مقبوضہ فلسطین سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی وقائع نگار فرانسسکا البانیز ان بین الاقوامی اہلکاروں میں شامل ہیں جنہیں اسرائیل اور امریکہ اس لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں کہ وہ بنا لگی لپٹی وہ سب کہہ ڈالتی ہیں جس پر اسرائیل اور امریکہ مکمل پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔
چنانچہ نہ صرف اسرائیل اور امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندی ہے بلکہ ان کا معاشی مقاطع بھی جاری ہے۔ بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی منجمد ہیں مگر امریکہ اور اسرائیل ان کی زبان منجمد نہیں کر پا رہے۔
بقول فرانسسکا البانیز ٹارچر اسرائیل کے ریاستی خمیر میں شامل ہے۔ 1948ء کے عظیم نقبہ میں اسرائیلی ملیشیاؤں نے فلسطینیوں کی نسلی صفائی میں تیزی لانے کے لیے ریپ بطور ہتھیار استعمال کیا۔ اسرائیلی مورخ بینی مورس کی نگاہ سے ابتدائی دور کی ایسی متعدد سرکاری دستاویزات گزری ہیں جن میں فوج کے ہاتھوں ریپ کے کم از کم درجن بھر واقعات کا تذکرہ ہے۔
جن نو آبادیاتی طاقتوں نے اسرائیل کی پیدائش میں دائی کا کردار ادا کیا، ان طاقتوں نے محکوموں پر جو جو مظالم ڈھائے، اسرائیل نے نہ صرف ایک اچھے شاگرد کی طرح انہیں ازبر کیا بلکہ مزید ترقی دی۔
مثلاً فلسطین کی برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے مقامی بغاوتیں دبانے کے لیے جو ایمرجنسی قوانین لاگو کیے اسرائیل نے ان قوانین کو جوں کا توں اپنی فوجداری لاگ بک میں شامل کر لیا۔
1920ء تا 22ء آئرلینڈ میں آزادی کی تحریک دبانے کے لیے برطانیہ نے بلیک اینڈ ٹینز کے نام سے پیرا ملٹری فورس تعینات کی۔ اپریل 1922ء میں اس پیرا ملٹری فورس کے ساڑھے چھ سو ارکان کو ریٹائر کرنے کے بجائے فلسطین بھیجا گیا۔ انہوں نے وہاں تشدد کے وہ تمام طریقے آزمائے جو وہ آئرش حریت پسندوں پر منطبق کر چکے تھے۔
1936ء تا 39ء کی فلسطینی بغاوت دبانے کے لیے کرفیو لگائے گئے ، گھروں کو بارود سے اڑایا گیا۔ شہریوں کو انسانی ڈھال بنایا گیا۔ جافا کے پرانے شہر کو منہدم کر دیا گیا۔ انتظامی قانون کے تحت کسی بھی مشکوک شہری کو غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا تھا (اسرائیل آج تک اس قانون اور دیگر برطانوی نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کو مقبوضہ علاقوں میں مسلسل استعمال کر رہا ہے )۔
1950ء کی دہائی میں انہی طریقوں سے برطانیہ نے کینیا میں ماؤ ماؤ تحریکِ آزادی کچلنے کی کوشش کی۔ پائپ لائن کے نام سے جانے گئے بدنام عقوبت خانے تعمیر کیے گئے۔ بغاوت میں حصہ لینے والوں کے حوصلے توڑنے کے لیے اعضائے تناسل کاٹ دیے جاتے یا ٹوٹی بوتلوں سے ریپ کیا جاتا۔ تفتیش کے دوران قیدیوں کو کپڑے پہننے کی اجازت نہ ہوتی۔ خواتین کو بھی مسلسل جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا۔
فرانس بھی ان سامراجی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اسرائیل کو ابتدا میں نہ صرف اقتصادی آکسیجن فراہم کی ، اس کے جوہری پروگرام کی بھر پور معاونت کی ، بلکہ 1956ء میں نہر سویز کو جمال عبد الناصر حکومت کی قومی ملکیت سے چھڑوانے کے لیے ایک ناکام اجتماعی حملہ بھی کیا۔
فرانس نے اپنی نو آبادی الجزائر کو ٹارچر کی سب سے بڑی تجربہ گاہ بنا کے رکھا۔ فرانسیسی فوجیوں پر آج تک الزام ہے کہ انہوں نے 1950ء کی دہائی میں تحریکِ آزادی کچلنے کے لیے خواتین کے ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ مردوں کے نازک حصوں کو برقی جھٹکے دینا تو عام سی بات تھی۔
فرانسیسی ماہرِ نفسیات اور فلسفی فرانز فینن نے الجزائر کے بلیدہ اسپتال میں فرانسیسی فوجیوں کا بھی علاج کیا اور ان کے تشدد زدہ الجزائریوں کا بھی علاج کیا۔ بقول فینن ٹارچر جنگی جرم نہیں بلکہ اس نوآبادیاتی سوچ کا نچوڑ ہے کہ کس طرح محکوموں کو مسلسل دبا کے لوٹا جا سکے۔
فرانسیسی قانون دان الجزائر میں تشدد کو قانونی پوشاک پہنانے کے لیے ’’ معتدل جسمانی دباؤ‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ 1987ء میں اسرائیل میں ٹارچر کی چھان بین کرنے والے لنڈاؤ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بعنہ ٹارچر کو جواز دینے کے لیے یہی اصطلاح استعمال کی۔ جب کہ 1999ء میں اسرائیلی ہائی کورٹ نے ’’ ناگزیر حالات میں ضروری جسمانی دباؤ ‘‘ کے مشروط استعمال کو جائز قرار دیا۔
اب سے دو برس قبل اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک عرب رکن احمد طبی نے سوال اٹھایا کہ آیا کسی قیدی کو ڈنڈوں یا آہنی سریوں سے ریپ کرنا قانونی ہے۔ نیتن یاہو کے حامی ایک رکنِ پارلیمان ہونک ملوسکی نے کہا کہ اگر قیدی کا تعلق حماس سے ہے تو ہر سلوک جائز ہے۔
آپ نے دیکھا کہ جسمانی و جنسی ٹارچر کس طرح ایک نوآبادیاتی نظام سے دوسرے تک آئرلینڈ سے فلسطین ، فلسطین سے کینیا ، الجزائر سے پریٹوریا ( جنوبی افریقہ ) اور وہاں سے الخلیل ( ہیبرون ) تک ریلے ریس کی طرح سفر کرتا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ادامیر کے ڈائریکٹر عبدالطیف غائت کو 57 برس پہلے 1969ء میں یروشلم کی جیل میں رکھا گیا۔ انہوں نے تب کے جو تجربات بتائے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ساتھ والے سیل میں اسرائیلی تفتیش کار ایک خاتون فلسطینی قیدی رمسیا اودے کو ٹارچر کا نشانہ بنا رہے تھے۔
رمسیا کو ’’ اعترافِ جرم ‘‘ پر مجبور کرنے کے لیے اسے برہنہ کر کے والد کے سامنے باندھ دیا گیا۔ والد نے جب بیٹی کو اس حال میں دیکھا تو انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ یہ جس بیان پر بھی دستخط کروانا چاہتے ہیں کر دے بھلے تو نے جرم کیا ہے یا نہیں۔ مگر رمسیا نے اصرار کیا کہ وہ بے گناہ ہے۔
عبدالطیف غائت کے بقول رمسیا کو مسلسل کئی روز ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ لگ بھگ دس برس بعد ( 1979ء ) رمسیا کو قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں رہائی نصیب ہوئی۔
رمسیا نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیٹی کے روبرو تفصیلی شہادت میں بتایا کہ کس طرح اسے ڈنڈوں سے ریپ کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اس کے نازک اعضا اور چہرے پر برقی جھٹکے دیے جاتے رہے ، باپ کے ہاتھوں ریپ کی دھمکیاں دی گئیں۔
رمسیا کی گواہی اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کا باضابطہ حصہ ہے۔ 1979ءمیں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ٹارچر کی ممانعت کے عالمی کنونشن کی منظوری دی۔ تاہم کنونشن کی منظوری کے 47 برس بعد بھی دنیا بھر بالخصوص اسرائیل اور مقبوضہ فلسطین میں ٹارچر کم تو خیر کیا ہوتا پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا۔
نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے بیس برس میں ٹارچر کو ایک ادارہ جاتی شکل مل گئی۔ چنانچہ آج ٹارچر امن و امان قائم رکھنے کے نام پر ایک غیر معمولی طریقے کے بجائے معمول کا ہتھکنڈہ گردانا جاتا ہے۔ اذیت کرنے والوں کو عدالتی سزا ملنے کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
[یہ مضمون ایک معاصر روزنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭
