں نے پراپرٹی خریدی۔ یہ سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد بھی جنرل شفاعت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی نہ ہی بھارتی فلم ڈائریکٹر سے اپارٹمنٹ لینے پر اس کی حب الوطنی پر کوئی حرف آیا ۔ البتہ پاکستان میں اپنے حقوق کی بات کرنا  یا فوج کے مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی بات کرنا انڈین ایجنٹ بنا ڈالتی ہے۔

سب سے اہم بات اسرائیل اور بھارت کی بڑھتی قربت کے باوجود پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں نیتن  یاہو کی سرپرستی میں شامل ہونا اور نیتن یاہو کے ایجنڈے کو سپورٹ کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ جرنیل کسی بھی قسم کی پستی میں گرنے میں کوئی شرم لحاظ نہیں رکھتے۔

دو دہائیاں قبل مولانا عاصم عمر رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف تیسری جنگ عظیم اور دجال میں جو باتیں لکھیں آج منظر نامہ کہیں زیادہ کھل کر اسی جانب گامزن ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

’’تاریخی اعتبار سے یہودیوں کا سب سے پکا دوست ہندوستان ہے نیز جنوبی ایشیا کو کنٹرول کرنے کے لیے ہندوستان کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس وقت ان کا مکمل زور بھارت کو مضبوط کرنے پر ہے۔ اس کے علاوہ اس خطے میں وہ جگہ بھی ہے جہاں سے دجال کے خلاف ایک لشکر نکلے گا جو حضرت مہدی کی حمایت کرے گا بلکہ ان کو مضبوط کرے گا، اس لیے اس وقت سے پہلے ہی یہودی بھارت کو ناقابل تسخیر بنانا چاہتے ہیں اور ہر اس قوت کو ختم کرنا چاہ رہے ہیں جو بھارت کے لیے خطرہ پیدا کر سکے۔ پاکستان پر مسلسل دباؤ اور بھارت کی مکمل حمایت کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ جہاد کشمیر کا خاتمہ ، پاکستان میں مجاہدین پر پابندیاں، قبائل اور افغانستان میں مکمل مجاہدین کے گرد گھیرا تنگ کیا جانا، کیا ان سب کو دیکھ کر اب بھی نہیں لگتا کہ ہمارا دشمن ان حدیثوں پر ہم سے پہلے عمل درآمد شروع کر چکا ہے اور ہم ہیں کہ ابھی فرصت ہی نہیں۔ لیکن ان سب حالات کو دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر ایمان رکھنے والوں کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، انہیں پہلے سے زیادہ اپنے کام میں جوش و جذبہ اور نئے جنون کے ساتھ لگ جانا چاہیے، یہود و ہنود کے سیاسی پنڈت جو چاہیں اہل حق کو ختم کرنے کے لیے چالبازیاں اور امن مذاکرات کی چالیں چلتے رہیں لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا رب آسمانوں میں اپنی تدبیریں فرما رہا ہے اور یہود و ہنود کی یہی چالیں ان پر الٹنے والی ہیں جن سے مجاہدین کے لیے نئے راستے نکلنے والے ہیں صرف اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی استقامت کا امتحان لینا چاہتا ہے۔‘‘5تیسری جنگ عظیم اور دجال ص 87

 ٭٭٭٭٭

Exit mobile version