مسلمانوں کی نصرت و کامیابی کے عوامل
مجاہدین کو چاہیے کہ وہ اچھے اعمال سے اپنے آپ کو مزین کریں جس کی وجہ سے فتح و نصرت ان کے شانہ بشانہ ہو، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ(سورۃمحمد: ۷)
’’اے ایمان والو ! اگر تم اللہ ( کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جما دے گا۔‘‘
اس آیت میں اللہ تعالیٰ تمام مومنین کو مخاطب کرتا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت کرو،تو اللہ تعالیٰ تمہاری نصرت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کرتے ہوئے اس کے دین کی نصرت کی جائے، تو اللہ تعالیٰ کی نصرت کے سہارے مسلمان دشمنوں پر غالب آجائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں‘‘۔
الله تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ (سورۃ آلِ عمران: ۱۲۰)
’’اگر تم صبر اور تقوی سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے ( علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔‘‘
تفسیرِ طبری میں آیاہے کہ اے مومنو! اگر تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرو اور پیروی کرو ان امور میں جن کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں امر دیا ہے اور ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نے تم کو منع کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، تو پھر دشمن کے فریب اور دھوکے سے تم محفوظ رہو گے، یعنی اللہ تعالیٰ تم کو ان کے فریب اور دھوکے سے اپنی حفاظت میں لے لے گا اور تم ان پر غالب آجاؤگے۔
مسئولیت اور امارت ایک امانت ہے
قابلِ احترام مجاہدین! ہر وہ فرد جس کو امیر کسی کام کے لیے منتخب کرے،وہ کام اس کے پاس ایک امانت ہےاور اس پر لازم ہے کہ اس کام کا پورا حق ادا کرے؛جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا (سورۃ النساء: ۵۸)
’’(مسلمانو) یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے۔ بےشک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔‘‘
تفسیرِ قرطبی میں لکھا ہے کہ اس آیتِ مبارکہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکمِ عام ہے ہر اس شخص کے لیے جس کو کوئی امانت سونپی گئی ہو، چاہے وہ اموال کی تقسیم ہو یا مظلوم کا حق ظالم سے لینا ہو۔
امام طبری نےفرمایا ہے، اس آیت میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کو کوئی امانت سونپی گئی یا ان کو گواہ بنایا گیا ، اسی طرح نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا اور ساری عبادات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت ہیں۔
اس آیت کا یہی معنیٰ ایک مرفوع حدیث میں اس طرح آیا ہے:
’’تم میں سے ہر ایک مسئول (جواب دہ)ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، امیر اپنی رعیت کے بارے میں مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، آدمی اپنے اہل و عیال کے بارے میں جواب دہ ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی مسئول ہے اور اس سے اس بارے میں پوچھا جائے گا، خادم کی مسئولیت اس کے مالک کے مال پر ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘(بخاری)
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے فلاں جگہ پر مقرر کیا جائے؟ آپﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اورمجھ سے فرمایا: اے ابوذر! تم کمزور ہو اور یہ کام ایک امانت ہےاور قیامت کے دن کی رسوائی و ندامت ہے، لیکن ان لوگوں کے لیے نہیں جو احسن طریقے سے اس کام کو ادا کریں جس طرح کہ اس کے ادا کرنے کا حق ہے۔
دوسری روایت میں آیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! تم مجھے کمزور لگتے ہو اور میں تمہارے لیے وہی کچھ پسند کرتا ہوں جو مجھے پسند ہو، دو افراد پر بھی امیر بننے کی خواہش نہ کرو اور یتیم کے مال کی سرپرستی اپنے ذمے نہ لو۔
یہ ایک بڑا قاعدہ ہے کہ ہر شخص کو چاہیے کہ امیر بننے سے اپنے آپ کو بچائے، خصوصاً وہ فرد جو کمزور ہو۔
اوپر بیان کی ہوئی رسوائی اورندامت ان لوگوں کے لیے ہے جو امارت کے اہل نہ ہوں یا امارت کے اہل تو ہوں لیکن ان میں عدل نہ ہو۔ البتہ جو لوگ امارت کے اہل ہوں اور اپنی امارت میں عدل سے کام لیں تو ان کو اونچا مرتبہ ملے گا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
عن قریب تم عہدوں کی مسابقت میں کود پڑوگے، حالانکہ یہ قیامت کے دن ندامت کا باعث ہوگا۔ دودھ دینے والا اور لذت بخش عہدہ بہت اچھا لگتا ہے ، لیکن جب عہدہ چھن جاتا ہے اور دودھ کا تھن منہ سے نکل جاتا ہے ، تو اتنا ہی برا لگتا ہے۔ پھر کیا حاصل ایسی لذتوں کا جن کے بعد حسرتوں کا سامنا کرنا پڑے؟ ندامت ہے ا ن لوگوں كے ليےجنہوں نے اپنی امارت میں عدل سے کام نہ لیا ہو۔
’’ دودھ دینے والا اور لذت بخش عہدہ بہت اچھا لگتا ہے ‘‘، اس سے مراد امارت کے شروع کے دن رات اور حال احوال ہے، کیونکہ ان ایام میں مال، دولت، مرتبہ اور لذت ہوتی ہے اور ’’دودھ کا تھن منہ سے نکل جاتا ہے ‘‘ سے مراد امارت کا اختتام ہے، کیونکہ یہ اختتام کبھی قتل، کبھی معزول ہونا ہوتا ہے اور ان سب کے علاوہ قیامت کے دن اس کے بارے میں پوچھ بھی ہوگی۔
لیکن وہ لوگ جو امارت کے اہل ہوں، امارت کا حق اداکرنے والے ہوں، عدل کو نہ بھولیں، تو ان کے لیے اللہ کے ہاں فضل اور بڑا اجر ہے جو ستّر سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
وما علینا الا البلاغ!