بائیکاٹ انکل اور امریکہ

ایمانی صدا، بائیکاٹ انکل

سوشل میڈیا پر ایک وڈیو ترکی ڈسکرپشن کے ساتھ گھومتی نظر آئی:

’’تم نہیں خریدو گے تو نہیں مرو گے۔ لیکن اگر تم نے خریدا تو وہ مر جائیں گے۔‘‘

ایک بوڑھے شخص بازار میں کھڑے ہو کر کچھ درد مند دل کے ساتھ صدائیں لگا رہے ہیں۔ گوگل کی مدد سے ترجمہ کیا تو معلوم ہوا کہ ’’بائیکاٹ انکل‘‘ کا عنوان لگا ہوا تھا۔ تفصیل سیکھی تو پتا چلا کہ ان کا نام ہے عبدالرزاق دمیر جان، وہ ترکی کے شہر عرفہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی عمر تقریباً 63سال بتائی گئی۔ طوفان الاقصیٰ کے بعد 2023ء سے وہ تقریباً دو سال سے اکیلے شہر کے بازاروں میں سڑکوں پر  یہ صدا لگاتے ہیں۔ یہ ہے بائیکاٹ کی صدا۔ انہوں نے ایک خاص جیکٹ بنوائی ہے جس میں ترکی میں یہی جملہ لکھا ہے ’’بائیکاٹ کرو، اگر نہیں خریدو گے تو نہیں مرو گے، اگر خریدو گے تو وہ مر جائیں گے‘‘۔ وہ مرد قلندر 100 سال سے سیکولر ازم کے ایک گڑھ میں ایمانی عمل کے بروشر تقسیم کرتا ہے، لوگوں سے بات کرتا ہے اور اسرائیل کو فائدہ پہنچانے والی مصنوعات کے خلاف ہر بازار کوچے میں جا کر آواز اٹھاتا ہے۔ غزہ میں قابض اسرائیل کی طرف سے ہونے والی صورت حال کے تناظر میں وہ مستقل ایمانی تقاضے یاد دلاتے ہیں۔ لوگوں اور مقامی میڈیا نے اس بزرگ کو ’’بائیکاٹ انکل‘‘ کے نام سے مشہور کر دیا ہے۔ اس وڈیو میں وہ جو کچھ پکار رہے تھے وہ بھی انتہائی ایمانی جملے تھے۔ ’’مسلمان مجھ سے پوچھتے ہیں، کیا تم ٹھیک ہو؟ وہ چاہتے ہیں کہ میں یہ دکھاوا کروں کہ میں ٹھیک ہوں۔ لیکن میں ٹھیک نہیں ہوں جب مسلمان بچوں کو ذبح کیا جا رہا ہے۔ میں ٹھیک نہیں ہوں جب وہاں مسلمان خواتین کی عصمت دری ہو رہی ہے۔ میں ٹھیک نہیں ہوں‘‘۔ عبد الرزاق کے جملے، ان کا عمل، اس وڈیو کو دیکھ کر مجھے شرمندہ کر گیا۔ ترکیہ میں تو قابض اسرائیل و امریکہ کی مصنوعات عام ہیں، ملک بھی سیکولر ہے لیکن سلام ہے عبدالرزاق پر، وہ کام جو ترکیہ میں کوئی اسلامی جماعت بھی نہیں کر پا رہی وہ اکیلا ڈٹا ہوا ہے۔ وہ لوگوں سے خطاب کرتا ہے، بروشرز تقسیم کرتا ہے اور ہاتھ کے اشاروں سے بائیکاٹ کی وضاحت کرتا ہے: بائیکاٹ کرو، یہ مصنوعات مت خریدو!، وہ تو اپنا کام کر رہا ہے۔ آپ بھی کوئی ہمت دکھائیے ۔ آپ بھی اہل غزہ کے درد میں شامل ہوجائیے۔

شکریہ جے ڈی وینس!

کراچی میں کچھ دن قبل ایسے ہی امریکی و یہودی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے ایک تنازع اُبھرا۔ افسوس ناک بات یہ تھی کہ دونوں مذہبی طبقات تھے، حکمت تبلیغ کو درست طریقے سے نہ اپنانے کی وجہ سے معاملہ خراب ہوا۔ تھانے تک بات پہنچی مگر علمائے کرام نے افراد کی باہمی رنجش تو الحمد للہ ختم کرا دی مگر ’’پیپسی‘‘ کی پوزیشن نہیں بتائی جا سکی۔ پیپسی ، کوک بے شک امریکی کمپنیاں ہیں مگر یہ صرف کمپنی نہیں ہیں، یہ تو ہم کہہ رہے ہیں، اہل حق کا اجماعی فہم ہے کہ یہ تمام استعماری کمپنیاں صرف سرمایہ دارانہ لوٹ مار ہی نہیں بلکہ لبرل اقدار کے فروغ، لبرل عالم گیریت کے ساتھ ساتھ براہ راست اس کے غلبے میں معاون و مددگار ہیں۔ جوزف نائل کی کتاب’’سافٹ پاور‘‘ میں یہ ساری حقیقت لکھی ہوئی ہے کہ یہ کمپنیاں کیسے شیطانی غلبے کے لیے کام کرتی ہیں مگر کتاب پڑھتا کون ہے؟ ستم یہ ہے کہ بائیکاٹ نہ کرنے کے لیے ہر ’’ایرے غیرے‘‘ کے بونگے، جھوٹے، بے وزن دلائل قبول کر لیں گے مگر دشمن کی اعلانیہ لکھی گئی کتاب اور منصوبہ عمل کو پڑھنا بھی گوارا نہ کریں گے۔ آج بھی پاکستان میں امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کرانے پر مختلف قسم کے شک شبہ اور تذبذب کا شکار افراد موجود ہیں، جنہیں لذتیں بہت پیاری ہیں۔

ایسے میں امریکی نائب صدر نے امریکہ میں اس ہفتے ایک قیمتی پریس کانفرنس کر کے یہ گتھی بھی اچھی طرح سلجھا دی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے قابض اسرائیل کو خوب تڑیاں لگائیں اور سمجھایا کہ تمہارے اصل ’’ابو‘‘ ہم ہی ہیں۔ قابض اسرائیل، امن معاہدے میں مستقل روڑے اٹکا رہا ہے اور منع کرنے کے باوجود لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ نائب صدر نے بہت کچھ کہا مگر یہ جملہ ہمارے موضوع کے لیے اہم ہے۔ اس نے صاف کہا کہ ’’قابض اسرائیل کے دفاع کا 66 فیصد (دوتہائی) اسلحہ امریکی ہاتھوں میں تیار ہو رہا ہے‘‘، امریکی خزانے میں ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والی رقم سے ہوتا ہے۔ دشمن کی اس واضح گواہی کے بعد اگر کسی کو یہ بتایا جائے کہ پیپسی کی کمپنی نے ٹیکس کی مد میں صرف گزشتہ سال 1.1 ارب ڈالر کے قریب امریکی خزانے میں جمع کرائے ہیں، کوک، کے ایف سی، مکڈونلڈ وغیرہ کو چھوڑ دیں، صرف امریکی نائب صدر کے مطابق امریکی خزانے میں آنے والے ایک ڈالر سے بھی کیا کام ہو رہا ہے اس کی تصدیق تو ہو رہی ہے۔ اس کے بعد کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ سوائے شکریہ جے ڈی وینس کہنے کے ۔

پیپسی، کوک، کے ایف سی، میک ڈونلڈ سمیت دیگر مصنوعات اپنا برانڈ وجود بھی رکھتی ہیں، ان کی موجودگی امریکی موجودگی کے برابر کہلاتی ہے۔ امریکی موجودگی قابض اسرائیل کے سرپرست کی موجودگی کے برابر ہے، جس کے وجود کے ہم سب ایمانی طور پر انکاری ہیں۔ اس لیے ان تمام برانڈز کی اشیاء کا حتی الامکان بائیکاٹ ایمانی تقاضا ہے۔ ان اشیا کو خرید کر حاصل شدہ منافع قابض اسرائیل کے دفاع، اس کے اسلحے اور قبلہ اول کے مسلمانوں پر برس رہا ہے، یوں مسلمانوں کے قتل میں شمولیت ہوتی ہے۔؎

البانیہ بھی نکل آیا

شاندار اسلامی تاریخ رکھنے والے یورپی ملک البانیہ میں ’’پرندے و قدرتی ماحول‘‘ بچانے کی تحریک حکومت بدلنے میں تبدیل ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں احتجاجی مظاہروں، ریلیوں کی جو ڈیوز آ رہی ہیں وہ غیر معمولی توجہ لے چکی ہیں۔ معصوم پرندوں کی نسلیں بچانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سرمایہ دارانہ پروجیکٹ کے خلاف وہاں ہزاروں لوگ نکل آئے ہیں۔ اس احتجاج کو برطانوی اور عالمی میڈیا ’’فلیمنگو ریوولیوشن‘‘ (Flamingo Revolution) کا نام دے رہا ہے۔ مظاہرے گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہیں جو اس ہفتے ایک غیر معمولی بڑی ریلی کی صورت نکل آئے، اس کے ساتھ ہی ٹرمپ کے داماد کے پروجیکٹ کی تنصیبات پر حملوں کی صورت بھی ردعمل  وڈیوز میں سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔

مظاہرین ایک ماہ سے روزانہ شام کو ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور داماد جیرڈ کشنر سے منسلک ہوٹل کمپلیکس کی تعمیر کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے سرخ غبارے چھوڑے اور نعرے لگائے ’’البانیہ فروخت کے لیے نہیں ہے‘‘۔ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی کمپنی لگژری ریزورٹ البانیہ کے جنوبی ساحلی علاقے و تاریخی جزیرے سازان پر بنانا چاہتی ہے۔ یہ سارا علاقہ قانونی طور پر محفوظ قدرتی پارک (Nature Reserve) ہے۔ یہ نایاب پرندوں، خاص طور پر پینٹڈ فلیمنگوز (Pink Flamingos) اور سمندری کچھوؤں کا مسکن ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہاں دس ہزار کمروں کا میگا  ریزورٹ بننے سے یہ پورا قدرتی حسن اور جنگلی حیات ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جائیں گے۔

ایوانکا ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں سازان جزیرے کو ایک ’’پرائیویٹ آئی لینڈ‘‘ کہا تھا جسے انہوں نے ’’دریافت‘‘ کیا ہے۔ اس بات پر البانوی عوام شدید غصے میں ہیں کیوں کہ وہ جزیرہ البانیہ کی قومی اور دفاعی ملکیت ہے۔ عوام کا الزام ہے کہ حکومت چند ارب پتی غیر ملکیوں کی خاطر ملک کے اثاثے کوڑیوں کے دام بیچ رہی ہے۔ اس لیے البانیہ کے وزیر اعظم ایڈی راما پر بھی عوام کا غصہ شامل ہو گیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج جاری رکھیں گے جب تک وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیتے۔ البانیہ کی اپوزیشن اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم ایڈی راما کی حکومت نے ٹرمپ فیملی کو نوازنے اور وائٹ ہاؤس سے تعلقات کا فائدہ اٹھانے کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے قوانین میں راتوں رات تبدیلیاں کیں تاکہ کشنر کو تعمیرات کی اجازت مل سکے۔ مزید یہ کہ البانیہ کے اینٹی کرپشن پراسیکیوٹرز نے اس زمین کی خریداری کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز اور جعلی پراپرٹی ٹائٹلز پر باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حال ہی میں اس سے منسلک فرم کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے گئے ہیں۔ البانیہ یورپ کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سیاسی اشرافیہ کے گٹھ جوڑ سے جو اسکائی اسکریپرز اور ہوٹل بن رہے ہیں، وہ عام البانوی ووٹر کی پہنچ سے باہر ہیں۔

البانیہ میں آج بھی 45 فیصد مسلم آبادی موجود ہے ، مگر تاریخ کا ستم ہے کہ 1967ء میں البانیہ نے خود کو باقاعدہ طور پر دنیا کی پہلی سرکاری ملحد (Atheist) ریاست قرار دے دیا۔ ملک کی تمام مساجد اور خانقاہیں یا تو شہید کر دی گئیں یا انہیں اسپورٹس ہالز، گوداموں اور تھیٹروں میں تبدیل کر دیا گیا۔ قرآن رکھنے، نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور بچوں کے اسلامی نام رکھنے پر سخت سزائیں اور جیلیں ہوتی تھیں۔ اس 50 سالہ دور نے البانوی مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے دور کر دیا۔ 1991ء میں کمیونزم کے خاتمے اور جمہوریت کی آمد کے بعد البانیہ میں دوبارہ مذہبی آزادی قدرے بحال ہوئی۔ آج پھر سرمایہ دارانہ نظام اپنے سرمایہ کے بل پر قدرت کے مظاہر کا خاتمہ کر رہا ہے تو ردعمل کا سامنا کر رہا ہے ۔

سیکولر برطانیہ

برطانیہ میں 2010ء سے سرمایہ دارانہ سیاسی و معاشی بحران کا سلسلہ جاری ہے۔ 2024ء کے الیکشن میں تاریخی کامیابی لے کر بننے والا برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر بھی 2 سال بعد اس ہفتے علانیہ استعفیٰ دے کر بھاگ گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق مانچسٹر میں میئر رہنے والا برن ہیم، لیبر پارٹی کی قیادت سنبھال کر برطانیہ کا اگلا وزیر اعظم بنے گا۔ دس سال میں اب یہ ساتواں وزیر اعظم ہو گا۔ ایک شہر کی میئر شپ کا تجربہ رکھنے والا جب 3 کھرب کے سودی قرض والے ملک کو سنبھالے گا تو دنیا بھی اس کے تجربے کو دیکھے گی۔ سوشل میڈیا پر اینڈی برن ہیم کے حلف بطور رکن پارلیمنٹ کی وڈیو وائرل تھی۔

سیکولرازم کی آسان تشریح سمجھنے کے لیے اگر آپ یہ حلف غور سے سنیں یا پڑھیں تو آپ کو واضح طور پر سمجھ آ جائے گی کہ کیسے خدا کا نام لے کر خدا کو ہی مکمل مائنس کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے:

“I swear by Almighty God that I will be faithful and bear true allegiance to His Majesty King Charles, his heirs and successors, according to law. So help me God.”

’’میں خدائے بزرگ و برتر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بادشاہ چارلس کا وفادار رہوں گا، قانون کے مطابق ان کے وارثوں اور جانشینوں کی سچی بیعت کروں گا۔ تو خدا میری مدد کریں۔‘‘

یہ سیکولرازم سمجھنے کی ایک اچھی اور جامع شکل ہے۔

برطانیہ کا مجموعی عوامی قرضہ 3 ٹریلین پاؤنڈز کے قریب پہنچ چکا ہے جو کہ ملک کی کُل جی ڈی پی کا تقریباً 94 فیصد بنتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے (IMF) اور تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ اس وقت قرضوں کے ایک ایسے جال میں پھنس رہا ہے جہاں حکومت کو صرف قرض کا سود ادا کرنے کے لیے سالانہ تقریباً ایک کھرب دس ارب پاؤنڈز خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی غلاظت میں سب سے پہلے ڈوبنے والا ملک ترتیب کے لحاظ سے برطانیہ کہلاتا ہے، 200 سال قبل جو دنیا کی سب سے بڑی استعماری سپر پاور تھا، ساری دنیا میں لوٹ مار کرتا تھا، آج اپنے ہی بنائے نظام کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ اس کی ہمت نہیں ہے کہ ایسا کوئی آزاد ملک ہوتے ہوئے ایک کھرب دس ارب پاؤنڈ کی کرنسی چھاپ کر سارا قرض ایک منٹ میں ختم کر دے۔ اس کی ہمت نہیں اس لیے کہ یہ جس سودی نظام کی دلدل میں پھنسے ہیں وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ خودکشی ( استعفیٰ) کے علاوہ نہیں۔

[یہ مضمون ایک معاصر روزنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]

٭٭٭٭٭

Exit mobile version