خبر تھی یا کوئی بھونچال تھا، جس نے ہاشمی ہاؤس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ یہ خبر کس نے بریک کی یہ تو یقینی طور پہ پتہ نہ چل سکا تھا۔ مگر ناشتے کے برتن دھوتی ہوئی سلمیٰ کی رَننگ کمنٹری سنتے ہوئے، بلکہ سن کر اَن سنی کرتے ہوئے بینش اپنے لیے کافی کا مَگ بنا کر کچن سے باہر جانے ہی والی تھی جب سلمیٰ نے نَل بند کرتے ہوئےاپنے دوپٹے سے ہاتھ پونچھے اور ایک گہرا سانس لیتے ہوئے تاسّف سے بولی،’آپا کی طرف جانے کی تو میری آج ہمّت ہی نہیں ہو رہی باجی! پتہ نہیں کیسی ہوں گی جی…… مجھ سے تو ان کا سامنا نہیں کیا جائے گا‘۔
’کیوں؟ ایسا کیا ہو گیا ہے؟‘، بینش نے چونک کر پوچھا۔
’وہی نسرین باجی والے معاملے پر کہہ رہی ہوں…… ظاہر ہے صولت آپا تو بہت دکھی ہوں گی ناں…… وہ تو ماں ہیں جی۔ خود مجھے بھی بہت دکھ ہوا۔ اور آپائی (آپا جی، نذیر کی والدہ) نے تو جب سے سنا ہے، اس کے آنسو ہی نہیں رک رہے……بس کھاٹ پہ لیٹی روتی جا رہی ہے‘، سلمیٰ دکھی لہجے میں آہستہ سے بولی۔
’نسرین والا کون سا معاملہ……؟کچھ بتاؤ تو سہی!‘، بینش کو اب بے چینی ہو رہی تھی۔ سلمیٰ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، کیا اس کو نہیں پتہ تھا۔
’آپ کو نہیں پتہ جی……؟‘، اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا، ساتھ ہی اسے تشویش بھی ہو رہی تھی کہ بینش کے سامنے اپنی معلومات کا اظہار کر کے اس نے غلطی تو نہیں کی۔ آپائی ہمیشہ اسے بہت سختی سے بیگمات کے معاملات میں دلچسپی لینے اور دخل اندازی کرنے سے منع کرتی تھیں۔مگر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ بینش کو پتہ نہ ہوتا…… وہ تو یہی سمجھ کر اس کے سامنے بول اٹھی تھی کہ یقیناً اسے یہ معاملہ پتہ ہی ہو گا، دوسری جانب والے پورشن میں تو بچے بچے کو پتہ تھا۔ خود انہیں بھی رات کو جب نذیر نے ساری کہانی سنائی تو یہی کہا تھا کہ وہ زین صاحب سے سن کر آیا ہے، جو اویس کو ساری بات بتا رہے تھے۔ مگر اب اگر یہ غلطی تھی بھی تو کچھ ہو نہیں سکتا تھا، کیونکہ غلطی تو ہو چکی تھی۔ اب بینش کے سوالات کے جواب میں اسے جو کچھ معلوم تھا، بتانا ہی تھا۔ اور ساری بات سن کر بینش اپنی کافی بھول بھال ، سیدھی فائزہ بیگم کے دروازے پر پہنچی۔ ہلکا سا دروازہ کھٹکھٹا کر وہ اندر داخل ہوئی۔
’فائزہ باجی! آپ نے سنا ہے یہ سلمیٰ کیا کہہ رہی ہے؟‘، وہ بغیر کسی تمہید کے فائزہ بیگم کے سر پر پہنچ کر ان سے مخاطب ہوئی جو اپنے سامنے دھلے ہوئے کپڑوں کا ڈھیر رکھے بیٹھی تھیں، اور کپڑے تہہ کر کر کے نفاست سے ایک جگہ رکھ رہی تھیں۔
’اللہ!! بینش! کیا ہو گیا؟…… کیا کہہ رہی ہے سلمیٰ؟‘، فائزہ بیگم نے دہل کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ ایسی ہی تھیں…… غیر متوقع باتوں، تیز آوازوں پر فوراً گھبرا جاتیں۔ ابھی بھی بینش کی اچانک آمد نے انہیں دہلا دیا تھا۔اوپر سے اس کا بات کرنے کا انداز مزید پریشان کن تھا، نجانے کیا کہہ دیا تھا سلمیٰ نے اسے۔
’کہہ رہی ہے کہ نسرین کو ارشد نے طلاق دے دی ہے……اور خود کینیڈا میں ہی کسی سے شادی رچا بیٹھا ہے!‘۔
’نہیں……! کیا فضول بات ہے یہ بینش!!…… ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟؟!‘، وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’سلمیٰ کی انفارمیشن ہے باجی……کہہ رہی ہے کہ زین نے بتایا ہے‘۔
’زین کو کیا پتہ…… وہ تو بچہ ہے! اگر ایسا کچھ ہوتا تو آپا ہم سے خود ذکر کرتیں……‘، فائزہ بیگم بے چینی اور تشویش کے ملے جلے جذبات سے بولیں۔
’میرا خود بھی یہی خیال ہے باجی! کہ اگرایسی کوئی بات ہوتی تو آپا ذکر کرتیں، مگر پھر بھی یہ ایسی بات بھی نہیں ہے جو کسی نے خود سے ہی گھڑ لی ہو۔ میرا مطلب ہے کہ ملازمین تک کی زبانوں پر یہ بات ہے تو یقیناً اس کی کوئی بنیاد تو ہو گی ‘، بینش سوچتے ہوئے بولی۔
’ہاں…… صحیح کہہ رہی ہو تم……چلو پھر صولت آپا کے پاس ہی چلتے ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر تو اور بھی ضروری ہے کہ ان کے پاس جایا جائے‘۔
پندرہ منٹ بعد وہ دونوں صولت بیگم کے پاس ان کے لاؤنج میں بیٹھی تھیں۔ صولت بیگم دونوں دیورانیوں کو غیر متوقع طور پر سامنے دیکھ کر تھوڑی سی حیران تو ہوئی تھیں، کہ یہ وقت گھر کے کاموں اور مصروفیات کا ہوتا ہے، مگر انہوں نےاپنی حیرت کا کسی صورت اظہار نہیں ہونے دیا ۔ فائزہ بیگم اور بینش، دونوں ہی گہری نظروں سے ان کا جائزہ لے رہی تھیں، مگر کہیں سے بھی تو ان باتوں یا جذبات کا اظہار نہیں ہو رہا تھا جو سلمیٰ کی معلومات کی روشنی میں، قدرتی طور پرصولت بیگم کے ہونے چاہیے تھے۔ پھر کہاں سے بات شروع کی جائے اور کیسے اس افواہ کی تصدیق کرائی جائے…… فائزہ بیگم کچھ بھی پوچھتے ہوئے جھجک رہی تھیں۔
’آپا وہ…… آپ سے ایک بات پوچھنے کے لیے آئی ہوں……‘، وہ ہچکچاتے ہوئے بولیں۔
’ہاں…ہاں…… پوچھو ناں!‘، صولت بیگم فوراً ان کی طرف متوجہ ہو گئیں۔
’وہ…… آپا… ویسے تو یقیناً یہ خبرغلط ہی ہو گی، …… مگر چونکہ پورے گھر میں پھیلی ہوئی ہے اس لیے میں نے سوچا کہ آپ سے پوچھ لوں…… ایسا نہ ہو کہ کوئی غلط بات گھر سے نکلے……‘،وہ اب بھی اصل بات پوچھنے سے جھجک رہی تھیں۔
’کیسی خبر…؟‘، صولت بیگم نے ٹھٹک کر پوچھا۔
’یہ آج…… بینش کو سلمیٰ نے بتایا ہے کہ …… کہ نسرین اور ارشد کے مابین کوئی مسئلہ چل رہا ہے‘، انہوں نے قصداً مبہم انداز اپنایا۔ جواب میں صولت بیگم کا فق ہوتا چہرہ دیکھنے کے بعد کسی بھی قسم کی تصدیق کی ضرورت نہ رہی تھی۔ وہ کچھ بول ہی نہ سکیں، جبکہ ان کے دکھ کو اپنے دل میں محسوس کرتے ہوئے فائزہ بیگم تڑپ اٹھی تھیں۔
’کیا بات ہے آپا؟ کیاسلمیٰ صحیح کہہ رہی تھی کہ ارشد نے نسرین کو طلاق دے دی ہے اور دوسری شادی کر لی ہے؟‘۔
’نہیں!……نہیں ! ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ سلمیٰ کو کیسے پتہ چلا اس معاملے کا؟‘ ،ان کے سوال پر صولت بیگم چونک کر بولیں۔ انہیں محسوس ہوا کہ بات کا اب بتنگڑ بنتا چلا جا رہا ہے۔نجانے سلمیٰ تک بات کس انداز میں پہنچی تھی اور اس نے مزید آگے پھیلاتے ہوئے اسے کیا سے کیا رنگ دے دیا تھا۔ ایسے میں ان کی خاموشی یا پردہ داری قطعی سود مند نہیں تھی۔
’آپا آپ نے ہم سے کوئی ذکر ہی نہیں کیا!گھر کے بچے بچے کو پتہ ہے اور بڑوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے کوئی بات…… اور اگر کوئی غلط سلط بات بچوں کے ذریعے گھر سے نکلی تو اس سے کتنا نقصان ہو گا جبکہ گھر کے بڑوں کو پتہ ہی نہیں کہ معاملہ کیا ہے……سچ میں آپا! بہت غیریت برتی ہے آپ نے‘، بینش جذباتی انداز میں بولی۔
’نہیں بینش! غیریت والی کون سی بات ہے…… اصل میں ایک خبر ملی تھی کسی ذریعے سے…… کہ ارشد نے کینیڈا میں شادی کر رکھی ہے۔ اور ابھی اس معاملے کی پوری طرح تحقیق بھی نہیں کی تھی اس لیے کسی سے بھی ذکر نہیں کیا…… حتیٰ کہ نسرین سے بھی نہیں…‘، وہ محتاط انداز میں بولیں۔
_______________________
آج وہ دونوں صحیح معنوں میں خوار ہوئی تھیں۔ اور اب تھکن اور گرمی سے بے حال نور سوچ رہی تھی کہ وہ کیوں نسرین کے ساتھ بازار چلی آئی تھی۔ وہ دونوں صبح صبح یہ سوچ کر نکلی تھیں کہ ٹھنڈے وقت میں اور کم رش کے اوقات میں جلدی جلدی اپنی شاپنگ نمٹا لیں گی۔ مگر یہ انہیں اندازہ ہی نہ تھا کہ دن کے گیارہ بجے تک دکانیں کھلی ہی نہ ہوں گی۔نسرین اپنی نند سندس کی منگنی کی تقریب کے لیے اپنے اور اس کے لیے جوڑے خریدنا چاہتی تھی۔ سینے سِلوانے کا اس کا کوئی خاص ذوق نہیں تھا، سو نبیلہ کے مشورے پر وہ آج ’آغا نور‘ کے باہر کھڑی تھیں، اس امید پر کہ وہاں سے مناسب قیمت پر تیار شدہ ڈریس خرید کر وہ فوراً گھر کی راہ لیں گی۔ مگر دکان کے شیشے کے دروازے پر جلی حروف میں ساڑھے گیارہ بجے دکان کھلنے کے اوقات درج تھے۔ خیر، وہ دونوں عبد اللہ کے ہاتھ پکڑے وہیں انتظار میں کھڑی ہو گئیں کیونکہ ساڑھے گیارہ بجنے میں اب تھوڑا ہی وقت تھا۔ مگر دونوں کی پریشان نظریں آس پاس کھڑی دیگربہت سی خواتین پر تھیں جو انہی کی طرح دکان کھلنے کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ دکان کھلنے سے پہلے ہی اتنا رَش ہو گا، انہیں بالکل توقع نہیں تھی۔اوپر سے عبداللہ اپنے ہاتھ چھڑا کر ادھر ادھر گھومنے کے لیے مچل رہا تھا۔
اور پھر دس منٹ بعد جب دکان کھلی تو نور کو اپنے سکول کی کینٹین یاد آ گئی۔ جیسے ہی بریک کی گھنٹی بجتی، طالبات گویا اڑتے ہوئے کینٹین تک پہنچتی تھیں۔ اور پانچ منٹ بعد ہی اس قدر رَش ہوتا کہ ہجوم اور دھکم پیل میں اس کے لیے تو کاؤنٹر تک پہنچنا بالکل ہی ناممکن ہو جاتا تھا۔کچھ ایسا ہی حال یہاں بھی تھا۔ ادھر دکان کا دروازہ کھلا، ادھر خواتین کا ریلا اپنی تمام تر نسوانیت اور شرافت بھلا کر، شہد کی مکھیوں کی سی تیزی سے اندر بڑھا تھا۔ انہی خواتین میں کہیں کہیں بعض کے ساتھ آنے والے خواتین نما مرد بھی موجود تھے۔ وہ دونوں دروازے کے قریب ہی کھڑی تھیں، مگر تیزی سے اندر کی جانب جانے والی مرد نما خواتین یا خواتین نما مرد وں سے بچنے کی کوشش میں وہ دونوں ہی بوکھلا کر پیچھے ہٹ گئیں۔ پھر کہیں دس منٹ بعد ہی انہیں دکان کے اندر داخل ہونا نصیب ہوا۔ مگر اندر بھی جو دھکم پیل، چھینا جھپٹی اور افرا تفری تھی، اس میں سکون سے کپڑے دیکھنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ نبیلہ نے بتایا تھا کہ آغانور والے روز کا سٹاک لاتے تھے جو اسی روز بِک جاتا تھا۔ پھر اگلے دن وہ نیا سٹاک لاتے۔ اور یہاں حالات دیکھ کر بھی ایسا ہی لگ رہا تھا کہ خریداری کرنے والے ایسے ہی خرید رہے تھے گویا آج دکان والے مفت میں کپڑے بانٹ رہے ہوں، اور یہ موقع کل نہیں آئے گا۔
ان دونوں نے سہمے سہمے انداز میں اپنے سامنے کھڑی خواتین کے کندھوں کے اوپر سے جھانک کر کپڑے دیکھنے کی کوشش کی مگر چار پانچ دھکوں، دو دفعہ اپنے پاؤں کسی کے بھاری بھرکم پاؤں تلے کچلوانے اور دو بار ہجوم کی وجہ سے عبداللہ کا ہاتھ چھوٹ جانے کے بعد نسرین نے گھبرا کر فیصلہ کیا کہ کہیں اور سے کپڑے خرید لیتے ہیں۔ اور وہ دونوں جلدی سے باہر نکل آئیں۔ مگر اس کے بعد جو وہ دونوں بازار میں خوار ہوئیں، انہیں حقیقت میں دن میں تارے نظر آنا شروع ہوگئے۔ ایک دکان سے دوسری دکان کے چکر کاٹتے کاٹتے، کہیں ریڈی میڈ شلوار قمیص ہے تو دوپٹہ ندارد، کہیں قمیص دوپٹہ مل رہا ہے تو ساتھ تنگ سے پاجامے، تھری پیس تیار شدہ سوٹ کے نام پر کوئی گزارہ لائق چیز بھی تو نہیں مل رہی تھی۔ پھر عبد اللہ کو بھی نسرین ساتھ ہی لے آئی تھی کہ چند گھنٹے بھی اسے گھر چھوڑ کر آنا اس کے لیے مشکل تھا، سو یہ سوچ کر کہ عبداللہ ساتھ ہو گا تو یہ پریشانی نہیں ہو گی کہ کہیں وہ رو نہ رہا ہو، کہیں وہ اس کے بغیر پریشان نہ ہو، اور وہ سکون سے شاپنگ کر سکے گی۔ مگر عبداللہ تو الٹا اس کے لیے وبالِ جان بن گیا تھا۔تھوڑی سی دیر بعد ہی وہ چلنے سے انکاری ہو گیا اور گود میں چڑھنے کے لیے ضد کرنے لگا۔ مگر چار سال کا بچہ کوئی ایسا ہلکا پھلکا تو ہوتا نہیں کہ اسے اٹھا اٹھا کر پھِرنا آسان ہو۔ پھر بھی اس کے رونے دھونے سے عاجز آ کر نور نے اسے اٹھا لیا تھا۔ اور اب پچھلے آدھے گھنٹے سے سوئے ہوئے عبداللہ کو اٹھائے اٹھائے اس کے بازو شل ہو گئے تھے۔
خالی ہاتھ گھر جانا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ آخر ایک دکان پر ایک، دو کٹ پیس پسند آئے تو نسرین نے وہی خرید لیے۔ کاؤنٹر پر قیمت ادا کرتے ہوئے سامنے ڈسپلے پر رکھی جیولری کے چند پیس بھی اسے پسند آ گئے۔ سندس کے لیے جوڑا خریدنے سے بہتر ہے کچھ اچھی جیولری ہی دے دوں۔ یہ سوچ کر اس نے وہ بھی خرید لی۔ اسے ساتھ کھڑی نور کی تھکاوٹ کا بھی بخوبی احساس تھا، نور تو ایسی با مروت تھی کہ کبھی کچھ نہ کہتی، مگر اسے خود تو خیال آ ہی رہا تھا کہ اس کا پچیس پاؤنڈ کا بیٹا لادے وہ بیچاری کب سے اس کا ساتھ دے رہی تھی۔ گاڑی کی طرف جاتے ہوئے اس نے اپنے اور نور کے لیےٹھنڈے ٹھار ملک شیک کے دو گلاس خریدے اور آخر کار وہ دونوں واپسی کے لیے گاڑی میں آ بیٹھیں۔ ان کے بیٹھتے ہی سلطان(پرویز مالی کا بیٹا، جو ڈرائیور کے فرائض انجام دیتا تھا) نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔گاڑی میں بیٹھ کر دونوں کو سکون ملا تھا، ٹھنڈے ملک شیک نے بھی تھکاوٹ اتارنے میں کچھ مدد دی۔ حواس کچھ بحال ہوئے تو نسرین کو ہینڈ بیگ میں مسلسل بجتی موبائل کی رِنگ ٹون کا احساس ہوا۔ اس نے جلدی سے بیگ میں پڑا موبائل نکالا، اس کی ساس کی کال تھی۔
’جی آنٹی…… السلام علیکم!‘،
’……جی؟……میں دراصل بازار میں تھی ……… ‘،
’……نہیں آنٹی…… موبائل تو ساتھ تھا مگر آواز نہیں آئی……‘،
’جی……؟ نہیں آپ کی آواز کٹ رہی ہے شاید……‘،
’ہیلو؟ ہیلو……؟؟!‘،
اس نے کان سے موبائل ہٹا کر سکرین کی طرف دیکھا۔ بلینک سکرین اس کا منہ چڑا رہی تھی۔ ’……ایک تو یہ عبداللہ بھی ناں……… اتنا شرمندہ کرواتا ہے۔ اب پھر گیمیں کھیل کھیل کر بیٹری بالکل ختم کر رکھی ہے……‘، وہ غصّے سےبڑبڑائی۔ نور خاموشی سے اپنا ملک شیک پیتی رہی۔ اب گاڑی جانی پہچانی سڑکوں پر گامزن تھی۔ گھر قریب ہی تھا۔ گھر پہنچے تو نسرین نے سوئے ہوئے عبداللہ کو گود میں اٹھا لیا جبکہ نور سارا سامان اکٹھاکرنے لگی۔ وہ دونوں آگے پیچھے لاؤنج میں داخل ہوئیں تو سامنے ہی صوفے پر صولت بیگم کے ساتھ فائزہ بیگم اور بینش کو بیٹھے ہوئے پایا۔ نور تو وہیں ان کے ساتھ ہی صوفے پر جا بیٹھی جبکہ نسرین دور سے سلام کر کے عبداللہ کو لٹا نے کے لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ چند منٹ بعد وہ موبائل کا چارجر ہاتھ میں لیے لاؤنج میں چلی آئی۔ موبائل کو چارجر سے کنکٹ کرنے کے بعد اس نے موبائل آن کیا۔ سات مسڈ کالز…… آنٹی کے نام سے محفوظ کیے ہوئے نمبر کے سامنے لکھا آ رہا تھا۔ نجانے آنٹی نے کیا کہنا تھا جو اتنی ساری کالز کیں۔ موبائل کچھ چارج ہو تو انہیں فون کرتی ہوں۔ یہ سوچتے ہوئے وہ بھی سب کے درمیان آ بیٹھی۔
نور اب ہنس ہنس کے صبح آغا نور والا واقعہ سنا رہی تھی۔’……بس پھر ہم دم دبا کر وہاں سے نکل آئے، وہاں سے تو خریداری کرنے کے لیے بھی باڈی گارڈ ساتھ ہونے چاہییں ……‘۔
’اب تمہیں ہنسی آ رہی ہے، اس وقت تو لگ رہا جیسے وہیں بیٹھ کر رونا شروع کر دو گی‘، نسرین نے اسے چھیڑا۔
’کہاں آپا……!! مجھ سے کہیں زیادہ تو آپ پریشان تھیں۔ آپ کے نقاب کے باوجود صاف پتہ چل رہا تھا۔ عبد اللہ کو اور اپنے ہینڈ بیگ کو تو آپ نے ایسے پکڑا ہوا تھا جیسے کوئی چھین کر لے جائے گا۔ ایسے جیسے امیروں شریفوں کی دکان میں نہیں، بلکہ چور اچکوں کے درمیان کسی بس سٹاپ پر کھڑی ہوں…… ‘، نور مزے سے بولی۔
’چور اچکے نہ سہی، مگر شریفوں کے جانے کے قابل بھی نہیں تھی وہ جگہ……‘نسرین صبح کی دھکم پیل یاد کرتے ہوئے بولی، ’خیر ……چچی! حیرت ہے آپ نے شاپنگ دکھانے کو بھی نہیں کہا……؟‘، اس نے بینش کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔ شاپنگ میں بینش کی عدم دلچسپی اس کی عادت اور مزاج کے بر خلاف تھی۔
’ہاں…… دکھاؤ ناں……!‘، بینش شاید اپنی ہی کسی سوچ میں گم تھی ، خلافِ معمول نسرین کو وہ بہت سنجیدہ لگی۔ایک لمحہ کو تو وہ ٹھٹکی، پتہ نہیں کیا بات ہے…… کہیں امّی کے ساتھ کوئی اَن بَن تو نہیں ہو گئی، ان کا بھی چہرہ اترا ہوا سا لگ رہا ہے، جیسے روتی رہی ہوں……مگر دوسرے ہی لمحے اس نے یہ خیال ذہن سے جھٹک دیا۔بھلا ایسی کون سی بات ہو گئی ہو گی جس نے صولت بیگم کو رونے پر مجبور کر دیا ہو۔ یوں بھی تینوں بھائیوں کی بیگمات میں ہمیشہ ہی اچھے تعلقات رہے تھے۔ تھوڑی بہت اونچ نیچ تو بشری تقاضا ہے، مگر اگر کبھی ان بن ہو بھی جاتی تو وہ تینوں جلد ہی اپنا اور ایک دوسرے کا دل صاف کرنے کی کوشش کرتیں۔ وہ اپنے شاپنگ بیگز اٹھا لائی۔
’سب سے پہلے تو یہ دیکھیں……یہ بریسلٹ کیسا ہے؟‘، اس نے ایک چھوٹے سے لفافے میں سے موتیوں کا بنا ہوا بنفشی بریسلٹ نکالا۔
’یہ میری پسند سے لیا تھا آپا نے…… اچھا ہے ناں امّی……؟‘، نور نے اپنے انتخاب پر داد طلب نظروں سے ماں کی طرف دیکھا۔ بریسلٹ بہت خوبصورت تھا، سبھی کو پسند آیا ۔
’اور یہ تمہارے لیے ہی لیا تھا گڑیا…… یہ لو‘، نسرین نے بریسلٹ احتیاط سے لفافے میں واپس ڈالتے ہوئے نور کی طرف بڑھا دیا۔ نور اچانک شرمندہ ہونے لگی۔
’نہیں آپا…… ! آپ رکھیں ناں اپنے لیے……‘، اس نے احتجاج کرنا چاہا، مگر پھر نسرین کے گھورنے پر جلدی سے لفافہ پکڑ لیا۔ نسرین اب دیگرچیزیں نکال نکال کر صولت بیگم اور چچیوں کے سامنے رکھ رہی تھی۔ بینش کو اس کا خریدا ہوا کٹ پیس پسند آیا تھا۔
’یہ کتنے میں ملا……؟‘،
’یہ ۲ ہزار روپے کا تھا چچی…… ایک میٹر کپڑا ہے تقریباً……‘،
’بہت مہنگا نہیں خرید لیا نسرین……؟ ابھی اس کے ساتھ لائننگ، شلوار اور دوپٹہ بھی خریدنا ہو گا‘، بینش نے تعجب سے کہا۔
’مہنگا ہے چچی؟!مجھے تو لگا مناسب ہی قیمت ہے……‘، نسرین کو فوراً افسوس لاحق ہو گیا۔
’تم نے تو کچھ کم بھی نہیں کروایا ہو گا…… منہ مانگی قیمت ادا کر دی ہو گی……‘، بینش اس کی طبیعت سے واقف تھیں، نسرین کو بازار اور خریداری کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
بس چچی…… حالات ہی ایسے تھے……‘،اس کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ پہلے دھاڑ سے بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پھر تیزقدموں سے چلتی ہوئی نبیلہ چھوٹی سی راہداری پار کر کے نمودار ہوئی ۔دہلیز پر کھڑے کھڑے ہی اس نے لاؤنج میں بیٹھے تمام نفوس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور پھر نسرین کو دیکھ کر تقریباً بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئی۔
’آپا……! کیا یہ سچ ہے؟!‘، وہ اس کے سر پر کھڑے ہو کر پوچھ رہی تھی۔ اس کے لہجے میں غصّہ تھا، تحکم اور اضطراب تھا۔ چہرہ اندرونی جذبات کی تمازت سے سرخ ہو رہا تھا۔ ’یہ سب جو کچھ کہہ رہے ہیں…… کیا یہ سچ ہے؟‘۔
’کک……کیا کہہ رہے ہیں؟ آرام سے بات کرو بیلا!… کیا ہو گیا ہے؟‘، اس کے تیور دیکھ کر ہکّا بکّا نسرین حیرت سے بولی۔
’ارشد نے آپ کو ڈائیوورس دے دی ہے؟ وہاں کسی گوری سے شادی رچا لی ہے؟……‘، ہر قسم کے ادب و احترام سے عاری، یہ صاف اور دوٹوک جملہ کمرے کی فضا میں کسی بم کی طرح پھٹا تھا۔ کمرے میں چھا جانے والی خاموشی مکمل تھی۔ اس قدر مکمل کہ نسرین کو اپنے سینے میں دھڑکتے دل کا شور نا قابلِ برداشت حد تک بلند محسوس ہوا۔ اس کا چہرہ پہلے سفید، پھر بے تحاشا سرخ اور پھر پیلا پڑنا شروع ہو گیا تھا۔کمرے میں موجود تمام افراد کی نگاہیں اسے اپنے چہرے پر گڑی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ مگر اس کا ذہن ابھی تک نبیلہ کے جملے کو پوری طرح پراسیس نہ کر پایا تھا۔ اور پھر جب آہستہ آہستہ اس کے جملے کا مفہوم اس کے اندر اترا تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’کیا بد تمیزی ہے نبیلہ؟! تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے……؟ ‘، بے ہودگی کی حد کو چھوتے اس سنگین مذاق نے اسے تپا کر رکھ دیا تھا۔
’آپ سے شادی سے پہلے ہی وہ وہاں شادی کر چکا تھا۔ آپ سے تو آنٹی نے اس لیے ان کی شادی کی تاکہ آپ انہیں واپس پاکستان آنے پر مجبور کر دیں۔ پچھلے چار پانچ سالوں میں وہ گنتی کے چند دن گزارنے یہاں آیا ہے۔ یہ کیسا بزنس ہے اس کا کہ اسے چھٹی نہیں ملتی؟ گھر فون کرنے کے لیے فرصت نہیں ملتی؟…… وہ کبھی ویڈیو کال نہیں کرتا؟ وہ اپنے بھائی کو تو کینیڈا بلوا سکتا ہے، مگر اپنی بیوی اور بچے کے کاغذات نہیں بنوا سکتا……؟ ‘، وہ بے رحمی سے اسے تمام حقائق گنوا رہی تھی۔بمشکل اپنے آپ پر ضبط کیے نسرین کو لگا کہ اس کی قوتِ برداشت جواب دے جائے گی۔
’خاموش ہو جاؤ نبیلہ!…… اس سے زیادہ میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کروں گی‘، وہ ایک دم چیخ اٹھی تھی۔پھر مڑ کرصولت بیگم کی طرف دیکھ کر احتجاجاً بولی، ’امّی!…… سن رہی ہیں آپ؟منع کیوں نہیں کر رہیں اسے؟…… کیا فضول بکواس کیے چلی جا رہی ہے۔ تمیز…… تہذیب ہر چیز ختم ہو گئی ہے اس کے اندر سے…… اتنی سینس نہیں ہے کہ کیا بات مذاق کی ہے اور کیا نہیں! اور تم! ‘، اب وہ ایک بار پھر نبیلہ سے مخاطب تھی۔ اسے اس پر بے طرح غصّہ آ رہا تھا، ایک تو مذاق اس قدر واہیات دوسرا یہ بھی لحاظ نہیں کیا تھا کہ دونوں چچیاں سامنے بیٹھی ہیں۔ لے کر اتنا بڑا تماشا بنا دیا تھا۔ چاہنے کے باوجود اس سے اپنا غصّہ ضبط نہیں ہو رہا تھا۔ سدا کی صلح جُو اور نرم مزاج نسرین اس وقت شعلۂ جوالہ بنی ہوئی تھی۔’بہت بڑا سمجھنا شروع کر دیا ہے تم نے اپنے آپ کو؟! جو منہ میں آئے اگل دیتی ہو……! چھوٹی ہو، چھوٹی بن کر رہو……!!‘۔
’آپا ڈئیر! کاش کہ یہ مذاق ہوتا……! انتہائی بھونڈا ہی سہی،……مگر کاش کہ یہ مذاق ہوتا……!‘، اس کے غصّے کو قطعی خاطر میں لائے بغیر نبیلہ سرد لہجے میں بولی۔ اس سے پہلے کہ نسرین کچھ کہتی، کونے میں رکھے اس کے موبائل کی رِنگ ٹون بج اٹھی تھی۔ سب جو دم سادھے اسے اور نبیلہ کو دیکھ رہے تھے، یک دم جیسے ہوش میں آئے۔ نسرین تذبذب کے عالم میں موبائل کی طرف دیکھ رہی تھی۔ نبیلہ کی باتوں سے ایسا شدید غصّہ اس کے دماغ پر چڑھا تھا کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جیسے منجمد ہو گئی تھی۔ اسے اپنی جگہ پر بت بنا کھڑا دیکھ کر نبیلہ خود ہی آگے بڑھی اور موبائل اٹھا لیا۔ ’آنٹی کالنگ‘ سکرین پر جگمگا رہا تھا۔ اس نے ریسیو کا بٹن دباتے ہوئے ساتھ ہی سپیکر بھی آن کر دیا۔
’ہیلو……؟ ہیلو نسرین؟ …… کب سے تمہیں کال کر رہی ہوں، مگر تم سے بات ہی نہیں ہو پا رہی‘، دوسری طرف سے رخشندہ آنٹی کی بے چین آواز ابھری ۔
’جی آنٹی! میں آپ ہی کی کال کی منتظر تھی‘، نبیلہ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا مگر رخشندہ نے سنا نہیں،انہیں اپنی بات کرنے کی جلدی تھی۔ وہ اسے نسرین ہی سمجھی تھیں کہ دونوں کی آواز بہت زیادہ ملتی تھی، اور فون پر تفریق کرنا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔
’سنو بیٹا! تمہاری ارشد سے کوئی بات ہوئی ہے؟‘،
’کس بارے میں آنٹی؟‘، نبیلہ کے تجاہل میں بھی طنز کی آمیزش تھی۔
’کسی …کسی بھی بارے میں بیٹا…… میرا مطلب ہے…… کوئی جھگڑا تو نہیں ہوا؟ اصل میں…… اس کی کال آئی تھی تو وہ کچھ پریشان سا لگ رہا تھا……‘
’پریشانی کس بات کی آنٹی؟ آپ نے ارشد سے کہنا تھا ناں کہ ابھی تو دو ہی زندگیاں تباہ کی ہیں…… دو مزید کی گنجائش تو ہے ابھی۔ ابھی تو وہ اور بھی لڑکیوں کی زندگی تباہ کر سکتا ہے ، ابھی تو اور لڑکیوں کو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے……‘ نبیلہ کاٹ دار انداز میں بولتی جا رہی تھی۔ دوسری طرف گہرا سکوت چھا گیا ۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد رخشندہ بولیں،’بیٹا تم ابھی غصّے میں ہو، میں تم سے بعد میں بات کروں گی۔ بس صرف یہ کہوں گی کہ غصّے میں کوئی بھی فیصلہ مت کرنا‘۔ کال منقطع ہو گئی تھی۔نبیلہ نے سر اٹھا کر نسرین کی طرف دیکھا جس کی حالت ایسی ہو رہی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
’اب تو آپ نے اپنی چہیتی ساس امّاں کے منہ سے بھی سن لیا ناں……؟ اب یقین آ گیا میری بات پر؟‘۔ نسرین پھٹی پھٹی آنکھوں میں بے تحاشا بے یقینی لیے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ’سَسیے بے خبرے…… قربان جاؤں آپ کی سادگی پر آپا! اتنی خبر نہ ہو سکی آپ کو کہ جس کے نام پر پانچ سال انتظار کی سولی پر لٹکتے ہوئے گزار دیے، وہ آپ کے ساتھ مخلص بھی ہے یا نہیں…‘، تنفر سے کہتے ہوئے نبیلہ صوفے پر جا کر ٹک گئی تھی۔ جبکہ نسرین اپنی جگہ پر جیسے منجمد ہو گئی تھی۔ اس نے ذرا سی گردن موڑ کر کمرے میں موجود دیگر افراد پر نظر ڈالی۔ صولت بیگم کی آنکھوں سے بے آواز آنسو بہے چلے جا رہے تھے۔ اس بات کا ثبوت کہ وہ اس سارے معاملے سے واقف تھیں۔ فائزہ چچی بھی آنکھوں میں آنسو لیے کبھی اس کی طرف ترحم اور ہمدردی بھری نظروں سے دیکھتیں تو کبھی اپنے ہاتھوں میں دبا صولت بیگم کا ہاتھ دبا کر دلاسہ دینے کی کوشش کرتیں۔ بینش چچی شرمندہ شرمندہ سی نظریں جھکائیں بیٹھی اس کٹ پیس کو گھور رہی تھیں جو اب بھی ان کے ہاتھوں میں تھا۔ شاید انہیں یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس قدر ذاتی قسم کے منظرنامے میں ان کی موجودگی بے محل اور نا مناسب ہے۔ اور بینش کے ساتھ بیٹھی نور، ہکّا بکّا اور پریشان……جسے سمجھ ہی نہ آ رہا تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔
’آپا……!! ارے…آپا گر جائیں گی!!‘، نور کی بے ساختہ چیخ کی آواز گونجی، اور اس کے ساتھ ہی نسرین زمین بوس ہو گئی۔
_______________________
’جانتی ہو یہاں اور ’وہاں ‘ میں کیا فرق ہے؟ یہاں آ کر ایسا لگتا ہے جیسے کسی مدھر مدھر بہتی ندی کے کنارے آ بیٹھے ہوں۔ جو چپ چاپ، مٹی میں لیٹی ، خاموشی سے بہتی چلی جاتی ہے۔ جبکہ وہاں…… تم نے کبھی نیاگرا فالز دیکھی ہیں؟ …… تیز رفتار، شفاف پانی اتنی اونچائی سے آ کر گرتا ہے کہ آبشار کے گرد ہر وقت پانی سے اٹھنے والے جھاگ کے بادل چھائے رہتے ہیں۔ تند و تیز……شور مچاتی ہوئی…… زندگی سے بھرپور! ……‘۔
آنسو اس کی پلکوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر تکیہ کو بھگو رہے تھے۔ ’نسرین پلیز…… میں ابھی بہت مصروف ہوں…… تمہیں بعد میں کال کروں گا‘۔
’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ گھر بیٹھے ایسے کون سے اخراجات ہیں جو پورے ہی نہیں ہوتے! سوری مگر…… میرے پاس اس مہینے بالکل گنجائش نہیں ہے۔ تم پاپا سے پیسے مانگ لو!‘۔
’ سوری یار! ابھی میں بہت جلدی میں ہوں…… تم ابھی ذرا عبداللہ سے بات کرا دو، تم سے پھر بعد میں بات کروں گا……‘۔
’فار گاڈز سیک نسرین!! اپنے اندر کچھ کانفیڈنس پیدا کرو…… یہ اکیسویں صدی ہے، سترہویں نہیں……! تم کب تک ہر کام کے لیے پہلے مجھ سے اجازت لو گی؟ اپنے دماغ سے سوچ کر فیصلے کیا کرو……! ‘۔
’میں تم لوگوں کی خاطر ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اتنی دور آ کر بیٹھا ہوں۔ مجھے کوئی شوق تو نہیں ہے اپنے ملک سے دور رہنے کا…… پھر بھی، جب فون کرو، وہی شکوے شکایتیں……’ واپس کب آئیں گے؟‘، بھئی جب ممکن ہو گا آ جاؤں گا۔ اگر میرے پاس بار بار پاکستان کے چکر لگانے کے لیے اتنا ہی پیسہ ہوتا تو ایک ہی دفعہ پاکستان آ جاتا سیٹل ہونے کے لیے……‘
……اس کے لہجے کی سختی، بیزاری ……اکتاہٹ…… اسے اپنے آپ پر حیرت ہو رہی تھی کہ وہ کبھی محسوس ہی نہ کر پائی کہ ارشد کی جھنجھلاہٹ اور بیزاری کا سبب گھر سے دوری اور کاموں کی زیادتی نہیں، بلکہ خود اس کا اپنا اَن چاہا وجود تھا۔ آنٹی کا رویہ، سندس کا روکھا پن…… کبھی کبھی نظر آنے والا انکل کا اظہارِ شرمندگی…… پزل کے سب حصّے اپنی جگہ درست بیٹھ گئے تھے، اور جو تصویر بن کر سامنے آئی تھی، اس کا سامنا کرنے کی اس کے اندر ہمّت نہیں تھی۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اچانک ہی کسی بھیانک خواب میں گر گئی ہو……ابھی کل تک تو سب ٹھیک تھا، اور آج…… اس کی دنیا ہی الٹ گئی تھی۔
اور عبداللہ……اچانک خیال آنے پر اس نے عبداللہ کی تلاش میں ہاتھ مارا۔ پھر یاد آیا کہ اسے تو صولت بیگم اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔ وہ تو اسے بھی اکیلا چھوڑنا نہیں چاہ رہی تھیں، مگر وہ آنکھیں بند کر کے سوتی بن گئی تو وہ مجبوراً کمرے کی لائٹ بند کرتے ہوئے باہر چلی گئی تھیں۔ارشد تو اتنا پیار کرتا تھا عبد اللہ سے…… جب وہ یہاں ہوتا تو ایک پَل بھی اسے عبداللہ سے دور رہنا گوارا نہ ہوتا…… پھر کیسے……شدتِ غم سے اس نے اپنی آنکھیں زور سے بھینچ لیں۔ گرم گرم آنسوایک بار پھر اس کے گالوں پر بہہ نکلے۔
’……وہ کہتا ہے کہ وہ نسرین کو چھوڑ سکتا ہے مگر سٹیفَنی کو نہیں……!‘، ایک مختلف آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ کھٹاک سے کمرے کی لائٹ آن ہوئی تھی۔ ’جانتی ہیں کیوں؟……‘۔ نبیلہ بستر پر اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔وہ نہیں جانتی تھی……وہ جاننا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اس نے بیزاری سے نبیلہ کی طرف سے کروٹ بدلی اور چبھتی ہوئی روشنی سے بچنے کے لیے اپنا بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔ ’اس لیے کیونکہ اس کے اندر اتنی ہمت نہیں ہے۔سٹیفَنی بھی ایک عورت ہے……ایک عام سی عورت۔ مجھے یقین ہے کہ شکل، صورت، دولت، سٹیٹس…… کسی بھی چیز میں آپ اس سے کم نہیں ہیں……مگر اس نے ارشد کو اس کی اوقات میں رکھا ہوا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ سٹیفَنی کے ساتھ وہ کچھ کرے جو اس نے آپ کے ساتھ کیا ہے تو سٹیفَنی اسے مزا چکھا دے گی۔ ڈی پورٹ کروانایا جیل بھجوانا تو معمولی بات ہے، عدالت کے ذریعے اتنے بھاری بھرکم جرمانے ہوں گے کہ بقیہ عمر کے لیے کنگال کر چھوڑے گی، اس لیے وہ خواب میں بھی اس کے ساتھ کوئی زیادتی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ مگر آپ سے اسے کوئی ڈر نہیں…… کیوں؟! کیونکہ جب سے شادی ہوئی ہے آپ نے اس کی جی حضوری کرنے کے سو اکیا ہی کیا ہے؟ ہر بات پر سر جھکا دیا…… ہر غلطی کی پردہ پوشی کی…… اس کو ہر جگہ ڈیفینڈ کیا……دیکھا جائے تو اس سارے معاملے میں آپ کا قصور بھی کوئی کم نہیں ہے۔ یہ مصیبت ساری آپ کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ آپا!! آخر آپ سمجھتی کیوں نہیں ہیں………؟!!‘، اس کی مسلسل خاموشی پر نبیلہ نے جھلّا کر اس کا بازو اس کی آنکھوں پر سے ہٹایا۔
’یہ اکیسویں صدی ہے آپا!…… یہ شریفوں کی دنیا نہیں ہے۔ یہاں اپنا حق دوسرےسے چھیننا پڑتا ہے، ورنہ دوسرا آپ کو ترنوالہ سمجھ کر چبا جاتا ہے اور ڈکار تک لینے کا روادار نہیں ہوتا۔‘
’چاہتی کیا ہو تم……؟‘، نسرین نے بیزاری سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے پوچھا۔
’میں چاہتی ہوں کہ آپ یہ سوگ منانا بند کریں اور حالات کا بہادری سے سامنا کریں!آپ کب تک اپنی خوشیوں کے لیے دوسروں کی طرف دیکھتی رہیں گی؟ اس دنیا میں بندے کو سب کچھ اپنے لیے خود کرنا پڑتا ہے، کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا۔
آپ بھی اپنے اندر ہمت پیدا کریں کہ اپنے حصّے کی خوشیوں کے لیے ترسنے اور آنسو بہانے کے بجائے، آگے بڑھ کر انہیں دوسروں کے ہاتھوں سے چھین لیں‘، نبیلہ مضبوط لہجے میں بولی۔
’اچھا… تو کیا کروں؟ پستول لے کر انہیں اور ان کی بیوی ،دونوں کو شوٹ کر دوں؟‘، نسرین تنگ آ کر اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
’بالکل…… بلکہ ساتھ میں رخشندہ آنٹی کو بھی……یہ ساری آگ تو انہی کی لگائی ہوئی ہے‘۔
’فضول باتیں مت کرو نبیلہ‘، نسرین ناگواری سے بولی،’آنٹی کی اتنی نہیں چلتی اِن پر……‘۔
’اِن کون؟ کس کی بات کر رہی ہیں آپ……؟ کیا اب بھی آپ اس گھٹیا شخص کو اتنا قابلِ احترام سمجھتی ہیں کہ اس کے بارے میں اِن اُن کر کے بات کریں؟‘
’ارشد نے جو کچھ کیا، اس کے وہ خود ذمہ دار ہیں‘،نسرین آہستہ سے بولی،’وہ ان کا فعل ہے…… مگر میں نے تو یہ رشتہ پورے اخلاص اور انصاف سے ہی قبول کیا تھا۔ پھر بھی اگر میری قسمت میں یہی لکھا تھا، توکیا کیا جا سکتا ہے؟ تمیز، اخلاق، عقل…… ان سب سے جان چھڑا لوں تو کیا اپنی قسمت بھی بدل لوں گی؟……‘۔
’آپا میں مینرز اور ایٹی کیٹس کے خلاف نہیں ہوں۔ مگر آپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ارشد نے آپ کے ساتھ کوئی انوکھا سلوک نہیں کیا۔ وہ ایک مرد ہے…… اور جب سے دنیا بنی ہے مرد عورت کا استحصال ہی کرتا آیا ہے۔ بلکہ صرف مرد پر ہی کیا موقوف… ہر طاقتور اپنے سے کمزور کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہی دنیا کا قانون ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں کھلونا نہ بنیں تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے…… آپ اپنے آپ کو دوسرے سے زیادہ طاقتور بنائیں۔ اس سے زیادہ نہیں بنا سکتے تو برابری کی سطح پر ہی سہی…… مگر کچھ تو قوت اپنے اندر پیدا کریں۔ یہ تو اپنی بقا کا بنیادی ترین اصول ہے……‘۔
(جاری ہے ان شاء اللہ)