مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کو داعش کے خلاف جنگ سے متعلق ، امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ساتھ شامل ایک مہاجر مجاہد کا مضمون موصول ہوا تھا، جسے مجلّے میں سلسلہ وار شائع کیا جا رہا ہے۔ اس مضمون میں داعش سے حاصل ہونے والے ’اموال‘ کو ’غنیمت‘ کے طور پر لکھا گیا تھا، جس پر جماعت قاعدۃ الجہاد برِّ صغیر کی موقر ’لجنۂ شرعیہ‘ (کمیسیون برائے شرعی امور و ہدایات) کا تنبیہی خط مجلّے کے مدیر کو موصول ہوا۔ یہ خط نذرِ قارئین ہے، تمام قارئین و متعلقین سے گزارش ہے کہ ’القاعدہ برِّ صغیر‘ کا شرعی موقف اور مجلّے کی مجلسِ ادارت کا اپنی خطا سے رجوع نوٹ فرما لیں۔ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ!(ادارہ)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قابلِ احترام مدیر مجلہ نوائے غزوہ ہند!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہم اللہ تعالیٰ سے امید کرتے ہیں کہ آپ اپنی مجلسِ ادارت کے ہمراہ بخیر وعافیت ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا آپ بھائیوں پر احسان ہے کہ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس عظیم خدمت کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ بھائیوں کی مساعی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں اور اس کے بدلے آپ کو بہترین اجر سے نوازیں، آمین۔
محترم مدیر صاحب!
ابھی خط کا مقصد نوائے غزوہ ہند کے جون ۲۰۲۰ء کے شمارے (جلد ۱۳، شمارہ ۶) میں شائع کردہ مضمون ’داعش کے خلاف جنگ کی روداد‘ میں داعش سے حاصل شدہ اموال کے لیے لفظِ ’غنیمت‘ کے استعمال پر تنبیہ ہے۔ ہم یہاں یہ تنبیہ کرنا چاہتے ہیں کہ داعش کے اموال پر لفظِ غنیمت کا اطلاق درست نہیں ہے۔ یہ خط تفصیلی احکام کا متحمل نہیں اور نہ ہی تفصیلی حوالہ جات درج کیے جارہے ہیں، اختصار سے نکاتِ ذیل عرض ہیں:
اول: داعش بطور جماعت ایک بدعتی (المبتدع) اور گمراہ فرقہ (الفرقۃ الضالۃ) ہے، کیونکہ یہ اپنی جماعت سے باہر ہر مسلمان کی تکفیر کرتے ہیں، اس کی جان ومال کو اپنے لیے مباح جانتے ہیں، اور اس پر جنگ کرتے ہیں۔ داعش کا یہی حکم آج کے جمہور علمائے مسلمین نے بیان کیا ہے۔
پھر بعض علماء نے اسے ’خوارج‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ہماری نظر میں داعش کو خوارج کہنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ عام طور پر فقہائے امت نے ہر اس گروہ کے لیے ’خوارج‘ کا لفظ استعمال کیا ہے جو مسلمانوں کی جان و مال کو اپنی من چاہی تاویلات کی بنیاد پر مباح قرار دیتا ہے اور اس کے لیے خون ریزی کرتا ہے۔ ’در مختار‘ میں لکھا ہے:
وخوارج وهم قوم لهم منعة خرجوا عليه بتأويل يرون أنه على باطل كفر أو معصية توجب قتاله بتأويلهم، ويستحلون دماءنا وأموالنا ويسبون نساءنا، ويكفرون أصحاب نبينا – صلى الله عليه وسلم.1
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ آخری جملے کے تحت’رد المحتار‘ میں لکھتے ہیں:
(قوله: ويكفرون أصحاب نبينا – صلى الله عليه وسلم -) علمت أن هذا غير شرط في مسمى الخوارج، بل هو بيان لمن خرجوا على سيدنا علي – رضي الله تعالى عنه –، وإلا فيكفي فيهم اعتقادهم كفر من خرجوا عليه.2
پس اپنی من چاہی فاسد تاویلات3 کی بنیاد پر مسلمانوں کی تکفیر کرنا، ان کے جان ومال کو مباح قرار دینا اور پھر ان کے خلاف جنگ کرنا، یہ صفت جس گروہ میں پائی جائے، اسے ’خوارج‘ کہا جاسکتا ہے۔ خوارج کا حکم عائد کرنے کے لیے ان تمام صفات کا کسی گروہ میں متحقق ہونا لازم نہیں، جو اوائلِ خوارج میں پائی جاتی تھیں، مثلاً سیدنا علی و سیدنا معاویہ سمیت دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم أجمعین کی تکفیر کرنا، گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر قرار دینا، رجم کی سزا کا انکار کرنا وغیرہ۔
دوم: ہر گروہ سے متعلق شرعی احکام اس گروہ میں موجود صفات کےمطابق شریعت میں متعین ہوتے ہیں۔ جب معلوم ہوا کہ کوئی گروہ ’خوارج‘ میں سے ہے، مگر مخصوص صفات کا حامل ہے، تو اب انھی صفات کے مطابق اس کا حکم متعین ہوگا۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ اوائلِ خوارج کی تکفیر وعدمِ تکفیر کے حوالے سے بھی علماء میں اختلاف رہا ہے، مگر جمہور علمائے امت کے یہاں راجح قول عدمِ تکفیر کا ہے۔ اور اس کا سبب صحابہ کرام کا خوارج سے تعامل ہے، کہ انھوں نے ایسے خوارج کو عذر دیا اور ان کے ساتھ کفار والا معاملہ نہیں کیا۔ حالانکہ وہ خوارج ان صحابہ کی تکفیر تک سے گریز نہ کرتے تھے۔4 لیکن محض غلط تاویل کی بنیاد پر مسلمان کی تکفیر کرنا، اس کی جان ومال کو مباح سمجھنا اور اسے قتل کرنا، یہ امور ……بلاشبہ انتہائی شنیع ہونے کے باوجود…… موجبِ تکفیر نہیں ہیں۔
وإنما لم نكفرهم لكونه عن تأويل وإن كان باطلا , بخلاف المستحيل بلا تأويل.
(قوله: بخلاف المستحيل بلا تأويل) أي من يستحل دماء المسلمين وأموالهم ونحو ذلك مما كان قطعي التحريم ولم يبنه على دليل كما بناه الخوارج كما مر؛ لأنه إذا بناه على تأويل دليل من كتاب أو سنة كان في زعمه إتباع الشرع لا معارضته ومنابذته، بخلاف غيره.5
اسی سبب سے یہ بات واضح رہے کہ جماعتِ داعش کی تکفیر کرنا اور اس کے افراد کو کافر قرار دینا، درست نہیں۔ ان کی گمراہی انھیں مسلمانوں کی ملت سے خارج نہیں کرتی؛ بہر حال وہ مسلمان ہیں۔
سوم: جماعتِ داعش کا حکم باغی مسلمانوں کا سا ہے۔ جہاں کہیں وہ جتھہ بندی کرچکے ہوں تو حسبِ مصلحت ان کے خلاف ازخود قتال کی ابتداء کی جاسکتی ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ جب تک وہ قتال کی ابتداء نہ کریں، ان کے خلاف قتال نہ کیا جائے۔ ہر حال میں مقصد مسلمانوں کو ان کی طرف سے پہنچنے والے ضرر کی روک تھام ہے۔
(فإن تحيزوا مجتمعين حل لنا قتالهم بدءا حتى نفرق جمعهم) إذ الحكم يدار على دليله وهو الاجتماع والامتناع.
(قوله: حل لنا قتالهم بدءا) هذا اختيار لما نقله خواهر زاده عن أصحابنا أنا نبدؤهم قبل أن يبدؤنا؛ لأنه لو انتظر حقيقة قتالهم ربما لا يمكنه الدفع، فيدار على الدليل ضرورة دفع شرهم. ونقل القدوري أنه لا يبدؤهم حتى يبدؤه. وظاهر كلامهم أن المذهب الأول بحر، ولو اندفع شرهم بأهون من القتل وجب بقدر ما يندفع به شرهم زيلعي.6
فإن كانوا تكلموا بالخروج لكن لم يعزموا على الخروج بعد , فليس للإمام أن يتعرض لهم؛ لأن العزم على الجناية لم يوجد بعد , كذا ذكر في واقعات اللامشي.7
اسی بنا پر اگر ان کا فتنہ سرد نہ پڑا ہو تو دورانِ فتنہ ان کے جو افراد قید میں آئیں تو انھیں قتل بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر ان کی قوت ختم ہوگئی ہو تو اب کسی گرفتار قیدی کا قتل جائز نہیں۔
(والإمام بالخيار في أسرهم، إن شاء قتله وإن شاء حبسه) حتى يتوب أهل البغي، فإن تابوا حبسه أيضا حتى يحدث توبة سراج.
(قوله: إن شاء قتله) أي إن كان له فئة وإلا لا كما في القهستاني عن المحيط. قال في الفتح: ومعنى هذا الخيار أن يحكم نظره فيما هو أحسن الأمرين في كسر الشوكة لا بهوى النفس والتشفي.8
جبکہ ان میں سے جو فرد از خود (اسلحہ پھینک کر) تسلیم ہوجائے یا اسے امان دے کر تسلیم کروایا جائے تو ہر دو صورت میں اس کا قتل جائز نہیں۔
(ولو قال الباغي: تبت وألقى السلاح من يده كف عنه، ولو قال: كف عني لأنظر في أمري لعلي أتوب وألقى السلاح كف عنه، ولو قال أنا على دينك ومعه السلاح لا) لأن وجود السلاح معه قرينة بقاء بغيه، فمتى ألقاه كف عنه وإلا لا فتح.9
چہارم: چونکہ داعش مسلمانوں ہی میں سے ایک گروہ ہے، تو اس کے اموال کا حکم بھی مسلمانوں کے اموال کا ہے۔ ان کے اموال کسی حال میں بھی غنیمت نہیں کیے جاسکتے، چاہے جنگ کے بعد قبضے میں آئے ہوں۔
شرح السیر الکبیر میں درج ہے:
فإن قاتلوا فقال أمير أهل العدل: من قتل قتيلا فله سلبه. فقتل رجل قتيلا من الخوارج لم يكن له سلبه. لأنهم مسلمون وأموالهم محرزة بدار الإسلام فلا تكون غنيمة.10
ان کے اموال میں سے جنگی سامان یعنی اسلحہ وغیرہ عند الحاجہ دورانِ جنگ استعمال کیا جاسکتا ہے، مگر بعد از جنگ وہ غنیمت کے مال کے طور پر جنگ کرنے والے مجاہدین میں تقسیم نہ ہوگا۔ بلکہ یہ مال (بعینہ یا اس کی قیمت) صاحبِ مال کے مارے جانے کی صورت میں اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگا، اور زندہ پکڑے جانے کی صورت میں اسے واپس لوٹایا جائے گا، اور ہر دو حال میں یہ مال اس وقت تک اپنے پاس محفوظ رکھا جائے گا جب تک صاحبِ مال یا اس کے ورثاء فتنے سے باز نہ آگئے ہوں۔
ان کی خوراکی اشیاء کا استعمال دورانِ جنگ صرف اسی صورت میں جائز ہوگا جب ’اضطرار‘ کی کیفیت ہو اور خوراک کا اپنا کوئی انتظام نہ ہو، وگرنہ جائز نہ ہوگا۔
(ولم تسب لهم ذرية وتحبس أموالهم إلى ظهور توبتهم) فترد عليهم، وبيع الكراع أولى لأنه أنفع فتح ويقاس عليه العبيد نهر (ونقاتل بسلاحهم وخيلهم عند الحاجة، ولا ينتفع بغيرهما من أموالهم مطلقا) ولو عند الحاجة سراج.11
پنجم: اوپر بیان کردہ حکم داعش سے وابستہ افراد کی اپنی ملکیت میں موجود اموال سے متعلق ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بالعموم داعش جیسا گروہ اپنا الگ بیت المال (مالِ عام) رکھتا ہے اور بیشتر اسلحہ افراد کی اپنی ملکیت کی بجائے بیت المال کا ہوتا ہے۔ اب ایسے میں ایسے اموال جو کسی خاص فرد کی ملکیت نہیں ہیں، وہ مالِ عام کی حیثیت سے ہی امرائے مجاہدین کے پاس بیت المال میں جمع کیے جائیں گے اور مصلحتِ مسلمین میں استعمال ہوں گے۔
ششم: داعش کے خلاف جنگ کرنے والے امرائے مجاہدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اموال کی اس تقسیم کو ملحوظ رکھیں اور پوری تحقیق کی کوشش کریں کہ کون سے اموال شخصی ہیں اور کون سے اموال مالِ عام سے تعلق رکھتے ہیں، تاکہ بموجبِ حکم شرعی ان اموال میں تصرف کیا جائے۔ اور جہاں انتہائی کوشش کے باوجود تحقیق کا کوئی امکان نہ ہو تو ایسا مال بحکمِ ’لقطۃ‘ بیت المال میں جمع کردیا جائے۔ اس لقطۃ میں ملتقط عام سپاہی نہیں، بلکہ امرائے جماعت ہیں جن کے حکم سے جنگ ہو۔ لہٰذا اعلان کردیا جائے کہ جس شخص کا مال ہے، وہ دعویٰ کرکے وصول کرلے۔ اگر صاحبِ مال حاضر ہوجائے تو ٹھیک، وگرنہ جب صاحبِ مال کی معرفت کا کوئی امکان نہ بچے تو بیت المال کے مصارف میں استعمال کیاجائے۔
وفي الحاوي: غريب مات في بيت إنسان ولم يعرف وارثه فتركته كلقطة، ما لم يكن كثيرا فلبيت المال بعد الفحص عن ورثته سنين.
(قوله: ما لم يكن كثيرا) ذكر الضمير على تأويل التركة بالمتروك والظاهر أن المراد بالكثير ما زاد على خمسة دراهم لما في البحر عن الخلاصة والولوالجية: مات غريب في دار رجل ومعه قدر خمسة دراهم فله أن يتصدق على نفسه إن كان فقيرا كاللقطة وفي الخانية ليس له ذلك؛ لأنه ليس كاللقطة. قال في البحر والأول أثبت وصرح به في المحيط.12
وقد مر أن من مات بعد الإحراز يورث نصيبه، ولكن لما جهلت أصحاب الحقوق وانقطع الرجاء من معرفتهم صار مرجعها إلى بيت المال.13
یہاں یہ نکات خود مجاہدین اور قارئینِ مجلہ کے سامنے واضح کرنا مقصود تھے، تاکہ جہاں کہیں بھی داعش سے سابقہ پڑے تو احکامِ شرعیہ کی پابندی کی جاسکے۔ چونکہ مجلہ میں بیان کردہ واقعے کا تعلق افغانستان میں موجود داعش کے خلاف امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین کی جنگ سے ہے، تو ہم نے اپنے تئیں جو معلومات کیں تو معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین شیخ ہبۃ اللہ حفظہ اللہ کی طرف سے داعش سے حاصل شدہ اموال کو غنیمت کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ شاید صاحبِ مضمون کو اشتباہ ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرعی احکام کے مطابق…… علی منھاج النبوۃ… …اپنا جہاد وقتال جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔
والسلام علیکم
لجنۂ شرعیہ– القاعدہ برِّ صغیر
ذیقعدہ ۱۴۴۱ھ
1 رد المحتار علی الدر المختار؛ ج ۶، ص ۴۱۲، دار عالم الکتب، الریاض
2 أیضا؛ ج ۶، ص ۴۱۳
3 یہاں ہم نے ’من چاہی فاسد تاویلات‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ بعض عقائد واعمال ایسے ہوتے ہیں جنھیں شریعتِ اسلامیہ ’کفر‘ قرار دیتی ہے، اور ان کے مرتکبین کی ’تکفیر‘ کرنا اور اس کے بموجب انھیں ’قتل‘ کرنا ایک برحق شرعی حکم ہے۔ اس کی کسوٹی ’شریعت‘ اور ’اہل السنۃ والجماعۃ کا منہج‘ ہے۔ یہ وضاحت اس لیے لکھ دی کہ آج طاغوتی حکومتیں اور ان کے زیرِ اثر بعض علماء عمومی طور پر ’مجاہدین‘ ہی کو ’خوارج‘ قرار دے دیتے ہیں کہ یہ مجاہدین مسلم ملکوں پر ’مغرب‘ کے مسلط کردہ ’ایجنٹ‘ حکمران طبقے کی تکفیر کرتے ہیں اور انھیں مباح الدم قرار دیتے ہیں۔ اس وضاحت سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ شرعی مسائل کی تطبیق میں اشتباہ پیدا نہ ہو۔
4 تاہم یہ بات علمائے کرام نے لکھی ہے کہ اگر آج کوئی گروہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم أجمعین کی نعوذ باللہ تکفیر کرے، تو وہ کفر کے حکم سے نہیں بچے گا۔
5 رد المحتار؛ ج ۶، ص ۴۱۳، ۴۱۴
6 أیضا؛ ج ۶، ص ۴۱۵، ۴۱۶
7 أیضا؛ ج ۶، ص ۴۱۲
8 أیضا؛ ج ۶، ص ۴۱۷
9 أیضا؛ ج ۶، ص ۴۱۸
10 شرح السیر الکبیر؛ ج ۲، ص ۲۱۹، دار الکتب العلمیۃ،بیروت لبنان
11 رد المحتار؛ج ۶، ص ۴۱۷، ۴۱۸
12 أیضا؛ ج ۶، ص ۴۴۴
13 أیضا، ج ۶، ص ۲۶۵