امامِ برحق | حصہ دوم

شہیدِ اسلام، امامِ برحق حضرت مولانا عبد الرشید غازیؒ کی مختصر سوانحِ حیات

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

امر بالمعروف یعنی اچھائی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر یعنی برائی سے روکنا شریعتِ محمدی (علی صاحبہا الصلاۃ و السلام) کے بنیادی فریضوں میں سے ایک ہے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے فرمایا:

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ…… (سورة آلِ عمران: ۱۱۰)

’’ (مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو…… ‘‘

بندۂ مسلم ہو یا قومِ مسلم، ان کی فلاح و صلاح اللہ پر ایمان اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں رکھ دی گئی ہے۔ یہ وہ حکم ہے جو اللہ نے دیا، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس پر عامل ہونے کو کہا اور جس کو نہ کرنے پر تباہی کی وعیدیں سنائیں، وہ حکم جو سارے انبیائے کرام علیہم السلام کرتے رہے، جس کا اہتمام صحابہ رضوان اللہ علیہم نے کیا، اولیاء اللہ جس کی وصیت اپنی اولادوں کو دمِ آخریں کرتے رہے اور جس کی بدولت (برضاء اللہ و مشیئتہ) یہ دین قائم ہے اور ہم تک پہنچا ہے۔

اسی فریضے میں ہم مسلمانوں کی حیات ہے۔ اسی کو قائم کرنے کی خاطر لال مسجد و جامعہ حفصہ کے طلبہ و طالبات، علما و عالمات اور اسلام آباد کے عام و خاص لوگ مولانا عبد العزیز غازی اور مولانا عبد الرشید غازی کی قیادت میں مجتمع ہو گئے۔ یوں بھی اسلامی معاشرے کا محور محراب اور مرکز مسجدیں ہیں اور قضا و افتا کے بنیادی ادارے دار الافتاء ہیں بلکہ شہید عالمِ ربانی استاد احمد فاروقؒ کے بقول آج کے دار الافتاء کل کی (نفاذِ شریعت کے بعد) شرعی عدالتیں ہوں گی۔

مساجد کی شہادت

ایک منکر، ایک جرمِ عظیم اسلام آباد میں کئی مساجد کو ’غیر قانونی‘ قرار دے کر گرایا جانا تھا۔ یہ جرمِ عظیم اسلام آباد کی انتظامیہ وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کی ہدایت پر کر رہی تھی۔ جن اللہ کے گھروں کو ’غیر قانونی ‘ قرار دے کر گرایا جا رہا تھا ان میں سے بعض مساجد کو گرانے کی وجہ محض یہ تھی کہ یہ وقت کے آمر جرنیل، پرویز مشرف کے راستے میں پڑتی تھیں اور راستے میں اندیشہ تھا کہ ’دہشت گرد‘ اس میں چھپ کر مشرف پر حملہ نہ کریں۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر چوراسی (۸۴) مساجد کو ’مارک‘ (نشان زدہ) کیا جنہیں مستقبل میں گرایا جانا تھا۔

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُوْلَـئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلاَّ خَآئِفِينَ لهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ؀ (سورۃ البقرۃ: ۱۱۴)

’’ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں پر اس بات کی بندش لگا دے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے، اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے! ایسے لوگوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان (مسجدوں) میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور انہی کو آخرت میں زبردست عذاب ہوگا۔ ‘‘

سات (۷)مساجد کو گرایا جا چکا تھا جب لال مسجد و جامعہ حفصہ کے طلبہ و طالبات نے مساجد کے انہدام کے سلسلے کو فوری روکنے اور شہید کردہ مساجد کی فوری تعمیر کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر غازی صاحب نے فرمایا:

’’ مساجد کا مسئلہ ہے، مساجد مقدس جگہیں ہیں اور ایک نہیں ہے، سات (۷) ہیں۔ بابری مسجد کو شہید کیا جاتا ہے تو ہم بڑا شور مچاتے ہیں……ہم ایک کیا precedent (مثال)ڈال رہے ہیں؟ دنیا کو کیا دکھانا چاہ رہے ہیں؟ ‘‘1

پس مختصر یہ ہے کہ اس وقت دنیا کو اور خصوصاً امریکہ و مغرب کو مشرف اور اس کے دم چھلے یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ہم بہت روشن خیال اور جدت پسند ہیں۔ پھر اللہ کے گھر، مساجد کو گرا کر اپنے خبثِ باطن کا اظہار بھی مقصود تھا، ورنہ کتنے شراب خانے، بدکاری کے اڈے، سینما گھر اور تھیٹر ہیں جو اسی زمانے میں ’قانونی‘ قرار دیے گئے یا ’قانونی‘ طور پر تعمیر و آباد کیے گئے۔ پرویز مشرف اور اس کے وزیروں کی محفلوں میں کھلے عام شراب کی بوتلیں کھلا کرتی تھیں اور یہ سب سرکار اور فوج و پولیس کی نگہداری میں ہوتا تھا۔

مساجد کی حفاظت کے لیے پر زور مطالبات کیے گئے اور جب حکومت اپنے اس فعلِ بد سے باز نہ آئی تو اللہ کے گھروں کی عصمت و حفاظت کی خاطر حکومت کو الٹی میٹم بھی دیا گیا اور حکومت نے خانہ پُری کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور محمد اعجاز الحق کے ذریعہ شہید کردہ مسجد امیر حمزہؓ کا سنگِ بنیاد رکھا، لیکن اس کے بعد کوئی اور، تعمیری اور فلاح و صلاح پر مبنی اقدام نہ اٹھایا۔ الٹا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والوں کو مطعون کیے جانے کا ابلاغی سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی زمانے میں پرویز مشرف نے ’سب کو مار دینے‘ 2کی باتیں بھی کیں۔

فحش ویڈیوز کی کیسٹوں اور سی ڈیوں کا نذرِ آتش کیا جانا

امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور جذبۂ دعوت الیٰ الخیر کے تحت طلبہ و علما، لال مسجد کے قریب واقع بازاروں ’میلوڈی‘ اور ’آبپارہ‘ میں ویڈیوز فروخت کرنے والوں کے پاس گئے۔ جو ویڈیو کیسٹ و سی ڈی فروش فحش اور بے حیائی و بد اخلاقی کے مواد پر مشتمل ویڈیو کیسٹیں اور سی ڈیاں بیچتے تھے انہیں پیار اور فکرِ آخرت کی ترغیب کے ساتھ یہ مواد تلف کرنے کی دعوت دی گئی۔ اللہ پاک نے ان اللہ والوں کی دعوت میں اتنا اثر رکھا کہ دکان دار برضا و رغبت یہ فحش مواد تلف کرنے پر آمادہ ہو گئے۔

بغیر کسی زور زبردستی کے (حالانکہ منکر کو بزورِ قوت بھی روکا جاتا ہے) سب دکان داروں نے مواد ایک چوراہے میں جمع کیا اور پٹرول چھڑک کر آ گ لگا دی۔

اس معاملے کو سیکولر میڈیا اور فحاشی و عریانی کو فروغ دینے والے ابلاغی اداروں اور حکومت نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے خوب اچھالا۔

فحاشی کی سوداگر عورت کی تادیب

اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس کے رہائشی ایک فحاشی کا اڈا چلانے والی عورت سے بہت تنگ تھے۔ اس عورت کے اڈے پر بڑی بڑی گاڑیوں میں با اثر لوگ آیا کرتے تھے۔ محلہ شریفوں کا تھا اور شریفوں کے بس سے باہر تھا کہ وہ اس عورت کا کچھ علاج کرتے۔ پندرہ سال سے یہ اڈا دین اور عصمت و حیا ایک طرف، ’آئینِ پاکستان‘ کی بھی نام نہاد رِٹ چیلنج کیے ہوئے تھا۔

اہلِ علاقہ پولیس، تھانےداروں اور انتظامیہ کو شکایت کر کر کے تنگ آ چکے تھے۔ چند بار اس کے اڈے پر چھاپہ بھی پڑا، لیکن چھاپے سے پہلے ہی اس کو اطلاع ہو جاتی اور یہ جملہ سامان اور جسم فروش عورتوں کو غائب کر دیتی اور کبھی کچھ برآمد نہ ہوتا۔

لال مسجد و جامعہ حفصہ کے طلبہ و طالبات کی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تحریک اٹھی تو اہلِ علاقہ کو کچھ امید بندھی اور یہ مسجد و مدرسے والوں کے پاس آئے اور اس کی شکایت کی۔

کچھ طالبات گئیں اور اس کو یہ فحش کام چھوڑنے کے لے ترہیب و ترغیب دلائی۔ اس عورت نے وہاں فساد کھڑا کر دیا اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی۔ بامرِ مجبوری اس عورت کو ساتھ ہی لانا پڑا۔ یہ جہاں دیدہ، چالاک عورت تھی اور مذہبِ رافضیت سے اس کا واسطہ تھا۔ اس نے بظاہر ٹسوے بہائے، توبہ کی اور تین روز بعد واپس جا کر، اپنی بد باطنی اور حکومت میں بیٹھے اپنے ’گاہکوں‘ اور ’سہولت کاروں‘ کی اکساہٹ پر اس سارے معاملے کو میڈیا میں خوب اچھالا۔

چینی مساج سینٹر

اسلام آباد کے بعض علاقوں میں کچھ مساج سینٹر چلتے تھے جہاں چینی عورتیں پیسوں کے عوض نا محرم مردوں کا مساج کرتیں اور فحاشی کے اڈے چلاتیں۔ اس کام کو بھی اسی تحریکِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے روکا اور حکومت نے اس کو اپنی رِٹ چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا۔

حکومت کی ہٹ دھرمی و ظلم اور غازی صاحب کا ردِّ عمل

حکومتِ وقت خود یہ برائیاں روکنے سے گریزاں رہی، بلکہ ان کی سہولت کاری بھی کرتی رہی۔ بلکہ حکومت پر قابض سربراہِ مملکت ، پرویز مشرف ایسا شخص تھا جس کے نزدیک یہ سب کام ’فن‘ اور ’آرٹ‘ میں داخل تھے۔ ایسا شخص جو شراب پی کر گلاس سر پر رکھ کر رقص کرنے کو مہارت گردانتا تھا اور فخریہ بتاتا تھا کہ راول پنڈی کے جم خانے میں میری ماں ’کتھک‘ ڈانس کیا کرتی تھی۔ ایسا شخص جس کی کابینہ اور اس کے ’مقربین‘ رات کو ایوانِ صدر میں شراب و شباب کی محفلیں ’سجاتے‘، گویّوں اور میراثیوں کو بلواتے اور ان کے ساتھ سُر اور تال ملاتے۔ یہ سب کہاں برداشت کر سکتے تھے کہ شراب و کباب اور رقص و شباب کی محفلوں، فحاشی و بدکاری کے اڈوں کو روکا جائے اور ان کی جگہ قال اللہ و قال الرسول کی ندائیں سنائی دیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر عمل کیا جائے۔

حکومتی مشینری حرکت میں آئی اور جی سکس میں فحاشی کا اڈا چلانے والی بدکار عورت کے بدلے پولیس نے جامعہ حفصہ کی پاک باز دو معلمات کو مدرسے آتے ہوئے اغوا کر لیا۔

ساتھ ہی ابلاغی اداروں کی ڈوریں کھینچی گئیں اور ہر طرف قانون کو ہاتھ میں لینے، ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے اور حکومت کے خلاف محاذ آرائی کی جارہی ہے کی دُہائیاں دی جانے لگیں۔

اس موقع پر غازی صاحب نے مبنی بر حق اور عادلانہ موقف اپنایا، اور اس کا برملا عقلاً و شرعاً بیان کیا۔ غازی صاحب نے فرمایا:

’’جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ جب آپ کسی برائی کو کہیں دیکھیں تو اس کو ہاتھ سے روکا جائے ……لہٰذا طلبہ اس کو روک رہے ہیں۔‘‘3

دوسری جگہ فرمایا:

’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ جب تم کسی بری چیز کو دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو اور اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو زبان سے اس کو کہو کہ یہ بری ہے۔ اور وہ بھی اگر استطاعت نہیں رکھتے تو دل سے برا جانو، لیکن یہ ایمان کا بڑ اکمزور درجہ ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ اگر میں برائی کو اپنے پڑوس میں ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں اور ہم پولیس کو بتا بتا کر تھک گئے ہیں۔ قانون حرکت میں نہیں آ رہا۔ تو کچھ نہ کچھ تو اس کا کرنا ہے ناں……

……کچھ دیر کے لیے اسلام کو چھوڑ دیں، شریعت کو بھی چھوڑ دیں یہ جو کام ہیں مثلاً بلیو (فحش)فلموں کا جو کاروبار ہے یہ آپ بھی جانتے ہیں میں بھی جانتا ہوں سب جانتے ہیں کہ یہ ہو رہا ہے اور بڑا openly (کھلم کھلا)ہو رہا ہے۔ یہ جسم فروشی کا کام جو خاتون کر رہی تھیں ، openly کر رہی تھیں۔ یہ تو اس وقت جو ہمارا جو بھی لاء (قانونِ پاکستان)ہے جیسا تیسا لاء ہے وہ بھی اجازت نہیں دیتا۔ ‘‘4

ایک اور جگہ فرمایا:

’’ میں ایک مثال سے عرض کروں گا…… کہ ہمارے گھر کے باہر سٹریٹ (گلی)میں کوڑے کا بڑا ڈرم پڑا ہوتا ہے۔ یہ ڈرم اٹھانا کس کی ذمہ داری ہے؟ بلدیہ والوں کی…… ظاہر ہے!

اب فرض کیا کہ بلدیہ والے اس کو نہیں اٹھاتے، (لوگ) کہتے ہیں، درخواست کرتے ہیں اہلِ محلہ کہ اٹھا لو۔ اور بد بو وہاں سے آنے لگتی ہے۔ اب جب انتہائی بدبو آتی ہے تو لوگ سب مل کر…… ہم سب مل کر کہتے ہیں کہ چلو جی کوئی گاڑی منگواؤ اور اس میں ڈالو اور لے جائیں۔

جب ہم اس گند کو اٹھا کر پھینک کے آ جاتے ہیں کہیں، تو ……بلدیہ والے آ جاتے ہیں کہ جناب آپ کا تو یہ کام ہی نہیں تھا ۔ آپ نے یہ کیوں کیا؟ آپ نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے!

میں اسی بات پر آؤں گا کہ(ہم) قانون کو ہاتھ میں لینا نہیں چاہتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب ایسے ہو رہا ہے……اور ادارے کام نہ کر رہے ہوں تو پھر آدمی کہاں جائے؟‘‘5

غازی صاحب کی مسلمان معاشرے سے محبت اور ہمدردی و اصلاح کا جذبہ اس بات سے بھی عیاں ہے کہ جب آپ کے سامنے ایک سائل نے یہ کہا کہ ’یہ فحاشی کا کاروبار کرنے والی عورتیں مجبور ہیں، اگر یہ کام نہیں کریں گی تو ان کے نان نفقے کا انتظام کہاں سے ہو گا؟ اگر آپ ان کے خلاف ہیں اور ان کا کام دھندا بند کروانا چاہتے ہیں تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ ان کے نان نفقے کا انتظام کریں گے؟‘۔ جواباً غازی صاحب نے فرمایا:

’’اگر آپ یہ بات کرتے ہیں، تو ہاں ٹھیک ہے…… ہم ایسی عورتوں کے نان نفقے کی ذمہ داری لینے کو بھی تیار ہیں اگر یہ عورتیں یہ کام چھوڑ دیں!‘‘6

نفاذِ اسلام کی کوششیں

غازی صاحب سری و جہری ہر طریقے پر نفاذِ شریعت اور اقامتِ دین کی دعوت دیتے رہے اور اس دعوت کے دینے میں آپ نے خوب حکمت سے کام لیا۔ ہمارے خطے میں یہ دعوت نہ تو کوئی نئی دعوت ہے اور نہ ہی پہلی بار کسی نے یہ صدا بلند کی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، محدث و فقیہ علامہ ظفر احمد عثمانی، مفتیٔ اعظم مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی، بائیس (۲۲) نکات مرتب کرنے والے اکابر علمائے کرام7، امیرِ شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، علامہ سیّد محمد یوسف بنوری سے لے کر فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانوی، مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا یوسف لدھیانوی، شیخ ولی اللہ کابل گرامی، مولانا صوفی محمد اور خود غازی صاحب کے والدِ گرامی مولانا محمد عبداللہ غازی تک اور سیکڑوں علما (نوّر اللہ مرقدہم)ایسے ہیں جنہوں نے نفاذِ اسلام کے لیے دعوت و جہاد کے میدان گرم کرنے کی صدا لگائی۔

غازی صاحب بھی شروع دن سے اس نظام کا دجل جانتے تھے اور جانتے تھے کہ اس نظام کے ڈھانچے میں رہتے ہوئے اقامتِ اسلام نا ممکن ہے۔ آپ نے پہلے ہی مرحلے میں براہِ راست ٹکراؤ سے اجتناب کیا اور آپ کے برادرِ کبیر مولانا عبد العزیز غازی اور آپ خود نظام کی خرابیاں اور اس کا فساد بیان کرتے رہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کی دعوت دیتے رہے۔ آپ نے حکمرانوں کو بھی غیر اللہ کے نظام کو ترک کرنے اور اسلامی نظام کے قیام کی طرف دعوت دی، علمائے کرام اور مسلمان عوام و خواص کو بھی نفاذِ اسلام کے لیے تحریک کی بنیاد پر جمع ہونے اور اقامتِ شریعت کی خاطر کوششیں کرنے اور قربانیاں دینے کی تحریض دلائی۔

اسلام ہی اس ملک کا سامانِ بقا ہے!

مملکتِ پاکستان کے مقصدِ تاسیس اور آج کل کے نام نہاد روشن خیالوں کو مخاطب کر کے آپ نے ایک جگہ فرمایا:

’’یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا…… اس کے لیے قربانیاں دی گئیں، ہماری بہنوں نے ماؤں نے قربانیاں دیں۔ قربانیاں آپ کے سامنے ہیں بڑا خون لگا ہے……یہ ملک آسانی سے نہیں بنا ہے۔ ایسے میں اس کا جو مقصد تھا، جوہدف تھا…… جو ہم نے پڑھا ہے ……وہ تو یہی ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ! (لہٰذا یہاں اسلام کا نفاذ ہونا چاہیے)۔

اگرچہ آج کل بہت سے لوگ جو ہیں، ماڈرن لوگ جو ہیں enlightened(روشن خیال)قسم کے لوگ جو ہیں، میں so-called enlightened(نام نہاد روشن خیال)کہوں گا وہ کہہ رہے ہیں کہ ایسی بات نہیں ہے۔ ‘‘8

ایک مقام پر غازی صاحب نے فرمایا:

’’ حالات کچھ ایسے ہیں کہ یہ ملک خدانخواستہ بکھر سکتا ہے، اس کو بکھرنے سے بچانے کے لیے جو واحد ہمارے پاس راستہ ہے(وہ اتفاق و اتحاد ہے)…… (اور اس اتفاق و اتحاد کا راستہ ) یہ ہے کہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے اوپر (ہم)سب کو جمع کر سکتے ہیں۔ اس پر کسی کا اختلاف نہیں ہو گا۔ اس پر سارے کے سارے جڑ سکتے ہیں۔ اس لیے (آج کے حالات میں)یہ نفاذِ اسلام کا مطالبہ اس وقت (ہم) ذرا زیادہ زور و شور سے (کر رہے)ہیں۔

میرے خیال کے مطابق علمائے کرام سارے ہی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جس مقصد کے لیے ہم نے یہ ملک لیا تھا، ہماری بہنوں نے، ماؤں نے قربانی دی، بھائیوں نے قربانی دی……آخر اتنا خون لگا ہے اس ملک کے لیے…… اس قربانی کا مقصد کیا تھا؟

اس کا مقصد یہی تھا جو ہمیں بتایا گیا ہے، جو ہم نے پڑھا ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ !اس کے اوپر ساری کاوشیں ہوئیں، ساری کوششیں ہوئیں اور اس کے بعد یہ ملک بنا۔ لیکن بد قسمتی سے یہاں اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہو سکا۔ ‘‘9

گویا غازی صاحب کی درج بالا بات، مولانا زکی کیؔفیؒ10 کے اس شہرۂ آفاق شعرکی تشریح ہو گئی کہ

اسلام ہی اس ملک کا سامانِ بقا ہے
بنیاد پہ قائم نہ رہے گا تو فنا ہے

جمہوری نظام کا فساد

ہمارے ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ نہ ہوا اور اس کی جگہ ایک غیر اسلامی، بودا، فرسودہ اور کرپٹ جمہوری نظام مغرب سے درآمد کر لیا گیا۔ جمہوری نظام کی فرسودگی اور فساد کو بیان کرتے ہوئے ایک ٹی وی ٹاک شو میں آپ نے فرمایا:

’’ ہم تو اس جمہوری نظام کو بھی غیر اسلامی سمجھتے ہیں، کہ یہ جمہوریت بھی اسلامی نہیں ہے۔ اسلامی نظام بالکل altogether different (سراسر مختلف)ہے۔ اس لیے کہ جمہوریت کے اندر جو ووٹ ہے ؛ اس کو گنتے ہیں۔ اس کو تولتے نہیں ہیں۔

اسلام میں صاحب الرائے لوگوں کی (رائے اہمیت کی حامل ہے)۔ دیکھیں میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ جمہوریت کے اندر ایک بھنگی، چرسی، شرابی جس کو اپنے interest (فائدے)کا نہیں پتہ……ملک کا interest تو بہت دور کی بات ہے اس کو اپنے interest کا نہیں پتہ، اس کو اپنی فیملی کے interest کا نہیں پتہ……اس (طرح کے شخص) کا ووٹ کتنا ہے؟ ایک ہے!

اور ایک بہت ہی صاحبِ فراست، intellectual (ذہین و مفکر)اور ایسا شخص جس کی پورے ملک کے حالات پر ایک گہری نظر ہے، اس کا بھی ووٹ کتنا ہے؟ایک……!‘‘

سوالاً تبصرہ کیا گیا کہ:

’’(یہی تو) مساوات ہے۔ محمود و ایاز اکٹھے ہیں، ایک ہی صف میں ہیں!؟‘‘

جواباً فرمایا:

’’نہیں ،نہیں! (محمود و ایاز اکٹھے)چل رہے ہیں، ایک ہی صف میں کام کر رہے ہیں؛ یہ اور بات ہے!

لیکن جہاں بات ہو گی رائے کی تو وہاں صاحب الرائے لوگوں کی بات مانی جائے گی۔

ہمارے یہاں کیا وجہ ہے کہ سسٹم (نظام) صحیح طریقے سے چل نہیں رہا؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ ووٹ کو گنا کرتے ہیں اور اسی پر علامہ اقبال کا شعر بھی ہے کہ

جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے!‘‘11

غازی صاحب نے اس نظامِ طاغوت سے برأت کا اظہار کیا اور حقیقی تبدیلی کے لیے اسلام کے عادلانہ نظام کی حمایت کرتے ہوئے فرمایا:

’’ ہم (موجودہ)نظام کے خلاف ہیں اور ہم پر امن انداز سے ملک میں ایک تبدیلی چاہتے ہیں۔ لیکن اگر وہ (مقتدر طبقے)ہمیں دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ انتشار اور تشدد کی صورت اختیار کر سکتا ہے!‘‘12

علمائے کرام کو دعوت

غازی صاحب نے اس موقع پر جہاں عوام میں دعوتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور نظامِ اسلامی کے قیام کی دعوت دی تو ساتھ ہی وقت کے بڑے علمائے کرام، رہبرانِ دین و ملت اور داعیانِ دین کو بھی مخاطب کیا اور ان کو ان کا نبوی وراثت والا فریضہ یاد دلایا۔ آپ نے رہبرانِ دین و ملت کو نہایت ادب کے ساتھ یاد دلایا کہ ہمارا کام اس دین کی خاطر کھپنا، اپنی جانوں کو گھلانا، اس کی خاطر قربانیاں دینا ہے۔ آپ نے بیان کیا کہ ہمارا مزاج چلے چلائے سسٹم میں بس ’ایڈجسٹ‘ ہونے کا بن گیا ہے اور ہم کچھ بھی انقلابی و تحریکی کام نہیں کرنا چاہتے۔ جب اللہ کے گھر، مساجد کے انہدام کا معاملہ ہوا اور بعض حضرات نے آپ کو بس زندگی بچانے، جانیں بچانے اور ٹکراؤ سے اجتناب کی راہ سجھائی تو آپ نے نہایت درد و سوز مندی کے ساتھ فرمایا:

’’ (ہمارا مزاج بن گیا)ہے کہ باہر درس گاہ سے نکلیں اور جوتیاں سیدھی ہمیں ملیں……ہمارا ایک مزاج بن گیا ہے کہ ہم دھکا نہیں کھانا چاہتے، ہم یہ نہیں چاہتے، (کہ)ٹینشن ہو، تو میں کہا کرتا ہوں کہ اگر (اللہ تعالیٰ نے) اس طرح ٹھنڈی ٹھنڈی دین کی خدمت کروانی ہوتی…… تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی خدمت کروا لی ہوتی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایسی ٹھنڈی ٹھنڈی خدمت کروا لی ہوتی۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ کرام کوایسے مراحل سے گزارا کہ جن کے اندر مشکلات بھی ہیں ، جس کے اندر ٹینشن بھی ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹینشن نہیں ہوتی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو روتے کیوں تھے؟ مسائل کی وجہ سے، حالات کی وجہ سے کہ یہ کیسے ہوگا؟ کیسے ہم کریں گے؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے )جہاد کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو خون مبارک بھی بہا، دانت مبارک شہید ہوئے؛ ہم میں سے کتنوں کو ابھی پتھر (بھی)لگے ہیں؟ ہم پتھر کھانے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ دھکا بھی نہ پڑے۔ کوئی ہمیں اوئے بھی نہ کہے……ہمیں کوئی اوئے بھی نہ کہے اور ہماری ایک ریسپیکٹ؍respect (احترام)ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو مجنوں بھی کہا گیا، کیا کچھ کہا گیا نعوذ باللہ، لیکن ہماری ایک نفسیات بن گئی ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک روٹین میں جو لائف (زندگی)ہے ناں ہماری(وہ خراب نہ ہو)…… یہ تو ایک عام آدمی کی سوچ ہے، عام دکان دار کی سوچ ہے، ملازمت کرنے والے جو لوگ ہیں، عام آدمی، یہ تو اس کی سوچ ہےکہ میری روٹین ڈسٹرب نہ ہو، میں اپنی روٹین میں رہوں۔ ہمیں تو میرا خیال ہے کہ ہر طرح کے اس (قربانی)کے لیے تیار رہنا چاہیے، ٹینشن کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے، ساری چیزوں کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیےاور ہمیں اتنی جلدی سرنڈر (surrender)نہیں کردینا چاہیے۔ ‘‘13

یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

کسی نے غازی صاحب پر الزام لگایا کہ آپ حضرات امریکی سی آئی اے کے لیے کام کرتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ آپ حضرات کو القاعدہ نے پاکستان میں کام کرنے کا ’گرین سگنل‘ دے دیا ہے14۔ کسی نے کہا کہ یہ پرویز مشرف کو مضبوط کرنے کے لیے ایجنسیوں کی طرف سے اس کی ’بی ٹیم‘ کے طور پر کام کر ر ہے ہیں…… اور ان سب الزامات کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کیسے ممکن ہے کہ کسی بڑی طاقت کی پشت پناہی کے بنا یہ حضرات کھڑے ہو گئے ہوں۔ اس پر غازی صاحب نے فرمایا:

’’حضرات ایک بات بھول رہے ہیں……ان کے خیال میں طاقت جو ہے وہ یا القاعدہ کے پاس ہے یا سی آئی اے کے پاس……یعنی کسی کی بیک ؍back (پشت) پر اگر القاعدہ ہو تو وہ کھڑا ہوسکتا ہےتن تنہا یا سی آئی اے ہو، ان دونوں میں سے کوئی ہو تو(ہی کوئی کھڑا ہو سکتا ہے)۔ تو (حضرات)ایک چیز بھول رہے ہیں کہ ایمان کی طاقت پہ بھی تو کوئی کھڑا ہوسکتا ہے؟!

کوئی دیوانہ کھڑا ہوگیا، ایمان کی طاقت سے کھڑا ہوگیا! ‘‘15

آپ نے فرمایا کہ ’ہاں ہم ایجنسی کے لیے کام کرتے ہیں‘ لیکن کون سی ’ایجنسی‘، تو فرمایا:

’’ ہم تو ایک ایجنسی کے ہیں…… وہ اللہ کی ایجنسی جو ہےناں ……اس کے ہیں ہم سارے کے سارے۔ ‘‘16

میں کھٹکتا ہوں دلِ ’شیطاں‘ میں کانٹے کی طرح

ازل سے یہ طریقہ جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا کہ آگ اور پانی جمع نہیں ہو سکتے، جہنم و جنت ایک نہیں ہو سکتے، پھول کی پتی میں نرمی اور کانٹے میں سختی رکھ دی گئی ہے۔ ان تناقضات اور اضداد سے بڑھ کر، ایک دوسرے سے متناقض اور ایک دوسرے کی ضد، کفر اور ایمان ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے دھڑے، حزب الشیطان اور حزب الرحمان ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے جدا راستے اور جدا منزلیں ہیں۔ ایک طرف شیطان کی پرستش ہے تو دوسری طرف اللہ کی عبادت۔ ایک طرف نظامِ شیطنت ہے تو دوسری طرف نظامِ شریعت۔ شیطنت کے بہت سے عنوانات ہو سکتے ہیں لیکن شریعت ایک ہی ہے، دین ایک ہی ہے اور وہ ہے اسلام۔ اللہ نے اسی اسلام کے ساتھ وابستگی پر اپنی رضا کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسلام وہ عالی دین ہے جس کے راہیوں کی منزلِ مراد، جن کا مقصودِ اصلی خود اللہ ربّ العالمین ہے۔ ربّ کی جانب جانے والے راہیوں کے امام، بعد از خدا بزرگ و برتر محمدِ مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے بعد انبیائے کرام علیہم السلام، پھر صحابۂ کرام علیہم الرضوان، پھر صدیقین، شہدا، صالحین اور اللہ کے دیگر محبوبین و متقین۔

اسی راہِ الفت و معرفت کے راہیوں کا ایک بلند نام حضرت مولانا محمد عبد الرشید غازی ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کی مہار اللہ کی طرف موڑ دی اور پھر اللہ کی رضا و محبت کے حصول کی خاطر اس راہ میں سَر پَٹ دوڑے۔ آپ نے اسلام کو اپنا دین مانا اور ہر کفر و طاغوت کا انکار کیا۔ نتیجتاً اقبالؒ کے ایک مصرعے میں لفظی تصرف کے ساتھ آپ طواغیتِ زمانہ کے لیے ایسے ہو گئے کہ

؏ میں کھٹکتا ہوں دلِ ’شیطاں‘ میں کانٹے کی طرح!

اور شیطان اور اس کے حواریوں نے آپ کو اور آپ کے مشن کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہا۔

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا!

بقولِ شخصے…… اسلام آباد کے قلب میں نفاذِ دین و شریعت کی دعوت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور ساڑھے چھ ہزار پاک باز، باحجاب خواتینِ اسلام؛ یہ امریکہ اور اس کے حواریوں کے لیے ایسا ہے گویا اسلام آباد کے قلب میں کوئی ’ایٹم بم‘ رکھا ہو!

امریکی ایما پر اور مقامی طاغوتوں کے اشاروں اور ’آرڈر‘ کے سبب ، فرنٹ لائن اتحادی حرکت میں آئے۔ اہلِ حق اور اہلِ باطل کی مثال ایسی تھی گویا چیونٹی بمقابلہ ہاتھی۔ ساٹھ ہزار (۶۰،۰۰۰)فوج و رینجرز کی نفری تعینات کی گئی اور ایک سو چونسٹھ (۱۶۴) سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے لال مسجد کو گھیر لیا17۔ نیم عسکری ادارے اور پولیس کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

پرویزِ عصر، فرعونِ زماں، پرویز مشرف نے کہا کہ ’میں آج واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب مارے جائیں گے!‘18

مختلف سیاست دانوں، علما اور با اثر شخصیات کو جمع کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ جائیں اور غازی صاحب کو سمجھائیں کہ وہ باز آ جائیں اور معافی مانگ لیں۔

لوگ آئے اور غازی صاحب کو سمجھانے لگے۔ غازی صاحب نے ایمان و معرفت کی کسی کیفیت میں دریافت کیا کہ باز آیا جائے تو کس کام سے اور معافی مانگی جائے تو کس بات پر؟ لا الٰہ الا اللہ کا کلمہ پڑھنے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا دم بھرنے پر معافی مانگی جائے؟ نفاذِ شریعت کے مطالبے اور کوشش پر معافی مانگی جائے؟ مسلمانی سے باز آ جایا جائے؟

ان سمجھانے والوں کی نیتوں پر شک نہیں ہے، یقیناً وہ غازی صاحب اور دیگر کئی ہزار علما، طلبہ اور طالبات کی جانیں بچانے کو آئے ہوں گے، لیکن تاریخ نیتوں پر فیصلے نہیں کرتی۔ سمجھانے والے حضرات میں علم و تقویٰ کے جبال بھی تھے لیکن کچھ ’سیاسی حضرات‘ ایسے بھی تھے جنہوں نے کچھ مثبت کردار ادا نہ کیا۔ 19

غازی صاحب نے بھی جان کو جان آفرین کے لیے قربان کر دینا حق جانا۔ آپ نے یہ حق پہچانا اور بیان کیا کہ ہم ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ پڑھنے اور اس کی خاطر محنتیں کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم ہیں تو دین ہے، یا یہ کہ ہم بچ جائیں تو کچھ ’دین‘ کا حصہ بھی ہم بچا لیں گے‘، آپ نے فرمایا:

’’آسمانی حقائق یہ ہیں کہ حق بہر حال غالب رہتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ ہم رہیں تو حق غالب ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے جانے کے بعد، یہ تحریک ایسی زور پکڑے کہ یہاں اسلامی نظام آ جائے۔ اگر اس طاغوتی نظام سے چھٹکارا ہماری جانوں کے جانے سے حاصل ہو جاتا ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ سودا مہنگا نہیں ہے!‘‘20

(جاری ہے، ان شاء اللہ)


1 بحوالہLive with Talat‘، طلعت حسین کے ساتھ (آج ٹی وی)

2 جیو نیوز کی ویڈیو نیوز رپورٹ (بتاریخ ۷ اپریل ۲۰۰۷ء)

3 Al Jazeera English’s programme “Witness”, with Rageh Umaar [نشر شدہ گیارہ (۱۱) اگست ۲۰۰۷ء]

4 جیو نیوز پر ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام ’میرے مطابق‘ میں گفتگو (۲ ، اپریل ۲۰۰۷ء)

5 خوشنود علی خان کے پروگرام ٹاکرا میں گفتگو ،( ۴، اپریل ۲۰۰۷ء)

6 ایضاً

7 اسلامی مملکت کے بنیادی اصول (۲۲ نکات) اس دستاویز پر؛ علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا شمس الحق افغانی، مولانا مفتی محمد حسن امرتسری، مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا داؤد غزنوی، حاجی خادم الاسلام محمد امین (خلیفہ حاجی صاحب تنگ زئی)، مولانا خیر محمد جالندھری، مولانا اطہر علی، مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا شمس الحق فرید پوری (ڈھاکہ)، مولانا محمد حبیب الرحمٰن (ڈھاکہ)، مولانا احمد علی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا محمد اسماعیل ، پیر محمد امین الحسنات سمیت کئی اور اکابرین نے علمائے کرام کے ایک اجلاس (منعقدہ ۲۱ تا ۲۴ جنوری ۱۹۵۱ء) میں دستخط کیے اور یہ مطالبہ کیا کہ جلد از جلد نظامِ اسلامی مملکتِ پاکستان میں نافذ کر دیا جائے۔

8 بحوالہ Live with Talat‘، طلعت حسین کے ساتھ (آج ٹی وی)

9 جیثمین منظور کے پروگرام ’دی پَلْس (The Pulse)میں گفتگو

10 فرزند مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی

11 بحوالہLive with Talat‘، طلعت حسین کے ساتھ (آج ٹی وی)

12 Al Jazeera English’s programme “Witness”, with Rageh Umaar [نشر شدہ گیارہ (۱۱) اگست ۲۰۰۷ء]

13 علما میں بیان، ۲۴ فروری ۲۰۰۷ء

14 القاعدہ، نفاذِ دین اور اقامتِ خلافت کی خاطر دعوت و جہاد کی داعی اور جہادی جماعت ہے۔ القاعدہ امتِ مسلمہ کے دشمنوں کے خلاف دعوتِ مزاحمت اور امتِ مسلمہ کے لیے رحمت و شفقت کا پیغام ہے۔ القاعدہ سے منسلک ہونا کوئی جرم کی بات نہیں، بلکہ یہ تو عین اعزاز کا سبب ہو سکتا ہے۔ یہاں غازی صاحب نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ لوگ جان لیں کہ اگر کوئی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی دعوت دے رہا ہو، اگر کوئی اقامتِ نظامِ اسلامی کی بات کر رہا ہو اور اپنی محنتیں و کاوشیں اس راہ میں کھپا رہا ہو تو لازمی نہیں کہ اس کی پشت پر کوئی منظم جماعت یا تنظیم کی طاقت بھی کارفرما ہو۔

15 علما میں بیان، ۲۴ فروری ۲۰۰۷ء

16 ایضاً

17 بحوالہ آزاد دائرۃ المعارف وکی پیڈیا (انگریزی) ، آرٹیکل کا نامSiege of Lal Masjid‘

18 یہ بیان یوٹیوب پر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

19 صحافی ’نصر اللہ ملک‘ سے بات کرتے ہوئے ، غازی صاحب نے اپنے آخری پیغام میں اس بات کی جانب اشارہ کیا۔

20 بحوالہ دستاویزی فلم ’امامِ بر حق‘ (۲۰۰۸ء، ادارہ السحاب اردو)

Exit mobile version