محمد کاشف شہیدؒ

محمد کاشف؍ملا سفیان کے بارے میں احساسات

شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے محمد کاشف بھائی کا جہادی نام سفیان تھا۔ آپ نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ آپ کو اللہ پاک نے فطرت سلیمہ عطا فرمائی تھی ـ بہت جلد ہی آپ کو اس بات کا ادراک ہو گیا کہ ان سکولوں کی تعلیم دنیا و آخرت سنوارنے میں معاون نہیں ہوسکتی بلکہ ان ڈگریوں کا حصول تو فقط دنیا وی کامیابی کا بھی ضامن نہیں ۔

کاشف بھائی نے عصری تعلیم کو خیرباد کہا اور قرآن و حدیث کے علم کے حصول کے لیے مدرسہ میں داخلہ لیا۔ آپ نے کراچی کے دو مشہور مدارس سے ۸ سال تک دل جمعی سے تعلیم حاصل کی۔ یہیں آپ نے علم و اخلاق اور زندگی کے اصل مقصد سے آگاہی حاصل کی۔ یہی علم آپ کا اوڑھنا بچھونا بن گیا تھا۔ آپ ہر وقت تلاوت قرآن اور مطالعہ کتب حدیث اور فقہ میں مگن رہتے۔ ہفتے میں ایک دن جب گھر آتے تو یہاں بھی آپ نماز کے سوا گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ آپ کو حصول علم سے کچھ ایسا شغف ہوا کہ گھر میں رہتے ہوئے بھی زیادہ تر وقت مطالعے میں صرف کر کے اپنی علمی پیاس بجھانے میں مصروف رہتے۔ حصول علم کا یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا، یہاں تک کہ ملک پاکستان پہ قابض امریکی غلاموں نے مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا حکم جاری کیا۔ دراصل یہ نصاب کی تبدیلی نہ تھی بلکہ یہ قرآن عالی شان اور کتب احادیث میں موجود جہادی آیات اور احکام و تحریضِ جہاد پر مبنی احادیث میں من مانی تاویلات کا حکم نامہ تھا۔

مجاہدینِ اسلام اور جہاد سے محبت تو آپ کو پہلے سے ہی تھی۔ آپ نے مجاہد ساتھیوں کے کہنے پہ ہی اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا ہوا تھامگرپاکستان میں تیزی سے پھیلتے الحاد اور لادینیت کی فضا نے آپ کا دل ہر چیز سے اچاٹ کردیا۔ آپ نے ساتھیوں سے رابطہ کیا اور ان کے سامنے اپنے دل کا درد پیش کیا کہ اب مجھ سے نہیں رہاجاتا۔ میرے اندر اتنی طاقت نہیں کہ میں رب کعبہ کے دربار میں کھڑے ہو کر جواب دے سکوں کہ جب میرے اردگرد قرآنی احکام کا مذاق اڑایا جارہا تھا تو میں نے اس ظلم کے خلاف کیا کیا؟ ساتھیوں نے آپ کو بہت سمجھایا کہ بھائی تھوڑا وقت ہے یعنی دوسال اور ہیں بس آپ وہ پورے کر لیں، مگر آپ نے صاف انکار کر دیا کہ بھائی مجھے فتنے میں مت ڈالیں، میری کوئی ترتیب بنائیں، بس مجھے اب جہاد فی سبیل اللہ میں عملی طور پر شریک ہونا ہے۔ آپ کے بے حد اصرار پہ ساتھیوں نے آپ کی ترتیب بنائی اور یوں آپ نے پہلی بار ۲۰۱۳ میں وزیرستان میں موجود القاعدہ بر صغیر کے معسکرات کا رخ کیا۔

آپ نے اپنی ابتدائی عسکری تربیت جماعت قاعدۃ الجہاد برصغیر کے بزرگ قائد حاجی ولی اللہ (عمران صدیقیؒ) شہید کے زیر نگرانی چلنے والے معسکرات سے حاصل کی۔ ابتدائی تربیت کے بعد آپ نے مختلف دورات (کورس) میں حصہ لیا۔ تقریبا ً ایک سال بعد ملک پاکستان کی لعین فوج نے وزیرستان میں مجاہدین کے خلاف ضرب کذب آپریشن شروع کردیا۔ اسی دوران امرائے جہاد نے آپ کو کچھ ضروری کام دے کر پاکستان بھیجنا چاہا مگر آپ نے معذرت کر لی۔ آپ امرائے جہاد سے معذرت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ خدا کے لیے مجھے نیچے نہ بھیجیں، مجھے نہیں جانا اس پر فتن معاشرے میں جہاں ایمان بچانا مشکل ہو گیا ہے۔ امرائے جہاد نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ جہادی امور صرف آپ ہی انجام دے سکتے ہیں، مگر ان کا یہی کہنا تھا کہ بھائی اگر میں فتنوں کا شکار ہو گیا تو کیا آپ لوگ اللہ کو جواب دیں گے؟

امرائے جہاد کے اصرار پہ آپ پاکستان گئے۔ وہاں پہنچے تو ایک نئی آزمائش سر اٹھائے کھڑی تھی۔ جب آپ اپنے کزن کے پاس پیغام دینے گئے تو اس وقت غلام ایجنسیوں کے کارندے مجاہدین کا سراغ لگانے میں مصروف تھے۔ جگہ جگہ چھاپے اور گرفتاریاں ہو رہی تھیں۔ آپ کے کزن بھی شہر چھوڑ چکے تھے۔ اتنے سخت حالات میں بھی آپ کے عزم و ہمت میں کچھ کمی نہ آئی۔ آپ اپنا کام پورا کر کے ایک رات کے لیے اپنے گھر گئے۔ آپ کی والدہ نے آپ کو دیکھا تو خوشی اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ آپ سے ملیں۔ ماں کی ممتا نے بے چین و بے قرار ہو کر پوچھا کہ بیٹا! کہاں جاؤ گے، ہر طرف گرفتاریوں و شہادتوں کا سامنا ہے؟ آپ نے اک عجیب غیرت ایمانی سے سر شار جواب دیا۔ آپ نے اپنی ماں سے کہا: اے ماں! آپ نے مجھے کس کے حوالے کیا تھا؟ ماں کہنے لگیں: بیٹا! میں نے تو تمہیں اللہ کے سپرد کیا تھا، بیٹا گویا ہوا کہ امی جان! تو پھر غم نہ کریں، میں اسی کے پاس جا رہا ہوں جو ہمارا حامی و ناصر ہے۔ یہ کہہ کر آپ نے واپس خراسان کا رخ کیا۔

آپ بہترین اخلاق، صبر و استقامت، قربانی و ایثار کی صفات سے مزین اور ساتھیوں سے ہنسی مذاق گپ شپ کرنے والے تھے۔ آپ خدمت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ قرآن پاک سے آپ کو خصوصی شغف تھا، اپنے وقت کا اکثر حصہ تلاوت قرآن پاک اور ذکر و اذکار میں صرف کرتے۔ آپ غیبت اور لایعنی باتوں سے ہمیشہ اپنا دامن بچانے کی کوشش کرتے۔

میدان جہاد میں آپ مختلف محاذوں پہ دشمنان دین کے خلاف کئی کارروائیوں میں شریک رہے۔ آپ نے اپنی آخری تشکیل بلوچ مجاہدین کے ساتھ گزاری۔ یہ تشکیل صوبہ ہلمند کے ضلع خانشین میں تھی۔ خانشین تشکیل سے پہلے آپ نے اپنا سارا سامان نکال کر مجاہدین کے سامنے رکھ دیا کہ جس نے جو لینا ہے لے لے۔ ساتھیوں نے اس پہ تعجب کا اظہار کیا تو آپ فرمانے لگے کہ یہ میری آخری تشکیل ہے، مجھے یقین ہے کہ اب یہاں سے میری واپسی نہ ہو گی، اس مرتبہ مجھے شہید ہو جانا ہے، میری شہادت کا وقت قریب آچکا ہے۔ یہ کہہ کر آپ نے سامان ساتھیوں میں تقسیم کیا اور مقتل گاہ کی جانب روانہ ہوئے۔

آپ نے خانشین کے علاقے کڑم میں اسلام دشمن فوج پہ کئی کارروائیاں کیں۔ یہاں مجاہدین اکثر و بیشتر دشمن پہ چھوٹی موٹی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ آج بھی مجاہدین نے افغان ملی آرمی اور ان کےامریکی آقاؤں کے خلاف ایک کارروائی پہ جانا تھا۔ دوپہر کے بعد مقامی کماندان آئے اور ساتھیوں کا انتخاب کرنے لگے۔ قسمت ایسی کہ اس روز سفیان بھائی بیمار تھے اور اپنے بستر پہ تھے۔ جب آپ نے کارروائی کا سنا تو امیر صاحب سے کہنے لگےکہ میں بھی جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ بھائی آپ بیمار ہیں ،آج یہیں مرکز میں رہیں، آئندہ چلے جائیے گا۔ عزم و ہمت کے پیکر سفیان بھائی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ خفیف و ثقیل سب کو نکلنے کا امر ہے تو پھر میں کیوں نہ نکلوں ؟ اللہ رب العزت کا حکم ہے:

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ؀ (سورۃ التوبۃ: ۴۱)

’’ (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل، اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ‘‘

ساتھ ہی امیر صاحب سے فریاد کرنے لگے کہ خدارا مجھے جانے دیجیے۔ آپ مجھے جو اسلحہ دینا چاہیں، جس جگہ رہنے کا کہیں گے میں اسی جگہ رہنے کو تیار ہوں، بس مجھے دشمن پہ ضرب لگانے کا موقع دیں۔ بالآخر آپ کے جذبۂ قتال اور شوق شہادت کے سامنے امیر صا حب کو ہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔ یوں آپ اس کارروائی کے لیے منتخب کیے گئے۔ الله کے یہ سپاہی الله سے مدد و استعانت طلب کرتے ہوئے عدو اللہ پہ قہر بن کے ٹوٹ پڑے۔ یہ جنگ کئی گھنٹے جاری رہی۔ اس جنگ میں اللہ کے دشمن ذلیل ہوئے جبکہ مجاہدین کو اللہ نے سرخ روکیا۔ اس کارروائی میں دشمن کے نقصان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کارروائی ہوتے ہی ڈرون، جیٹ اور ہیلی کاپٹر جابجا شیلنگ و بمباری کرنے لگے۔ مجاہدین کارروائی کامیابی سے مکمل کر کے واپس لوٹ کر آرام و استراحت کی غرض سے ایک خالی مکان میں پہنچے ۔ مگر رب کعبہ نے تو آپ کو ابدی راحتوں والے گھر کے لیے منتخب کر لیا تھا۔ فضا میں منڈلاتے ابلیسی جاسوس طیاروں نے آپ لوگوں پہ کڑی نظر رکھی ہوئی تھی۔ جب رات کو آپ لوگ محو خواب ہوئے تو جیٹ طیاروں نے پورے گاؤں (یہ گاؤں خالی تھا) پہ بمباری شروع کردی۔ جس مکان میں آپ لوگ موجود تھے وہ بھی بمباری کا نشانہ بنا اور آپ اپنے ۶ ساتھیوں سمیت رب سے کیے گئے وعدے کو وفا کر کے سوئے جنتاں روانہ ہوئے ( نحسبھم کذالک واللہ حسیبھم) ۔

آپ سب کی شہادت کے بعد بھی طیارے فضا میں گردش کرتے رہے۔ شہدا کی کرامت تو دیکھیے کہ ان کے اجساد کو تقریباً ڈیڑھ دن بعد وہاں سے نکالا گیا تو اس وقت بھی تمام شہدا کے جسموں سے تازہ خون بہہ رہا تھا اور فضا ایک نرالی خوشبو سے معطر تھی ـ آپ کا جسم اطہر کئی ٹکڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ آپ کے چھوٹے بھائی نے آپ کے جسد کو اٹھایا اور آخری آرام گاہ کی جانب منتقل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی ٹانگ پنڈلی سے کٹی ہوئی تھی۔ میں نے ان کا جوتا اتارا اور انہیں سپرد خاک کر کے اپنے مرکز آگیا۔ شہدا کے جوتے ہم نے مرکز میں رکھ لیے۔ الله تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی ان کے جوتوں سے بھینی بھینی خوشبو آرہی تھی اور ہر شہید کے جوتوں سے آنے والی مہک دوسری سے منفرد اور الگ تھی۔

’’حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صل الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! الله کی راہ میں کوئی زخم نہیں لگتا مگر وہ (زخم کھانے والا) قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے خون کا رنگ تو خون جیسا ہوگا اور اس کی خوشبو مشک جیسی ہو گی ـ (بخاری و مسلم)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version