حقیقت رفتہ رفتہ آشکار ہو رہی ہے: غزہ میں اسرائیل کی جاری نسل کشی کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں، بلکہ اس کی منصوبہ بندی کئی دہائیاں پہلے کر لی گئی تھی۔
غزہ میں تعینات رہنے والے چار اسرائیلی فوجیوں کی شہادتیں سنیے:
پہلا فوجی:
’’انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ تم کسی کو بھی قتل کر سکتے تھے، کوئی قانون نہیں تھا۔ کوئی تم سے ایک لفظ بھی نہیں پوچھتا تھا۔ لیکن یہ احساس اچھا نہیں ہوتا۔ دراصل اس عمل میں سب سے پہلے تمہاری اپنی انسانیت مر جاتی ہے۔‘‘
دوسرا فوجی:
’’شروع میں، میں ان عربوں کو قتل کرنے پر آمادہ نہیں تھا جو مزاحمت نہیں کر رہے تھے، یعنی عام شہری تھے۔ پھر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں انہیں مارنا ہی ہو گا۔ آہستہ آہستہ ہم نے انہیں انسان سمجھنا ہی چھوڑ دیا۔‘‘
تیسرا فوجی:
’’ہم لوگوں کو پکڑتے، قطار میں کھڑا کرتے اور پھر انہیں ختم کر دیتے۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہ سب کھلا قتل معلوم ہوتا ہے۔‘‘
چوتھا فوجی:
’’ہم غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں گھومتے پھرتے اور تطہیری کارروائیاں کرتے تھے…… وہاں موجود ہر فوجی نے اپنا ایک ’حراستی کیمپ‘ قائم کر رکھا تھا، اور جو شخص ذرا سی بھی مزاحمت یا خلل پیدا کرتا، اسے مارنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جاتی تھی۔‘‘
یہ گواہیاں نئی نہیں ہیں۔ یہ فوجی موجودہ نسل کشی کے دوران غزہ میں تعینات نہیں تھے۔ یہ تقریباً ساٹھ برس پرانی شہادتیں ہیں، جنہیں گزشتہ ہفتے اسرائیلی اخبار ہآرٹز نے ’’ہمیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا‘‘ کے عنوان سے شائع کیا۔
1967ء کی جنگ، جسے عموماً چھ روزہ جنگ کہا جاتا ہے، کے فوراً بعد لیے گئے انٹرویوز میں اسرائیلی فوجیوں نے نہ صرف یہ اعتراف کیا کہ وہ خود اور ان کے ساتھی معمول کے مطابق جنگی جرائم کے مرتکب ہوتے رہے، بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ وہ یہ سب اپنے اعلیٰ فوجی افسروں کے احکامات پر کرتے تھے۔
ان بیانات کو “The Seventh Day: Soldiers Talk about the Six Day War” کے عنوان سے ایک کتاب میں جمع کیا گیا، جسے ابراہام شاپیرا نے مرتب کیا تھا۔ تاہم بہت سی شہادتیں اس لیے شامل نہیں کی گئیں کہ وہ اپنی ہولناکی کے باعث ناقابلِ اشاعت سمجھی گئیں۔
ان انکشافات کو محض تاریخ کا ایک باب سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ شہادتیں اس حقیقت کی واضح یاد دہانی ہیں کہ گزشتہ تقریباً تین برس سے غزہ میں اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے، گھروں، ہسپتالوں، اسکولوں، یونیورسٹیوں، بیکریوں اور سرکاری عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دینا، دسیوں ہزار بلکہ غالب امکان کے مطابق لاکھوں فلسطینی شہریوں کو قتل کرنا، امداد روک کر پوری آبادی کو قحط کے حوالے کر دینا، یہ سب کسی وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اسرائیلی فوجی طرزِ عمل کا کئی دہائیوں پر محیط تسلسل ہے۔
کچھ بھی 7 اکتوبر 2023ء سے شروع نہیں ہوا، جب حماس نے ایک ہی دن کے لیے غزہ کے اس ’’حراستی کیمپ‘‘ سے نکلنے میں کامیابی حاصل کی، جس کا ذکر آج سے انسٹھ برس پہلے چوتھے فوجی نے کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے اس دن کو صرف ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا تاکہ ایک پرانی داستان کو نئے سرے سے زندہ کر سکے، وہ داستان جس میں فلسطینیوں کا قتلِ عام اور ان کی جبری بے دخلی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس مرتبہ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کارروائی کا پیمانہ کہیں زیادہ وسیع اور اس کا دورانیہ کہیں زیادہ طویل ہے۔
واشنگٹن اور دیگر مغربی دارالحکومتوں نے اسرائیل کو وہ وقت، وہ مہلت اور وہ سفارتی تحفظ فراہم کیا جس کی بدولت وہ غزہ میں وہ کام مکمل کرنے کے قریب پہنچ گیا جسے ماضی میں وہ صرف جزوی طور پر انجام دے سکا تھا۔ امریکہ کی فراہم کردہ جدید ہتھیاروں کی طاقت نے اسرائیل کو وہ صلاحیت دے دی جس کا وہ پہلے صرف خواب دیکھ سکتا تھا: غزہ کو نقشۂ عالم سے مٹا دینا۔
بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی
1967ء کے ان فوجیوں نے، جنہوں نے برسوں بعد ضمیر کی آواز پر حقائق بیان کیے، اعتراف کیا کہ ان کا کام ’’دشمن سے لڑنا‘‘ نہیں تھا، یا موجودہ اسرائیلی قیادت کی اصطلاح میں ’’دہشت گردوں کا خاتمہ‘‘ کرنا نہیں تھا۔ ان کا اصل مشن جنگ کی آڑ میں فلسطینی شہریوں کو قتل کرنا اور ان پر دہشت طاری کرنا تھا۔
بہت کم فوجیوں نے اس بات کو چھپانے کی کوشش کی کہ وہ یہ مظالم کیوں کر رہے تھے۔ ان کے سپرد یہ ذمہ داری تھی کہ خوف و ہراس کی ایسی فضا قائم کریں جو اسرائیل کی اس حکمتِ عملی کا لازمی حصہ تھی، جس کا مقصد فلسطینی سرزمین کے باقی ماندہ حصوں سے زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنا تھا۔ یہ وہ علاقے تھے جنہیں اسرائیلی فوج نے 1967ء میں اپنے قبضے میں لیا اور بعد ازاں غیر قانونی طور پر ان پر تسلط برقرار رکھا۔
اس سب کو اسرائیلی قیادت ایک نئے موقع کے طور پر دیکھ رہی تھی تاکہ صہیونی ملیشیاؤں کی جانب سے 1947ء اور 1948ء میں شروع کی گئی نسلی تطہیر کی مہم کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ یہ وہ مہم تھی جو برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے اور فلسطین سے برطانوی انخلا کے دوران پوری شدت کے ساتھ شروع کی گئی تھی۔
اس مہم کے اختتام تک تقریباً ۸۰ فیصد فلسطینیوں کو نومولود یہودی ریاست کی حدود کے اندر واقع اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔
ان میں سے بہت سے لوگ لبنان اور شام جیسے ہمسایہ ممالک کے پناہ گزین کیمپوں میں جا بسے، جبکہ کچھ فلسطینی تاریخی فلسطین کے ان حصوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئے جو باقی رہ گئے تھے، یعنی مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ۔ یہ ان کے وطن کا وہ ۲۲ فیصد حصہ تھا جسے 1948ء میں اردن اور مصر نے اسرائیلی پیش قدمی سے بچا لیا تھا۔
1967ء کی جنگ کو اسرائیلی قیادت نے گویا ایک دوسرا سنہری موقع سمجھا۔ ایک ایسا موقع جس کے ذریعے وہ پورے تاریخی فلسطین پر فوجی قبضہ کر کے، یہودی آبادکار بستیوں کے قیام کے ذریعے اسے نوآبادیاتی تسلط میں لے آئے، اور ساتھ ہی نسلی تطہیر کے منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے فلسطین کو اس کے اصل باشندوں سے خالی کر دے۔
فلسطینی علاقوں پر قبضے کے چند ہی ہفتے بعد اُس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم لیوی اشکول نے کابینہ کے سامنے واضح کیا کہ جبری بے دخلی کا آغاز کہاں سے ہونا چاہیے۔
اس نے کہا:
’’ہماری دلچسپی سب سے پہلے غزہ کو خالی کرانے میں ہے۔‘‘
اشکول بخوبی جانتا تھا کہ عالمی دباؤ کے پیشِ نظر غزہ کی نسلی تطہیر کھلے عام نہیں بلکہ خاموشی اور تدریج کے ساتھ کی جانی چاہیے تاکہ بین الاقوامی توجہ کم سے کم حاصل ہو۔
2007ء میں شروع ہونے والے غزہ کے سولہ سالہ محاصرے کی پیش بندی کرتے ہوئے اس نے تجویز دی کہ اسرائیل غزہ پر ایسی گھٹن اور قید کی کیفیت مسلط کرے کہ فلسطینی خود ہی وہاں سے نکلنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس کے الفاظ تھے کہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، ’’بالکل اسی گھٹن اور قید کے باعث جو ہم ان پر مسلط کریں گے‘‘۔ اس نے مزید کہا کہ اگر آبادی کو پانی جیسی بنیادی ضرورتوں سے محروم کر دیا جائے تو نسلی تطہیر کا عمل کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہو سکتا ہے۔
اس کا کہنا تھا:
’’شاید اگر ہم انہیں کافی پانی نہ دیں تو ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچے گا، کیونکہ ان کے باغات سوکھ جائیں گے اور مرجھا جائیں گے۔‘‘
اسی سوچ کے تحت تقریباً چالیس برس بعد اسرائیل نے باقاعدہ حساب لگایا کہ غزہ میں اتنی ہی خوراک داخل ہونے دی جائے کہ لوگ مسلسل غذائی قلت کا شکار رہیں، مگر فوراً ہلاک نہ ہوں۔
2006ء میں حکومت کے سینئر مشیر دوو وائسگلاس نے اسی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا:
’’منصوبہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کو غذا کی قلت پر رکھا جائے، مگر انہیں بھوک سے مرنے نہ دیا جائے۔‘‘
سترہ برس تک غزہ کو اسی ’’غذائی پرہیز‘‘ پر رکھنے کے بعد، جب حماس مختصر وقت کے لیے محصور علاقے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی، تو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس کے جرنیلوں نے اسے اپنے منصوبے کو آخری مرحلے میں داخل کرنے کا موقع سمجھا۔
انہوں نے صرف ان ’’باغات‘‘ کو ہی تباہ نہیں کیا بلکہ اس ’’غذائی پرہیز‘‘ کو مکمل بھوک کے محاصرے میں تبدیل کر دیا، ایسا محاصرہ جو انسانیت کے خلاف جرم شمار ہوتا ہے، اور جس کی بنیاد پر نیتن یاہو اور اس کے سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کو بین الاقوامی فوجداری عدالت مطلوب قرار دے چکی ہے۔
بے گناہوں کو نشانہ بنانا
1967ء کے جرائم فلسطینی مورخین نے بہت پہلے قلم بند کر دیے تھے، لیکن حسبِ معمول ان کی کسی نے پروا نہیں کی۔ اسرائیلی مورخین کو اس داستان کو سمجھنے میں کہیں زیادہ وقت لگا، کیونکہ انہیں اسرائیلی فوجی آرکائیوز کے کچھ حصوں تک رسائی برسوں بعد حاصل ہوئی۔
اب ہآرٹز نے اکیووت انسٹی ٹیوٹ (Akevot Institute) کی تحقیق کی بنیاد پر ایک نئی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں 1967ء سے شروع ہونے والی فلسطینیوں کی وسیع پیمانے پر جبری بے دخلی کی بے رحمانہ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
اخبار کے مطابق:
’’تاریخی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے، غزہ اور شام کے گولان کی پہاڑیوں سے تقریباً تین لاکھ عرب باشندوں کو بے دخل کیا یا وہاں سے بھگا دیا۔ اور 1948ء کی طرح اس مرتبہ بھی اس بے دخلی میں شہریوں کا قتل، عرب آبادیوں میں خوف و دہشت پھیلانا، لوٹ مار اور آخرکار ان کی بستیوں کی تباہی شامل تھی۔‘‘
1967ء میں بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے بعد اگلا مرحلہ، جیسا کہ 1948ء میں بھی ہوا تھا، انہیں واپس آنے سے روکنا تھا۔
اسرائیلی صحافی اور پارلیمان کے رکن اوری آونیری نے اُن فوجیوں کے بیانات قلم بند کیے جو اردن اور مصر کی سرحدوں پر تعینات تھے، جہاں فلسطینیوں کو دھکیل دیا گیا تھا۔ ان فوجیوں کا کام یہ تھا کہ جو بھی فلسطینی خاندان واپس اپنے گھروں کی طرف لوٹنے کی کوشش کرے، اسے موقع پر ہی قتل کر دیا جائے۔
ان ہی میں سے ایک فوجی کی شہادت، جسے ہآرٹز نے نقل کیا اور آونیری نے اپنی خودنوشت میں درج کیا، یوں ہے:
’’ہم نے ان گزر گاہوں کو بند کر رکھا تھا اور ہمیں واضح احکامات تھے کہ کسی پیشگی انتباہ کے بغیر دیکھتے ہی گولی مار دو۔ چنانچہ ہر رات مردوں، عورتوں اور بچوں پر فائرنگ کی جاتی تھی، حتیٰ کہ چاندنی راتوں میں بھی، جب انہیں صاف پہچانا جا سکتا تھا، یعنی مرد، عورت اور بچے الگ الگ نظر آ رہے ہوتے تھے۔
صبح ہم علاقے کا جائزہ لینے نکلتے، اور جو لوگ ابھی تک زندہ ہوتے، خواہ وہ زخمی ہوں یا کہیں چھپے ہوئے، موقع پر موجود افسر کے صریح حکم کے مطابق انہیں بھی قتل کر دیتے۔ قتلِ عام مکمل ہونے کے بعد ہم لاشوں پر مٹی ڈال دیتے، یہاں تک کہ بعد میں ایک ٹریکٹر آ کر انہیں اٹھا لے جاتا۔‘‘
آج بھی اسرائیلی فوج کے اندر سے سامنے آنے والے ضمیر کے قیدی یہی تنبیہ کر رہے ہیں کہ فوجی نظریہ اور عملی حکمتِ عملی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
گزشتہ تقریباً تین برس کے دوران متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ اسرائیل نے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے بارہا اپنے ہی ہاتھوں قتل کیے گئے شہریوں کی لاشوں کو خفیہ طور پر بلڈوزروں کے ذریعے اجتماعی قبروں میں دفن کیا، جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ایسا اس نے ایک سال قبل اس وقت بھی کیا جب امداد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں کا قتلِ عام کیا گیا، اور پھر مارچ 2025ء میں، جب ایمبولینسوں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا اور پندرہ فلسطینی امدادی کارکنوں کو موقع پر ہی قتل کر دیا گیا۔
1967ء میں ’’دیکھتے ہی گولی مار دو‘‘ کی پالیسی سے مضطرب ایک فوجی نے اپنے کمانڈر کے ساتھ ہونے والی گفتگو یاد کرتے ہوئے کہا:
’’میں نے افسر سے پوچھا: اگر مجھے بچوں کے رونے کی آواز سنائی دے تو کیا انہیں بھی گولی مار دوں؟ اس نے جواب دیا: ’لڑکیوں جیسی باتیں مت کرو‘۔‘‘
اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے اسرائیل غزہ میں ایک سال سے کم عمر ایک ہزار سے زیادہ شیر خوار بچوں کو قتل کر چکا ہے۔ ان میں سے سب فضائی حملوں کا شکار نہیں ہوئے۔
2023ء کے اواخر میں اسرائیلی فوج نے غزہ کے النصر ہسپتال پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں موجود پانچ قبل از وقت پیدا ہونے والے نومولود بچوں کو انکیوبیٹرز میں تڑپ تڑپ کر مرنے دیا، حتیٰ کہ ان کی لاشیں وہیں گلنے سڑنے لگیں۔
اسرائیلی فوجی کمانڈر یہ بھی جانتے تھے کہ امداد کی ناکہ بندی کا پہلا شکار سب سے کمزور لوگ ہوں گے۔
پناہ گاہوں، بچوں کے دودھ اور خوراک سے محروم کیے جانے کے باعث نومولود بچے یا تو سردی سے مر گئے یا بھوک سے۔ ان کی مائیں خود غذائی قلت کا شکار تھیں اور اپنے بچوں کے لیے دودھ تک پیدا کرنے کے قابل نہیں رہیں۔
جیسا کہ دوسرے فوجی نے اعتراف کیا تھا، اسرائیلی فوجی نظریہ سپاہیوں کو اس نہج پر تربیت دیتا ہے کہ وہ فلسطینیوں، حتیٰ کہ شیر خوار بچوں، کو بھی انسان سمجھنا چھوڑ دیں۔ ان کی جان کی کوئی قدر باقی نہیں رہتی۔
ماضی کی بازگشت
گزشتہ ہفتے بھی اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے میں ایک اور فلسطینی شیر خوار بچے کو قتل کر دیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہوں نے فلسطینی شہر الخلیل میں، جو اسرائیلی قبضے کے تحت سب سے زیادہ سخت اور ظالمانہ نگرانی والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جامعہ بیت اللحم کے استاد فہد ابو ہیکل کی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا۔
گاڑی ابھی رک ہی رہی تھی کہ ایک اسرائیلی فوجی نے چند میٹر کے فاصلے سے اس پر فائر کھول دیا۔ اتنے کم فاصلے سے وہ گاڑی میں بیٹھے افراد کو صاف دیکھ سکتا تھا۔
گولی ابو ہیکل کے سات ماہ کے شیر خوار بیٹے سام کو لگی، جو اپنی والدہ کی گود میں تھا۔ بچہ جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کی والدہ زخمی ہو گئیں۔
گاڑی میں موجود ابو ہیکل کا گیارہ سالہ بیٹا اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ننھے بھائی کو خون میں لت پت دم توڑتے دیکھتا رہا۔
اسرائیلی فوج کئی دہائیوں سے فلسطینی بچوں کو قتل کرتی آ رہی ہے۔ اس کے باوجود مغربی ذرائع ابلاغ اور سیاست دانوں نے کبھی اس درجے کے غم و غصے کا اظہار نہیں کیا، جیسا انہوں نے 7 اکتوبر 2023ء کے بعد اسرائیل کے اس بے بنیاد دعوے پر کیا تھا کہ حماس نے چالیس اسرائیلی بچوں کو قتل کر دیا ہے۔
پہلے سے تیار شدہ منصوبہ
1967ء میں غزہ اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی بے دخلی کی مہم نہ تو اچانک ترتیب دی گئی تھی اور نہ ہی وقتی جذبات کا نتیجہ تھی۔ ہآرٹز کی نئی تحقیق کے مطابق اس پالیسی کی منصوبہ بندی کئی برس پہلے سے نہایت سوچ بچار کے ساتھ کی جا چکی تھی۔
1948ء کے بعد سے اسرائیل صرف ایسے مناسب موقع کا منتظر تھا جب وہ فلسطینیوں کی مزید بے دخلی کر سکے اور فلسطینی سرزمین کے باقی ماندہ حصوں پر بھی قبضہ جما کر اپنے آبادکار نوآبادیاتی منصوبے کو مکمل کر دے۔
مصر، شام اور اردن کے خلاف 1967ء کی جنگ نے اسے یہی بہانہ فراہم کر دیا۔
اس جنگ میں بٹالین کے ایک سینئر کمانڈر اشائی عمرامی نے بعد میں اعتراف کیا:
’’میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ دراصل بڑے پیمانے پر آبادی کی جبری منتقلی کی کوشش تھی۔‘‘
ہآرٹز لکھتا ہے:
’’اس پوری داستان میں فلسطینی محض تماشائی تھے۔ وزیر دفاع موشے دایان نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ مغربی کنارے کے فلسطینی اس جنگ میں شریک ہی نہیں تھے، یہ ان کی جنگ نہیں تھی۔ اس کے باوجود قیمت انہی کو ادا کرنا پڑی۔‘‘
1948ء کی طرح اسرائیل نے ایک بار پھر فلسطینی بستیوں کی منظم تباہی شروع کر دی تاکہ واپس آنے والوں کے لیے کوئی گھر باقی نہ رہے۔
لیکن ہآرٹز کے مطابق اسرائیل اپنی غیر معمولی فوجی کامیابی کا خود بھی ایک طرح سے شکار بن گیا۔
اخبار لکھتا ہے:
’’تنازعے کی تاریخ میں یہ ان چند مواقع میں سے ایک تھا جب شدید بین الاقوامی دباؤ کے باعث اسرائیل کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔‘‘
اس حقیقت کی طرف شاید اشارہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ 1967ء کے برعکس گزشتہ تقریباً تین برس کے دوران ایسا کوئی مؤثر بین الاقوامی دباؤ دیکھنے میں نہیں آیا۔ بلکہ مغربی ممالک کی نئی سیاسی قیادت، جیسے برطانیہ کا وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر، جو کبھی انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر معروف تھا، نے غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کھلی نسل کش پالیسی کو بھی ’’حقِ دفاع‘‘ قرار دے کر اس کا جواز فراہم کیا۔
غزہ سے نظریں چرانا
اس بے خوفی اور جواب دہی سے مکمل آزادی نے اسرائیل کو یہ حوصلہ بھی دیا کہ وہ اپنی تباہ کاریوں کا دائرہ مزید وسیع کرے۔ ایران میں اسے محدود کامیابی ملی، لیکن جنوبی لبنان میں اس نے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں اپنی فوجی کارروائیاں آگے بڑھائیں۔
ادھر مغربی سیاست دان اور ذرائع ابلاغ غزہ کو گویا فراموش کرتے جا رہے ہیں، جبکہ اسرائیل وہاں مسلسل دباؤ، تباہی اور انسانی مصائب میں اضافہ کر رہا ہے۔
اس مقصد کے لیے اس نے ایک نام نہاد ’’زرد لکیر‘‘ (Yellow Line) قائم کر دی ہے، جو غزہ کے تباہ شدہ علاقے میں اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول خطے کی حد بندی کرتی ہے۔ فلسطینیوں کے لیے اس علاقے میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ علاقہ غزہ کے تقریباً نصف رقبے سے بڑھ کر ستر فیصد تک پھیل چکا ہے۔
یوں غزہ کے باشندوں کو اپنے ہی وطن کے کھنڈرات میں بتدریج سمٹنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل اس کوشش میں ہے کہ کوئی تیسرا ملک—مثلاً مصر یا شاید صومالی لینڈ—انہیں اپنے ہاں قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے۔
تاریخی تناظر کی بیخ کنی
امریکی ماہرِ فلکیات کارل سیگن نے ایک مرتبہ کہا تھا:
’’حال کو سمجھنے کے لیے ماضی کو جاننا ضروری ہے۔‘‘
اور یہی وجہ ہے کہ مغربی سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ نے پوری احتیاط سے اس ماضی کو نظروں سے اوجھل رکھا ہے۔
انہوں نے شعوری طور پر وہ تاریخی پس منظر حذف کر دیا ہے، جیسے 1948ء اور 1967ء کی اسرائیلی نسلی تطہیر کی مہمات، جو غزہ، مغربی کنارے اور جنوبی لبنان میں اسرائیل کے موجودہ طرزِ عمل کی وضاحت کرتی ہیں۔
جب عوام کو تاریخ سے محروم کر دیا جائے تو انہیں یہ یقین دلانا آسان ہو جاتا ہے کہ اسرائیلی مظالم محض حماس کے 2023ء کے ایک روزہ حملے کا ردِعمل ہیں، بلکہ ایک ایسا ردِعمل جو بقول مغربی حکومتوں کے ’’متناسب‘‘ بھی ہے۔
یوں ایک بدیہی حقیقت نظروں سے اوجھل کر دی گئی:
کم از کم گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اسرائیل ہر ایسے موقع سے فائدہ اٹھاتا آیا ہے جو فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے لیے موزوں ثابت ہو سکتا تھا۔
اس تناظر میں اکتوبر 2023ء کا حماس کا حملہ کوئی تاریخی موڑ یا غیر معمولی انقطاع نہیں رہ جاتا، جیسا کہ مغربی دنیا میں اسے پیش کیا جاتا ہے۔ بلکہ 1967ء ہی میں، یعنی اس واقعے سے چھپن برس پہلے، لیوی اشکول اپنی کابینہ کو بتا چکا تھا کہ کوئی غیر متوقع واقعہ اسرائیل کے خفیہ نسلی تطہیر کے منصوبے کو تیز کر سکتا ہے۔
اس کے بقول:
’’شاید آئندہ کوئی اور جنگ چھڑ جائے، اور پھر یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جائے۔ لیکن یہ تو ایک طرح کی غیر متوقع نعمت ہو گی، ایک ایسا حل جس کی ابھی توقع نہیں۔‘‘
ہآرٹز کی تازہ تحقیق نے جب اس گم شدہ تاریخی تناظر کو دوبارہ سامنے رکھا تو پوری کہانی کا مفہوم بدل گیا۔
7 اکتوبر 2023ء کے واقعات اب محض اندھی وحشت معلوم نہیں ہوتے، بلکہ کئی دہائیوں پر محیط اسرائیلی پالیسیوں کے مقابلے میں ایک ایسے مایوس کن اور آخری داؤ کی صورت دکھائی دیتے ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں کی زندگی کو غربت، محاصرے، بھوک، قتل اور مسلسل جبر کے ذریعے اس قدر ناقابلِ برداشت بنا دینا تھا کہ وہ یا تو اپنا وطن چھوڑ دیں یا وہیں مر جائیں۔
اور جب یہی تاریخی پس منظر سامنے رکھا جائے تو غزہ میں اسرائیل کی نام نہاد ’’جوابی کارروائی‘‘، جو درحقیقت ایک نسل کش مہم ہے، اپنی اصل صورت میں نمایاں ہوتی ہے:
یہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے جاری نسلی تطہیر کے منصوبے ہی کا تسلسل ہے۔
بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ یہ اسی منصوبے کا آخری باب ہے، اس کا فیصلہ کن اختتام۔
ابتدا ہی سے یہی منصوبہ تھا
اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بن گوریون نے 1937ء میں، یعنی اسرائیل کے قیام سے گیارہ برس پہلے، اپنے بیٹے کو ایک خط میں لکھا تھا:
’’ہمیں عربوں کو یہاں سے نکال کر ان کی جگہ خود آباد ہونا ہوگا۔‘‘
1948ء میں فلسطینیوں کی وسیع پیمانے پر بے دخلی کے دوران اپنی ڈائری میں اس نے اپنے جرنیلوں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا:
’’اگر ہم کسی خاندان پر الزام عائد کریں تو ہمیں اس پر کسی رحم کے بغیر ضرب لگانی چاہیے۔ عورتوں اور بچوں پر بھی کوئی رحم نہیں ہونا چاہیے، ورنہ یہ مؤثر ردِعمل ثابت نہیں ہو گا۔ کارروائی کے دوران مجرم اور بے گناہ میں فرق کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
اصل مقصد خوف کو بطور ہتھیار استعمال کرنا تھا، تاکہ فلسطینی اپنے ہی وطن میں رہنے کی ہمت کھو بیٹھیں۔
1950ء میں اسرائیلی فوج کے ایک سینئر کمانڈر مردخائی مکلیف نے اسی پالیسی کی منطق بیان کرتے ہوئے کہا:
’’الجلیل سے ایک لاکھ چودہ ہزار لوگوں کو دہشت پھیلائے بغیر بے دخل کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔‘‘
اگرچہ ان واقعات کے بارے میں فلسطینیوں کی گواہیوں کو نظرانداز کر بھی دیا جائے، تب بھی اسرائیلی فوجی آرکائیوز کے وہ محدود حصے، جو اب تک اسرائیلی مورخین کے لیے کھولے گئے ہیں، 1948ء میں فلسطینیوں کے قتلِ عام اور ان کے خلاف منظم جنسی تشدد کی ناقابلِ تردید شہادت فراہم کرتے ہیں۔
حالیہ اسرائیلی دستاویزی فلموں، مثلاً ’’طنطورہ‘‘ میں، جو اس فلسطینی گاؤں کے نام پر بنائی گئی ہے جہاں ایک ہولناک قتلِ عام ہوا تھا، اسرائیلی فوج کا سابق اہلکار، جو اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکا ہے، خود آرکائیوز میں محفوظ دستاویزات کی تصدیق کرتا ہے اور اعتراف کرتا ہے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے فلسطینی لڑکیوں کی اجتماعی آبروریزی ہوتے دیکھی۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی یہ روایت آج بھی ختم نہیں ہوئی۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بی تسیلیم (B’Tselem) کے مطابق یہ تشدد اسرائیل کے ٹارچر کیمپس کے اس وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہے، جہاں فلسطینی قیدیوں پر منظم جسمانی اور جنسی اذیتیں ڈھائی جاتی ہیں۔
ان زیادتیوں کی شدت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب انہیں مکمل طور پر چھپانا ممکن نہیں رہا۔
یہاں تک کہ نیویارک ٹائمز جیسے مرکزی دھارے کے مغربی ذرائع ابلاغ کو بھی، اگرچہ بہت تاخیر سے، ان واقعات کا اعتراف کرنا پڑا، جس پر نیتن یاہو نے سخت احتجاج کیا اور اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی دھمکیاں دیں۔
قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد اس قدر معمول بن چکا ہے کہ گزشتہ ماہ جب قبرص کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے بین الاقوامی امن کارکنوں کے جہاز کو اسرائیلی فورسز نے روک کر سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا تو ان میں سے متعدد نے بھی منظم جنسی تشدد کا سامنا کیا۔
اسرائیل چاہتا ہے کہ خوف صرف فلسطین تک محدود نہ رہے، بلکہ ہر اس شخص تک پھیل جائے جو فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی جرأت کرے۔
اس کے باوجود مغربی سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ نے اپنے ہی شہریوں کے خلاف ہونے والے ان سنگین جرائم کا بمشکل ذکر کیا۔ کیوں؟
کیونکہ ان جرائم کا اعتراف کرنا اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ اسرائیلی قبضے کے تحت فلسطینیوں پر اس سے کہیں زیادہ ہولناک مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔
شراکتِ جرم کے زنداں
غزہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں۔ یہ اسرائیل کی گزشتہ آٹھ دہائیوں پر محیط فوجی حکمتِ عملی کا عین منطقی تسلسل ہے۔
اگر مغربی معاشروں کے عوام اس حقیقت سے بے خبر ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے سیاسی اور ابلاغی طبقات نے مسلسل اس کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ انہیں اس تاریخ سے ناواقف رکھا جائے۔
اگر مغربی عوام جانتے کہ گزشتہ اسی برس سے فلسطینیوں پر، پہلے صہیونی تحریک اور پھر اسرائیلی ریاست کے ہاتھوں، کیا کچھ گزرتا رہا ہے، تو شاید احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ جاتی، یہاں تک کہ ان مظاہروں کو سیاسی طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہ رہتا۔
اگر انہیں حقیقت معلوم ہوتی تو شاید وہ ان کارکنوں کے ساتھ شامل ہو جاتے جو برطانیہ سمیت مختلف مغربی ممالک میں کھلے عام کام کرنے والی اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیوں، مثلاً ایلبٹ سسٹمز (Elbit Systems)، کی سرگرمیاں روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ممکن ہے وہ فلسطین اور لبنان کے عوام پر برسائے جانے والے ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کی رسد منقطع کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے۔
تب شاید صرف چند ہزار نہیں بلکہ لاکھوں لوگ برطانیہ کی سڑکوں پر نسل کشی کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے کھڑے ہوتے، خواہ انہیں ’’دہشت گردی کی حمایت‘‘ کے الزام میں گرفتار ہی کیوں نہ کیا جاتا۔
شاید اتنی بڑی تعداد میں گرفتاریاں برطانوی جیلوں کے نظام کو مفلوج کر دیتیں اور اس نام نہاد نظامِ انصاف کا کھوکھلا پن سب پر آشکار ہو جاتا۔
اگر مغربی عوام جہالت کے بجائے حقیقت کا علم رکھتے تو شاید وہ غزہ جانے والی امدادی کشتیوں میں سوار ہوتے، یہاں تک کہ کشتیوں کا ایک ایسا عظیم بیڑہ وجود میں آ جاتا جسے مغربی ذرائع ابلاغ بھی نظر انداز نہ کر سکتے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اگر اس پوری تاریخ اور اس کے حقیقی تناظر کو سمجھ لیا جائے، اگر اسرائیل کی کئی دہائیوں پر محیط قتل، عصمت دری اور جبری بے دخلی کی پالیسی کو اس کی اصل شکل میں دیکھا جائے، تو مغربی عوام شاید اس حقیقت کو بھی پہچان لیں کہ ان کے سیاسی اور ابلاغی طبقات کوئی اخلاقی قوت نہیں ہیں۔
وہ نہ کسی اعلیٰ تہذیب کی اقدار کے محافظ ہیں، نہ بین الاقوامی قانون کے علمبردار، اور نہ ہی جمہوری و لبرل عالمی نظام کے پاسبان۔
حقیقت میں وہ ایک ایسے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کا حصہ ہیں جو انہیں وہ سچ بولنے ہی نہیں دیتا جو مغرب کے اقتدار کے پورے نظام کو لرزا سکتا ہے، ایک ایسا نظام جو جنگی صنعت کے ذریعے ایک محدود اشرافیہ کو بے پناہ دولت فراہم کرتا ہے اور اسی کے ذریعے حیاتی ایندھن کی صنعتوں کے دیوقامت منافعوں کا تحفظ کیا جاتا ہے۔
یہی نظام کچھ فلسطینیوں کو قبل از وقت قبروں میں پہنچا دیتا ہے، کچھ کو حراستی کیمپوں میں، کچھ کو جلاوطنی میں، اور کچھ کو دائمی افلاس کی زندگی میں دھکیل دیتا ہے۔ اور اسی دوران یہی نظام مغرب کے باشندوں کو بھی ایسی قید میں مبتلا کر دیتا ہے جس کی دیواریں نظر نہیں آتیں۔
یہ یا توجہالت اور شراکتِ جرم کی قید ہے، یا پھر علم اور بے بسی کی قید۔دونوں صورتوں میں انجام وہی ہے جس کا اعتراف پہلے اسرائیلی فوجی نے کیا تھا:
ہماری اپنی انسانیت مرنے لگتی ہے۔
ہمارے دل یا تو سخت ہو جاتے ہیں، یا پھر ٹوٹ جاتے ہیں۔
اور بالآخر ہمارے سامنے بھی وہی چیلنج آ کھڑا ہوتا ہے جس کا سامنا آج فلسطینی کر رہے ہیں:
اپنی اس قید سے آزادی کا راستہ تلاش کرنا۔
[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭
