خیالات کا ماہنامچہ | اگست ۲۰۲۰ء

ذہن میں گزرنے والے چند خیالات:اگست ۲۰۲۰ء

اللہ کا نہایت فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا اور مسلمانوں میں بھی اپنے محبوب کا امتی بنایا، جن محبوب پر اللہ خود بھی درود و سلام بھیجتا ہے، اس کے فرشتے بھی بھیجتے ہیں اور ہمیں بھی اس نے اسی کا حکم دیا ہے، پس اسی کے حکم اور اسی حکم کی بدولت اپنی محبت کے سبب ہم بھی کہتے ہیں ’صلی اللہ علیہ وسلم‘! اللہ پاک ہمیں تا دمِ شہادت اپنے نبی کے جاری کیے سلسلۂ جہاد پر ثابت قدم رکھیں اور قبول فرما لیں، آمین یا ربّ العالمین!

ضرورت ہے!


اپنی جانوں کو جنت کے بدلے بیچنے والوں کی ضرورت ہے……کفر و اسلام کا معرکہ پوری دنیا میں جاری ہے……اور اس جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے…… اور فیصلہ لوحِ ازل میں درج ہے…… لکھنے کے بعد قلم رکھ دیا گیا ہے اور لوح کی عبارت خشک ہو چکی ہے…… فیصلہ ہو چکا ہے کہ اسلام غالب آئے گا!

ایسی جیتی ہوئی جنگ کے لیے ضرورت ہے ایسے سپاہیوں کی، جن کی تاریخ قلم اور روشنائی کے بجائے شمشیر اور لہو سے لکھی جاتی ہے۔ ضرورت ہے ایسے فدائیوں کی جو بارودی قبائیں اوڑھ کر بابری مسجد اور جامع قرطبہ کو پھر سے زندگی بخشیں۔ ضرورت ہے ڈاکٹروں کی جو اس جیتی ہوئی جنگ کے جان ہارتے مجاہدوں کی مرہم پٹی کر سکیں۔ ضرورت ہے انجنیئروں کی جو شکست خوردہ طاقتوں کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنی صلاحیتوں سے بہرہ ور کرنے کے بجائے ایک جیتے ہوئے لشکر کے لیے اپنے علومِ ہندسہ کو استعمال کر سکیں۔ ضرورت ہے ایسے استادوں اور مربیوں کی جن کی یونیورسٹیوں اور جامعات سے جیتی ہوئی جنگ کے لیے فاضلین برآمد ہوں۔ ضرورت ہے ایسے صحافیوں، شاعروں ، ادیبوں اور قلم کاروں کی جو جیتی ہوئی جنگ کے کارنامے محفوظ کر سکیں اور اپنی قوم کو اس جیتی ہوئی جنگ کی تازہ ترین خبریں پہنچا سکیں۔

ضرورت ہے ایسی ماؤں کی جن کی گودوں میں حسنؓ و حسینؓ، عبداللہ ابنِ زبیرؓ، محمد بن قاسمؒ اور ملا عمرؒ پلتے ہوں۔ ضرورت ہے ایسے باپوں کی جو میدانِ جنگ کے لیے اپنے گھٹنے گھٹنے چلتے بیٹوں کو تیار کرتے ہوں۔ ضرورت ہے ایسی بہنوں کی جو اپنے مجاہد بھائیوں کو جہاد و غیرت کے راستوں کی طرف پکارتی ہوں ۔ ضرورت ہے ایسے بھائیوں کی جو سندھ کی کسی بیٹی کی پکار پر عرب سے لبیک کہتے ہوئے آتے ہوں۔ ضرورت ہے ایسی بیویوں کی جو اپنے شوہروں کا اس جیتی ہوئی جنگ کے لیے پاؤں کی بیڑی نہیں سہارا ہوں۔

یاد رکھیے…… یہ ایک جیتی ہوئی جنگ ہے۔ اس جنگ میں نہ تو کوئی معتدل ہے اور نہ ہی کوئی غیر جانب دار۔ ہر شخص اس جنگ کا حصہ ہے۔ اور اس جنگ کے فاتح گروہ کو آپ کی ضرورت نہیں، آپ کو اس فاتح لشکر کا حصہ بننے کی ضرورت ہے تا کہ آپ باطل کے شکست خوردہ لشکر کا حصہ نہ بن جائیں۔

آپ کو ضرورت ہے اس فاتح لشکر کا حصہ بننے کی، جس کے مقدر میں اس جنگ میں فتح یاب ہونے کا فیصلہ عرشِ بریں سے نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس فاتح لشکر کا حصہ بنیے جس کے مقدر میں سندھ و ہند کی فتح، ایران و فارس کی فتح، جزیرۃ العرب اور عراق و شام کی فتح، آرمینیہ اور سپین و فرانس کی فتح لکھی ہوئی ہے۔

آپ کو ضرورت ہے، اللہ کی رضا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لقا، جنت اور دنیا و آخرت کی فتح کی۔

آج ہی اپنے قریبی محاذِ جہاد سے وابستہ ہو جائیے، جیتی ہوئی جنگ میں فاتح لشکر میں شامل ہونے کا ایسا سنہری موقع ، قوموں کی زندگیوں میں بار بار نہیں آیا کرتا!

قاضی نہیں غازی!


کسی کا مشہور مقولہ ہے کہ ’گستاخوں کا فیصلہ قاضی نہیں غازی کیا کرتے ہیں!‘ ۔ کسی زمانے میں جب اسلامی شریعت کی پابند اور غیرت و حمیتِ اسلامی سے مرصع حکومتیں ہوتی تھیں تو قاضی بھی گستاخوں کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔ یہاں آج کے نام نہاد قاضیوں ؍ ججوں کی بات ہو رہی ہے جو گستاخوں کے بجائے غازیانِ ناموسِ رسالت کو تختۂ دار پر چڑھانے کے فیصلے سناتے ہیں۔ آج تو ہم نے جب بھی سنا ہے تو گستاخوں کو زیادہ سے زیادہ جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے اور پھر جیل سے کچھ عرصہ بعد ’باعزت‘ بری کردیا جاتا ہے۔ لہٰذا اب جیل میں ہی کوئی عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس گستاخ کو ٹھکانے لگا کر، خود عنداللہ ’بری‘ ہوجاتے ہیں، ان شاء اللہ۔

چند دن قبل بھی ایک جرأت مند غازیٔ ناموسِ رسالت فیصل خالد نے پشاور کی ایک عدالت میں ایک مرزائی گستاخِ رسول طاہر احمد نسیم کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پشاور کی عدالت میں جج کے سامنے اس نوجوان کا یہ فعلِ ایمانی حجت ہے ان قاضیوں؍ ججوں کے لیے جو اب بھی اس بات کے دعوے دار ہیں کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے دین کے تابع دار ہیں۔

بعداً جب غازی فیصل خالد کو گرفتار کیا گیا تو بعض پولیس اہلکاروں نے اس کے ساتھ سیلفیاں لیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ اللہ ان پولیس اہلکاروں کو بھی غازی ممتاز قادری سا عشقِ رسالت عطا کریں کہ یہ پولیس اہلکار بھی اپنے قریب موجود حکومتی و فوجی اور عدالتی عہدوں پر فائز گستاخانِ رسالت اور ان کے محافظوں کو مسیلمہ کذاب، مرزا قادیانی اور سلمان تاثیر کے پاس جہنم کے کسی کھڈ میں پہنچائیں!

تیاری اور تقدیرِ امم!


انڈیا نے فرانس کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں چھتیس (۳۶) رفال جنگی طیاروں کا سودا کیا ہے جن میں سے چھ ہندوستان پہنچ چکے ہیں۔ رفال طیارہ جوہری یعنی ایٹمی میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے؛ فضا سے فضا میں اس کی رینج ڈیڑھ سو کلومیٹر ہے جب کہ فضا سے زمین پر اس کی مار تین سو کلومیٹر ہے۔ اس طیارے کی رفتارِ پرواز دو ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے۔ اس رفال کے مقابلے میں پاکستان کی تیاری ماضی کی طرح زبردست ہے۔ دھواں دھار پرفارمنس نور جہاں کے زمانے سے ہو رہی ہے۔پہلے یہ گانا آ یا کہ ’انڈیا جا جا جا کشمیر سے نکل جا‘ اور ابھی جن دنوں میں رفال طیارے انڈیا پہنچے ہیں انہی دنوں میں آئی ایس پی آر نے ایک نیا گانا ریلیز کیا ’جا چھوڑ دے میری وادی‘۔

اعمال دیکھ کر اور تیاری دیکھ کر تقدیرِ امم کا اندازہ لگا لیجیے!

استحصال


دنیا میں حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا علم بردار مغرب ہے۔ بلکہ حقوقِ انسانی کیا، کتوں، سؤروں، گدھوں ، سب ہی کے حقوق کے لیے عالمی تنظیمیں ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ مغرب کے بد نما چہرے پر محض ایک غازہ ہے۔

غازہ کیا ہوتا ہے؟ عام سا سمجھنے کے لیے جسے عرفِ عام میں ’فیس پاؤڈر‘ کہا جاتا ہے اس کا اردو؍ فارسی نام ’غازہ‘ ہے۔ غازہ میک اپ کی اشیا میں اہم ترین جزو ہے اور میک اپ ہی کی اشیا میں شامل ایک اور اہم ترین جزو، مغرب کے بدنما چہرے کا غازہ دھو رہا ہے۔

اس اہم ترین جزو کا نام ہے ’چمک‘ یا جس کا انگریزی نام زبانِ زدِ عام ہے: glitter۔ میک اپ میں شامل اکثر اشیا فیس پاؤڈر، لپ سٹکس، مسکارا اور نیل پالش وغیرہ میں چمک شامل کی جاتی ہے۔ اس چمک کو بنانے کے لیے ایک معدنی مادے’مائیکا؍Mica‘ کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا میں مائیکا کی ایک کثیر تعداد ہندوستانی صوبوں جھارکھنڈ اور راجستھان کی معدنی کانوں اور معدنی پہاڑوں سے ’کاسمیٹکس‘ بنانے والی کمپنیوں کو سپلائی کی جاتی ہے۔ یہ کمپنیاں ذیلی کمپنیوں کو ٹھیکے دیتی ہیں اور سستے داموں مائیکا خریدتی ہیں۔

یہ سارا پس منظر ہم نے اس لیے بیان کیا ہے تا کہ یہ بتا سکیں کہ معدنی کانوں اور پہاڑوں سے دنیا کو چمچماتا رکھنے کے لیے معصوم کم عمر بچوں کے ہاتھ استعمال ہوتے ہیں۔ بچوں سے محنت مزدوری کروانے کو چائلڈ لیبر کہتے ہیں۔ چائلڈ لیبر پوری دنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور مغرب بچوں کے حقوق کے دفاع میں اس چائلڈ لیبر کے خلاف مہم اور قانون سازیوں کا سب سے بڑا پرچارک ہے۔

جھارکھنڈ سے بذریعہ چائلڈ لیبر مائیکا حاصل کرنے والی کمپنیوں میں سرِ فہرست نام جرمنی کی معروف ملٹی نیشنل کارپوریشن ’مرک (Merck)‘ کا ہے۔ مرک اس وقت دنیا کی بڑی فارما سیوٹیکل اور کیمیکل کاسمیٹکس سپلائی اور بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں مرک کی بنائی گئی بے تحاشا مصنوعات عام فارمیسیوں یا میڈیکل سٹوروں پر دستیاب ہیں۔ مرک اپنی دو ماتحت کمپنیوں ’کولورونا‘ اور ’ٹمی رون گروپ‘ کے ذریعے جھارکھنڈ سے مائیکا خریدتا ہے۔

مرک دنیا کی دو دیو ہیکل کاسمیٹک کمپنیوں’لوریل (L’Oréal)‘ اور ’شینیل (Chanel)‘کو مائیکا سپلائی کرتی ہے۔

مسئلہ مائیکا کے استعمال اور مائیکا کی سپلائی کا نہیں، ان معصوم جانوں کا ہے جو معدنی کانوں اور پہاڑوں میں اپنی چھوٹی چھوٹی عمروں میں، ننھے ننھے ہاتھوں سے دنیا کی سرمایہ دار کمپنیوں کے لیے مائیکا کی کان کنی میں مصروف ہیں اور جن کے پھیپھڑے مستقل کانوں اور پہاڑی دروں میں موجود زہر کو جذب کر رہے ہیں۔ اپنے ہی بنائے قوانین کو پاؤں تلے کچلنے اور انسانی حقوق کے دعوے کرنے کے بعد، انہی بچوں سے چائلڈ لیبر لینا ، یہ مغربی سرمایہ دارنہ جمہوری چہرے کا ایک بد نما داغ ہے!1

چین اور امریکہ کی سرد جنگ


دنیا کا ایک کونا امریکہ ہے تو دوسرا کہہ لیجیے چین ہے۔ دنیا کی تمام چھوٹی قوتیں اپنے آپ کو ان دو بڑی قوتوں کے ساتھ جوڑ رہی ہیں۔ ہندوستان کا امریکہ کی طرف جھکاؤ بلکہ امریکہ ہی کے کیمپ میں ہونا ساری دنیا کے سامنے ہے۔ پاکستان کے مشرق میں ایران بھی چین کے ساتھ ایک بڑا سودا کر چکا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھا کہ ’ہم‘ (یعنی پاکستان) کہاں جائیں گے؟

کیسی عجیب بات ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے باوجود یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم جو پہلے امریکی خیمے میں تھے اور ساتھ ہی جو ہم سی پیک کا ہار گلے میں ڈال چکے ہیں، ہم کہاں سیٹ ہوں گے؟

اگر ہم مسلمان ہیں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم سیٹ ہونے کے لیے مبعوث نہیں کیے گئے، بلکہ باقی دنیا اس لیے پیدا کی گئی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ سیٹ ہو!

یہ تو تھی ایمانی بات لیکن، اگر اس ایمان کے بل پر ظاہری طور پر دیکھیں تو نظر آئے گا کہ آج سے چودہ صدیاں پیش تر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جس دنیا میں جی رہے تھے وہاں ایک طرف روم تھا تو دوسری طرف فارس۔ صحابہ نے ایڈجسٹ ہونے کا نہیں سوچا، بلکہ ان کو اپنےساتھ ایڈجسٹ کر لیا۔ ایڈجسٹ بھی کس چیز پر کہ ایمان لے آؤ اللہ پر، جو لے آئے تو ہمارے بھائی اور جنت کے حق دار اور جنہوں نے رد کیا تو ذلت سے جزیہ دیتے رہے۔

کہہ تو ہم نے یہ دیا کہ یہ ظاہری بات دیکھیں، لیکن یہ بات جو بظاہر ظاہری محسوس ہوتی ہے، بصارت و بصیرتِ ایمانی کے بنا نہیں دِکھ سکتی!

ترک ڈرامے


یہ فنونِ لطیفہ ہیں؛ مصوری، ادب، داستان گوئی، شعر وغیرہ۔ ان کی شرعی جائز حدود ہیں اور وہ بھی تنگ نہیں ہیں۔ جدید دنیا میں اسی شعر و شاعری، ادب اور داستان گوئی کی شکل فلم اور ڈرامہ ہیں۔ انہی ڈراموں میں ترکی کے ڈرامے بھی ہیں جن کا خوب غلغلہ ہے۔ ارطغرلؒ ہو یا محمد بن قاسمؒ و محمد فاتحؒ، یہ سب ہمارے ’ہیرو‘ ہیں۔ لیکن بعد میں آنے والے اپنے ماضی کے ’ہیروؤں‘ کی داستانیں سن اور دیکھ کر اگر اکتفا کر لیں تو یہ کافی نہیں۔ ایسے ہی حال کے متعلق اقبالؒ نے ’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘ میں ’ابلیس‘ کا منشا بیان کرتے ہوئے کہا تھا، تصرفِ لفظی کے ساتھ:

تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردار سے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات

خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات

ہے وہی شعر و ’ڈرامہ‘ اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات

زندگی تماشا


نجانے یہ فلم کیا ہے اور اس میں کیا تماشا دکھایا گیاہے، لیکن اس کو ریلیز ہونے سے روک لینا اور پھر کئی ماہ اس کا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پھنسے رہنا اور پچھلے ماہ اس کے ریلیز کی اجازت ملنے میں ’اسلامی ‘ پاکستان کا تماشا ساری دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی حقیقت، پاکستان کے قانونی و آئینی نظام میں اس کونسل کی حیثیت اور پاکستان کے اسلام قانون و آئین کی اصلیت سمجھانے کے لیے ’زندگی تماشا ‘ہی کافی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اور اس کے علاوہ پاکستان کے بعض دیگر مذہبی حلقوں میں یہ اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ اس فلم میں مذہبی شعائر کا مذاق اڑایا گیا ہے لہٰذا اسے ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ کو بھیج دیا جائے۔

جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اس پر بحث شروع ہوئی تو ’اسلامی‘ آئینِ پاکستان (جس کا بنیادی ڈھانچہ اٹھارہ سو فلانے اور انیس سو فلاں کے ’ہیسٹنگ‘ اور ’کلائیو‘ جیسوں کے ایکٹ ہیں ) نے بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ حق ہی حاصل نہیں کہ وہ بیٹھ کر کسی فلم کو ’ریویو‘ کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل تب کسی معاملے کو دیکھ سکتی ہے جب صدرِ مملکت یا پارلیمان یا صوبوں کے گورنر کسی معاملے میں ان سے رائے طلب کریں ۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ’اسلامی‘ سفارشات ہوں تو وہ بھی اسلامی نظریاتی کونسل کو اجازت ہے کہ وہ پارلیمان وغیرہ کو بھیج سکے اور بس!

اس عرصے میں اسلامی نظریاتی کونسل جو اپنے اختیار سے بڑھ کر اس پر ’رائے‘ دے رہی تھی اس کے چیئرمین صاحب کو بھی خط لکھا گیا اور انہوں نے بھی اس بات کی تائید کی کہ یہ معاملہ کونسل کی حد و اختیار سے آگے کا ہے اور وہ اس ایشو سے پیچھے ہٹ گئے!

ویسے بھی جس اسلامی نظریاتی کونسل کی ناک تلے غیر اللہ کا قانون نافذ ہو، طاغوت کی حکمرانی ہو، شریعت کے خلاف جنگ ہو، حدود اللہ کو پامال کرتا حقوقِ نسواں (حقِ زنا) بل ہو، سودی نظامِ معیشت ہو؛ تو اس کے سامنے جب اتنے تماشے چل رہے ہوں تو ایک ’زندگی تماشا‘ بھی چل جانے سے کیا ہو گا!!

مصری مفتیٔ اعظم کا فرمان


مفتیٔ اعظم مصر نے فرمان جاری کیا ہے کہ ۳ جولائی ۲۰۱۳ء کو مصر میں آنے والا (فوجی ) انقلاب اللہ کی عنایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا(جس کے نتیجے میں محمد مرسی کو اقتدار سے الگ کیا گیا ، محتاط اندازے کے مطابق چار ہزار سے زائد اہلِ دین کو مسجد رابعہ العدویہ میں قتل کیا گیا اور نتیجتاً فرعون رعمسیس کے روحانی فرزند عبد الفتاح السیسی کو صدرِ جمہوریہ بنا دیا گیا)۔

آج کے فوجی ڈکٹیٹروں، بلکہ لا دین آمروں، ظالموں، سفاک قاتلوں، کفر کے اتحادیوں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے حق میں رطب اللسان اس طرح کے سرکاری مفتیوں کو دیکھ کر جو مصر کے اس فوجی انقلاب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور سعودی عرب میں محمد بن سلمان کی بیعت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے مترادف قرار دیتے ہیں؛ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ علمائے بنی اسرائیل کس قسم کے تھے اور جن سرکاری و درباری مفتیوں نے اندلس و بغداد کی سلطنتیں ڈبونے میں کردار ادا کیا وہ کس قسم کے تھے۔

اگر اس قسم کے لوگ پچھلے زمانوں میں ہوتے تو فرعون کو ’ظل اللہ علی العالمین‘ اور نمرود کو ’خلیفۃ اللہ‘ اور ’خدا کی شکتی‘ قرار دے رہے ہوتے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے اور ایسوں کے شر سے بچائے!

پب جی


اب تک کون ہے جو ’پب جی‘ سے واقف نہ ہو چکا ہو۔ پھر بھی عرض ہے کہ یہ ایک آن لائن گیم ہے جس میں نوجوان جتھے بنا کر ’ورچوئل‘ دنیا میں ایک دوسرے کا قتل کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ گیم ایک جرائم پر مبنی گیم ہے اور اس میں عالمی لیول کے جتھے ہوتے ہیں جو عالمی غنڈوں اور قاتلوں کو خود بھی غنڈہ اور قاتل ہوتے ہوئے قتل کرتے ہیں۔

ایسی عجیب گیم ہے کہ اگر آپ اس کو چھوڑ کر چند ثانیوں کے لیے بیت الخلاء گئے یا کھانے میں لگ گئے تو مخالف آپ کو قتل کر سکتا ہے، یعنی یہ گیم رک یا pause نہیں ہو سکتی ۔ اب جب کھانے اور بیت الخلاء کا امکان ختم ہے تو نماز اور دیگر عبادات کا تو سوال ہی نہیں۔

ماں باپ نے چند نوجوانوں کو اس گیم سے روکا اور پابندی عائد کی تو قلبِ پاکستان لاہور میں تین نوجوانوں نے اپنی ہی جان اس گیم کی محبت میں تلف کر ڈالی۔ پہلے کسی عاشق معشوق اور آشنا واشنا کے چکر میں مرتے مارتے تھے جو عبث ہی سہی لیکن حقیقت کی دنیا سے اس کا کوئی تعلق تو تھا، اب اس خیالی ؍ ورچوئل دنیا کے لیے مرے جا رہے ہیں۔

تازہ اطلاع تو ہمارے پاس نہیں لیکن پرانی اطلاع یہی تھی کہ حکومتِ وقت نے اس پر کوئی پابندی عائد نہ کی تھی۔ حکومت اور اس کے اداروں (خفیہ بھی شامل ہیں) کو شاید اس قسم کے مواد اور ’تفریح‘ کو بلاک کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ یہ سب یہی چاہتے ہیں کہ نوجوان اسی بے مقصدیت میں الجھے رہیں، عریاں و فحش ویب سائٹیں دیکھیں ، گیموں میں وقت برباد کریں اور گیمیں بھی صحت افزا یا ذہانت میں اضافہ کرنے والی نہیں، حتیٰ کہ وقت گزاری والی بھی نہیں بلکہ گرینڈ تھیفٹ آٹو سے بھی دس قدم آگے پب جی جیسی ہوں تو کوئی پابندی نہیں۔

لیکن دوسری طرف ستم ظریفی یہ ہے کہ راقم کو مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کی مجلسِ ادارت کے ایک رکن نے بتایا کہ نوائے غزوۂ ہند کی ویب سائٹ بلاک کر دی گئی ہے۔ نوائے غزوۂ ہند جو امتِ مسلمہ کے لیے غلبۂ دین کا داعی رسالہ ہے اس کی ویب سائٹ کو بند کرنے کے لیے امریکی ’این ایس اے‘، پاکستانی ’آئی ایس آئی ‘اور بھارتی ’را ‘سب ہی متفق ہیں؛ کہ غلبۂ دین کی دعوت، جہاد کی پکار اور نفاذِ شریعت کی صدا میں ’زندگی‘ ہے، لیکن پب جی اور لاکھوں اس قسم کی زہر آور چیزیں اس لیے چل رہی ہیں؛ کہ ان میں امتِ مسلمہ خصوصاً اور باقی ساری دنیا (بشمول اہلِ کفر) کے لیے ظاہری اور معنوی، دنیوی اور اخروی’موت‘ کا سامان ہے۔

أللھم إنّا نجعلك في نحورهم ونعوذبك من شرورهم. أللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!


1 معلومات مغربی صحافی ’برانڈو بارنزیلی‘ کی ایک رپورٹ سے لی گئی ہیں ۔

Exit mobile version