وہ کہتے ہیں: تم پر بمباریاں ہوتی ہیں!
اللہ اکبر! یقیناً مجھ پر بمباری ہوتی ہے۔ مجھ پر بمباری ہوتی ہے اور میں اللہ کی وعدہ کردہ دو بھلائیوں میں سے ایک کا حق دار بن جاتا ہوں! کیا تم مجھے اس بات پر عار دلاتے ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت سے نواز رہے ہیں؟ شہادت جو اللہ تعالیٰ اپنے چنیدہ لوگوں کو ہی عطا کرتے ہیں۔
وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ …… اور تاکہ اللہ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید قرار دے!
اللہ کی راہ میں شہادت کب سے عیب کی بات ہو گئی؟ یہ شہادت کب سے نقص کہلانے لگی؟ یہ شہادت کب سے ایسا شبہہ بن گئی کہ جس کاجواب دیا جائے؟
اللہ کے راستے میں شہادت تو عزت و فخر کی بات ہے۔ کیا یہ عیب ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں؟کیا یہ عیب ہے کہ ہم اپنے دشمن کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتے ؟کیا یہ عیب ہے کہ ہم اپنے اصولوں پر پہاڑوں کی طرح ، بلکہ اللہ کی قسم! پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے ہیں ……؟!
اللہ کے راستے میں موت تو فخر ہے، یہ تو اعزاز کی بات ہے۔ یہ تو وہ قرینہ ہے جس کے ذریعے مسلمان کو عزت بخشی جاتی ہے۔ہم میں سے غزوۂ احد میں کتنے قتل ہوئے ؟ یمامہ و یرموک میں کتنے قتل ہوئے؟
احد میں ستّر( ۷۰)شہید ہوئے،یمامہ میں بارہ سو(۱۲۰۰) جن میں سے پانچ سو(۵۰۰ )حفّاظ ِ قرآن تھے،یرموک میں تین ہزار (۳۰۰۰ ) ،قادسیہ میں ساڑھے آٹھ ہزار (۸۵۰۰)، جی ہاں! قادسیہ میں صرف چار دن میں ساڑھے آٹھ ہزار شہید ہوئے۔ بلاط میں دسیوں ہزار، واقعۂ جِسر میں چھ ہزار( ۶۰۰۰ )اور جب مسلمان واپس پلٹے تو دیکھا کہ پل توڑا جاچکا ہے تو اس کی مرمت کی جس دوران چار ہزار( ۴۰۰۰)کے قریب مزید زخمی و شہید ہوئےاور پھر واپس پلٹ سکے۔
کتنے ہی مسلمان تاریخ میں قتل ہوئے، کیا انہوں نے کبھی اس لیے جہاد چھوڑ ا کہ ہم قتل ہو گئے؟ نہیں! بلکہ معاملہ اس کے الٹ رہا، اس سے جہاد اور زندہ ہوا۔جہاد تو اس سے اور زیادہ مضبوط ہوا ، شہدا کی شہادتیں مسلمانوں کومزید جہاد کے لیے بیدار کرتی رہیں۔
ہم ایسی امت ہیں جس کے بارے میں ہمارے پہلے قائد نے فرمایا تھا: ”ہم ایسی امت ہیں جن کی موت اکثرقتل ہی سے واقع ہوتی ہے۔“
ہم نے اس دنیا کی حرص نہیں کی بلکہ ہم ان سچے و اعلیٰ کلمات کے ذریعے فخر کرتے ہیں اور اپنے حوصلے بلند کرتے ہیں کہ :
”اللہ ہمارا مقصود ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رہنما ہیں،قرآن ہمارا دستور ہے ،اور اللہ کے راستے میں موت ہماری سب سے بڑی تمنا ہے!“
ہم تو ہر کسی سے یہی سنتے تھے کہ اللہ کی راہ میں شہادت ہماری سب سے بڑی تمنا ہے، تو پھر آج کیوں اللہ کے راستے میں موت کوعیب و خسارہ گردانا جانے لگا؟ہم نے تویہ سیکھا تھاکہ:
في سبیل اللہ قمنا
نبتغي رفع اللواء
ہم اللہ کے راستے میں نکلے ہیں اور اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنا چاہتے ہیں!
لا لحزب قد عملنا
نحن لدین فداء
ہم کسی گروہ کی خاطر نہیں لڑتے ، بلکہ ہم تو دین پہ فدا ہونےوالے ہیں!
فلیعد للدين عزہ
او ترق منا الدماء
ہم فی اللہ لڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ دین کی عزت واپس لوٹ آئے یا اس راہ میں ہمارا خون بہہ جائےاور ہم شہید ہو جائیں!
یا تواسلام کی عزت ،مرتبہ و بلندی اور اس کی حکومت پھر سے لوٹ آئے یا اسی کوشش میں ہمارا خون اللہ کی راہ میں بہہ جائے اور ہم شہادت کا مرتبہ پا جائیں۔
آج شہادت کو کیوں عیب سمجھاجانے لگاہے؟ کیوں اس کو خسارہ و نقصان گردانا جانے لگاہے؟ یہ عیب جاننا اس لیے ہو گیا ہے کہ ہمارے اندر تنظیمی تعصبات کی گندگی در آئی ہےاور اس نے ہمارے ذہنوں کو خراب کر دیا ہے۔ آج آپ کے پاس کسی تنظیم کا خادم آتا ہےاور وہ تنظیم کا ہی خادم ہے اسلام کا نہیں! یہ اس لیے آتا ہے تا کہ آپ کو آپ کی سب سے بڑی تمنا کے بارے میں عار دلائے۔تمہیں دو بھلائیوں (یعنی شہادت یا فتح ) میں سے ایک کی عار دلائے،اس شرف کے بارے میں عار دلائے جو اللہ آپ کو عطا کرتا ہے۔
میں یہودو نصاریٰ سے اس لیے لڑتا ہوں کیونکہ میرا ان سے اختلاف ہے اور اختلاف میرا ان سے ان کے دین کے سبب ہے ۔ یہ اختلاف میری امت کی وجہ سے ہے ۔ میں تو اسی کے سبب قتل کیا جاتا ہوں۔میں تو اللہ کی قسم ان کے مال میں شریک نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی کسی چیز میں شریک ہوا ۔
اور پھر بمبار یاں ……؟انہوں نے اپنے ہی کتنے سپاہیوں پر بمباریاں کیں؟ہر روز کہا جاتا ہے کہ غلطی سے بمباری ہو گئی ۔ ہر روز فرینڈلی فائر کی صورت میں بمباری ہو جاتی ہے۔ جوبھی ظالم کی ظلم میں معاونت کرتا ہے، اللہ اس کے ظلم کواسی پر الٹا دیتے ہیں۔
آج مجاہدین پر بمباریوں سے جو لوگ خوش ہوتے ہیں، جو ایک دوسرے کو مجاہدین کے قتل ہونے پر مبارک بادیں دیتے ہیں ان کا کیا حال ہو گا؟ ہم اللہ سے مغرفت و عافیت کا سوال کرتے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو اچھے طریقے سے حق کی طرف لوٹا دے، لیکن اللہ کی قسم! اللہ ان ظالموں کو انہی پر مسلط کر دے گا، یہاں تک کہ یہ اللہ کی طرف لوٹ نہ آئیں۔
مجھے اس لیے قتل کیا جاتا ہے کیوں کہ میں اسلام اورمسلمانوں پر جھوٹ نہیں باندھتا۔میں اس لیے قتل کیا جاتا ہوں کیوں کہ میں اپنا سر ان طواغیت کے سامنے نہیں جھکاتا،میں اسلام کے دشمنوں اور امت مسلمہ کے دشمنوں کو ”دوست “نہیں کہتا،میں ان کے قوانین کو نہیں مانتا اور نہ ان سے فیصلے کرواتا ہوں، میں ان کے نظاموں کو تسلیم نہیں کرتا، یہ اس لیے مجھے قتل کرتے ہیں۔ ہم اس لیے ان کافروں کو قتل کرتے ہیں اور ہم مجاہدین اس لیے ان کے ہاتھوں شہید ہوتے ہیں۔
مجھے اس لیے شہید کیا جاتا ہےکیوں کہ میں ”ولاء و براء “کا عقیدہ رکھتا ہوں ۔میں مومنوں سے دوستی کرتا ہوں اور کافروں سے دشمنی رکھتا ہوں۔
مجھے اس لیے شہید کیا جاتا ہے کیوں کہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کی پوری دنیا میں مدد کرتا ہوں۔ میں اپنے مسلمان بھائی کی افغانستان ،عراق ، فلسطین،شیشان ، بوسنیا اور پوری دنیا میں مدد کرتا ہوں……میں کافروں کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا ہوں۔
میں اس لیے قتل کیا جاتا ہوں کیوں کہ میں ان کے منصوبوں، ان کے اہداف اور ان کی تدبیروں کو بے نقاب کرتا ہوں۔ میں یہ ہوں اور یہ کرتا ہوں جو میں نے بیان کیا اور میں اس (حق کی )صف میں کھڑا ہو ں ……! لیکن تم کیا ہو؟تم کس صف میں کھڑے ہو؟تم نے کیا کیا ہے اور تمہارے کیا کارنامے ہیں؟تم ان سب واقعات میں کہاں کھڑے ہو؟…… تمہارا کیا موقف ہے……؟