دین اسلام ایک ایسا کامل اورمکمل دین ہے جس نے ہر ایک مردو عورت، بچے بوڑھے سب کے لیے احکام وضع کردیے ہیں۔ اولاد کا برتاؤ والدین کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے یا والدین پر اولاد کے کیا حقوق ہیں، میاں بیوی کے آپس میں تعلق کی بات ہو یا مرد و عورت کے درجات کی بات ہو کہ عورت حقوق میں مرد کے مساوی ہے یا اس سے کم ہے سب کو کھول کھول کر واضح کردیا۔ اسلام سے قبل کے معاشرے میں عورت چنداں اہمیت کی حامل نہ تھی۔ عورت کا وجود باعث عار سمجھا جاتا تھا، تبھی پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردی جاتی تھی۔ اور آج بھی اسلام سے بےگانہ معاشروں میں عورت کا بدترین استحصال کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض مذاہب میں اب بھی نومولود بچی کو اس ڈر سے زندہ درگور کردیا جاتا ہے کہ یہ کل کو خاندان و برادری کا سر شرم سے جھکانے کا سبب نہ بن جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نےصحیح میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ مکہ میں ہم لوگ عورتوں کو بالکل ہیچ سمجھتے تھے، مدینہ میں نسبتاً ان کی قدر تھی۔ جب اسلام آیا اور ان کے(حقوق سے) متعلق آیتیں نازل ہوئیں تو ہمیں ان کی قدر ومنزلت معلوم ہوئی۔ اسلام نے صرف یہ نہیں کیا کہ ان کے چند حقوق متعین کردیے بلکہ انسان ہونےمیں مردوں کے مساوی درجہ دےکر انہیں انسانیت کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا۔ اسلام نے عورت کو جو قدر منزلت عطا کی وہ نتائج کے اعتبارسے دیگر اقوام اور مذاہب سے یکسر مختلف ہے۔
ساری دنیا اپنی تاریخ پرناز کرتی ہے لیکن اگر ان سے ان کی اپنی تاریخ میں صنف نازک کے کارناموں کی بابت دریافت کیا جائے تو ایک خاموشی نظر آتی ہے اور اگر مذہبی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو اس کے اوراق بھی اپنی مقدس خواتین حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا اور ہارون علیہ السلام کی بہن کے ایمان افروز کارناموں کے ذکر سے خالی نظر آتے ہیں۔ اس کے برخلاف اسلام نے جن پردہ نشینوں کو اپنے سایۂ عاطفت میں پناہ دی ان کے کارنامے تاریخ کے صفحات پر جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ مذہبی کارنامے ہوں یا سیاسی، علمی میدان ہو یا کہ عملی، اولاد کی تربیت سے متعلق بات ہو یا قرآن و حدیث کی حفاظت و ترویج سے متعلق… ان تمام اور دیگر کئی شعبوں میں دورِ صحابیاتؓ سے لے کر آج تک ہماری عفت مآب مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنا حصہ پیش کرتی نظر آتی ہیں۔
نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس دور کی پاکباز صحابیات دین کے ہر ایک معاملہ میں پیش پیش تھیں۔ دینی خدمات میں سب سے اہم جہاد ہے؛ اگر ہم تاریخ کے اوراق سے گزرتے ہوئے میدان جنگ سے متعلق پڑھتے ہیں تو ام عمارہؓ مجاہدین کی صفوں میں نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے ڈھال بنی کھڑی نظر آتی ہیں اور دشمنوں کے وار اپنے اوپر سہہ کرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچاتی ہیں۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں انہوں نے اس پامردی سے مقابلہ کیا کہ بارہ زخم آئے اور ایک ہاتھ بھی کٹ گیا۔ اور یہ وہ دور تھا کہ جس میں جراحی اور علاج کے جدید اسلوب اور تکلیف کو کم کرنے والی ادویات ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔ لہٰذا تلوار اور نیزوں کے زخم کھانے کی صورت میں یا تو عضوِ مجروح کو ہی کاٹ ڈالا جاتا تھا یا اسے کھولتے ہوئے گرم تیل سے داغ دیا جاتا تاکہ انفیکشن کا خطرہ نہ رہے۔ جنگ خندق میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا یہودی کو قتل کرتی نظر آتی ہیں اور اسماء ؓبنت یزید نےتو ایک خیمے کی چوب سے نو رومیوں کو جہنم واصل کیا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف خدمات کی انجام دہی کے لیے صحابیات نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میدان جنگ میں پائی جاتی تھیں۔ زخمیوں کی مرہم پٹی اور انہیں پانی پلانے کی خدمت سے لے کر شہدا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل بھی کرتی تھیں۔حضرت عائشہ اور ام سلیط رضی اللہ عنہما نے جنگ احد میں مشکیزے بھر بھر کر زخمیوں کو پانی پلایا، ام سلیم اور چند انصاری خواتین نے زخمیوں کی تیمارداری کی۔ جنگ یرموک میں حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے پرجوش اشعار کے ذریعے مسلمانوں کو غیرت دلائی۔
اشاعت اسلام ہوتو اس میں بھی صحابیات نے اپنا حصہ پیش کیا۔ مرادِ نبی حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ اپنی بہن فاطمہ ؓکی وجہ سے مشرف بہ اسلام ہوئے،ام سلیم کے کہنے پر ابوطلحہؓ اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے اور عکرمہؓ بن ابوجہل اپنی بیوی ام حکیمؓ کے سمجھانے پر مسلمان ہوئے ۔سیاسی معاملات میں شفاؓءبنت عبداللہ اس درجہ صائب الرائے تھیں کہ حضرت عمرؓ ان سے مشورہ لیا کرتے تھے ۔علمی کارنامے ہوں تو ان میں بھی خواتین بڑی حد تک چھائی ہوئی ہیں۔ازواج مطہرات میں حضرت عائشہؓ اورحضرت ام سلمہؓ اور حضرت حفصہؓ قرآن کریم کی حافظات تھیں ۔ فرائض (فن میراث) میں حضرت عائشہ خاص مہارت رکھتی تھیں۔ بڑے بڑے صحابہ ان سے فرائض کے متعلق دریافت کرتے تھے ۔حدیث میں حضرت عائشہ و ام سلمہ دیگر صحابیات سے ممتاز تھیں۔فن تفسیر میں بھی حضرت عائشہ خاص کمال رکھتی تھیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا لحن کے ساتھ قرآن پڑھنا جانتی تھیں اور خاص نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز پر قرآن پڑھ سکتی تھیں۔ بعد کے زمانہ میں حضرت حفصہ بنت سیرین قرآن کے قواعد سے بخوبی واقف تھیں۔ جب ابن سیرین رحمہ اللہ کو کسی آیت کے پڑھنے کے متعلق کچھ گمان ہوتا کہ اس کو کیسے پڑھاجائے تو وہ حفصہ بنت سیرین کے پاس بھیجتے اور کہتے کہ جاؤ دیکھو کہ حفصہ اس کو کیسے ادا کرتی ہے، تم بھی ویسے ہی ادا کرلینا۔ لکھنے میں حضرت شفاء بنت عبداللہ کو خاص مہارت تھی، اگر چہ حضرت حفصہ ام کلثوم بنت عقبہ بھی لکھنا جانتی تھیں۔ حضرت اسماء بنت عمیسؓ فن تعبیر جانتی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے خوابوں کی تعبیر پو چھتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی صحابیات مختلف فن مثلاً تجارت، صنعت، کاشتکاری، دباغت جیسے کاموں سے آشنا تھیں اور انہیں سر انجام دیتی تھیں۔
صرف اسی پر ہی بس نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اگر دیکھا جائے تو دنیا کے ہر کامیاب مرد کے پیچھے آپ کو ایک عورت کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ کہیں وہ ہاتھ آپ کو بیوی کی شکل میں نظر آتا ہےتو کہیں ایک ماں کے روپ میں ،کہیں ایک بیٹی کی حسین صورت میں نظر آتا ہے تو کہیں بہن کی محبت بھری شکل میں۔ اسلام نے عورت کو صرف ماں کے روپ میں ہی نہیں بلکہ ہر ایک شکل میں سراپا رحمت بنایا۔ دینی معاملات ہوں یادنیوی ہر دو میں عورتیں مردوں کی معاون رہی ہیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسے وقت میں مدد کی کہ جب جبرئیل امین غار حرا میں آپ کے پاس اولین وحی لے کر آئے اور آپؐ سے کہا: اقرأ، تو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھا ہو ا نہیں ہوں۔ فرشتے نے پھر دوبارہ کہا: اقرأ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کہا کہ میں پڑھا ہوا ہی نہیں ہوں، پھرجبرئیل علیہ السلام نے آپؐ کو زور سے بھینچا اور چھوڑ دیا اور پھر کہا کہ اقرأ، پھر نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا اور گھر تشریف لائے تو ہیبت و جلال سے لبریز تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: مجھے چادر اوڑھاؤ، چادر اوڑھاؤ۔ حضرت خدیجہؓ نے چادر اوڑھائی۔ جب تھوڑا افاقہ ہوا تو آپ نے حضرت خدیجہ سےسارا واقعہ بیان کیا۔ اس پر حضرت خدیجہ نے آپ کو ان الفاظ میں تسلی دی کہ اللہ آپ کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بے کسوں کی معاونت کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصائب میں حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ حضرت خدیجہ نے آغاز نبوت میں نہ صرف آپ کی تصدیق کی بلکہ ایک طرف اخلاقی و جذباتی لحاظ سے آپ کی سب سے بڑی معاون ثابت ہوئیں دوسرا اپنے مال کے ذریعے انہوں نے اسلام کو تقویت دی۔ اس زمانے میں کفار آپ کو تکالیف پہنچانے سے جو تھوڑا بہت ہچکچاتے تھے تو اس کی ایک وجہ ابوطالب کی پشت پناہی کے ساتھ ساتھ حضرت خدیجہ کا مکہ میں اثر ورسوخ بھی تھا۔ یہی وجہ ہےکہ جس سال آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا، اس سال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام الحزن قرار دیا۔ یوں آپ صلی اللہ وسلم کی نبوت کے ابتدائی دور میں معاون وغم گسار کی صورت میں بیوی کی شکل میں حضرت خدیجہ کا ہاتھ نظر آتا ہے۔
اگر بیٹی کے روپ میں دیکھیں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب غار ثور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روپوش تھے تو ایسے وقت میں ان دونوں حضرات کو کھانا پہنچانے کی ذمہ داری حضرت اسماء رضی اللہ عنہ کی تھی ۔ ایک دن کھانا دے کر واپس آرہی تھیں کہ راستہ میں ابو جہل ملا اور کہا کہ بتا تیرا باپ کہاں ہے؟ کیونکہ وہ جہاں ہوگا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی وہاں ہوں گے۔ لیکن حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے نہیں بتایا اس پر ابو جہل نے انہیں تھپڑ مارا مگر پھر بھی حضر ت اسماء نے زبان نہ کھولی۔ یوں ایک بیٹی نے اپنے باپ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کے دشمنوں سے بچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ کی بیٹیوں کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حدیث کی حافظہ اور عالمہ تھیں۔ جب امام مالک رحمہ اللہ مسجد نبوی میں درس حدیث دیا کرتے تھے تو وہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر حدیث سنا کرتی تھیں۔ جہاں کوئی طالب علم حدیث کے پڑھنے میں غلطی کرتا تو وہ پردے کے پیچھے سےکھٹکھٹاتیں جس پر امام مالک رحمہ اللہ سمجھ جاتے کہ پڑھنے والے نے غلطی کی ہے۔
اگر بہن کی صورت میں دیکھا جائے تو عمر ابن خطاب کے ایمان لانے کی وجہ ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب بنیں گوکہ وہ مراد نبی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تھے کہ اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام میں کسی کو بھی ایمان کی دولت عطا فرمادے،لیکن ظاہری سبب جس کی وجہ سے وہ مشرف بہ اسلام ہوئے وہ ان کی بہن تھیں کہ جن کا اسلام لانا اور اس پر ان کی استقامت نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل کو نرم کیا۔
اور ماں کے روپ میں دین کی معاون ومددگار اگر تلاش کریں تو ایک نہیں کئی واقعات ملیں گے۔
ماں کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو
ماں تو ہر دور میں انمول رہی ہے
ماں تو ایک ایسی عظیم ہستی ہے جو اپنے بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔ یہاں ایک ایسی تربیت ہوتی ہے جو دنیا کے کسی کالج یا یونیورسٹی میں مہیا نہیں۔ یہاں قول سے نہیں عمل سے تربیت ہوتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ماں دین دار ہو، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات سمجھنے والی ہو، اولاد کے حقوق اور تربیت کے وصف سے بھی واقف ہو کہ کس مقام پر کس طرح کا برتاؤ رکھنا ہے، اس کو سمجھنے والی ہو، ذہانت و دور اندیشی رکھتی ہو، اور یہ سب حاصل ہوگا دین کو پڑھ کر سمجھ کر، ہم سے پہلے جو مسلمان خواتین گزری ہیں ان کے کارناموں کا مطالعہ کر کے۔
مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے دو بچے ہوں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، اور اس کے وسائل اتنے نہ ہوں کہ وہ دونوں کو بیک وقت تعلیم دلواسکے (ذہن میں رکھیے مراد دین کی تعلیم ہے جوفرض ہے) تو اس کو چاہیے کہ پہلے بیٹی کو تعلیم دلوائے ،کیونکہ مرد پڑھے فرد پڑھے، عورت پڑھے خاندان پڑھے۔
ماں کی گود ایک ایسا مدرسہ ہے کہ اس میں پڑھایا جانے والاسبق ذہن کی میموری میں ایسا ثبت ہوجاتا ہے کہ اس کے لیے مستقل یاددہانی اور دہرائی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ بچوں کی پرورش و تربیت کے نتیجے میں جو صعوبتیں اٹھانی پڑتی ہیں وہ ایک ماں ہی سمجھتی ہے کہ جس کی نہ نیند اپنی، نہ آرام، نہ کھانا اپنے وقت پرنہ سونا، اس کا ہر کام اس کے بچے کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ پس اے ماؤں! جو محنت تو کر ہی رہی ہیں، ذرا ایک قدم اور بڑھائیے، آپ کی گود میں پلنے والا بچہ ایسا گوہر نایاب ہے جو اس امت کا مستقبل ہے اس لیے ذرا محتاط رہتے ہوئے اس کی تربیت کیجیے۔ اگر اپنے بچے کو صلاح الدین ایوبی و محمد بن قاسم بنانا ہے تو پھر آپ کو اپنے اوپر بھی محنت کی ضرورت ہے اور اپنے آپ کو خولہ و خنساء رضی اللہ عنہما جیسے کرداروں میں ڈھالنے کی ضرورت ہے ۔
قادسیہ کی جنگ میں حضرت خنساء نے اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ میدان جنگ میں شرکت کی اور بیٹوں کو بلا کر کہا کہ اے میرے بیٹو! کل جب سورج طلوع ہو تو دشمن کے ساتھ جنگ کے لیے کمر بستہ ہوجاؤ اور خوب جنگ کرو اور جب دیکھو کہ لڑائی میں تیزی آگئی ہے اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں تو اس میں کود پڑو۔ بیٹے ماں کے کہنے کے مطابق ثابت قدمی کے ساتھ لڑے اور جام شہادت نوش کیا۔ جب ماں کو بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہنے لگیں کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے شہیدوں کی ماں بنایا اور مجھے امید ہے کہ میرا رب ہمیں جنت میں اکٹھا کرے گا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کے نام گرامی سے کون ہے جو واقف نہیں، ان کی کتاب الصحیح البخاری وہ ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے ان کی والدہ ایک نیک اور معزز خاتون تھیں۔ ان کے والد کا نام اسماعیل تھا جو ایک متقی اور جلیل القدر عالم تھے اور امام مالک کے شاگردوں میں سے تھے۔ ان دونوں میاں بیوی نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا۔ بچے کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد اسماعیل وفات پاگئے۔ ماں کی خواہش تھی کہ میرا بیٹا بڑا ہو کر ایک جلیل القدر عالم دین بن کر افق عالم پر چمکے، لیکن ان کی حسرت و یاس کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب انہیں یہ پتہ چلا کہ بچپن میں ہی یہ بچہ اپنی بینائی سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے ۔اب ماں کو ایک ہی فکر دامن گیر تھی کہ میرا بچہ کیسے علم حاصل کرے گا اور کیسے علم کے حصول کےلیے دور دراز کا سفر کرے گا۔ اب اس ماں کے سامنے ایک ہی راستہ تھا جس کے ذریعے اس کی خواہش کی تکمیل ممکن تھی؛ اس نے اپنا دست دعا دونوں جہانوں کے پروردگار کے سامنے پھیلادیا اور مسلسل دعائیں مانگنے لگی۔ ایک مدت تک ایسا ہی رہا۔ ایک دن انہوں نے عجیب خواب دیکھا۔خواب میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نظر آئے اور کہا کہ اے ماں! تیری کثرت دعا کے سبب اللہ نے تیرے بیٹے کی بینائی واپس لوٹادی۔ جب والدہ نیند سے بیدار ہوئیں تو بیٹے کی بینائی واپس آ چکی تھی۔بے ساختہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے:اے ہمارے پروردگار! پریشان حال لوگوں کی دعائیں تیرے سوا کون سن سکتا ہے اور کون ہے جو بندوں کی تکلیفیں دور کرسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بچے کی تعلیم و تربیت پر بہت محنت کی۔ اللہ نے اس بچہ پر علم وفنون کے دروازے کھول دیے اور پھر آگے چل کر یہ بچہ امام المحدثین محمد بن اسماعیل البخاری بنا جنہیں دنیا امام بخاری کے نام سے جانتی ہے۔
مائیں بہت عظیم ہوا کرتی ہیں ۔ماں کی دعاؤں کےسبب انسان ترقی اور بلندی کے زینے طے کرتا ہے۔ دور حاضر کی اے ماں! تیرے بچے کا مستقبل تیرے ہاتھ میں ہے۔ محنت بھی، تربیت بھی، تعلیم بھی سب کچھ تجھ سے ہی وابستہ ہے۔ یہ سب کرنے کے ساتھ وہ در تیرے لیےبھی کھلا ہے جو امام بخاری رحمہ اللہ کی والدہ نے چنا تھا، تو بھی اسی در پر جھک جا، اسی سے مانگ۔ یہ ایک ایسا در ہے جس پر جانے والے کبھی نا امید نہیں ہوا کرتے۔
آج بھی ہم جب کسی شخص کو کامیابی کے زینہ پر چڑھتا ہوا دیکھتی ہیں تو اس کی اپنی لگن کے ساتھ ساتھ ماں کی دعائیں بھی ہوتی ہیں جو اس کی منزل کو آسان کرتی ہیں۔ کسی امام کعبہ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب چھوٹے تھے اور شرارتیں کرتے تھے تو ماں غصہ میں بھی بددعا دینے کی بجائے یہ کہتیں کہ جا اللہ تجھے کعبہ کا امام بنائے۔ کہتے ہیں کہ ماں کی دعا نے مجھے اس مقام تک پہنچایا ۔تیری گود میں پرورش پانے والایہ بچہ بھی کل کا صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم بن سکتا ہے لیکن شرط یہ ہےکہ تو بھی اپنے آپ کو خولہ و خنساء رضی اللہ عنہما جیسابنا لے اور صحابیات اور نیک و پاکباز خواتین کے اسوۂ حیات کو مشعل راہ بنالے اور اپنے رب سے اپنا تعلق مضبوط کر لے۔
احمد شاہ ابدالی کی والدہ کا نام اماں زرغونہ تھا۔ بہت دین دار اور نیک خاتون تھیں۔ دل میں غیرت ایمانی رکھتی تھیں۔ جب ہندوستان میں مرہٹوں نے غلبہ حاصل کیا تو بڑھتے بڑھتے اٹک تک جا پہنچے۔ اس وقت قندھار میں مقیم احمد شاہ ابدالی نے جرگہ طلب کیا اور مشورے کے بعد طے پایا کہ ایک قلعہ تعمیر کیا جائے۔ ابھی بات چیت جاری تھی کہ اندر سے احمد شاہ ابدالی کا بلاوا آگیا۔ جا کر دیکھا تو والدہ بہت غصہ میں کھڑی تھیں۔ کہا کہ بیٹا! میں نے تجھے اس دن کے لیے پالا تھا کہ مرہٹوں سے مقابلہ کی بجائے قلعہ تعمیر کر کے بیٹھ جائے؟ کاش میں تجھے نہ پالتی۔احمد شاہ ابدالی نے ماں سے معافی مانگی اور ہندوستان روانہ ہوا اور پانی پت کے مقام پر مرہٹوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔تاریخ میں جن جن فاتحین کا نام چمکا ہے ان کے پیچھے ان کی ماں کی ہمت افزائی کار فرما ہے۔
الغرض عورت کا وجود ہر ایک اعتبار سے سراپا رحمت ہے، خیر و برکت ہے، ماں ہو بہن ہو بیٹی ہو، ہر اعتبار سے اللہ نے اسے محترم بنایا۔ بیٹی بنا کر اسے گھر کی رونق بنایا توماں بنا کر اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ بیوی بنا کر شوہر کی ہمدرد و ہم راز بنایا۔بہن بنایا تو بھائیوں کی محبت اس کے دل میں پیدا کردی۔ دین اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو کامیابی کی ضمانت ہے جس کو مکمل طریقے سے اپنا کر چلنے والا ہی کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔ مرد ہو یا عورت اس کی فلاح و کامیابی اسی دینِ محمدی سے وابستہ ہے۔ دنیا کے کسی مذہب میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں جو مذہب اسلام نے اسے عطا کیا۔ تو اے میری بہنو! اپنا تن من دھن سب اسی دین پر فدا کردیجیے۔ اپنے آپ کو اسی دین کی اشاعت وحفاظت میں کھپادیجیے اور اپنی اولاد پر بھی اسی طرز سے محنت کیجیے کہ دین اسلام ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بن جائےاور اس کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگانا ان کے لیے آسان ہوجائے ۔
پنجابی کے اشعار ہیں :
مالی دا کم پانی دینا،بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پَھل پُھل لانا، لاوے یا نہ لاوے
کہ مالی کا کام تو صرف مشکیں بھر بھر کر پودوں کو پانی دینا ہوتا ہے، اس پر پھل لگانا یا نہ لگانا یہ مالک الملک کے اختیار میں ہے۔
اسی طرح تربیت آپ کی ذمہ داری ہے اور اس کے ثمرات رب العالمین کے ہاتھ میں ہیں۔ دعا ہے رب العالمین سے ہمیں اور ہماری اولاد کو صحیح معنوں میں پکا سچا مومن بنادے،آمین۔