سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
ایک ہاتھ میں پلاسٹک کا ترنگا اور دوسرے ہاتھ میں لڈّو لیے خوشی خوشی ملک کی محبت کے گیت گاتے، جھومتے، قوم کے مسلمان بچے اپنے اپنے اسکولوں میں جشنِ آزادیٔ ہند مناتے، اس بات سے انجان و بے خبر کہ اسی ملک کے اژدھے ان کو نگلنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ صبح سے ہی محلّوں میں خصوصاً گھروں کی چھتوں پر رونق کا سماں بندھ جاتا ہے۔اس دن ملک کے نواسی (باسی)ملک کی آزادی کا اظہار پورا دن پتنگ اڑا کر کرتے ہیں۔لال قلعہ، جو کل تک مسلمانوں کی فتح کی علامت تھا وہاں آج ملک کا دہشت گرد وزیرِ اعظم قوم سے خطاب کرتا ہے جسے مسلمان ٹی وی اسکرین پر بڑے ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں۔دس بارہ روز پہلے سے ہی ہندوستانی فضائیہ کے جنگی جہاز دہلی کی فضا میں کرتب دکھاتے ہیں اور مسلمانوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم آج ہیں اور تم کل تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں آسمان کو چھوتے غبارے آسمان پر یہ نوشتہ کرتے ہیں کہ ۸۰۰ سال تک اس ملک پر حکومت کرنے والے شریعت کے پابند لوگ، آج ہمارے غلام ہیں۔ دہلی کی شاہی جامع مسجد، لال قلعے پر لہراتے ترنگے کو دیکھ کر خون کے آنسو روتی ہے۔
بظاہر خوش گوار معلوم ہونے والے ماحول میں ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ ساری ہنگامہ آرائیوں کے باوجود بھی چاروں طرف ویرانی دکھتی ہے۔دل کی گھبراہٹ کو دور کرنے کے لیے میں مولوی صاحب کے پاس چلا گیا ۔ مولوی صاحب کی گفتگو کا موضوع اکثر امت کی خستہ حالی پر ہوتا تھا ۔ اس دن بھی مولوی صاحب نے امتِ مسلمہ کی حالت دیکھ کر بے حد دکھ کا اظہار کیا اور یوں فرمایا……آ ج ہماری قوم کی کمزورحالت دیکھ کر غم و افسوس سے زیادہ حیرت ہوتی ہے کہ بھلا کوئی شخص اپنی بربادی پر جشن مناتا ہے؟کہ بھلا کوئی شخص اپنے دشمنوں کے اقتدار پر خوش ہوتا ہے؟ہمارا آزادی کا جشن منانے کا سبب کیا ہوسکتا ہے، جبکہ سن ۴۷ء سے اب تک مسلمانانِ ہند کی حالت بد سے بدتر ہو چکی ہے؟ ہمیں اس ملک میں دلتوں سے بھی زیادہ گرا ہوا شہری سمجھا جاتا ہے!!
مولوی صاحب نے اس دن یہ مشورہ کیا کہ آج کم از کم اپنے آس پاس کے محلے کے مسلمانوں سے ا س حوالے سے بات کی جائے اور اس دن کے حوالے سے ان کے تاثرات جانے جائیں ۔ ہم نے ان لوگوں سے سوچ کا تبادلہ کیا جن سے اب تک ہمارا تعلق دوستی، تجارت اور رشتے داری کا تھا لیکن اب ان میں سے اکثر سے ہمارا تعلق فکری بن گیا تھا۔ زیادہ تر مسلمانوں نے مولوی صاحب سے اتفاق کیا اور حقیقت کو مانا ……اس ایک دن کے مختصر دورے سے ہمیں ا س بات کا اندازہ ہواکہ لوگ اپنے مسائل سے واقف ہیں لیکن دنیا کی محبت، کیرئیر، سٹیٹس، لائف سٹائل، بیوی ؍ گرل فرینڈ اور بنگلہ و گاڑی کی شکل میں انھیں اسیر کیے ہوئے ہے۔
ہم جشن کیوں منائیں
لٹنے، کٹنے ، پٹنے کے بعد خوش کیوں کر ہوا جائے……؟ہماری مسجدیں یا کھنڈرات بنادی گئی ہیں یا مندر ……، ذرا مجھے کوئی یہ تو بتلائے کہ میں جشن کیوں کر مناؤں؟! خوشی تو ان اقوام کے لیے ہے جو اس ملک میں ترقی کر رہی ہیں، جو یہاں پھل پھول رہی ہیں۔جشن تو ان لوگوں کو منانا چاہیے جن کی معاشی، اقتصادی، ثقافتی اور مذہبی حالت پروان چڑھ رہی ہے ۔ خوش تو ان کو ہونا چاہیے جو اپنی طاقت کو دن بدن بڑھا رہے ہیں۔ آزاد تو وہ لوگ ہوئے ہیں جو حکومت کرتے ہیں، اپنے مذہب کا تحفظ کرتے ہیں، اپنے لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں۔غم و افسوس تو میری قوم کے حصے میں آیا ہے۔ کسی ایک میدان میں ہم نظر نہیں آتے۔ ہاں ہمارے یہاں اضافہ بھی ہوا ہے! اضافہ ہوا ہے غربت میں، مظلومیت میں ……ہم جشن اس وقت منائیں گے جب ہماری قوم ہر خطرے سے محفوظ ہوگی۔ جب ہماری قوم ترقی کرے گی۔
ہاں ہمیں محبت ہے!
ہماری محبت اللہ کے لیے ہے اور ہماری دشمنی بھی اسی رب کی خاطر ہے۔ ہندوستان سے ہمیں محبت ہے کیوں کہ یہاں زمین و آسمان، پہاڑ و چٹان، دریا و سمندر، جنگلات میرے رب کی حمد بیان کرتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا حق اس وقت ادا ہوگا جب میرے رب کا نظام یہاں نافذ کیا جائے گا۔ اسی مٹی میں میرے آباؤ اجداد کا خون ملا ہے۔ ہزاروں علما و مجاہدین کے خون سے یہاں کے پہاڑ تر ہیں۔کس چیز کی خاطر، نہ حکومت کی خاطر، نہ کسی شہر و علاقے یا ملک کی خاطر، نہ کسی زبان کی خاطر……قربانی ہے تو صرف اور صرف میرے رب کے لیے ، اس کا نظام لاگو کرنے کے لیے ……اس لیے مجھے ہندوستان سے محبت ہے……میری محبت کا تقاضہ یہ نہیں کہ اس قلم و در کی عزت و احترام کروں جو میرے رب کے گھر کے خلاف فیصلہ سناتا ہے۔ ان قاتلوں کے سامنے ہاتھ کیوں کر جوڑوں جن کے ہاتھ لاکھوں مسلمانوں کے خون سے رنگےہیں…… ہماری دوستی اور دشمنی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔
ایسے موقع پر عید الاضحیٰ
عید الاضحیٰ کا مبارک دن اپنے رب سے اظہار محبت کا دن ہے۔مسلمان اپنے رب کی خاطر قربانی کرتے ہیں لیکن اس دن بھی کفار و کفار کے حواریوں کی طرف سے مشکلات، تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان میں بسنے والے مسلمان بھی ان مشکلات و تکالیف سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ایک طرف یومِ ’آزادی‘کے موقع پر ملک کی انتظامیہ، پولیس و فوج دن و رات ، آنکھوں میں سرمہ ڈال کر اپنی اور اپنے اثاثوں کی حفاظت میں مصروف رہے گی اور دوسری طرف مسلمان تاجروں ، کاروباریوں کو پریشانی میں مبتلا کیا جائے گا۔ایک طرف ہندوؤں کی کاوڑ یاترا کے لیے حکومت و انتظامیہ بچھی جاتی ہے تو دوسری طرف مویشیوں کے مسلمان کاروباریوں کو عید کے موقع پر سخت اذیتیں دیں جاتی ہیں۔ایک طرف ایک شیو یاتری کے لیے بھی ٹریفک پولیس پورے روڈ کو جام کر دیتی ہے تو دوسری طرف مسلمان بکرا، بھینس و اونٹ بیچنے والے غریب مسلمانوں کو ڈنڈے مارے جاتے ہیں۔ یہ فرق ، یہ بھید بھاؤ اس لیے ہے کہ آپ اپنے رب کے لیے قربانی کرتے ہیں اور ہندو سور، بکرے، بھینس کی بَلی اپنے بتوں پر چڑھاتے ہیں۔ مسلمان اپنے رب کے نام پر قربانی کریں تو وہ بے رحم، سخت دل وغیرہ وغیرہ اور ہندو سور کھائیں ، بکرا ، مرغی کھائیں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا……!!
مسلمانانِ ہند کے لیے یہ غور وفکر کی بات کہ ایک طرف ہندو اپنے آزادی کے جشن منانے میں دھت ہیں تو دوسری طرف مسلمان خوف و ڈر کے عالم میں عید منا رہے ہیں۔ ان کو اس دن یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اخلاق کی طرح انھیں بھی گائے کے شک میں بکرا کھانے پر ہندو بھیڑ پیٹ پیٹ کر مار نہ دے۔مسلمانوں کے مویشیوں کو ضبط کرکے کے انھیں تنگ کیا جاتا ہے اور معاشی طور پر کمزور کیا جاتا ہے۔
مسلمانانِ ہند کے لیے یہ موازنہ کرنے کا مقام ہے کہ ایک طرف ہندوؤں کو ساری سہولتیں تو دوسری طرف مسلمانوں کے لیے عوام و حکومت کی طرف سے دشواریاں……!!
مسلمانانِ ہند کو اپنے دفاع کی تیاری کرنی ہوگی۔ حکومت کی طرف سے یہ امتیازی سلوک ایک بڑے آنے والے طوفان کی خبر ہے جس سے اگر ہم نے نمٹنے کی تیاری نہیں کی تو ہم طوفان سے برباد ہو جائیں گے۔ہجرت کے لیے جہادِ کشمیر تیار ہے اور اپنی قوم کے دفاع کے لیے ہمارے بازوؤں میں دم ہے۔ تو پھر خالص اپنے رب پر توکل کر کے کود پڑیں میدان میں ……افغانستان کی طرح نصرتیں ہندوستان میں اترنے کو تیار ہیں……اور اسلامی پرچم لال قلعہ پر لہرانے کو منتظر ہے!