امریکہ، اسرائیل ایران جنگ کو سو دن سے زیادہ ہو چکے۔ نظامِ عالم امریکہ اسرائیل کی جنگجوئی کے ہاتھوں گزشتہ پونے تین سال سے درہم برہم ہے ۔ غزہ، لا طینی امریکہ، ایران میں جنگ، دنیا بھر میں جا بجا دھمکیاں، منفی عزائم نے جینا حرام کر رکھا ہے۔ جس آبنائے ہرمز سے 100 جہاز روزانہ گزرتے تھے اب صرف 7 گزر پاتے ہیں۔ سینکڑوں جہاز سمندر میں اٹکے پڑے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں پر 146 ممالک اس بحران کی براہِ راست زد میں ہیں جو پوری ملکی معیشت پر نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ صنعتی دائرے میں کئی مصنوعات پر ضرب لگاتی ہیں۔ غریب، کمزور ممالک سب شدت سہہ رہے ہیں۔ ان ممالک کی اشرافیہ، حکمران طبقہ، ذرائع وسائل مٹھی میں دبوچے سارا بوجھ عوام کی ٹوٹی کمر ہی پر منتقل کرتے ہیں۔ ان کے سیر سپاٹوں، اللوں تللوں پر آنچ نہیں آتی۔ اگرچہ امریکہ، اسرائیل خود قرضوں میں دب پس رہے ہیں۔ لیکن وہاں بھی وہ جنگ میں رتی بھر کمی نہیں آنے دیتے، عوام کی طبی، تعلیمی، سوشل سیکورٹی سے مزید ڈالر نچوڑ لیتے ہیں۔
ٹرمپ پوری شانِ بے نیازی سے کہتا ہے۔ ’ایران تنازعہ ایک جنگی مشق ہے۔‘ وہ اب بھی یہ وعدہ دینے کو تیار نہیں کہ آئندہ کوئی جنگ نہ ہو گی۔ خلیجِ فارس پر تباہ کن ڈرون، میزائل اڑتے پھرتے ہیں مگر یہ جنگ ، ٹرمپ کے لیے ایک کھیل ہے چاند ماری کا۔ کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری۔ جنگ کے پس پردہ لبنان پر اسرائیل، ایران اپنے مقاصد اہداف پورے کرنے میں مقابلے پر لگے ہوئے ہیں۔ الجزیرہ ،سیٹلائٹ تصاویر سے، لبنان کے سرسبز و شاداب علاقے، 100 بلڈنگیں دکھاتا ہے جو اسرائیلی حملے نے تباہ و برباد، ہموار کر دیں۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی بربادی کی جنگ ہے بھرپور منصوبہ بندی سے۔ ایران کی آڑ میں لبنان میں تین ہزار پانچ سو ترانوے(3593) جاں بحق اور دس ہزار نو سو نوے (10990)زخمی ہو چکے، 10 لا کھ در بدر۔ غزہ کے 70 فی صد پر قبضے اور لبنان کا پانچواں حصہ اس جنگ میں زیر قبضہ۔
گزشتہ 3 سالوں سے بین الا قوامی قانون، تمام متعلقہ ادارے، عدالتیں سکتے کی حالت میں ناکام رہیں۔ دم نہ کشیدم، عالم میں ہیں۔ کوئی اف نہیں کہہ سکتا۔ چھوٹے ممالک جی حضوری کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ اور 9 ارب انسان بھینٹ چڑھے ہیں۔ اُدھر ٹرمپ خاندان (باقی حکمرانوں کے بھی!) کا رئیل اسٹیٹ کاروبار چل رہا ہے۔ دامادِ عالم کشنر اور بیٹی ایونیکا، البانیہ میں جزیرے پر عشرت گاہ بنانے کی تیاری میں اڑتے پھر رہے ہیں۔ آنجہانی ایپسٹن کا تذکرہ ہو رہا ہے کشنر کے اس پلان پر، اس جزیرے کے حوالے سے: ’نیا ایپسٹن‘ کے عنوان سے۔ البانیہ کے عوام غم و غصے سے دیوانے مظاہر ے کر رہے ہیں کہ یہ البانیہ پر ’نرم قبضے‘ کی کوشش ہے۔
کشنر کے چھان بین کے ضمن میں البانیہ میں 4 ارب ڈالر کے اس پراجیکٹ پر بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے گئے۔ البانیہ سے اسرائیلی آباد کاروں کو بھی بے دخلی کا سامنا ہے۔ عوام دیگر مقامات سے بھی اسرائیلیوں کو نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ برازیل میں بھی اسرائیلی سیاحوں کو ٹھڈے کھانے پڑ گئے عوام سے!
حالیہ جنگ میں ملحوظ رہے کہ یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں بالخصوص مسلم ممالک کے دفاعی نظام کو تباہ کن نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ’امریکی اڈوں‘ کے عنوان سے اس نظام کے خریدار عرب ممالک تھے۔ قبل از وقت انتباہ (وارننگ) کے بیش قیمت راڈار، قطر، امارات، سعودی عرب، بحرین، کو یت میں نشانہ بنائے گئے۔ یہ پورا نظام با ہم ان ممالک میں مربوط ہے۔ یہ نقصان صرف ایک ملک کا نہیں۔ مثلاً قطر کے نظام پر حملہ ہمسایہ ممالک کی بھی دشمن پر نظر رکھنے کی صلاحیت چھین کر علاقائی د فاع کو اندھا، نابینا کر دیتا ہے۔ ایران، یمن، خلیج فارس پر سے نگاہ چھین لی۔ اس کی قیمت 1.1 ارب ڈالر تھی۔ بحرین، کویت میں کئی Radome (گنبد میں محفوظ کئی راڈار)پر حملہ کر کے سیٹلائیٹ رابطوں کا نظام تباہ کیا۔ قبل از وقت اطلاعی دفاع سے محروم ہو گئے۔ سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئربیس اور امارات میں دو اڈوں پر کئی ارب ڈالر ’تھاڈ‘ نظام (جو نہایت بلندی پر دفاعی بیٹریاں ہوتی ہیں) کو ناکارہ کر دیا۔ ان کے بغیر حملہ آور، بیلسٹک میزائلوں سے بر وقت نمٹنا ممکن نہیں رہتا۔ شمال مشرقی سعودی عرب میں ایئر پورٹ پر لانگ رینج راڈار جو 470 کلو میٹر تک نگرانی کا حفاظتی تحفظ دیتا ہے، تباہ کیا۔ اس سے اب کروز میزائل اور ڈرون کی بر وقت اطلاع، خبرداری ممکن نہیں رہی۔ ان نقصانات کے بدلے امریکہ اپنے مہنگے ترین، فضا میں رہ کر اطلاعی کام کرنے والے، ’ایو اکس‘ جہاز، اردن، سعودی عرب اور عراق پر تعینات کر رہا ہے۔ اس کی ادائیگی مسلم ممالک کریں گے اور نفع امریکہ ہی کا ہے، مفت احسان نہیں! اڈوں کے میزبان کیونکہ مسلم ممالک ہیں، لہٰذا بر سرِ زمین تمام تر نقصانات، بنیادی ڈھانچے اور نظام کے، انہی کے سر ہیں۔ بڑے پیمانے پر ہنگامی دفاعی ضروریات کی خریداری بھی یہ امریکہ سے کریں گے، تحفے میں تو نہ ملے گا۔ ماسوا یہ کہ امریکی ہوائی جہاز کی تباہی شاید وہ خود ادا کر لے! سو سستے ایرانی ڈرون کے عوض ان ممالک کی معاشی چٹنی بنا ڈالی۔ اس پر بغلیں کون بجائے گا۔ اگر ہم اب بھی اتنے کور چشم ہیں تو چپ ہی بھلی۔ سو تسلی رکھیے یہ جنگ جلد بند ہونے کی نہیں۔ آپس کا تھوڑا بہت نقصان یہ سہہ لیں گے۔ اس کے عوض دجالی منصوبے تکمیل پا رہے ہیں۔
رہے ہم تو آنکھیں ملکی حالات سے بند کیے آزاد کشمیر کو بھی اب شدید کشیدگی کی نذر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ شام 2011ءتا 2024ء، عرب بہار میں جو مصری عوام اور اسلام پسندوں کے پسندے بنائے گئے، حالیہ تاریخ سے پڑھ لیجیے۔ ہم ریت میں سر دبائے نفسا نفسی ،آپا دھاپی میں رہے۔ نوجوانوں کو سنجیدگی، ملک و ملت کا درد، دین کا فہم و شعور، اس سے بچا کر رکھنے کو کوئی کسر نہ چھوڑی۔ تعلیمی معیار ہو لناک حد تک گر چکا ہے۔ بنگلہ دیش نوجوانوں کی تحریک جو ملک کی تقدیر بدل ڈالنے کو کافی تھی، وہ اگرچہ بھارتی پیسے اور بین الاقوامی اثر و رسوخ تک انتخابی متوقع کامیابی تو نہ پا سکی، مگر ایک گہری تبدیلی بہر طور نوجوان تحریک اور جماعت اسلامی و طلباء نے ضرور بنگلہ دیش کو عطا کی۔ ایسی کسی صورت کا ہمارے ہاں دور دور امکان نہیں۔
اب بھارت میں دنیا کے گھاگ، شاطر، بدعنوان حکمرانوں میں سے ایک، مودی اور خونخوار بی جے پی پارٹی کے خلاف یکایک نوجوان تحریک نے لرزہ برپا کر دیا ہے۔ طنزاً اور مزاحاً جو کاکروچ جنتا پارٹی(CJP) آن لائن کی ہوائی چھوڑی تھی، وہ ایک طوفان بن گئی، ٹڈی دل کی طرح کچر کچر کرتا! لگتا ہے بی جے پی چٹ کر جائے گا۔ اس کے بانی ابھی جیت دیپکے، امریکہ سے بھارت آن پہنچے۔ اسم بامسمیٰ ہو گئے تو ’ابھی جیت‘ کر نہ دکھا دیں۔ 12 سالہ اقتدار میں مودی کو پہلی مرتبہ فکر لاحق ہو گئی ہے۔ اگر چہ د یپکے اسے ’نوجوانوں کا سیاسی فرنٹ‘ ہی کہہ رہے ہیں، نوجوانوں کا، نوجوانوں کے ذریعے، نوجوانوں کے لیے! ’ہم حکومت سے احتساب کا تقاضا کرتے ہیں جس نے گزشتہ چند سالوں میں تعلیمی نظام تباہ کر دیا۔ مسلسل کئی سالوں سے امتحانی پرچے لیک ہونے (اور پرچے مارک ہونے میں اغلاط سے لاکھوں طلبا ءکا مستقبل تباہ ہوا) کا احتساب اور وزیر تعلیم کی برطرفی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہم یہ جنگ لڑیں گے۔‘ سات دن کی مہلت حکومت کو دی ہے۔’ تحریک تیار ہے کہ یہ ایک دن کی ریلی (لاکھوں نوجوان چند دنوں میں حصہ بن گئے ہیں!) مکمل قومی ایجی ٹیشن میں ڈھل جائے گی۔‘
غزہ میں عید پر بھی اسرائیل نے سفاک حملے نہ چھوڑے۔ اجڑے مہاجروں کی عید کی خوشیوں پر بم برسائے۔ خلیجی ممالک اپنے محبوب اسرائیل و امریکہ کی دوستی کا بھگتان اب دے رہے ہیں۔ غزہ پر حقیقی مدد ایران سمیت 59 مسلم ممالک نے قطعاً بہم نہ پہنچائی اشک شوئی کے سوا۔ غزہ سے ابو عبیدہ کا بیان تازہ کر کے جاری کیا گیا ہے: ’ہم اپنی امت کو دوبارہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے اختلافات پس پشت ڈالے۔ اپنی سمت درست کر لے۔ جو امت چند روز قبل ایک ہی میدان میں،( 9 ذی الحج) جبلِ عرفات پر جمع ہوئی، وہ اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ اپنے بیٹوں کی نصرت کے لیے بھی یک جا ہو کر بلند مقام حاصل کرے۔‘ اللہ کا حکم: ’اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے۔‘ (الاعلام العسکری)
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کا شغر!
[یہ مضمون ایک معاصر روزنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭
