ضرورتِ وحی
جب ہم اسلامی علمیات (epistemology) پر آتے ہیں اور ذریعۂ وحی کو بطور سببِ علم پہلا و ابتدائی سبب بتاتے ہیں تو اکثر ایک معقول سوال یہ پیش آتا ہے کہ وحی کی ضرورت در حقیقت کیوں ہے ؟
اس سوال کا کچھ سادہ سا جواب تو ضمنی طور پر گزشتہ قسطوں میں آتا رہا کہ جب قومیں وحی سے دور ہوتی ہیں تو تاریخ شاہد ہے کہ بدترین انحطاطِ فکری و اخلاقی کو پہنچ جاتی ہے ہیں یعنی ایک غیبی راہنمائی، علوی تربیت، روحِ انسانی کے ساتھ ملکوتی ربط فطری ضرورت ہے سلامت افکار و اقدار کے لیے، نیز انسانی عقل اور تجربات حقائق کے ادراک کے لیے کافی نہیں ہیں، بدیہی بات ہے کہ تقریباً ہر عقل کی سمت اور اس کا ناحیہ مختلف ہوتا ہے اس وجہ سے بھی ادراکِ حقیقت میں حتمیت حاصل نہیں ہوتی، اسی لیے کئی بار دو ذہین سمجھے جانے والے لوگ ایک ہی مسئلے پر بالکل مختلف نتائج تک پہنچ جاتے ہیں بلکہ پہنچے ہیں جیسا Isaac Newton اور Stephen Hawkins دونوں اعلی ذہانت رکھنے والوں میں شمار کیے جاتے رہے ہیں لیکن جب محض عقل کے ذریعے وجود باری پر بات کرتے ہیں تو ایک اثبات کرتا ہے اور دوسرا نفی حالانکہ ان کے ضوابط ان کی Equations ان کے تجزیے عموما ًمعاملوں میں یکساں ہیں لیکن ایک اہم اور سیدھے مسئلے میں اتنا بڑا اختلاف، تو پوری انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ فلاسفہ، مفکرین اور دانشور ہزاروں سال سے حقیقت، اخلاق، خیر و شر اور زندگی کے مقاصد پر اختلاف کرتے آ رہے ہیں اور کوئی اتفاقی فیصلہ کن نکتے پر جمع نہیں ہو پا رہے ہیں تو اگر عقل اکیلی ہی کافی ہوتی تو اتنے بنیادی سوالات پر اتنا شدید اختلاف نہ ہوتا۔ یہی بات تجربات کے باب میں ہے کہ وہ محدود ہوتے ہیں اور مختلف ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے سائنسی زاویے سے ’کیسے‘ کا جواب تو حاصل ہو جاتا ہے لیکن ’کیوں‘ کا کبھی کوئی قطعی جواب نہیں مل پاتا۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ کہ عقل و تجربات سے حاصل ہونے والے حقائق کوئی تربیتی ہدایت نہیں ہوتے ہیں بلکہ اپنے آپ میں بس ایک معلومات اور دریافت ہوتے ہیں، جبکہ وہ انسان جسے ایک معاشرہ ترتیب دینا ہے عائلی نظام منظم کرنا ہے اسے تربیاتی ہدایت کی زیادہ ضرورت ہے دریافت شدہ معلومات کے بنسبت۔ سائنس ایٹم کو تقسیم کرنا تو سکھا دے گی (معلومات فراہم کر دے گی) لیکن یہ فیصلہ نہیں کر سکے گی کہ اس علم کو دوا بنانے کے لیے استعمال کیا جائے یا بم بنانے کے لیے، یعنی تربیتی ہدایت نہیں دے سکے گی۔
ان سب کے علاوہ وحی کی ضرورت کی سب سے بڑی وجہ انسان کی اپنی فطری تلاش ہے، چونکہ انسان دیگر خلائقِ عالم سے مختلف نوع کی مخلوق ہے، اپنی عقل میں بھی اور فطرت میں بھی اسی لیے عموماً ایک عام انسان جب اس کائنات کو دیکھتا ہے تو سب سے پہلے اس کے سامنے ’’وجود‘‘ کا سوال آتا ہے، مثلاً یہ دنیا کیوں ہے؟ کچھ بھی نہ ہونے کے بجائے کچھ موجود کیوں ہے؟ سورج، چاند، ستارے، زمین، زندگی، شعور، عقل، محبت، حسن اور اخلاقی احساسات کہاں سے آئے؟ الغرض سوچ اور وجدان ایک معنی اور اعلیٰ حقیقت کو ڈھونڈنے لگتے ہیں اپنی مقصدیت کی جستجو ہونے لگتی ہے۔
یہ دعویٰ محض مذہبی روایت کا نہیں بلکہ فلسفہ، نفسیات، بشریات (Anthropology) میں بھی ایک نہایت سنجیدہ موضوع رہا ہے۔ بیشتر ماہرین یہ کہتے ہیں کہ انسان میں معنی (meaning)، مقصد (purpose) اور ماورائے خود کسی حقیقت (transcendence) کی تلاش ایک گہرا اور تقریباً آفاقی رجحان ہے۔
مثال کے طور پر Viktor Frankl، جو بیسویں صدی کا مشہور ماہرِ نفسیات تھا اور نازی کیمپوں سے زندہ نکلا، اپنی مشہور کتاب “Man’s Search for Meaning” میں کہتا ہے:
“Life is not primarily a quest for pleasure, as Freud believed, or a quest for power, as Alfred Adler taught, but a quest for meaning.”
’’ انسان کی بنیادی نفسیاتی ضرورت محض لذت نہیں جیسا کہ فریوڈ نامی مفکر کا ماننا ہے اور طاقت بھی نہیں جیسا کہ ایڈلر کا کہنا ہے بلکہ معنی کی تلاش ہے۔‘‘
اسی طرح مشہور ماہر نفسیات Carl Jung نے اپنی طویل نفسیاتی پریکٹس کے بعد اپنی کتاب “Modern Man in Search of a Soul” ایک دلچسپ مشاہدہ بیان کیا کہ:
“Among all my patients in the second half of life that is to say, over thirty five there has not been one whose problem in the last resort was not that of finding a religious outlook on life. It is safe to say that every one of them fell ill because he had lost what the living religions of every age have given to their followers, and none of them has been really healed who did not regain his religious outlook.”
’’عمر کے دوسرے حصے (یعنی پینتیس سال سے اوپر) کے میرے تمام مریضوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جس کا اصل اور آخری مسئلہ زندگی کے بارے میں ایک ’مذہبی ؍ روحانی نقطہ نظر‘ تلاش کرنا نہ ہو، یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ ان میں سے ہر ایک شخص اس لیے بیمار (نفسیاتی مسائل کا شکار) ہوا کیونکہ اس نے وہ چیز کھو دی تھی جو ہر دور کے زندہ مذاہب اپنے ماننے والوں کو دیتے ہیں (یعنی مقصد اور اعلیٰ حقیقت سے تعلق) اور ان میں سے کوئی بھی اس وقت تک سچے معنوں میں شفایاب نہیں ہوا جب تک اس نے اپنا وہ روحانی یا مذہبی نقطہ نظر دوبارہ حاصل نہیں کر لیا۔‘‘
امریکی ماہرِ نفسیات William James نے اپنی مشہور کتاب “The Varieties of Religious Experience” میں مختلف مذہبی اور روحانی تجربات کا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ مذہبی رجحان انسانی تجربے کا ایک انتہائی حقیقی اور وسیع پہلو ہے، جسے محض وہم یا بیماری کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بشریات (Anthropology) کے میدان میں بھی ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ دنیا کی ہزاروں تہذیبوں اور قبائل کا مطالعہ کرنے والے محققین نے دیکھا کہ تقریباً ہر انسانی معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں عبادت، مقدس حقیقت، روحانی دنیا، دیوتاؤں، خدا یا ما بعد الطبعیاتی عقائد کا وجود ملتا ہے۔ شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر ’’ماورائی حقیقت‘‘ کی تلاش تقریباً ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علمائے بشریات مذہب کو “human universal” کے قریب ترین مظاہر میں شمار کرتے ہیں۔
فلسفے میں بلیز پاسکل (Blaise Pascal)[1] نے انسان کے دل میں موجود ایک ’’خلا‘‘ (void) کا ذکر کیا جو ان کے بقول صرف خدا سے پُر ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ ایک فلسفیانہ استدلال ہے، تجرباتی سائنس نہیں، لیکن مغربی فکری روایت میں اس کا بہت اثر رہا ہے۔
جدید دور میں پیٹر برجر (Peter Berger) اور چارلس ٹیلر (Charles Taylor )، جو بیسویں اور اکیسویں صدی کے وہ دو بڑے نام ہیں، نے روایتی ’’سیکولرائزیشن تھیوری‘‘ (Secularization Theory)، جو یہ دعویٰ کرتی تھی کہ جیسے جیسے دنیا جدید ہو گی، مذہب اور ماورائیت کا خاتمہ ہو جائے گا، کو علمی سطح پر چیلنج کیا۔
پیٹر برجر نے اپنی کتاب “A Rumor of Angels: Modern Society and the Rediscovery of the Supernatural” (1969ء) میں یہ ثابت کیا کہ سیکولر دور میں بھی انسانی جبلت سے ماورائیت (Transcendence) کی پیاس ختم نہیں ہوئی۔ وہ انہیں “Signals of Transcendence” (ماورائیت کے اشارے) کہتا ہے، جو عام انسانی زندگی میں پائے جاتے ہیں۔ اپنی ایک اور اہم کتاب“The Desecularization of the World” (1999ء) میں وہ روایتی نظریے کو مسترد کرتے ہوئے لکھتا ہے:
“The assumption that we live in a secularized world is false. The world today is as furiously religious as it ever was, and in some places more so than ever. This means that a whole body of literature by historians and sociologists, loosely labeled ‘secularization theory,’ was essentially mistaken.”
’’یہ مفروضہ کہ ہم ایک سیکولرائزڈ (مذہب سے آزاد) دنیا میں رہ رہے ہیں، بالکل غلط ہے۔ آج کی دنیا اتنی ہی شدت سے مذہبی ہے جتنی وہ ہمیشہ سے تھی، بلکہ کچھ مقامات پر تو پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ دانوں اور ماہرینِ سماجیات کا وہ تمام لٹریچر، جسے ’سیکولرائزیشن تھیوری‘ کا نام دیا جاتا ہے، بنیادی طور پر غلط تھا۔‘‘
کینیڈین فلسفی چارلس ٹیلر نے اپنی ضخیم اور شاہکار کتاب “A Secular Age” (2007ء) میں سیکولر دور کا گہرا فلسفیانہ تجزیہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جدید دور میں انسان نے خود کو ایک مادی خول میں بند کر لیا ہے جسے وہ “Buffered Self” کہتا ہے، لیکن اس خول کے اندر بند ہونے کے باوجود انسان مستقل ایک باطنی بے چینی (Spiritual Malaise) اور خلا محسوس کرتا ہے۔ وہ اس کیفیت کو “The Immanent Frame” کہتا ہے، جہاں انسان خدا کے بغیر جینے کی کوشش تو کرتا ہے لیکن اس مادی فریم کے اندر رہتے ہوئے بھی وہ ماورائیت (Transcendence) کے لیے تڑپتا ہے۔
چارلس ٹیلر لکھتا ہے :
“We feel a certain malaise in the immanent frame. Many people, even those who do not believe in God, feel a sense of emptiness, a lack of meaning, or a longing for something ‘beyond’ that the purely materialistic world cannot satisfy. The sense of transcendence remains an open question and a haunting presence”
’’ہم مادی اور دنیاوی فریم کے اندر ایک خاص قسم کی بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ، یہاں تک کہ وہ بھی جو خدا پر یقین نہیں رکھتے، ایک خالی پن، معنی کا فقدان، یا کسی ایسی چیز کی تڑپ محسوس کرتے ہیں جو ’اس مادی دنیا سے پرے‘ (Beyond) ہو، جسے خالص مادی دنیا مطمئن نہیں کر سکتی۔ ماورائیت کا یہ احساس (جدید دور میں بھی) ایک کھلا سوال اور ایک ایسی حقیقت بھی ہے جو مسلسل اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہے۔‘‘
ان غیر اسلامی ماہرین و مفکرین کے تجزیوں اور تبصروں سے اس بات کو بتانا پیش نظر ہے کہ انسان کے اندر ایک فطری پکار ہے مقصدیت اور معنویت (میں کون ہوں ،میرے وجود کی حقیقت کیا ہے ؟ کون مجھے وجود دینے والا ہے ،میں دنیا میں کیوں آیا ہوں وغیرہ سوالات) کی طبعی جستجو ہے۔ یہ صرف اسلام کا دعوی نہیں ہے بلکہ ایک آفاقی حقیقت ہے جس پر غیر اسلامی ماہرین بھی متفق ہیں چاہے Sigmund Freud اور Rechard Dawkins جیسے بعض ملحد مفکرین وجود خدا اور حقیقت مذاہب کو افسانہ جانتے ہوں۔
اس کے باوجود ایک بات تقریباً غیر متنازع ہے کہ انسان بار بار اپنے ضمیر سے یہ بنیادی سوالات ضرور پوچھتا ہے:
- میں کہاں سے آیا ہوں؟
- میں کیوں آیا ہوں؟
- میں کہاں جا رہا ہوں؟
یہ سوالات تاریخ، جغرافیہ، نسل اور تہذیب کی حدود سے ماورا نظر آتے ہیں۔
تو بس یہی نکتہ اسلامی فکر میں ’’فطرت‘‘ کے تصور سے جڑتا ہے۔ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے……‘‘(صحیح بخاری)
اسلامی علماء، خصوصاً امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہما اللہ نے اس فطرت کو انسان کے اندر موجود خدا شناسی اور حق کی طرف میلان کے طور پر سمجھا ہے ان کے نزدیک الحاد ایک فطری کیفیت نہیں بلکہ بعد میں پیدا ہونے والے فکری یا معاشرتی عوامل کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
کلی طور پر شاید یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ہر انسان خدا کو تلاشتا ہے، لیکن اگر کوئی پوچھے کہ ’’کیا مقصد، معنی، اخلاق اور کسی اعلیٰ حقیقت کی تلاش انسانی فطرت کا ایک بہت وسیع اور تقریباً آفاقی رجحان ہے؟‘‘ تو فلسفہ، نفسیات، بشریات اور مذہبی تاریخ کا بڑا حصہ اس کے حق میں شواہد فراہم کرتا ہے۔
چنانچہ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی استدلال کہتا ہے: اگر پیاس موجود ہے تو پانی کا وجود بھی معنی رکھتا ہے اگر انسان کے اندر مقصد اور خالق کی جستجو اتنی گہری اور مسلسل ہے تو یہ خود اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ شاید یہ جستجو محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ انسانی فطرت کے اندر رکھا گیا ایک اشارہ (sign post) ہے جو اسے اپنے اصل کی طرف بلاتا ہے۔
الغرض ضرورت وحی ایک فطری پکار ہے ایک اندرونی جستجو ہے اور روحانی تقاضا ہے۔
ضرورت وحی اور وجود باری کا تلازم
اب جب ضرورت وحی کا احساس جاگتا ہے تو اس کی کمالِ طلب یہ ہوتی ہے کہ فطرتِ انسان کسی با شعور ذات، باکمال خالق، باقدرت الٰہ کا تقاضا کرے جو انسانوں کی دھڑک اور پھڑک سے لے کر کائنات کے ہر گوشے ، کہکشاؤں کے ہر گوشے کے حوالے سے علیم و خبیر ہو ورنہ (ایسے وجود کی تشنگی نہ محسوس ہو تو) وہ وحی کی ضرورت کا یہ احساس محض اس کی نظریاتی تمنا بن کر رہ جائے گا گویا کہ راہ درکار ہے لیکن رہبر نہیں ہے یا ماننا نہیں، پھر ایسے لوگ (جو ضرورتِ وحی کو تو محسوس کرتے ہیں لیکن وجود خدا کو تسلیم کرنا بار یا غیر معقول سمجھتے ہیں)ایسے ہی حسرتوں اور گمراہیوں میں بھٹکتے بھٹکتے ختم ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح ایک وہ طبقہ ہے جو وجود خدا کو تو مانتا ہے لیکن ضرورت وحی کا احساس نہیں کرتا وہ لوگ بھی بھٹکتے رہ جاتے ہیں، اس غلط فہمی میں پڑے رہ جاتے ہیں کہ جس طرح دیگر جانوروں کو خدا نے پیدا کیا ہم بھی جانور ہیں ہمیں بھی ویسے ہی پیدا کیا اور ہماری زندگی بھی بس کھانا پینا لذت حاصل کرنا اور آخر میں مر جانا اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اس اعتبار سے پھر خدا کے ماننے والے اور نہ ماننے والے میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ کمال فطرت تو یہ کہتی ہے کہ اس باشعور اور باقدرت ذات نے ایسے ہی پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا اتنی اعلی سطح کی عقل انسانی کو آوارہ نہیں رکھا۔
تو ایک فکرِ کامل اگر وجود باری کی قائل ہوتی ہے تو لازماً اس کی جانب سے ہدایت و وحی کی خواہاں ہوتی ہے ضرورت محسوس کرتی ہے اور اگر پہلے ضرورت وحی کا احساس کرتی ہے تو وجود باری کو لازم گردانتی ہے، چنانچہ ضرورت وحی اور وجود باری میں لازم ملزوم کا تعلق ہے۔
وجود باری پر کچھ عقلی و منطقی دلائل
ویسے تو یہ نکتہ کہ، عموماً ہر انسان نفسیاتی طور پر مقصدیت و معنویت کی فطری تلاش رکھتا ہے جو اسے غیبی راہنمائی کا خواہاں بناتی ہے پھر غیبی راہنمائی کی چاہت اسے اس راہنمائی کرنے والی غیبی ذات کے وجود کی جانب کھینچتی ہے، کافی ہے وجود باری کو باور کرانے میں۔ یہ ایک ایسا سادہ نکتہ ہے جو اگر اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو خدا و وحی کی حقیقت سمجھنے میں بہت زیادہ کلامی و فلسفی بحثوں کی ضرورت پیش نہیں آتی، لیکن پھر بھی مستقل طور پر مختصراً ان دلائل کا استحضار مناسب اور مفید لگتا ہے۔
راقم الحروف کے خیال میں وجود باری پر چار دلائل ایسے ہیں جو منکرین و ملحدین کے اعتراضات کا واقعی ٹھوس جواب ہیں اور حق کے متلاشیوں کے لیے چراغِ راہ ہیں۔
1.وجود خلق دلیل ہے وجود خالق پر
یہ ایک سادہ مگر سنجیدہ حقیقت و دلیل ہے وجود باری پر۔ لاکھ سائنسی تھیوریز پیدا ہو جائیں، لاکھ جدید انکشافات رونما ہو جائیں اس آسان اور بنیادی دلیل کو قطعاً جھٹلا نہیں سکتے بلکہ جوں جوں قانونِ طبیعیات (law of physics) کا مطالعہ و انکشاف ہوتا ہے تو یہ سوال مزید حیرانی کے ساتھ ابھر آتا ہے کہ یہ ساری کائنات کا خود بخود اتنا perfect میزان میں بن جانا، یہ آسمانوں پر کئی سارے غلافوں (ozone layers) وغیرہ کا جڑ جانا جس سے براہ راست سورج کی تباہ کن تابناکی سے زمین کی حفاظت ہو جاتی ہے، ایک چھوٹی سی مخلوق چیونٹی کو دیکھ لیں جو دیوار پر چڑھ کر بیسیوں مرتبہ گرتی ہے اس کا بغیر ہڈی کے تخلیق ہو جانا، گوشت خوری کی فطرت رکھنے والے جانوروں کا نوکیلے دانت والا ہونا اور سبزی خور جانوروں کا پست دانتوں والا ہونا، پھر ہر انسان کے جسم میں موجود 96 ہزار کلومیٹر کے بقدر لمبی خون کی وریدوں (blood vessels) کا منظم انداز میں فٹ ہو جانا اور سمٹ جانا، یہ سب اور پھر سارے قوانین طبیعیات و فطرت کا متوازن انداز میں چلنا یہ سارے امور محض ارتقا (evolution) کے طور پر کیسے ہو سکتے ہیں کہ سب خود بخود تیار ہو جائیں، پھر بن جانے سے زیادہ پیچیدہ اور سنجیدہ سوال سارے نظام کے ہزاروں لاکھوں سالوں سے طے شدہ رفتار و میزان میں چلنے کو لے کر ہوتا ہے۔ سائنسی اصطلاح میں اسے ’’فائن ٹیوننگ‘‘ (Fine-Tuning) کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کائنات کے تمام بنیادی قوانین اور قوتیں انتہائی باریک بینی اور توازن کے ساتھ سیٹ کی گئی ہیں۔
اب گریویٹی کو ہی دیکھ لیں، اگر کائنات میں گریویٹی (کششِ ثقل) کی قوت میں معمولی سی کمی یا بیشی بھی ہو جائے تو یہ کائنات مکمل طور پر فنا ہو سکتی ہے۔
اگر کائنات میں کششِ ثقل موجودہ طاقت سے تھوڑی سی بھی کمزور ہو جائے تو ستارے اور کہکشائیں نہیں بنیں گی، بگ بینگ کے بعد مادہ (Matter) خلا میں اس طرح پھیل جاتا کہ گریویٹی اسے اکٹھا کر کے ستارے، سیارے اور کہکشائیں نہ بنا پاتی، پھر گریویٹی کم ہونے سے سورج سیکنڈوں میں پھٹ جائے گا کیونکہ سورج جیسے ستاروں کے مرکز میں نیوکلیئر فیوژن کا بیرونی دباؤ اور گریویٹی کا اندرونی دباؤ ایک دوسرے کو متوازن رکھتے ہیں۔
اسی طرح اگر بڑھ جائے تو ایک اثر یہ ہو کہ انسانوں، جانوروں اور عمارتوں کا وزن اتنا بڑھ جائے گا کہ ہڈیاں اور ڈھانچے اپنے ہی بوجھ سے ٹوٹ جائیں گے۔ زمین کا اندرونی حصہ شدید دباؤ کے باعث پھٹ پڑے گا جس سے قیامت خیز زلزلے اور آتش فشاں آئیں گے۔
ایسے امور عقل کے دریچے کھٹکھٹاتے ہیں اور وجود باری کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور اسی نکتے کو قرآن بار بار انسان کی روح سے مخاطب ہوکر بیان کرتا ہے:
اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ (سورۃ الطور: ۳۵)
’’کیا یہ لوگ بغیر کسی کے آپ سے آپ پیدا ہوگئے، یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں ؟ ‘‘
یہ تو ایک گریوٹی پر بات ہوئی باقی اور نہ جانے ایسے کتنے باریک قوانین طبیعیات ہیں جن کی پیچیدگیاں ملحدین و منکرین کو بھی اس اقرار پر مجبور کر رہی ہے کہ کوئی عظیم تر توانائی (Supreme Energy) ہے جو اس نظام کو چلا رہی ہے۔[2]
2.دلیل فطرت
دلیل فطرت کا ایک پہلو تو وہ ہے جس کے حوالے سے اوپر گفتگو ہوئی کہ ضرورت وحی کا احساس خود وجود خدا کی سوچ کا تقاضا کرتا ہے، اس کے علاوہ طبعی طور پر انسان پر زندگی میں کئی بار ایسے مواقع آتے ہیں جو اسے ایک غیبی ذات کی طرف متوجہ کرتے ہیں اس کی نگاہوں کو آسمان کی طرف بلند کر دیتے ہیں۔ بطور مثال مصیبت کا لمحہ جس کی قرآن کریم بھی منظر کشی کرتا ہے کہ سمندر میں چلتی کشتی جب بھور میں پھنس جاتی ہے اور کنارہ نظر سے روپوش رہتا ہے تو بجز خدا کے اور کوئی ہستی کا استحضار نہیں آتا جیسا کہ ایک امریکی ملحد Cat Stevens کے ساتھ معاملہ پیش آیا تھا جو اس کے اسلام کا سبب بنا۔[3]
اور یہ دلیل صرف مصیبت تک محدود نہیں۔ محبت، حسن، حیرت، تنہائی، موت، بچے کی پیدائش، کسی عظیم منظر کا مشاہدہ، یہ سب بھی انسان کے اندر کسی ماورائی حقیقت کی طرف میلان پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے Blaise Pascal نے کہا تھا کہ انسان کے دل میں ایک ایسی گہرائی ہے جسے دنیا کی کوئی محدود چیز بھر نہیں سکتی۔ اور اسلامی زبان میں یہی ’’فطرت‘‘ ہے
تو بہرحال، ایسے کئی مواقع آتے ہیں جن میں فطرت خدا کو یاد کرتی ہے قطع نظر اس سے کہ وہ خدا کون ہے کہاں ہے کیسا ہے، بس ایک دستک دل پر آتی ہے کہ کوئی تو ذات ہے جس کی طرف غیر اختیاری طور پر دل کی توجہ چلی جا رہی ہے۔
3.دلیل امکان و وجوب اور اس پر قدرے علمی و تفصیلی نظر
وجودِ باری تعالیٰ پر قائم ہونے والی عقلی دلیلوں میں ’’دلیلِ امکان و وجوب‘‘ (Argument from Contingency / Necessary Being Argument) کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ بہت سے اہلِ فلسفہ، متکلمین اور مفکرین نے اسے وجودِ خدا کے قوی ترین عقلی دلائل میں شمار کیا ہے، اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ دلیل کسی خاص مذہب، کسی مخصوص صحیفے یا کسی سائنسی نظریے پر موقوف نہیں، بلکہ خود ’’وجود‘‘ (Being) کی حقیقت سے اپنا استدلال اخذ کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی جڑیں قدیم فلسفے میں بھی ملتی ہیں، اسلامی فلسفے میں بھی، اور جدید فلسفۂ مذہب میں بھی۔ اس دلیل کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ایک نہایت سادہ سوال پر غور کیجیے:
یہ چیزیں جو ہمارے اردگرد موجود ہیں، کیا ان کا وجود لازمی تھا یا ممکن تھا؟
مثلاً آپ، میں، زمین، سورج، درخت، پہاڑ، سمندر، حتیٰ کہ پوری کائنات کیا یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن کا وجود ضروری تھا؟ یا یہ بھی ممکن تھا کہ یہ نہ ہوتیں؟
عقل فوراً جواب دیتی ہے کہ یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو ہو سکتی تھیں اور نہ بھی ہو سکتی تھیں۔ آپ کی پیدائش ایک خاص وقت میں ہوئی، اگر بعض حالات مختلف ہوتے تو آپ پیدا نہ ہوتے ایک درخت اگتا ہے اور پھر سوکھ جاتا ہے۔ ایک ستارہ بنتا ہے اور پھر فنا ہو جاتا ہے۔ کائنات میں موجود ہر چیز تغیر، امکان اور احتیاج کی حامل ہے۔
فلسفیانہ زبان میں ایسی چیز کو ’’ممکن الوجود‘‘ (Contingent Being) کہا جاتا ہے۔ ممکن الوجود کا مطلب یہ ہے کہ اس کے وجود اور عدم دونوں کا امکان ہو اور وہ بذاتِ خود اپنے وجود کا تقاضا نہیں کرتی، اس کا وجود کسی اور چیز پر موقوف ہوتا ہے۔
یہاں سے اصل استدلال شروع ہوتا ہے۔ اگر ہر موجود چیز ممکن الوجود ہے، تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ ان سب کے وجود کی آخری توجیہ کیا ہے؟ اگر ہر چیز کسی دوسری چیز پر منحصر ہے، تو یہ انحصار آخر کہاں جا کر رکے گا؟
فرض کیجیے آپ ایک کتاب دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں: یہ کہاں سے آئی؟ جواب ملتا ہے: فلاں شخص نے دی۔ آپ پوچھتے ہیں: اسے کہاں سے ملی؟ جواب آتا ہے: کسی اور نے دی۔ پھر آپ پوچھتے ہیں: اسے کس نے دی؟
اگر یہی سلسلہ لامتناہی چلتا رہے اور کہیں بھی کوئی اصل مالک یا اصل مصدر نہ ہو، تو کتاب کی موجودگی کی معقول توجیہ حاصل نہیں ہو گی۔
اسی طرح اگر پوری کائنات میں ہر چیز صرف دوسری محتاج چیزوں پر کھڑی ہو، اور کہیں بھی کوئی غیر محتاج حقیقت موجود نہ ہو، تو وجود کی آخری توضیح کبھی حاصل نہیں ہو گی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عقل ایک ایسے وجود کا تقاضا کرتی ہے جو خود کسی اور کا محتاج نہ ہو، جو اپنا وجود کسی اور سے حاصل نہ کرتا ہو، جو ممکن نہیں بلکہ واجب ہو۔ اسلامی فلسفے کی اصطلاح میں اسے ’’واجب الوجود‘‘ کہا جاتا ہے۔ واجب الوجود وہ ہے جس کے بارے میں عدم کا تصور ممکن نہ ہو اور وہ کسی سبب سے پیدا نہ ہوا ہو، بلکہ باقی تمام اسباب اور موجودات بالآخر اسی پر قائم ہوں۔ یہ استدلال اسلامی فلسفے میں اپنی نہایت ترقی یافتہ شکل میں ابن سینا کے ہاں ملتا ہے۔ ابن سینا نے وجود کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا:
- ممکن الوجود
- واجب الوجود
ان کے مطابق اگر تمام موجودات ممکن الوجود ہوں تو ان کے مجموعے کو بھی کسی علت کی ضرورت ہو گی اور چونکہ تسلسلِ علل (Infinite Regress)[4] آخری توضیح فراہم نہیں کرتا، اس لیے بالآخر ایک واجب الوجود کا ہونا ضروری ہے۔ ابن سینا کی یہ دلیل اتنی مؤثر ثابت ہوئی کہ بعد میں اسلامی، یہودی اور مسیحی فلسفیوں نے بھی اس سے استفادہ کیا۔
البتہ اسلامی روایت میں سب اہلِ علم نے اسے ایک ہی انداز میں قبول نہیں کیا۔ امام غزالی نے فلسفیوں سے متعدد مقامات پر اختلاف کیا، لیکن وہ بھی اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ کائنات خود اپنی وضاحت نہیں کر سکتی۔ ’’الاقتصاد فی الاعتقاد‘‘ اور ’’القسطاس المستقیم‘‘ جیسے مباحث میں غزالی بار بار اس نکتے کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ممکنات کی دنیا کسی ایسی حقیقت پر قائم ہونی چاہیے جو خود محتاج نہ ہو۔
البتہ امام غزالی کی توجہ زیادہ تر ’’حدوثِ عالم‘‘ (Temporal Origination of the Universe) کی طرف تھی۔ ان کے نزدیک تغیر اور حدوث اس بات کی دلیل ہیں کہ کائنات ازلی نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اسے ایک محدث (Creator) کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف ابن رشد نے استدلال کا ایک مختلف زاویہ اختیار کیا۔ ابن رشد کے نزدیک قرآن خود انسان کو کائنات کے نظم، غایت اور حکمت میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کے ہاں دلیلِ عنایت (Providence) اور دلیلِ اختراع (Design) زیادہ نمایاں ہیں، لیکن وہ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ محتاج اور متغیر موجودات خود اپنی آخری توجیہ نہیں بن سکتے۔
پھر ہم امام ابن تیمیہ کی طرف آتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ نے فلسفیانہ اصطلاحات پر بعض تنقیدات کیں، خصوصاً اس وقت جب وہ غیر ضروری تجرید (abstraction) اختیار کر لیتی تھیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بھی اس بنیادی حقیقت کو مانتے ہیں کہ ممکنات اور حادثات کا سلسلہ خود بخود قائم نہیں رہ سکتا۔ ان کے نزدیک انسان کی فطرت، عقل اور مشاہدہ تینوں اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ کائنات کا ایک خالق اور مدبر موجود ہے۔
امام ابن تیمیہ کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ خدا کا علم صرف پیچیدہ فلسفیانہ قیاسات پر منحصر نہیں۔ عام انسان بھی اپنی فطرت اور عقلِ سلیم کے ذریعے اپنے رب کو پہچان سکتا ہے۔ ان کے نزدیک وجودِ باری کی معرفت انسانی فطرت میں رچی بسی ہے، فلسفیانہ دلائل اس کی توضیح اور تقویت کرتے ہیں بس۔
اب اگر جدید فلسفے کی طرف آئیں تو حیرت انگیز طور پر یہی بحث آج بھی زندہ ہے۔ مشہور معاصر فلسفی Alexander Pruss اور Robert Koons جیسے مفکرین نے Contingency Argument کو جدید صورتوں میں پیش کیا ہے۔ ان کا بنیادی سوال آج بھی وہی ہے:
“Why is there something rather than nothing?”
’’کچھ ہے کیوں؟ کچھ بھی نہ ہونے کے بجائے کچھ موجود کیوں ہے؟‘‘
یہ سوال بظاہر سادہ ہے، لیکن فلسفے کی تاریخ کے عظیم ترین سوالات میں شمار ہوتا ہے۔
اگر کائنات موجود ہے تو اس کی کوئی توجیہ ہونی چاہیے۔ اگر ہر چیز contingent ہے تو آخر کار کسی non-contingent reality تک پہنچنا ہو گا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں Necessary Being کا تصور سامنے آتا ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید طبیعیات (physics) جتنی ترقی کرتی جا رہی ہے، اتنا ہی یہ واضح ہو رہا ہے کہ طبیعی قوانین کائنات کے اندر ہونے والے واقعات کی وضاحت تو کرتے ہیں، مگر خود کائنات کے وجود کی آخری فلسفیانہ توضیح فراہم نہیں کرتے۔
طبیعیات یہ بتا سکتی ہیں کہ کائنات کیسے ارتقا پذیر ہوئی، لیکن یہ سوال کہ ’’قوانینِ فطرت خود کیوں موجود ہیں؟‘‘ یا ’’وجود سرے سے کیوں موجود ہے؟‘‘ بدستور فلسفیانہ سوال رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دلیلِ امکان و وجوب محض ایک مذہبی دلیل نہیں بلکہ وجود (Being) کے بارے میں عقل کے بنیادی سوال کا جواب ہے۔
اس دلیل کا خلاصہ چند سطروں میں یوں کیا جا سکتا ہے:
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر چیز محتاج، متغیر اور ممکن ہے، ممکنات کی یہ پوری دنیا اپنی آخری توضیح خود نہیں بن سکتی۔ اگر ہر چیز کسی اور پر منحصر ہو تو بالآخر ایک ایسی حقیقت کا ہونا ضروری ہے جو خود کسی اور پر منحصر نہ ہو، وہی حقیقت واجب الوجود ہے۔ وہی ازلی ہے، وہی غیر محتاج ہے، وہی تمام موجودات کی بنیاد ہے، اسلامی زبان میں اسی کو اللہ تعالیٰ کہا جاتا ہے۔
اور شاید اس دلیل کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ ہمیں کائنات کے کسی ایک گوشے سے نہیں بلکہ خود ’’وجود‘‘ کے راز سے اٹھا کر اس ذات کی طرف لے جاتی ہے جس کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ (سورۃ الحدید: ۳)
’’وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی اور چھپا ہوا بھی۔‘‘
گویا تمام ممکنات کے پیچھے، تمام محتاجیوں کے پیچھے، اور تمام وجود کے پیچھے آخر کار ایک ہی غیر محتاج حقیقت کھڑی ہے، اور اسی حقیقت کو اہلِ ایمان ’’اللہ رب العالمین‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔
درج بالا تین دلائل کے توڑ میں ملحدین و منکرین کے پاس اصولی طور پر کوئی خاص مضبوط عقلی دلیل نہیں رہتی۔ جذباتی دلائل یا جزوی معاملوں کو لے کر اعتراضات ہوتے ہیں جن سے مذکورہ دلائل کا توڑ نہیں بن پاتا۔ ظاہر ہے عقلی دلائل کا توڑ جذباتی سوالات نہیں ہوتے، مثلاً قبولیت دعا کو لے کر جذباتی سوال کہ خدا ہے تو میری سنتا کیوں نہیں ؟ میرا فلاں مسئلہ حل ہوتا کیوں نہیں؟ تو واضح بات ہے کہ کسی کی دعا میں قبولیت ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ پوری کائنات خود بن گئی اور اس کا پورا پیچیدہ باریک نظام خود چل رہا ہے قوانین فطرت خود کام کر رہے ہیں۔
یا تو وہ تسلسل آلہ کے ذریعے وہ اعتراض کریں گے، یعنی سب کچھ خدا نے بنایا تو خدا کو کس نے بنایا ؟ ظاہر ہے اس سے عدمیتِ خدا ثابت نہیں ہوتی لیکن پھر بھی یہ اعتراض اوپر ذکر کردہ ’’دلیل امکان و وجود‘‘ کے ذریعے ٹوٹ جاتا ہے کہ کسی ایک نکتے پر آ کر کسی ذات کے وجود کو تسلیم کرنا پڑے گا منطقی طور، ورنہ کوئی چیز موجود نہیں ہوگی۔
پھر یا تو وہ بحث پیش کرتے ہیں ’’وجود شر ؍ باطل‘‘ (Problem of Evil) کی یعنی اگر خدا ہے اور قدرت والا ہے اور علم بھی رکھتا ہے تو ظلم و باطل کیوں موجود ہے دنیا بھر میں ؟جو کہ ایک جذباتی اعتراض ہے کیونکہ اس اعتراض سے بھی وجود خدا کی نفی نہیں لازم آتی۔ لیکن پھر بھی من جملہ اس کے کئی جوابوں کے ایک سیدھا سادہ بنیادی جواب یہ ہے کہ خدا با قدرت اور باعِلم ہونے کے ساتھ ساتھ باحکمت بھی ہے۔ اس کے ظلم و شر کو ختم کرنے یا چھوڑے رکھنے میں بیش بہا حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے:
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا (سورۃ فاطر: ۴۵)
’’اور اگر اللہ لوگوں کے ہر کرتوت پر ان کی پکڑ کرنے لگتا تو اس زمین کی پشت پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ ایک معین مدت تک کے لیے ان کو مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا تو اللہ اپنے بندوں کو خود دیکھ لے گا۔‘‘
اور سورہ کہف میں مزید الگ و عجیب انداز سے فرمایا:
وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ ۭ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ ۭ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْىِٕلًا وَتِلْكَ الْقُرٰٓى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا (سورۃ الکھف: ۵۸، ۵۹)
’’ اور تمہارا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا رحمت والا ہے۔ جو کمائی انہوں نے کی ہے، اگر وہ اس کی وجہ سے انہیں پکڑنے پر آتا تو ان کو جلد ہی عذاب دے دیتا، لیکن ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جس سے بچنے کے لیے انہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی۔ یہ ساری بستیاں (تمہارے سامنے) ہیں، جب انہوں نے ظلم کی روش اپنائی تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کی ہلاکت کے لیے (بھی) ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا تھا۔‘‘
خلاصہ یہ کہ ظلم و برائی بالکل فورا ختم ہو جائے تو کوئی زمین پر باقی ہی نہ رہ پائے۔ ہر انسان چونکہ کسی نہ کسی درجے میں ظلم کرنے والا ہوتا ہے خواہ وہ ظلم حق خالق سے متعلق ہو یا حق مخلوق سے۔ البتہ ہر ظلم اور برائی اپنے اپنے وقت پر ختم ہوتی ہے، اسے مہلت دینا اسی کی حکمت کا بلکہ سورہ کہف میں مذکور آیت کے مطابق رحمت کا تقاضا ہے اور تاریخ میں اس کی بہت مثالیں موجود ہیں کہ کوئی بھی ظلم و شر کبھی ہمیشہ نہیں ٹکا۔ اس کی سب سے واضح مثال فرعون ہے جس کے تاریخی مظالم اور سوئے عاقبت کا اعتراف تقریباً ہر مذہبی و غیر مذہبی مؤرخ کرتا ہے اور خدا نے اس کے جسم کو آج تک عجوبے کی شکل میں برقرار رکھ کر مزید اس حقیقت کو مہر زدہ کر دیا (ان شاء اللّٰہ آئندہ قسط میں اس پر کچھ عرض کیا جائے گا)۔
تاہم، یہ بات بھی واضح رہے کہ اسلامی نکتۂ نظر سے کئی مرتبہ کسی فرد یا قوم پر ظلم و شر کا غلبہ اور تسلط اسی فرد ؍ قوم کے ماضی میں کیے گئے کرتوتوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
وَكَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (سورۃ الانعام: ۱۲۹)
’’ اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں۔‘‘
پھر وہ ظلم و شر اگر پوری قوم کے کرتوتوں کا وبال ہوتا ہے تو پوری یا ایک بڑی جمعیت و اکثریتِ قوم کے راہ راست پر آنے سے زائل ہوتا ہے محض چند اشخاص کے درست ہوجانے سے نہیں۔
اس کے علاوہ یا تو ملحدین Quantum Mechanics اور Multiverse جیسے غیر معقول دلائل کے ذریعے وجود باری کا بطلان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ جدید دور کی نہایت اہم بحث ہے، لیکن اس میں ایک بنیادی غلط فہمی اکثر پائی جاتی ہے کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ Quantum Mechanics یا Multiverse نے خدا کی ضرورت ختم کر دی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریات اگر درست بھی مان لیے جائیں تو زیادہ سے زیادہ کچھ مخصوص استدلالات کی شکل بدلتے ہیں، خدا کے وجود کے سوال کو ختم نہیں کرتے۔
پہلے دونوں نظریات کو مختصراً سمجھ لیتے ہیں۔
Quantum Mechanics دراصل طبیعیات (Physics) کا وہ شعبہ ہے جو ایٹموں اور ذیلی ذرّات (Subatomic Particles) کے رویّے کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس دنیا میں بعض واقعات ہمیں احتمالی نظر آتے ہیں، مثال کے طور پر الیکٹران کی درست پوزیشن اور رفتار کو ایک ساتھ قطعی طور پر معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ بعض Quantum واقعات ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے وہ کسی خاص ظاہری سبب کے بغیر رونما ہو رہے ہوں۔
تو یہیں سے بعض ملحد مفکرین نے یہ استدلال کیا:
’’اگر Quantum سطح پر بعض چیزیں بظاہر بغیر کسی سبب کے واقع ہو سکتی ہیں، تو پھر کائنات بھی بغیر خالق کے وجود میں آسکتی ہے۔‘‘
لیکن یہاں ایک اہم مغالطہ موجود ہے۔ کہ Quantum Mechanics یہ نہیں کہتی کہ ’’کچھ بھی مطلق عدم (Absolute Nothingness) سے پیدا ہو جاتا ہے‘‘۔ Quantum events ہمیشہ ایک موجود Quantum Reality، موجود قوانینِ فطرت، موجود Quantum Fields اور موجود ریاضیاتی ڈھانچے کے اندر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ یعنی ’’کچھ‘‘ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔
لہٰذا فلسفیانہ بلکہ وہ فطری سوال بدستور باقی رہتا ہے کہ اس طرح کے Quantum Fields کہاں سے آئے؟ قوانینِ فطرت کہاں سے آئے؟ ریاضیاتی نظم کیوں موجود ہے؟ وجود سرے سے کیوں موجود ہے؟
دوسرے الفاظ میں Quantum Mechanics سببیت (Causality) کی بعض سادہ تصورات کو پیچیدہ بناتی ہے، لیکن ’’وجود کیوں ہے؟‘‘ کے سوال کا جواب نہیں دیتی اور سب سے بڑی بات Quantum ایک احتمالی صورت پر تجزیہ جو حتمیت کو توڑ نہیں سکتی، وجود باری ایک ایسی ٹھوس حقیقت جسے چیلنج کرنے کے لیے یہ احتمالی دلائل بالکل بے حیثیت ہیں۔
اب Multiverse کی طرف آتے ہیں۔
Multiverse کا بنیادی تصور یہ ہے کہ شاید ہماری کائنات واحد کائنات نہیں بلکہ بے شمار کائناتوں میں سے ایک ہے۔ بعض کائناتوں میں قوانینِ فطرت مختلف ہو سکتے ہیں، بعض میں زندگی ممکن نہ ہو، اور بعض میں ہمارے جیسی Fine-Tuning موجود ہو۔
اس نظریے کو بعض مفکرین Fine-Tuning Argument کے جواب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ استدلال کچھ یوں ہوتا ہے:
’’اگر اربوں یا کھربوں کائناتیں موجود ہوں تو ان میں سے کسی ایک کا زندگی کے لیے موزوں نکل آنا حیرت کی بات نہیں، لہٰذا خدا کو فرض کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
یہ دلیل پہلی نظر میں دلچسپ لگتی ہے، لیکن اس پر کئی اہم اعتراضات ہیں۔
سب سے پہلا اعتراض یہ ہے کہ Multiverse خود ابھی ایک فلسفیانہ سائنسی مفروضہ (Hypothesis) ہے، کوئی مشاہدہ شدہ حقیقت نہیں۔ ابھی تک دوسری universes کا براہِ راست تجرباتی ثبوت موجود نہیں۔
دوسرا اور زیادہ اہم اعتراض یہ ہے کہ فرض کریں Multiverse واقعی موجود ہے، تب بھی سوال باقی رہتا ہے کہ یہ Multiverse کیوں موجود ہے؟ وہ قوانین کہاں سے آئے جو Multiverse پیدا کرتے ہیں؟ وہ بنیادی حقیقت کیا ہے جس سے یہ تمام universes وجود میں آئے؟
یہاں پھر وہی دلیلِ امکان و وجوب سامنے آ جاتی ہے۔ اگر ایک universe محتاج ہے تو اس کی توضیح درکار ہے۔ اگر ایک کھرب universes ہیں تو ان سب کی توضیح بھی درکار ہے۔ صفر کو ایک کھرب مرتبہ جمع کرنے سے ’’واجب الوجود‘‘ پیدا نہیں ہوجاتا۔ ممکن الوجود خواہ ایک ہو یا ایک کھرب، وہ پھر بھی ممکن الوجود ہی رہے گا۔
یہ ممکن ہے کہ وہ کائنات کی ساخت کے بارے میں کچھ وضاحت پیش کرے، مگر وہ وجود کی آخری توضیح (Ultimate Explanation) نہیں بنتا۔
تو Multiverse بھی خدا کے وجود کو باطل ثابت نہیں کرتا وہ زیادہ سے زیادہ Fine-Tuning کی ایک متبادل طبیعیاتی توضیح پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن وجودِ باری کے گہرے فلسفیانہ دلائل خصوصاً دلیلِ امکان و وجوب، دلیلِ فطرت، دلیلِ شعور، اور دلیلِ وحی ان نظریات کے بعد بھی اپنی اصل قوت کے ساتھ قائم رہتے ہیں، کیونکہ ان کا موضوع خود وجود، معنی، عقل، مقصد اور حقیقت کی آخری بنیاد ہے، نہ کہ صرف ایک کائنات کی طبیعی ساخت۔
تو یہ لے دے کر کچھ مناققضات پیش کیے جاتے ہیں وجود باری کے تصور کو چیلنج کرنے کے لیے جو دیکھے جا سکتے ہیں کہ کیسے بوگس اور کھوکھلے ہیں۔
الحمد للّہ آج تک کوئی ملحد و منکر وجود باری کے انکار پر کوئی ایسی ٹھوس بحث (Definitive Argument) پیش نہیں کر پایا جو عقیدۂ وجود باری کی بنیاد کو ہلا سکے اور ان شاء اللّٰہ قیامت تک کوئی نہیں پیش کر سکے گا۔
اب یہاں ایک مزید سوال رہ جاتا ہے کہ اگر خدا کا وجود معقول ہے، وحی کی ضرورت بھی معقول ہے، اور مذہبی میلان انسانی فطرت میں بھی پایا جاتا ہے، تو پھر جدید انسان خدا سے دور کیوں ہوا؟
یہ سوال ہمیں Enlightenment، Secularization، جدید تعلیم، میڈیا، اور جدید Epistemology کی پوری تاریخ تک لے جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب سمجھے بغیر جدید الحاد، سیکولرزم اور مذہبی بے زاری کو پوری طرح سمجھنا مشکل ہے۔
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے ایک غلط فہمی دور کرنی ہو گی۔ عام طور پر یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ انسان ہزاروں سال تک مذہبی جہالت میں مبتلا رہا، پھر سائنس آئی، عقل آئی، اور انسان نے مذہب کو چھوڑ دیا لیکن جب تاریخ کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یورپ میں جدید سیکولر ذہنیت کا ظہور براہِ راست خدا کے خلاف بغاوت سے نہیں ہوا تھا بلکہ ایک مخصوص تاریخی تجربے کے نتیجے میں ہوا۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں کلیسا صرف مذہبی ادارہ نہیں تھا بلکہ سیاسی، معاشی اور علمی اقتدار کا بھی مرکز تھا۔ جب بعض سائنسی دریافتیں اور نئے فکری رجحانات سامنے آئے تو کلیسا کے بعض نمائندوں نے ان کی سخت مخالفت کی۔ نتیجتاً بہت سے اہلِ فکر کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہوا کہ مذہب اور عقل ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔
یہاں سے ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی، پہلے سوال یہ ہوا کرتا تھا کہ ’’خدا نے کیا کہا ہے؟‘‘ پھر سوال یہ بن گیا کہ ’’انسانی عقل کیا کہتی ہے؟‘‘ پھر آہستہ آہستہ سوال یہ بن گیا کہ ’’کیا ہمیں خدا کی ضرورت بھی ہے؟‘‘ اور آخرکار بعض حلقوں میں سوال یہ بن گیا کہ ’’کیا خدا کا تصور محض ایک انسانی تخلیق تو نہیں؟‘‘ جس نے بعد کی نسل کے فطری چراغ کو گویا بجھانے کا کام کر دیا۔
یہ پورا سفر چند سالوں میں نہیں بلکہ کئی صدیوں میں طے ہوا، مگر اہم بات یہ ہے کہ جدید انسان نے خدا کو چھوڑ کر بھی خدا کی جگہ خالی نہیں چھوڑی۔ انسان فطرتاً کسی نہ کسی ’’مرکز‘‘ کا محتاج ہے، جب خدا کو مرکز سے ہٹایا گیا تو اس کی جگہ مختلف چیزیں آتی گئیں۔
کبھی ’’عقل‘‘ خدا بن گئی، کبھی ’’سائنس‘‘ خدا بن گئی، کبھی ’’ریاست‘‘ خدا بن گئی، کبھی ’’قومیت‘‘ خدا بن گئی۔ اور آج کے دور میں بعض اوقات ’’خواہشِ نفس‘‘ خدا بن جاتی ہے۔
قرآن نے شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا:
اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ (سورۃ الجاثیۃ: ۲۳)
’’کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟‘‘
ممکن ہے کہ انسان تصور خدا کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے، لیکن کسی ’’مطلق مرکز‘‘ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر حقیقی خدا کو چھوڑ دے تو کوئی اور چیز اس خلا کو پُر کرنے لگتی ہے۔
اسی لیے جدید دور کا ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف مذہبی وابستگی کم ہوئی، دوسری طرف نئی قسم کی ’’عقیدتیں‘‘ پیدا ہو گئیں۔ لوگ نظریات، قومیتوں، سیاسی تحریکوں، شخصیات، برانڈز، مشہور شخصیات، اور حتیٰ کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی بعض اوقات ایسا تعلق قائم کر لیتے ہیں جو ماضی میں مذہب کے ساتھ قائم کیا جاتا تھا۔
یہاں ایک اور گہرا نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جدید سیکولر انسان نے خدا کو اس لیے نہیں چھوڑا کہ اسے تمام جوابات مل گئے تھے، بلکہ اکثر اس لیے کہ اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ بعض سوالات پوچھنے ہی نہیں ہیں۔ مثلاً:
- زندگی کا آخری مقصد کیا ہے؟
- موت کے بعد کیا ہو گا؟
- خیر اور شر کا حتمی معیار کیا ہے؟
- انسانی وقار کی بنیاد کیا ہے؟
جدید فکر نے اکثر ان سوالات کو إMetaphysical قرار دے کر ایک طرف رکھ دیا، لیکن سوالات ختم نہیں ہوئے وہ انسان کے دل میں باقی رہے۔
اسی لیے ہم ایک عجیب منظر دیکھتے ہیں۔ تاریخ میں شاید کبھی انسان کے پاس اتنی معلومات نہیں تھیں جتنی آج ہیں، مگر ساتھ ہی Anxiety، Depression، Loneliness اور Existential Emptiness جیسے نفسیاتی امراض بھی غیر معمولی سطح پر موجود ہیں اور شاید اتنے کبھی نہ ہوئے ہو۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر نفسیاتی مسئلے کی وجہ مذہب سے دوری ہے، لیکن یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ جدید انسان نے بہت کچھ حاصل کیا ہے مگر ’’معنی‘‘ (Meaning) کا سوال ابھی تک حل نہیں کیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے جدید مفکرین دوبارہ اس سوال کی طرف لوٹ رہے ہیں کہ:
- کیا انسان صرف حیاتیاتی مشین ہے؟
- کیا شعور محض کیمیائی تعاملات کا نتیجہ ہے؟
- کیا اخلاق صرف ارتقائی فائدے کا نام ہے؟
- کیا مقصد صرف ایک نفسیاتی فریب ہے؟
اور جتنا یہ سوالات گہرے ہوتے جاتے ہیں، اتنا ہی انسان دوبارہ فلسفے، مذہب اور ماورائے طبیعیات کی طرف متوجہ ہونے لگتا ہے۔
یہاں سے ایک نہایت دلچسپ اور اہم بحث شروع ہوتی ہے، جسے بعض معاصر مسلم مفکرین یوں بیان کرتے ہیں:
جدید انسان خدا سے دور صرف اس لیے نہیں ہوا کہ اس نے خدا کو رد کر دیا بلکہ اس لیے ہوا کہ اس نے ایک خاص Epistemology قبول کر لی۔ یعنی اس نے پہلے یہ طے کر لیا کہ ’’صرف وہی چیز قابلِ علم ہے جو حواس یا تجربے سے ثابت ہو سکے‘‘۔ جب یہ اصول قبول کر لیا گیا تو خدا، وحی، روح، فرشتے اور آخرت خود بخود دائرۂ علم سے باہر چلے گئے۔
یہی وجہ ہے کہ اصل معرکہ آج اکثر ’’خدا کے وجود‘‘ پر نہیں بلکہ ’’علم کی تعریف‘‘ پر ہوتا ہے۔ اگر علم صرف تجربہ گاہ میں ناپی جانے والی چیزوں کا نام ہے تو یقیناً خدا، اخلاق، حسن، محبت اور مقصد سب مشکل میں پڑ جائیں گے، لیکن اگر علم کا دائرہ عقل، فطرت، اخلاقی شعور، وجدانی ادراک اور وحی تک پھیلتا ہے تو پھر تصویر یکسر بدل جاتی ہے، اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری گزشتہ گفتگو دوبارہ سامنے آتی ہے:
وجودِ باری کا سوال دراصل Epistemology کے سوال سے جدا نہیں۔
غرضیکہ انسان خدا کو اکثر اس لیے نہیں کھوتا کہ اس کے پاس خدا کے خلاف کوئی قطعی دلیل آ گئی ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ اس نے حقیقت کو دیکھنے کے لیے ایک ایسا چشمہ پہن لیا ہوتا ہے جس میں خدا کو دیکھنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔
اور یہی وجہ ہے کہ اسلام کی دعوت صرف ’’خدا موجود ہے‘‘ کہنے پر اکتفا نہیں کرتی، بلکہ انسان کو یہ بھی سکھاتی ہے کہ حقیقت کو دیکھنے کا صحیح زاویہ کیا ہے، علم کیا ہے، انسان کیا ہے، اور کائنات کا مطلب کیا ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
[1] بلیز پاسکل(Blaise Pascal) (1623–1662) فرانس کا مشہور ریاضی دان، طبعیات دان، موجد اور فلسفی تھا اسے جدید احتمال (Probability Theory) کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے، اس نے ریاضی، طبیعیات اور فلسفے میں اہم کارنامے انجام دیے، فلسفہ اور مذہب کے میدان میں اپنی کتاب Pensées کی وجہ سے معروف ہے۔
[2] کئی مغربی سائنسدان و مفکرین ملحد یا لاادری (agnostic) پس منظر رکھتے تھے، لیکن کائنات کے نظم، قوانینِ فطرت اور “Fine-Tuning” کا مطالعہ کرتے ہوئے اس نتیجے کے قریب پہنچے کہ کائنات کے پیچھے کوئی عظیم ذہانت (Super Intelligence) یا فوق الطبعی نظم کارفرما معلوم ہوتی ہے، تو ان میں چند نام بہت نمایاں ہیں، جیسے:
- Fred Hoyle برطانوی ماہرِ فلکیات اور ماہرِ کونیات بیسویں صدی کے بڑے سائنس دانوں میں شمار ہوتا ہے،وہ ابتدا میں الحاد اور مادیت کی طرف مائل تھے، لیکن کائنات میں کاربن (Carbon) کی تشکیل اور طبیعیاتی مستقلات (Physical Constants) کے حیرت انگیز توازن پر غور کرتے ہوئے انہوں نے مشہور جملہ کہا:
“A commonsense interpretation of the facts suggests that a super intellect has monkeyed with physics, as well as with chemistry and biology, and that there are no blind forces worth speaking about in nature.”
“حقائق کی سادہ فہم تعبیر یہ بتاتی ہے کہ کسی عظیم فوق العادہ عقل (Super intellect) نے طبیعیات، کیمیا اور حیاتیات میں مداخلت کی ہے، اور فطرت میں ایسی کوئی اندھی قوت دکھائی نہیں دیتی جسے قابلِ ذکر کہا جا سکے۔‘‘ (The Intelligent Universe)
- اسی طرح Paul Davies موجودہ دور کا معروف طبیعیات دان اور ماہرِ کونیات ہے وہ روایتی مذہبی مفکر نہیں، لیکن کائنات کے نظم اور قوانین پر اس کی تحریریں بہت مشہور ہیں۔
اس نے لکھا:
“Scientists are slowly waking up to an inconvenient truth — the universe looks suspiciously like a fix.”
’’سائنس دان آہستہ آہستہ ایک ناگوار حقیقت کی طرف بیدار ہو رہے ہیں کہ کائنات مشتبہ حد تک ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے اسے جان بوجھ کر ترتیب دیا گیا ہو۔‘‘ (The Mind of God)
- اور انتہائی اہم حوالہ Antony Flew کا ہے جو بیسویں صدی کے مشہور ترین ملحد فلسفیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے تقریباً پچاس برس الحاد کا دفاع کیا، لیکن عمر کے آخری حصے میں حیاتیات اور DNA کی پیچیدگی پر غور کرتے ہوئے کہا:
“I now believe that the universe was brought into existence by an Infinite Intelligence”
’’اب میں یقین رکھتا ہوں کہ کائنات کو ایک لا محدود عقل نے وجود میں لایا ہے۔‘‘
اس نے اپنی کتاب There Is a God میں اس تبدیلی کی تفصیل بیان کی ہے۔(There Is a God)
[3] مشہور برطانوی گلوکار یوسف اسلام (سابق Cat Stevens) کی قبولِ اسلام کی داستان دلیل فطرت کے شواہد میں سے ایک ہے۔ Cat Stevens بیسویں صدی کے مقبول ترین موسیقاروں میں شمار ہوتے تھے، شہرت، دولت، عزت اور دنیاوی کامیابی ان کے قدموں میں تھی، لیکن اس سب کے باوجود ان کے اندر ایک فکری اور روحانی خلا موجود تھا۔ ان کی اپنی بیان کردہ روداد کے مطابق 1975ء میں وہ کیلی فورنیا کے کسی سمندر میں تیراکی کر رہے تھے کہ اس دوران شدید لہروں میں پھنس گئے اور ڈوبنے کے قریب پہنچ گئے، اس نازک لمحے میں، جب ظاہری اسباب تقریباً ختم ہو چکے تھے، ان کے دل سے بے ساختہ خدا کی طرف رجوع پیدا ہوا، بعد میں انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے خدا سے مدد مانگی اور عہد کیا کہ اگر وہ بچ گئے تو اپنی زندگی کو حقیقت کی تلاش کے لیے وقف کر دیں گے۔
یہ واقعہ بذاتِ خود خدا کے وجود کا منطقی برہان نہیں، لیکن انسانی فطرت کے ایک اہم پہلو کی نشاندہی ضرور کرتا ہے۔ انسان جب اپنی بے بسی کا حقیقی تجربہ کرتا ہے تو اس کے اندر سے ایک فطری رجحان ابھرتا ہے جو کسی اعلیٰ اور قادر ہستی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اسلامی روایت ’’فطرت‘‘ کے نام سے تعبیر کرتی ہے۔
اس واقعے کے کچھ عرصے بعد ان کے بھائی نے انہیں قرآنِ مجید کا ایک نسخہ تحفے میں دیا، انہوں نے قرآن کا مطالعہ شروع کیا اور محسوس کیا کہ وہ سوالات جن کے جواب وہ مختلف فلسفوں، روحانی تحریکوں اور زندگی کے تجربات میں تلاش کر رہے تھے، قرآن انہیں ایک مربوط اور معقول شکل میں پیش کر رہا ہے، بالآخر 1977ء میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام یوسف اسلام رکھ لیا۔
(Encyclopaedia Britannica, Cat Stevens, Yusuf Islam)
[4] اصطلاح Infinite Regress کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کی وجہ پوچھتے پوچھتے ہم ہمیشہ ایک اور وجہ کی طرف چلے جائیں، لیکن کبھی کسی آخری اور بنیادی وجہ تک نہ پہنچ سکیں۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ کائنات کو ایک چیز نے پیدا کیا، پھر اس چیز کو دوسری نے، دوسری کو تیسری نے، اور یہ سلسلہ کبھی ختم ہی نہ ہو، تو اسے Infinite Regress کہتے ہیں۔ فلاسفہ کا کہنا ہے کہ اگر ہر چیز کسی دوسری چیز کی محتاج ہو اور سلسلہ کبھی کسی غیر محتاج حقیقت پر نہ رکے، تو پھر موجودہ چیزوں کا وجود بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس لیے آخر کار ایک ایسی ہستی کا ہونا ضروری ہے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو، بلکہ باقی سب کے وجود کی بنیاد ہو۔ اسلامی فلسفے میں اسے واجب الوجود کہا جاتا ہے۔
