اب صبر للہ …… کیا ہے؟
صبر للہ یہ ہے کہ آپ اپنے دل اور اپنی نیت کو دیکھیں اور آپ کی آنکھیں ہمیشہ آسمان کی طرف لگی ہوں۔
لیکن اِن پر صبر کیجیے۔ اپنے امیر کے احکامات پر صبر! خواہ وہ مرتبے اور شان میں آپ سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ خواہ آپ کی شہرت اس سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔
اللہ کے لیے صبر…… کیونکہ اُسی سے اپنے عمل کا ثواب درکار ہے۔ جب بھی کوئی کام کہا جائے یا کسی طرف بھیجا جائے، صبر…… خواہ یہ کام آپ کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کی خواہش کے برعکس ہی کیوں نہ ہو۔ صبر لازمی ہے…… صبر کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
امیر اور جماعت کے بغیر کوئی چارہ نہیں
رسول اللہﷺنے انصار کو وصیت فرمائی تھی کہ دنیا میں ایثار سے کام لینا اور لوگوں کے لیے دنیا چھوڑتے رہنا یہاں تک کہ حوض کوثر پر ہماری ملاقات ہو اور امرا میں سے جانے پہچانے اور اجنبی تمام امرا پر صبر کرنا،یہاں تک کہ حوض کوثر پر ملاقات ہو۔ فرمایا:
’’وستجدون اثرۃ من بعدی فاصبروا حتی تلقونی علی الحوض.‘‘
’’ میرے بعد تم کچھ کو پاؤ گے اُن پر صبر کرنا تا آنکہ ہم حوض کوثر پر مل جائیں۔ ‘‘
امیر کے احکامات پر صبر!
خواہ وہ امیر’’ امیر سفر‘‘ ہی ہو اور خواہ گروپ پانچ چھ افراد پر ہی مشتمل ہو۔ یہ اللہ رب العالمین کی اطاعت ہے۔
یہ اللہ رب العالمین کی عبادت ہے۔ اس کی حکمتیں، اس کے معانی صرف وہی جانتے ہیں جو متوسمون(عبرت کی نگاہ سے دیکھنے والے) ہیں۔
اپنی شخصیت اور اپنا رتبہ پہچانیے، اپنی حقیقت کا ادراک حاصل کیجیے۔
آپ کس کی پیروی کر رہے ہیں؟
آپ کس کے ساتھ چل رہے ہیں؟
آپ یہاں کیوں موجود ہیں؟
آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ ایک منظم گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، جماعت کے بغیر کوئی جہاد نہیں ہوسکتا۔ یعنی جماعت کے بغیر کوئی جہاد نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔
اسلام کسی ایسی جماعت کو تسلیم نہیں کرتا جس کا کوئی امیر نہ ہو اور اس طرح کا کوئی اسلام وجود نہیں رکھتا جو جماعت کے بغیر ہو۔
کوئی جماعت امیر کے بغیر نہیں ہوسکتی اور کوئی امیر بغیر جماعت کے نہیں ہوسکتا۔
شیطان آپ کو نئی سے نئی راہ سجھاتا ہے اور ابلیس ملعون آپ کو نئے سے نئے وسوسے میں مبتلا کرتا ہے کہ یہ راستہ جہاد کے لیے زیادہ بہتر ہے اور اس طریقے سے چلیں تو زیادہ ثواب ہے حالانکہ اس صورت میں آپ غلطی کر رہے ہوں گے۔
پیارے بھائی!
اگر ساری طاقتوں، محنتوں اور مشقتوں کو جمع کرلیا جائے اور پھر کسی ایک ہی کھیتی میں ڈال دیا جائے تو یہ ان شاء اللہ دنیاوی نقطۂ نظر سے بھی نتیجہ خیز ہوسکتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت دے سکتا ہے۔
وہ جہاد جس میں اطاعت امیر موجود ہو، اُس جہاد سے یقینا بہتر ہے جس میں معصیت پائی جاتی ہو۔ اپنا ایک امیر طے کیجیے، اپنے گروپ کا ایک سربراہ بنائیے۔
اپنے آپ کو ساری حدود و قیود سے آزاد ہوا کے دوش پر ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر لڑھکنے والا نہ بنائیے۔ اپنے آپ کو ضائع نہ کیجیے ۔ ایسا بننے کی کوشش نہ کیجیے کہ کوئی آپ کو پوچھنے والا نہ ہو،آپ کو احکامات نہ دے سکے۔
کوئی ایسا ضرور ہونا چاہیے جس سے آپ مشورہ لے سکیں جس کی نصیحت سن سکیں اور جس کے حکم پر آپ کوئی کام کرسکیں حالانکہ اس کام کے بارے میں آپ کی رائے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔
آخر اجر اور صبر اس کے علاوہ کس چڑیا کا نام ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی کسی کے احکامات پر عمل کریں؟
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث میں ہے کہ
’’بایعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی السمع والطاعۃ وعلی اثرۃ علینا.‘‘
’’ ہم نے رسول اللہ ﷺکی ہر خوشی اور ہر غم میں پیروی کرنے کی بیعت کی۔ خواہ کوئی بات ہمیں پسند ہو خواہ ناپسند ہو اور اس پر کہ ہماری رائے میں خواہ اسی سے دوسروں کودنیاوی فائدہ زیادہ ہی کیوں نہ پہنچ رہا ہو۔‘‘
صبر مع اللہ یہ ہے کہ آپ کروٹ کروٹ شریعت کے ساتھ چلیں اور قدم قدم پر اُس کا ساتھ دیں۔ اُس کا ساتھ دینے میں تکلیف آئے تو ناراض نہ ہوں، غصہ نہ کریں، شکوہ نہ کریں اور صبر اس کے علاوہ کیا ہے کہ شکایت کو زبان پر لانے سے رُکنا ہے اور اعضا اور جوارح کو تشویش کا مظاہرہ کرنے سے روکنا ہے…… دل کو افسردہ ہونے سے روکنا ہے…… یہی تو صبر ہے…… اور صبر کیا ہے؟ بلاؤں اور مصیبتوں پر دل میں میل نہ آنے دینا اور زبان سے شکوہ شکایت نہ کرنا، یہی تو صبر ہے۔
واذا اعترتک بلیۃ فاصبر لھا
صبر الکریم فانہ بک اکرم
واذا شکوت الی ابن ادم انما
تشکو الرحیم الی الذی لا یرحم
بلائیں آپ کو گر گھیر لیں تو
شکایت مت زباں پر لائیے گا
کسی انسان سے رحمٰن کا شکوہ
نہیں، یہ ظلم مت فرمائیے گا
اور جوارح کو تشویش کا مظاہرہ کرنے سے روکنے کا مطلب ہے کہ گال نہ پیٹے جائیں، گریبان نہ پھاڑے جائیں، جاہلیت کے سے دعوے نہ کیے جائیں۔
چنانچہ میرے بھائی! بڑا ضروری ہے کہ آپ اللہ کے ساتھ صبر کریں یعنی آپ یہ سمجھیں کہ آپ کو کوئی صبر نہیں دے سکتا سوائے خدائے رحیم و کریم کے اور اللہ کے لیے صابر بن کر رہیے یعنی ہمہ وقت اُس کے احکامات پر عمل پیرا رہنے کی کوشش کیجیے۔
اُس کی ’’ منع کردہ‘‘ چیزوں کو چھوڑنے کی کوشش کیجیے۔ آنکھیں آسمان کے علاوہ کسی طرف لگی ہوئی نہ ہوں۔ انہیں صرف اللہ رب العالمین ہی سے ثواب اور اجر کی توقع اور طلب ہو۔
اسی طرح صبر مع اللہ یہ ہے کہ آپ اللہ کے ارادے کے ساتھ ساتھ چلیں۔ اپنے نفس کو گناہوں سے بچائیں، اطاعت اور ثواب کے کاموں پر عمل کریں، احکامات مانیں اور ممنوعہ چیزوں سے بچیں اور اُس کی قضا و قدر کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔
تاریخ سے بعض مثالیں
سلف اور خلف اس سے پہلے تاریخ میں صبر کی ایسی ایسی زندہ مثالیں چھوڑ گئے ہیں کہ جب میں سیرت اور تاریخ کامطالعہ کرتا ہوں تو میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے زمانے میں آخر بغیر تنخواہ کے لوگ جزیرۂ عرب سے کس طرح لشکر بنا کر نکل کھڑے ہوئے۔ اُن میں سے کسی کے پاس کوئی دنیاوی عہدہ بھی نہیں تھا۔ میں اِن واقعات کی تفسیر کرنے سے قاصر ہوں کہ انہوں نے اپنے بچوں اور اہل خانہ کو کس طرح چھوڑ دیا۔
لشکر کا کوئی رجسٹر نہیں ہے۔ شہدا کا کہیں اندراج نہیں ہے کہ ان کی بیواؤں اور بچوں کو وظیفہ دیا جاسکے۔ کوئی دیوان نہیں رکھے گئے، کوئی ناموں کی فہرستیں نہیں بنیں۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانے تک یہ سارا معاملہ ایسے ہی چلتا رہا۔ حتیٰ کہ آپ کے زمانے میں فتوحات حاصل ہوئیں، غنائم آنا شروع ہوئے، عراق اور شام فتح ہوئے…… اور تب کہیں جا کر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے لشکر اور سپاہیوں کی رجسٹریشن کا حکم جاری کیا۔
لیکن اِن میں سے بہت سی پہیلیاں تو اُس وقت حل ہوگئیں جب میں نے افغانوں کو جہاد کرتے دیکھا۔ اُن کو ہمہ وقت، بلا معاوضہ، ان تھک جدوجہد کرتے دیکھ کر تاریخ اسلامی کے سارے مسائل میرے سامنے واضح ہوگئے۔
انسان سال سال دو دو سال تک کیسے صبر کر سکتا ہے جبکہ اس کا خاندان بھوک سے مر رہا ہو؟
ایک مجاہد اپنے کمانڈر سے جس زیادہ سے زیادہ چیز کی توقع رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ محاذ پر اُس کو زندہ رہنے کے لیے روٹی ملتی رہے۔
اُس کو محاذ پر رہ کر درہم اور دینار نہیں ملنے جو وہ اپنے اہل خانہ کے لیے کما سکتا ہو۔ کتنے لوگ ہیں جنہوں نے مدتوں سے اپنے اہل خانہ کی شکلیں نہیں دیکھیں۔ کتنے ہیں جنہوں نے اپنی نوجوان بیویوں کو چھوڑ کر محاذوں پر رہنا قبول کرلیا۔ انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو کس پر چھوڑ دیا؟ کون اُن کی پرورش کرے گا؟ کون اُن کو کھانا اور دودھ دے گا؟
انہوں نے نعمتوں میں پلنے والی اُس بیوی(اپنے بچوں کی ماں) کو چھوڑ دیا جو بیچاری کبھی لکڑیاں لینے باہر نہ نکلی تھی، جو کبھی پہاڑ پر نہ چڑھی تھی، جس نے کبھی مشقت کا کوئی کام نہیں کیا تھا…… انہوں نے ان سب کو اللہ کے لیے چھوڑ دیا اور اللہ کے رستے میں نکل کھڑے ہوئے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺکے پوچھنے پر بتایا تھا کہ میں اپنے بچوں کے لیے اللہ اور اُس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔
جب ہم ان لوگوں کے صبر کی بات کرتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ ہم اُن کا حق کبھی کسی طور ادا نہیں کرسکتے۔ یہ اپنے صبر کی بدولت جتنے اعلیٰ مراتب اور درجات پر جا پہنچے وہاں ہم اپنے شوق سے تو کیا پہنچیں گے، ہمارے اعمال بھی ہمیں وہاں نہیں پہنچا سکتے۔
یہ ایسی اعلیٰ اور ارفع چوٹیاں ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا بلکہ ٹھگنوں کا لمبوں سے اپنا مقابلہ اور موازنہ کرنا بذات خود ایک ایسا عمل ہے جس کو معزز لوگ پسند نہیں کرتے اور بھلے لوگوں کے دل کو یہ بات نہیں لگتی۔ اہل الفضل اس کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے اور عظمت اور شان والوں کی شان تو شان والے ہی جانتے ہیں۔ میں ہر چند کہ اہل فضل میں سے نہیں ہوں…… لیکن میں ان کی عظمت کو پہچانتا ہوں۔ ان کی رفعت کو جانتا ہوں۔ میں نے ان لوگوں کا اچھی طرح مطالعہ کیا ہے اور ان کے ساتھ کافی وقت گزارا ہے۔ میں مجاہدین کے ساتھ رہا ہوں اور میں نے یہاں اور وہاں کے صابرین میں موازنہ کیا ہے۔ میں نے یہاں اللہ کے رستے پر چلنے والوں کا اور وہاں کا موازنہ کیا ہے اور میں نے محسوس کیا ہے کہ موازنے اور مقابلے کا یہ کام ہی بڑا فضول ہے۔ ان کے درمیان کوئی موازنہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ بھلا ان لوگوں میں اور اُن لوگوں میں موازنہ کس طرح کیا جاسکتا ہے؟
کہاں یہ عرب جو اسرائیل کے سامنے تین گھنٹے نہ ٹھہر سکے اور کہاں یہ افغان جنہوں نے اللہ کے رستے میں توکل، صبر، ثبات اور ایمان کے ساتھ آٹھ سال گزار دیے1 اور ان چیزوں کے علاوہ اس رستے میں سب کچھ کھو دیا۔ آج روس نواز کمیونسٹ انقلاب کو ایک ماہ کم آٹھ سال ہوگئے ہیں۔ ان آٹھ سالوں میں بموں نے کوئی گھر سلامت نہیں رہنے دیا۔ کوئی گھرانہ بکھیرے بغیر نہیں چھوڑا۔
کس خاندان کو مریضوں، زخمیوں اور شہیدوں کا تحفہ نہیں دیا؟
کس گھر کو یتیم خانہ اور ماتم خانہ بنا کر نہیں چھوڑا؟
لیکن اس کے باوجود…… یہ لوگ سر بلند کیے پہاڑوں اور بادلوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ دلوں کا حال یہ ہے کہ ہمالہ سے بلند جذبوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
یہ لوگ ہر چند کہ زمین پر چلتے ہیں…… لیکن اُن کے دل اور روحیں پوری قوت ایمانی کے ساتھ آسمانوں میں اڑتی پھرتی ہیں جہاں زمین کا گرد و غبار ان پر اثر انداز نہیں ہوسکتا، وہ اس زمین پر ضرور رہ رہے ہیں لیکن اُن کے دل بقول حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ارفع مقامات میں الجھے ہوئے ہیں۔
اور اس کے بعد کچھ لوگ آجاتے ہیں جنہوں نے……
جنہوں نے کبھی کڑوا کھانا نہیں کھایا ہوتا۔ جو عیش کی زندگی کے مزے لوٹتے رہے ہوں۔ جن کے آگے کھانے کی ایک پلیٹ رکھی جاتی ہے اور دوسری اٹھائی جاتی ہے۔
یہ لوگ آجاتے ہیں…… اور ان صابر مسلم افغانیوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ ان کو حقیر اور کمزور سمجھتے ہیں……کیوں؟
اس لیے کہ انہوں نے افغانوں سے اچھے کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ یا اُن کے جوتے افغانوں کے جوتوں کی نسبت نئے ہیں۔ یا اُن کا کھانا ان کی نسبت زیادہ لذیذ ہے۔ یا اُن کا بستر ان کی نسبت زیادہ نرم ہے۔ یا ان کا پلنگ ان کی نسبت زیادہ اونچا ہے۔
انسان کو اِن چیزوں سے تو دوسروں پر فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی۔ انسان جن چیزوں سے دوسروں سے ممتاز ہوتا ہے، وہ صبر اور اعمال ہیں۔ لوگوں کا موازنہ اُن کے نسب کے ذریعے کیا جاتا ہے اور نسب کیا ہے…… نسب ان کا عمل ہے۔
اور حسب کا تو اس دنیا میں صادقین کے نزدیک کوئی وزن نہیں ہے۔ نہ ہی اس کی آخرت میں اللہ رب العالمین کے نزدیک کوئی اہمیت ہے۔
یہ کہتے ہیں، یہ افغانی لوگ آخر کیا ہیں؟ اِن کی قیمت ہی کیا ہے؟ بھائی! آپ ان کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔
خدا کی قسم! یہ لوگ اس قابل نہیں کہ ان کے بارے میں سوچا بھی جائے۔
میں یہاں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے اِس کلام پر ہمیں معاذ اللہ کہنا چاہیے۔
یہ لوگ مرثیے کے علاوہ کسی چیز کے مستحق نہیں ہیں۔ میرا خیال ہے ان لوگوں کے لیے(جو ایسی باتیں کرتے ہیں) خون کے آنسو بہانے چاہییں کیونکہ انہوں نے ایسی باتیں کرکے اپنی دنیا اور آخرت خراب کرلی ہے۔
اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا:
ذَرْهُمْ يَأْكُلُواْ وَيَتَمَتَّعُواْ وَيُلْهِهِمُ الأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (سورۃ الحجر: ۳)
’’ ان کو مست اور خواہشوں کے پیچھے چلتا رہنے دو۔ آخر کار اِن کو سب کچھ پتہ چل جائے گا۔‘‘
اور اس سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو تو بالکل صحیح راستے پر سمجھ رہے ہیں اور دوسروں کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اُن کے سارے اعمال ضائع ہو رہے ہیں اور ساری نیکیاں بے فائدہ جارہی ہیں، اُن سے منزل گم ہوچکی ہے اور وہ گمراہ ہوچکے ہیں۔
وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاً(سورۃ الکہف: ۱۰۴)
’’ ان کا خیال ہے کہ وہ بالکل ٹھیک (اور بہت اچھا) کام کر رہے ہیں۔ ‘‘
مجھ سے ایک بھائی نے کہا کہ ایک صاحب کا مکان گر گیا اور اس کے نیچے آکر اُن کا ایک بچہ مارا گیا۔ اُس نے اس موقع پر ایک بکرا ذبح کیا اور ہمیں شکرانے کے نفل ادا کرنے کے لیے بلایا۔ ہم اُس کی دعوت پر گھر گئے تو ہم نے کہا ’بھائی! آپ کا گھر گیا…… آپ کی بچی ماری گئی اور آپ ہمیں قربانی کا گوشت کھلانے پر مصر ہیں‘۔ کہا: ’یہ شکرانے کی قربانی ہے کہ اُس اللہ نے محض میرا ایک بچہ واپس لیا ہے اور باقی بچے چھوڑ دیے ہیں، اگر وہ سارے لے لیتا تو میں کیا کرتا‘۔
ہمارے ہاں ایسا صبر کہاں ملتا ہے؟
ہمارے ہاں تو اگر ایک رات کے لیے بجلی یا گیس منقطع ہو جائے تو سارے گھر والوں کا جینا حرام ہو جاتا ہے۔ سب لوگ آپ کی ناک میں دم کردیں گے۔ اور اگر گھر میں جنریٹر نہ ہو تو پھر تو آپ کی خیر نہیں۔ آپ شاید باہر سڑک پر جا سوئیں یا کسی مرکز اسلامی میں سونے چلے جائیں۔ یا شاید کسی ہوٹل میں شب بسری کا ارادہ باندھیں۔
ذرا موازنہ کیجیے …… اپنا…… اور ان لوگوں کا جو سالوں سے ڈھلکی ہوئی چھتوں کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ مٹی اور پتھر کے ملبے کے درمیان کہیں رہتے ہیں اور اس ملبے کے اندر بیٹھ کر بھی وہ یہی سوچتے ہیں کہ دنیا میں سب سے خطرناک قوت کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔
اس سے بڑھ کر صبر کیا ہوسکتا ہے؟ اللہ کی اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو سکتی ہے کہ وہ انسانی دل پر صبر کی نعمت انڈیل دے جیسا کہ عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’وجدنا خیر عیشنا بالصبر.‘‘
’’ ہمارے لیے سب سے بہتر زندگی صبر کی ہے۔‘‘
اور کہا:
لوکان الصبر والشکر جوادین ما بالیت ان ارکب احدھما ان ارکب البلاء فاصبر او ارکب العافیۃ فاشکر……‘‘
’’ اگر صبر اور شکر دو گھوڑے ہوتے تو میں یہی سوچتا کہ کس گھوڑے پر سوار ہوں۔ آیا مصیبت کے گھوڑے پر سوار ہوں اور صبر کروں…… یا عافیت اور امن کے گھوڑے پر بیٹھ کر شکر خداوندی بجالاؤں۔‘‘
کرامت
مطرف کہتے ہیں، میں نے ابن الحصین کو دیکھا کہ عجیب مصیبت سے دوچار ہیں۔ اُن کا پیٹ پھول پھول کر بہت بڑا ہوچکا تھا۔ چونکہ آپ چار پائی سے اُتر نہ سکتے تھے اس لیے بول و براز کی حاجت کے لیے وہیں چارپائی میں ہی سوراخ کردیا گیا۔ یہ دیکھ کر میری آنکھیں بہنے لگیں۔
کہا:’’ کیوں روپڑے؟‘‘
میں نے کہا:’’ آپ کا حال دیکھ کر۔‘‘
کہا:’’ نہ روؤ کیونکہ مجھے بھی وہ پسند ہے جو اسے پسند ہے‘‘، اور اس کے ساتھ ہی آسمان کی طرف اشارہ کیا، پھر کہا:’’ مطرف! کیا تمہیں مجھ پر ترس آرہا ہے؟
خدا کی قسم! اس بیماری میں اللہ کے فرشتے مجھ سے ملنے آتے ہیں، مجھے سلام کرتے ہیں اور میں یہ سب کچھ محسوس کرتا ہوں۔‘‘
تو برادران کرام!
صبر کیجیے …… صبر اختیار کیجیے…… صبر کا مرتبہ یقیناً! بہت عظیم ہے۔
اللہ نے بھی یہی فرمایا کہ ’’ رباط‘‘ سے پہلے خود بھی صبر کرو اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرو۔ فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورۃ آلِ عمران: ۲۰۰)
’’ اے ایمان والو! صبر کرو…… صبر کی تلقین کرو…… آپس میں بندھے اور جڑے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ فلاح پاسکو۔‘‘
جہاد کا کام صبر کے بغیر جاری نہیں رہ سکتا کیونکہ جہاد بھاری عبادت ہے اور اس میں سے بھی آپ کے لیے سب سے زیادہ شاق یہ ہے کہ آپ کو ایسے گروپ کے ساتھ رہنا پڑے جس کے انداز یا اطوار آپ کو پسند نہ ہوں، ان کا سلوک آپ کو مزہ نہ دے لیکن آپ صبر کرنے پر مجبور ہوں…… پورا بدلہ…… اور کامل ثواب آپ کو اپنے ساتھیوں پر صبر کیے بغیر کیسے مل سکتا ہے؟ صحیح میں ہے:
’’الغزو غزوان فمن غزا ابتغا مرضاۃ اللہ ویاسر الشریک ای کان یسرا فی اخلاقہ سھلا مع اصحابہ باشا فی وجوھھم یتغاضی عن ھفواتھم ویطبق جفنیہ عن اخطاء ھم ویقیل عثراتھم ویاسر الشریک واطاع الامیر وانفق الکریمۃ واجتنب الفساد فذالک نومہ ونبھہ اجر کلہ.‘‘
’’ جنگیں دو قسم کی ہیں؛ ایک وہ جو اللہ کی مرضی کی خاطر ہو جس میں انسان خوشی سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوا حصہ لے، مسکراتے چہرے سے سب کو ملے، فضولیات سے پرہیز کرے اور لوگوں کی غلطیوں سے صرف نظر کرے اور اُن کی…… اور دوسرا وہ جو جنگ میں خوشی سے شریک ہو، امیر کی اطاعت کرے، اپنی بہترین چیز انفاق کرے، فساد سے بچے…… اس دوسرے شخص کا سونا اور جاگنا ہر چیز اجر کی مستحق ہے۔‘‘
یعنی آپ کو پانچ شرائط پوری کرنی ہیں یہ کہ :
-
فقط اللہ کی مرضی کی خاطر نکلیں۔
-
امیر کی اطاعت کریں۔
-
اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔
-
اپنا مال خرچ کریں۔
-
فساد سے بچیں، چغل خوری نہ کریں، غیبت نہ کریں، حسد نہ کریں، تفرقہ نہ پھیلائیں، پھوٹ نہ ڈالیں، غرور نہ کریں، ریاکاری نہ کریں، خود پسندی نہ دکھائیں، دوسروں کو حقیر نہ سمجھیں۔ اگر ان کو اپنے سے بہتر نہ سمجھ سکیں تو کم از کم اپنے جیسا اپنا بھائی ضرور سمجھیں۔ بہتر یہ ہے کہ دوسروں کو اپنے سے اچھا سمجھا جائے۔ عیبوں کی جستجو نہ کی جائے۔ اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی آنکھ کا شہتیر تو دیکھتا نہیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھ لیتا ہے۔ اپنے عیبوں کی طرف دیکھیے، اپنی طرف نظر کیجیے۔ تب آپ دوسروں پر صبر کرسکیں گے۔
اور تب آپ کو پتہ چلے گا کہ سب سے زیادہ جس کی اصلاح کی ضرورت ہے وہ تو خود آپ ہی ہیں۔
أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(سورۃ آلِ عمران: ۱۶۵)
’’ کیا تم پر اس سے پہلے بھی (ایسی ہی) مصیبت نہیں آچکی؟ تمہیں اس سے دگنی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا تو تم نے کہا: یہ کیا! یہ کہاں سے آگئی؟ کہو! یہ تمہاری ہی طرف سے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم!
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
1 شیخ عزام نے جب یہ بات فرمائی تو روس کے خلاف جہاد کو آٹھ سال ہوئے تھے، پھر یہ جہاد کئی برس مزید جاری رہ کر پورا ہوا، پھر مقامی طواغیت کے خلاف جہاد ہوا، پھر افغانستان میں امریکہ آ گیا اور آج بیس سال امریکہ اور اس کی مسلط کردہ جنگ کو بھی ہو چکے ہیں۔ کم و بیش چالیس سال سے زائد کا عرصہ ہے جو جہاد میں ویسا ہی گزرا ہے جیسا شیخ نے آٹھ سال کو بیان کیا ہے۔ (ادارہ)