زیرِ نظر تحریر افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجاہد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر افغانستان میں مدارس اور دینی تعلیم کے نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے ، لیکن کتاب میں بیان کی گئی امت مسلمہ کی حالت اور اس حوالے سے جو مطالبہ ایک افغان عالم ِاور مدرسے سے کیا گیا ہے وہ درحقیقت باقی عالمِ اسلام کے علماء اور مدارس سے زیادہ مطلوب ہے۔ اس لیے کہ افغانستان میں تو آج ایک شرعی و اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے جبکہ باقی عالَمِ اسلام اس سے کہیں پیچھے ہے۔ اس کتاب کے اصل مخاطبین علماء و طلبہ ہیں جن کی تاریخ بالاکوٹ، شاملی، صادق پور اور دیوبند کے پہاڑوں، دروں، میدانوں اور مساجد و مدارس کے در و دیوار پر نوشتہ ہے! ومن اللہ التوفیق! (ادارہ)
باب ہشتم: مدارس کے نصاب میں طلباء کے اندر انقلابی فکر و سیاسی شعور پیدا کرنے والے مضامین کا فقدان (۲)
باطل کی پہچان کیوں ضروری ہے؟
باطل کی پہچان اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کی آمد کا بنیادی مقصد انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف بلانا، ان کے عقائد، اخلاق، معاملات، افکار اور تصورات کی اصلاح کرنا اور فساد و گمراہی کا خاتمہ کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسلام کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔
ظاہر ہے کہ امر بالمعروف اسی وقت ممکن ہے جب معروف کو پہچانا جائے، اور نہی عن المنکر اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب منکر، اس کے نقصانات، خطرات اور اس کے انکار کی وجوہات کو سمجھا جائے۔ معروف کی دعوت دینا اور اصلاحِ احوال کی کوشش کرنا دین کا ایجابی اور تعمیری پہلو ہے، جبکہ منکر اور فساد کے خلاف جدوجہد دین کا دفاعی اور اصلاحی پہلو ہے۔
لہٰذا جس طرح حق کو لوگوں تک پہنچانا، اس کا دفاع کرنا اور اس کی اشاعت ضروری ہے، اسی طرح لوگوں کو منکر سے خبردار کرنا، اس کے خطرات سے آگاہ کرنا، اس کا مقابلہ کرنا اور اسے ختم کرنے کی کوشش کرنا بھی نا گزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے منکر اور باطل کی پہچان ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء علیہم السلام نے اپنی اپنی قوموں اور زمانوں میں یہی فریضہ انجام دیا۔ اگر قرآنِ کریم کے مضامین پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تقریباً نصف حصہ ایمان، عقائد اور حقائقِ ایمان سے متعلق ہے، جبکہ باقی نصف میں کفر و ضلالت کی مختلف شکلوں کا تعارف، کفار کے باطل دلائل کا رد، اور ان کے مقابلے کے اجمالی و تفصیلی طریقوں کا بیان موجود ہے۔
جس طرح قرآنِ کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو سابقہ امتوں اور اپنے زمانے کے مختلف کفر و ضلالت کے مظاہر سے آگاہ کیا، اسی طرح بعد کے ادوار میں علماء نے بھی اپنے اپنے زمانے کے لوگوں کو باطل عقائد، گمراہ کن نظریات اور ان کے شرعی احکام سے روشناس کرایا۔
لہٰذا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے ادوار کے کفر اور باطل کی معرفت ضروری تھی، اسی طرح آج کے دور کے کفریہ نظریات، باطل عقائد اور گمراہ کن افکار کو جاننا اور ان کے بارے میں دینی نصاب میں مناسب معلومات شامل کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
کفر اور باطل کی پہچان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سورہ انعام میں ارشاد فرماتا ہے:
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ (سورۃ الانعام: ۵۵)
’’ اور ہم اسی طرح نشانیاں تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں (تاکہ سیدھا راستہ بھی واضح ہو جائے) اور تاکہ مجرموں کا راستہ بھی کھل کر سامنے آ جائے ۔‘‘
ایک قرأت کے مطابق اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ’’مجرموں کا راستہ نمایاں اور واضح ہو جائے‘‘، جبکہ دوسری قرأت کے مطابق معنی یہ ہیں کہ ’’تاکہ آپ مجرموں کا راستہ پہچان لیں‘‘۔
مذکورہ آیت میں ’’وَكَذَٰلِكَ‘‘ کے لفظ کے ذریعے ان تمام امور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کا ذکر اس سے پہلے کی آیات میں آیا ہے: مثلاً کفار کے بے جا اعتراضات، ان کے سامنے دلائل کا بیان، ان کی گمراہی اور تاریکیوں میں بھٹکتے رہنے کا تذکرہ، ان پر نازل ہونے والے عذاب، ان کے دلوں کی سختی، مسلمانوں کو حقیر اور کم تر سمجھنے کا رویہ، نیز ان کی سازشوں اور اہلِ ایمان کے ساتھ ان کی عداوت کا ذکر۔
اس کے بعد مسلمانوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ یہ تمام واقعات اور حقائق محض تاریخی بیانات نہیں، بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ مجرموں اور گمراہ لوگوں کی راہ کو پہچانیں، خود کو اس سے محفوظ رکھیں، اور ان کے ساتھ معاملہ کرنے کا صحیح اور مناسب طریقہ سیکھیں۔ چنانچہ حالات اور مواقع کے لحاظ سے کبھی دعوت و تبلیغ، کبھی نصیحت و انذار، اور کبھی قتال و جہاد کی صورت اختیار کرنا بھی اسی صحیح فہم اور بصیرت کا تقاضا ہوتا ہے۔
یہ آیت دو قرأتوں کے ساتھ منقول ہے:
- ’’سبیلُ المجرمین‘‘ رفع (پیش) کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس صورت میں ’’تستبین‘‘ میں موجود ’’ت‘‘ تانیث کے لیے ہے، کیونکہ لفظ ’’سبیل‘‘ سماعی مؤنث ہے۔ اس قرأت کے مطابق آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے:
’’تاکہ مجرموں کا راستہ واضح اور نمایاں ہو جائے۔‘‘
- ’’تستبین‘‘ کی ’’ت‘‘ واحد مخاطب کے صیغے کے طور پر ہے، جس کا خطاب براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا معنی یہ ہو گا:
’’اور تاکہ آپ مجرموں کی راہ کو پہچان لیں۔‘‘
اگرچہ بظاہر اس آیت میں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن مفسرین اور اصولِ تفسیر کے علماء کا اصول یہ ہے کہ جب تک کسی نص میں تخصیص کی واضح دلیل موجود نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جانے والا خطاب پوری امت کے لیے بھی رہنمائی کا درجہ رکھتا ہے۔
لہٰذا اس آیت کا پیغام صرف عہدِ نبوی تک محدود نہیں، بلکہ پوری امت کے لیے ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اپنی آیات کو اس قدر وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ تم مجرموں، گمراہوں اور اہلِ باطل کے راستے کو پہچان سکو، اس سے خود کو محفوظ رکھ سکو اور دوسروں کو بھی اس کے شر سے بچا سکو۔
ان دونوں قرأتوں کا حاصل ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ کفار کے عقائد، ان کے مکر و فریب، ان کی سازشوں، نظریات اور مقاصد سے واقفیت حاصل کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ان کے اثرات سے بچا جا سکے، لوگوں کو ان کے خطرات سے آگاہ کیا جا سکے اور ضرورت کے مطابق ان کا علمی، فکری اور عملی مقابلہ کیا جا سکے۔
اسی لیے اسلام میں باطل کی پہچان ایک بنیادی اور اہم مقصد کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس طرح حق کو جاننا، سمجھنا اور اس پر قائم رہنا ضروری ہے، اسی طرح باطل کو پہچاننا، اس کے شبہات کو سمجھنا اور اس کے خطرات سے آگاہ ہونا بھی نا گزیر ہے۔
یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ تاہم یہ ذمہ داری صرف انبیاء علیہم السلام یا ان کے زمانوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ آج کے دور میں اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ کفر اور باطل کی صورتیں، اسالیب، فکری حملے اور سازشیں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ متنوع، پیچیدہ اور طاقت ور ہو چکی ہیں۔
کفر کی مختلف اقسام اور اس کے گمراہ کن نظریات کو جاننا اس لیے ضروری ہے کہ باطل ہمیشہ یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ اپنے کفریہ عقائد اور نظریات کو کسی نہ کسی پردے میں اسلام کے اندر داخل کر دے، تاکہ عام لوگ، بالخصوص کم علم اور سادہ لوح افراد، ان کی حقیقت کو نہ پہچان سکیں۔
آج بھی مغربی افکار سے متاثر سیکولر عناصر اسی طرزِ عمل پر کار بند ہیں۔ وہ ’’معتدل اسلام‘‘، ’’روشن خیال اسلام‘‘ اور اسی نوع کے دیگر دلکش نعروں کے تحت مغربی نظریات اور تصورات کو اسلامی معاشروں میں رائج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسلامی تاریخ میں جتنے باطل فرقے وجود میں آئے اور جن کی وجہ سے امت مختلف گروہوں میں تقسیم ہوئی، ان کی فکری جڑیں اور تاریخی پس منظر کسی نہ کسی شکل میں غیر اسلامی مذاہب، کفریہ عقائد یا بیرونی فلسفوں سے جا ملتے ہیں۔ چنانچہ اہلِ سنت و الجماعت کے علاوہ باقی فرقوں کے افکار و نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے پس منظر میں کسی نہ کسی بیرونی فکری اثر کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔
باطل ادیان اور مذاہب نے ہمیشہ اسلام میں نفوذ کرنے اور اسے مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مزید برآں، اپنے نظریات کو قابلِ قبول بنانے کے لیے انہوں نے اسلامی مصادر ہی سے ایسے دلائل تلاش کرنے کی کوشش کی جنہیں اپنے افکار کی تائید میں پیش کیا جا سکے۔
افغانستان میں کمیونسٹوں نے ’’معاشرتی انصاف‘‘ کے عنوان سے، سیکولر حلقوں نے ’’اسلامی جمہوریت” کے نام پر، اور قوم پرست عناصر نے ’’حب الوطنی‘‘، ’’مغرب دوستی‘‘ اور ’’اعتدال پسند اسلام‘‘ جیسے نعروں کے تحت اپنے نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ ان تمام مثالوں میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ غیر اسلامی افکار کو اسلامی اصطلاحات اور دلکش عنوانات کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا گیا، تاکہ انہیں آسانی سے قبولیت حاصل ہو سکے۔
باطل ادیان، مذاہب اور کفریہ نظریات کی معرفت ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ ہم اسلامی معاشرے میں باطل فرقوں کی دراندازی کا بروقت سدِّباب کر سکیں، اسلام کو مسخ کرنے کی ان کی کوششوں سے خود بھی آگاہ رہیں اور دوسروں کو بھی باخبر کر سکیں۔ اسی طرح ہم ان پیچیدہ فلسفیانہ اور کفریہ تصورات کو بھی پہچان سکتے ہیں جنہیں بعض حلقے اسلامی اصطلاحات اور دینی تعبیرات کا لبادہ اوڑھا کر مسلمانوں، خصوصاً نئی نسل کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب ہمارے علماء، طلبہ اور دینی حلقوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ کون سے نظریات اسلام سے بیگانہ اور فکری اعتبار سے کفریہ بنیادوں پر قائم ہیں، ان کی اصل جڑیں کہاں ہیں، ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے، اور ان کے ساتھ کس نوعیت کا علمی و عملی رویہ اختیار کرنا چاہیے، تو پھر باطل کے لیے معاشرے میں وسیع پیمانے پر پھیلنا آسان نہیں رہتا۔
افغانستان میں کمیونزم کو نسبتاً آسانی کے ساتھ فروغ ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ مساجد کے بہت سے ائمہ اور دینی مدارس کے ایک بڑے طبقے کا دین کے ساتھ تعامل نہایت محدود اور سطحی ہو گیا تھا۔ ان میں سے بہت سوں نے دینی خدمت کو صرف امامت یا لغت و منطق کی چند کتابوں کی تدریس تک محدود سمجھ لیا تھا۔ نتیجتاً نہ وہ اپنے دور کے باطل نظریات، کفریہ فلسفوں اور ان کے فکری لٹریچر سے پوری طرح واقف تھے اور نہ ہی ان کے مقابلے میں علمی و فکری جدوجہد کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے تھے۔
اسی غفلت کا نتیجہ تھا کہ لاکھوں مساجد اور بے شمار ائمہ کی موجودگی کے باوجود کمیونزم اور بعد ازاں جمہوریت کے افکار معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرتے گئے۔ پہلے عوام نے کمیونسٹ اور جمہوری نظاموں کے تلخ نتائج کا سامنا کیا، اور اس کے بعد جدید الحاد، نیشنلزم، لبرلزم اور مغربی طرز کی آزادیٔ نسواں کے تصورات نے بھی معاشرے کے ایک بڑے طبقے کے اذہان میں جگہ بنا لی۔
عصرِ حاضر میں باطل کی پہچان اور اس کی پیچیدہ صورتیں
عصرِ حاضر میں کفر کی مختلف صورتوں اور اس کے فکری و نظریاتی مظاہر کے بارے میں معلومات اس قدر محدود، سطحی، بلکہ بعض اوقات نہ ہونے کے برابر ہیں کہ نہ صرف ان کے مقابلے کا جذبہ پیدا نہیں ہو پاتا، بلکہ نئی نسلیں انہی گمراہ کن نظریات اور دلکش اصطلاحات کے سحر میں اس طرح گرفتار ہو جاتی ہیں کہ پوری دلجمعی کے ساتھ کفار کی فکری قیادت کو قبول کر لیتی ہیں۔
نتیجتاً وہ منبر، محراب، مسجد، جہاد اور دینی محاذوں سے اس طرح نفرت کرنے لگتی ہیں گویا اسی میں اپنے لیے نجات اور کامیابی دیکھتی ہوں۔ یہاں تک کہ بیرونی قوتوں کی صفوں میں جگہ پانے اور ان کی نظرِ التفات حاصل کرنے کے لیے سفارشیں تلاش کی جاتی ہیں، درخواستیں دی جاتی ہیں اور مختلف ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں، تاکہ ان کی فوجوں میں شامل ہو کر انہی کے حکم پر اپنے اُس مجاہد بھائی کے خلاف ہتھیار اٹھایا جائے جو اپنے دین، وطن اور آزادی کے دفاع کے لیے انہی جارح قوتوں کے مقابل کھڑا ہو۔
ماضی میں کفر اور گمراہی کی بیشتر صورتیں نسبتاً سادہ اور واضح تھیں۔ ان کے اثرات بھی محدود ہوتے تھے اور مسلمان انہیں آسانی سے پہچان کر ان کا مقابلہ کر لیتے تھے۔ مثال کے طور پر ماضی کا عیسائیت پر مبنی کفر ایک سادہ شکل رکھتا تھا۔ اس کا دائرہ زیادہ تر رہبانیت تک محدود تھا، جہاں عیسائی راہب شہروں یا دور افتادہ علاقوں میں واقع کلیساؤں اور خانقاہوں میں گوشہ نشینی اختیار کر کے اپنے مخصوص طریقے کے مطابق عبادت میں مشغول رہتے تھے۔
لیکن آج عیسائیت اپنی اُس قدیم اور محدود صورت میں باقی نہیں رہی۔ اب وہ منظم تبلیغی و مشنری سرگرمیوں، وسیع عالمی اداروں اور اربوں ڈالر کے وسائل کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا اثر و نفوذ قائم کر چکی ہے۔ اس نے کرۂ ارض کے تقریباً ہر خطے تک رسائی حاصل کر لی ہے، اور آج دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا شہر باقی ہو جہاں کسی نہ کسی شکل میں عیسائی تبلیغی یا مشنری سرگرمیاں موجود نہ ہوں۔
آج عیسائیت کی سرگرمیاں اتنی ہمہ جہت ہیں کہ نہ صرف دیگر اقوام و ادیان کے ماننے والوں کو متاثر کیے ہوئے ہے بلکہ عالمِ اسلام میں بھی جڑیں پھیلا چکی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عیسائی مشنری ادارے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب ذرائع اور وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انٹرنیٹ، کتابیں، ذرائع ابلاغ، فلاحی ادارے، سیاسی اثر و رسوخ، مالی ترغیبات، سفارتی دباؤ اور دیگر ممکنہ ذرائع کو وہ اپنی سرگرمیوں کے فروغ اور توسیع کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
صرف افغانستان ہی کی مثال لیجیے، جو ایک عرصے تک امریکی قبضے کے زیرِ اثر رہا۔ امریکی مداخلت کے دوران ملک میں تقریباً چار ہزار غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) سرگرم تھیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد بین الاقوامی کلیسائی اداروں اور مشنری تنظیموں سے مالی معاونت حاصل کرتی تھی۔
۲۰۰۳-۲۰۰۴ء میں، جب رمضان بشردوست حامد کرزی کی کابینہ میں وزیرِ منصوبہ بندی تھے، انہوں نے افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں کا قریب سے مشاہدہ کیا اور ان کے بعض مشکوک اور خطرناک پہلوؤں کو محسوس کیا۔ چنانچہ انہوں نے ایک دن میں ہی 1935 این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس وقت انہیں یہ گمان تھا کہ وہ واقعی وزیرِ منصوبہ بندی ہیں اور اپنی وزارت کے اختیارات استعمال کر سکتے ہیں، لیکن ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ انہی غیر ملکی تنظیموں کے دباؤ کے نتیجے میں انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اُس وقت کا حکومتی ڈھانچہ بڑی حد تک انہی مغربی طاقتوں اور ان کے حمایت یافتہ اداروں کے زیرِ اثر قائم ہوا تھا۔
اس زمانے میں افغانستان میں موجود غیر سرکاری تنظیموں میں سے تقریباً دو سو ایسی تھیں جو براہِ راست مغربی ممالک کے مشنری اداروں سے مالی معاونت حاصل کرتی تھیں۔ یہ تنظیمیں مغربی حکومتوں اور مشنری حلقوں کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مختلف شعبوں میں سرگرم عمل تھیں۔
یہودیت بھی ماضی میں نسبتاً ایک محدود اور سادہ شکل کی حامل تھی۔ جزیرۂ عرب میں مدینہ کے اطراف بنو نضیر، بنو قینقاع اور بنو قریظہ جیسے چند یہودی قبائل آباد تھے۔ ان کے اکثر افراد یثرب (جو بعد میں مدینہ منورہ کہلایا) میں تجارت، زراعت اور روزمرہ معاشی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے، جبکہ شام اور عراق کے بعض علاقوں میں بھی ان کی محدود بستیاں موجود تھیں۔ اس دور میں نہ ان کے پاس ایسی عالمی سیاسی و معاشی قوت تھی اور نہ ہی وہ دنیا بھر پر اثر انداز ہونے والی علمی، ابلاغی اور اقتصادی برتری رکھتے تھے۔
لیکن آج یہودیت اپنی اُس قدیم اور محدود صورت میں باقی نہیں رہی۔ عصرِ حاضر میں یہودی حلقے عالمی سیاست، معیشت، ذرائع ابلاغ اور جدید عسکری صنعت کے مختلف شعبوں میں غیر معمولی اثر و رسوخ کے حامل ہیں، اور دنیا کے بہت سے ممالک ان کے سیاسی و اقتصادی دباؤ اور اثرات کے تحت ہیں۔
جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہودیت اور دیگر مظاہرِ کفر کی حقیقت کو سمجھنا ضروری تھا، اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُس دور کے مسلمانوں کے سامنے کفر کی مختلف صورتیں، اہلِ باطل کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کو واضح فرمایا، اسی طرح آج بھی مسلمانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایمان اور عقائدِ حقہ کی معرفت جتنی اہم ہے، باطل کی پہچان بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
مسلمان جب تک باطل کو نہ پہچانیں، اس کے خطرات اور گمراہ کن پہلوؤں کو نہ سمجھیں گے، وہ اس سے اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکیں گے؟ کیونکہ جس چیز کی حقیقت معلوم نہ ہو، اس کا مؤثر مقابلہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اگر باطل کی نوعیت، اس کے نظریات، اس کے مقاصد اور اس کے طریقۂ کار سے آگاہی نہ ہو تو اس سے نفرت، اس کے خلاف مزاحمت اور دوسروں کو اس کے نقصانات سے خبردار کیسے کیا جائے گا؟
اسی طرح اگر اہلِ باطل کے مکر و فریب، منصوبے اور اہداف معلوم نہ ہوں تو انسان اپنے دین، اپنی حکومت، اپنے اخلاق، اپنی تہذیب اور اپنی اجتماعی زندگی کو ان کے منفی اثرات سے کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے؟
لہٰذا ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے باطل کی معرفت اور اس کی صحیح پہچان ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آسمانی کتابوں اور اپنے انبیاء علیہم السلام کی دعوت و رسالت کے ذریعے ہر دور کے کفر، گمراہی اور باطل نظریات کو واضح فرمایا، تاکہ اہلِ ایمان حق کو بھی پہچان سکیں اور باطل سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں انبیائے کرام علیہم السلام اور اہلِ ایمان کے دشمنوں کی عداوت کی مختلف صورتوں، ان کے طریقۂ کار، انبیاء علیہم السلام کے خلاف ان کی سازشوں اور دشمنیوں کے واقعات و تاریخ کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ اسی طرح یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور دیگر باطل و کفریہ اقوام کے عقائد، افکار اور طرزِ عمل کی حقیقت اور بطلان کو بھی واضح کیا ہے، تاکہ ہر دور کے مسلمان کفر اور باطل کی مختلف شکلوں کو پہچان سکیں اور ان کے فتنوں سے محفوظ رہیں۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر قرآنِ کریم میں بنی اسرائیل اور دیگر کفریہ اقوام کے حالات و واقعات کو بار بار اور اتنی تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور آخر قرآنِ کریم کا ایک بڑا حصہ ان اقوام کے تعارف، ان کے عقائد و نظریات کے رد اور ان کے باطل افکار کی تردید و ابطال کے لیے کیوں مخصوص کیا گیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ کریم محض گزشتہ قوموں کی تاریخ بیان کرنے کی کتاب نہیں، بلکہ وہ ہر دور کے انسانوں کے لیے ہدایت اور بصیرت کا سر چشمہ ہے۔ اسی لیے اس نے باطل کی مختلف صورتوں، اہلِ کفر کے شبہات، ان کے مکر و فریب اور ان کی فکری گمراہیوں کو نمایاں کیا، تاکہ اہلِ ایمان حق و باطل میں امتیاز کر سکیں، باطل کے دھوکوں سے محفوظ رہیں اور ہر زمانے میں دینِ حق کی حفاظت اور اس کے دفاع کی ذمہ داری بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔
قرآنِ کریم کا ایک بڑا حصہ باطل کی پہچان پر کیوں مشتمل ہے؟
چونکہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت آخری امت ہے، اور حق کی دعوت، جہاد، اصلاحِ امت اور باطل کے ہر قسم کے فکری، سیاسی اور عملی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری قیامت تک اسی امت کے سپرد کی گئی ہے، اس لیے ضروری تھا کہ اسے حق و باطل کی کشمکش کے مختلف مراحل، باطل کے فلسفے اور دلائل، ان کے نتائج اور تاریخی تجربات سے پوری طرح آگاہ کیا جائے۔
اسی حکمت کے تحت اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں حق اور باطل کے درمیان ہونے والے مختلف معرکوں، انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے مخالفین کے حالات، اہلِ ایمان کی کامیابیوں اور اہلِ باطل کے انجام کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے، تاکہ مسلمان تاریخِ انسانی میں حق و باطل کی طویل کشمکش سے سبق حاصل کریں اور ہر دور میں پیش آنے والے فکری، اعتقادی، سیاسی اور عملی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے علمی، فکری، روحانی اور مادی اعتبار سے تیار رہیں۔
گویا قرآنِ کریم صرف ماضی کے واقعات کا بیان نہیں، بلکہ ہر زمانے کے مسلمانوں کے لیے ایک دائمی رہنمائی، تربیت اور تیاری کا سر چشمہ ہے، جو انہیں باطل کی مختلف صورتوں کو پہچاننے، ان کے خطرات کو سمجھنے اور ان کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔
باطل کی معرفت اور اس کی حقیقت کو جاننے کی شدید ضرورت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ حق اور باطل کے درمیان جاری اس ازلی کشمکش میں باطل کے لشکر کا قائد ابلیس ہے، جو انتہائی مکار، کینہ پرور اور انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں اور ساتھیوں کو ہر دور میں انسانوں کو گمراہ کرنے کے مختلف طریقے سکھاتا اور انہیں اس مقصد کے لیے مسلسل آمادہ کرتا رہتا ہے۔
ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بنی آدم کو راہِ راست سے ہٹانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا اور انہیں مختلف راستوں سے گمراہ کرنے کی تدبیریں اختیار کرے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں اس کا یہ قول نقل فرماتا ہے:
قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ (سورۃ الاعراف: ۱۶،۱۷)
’’(شیطان) کہنے لگا: اب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہےاس لیے میں (بھی) قسم کھاتا ہوں کہ ان (انسانوں) کی گھات لگا کر تیرے سیدھے راستے پر بیٹھ رہوں گا۔ پھر میں ان پر (چاروں طرف سے) حملے کروں گا، ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی، اور ان کی دائیں طرف سے بھی، اور ان کی بائیں طرف سے بھی۔ اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا۔‘‘
مذکورہ آیت سے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کے ساتھ شیطان کی شدید اور مستقل دشمنی واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اور ہر دور میں اس کے پیروکار، خواہ وہ کسی بھی باطل مذہب، نظریے یا فکر سے وابستہ ہوں، اہلِ ایمان کے خلاف اپنی عداوت کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں کریں گے۔ وہ اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے مومنین کو مغلوب کرنے کی خاطر ہر قسم کے مادی، فکری اور معنوی ذرائع استعمال کرتے رہیں گے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ مومنین کو ہر زمانے کے کفری عقائد، نظریات، طریقۂ کار، شبہات اور اسلام دشمن قوتوں کی حکمتِ عملیوں سے آگاہی حاصل ہو۔ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اہلِ باطل مسلمانوں کے خلاف کن ذرائع اور تدابیر سے کام لیتے ہیں اور ان کا مؤثر اور کامیاب مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔
چنانچہ اہلِ ایمان کے لیے باطل پرست قوتوں اور ان کے افکار و مقاصد کے بارے میں معقول اور کافی معلومات رکھنا ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت ربِّ العالمین نے اپنے فضل و احسان سے اہلِ ایمان کے سامنے باطل کی حقیقت، اس کے مکر و فریب، اس کی چالوں اور گمراہ کن تدبیروں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ انسان ان کے دھوکے اور فریب کا شکار نہ ہو، باطل کے شر سے محفوظ رہے اور حق و ہدایت کے راستے پر ثابت قدم رہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم میں ان امور کے بیان کو نمایاں اور وسیع مقام دیا گیا ہے۔
جاہلیت کو پہچاننے کی اہمیت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی نظر میں
حذیفہ بن یمان رسول اللہ ﷺ کے نہایت قریبی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھے۔ انہیں رسول اللہ ﷺ کے رازدار ساتھی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ وہ اس حدیثِ مبارک میں، جسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں:
كَانَ اصحاب النبیﷺ یسألونه عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي…. (متفق علیه)
’’لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے، جبکہ میں آپ ﷺ سے شر کے بارے میں پوچھتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں وہ مجھے آ نہ گھیرے۔‘‘
اسی طرح عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، جو اسلام کی روح اور اس کے مقاصد کو گہرائی سے سمجھتے تھے، جاہلیت کی معرفت کو اسلام کے صحیح فہم اور اس کی حفاظت کے لیے نا گزیر سمجھتے تھے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب منہاج السنۃ النبویۃ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ قول نقل کیا ہے:
تُنْقَضُ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، إِذَا نَشَأَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْ لَا يَعْرِفُ الْجَاهِلِيَّةَ.
’’اسلام کی مضبوط گرہیں ایک ایک کر کے اس وقت ٹوٹنے لگیں گی جب اسلام میں ایسی نسل پروان چڑھے گی جو جاہلیت کو نہیں پہچانتی ہو گی۔‘‘
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس قول کی تشریح میں لکھتے ہیں:
فَإِنَّ كَمَالَ الْإِسْلَامِ هُوَ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَمَنْ نَشَأَ فِي الْمَعْرُوفِ فَقَدْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ، فَقَدْ لَا يَكُونُ عِنْدَهُ مِنَ الْعِلْمِ بِالْمُنْكَرِ وَضَرَرِهِ مَا يَكُونُ عِنْدَ مَنْ عَلِمَهُ، وَلَا عِنْدَهُ مِنَ الْجِهَادِ لِأَهْلِهِ مَا يَكُونُ عِنْدَ الْخَبِيرِ بِهِ.1منهاج السنة النبویة ج ۲ ص ۳۹۸
’’اسلام کی تکمیل امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہی سے ہوتی ہے۔ جو شخص معروف (نیکی اور حق) کے ماحول میں پروان چڑھے اور اس کے سوا کسی اور چیز سے واقف نہ ہو، اس کے پاس منکر اور اس کے نقصانات کے بارے میں وہ علم و آگاہی نہیں ہوتی جو اس شخص کے پاس ہوتی ہے جو منکر کو جانتا اور پہچانتا ہو۔ اسی طرح ایسے شخص میں اہلِ باطل کے خلاف جہاد اور ان کا مقابلہ کرنے کی وہ صلاحیت بھی پیدا نہیں ہوتی جو منکر اور اس کے طریقوں سے باخبر لوگوں میں ہوتی ہے۔‘‘
اسی تناظر میں ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ کفر، شرک اور باطل کی معرفت کیوں ضروری ہے، لکھتے ہیں:
وهذا لأنه إذا لم يعرف الشرك والجاهلية وما عابه القرآن الكريم وذمَّه، وقع فيه وأقرَّه ودعا إليه وصوَّبه وحسَّنه، وهو لا يعرف أنه هو الذي كان عليه أهل الجاهلية، أو نظيره، أو شرٌّ منه، أو دونه.
فينقض بذلك عُرَى الإسلام عن قلبه، ويعود المعروف منكراً، والمنكر معروفاً، والبدعة سنَّة، والسنَّة بدعة، ويُكفَّر الرجل بمحض الإيمان وتجريد التوحيد، ويُبدَّع بتجريد متابعة الرسول صلى الله عليه وسلم ومفارقة الأهواء والبدع ومن له بصيرة وقلب حيٌّ يرى ذلك عياناً، والله المستعان.
’’اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص شرک اور جاہلیت کو، نیز ان امور کو جنہیں قرآنِ کریم نے برا قرار دیا، ان کی مذمت کی اور ان پر نکیر فرمائی، نہ پہچانے تو وہ خود انہی میں مبتلا ہو جاتا ہے، انہیں درست سمجھنے لگتا ہے، ان کی طرف دعوت دیتا ہے، ان کا دفاع کرتا ہے اور انہیں اچھا اور پسندیدہ تصور کرتا ہے، حالانکہ اسے یہ شعور بھی نہیں ہوتا کہ یہی وہ چیزیں ہیں جن پر اہلِ جاہلیت کار بند تھے، یا ان سے ملتی جلتی، بلکہ بعض اوقات ان سے بھی زیادہ بری ہوتی ہیں۔
نتیجتاً اسلام کی مضبوط گرہیں اس کے دل سے ایک ایک کر کے کھلنے لگتی ہیں۔ پھر نیکی برائی اور برائی نیکی بن جاتی ہے، بدعت سنت کا روپ دھار لیتی ہے اور سنت بدعت قرار پاتی ہے۔ خالص ایمان اور توحید کو اختیار کرنے والے شخص کو کافر کہا جاتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی کامل پیروی اور خواہشاتِ نفس و بدعات سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے کو بدعتی قرار دیا جاتا ہے۔ اور جس شخص کو بصیرت نصیب ہو اور جس کا دل زندہ ہو، وہ ان حقائق کو اپنی آنکھوں سے وقوع پذیر ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔والله المستعان۔‘‘
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1منهاج السنة النبویة ج ۲ ص ۳۹۸
