اللہ سے حسنِ ظن | پانچویں قسط

آزمائش و ابتلا کو نعمتوں میں کیسے بدلیں؟ آزمائش کی نعمت کا مزہ کیسے حاصل کریں؟ قطع نظر اس سے کہ آپ کو زندگی میں کس کس مشکل کا سامنا ہے، آپ ایک پرسکون زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ آپ ہر معاملے کا سامنا مثبت اندازِ فکر اور امید و حوصلے سے کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ وہ گہرا و قریبی تعلق کیسے بنا سکتے ہیں، کہ آپ کو اس کی ذات کے سوا کسی کا خوف اور کسی سے امید نہ رہے؟ آپ ایک ناقابلِ شکست عزم اور ایک ناقابلِ شکست شخصیت کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ آپ اپنے دل کا تزکیہ کیسے کریں، کہ قسمت و تقدیر کو الزام دینا چھوڑ دیں تاکہ اللہ سے ایک سالم و پاکیزہ دل کے ساتھ ملاقات کر سکیں؟ آپ اپنے خالق و مالک، اپنے ربّ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اپنی محبت کو کیسے خالص و غیر مشروط بنا سکتے ہیں؟ تحریرِ ہٰذا میں آپ کو ان سوالوں کے جواب، اور مزید بہت کچھ ملے گا، ان شاء اللہ! (ادارہ)


اگر یہ آیات آپ کو غور و تدبر پر مجبور نہیں کرتیں، تو آپ کو تجدیدِ محبت  کی ضرورت ہے

کیا یہ امر از حد تعجب و حیرت کا سبب نہیں کہ اللہ جل شانہ اپنی ذات کے لیے ہماری محبت کو جھنجھوڑتا ہے، بیدار کرتا ہے جبکہ اسے نہ ہماری ضرورت ہے اور نہ ہماری محبت کی کوئی حاجت؟

کیا اس کے ناموں میں سے ایک نام الوَ دود (بے حد محبت کرنے والا) نہیں ہے؟

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا؀  وَّسَبِّحُــوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا؀  هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُهٗ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا 43؀ تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا؀(سورۃ الاحزاب: ۴۱-44)

’’اے ایمان والو ! اللہ کو خوب کثرت سے یاد کیا کرو۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ کتو وہی ہے جو خود بھی تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔ جس دن مومن لوگ اللہ سے ملیں گے اس دن ان کا استقبال سلام سے ہوگا، اور اللہ نے ان کے لیے باعزت انعام تیار کر رکھا ہے۔‘‘ 

ان آیات میں اللہ تعالیٰ مومنین کو یاد دلاتے ہیں کہ اسی کی ذات ہے جو ان کی رہنمائی کرتی ہے ، ان پر اپنی رحمتیں نچھاور کرتی ہے، اور وہ روزِ قیامت ان کا ایک بہترین انعام کے ساتھ استقبال کرے گا، ایک ایسا انعام جو ربّ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے ساتھ محبت کا مظہر ہو گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ربّ تعالیٰ اپنے بندوں سے کہہ رہے ہیں: ’’تمہارے پروردگار کی حیثیت سے جس نے تمہیں یہ سب عطا کیا ہے کیا میں تمہاری محبت اور مستقل تذکرے کا حقدار نہیں ہوں(جیسے ایک محب اپنے محبوب کو مستقلاً یاد کرتا رہتا ہے)؟‘‘

اللہ سے ہمارا تعلق محض اس بنیاد پر استوار نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی ذات سے ہمیں کیا کیا  دنیاوی فوائد  حاصل ہو سکتے ہیں ،  تعلق کی بنیاد محض اخروی انعامات کے حصول کی تمنا بھی نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ خود اللہ کی رضا و خوشنودی کی طلب، اس طلب  کو ہمیشہ اپنی ذات میں ایک مکمل ہدف و مقصد ہونا چاہیے۔ ہمیں اللہ سے محبت کرنی چاہیے، اور شوق و طلب کے ساتھ اس ربّ عظیم  کی محبت  حاصل کرنے کی تمنا و جستجو کرنی چاہیے، اس کی محبت کے بغیر جینے کا تصور ہمارے لیے محال ہونا چاہیے۔

کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ بہت سی ایسی آیات جن میں احکامِ شرعی کا تذکرہ ہوتا ہے، ان آیات کا اختتام اس تذکرے سے کرتے ہیں کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جو فلاں امور پر عمل کرتے ہیں، اور ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو بعض دیگر افعال کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان آیات کے اختتامی حصّوں سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ اگر ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وفا دار ہوتے اور اللہ سے ہماری محبت خالص ہوتی، تو ان آیات کے یہ اختتامی ٹکڑے ہمیں ان آیات پر عمل کی تحریض دلانے کے لیے کافی ہیں۔ ہم اللہ کے احکام پر عمل کرتے تاکہ ہم اس عظیم انعام کے مستحق ٹھہرائے جا سکیں جو کہ اللہ کی محبت ہے۔

یہ آیات کس کثرت سے قرآن عظیم الشان میں مذکور ہیں؟ چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں:

…اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔ (سورۃ البقرۃ:۱۹۵)

’’…بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ 

ؤ…وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ (سورۃ آلِ عمران:۱۴۶)

’’… اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘

…اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِين(سورۃ التوبۃ: ۴)

’’…بے شک اللہ احتیاط کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ 

… اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ (سورۃ البقرۃ:۲۲۲)

’’… بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی طرف کثرت سے رجوع کریں اور ان سے محبت کرتا ہے جو خوب پاک صاف رہیں۔‘‘

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (سورۃ آل عمران:۳۱)

’’(اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص (سورۃ الصف:۴)

’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف بنا کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔‘‘

…اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ (سورۃ آلِ عمران:۱۵۹)

’’…اللہ یقینا توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘

کیا آپ نے کبھی آیات کے ان آخری حصّوں پر غور کیا ہے؟

کیا آپ نے کبھی اپنے دل میں ایک ابلتی ہوئی ، ٹھاٹھیں مارتی ہوئی خوشی محسوس کی ہے جب آپ کو لگا ہو کہ آپ اس گروہ میں شامل ہیں جن سے اللہ محبت فرماتا ہے؟ کیا یہ محبت آپ کو دنیا و مافیہا سے بڑھ کر عزیز محسوس ہوئی؟ کیا اللہ کی محبت حاصل کرنا وہ عظیم ترین مقصد اور زندگی کا وہ عمیق ترین معنی  و مفہوم نہیں ہے کہ جس کی خاطر ہم زندہ ہیں؟

اگر ہم نے کبھی آیات کے ان حصوں پر غور نہیں کیا ، اگر ہم نے کبھی پروا نہیں کی کہ ہم بھی ان افراد میں شمار کیے جائیں  کہ جن سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں، اگر اللہ سے ہماری محبت اتنی طاقتور نہیں کہ وہ ہمیں متقین، صابرین، صالحین و مخلصین میں سے بنا دے، صادق و امین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں  میں شامل کروا دے، اللہ پر انحصار و توکل کرنے والا بنا دے، اس کے راستے میں لڑنے والا بنا دے،  اگر اللہ کی محبت حاصل کرنے کی طلب نے ہمیں یہ سب کرنے پر مجبور نہیں کیا، اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے اپنی انتہائی کوششیں یہ اوصاف اپنانے میں صرف کرنے پر نہیں ابھارا، تو کیا یہ اس چیز کی علامت نہیں کہ ہم خود اللہ سے ہی بے نیاز اور اس کی محبت  کی طلب سے تہی ہیں؟

اس کے برعکس دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض امور سے منع فرمایا، اور منع فرمانے کے بعد ان امور کو کرنے والوں کے لیے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

…وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ (سورۃ آل عمران: ۵۷)

’’…اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

…اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (سورۃ المائدۃ:۸۷)

’’… یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

…اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ (سورۃ الاعراف:۳۱)

’’…یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ 

اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ (سورۃ الانفال: ۵۸)

’’…یاد رکھو کہ اللہ بد عہدی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

کیا جب آپ یہ آیات پڑھتے ہیں تو آپ کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ ’اگر اللہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تو کیا وہ مجھے آزمائش و مصیبت میں مبتلا کرے گا اور مجھ سے بعض نعمتیں چھین لے گا؟‘۔

کیا آپ کی کُل فکر اور پریشانی یہی  ہے کہ دنیاوی نعمتیں برقرار رہیں اور مشکلات و مصائب دور ہو جائیں؟ کیا آپ کو اس بات پر دکھ اور تکلیف محسوس نہیں ہوتی کہ اللہ آپ سے محبت نہیں کرتا؟ کیا اللہ کی محبت سے محروم ہو جانا بذاتِ خود ایک عظیم مصیبت اور نا قابلِ برداشت سزا نہیں ہے؟ کیا یہ سزا کافی نہیں کہ آپ کو کسی بھی قسم کی زیادتی کرنے یا گناہ میں پڑنے  سے روک سکے؟ اور آپ کو مجبور کرے کہ اپنے الفاظ و اعمال کا از سرِ نو جائزہ لیں اور اپنا سخت محاسبہ کریں تاکہ اللہ کی محبت سے محروم ہونے سے خود کو بچا سکیں؟

خود سے یہ سوال کیجیے، تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ آپ سخت دل بیٹے رامی کی مانند ہیں یا وفا شعار و احسان مند غسان کی مانند؟ جو اپنے والد کے چہرے پر غم کی پرچھائیں برداشت نہ کر سکا اور اس احساس کے ساتھ زندہ رہنا اس کے تصور سے بھی باہر تھا کہ اس کے والد کے دل میں اس کے لیے بال آ گیا ہے۔

کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ایک بچہ اپنے والدین کی اپنی ذات سے محبت محسوس کر کے اپنی ذات پر اعتماد حاصل کرتا ہے؟  وہ صرف تب ہی مطمئن و پرسکون محسوس کرتا ہے جب اس کے والدین اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر اس کا باپ اس سے کہے: ’’میں تم سے محبت نہیں کرتا‘‘،  تو اس کی دنیا درہم برہم ہو جاتی ہے، اس کا اپنی ذات پر اعتماد مٹی میں مل جاتا ہے، اور زندگی کے حوالے سے اس کا نقطۂ نظر منفی اور تاریک ہو جاتا ہے۔

کیا ہم مکمل طور پر اللہ پر منحصر نہیں ہیں، کہ اس کی ذات کے سوا ہمارا نہ کوئی پالنے والا ہے نہ مددگار، نہ ہی اس کے سوا کہیں کوئی جائے پناہ ہے؟  اگر اللہ تعالیٰ آپ سے کہہ دے: ’’میں تم سے محبت نہیں کرتا‘‘، تو کیا یہ چیز آپ کو خوفزدہ نہیں کرتی؟ کیا آپ کو ڈر کے مارے لرزنے پر مجبور نہیں کرتی؟ کیا یہ آپ کی دنیا درہم برہم نہیں کرتی؟ کیا یہ آپ کو غم و پریشانی اور  بے سکونی کی کیفیت میں مبتلا نہیں کرتی؟

کیا آپ کو ہر اس عمل، ہر اس قول  پر اپنا محاسبہ نہیں کرنا چاہیے جو آپ کو ان افراد کی صف میں کھڑا کرتا ہو جن سے اللہ رب العزت محبت نہیں کرتا؟

جب آپ کا دل اس مفہوم کو پا لیتا ہے  تو آپ کے لیے فہم کا ایک نیا دروازہ کھل جاتا ہے جس کے ذریعے آپ ان بے شمار آیات و احادیث  کو ایک نئی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں اور ان کی  ایک مضبوط تاثیر اپنے دل پر محسوس کرتے ہیں۔

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْم (سورۃ التوبۃ: ۲۱)

’’ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی کی، اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔‘‘

ذرا اس آیت پر غور کیجیے اور محسوس کریں کہ اللہ کی محبت کیسے ہر ہر لفظ سے عیاں ہو رہی ہے!

دوسری جانب ان آیات  اور احادیث پر بھی غور کیجیے  جن میں ان افراد کا تذکرہ ہے جن سے اللہ تعالیٰ نہ بات کریں گے نہ ہی ان کی جانب دیکھیں گے۔ یہ کس قدر اذیت ناک سزا ہے، کسی بھی صاحبِ دل کے لیے،  کہ جب اس کا محبوب نہ اس کی جانب نظر اٹھائے اور نہ ہی اس سے بات کرے!

ذرا بخاری کی اس روایت پر غور کیجیے:

’’اللہ تعالیٰ اہلِ جنّت سے کہیں گے: ’اے اہلِ جنت!‘۔ وہ جواب دیں گے:’ہم حاضر ہیں ہمارے رب! تمام خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے‘۔  اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: ’کیا تم راضی ہو؟‘، وہ جواب دیں گے: ’اے ہمارے ربّ، ہمم کیسے راضی نہ ہوں جب کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا ہے جو اپنی مخلوق میں کسی اور کو عطا نہیں کیا‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ’کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز عطا نہ کروں؟‘، وہ پوچھیں گے: ’اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے؟‘، اللہ تعالیٰ جواب دیں گے: ’میں تم سے راضی ہو گیا اور کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا‘۔‘‘

ایک لا پرواہ دل کے لیے اس بات کا ادراک کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ انتہائی نعمت ہی سب سے عظیم نعمت کیونکر ہے! کیا جنّت کے باسی  لازوال نعمتوں اور چھاؤں، قسم ہا قسم میووں اور خوبصورت آنکھوں والی دوشیزاؤں سے لطف اندوز نہیں ہوں گے؟ تو اللہ کی رضا حاصل ہو جانے میں کیا خاص بات ہے؟

جبکہ وہ لوگ کہ جن کی محبت سچی ہے، وہ جانتے ہیں کہ محبوب کی محبت و رضا حاصل ہو جانا ہی عظیم ترین مقصد  اور اصل ہدف کی تکمیل ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ  ۭ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ  ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ (سورۃ التوبۃ: ۷۲)

’’اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے وعدہ کیا ہے ان باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان پاکیزہ مکانات کا جو سدا بہار باغات میں ہوں گے ۔ اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو سب سے بڑی چیز ہے۔ (جو جنت والوں کو نصیب ہوگی) یہی تو زبردست کامیابی ہے۔‘‘

جی ہاں،   اللہ کی رضا تمام باغات، دریاؤں اور عالیشان محلوں سے بڑھ کر ہے۔ کہ یہ ہمارے ربّ عظیم الشان، محبوب مالک کی رضا ہے۔

آئیے اس آیت پر غور کرتے ہیں:

فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُم… (سورۃ البقرۃ: ۱۵۲)

’’لہٰذا مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا تذکرہ کرنے کی تلقین کر کے ہماری محبت کو ابھارتا  ہے، اور اس تذکرے کے بدلے میں ایک انعام کا وعدہ کرتا ہے۔ وہ وعدہ کیا ہے؟ وہ وعدہ یہ ہے کہ وہ ، اللہ سبحانہ و تعالی، ہمارا تذکرہ کرے گا۔

ایک لا پرواہ دل یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں کو یاد کرنے یا ان کا تذکرہ کرنے میں کیا خاص بات ہے۔ لیکن وہ جو اپنی محبت میں سچے ہیں، ان کے لیے یہ انعام ایک عظیم نعمت سے کم نہیں کہ ان کا محبوب و مالک ِکل جہاں ربّ ان کو یاد کرے گا، ان کا تذکرہ کرے گا۔

پھر اس حدیث پر بھی غور کیجیے ، جس میں اس بات کا بیان ہے کہ جب بندہ اپنے ربّ سے توبہ کرتا ہے تو اللہ  تعالیٰ کیسے خوش ہوتے ہیں۔

بے شک اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی مانند خوش ہوتا ہے جس کا اونٹ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں کھو جائے اور جب وہ اس کے ملنے سے مایوس ہو جائے تو اچانک اس کا اونٹ اسے مل جائے۔

کیا ایک مسلمان کے لیے اپنے گناہوں سے  توبہ کرنے کے لیے یہی کافی نہیں کہ اس کی توبہ سے اس کا مالک، اس کا محبوب اللہ  خوش و راضی ہو جائے گا؟

اس کے علاوہ اس سے بڑھ کر بھی ایک دلنشین رخ ہے۔  اگر آپ کا کوئی عزیز آپ کو کوئی تحفہ دے،  تو کیا آپ کو تحفہ پانے کی خوشی زیادہ ہو گی یا اس امر کی کہ  یہ تحفہ  اس شخص کی آپ سے محبت کا مظہر ہے جس نے یہ تحفہ آپ کو دیا؟ یقیناً آپ تحفے سے زیادہ دینے والے کی محبت محسوس کر کے خوشی محسوس کریں گے۔

جنّت کے باسیوں کی خوشی اس طرح کئی گنا بڑھ جائے گی۔ وہ خوشیاں مناتے ہوں گے، صرف ان نعمتوں پر نہیں جو اللہ نے اہلِ جنّت کو عطا کی ہوں گی، بلکہ اس پر بھی کہ نعمتوں کے یہ تحائف دراصل اللہ کی ان سے محبت اور خوشنودی کی علامت ہوں گے۔   جب بھی کبھی آپ ان آیات و احادیث کو پڑھیں جن میں اللہ کے انعامات کا تذکرہ ہے، تو اس معنی کو محسوس   کرنا نہ بھولیں ، کہ یہ نعمتیں در حقیقت اللہ کی اپنے بندوں سے  راضی ہونے اور ان سے اس کی  محبت کا اظہار و علامت ہیں۔

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْم (سورۃ التوبۃ: ۲۱)

’’ان کا پروردگار انھیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی کی، اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔‘‘

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ (سورۃ التوبۃ: ۸۹)

’’اللہ نے ان کے لیے وہ باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں یہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی زبردست کامیابی ہے۔‘‘

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ (سورۃ المائدۃ: ۹)

’جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ ( آخرت میں) ان کو مغفرت اور زبردست ثواب حاصل ہو گا۔‘‘

فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِہ …(سورۃ آل عمران: ۱۷۰)

’’اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر مگن ہیں…‘‘

اللہ کی رضا، کہ جس کا اظہار اس کی نعمتوں کی شکل میں ہوتا ہے، ان نعمتوں سے بڑھ کر قیمتی و عظیم ہے۔

مندرجہ بالا تمام گفتگو کا مطلب یہ نہیں کہ مومن  اللہ کی اطاعت اور اس کی عبادت صرف اور صرف اس کی محبت میں کرتا ہے، اور اسے نہ ا للہ سے حاصل ہونے والے انعام کی کوئی رغبت ہوتی ہے اور نہ اس کی جانب سے ملنے والی سزا کا کوئی خوف۔ قرآن و حدیث اس غلط فہم کا ردّ کرتے ہیں:

… يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا… (سورۃ السجدۃ: ۱۶)

’’…وہ اپنے پروردگار کو ڈر اور امید (کے ملے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں …‘‘

…وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ  …(سورۃ الاسراء: ۵۷)

’’اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں، اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘

بلکہ ہماری گفتگو کا  مقصد صرف اس مخفی مگر مہم تر معنی کو نمایاں اور واضح کرنا ہے ، جو ہمارے خوفِ الہٰی اور اسی  کی ذات سے وابستہ امید  ہی کے سبب اکثر ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے،  کہ اللہ کی اطاعت اس کی ذات سے محبت کے سبب کرنی چاہیے، اور اس کی رضا اور محبت کی طلب میں کرنی چاہیے۔

کیا اب آپ کو یقین آ چکا ہے کہ اللہ رب العزّت ہماری محبت کو جگاتا ہے، ہمیں خود سے قریب کرتا ہے؟ کیا ان آیات نے آپ کو اپنے ماضی پر غور کرنے پر مجبور کیا؟ کیا آپ کے دل میں اللہ کی محبت کے جواب میں محبت پیدا ہوئی؟ کیا آپ نے یہ شوق محسوس کیا کہ اس کی محبت کے جواب میں اپنی محبت کا اظہار کریں؟  یا آپ کو اس کی نعمتوں نے اتنا مشغول کر لیا کہ آپ کو نعمتیں عطا کرنے والا ہی یاد نہ رہا؟ اگر آپ مشغول و غافل رہے تو آ پ کو تعجب نہیں ہونا چاہیے اگر اللہ تعالیٰ آپ کو آزمائش و مصیبت میں مبتلا کر دے اور اس ذریعے سے آپ کو یاد دہانی کروائے کہ آپ کو اس کی محبت کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کی آزمائش مشکل  بھی ہوئی، تو بھی وہ اس خالی  و تشنہ روح اور اس بے حس دل کی مصیبت سے بہتر ہے، جو نہ اللہ کی محبت محسوس کرتا ہے اور نہ ہی اس کا جواب دیتا ہے۔

خلاصۂ کلام:

اگر آپ کی آزمائش اللہ کے لیے آپ کی محبت میں اضافے کا سبب بنتی ہے تو چاہے آپ نے بظاہر کتنا ہی بڑا صدمہ یا نقصان کیوں نہ اٹھایا ہو، لیکن در حقیقت آپ نے کچھ نہیں کھویا اور سب کچھ پا لیا!

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version