ایک خیال نے دل میں گھر کر لیا ہے اور اسی کو پورا کرنے کے لیے میں یہ تحریر لکھنے پر آمادہ ہو گیا ہوں کہ کئی محبوب ساتھیوں کی یاد کا قرض اس قلم اور سیاہی پر ابھی باقی ہے۔ یہ یاد دراصل ان ساتھیوں کا پیغام ہے اور اسی پیغام کی صورت یہ تحریر ہے۔
وہ عزیزساتھی جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا وعدہ ایسے بہترین انداز میں پورا کیا کہ شاید جذبات کے لیے الفاظ اور الفاظ کے لیے حافظہ کم پڑ جائے ۔ وہ عزیز ساتھی جو دوست بھی تھے اور بھائی بھی اور جن کے ساتھ رشتہ، کلمۂ حق کا تھا ۔ وہ عزیز ساتھی جو جرأتوں کے دھنی تھے اور ایمان کی زندہ مثالیں ۔ جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اور اپنے مرنے کے انداز میں ہمارے لیے ایسے سنگ میل رکھ چھوڑے جو صرف حق کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عزیز ساتھی جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنتوں کو اپنی شہادتوں تک زندہ رکھا ، جنہوں نے آتش نمرود میں کود کر صرف اللہ اکبر کہا اور جنہوں نے آزر کے تراشے بتوں سے انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی گواہی دی ۔
یہ داستان ان سرفروشوں کی ہے جن کا جینا اور جن کا مرنا خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تھا اور جن کے دلوں میں امتِ مسلمہ کا غم تھا ۔ وہ غم خوار تھے اور فکرمند تھے ۔ کہنے کو ہر ایک ساتھی کی داستان مختلف تھی لیکن ہر ایک ساتھی کی داستان یکساں بھی تھی ۔
آج جن ساتھیوں کے خیال نے لکھنے پر مجبور کردیا وہ شاید ماضی کی دھول میں بعض ذہنوں سے کھو گئے ہوں گے لیکن ان کی داستان کو زندہ رکھنا اس کارواں کے آنے والے مسافروں کے لیے ضروری ہے ۔ ابو دجانہ اور عارف للہاری اس شریعت یا شہادت کے کاروان کے وہ اولین مسافر تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر اپنے وجود کو بدل ڈالا اور خالص اللہ تعالیٰ کی خاطر جہاد کیا اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ نہ کی ۔ جس وقت ابو دجانہ رحمۃ اللہ علیہ نے قافلۂ شریعت یا شہادت کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ کیا اس وقت انہیں کشمیر کے محاذ پر قریباً پانچ سال ہو چکے تھے ، وہ ایک تنظیم کے اعلیٰ کمانڈر تھے اور فدائی حملوں کی منصوبہ بندی کے ماہر ثابت ہوچکے تھے ۔قافلۂ شریعت یا شہادت سے جڑنے کا ابو دجانہ بھائی کا اعلان ایک ایسے انقلاب کا آغاز تھا جس سے کشمیر کے محکوم جہاد کو جرنیلی مفادات کی زنجیروں سے آزاد کروانے میں آسانی عطا ہوئی ۔
ابو دجانہ بھائی نے قافلۂ شریعت یا شہادت کے قائد ذاکر موسیٰ شہیؒد کےہمراہ سفر شروع ہی کیا تھا کہ آزمائشوں کے طوفان پیش آنے لگے اور جو ساتھی کچھ لمحہ قبل تک ان کے ساتھ تھے وہ نا سمجھی میں ان کے مخالف ہوگئے ۔
وہ ایک عجیب دور تھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو کہ کیسے ابو دجانہ بھائی نے اپنی تنظیم کو چھوڑا اور کیسے وطن کی محبت کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر سوچنے اور عمل کرنے لگے۔ یہ سب انہوں نے صرف ایک پکار کے خاطر کیا تھا؛ پکار یہ تھی کہ کشمیر کے جہاد کو ریاستی اداروں اور جرنیلی مفادات سے آزاد کیا جائے اور اس جہاد کو اس کے اصل مقاصد اور منزل کی طرف لے جایا جائے ۔ مقصد و منزل پہلے دن سے واضح تھے، فتح یا شہادت…… یا تو اللہ کی زمین پر ذاتی و اجتماعی زندگی میں شریعت ہوگی یا پھر اس شریعت کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کے ساتھ ٹکراتے ٹکراتے شہادت ہوگی ۔
عزت سے جیے تو جی لیں گے
یا جامِ شہادت پی لیں گے!
جس ساتھی نے اس مہاجر مجاہد کے ساتھ وفا کا وعدہ نبھایا، وہ ایک ایسا شیر دل مجاہد تھا جس کی مسکراہٹ اور جس کا صبر پتھر دلوں کو بھی موم کر دیتا اور ان میں ایمان کو بسا دیتا تھا ۔ عارف للہاری کی عمر سولہ یا سترہ سال ہو گی، لیکن کم عمری کا ایمان کی زیادتی یا کمی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔
اس راہ میں آنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے چلنے کے لیے جو راستہ تعمیر کیا گیا ہے، اس راستہ کی تعمیر کے لیے عظیم ساتھیوں نے اپنی ہستیوں کو مٹا ڈالا ہے ۔
اس راہ کے راہیوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ راستہ آپ سے بت شکن ہونے کا تقاضا کرتا ہے اور صرف ان بتوں کا انکار نہیں مانگتا، جو ظاہر ہیں بلکہ ان بتوں کا انکار بھی طلب کرتا ہے جو ہمارے دلوں میں بس چکے ہیں اور جن کا پہچاننا اس سمت پہلا قدم ہے اور جن کی محبت کو مٹانا اس سمت سب سے مشکل قدم ہے ۔ یہ بت عصبیت کے بت ہیں، قوم پرستی ، وطن پرستی، لسانیت، تنظیم پرستی اور مسلک پرستی کے بت!
اس دنیا کے خالق ْحقیقی قرآن کریم میں فرماتے ہیں:
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (سورۃ الجاثیۃ: ۲۳)
’’کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراہ کر دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پردہ ڈال دیا ہے؟ اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے ؟‘‘
اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہونی چاہیے کہ وہ ہمارے اندر سے نفس پرستی کو مٹادے اور ہمیں اس بات کی پہچان عطا کرے کہ جب ہمارے دلوں میں اس ذات پاک کی محبت کے سوا کوئی اور محبت بس جائے جو ہمارے دلوں میں ایسے معبود سجا دے جن کا ہونا ہمارے دلوں سے دین حق کو خاموشی سے مٹا دیتا ہے تو ہمیں معلوم ہو جائے اور ہم ان جھوٹے معبودوں کو اپنے دل سے کھرچ نکالنے کے درپے ہوجائیں۔
اس دین کا یہ تقاضا ہے کہ ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی معبود کی محبت نہ ہو اور ہماری جانیں اور ہماری عبادات اور ہماراجینا اور ہمارا مرنا صرف اور صرف خالق حقیقی کی ذات کی خاطر ہو ۔
ہر دور میں ایمان والوں کو مختلف آزمائشوں کا سامنا رہا ہے ۔ بدر کے میدان میں بھائی کے مقابلے میں بھائی تھا اور دوست کے مقابلے میں دوست تھا اور بیٹے کے مقابلے میں باپ تھا اور باپ کے مقابلے میں بیٹا تھا ۔ یہ ایک آزمائش تھی جس میں دل میں بسے سارے معبودوں کو مٹا دینا تھا اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر اپنے دلوں کو پاک کرنا تھا ۔ اس دن کو اسی وجہ سے یوم الفرقان کہا گیا کہ اس دن حق اور باطل کے درمیان واضح تفریق ہو گئی۔
ایمان کا یہی تقاضا ہے کہ حق کے مقابلے میں جو بھی آ جائے تو اس کے سامنے ڈٹ جایا جائے کہ وہ باطل ہے خواہ وہ باطل آپ کے دلوں میں ہی کیوں نہ بسا ہوا ہو ۔ آج کے دور میں بھی حق اور باطل اسی قدر واضح ہے جس طرح ہر دور میں حق اور باطل کے درمیان فرق واضح رہا ہے؛ جیسے حضرت ابراہیم ؑاور آزر کے معبودوں کے درمیان فرق واضح تھا اور حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی دعوت میں فرق تھا، اسی طرح آج کے دور میں حق اور باطل میں فرق واضح ہے ۔
جب صلیبی جنگوں کی کوکھ سے جنم لینے والا برطانوی سامراج اپنے زوال کو پہنچا تو اس دشمن دین نے امت اسلام پر ایسے ظالم مسلط کیے جو دہائیوں تک کے لیے اس امت کے لیے ظلم اور ناانصافی کا سبب بن گئے ۔ کاغذوں پر کھینچی لکیروں سے امت کو مفلسی اور ظلم کے اندھیروں میں تلملانے کے لیے دھکیلا گیا اور ان سرحدوں کو ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد بنایا گیا ۔ ایک ایسا عالمی نظام جو کفر کی سرپرستی میں تھا اور جس نے امت مسلمہ پر ایسے ظالموں کو حاکم بنا دیا جو دنیا کی محبت میں اندھے اور بہرے تھے اور جن کا معبود ان کا اور ان کے خاندانوں کا مفاد تھا ۔
اس امت کو تو اپنوں اور غیروں کے ساتھ معاملات میں عدل قائم کرنا تھا لیکن اس امّت پر ایسے ظالم مسلط کیے گئے جو وقت کے فرعون اور نمرود تھے ۔ یہ ایک ایسی سازش تھی جس نے رنگ و نسل کی بنیاد پر مسلم امت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ۔ اس کفری عالمی نظام کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ اسلامی دنیا کو ایک ہونے سے روکا جائے اور ان پر مسلط ظالموں کی حکومتوں کو محفوظ کیا جائے ۔
اس عالمی کفری نظام کا خاکہ تب تک محفوظ ہے جب تک کہ اسلامی دنیا اس کی حقیقت اور اس کی تاریخ کو اچھے سے نہیں سمجھ لیتی ۔ یہ کفری نظام تب تک امتِ مسلمہ پر ظلم کرتا رہے گا جب تک مسلمانوں کے دلوں میں اپنے ملکوں کی محبت اور وطن پرستی کے بت بسے ہوئے ہیں ۔ جب تک کہ اس امّت کا جوان اس بات کو نہیں سمجھے گا کہ اس کے وطن اور ملک کے لیے اندھی محبت اور پرستش غلط ہے ( جس وطن اور ملک کی سرحدوں کا فیصلہ برطانوی سامراج نے کیا ہے) تب تک اس امّت کے زخم بھرے نہیں جاسکتے ہیں ۔ اس امت کے درد کا مداوا تو تبھی ہوگا جب اس امت کے بیٹے اپنے دلوں میں سے باطل محبتوں کو ختم کریں گے اور اپنی زندگی کو ایک ایسے انقلاب کے لیے تیار کریں گے جو انقلاب باطل اور کفری نظام اور اس کے كارندوں کی ہستی مٹا دے ۔
یہ جنگ محض کسی شخص یا تنظیم یا ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک ایسے نظام کے خلاف جنگ ہے جو مسجد اقصیٰ سے لے کر بابری مسجد اور لال مسجد پر لگے زخموں کا ذمہ دار ہے۔ وہ نظام جو صومالیہ سے لے کر کشمیر تک مسلمانوں پر ہورہے ظلم کا سبب ہے ۔ فلسطینیوں پر ہو رہا ظلم اور کشمیریوں پر ہو رہا ظلم ایک ہے اور مصر اور حجاز اور اردن اور الجزائر پر مسلط ظالموں کا مددگار اور پاکستان پر مسلط ظالموں کا مددگار ایک ہے ۔
ہندوستان میں اس امت کے بیٹوں اور بیٹیوں پر ہورہے مظالم بھی تو اس باطل نظام کا ہی نتیجہ ہیں۔ جس نظام نےان کی قوت کو اس قدر تقسیم کر دیا کہ جن مسلمانوں نے ہزار سال تک اس زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کی انہی کے بیٹے اور بیٹیاں آج خوف اور ناانصافی کے مہیب اندھیروں میں پھنسے ہوئے ہے ۔ ہندوستان کے مسلمان جوان کو بروقت یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے دکھ اور درد کے ذمہ دار محض گائے کے پجاری نہیں بلکہ اس کے خلاف ایک پورا نظام جنگ کر رہا ہے جس میں ہندوستان کی برہمن حکومت، عدالتیں اور ان کی پولیس اور افواج بھی شامل ہیں ۔ ہندوستان میں رہنے والا مسلمان جتنا جلد یہ سمجھ لے کہ اس کے خلاف یہ جنگ تو صدیوں سے جاری جنگ کا ہی حصہ ہے اتنا ہی جلد وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں میں فرق کرپائے گا ۔
اس دور کے صلیبیوں کے رہنما امریکہ نے جب امارت اسلامی افغانستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان پر مسلط اس ڈرپوک جرنیل نے کشمیر کا بہانہ بھی بنایا اور کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کی خاطر اور پاکستان کے ایٹمی وسائل کو محفوظ کرنے کی خاطر پاکستان کی فوج اسلامی امارت کو مٹانے کی خاطر امریکہ کی حمایت کرے گی۔ اس مکار کو شاید یہ بھی خبر نہیں تھی کہ کشمیر کی ماؤں اور بہنوں اور بھائیوں اور بزرگوں نے تو اسلام اور مجاہدین کی خاطر اپنے گھر اور اپنا مال اور اپنی زندگیاں تک قربان کی ہیں ۔ کشمیر کا ہر ایک مسلمان اس سے بری ہے کہ اس کی خاطر کسی مجاہد کا سودا کیا جائے ۔
کشمیر کے مسلمان نے تو یہ جہاد تب بھی جاری رکھا جب اپنے ملکی مفاد کی خاطر پاکستانی جرنیلوں نے اس جہاد کی سپلائی لائن کو روک دیا اور تب بھی اس جہاد کو جاری رکھا جب پاکستانی حکومت نے ہندو سے خوف زدہ ہوکر دوستی کے نغمے گائے ۔
کشمیر کا مسلمان یہ خوب سمجھ چکا ہے کہ ملکوں کے لیے ان کے اپنے مفاد ہی معبود ہوتے ہیں اور یہ بھی سمجھ چکا ہے کہ ملکوں کے مفاد کسی شخص یا تنظیم کے بدلنے سے بدلتے نہیں ہیں۔ اب وقت کا یہی تقاضا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے مسلمان جوان اور امت کے باقی خطوں میں رہنے والے مسلمان جوان اس بات کو سمجھ جائیں کہ اس امت پر ہو رہے ظلم تبھی ختم ہوسکتے ہیں جب اسلام سے باغی اس کفری نظام کو مکمل طور پر مٹادیا جائے۔ اور اس نظام میں رہ کر اس نظام کو نہیں بدلا جاسکتا ہے ۔ اس نظام کو جمہوری سیاست اور انتخابی سیاست سے نہیں بدلاجاسکتا ہے ۔ اس نظام کی محبت کو دل میں رکھ کر اس نظام کو نہیں بدلا جاسکتا ہے ۔ اس عالمی کفری نظام اور اسلامی نظام کے درمیان وہی فرق ہے جو بدر کے روز کفر اور اسلام کے بیچ فرق تھا ۔ ہر دن ہمارے لیے یوم الفرقان ہے ۔
شہید ابو دجانہ اور شہید عارف للہاری کی زندگی اور ان کی شہادت بھی یوم فرقان کی گواہی تھی ۔ ان اسلام کے متوالوں نے اپنے دلوں میں خالص اسلام کو بسایا تھا اور ان کے دل باقی تمام معبودوں سے انکار کرتے تھے ۔ شہید ابو دجانہ کا شریعت یا شہادت کی پکار پر لبیک کہنا کفری نظاموں سے انکار تھا اور وطن پرستی سے انکار تھا ۔ شہید عارف للہاری کا شریعت یا شہادت کا نعرہ بلند کرنا وہی بدر کے میدان کی نشانی تھی ۔
وہ کسی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنے آخری لمحوں میں بھی حق کی گواہی دی۔ اگر عارف شہید کی زندگی کشمیر کے ہر ایک مسلمان جوان کے لیے ایک مثال ہے تو ابو دجانہ شہید کی زندگی پاکستان میں بسنے والے دینِ حق کے فدائین کے لیے ایک مثال ہے ۔
اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ وہ اس امت کے بیٹوں کو سرابوں اور سازشوں سے بچائے اور اس امت کے بیٹوں کے دلوں میں امت کے غموں کی فکر پیدا کرے ۔ اللہ تعالیٰ میرے ان کمزور الفاظ کو اپنی برکت سے پڑھنے والوْن کے دلوں تک پہنچائے اور جہاں میں سمجھانے میں ناکام رہا وہاں پر پڑھنے والوں کو سمجھنے میں اپنے فضل سے کامیاب کرے ، آمین!