نظریاتی جنگیں | تیسری قسط

مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب (زید مجدہٗ) کی تالیف ’أصول الغزو الفکری‘ یعنی ’نظریاتی جنگ کے اصول‘، نذرِ قارئین ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو اہل باطل کی جانب سے ایک ہمہ گیر اور نہایت تند و تیز فکری و نظریاتی یلغار کا سامنا ہے۔ اس یلغار کے مقابلے کے لیے ’الغزو الفکری‘ کو دینی و عصری درس گاہوں کے نصاب میں شامل کرنا از حد ضروری ہوچکا ہے۔دینی و عصری درس گاہوں میں اس مضمون کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ’الغزو الفکری‘ یعنی نظریاتی جنگ کے مضمون و عنوان کو معاشرے کے فعال طبقات خصوصاً اہلِ قلم، اسلامی ادیبوں اور شاعروں، اہلِ دانش، صحافیوں، پیشہ ور (پروفیشنل)حضرات نیز معاشرے کہ ہر مؤثر طبقے میں بھی عام کرنا از حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ’اصول الغزو الفکری‘کے عنوان سے اس علم کے اہم مباحث کو مختصر طور پر مولانا موصوف نے پیش کیا ہے۔ مولانا موصوف ہی کے الفاظ میں ’در حقیقت یہ اس موضوع پر تحریر کردہ درجنوں تصانیف کا خلاصہ ہے جس ميں پاک و ہند کے پس منظر کا نسبتاً زیادہ خیال رکھا گیا ہے‘۔ یہ تحریر اصلاً نصابی انداز میں لکھی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود خشکی سے پاک ہے اور متوسط درجۂ فہم والے کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کو نظریاتی و عسکری محاذوں کو سمجھنے، ان محاذوں کے لیے اعداد و تیاری کرنے اور پھر ہر محاذ پر اہلِ باطل کے خلاف ڈٹنے کی توفیق ملے۔ اللہ پاک مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب کو جزائے خیر سے نوازیں کہ انہوں نے ایسے اہم موضوع کے متعلق قلم اٹھایا، اللہ پاک انہیں اور ہم سب اہلِ ایمان کو حق پر ثبات اور دین کا صحیح فہم عطا فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین! (ادارہ)


الساحۃ الثانیۃالاستعمار (سامراجیت)

(Colonialism, Colonizing, Imperialism)

استعمار یا سامراجیت کا مطلب ہے ’’کسی علاقے پر اپنے ایجنٹ مسلط کرکے اس طرح تسلط حاصل کرنا کہ مقامی وسائل کو لوٹا جاتا رہے‘‘۔

کیمبرج ڈکشنری کے مطابق:’’Colonialism‘‘سے مراد ’’ایسے نظام کو فروغ دینا ہے جس میں ایک ملک دوسرے ملک کے معاملات کو کنٹرول کرے‘‘۔

استعماری سوچ کی بنیادیں

استعماری سوچ کا قدیم ترین نمونہ یونانی فاتح سکندر اعظم کی فتوحات اور اس کے معاصر فلسفی ارسطو کی تعلیمات میں ملتا ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے مین یونان نے چار سو سال تک ایشیا پر حکومت کی۔

عالم اسلام کے خلاف استعماری کوششیں، تمہیدی دور

اسلامی دور میں یورپی استعمار کا تمہیدی دور دورِ خلافت راشدہ سے صلیبی جنگوں کے اختتام تک رہا جس میں اسلام دشمن عناصر درج ذیل چار اہداف کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں:

(۱) اسلامی خلافت کا خاتمہ (۲) مقاماتِ مقدسہ پر قبضہ (۳) عالم اسلام پر قبضہ (۴) عالم اسلام کو فنا کردینا۔

۱. اسلامی خلافت کا خاتمہ: دورِ خلافت راشدہ سے لے کر خلافت عباسیہ تک کفریہ طاقتیں خلافت اسلامیہ کا خاتمہ کرنے کی کوششیں کرتی رہیں۔ ۶۱۶ھ میں چنگیز خان نے عالم اسلام پر حملہ کیا اور اس کے پوتے ہلاکو خان نے محرم ۶۵۶ھ میں بغداد کوتہس نہس کرکے عباسی خلافت کا خاتمہ کردیا۔ عیسائیوں نے ان کی پوری حمایت کی۔

۲. مقامات مقدسہ پر قبضہ: مقامات مقدسہ پر قبضے کے لیے عالم اسلام پر صلیبی جنگوں کا عذاب مسلط کیا گیا جس میں ان گنت مسلمان قتل کیے گئے۔

۳. عالم اسلام پر قبضہ: یورپ کا مقصد صرف بیت المقدس پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ عالم اسلام کی ساری زمین اور وسائل کو ہتھیانا تھا۔

۴. عالم اسلام کو فنا کردینا: صلیبی جنگوں اور تاتاریوں کی حمایت کی اس تمام تگ و دو کے پیچھے دنیائے اسلام کے خاتمے اور اپنے مذہب کے عالمگیر غلبے کی زبردست خواہش موجود تھی۔

اہل باطل کی ناکامی کی وجوہ

مسلمانوں کے تین بڑے اقدامات کی وجہ سے عیسائیوں اور تاتاریوں کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔

(۱) دعوتِ اسلام کا کام ہوا جس کی بدولت تاتاری مسلمان ہوگئے۔ (۲) مصر میں بنوعباس کی خلافت کو بحال کردیا گیا۔ (۳) پرچمِ جہاد بلند رکھا گیا حتیٰ کہ تاتاریوں اور صلیبیوں دونوں کو شکستِ فاش ہوئی۔

سوچ بچار اور ذہنی تبدیلیوں کا دور

ان تجربات کے بعد اسلام دشمن طاقتیں سمجھ گئیں کہ خلافت اسلامیہ کو ختم کرنا، مقامات مقدسہ پر قبضہ کرنا اور مسلمانوں کو مٹانا آسان نہیں۔ اس کے لیے پہلے زمین ہموار کرنا ہوگی۔ انھوں نے چودہویں اور پندرہویں صدی تک خود کو مضبوط کیا اور پھر دنیا پر قبضے کی نئی کوششیں شروع کیں۔

استعماری سوچ کو مہمیز دینے والے چار واقعات

چند واقعات سے یورپ میں ازسرِ نو استعماری سوچ کو تقویت ملی‌۔

۱. ۱۴۵۳ء میں عثمانی ترک حکمران سلطان محمدؒ فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرلیا۔

۲. قسطنطنیہ کے رومی فلسفی اور حکما یورپ چلے گئے جن سے یورپ میں استعماری سوچ بھی پروان چڑھنے لگی۔

۳. جنوری ۱۴۹۲ء میں سپین پر عیسائیوں کے قبضے کی تکمیل ہوگئی۔

۴. ترکوں نے یورپی تاجروں کے لیے تجارتی راستے بند کردیے تھے جس کی وجہ سے یورپی تاجروں نے نئے تجارتی راستوں کی تلاش شروع کردی۔

استعمار کا اصل دور

سولہویں صدی عیسوی کے اواخر میں اصل استعمار کا آغاز ہوتا ہے جس میں یورپی اقوام کا نقشِ راہ یوں مرتب ہوتا نظر آتا ہے:

(۱) معاشی و تجارتی خود انحصاری (۲) اسلامی دنیا کا اقتصادی و عسکری محاصرہ (۳) تجارت و اقتصاد میں غالب آنا (۴) اسلامی دنیا پر تسلط (۵) خلافت اسلامیہ کا خاتمہ (۶) عالم اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا (۷) عالم اسلام کے تشخص کا خاتمہ کردینا۔

پہلا مرحلہ: معاشی و تجارتی مضبوطی اور خود انحصاری‌

جب ترکوں نے اپنے تحفظات کی وجہ سے یورپ پر خشکی اور سمندر کے تجارتی راستے بند کردیے تو یورپی تاجروں کی اقتصادی خود انحصاری خطرے میں پڑگئی۔ اب ان کا پہلا قدم یہی تھا کہ تجارتی راستے تلاش کرکے ترکوں کی جانب سے کی گئی اقتصادی ناکہ بندی کو غیر مؤثر کردیا جائے۔ ان دنوں سپین پر فرڈی ننڈ اور پرتگال پر شاہ مینوئیل کی حکومت تھی۔ فرڈی ننڈ اور اس کی ملکہ ازابیلا نے بھی سمندری راستوں کی تلاش کے لیے اگست ۱۴۹۲ء میں کولمبس کو مشرقی ملکوں کا راستہ ڈھونڈنے کے لیے روانہ کردیا، مگر وہ راستہ بھٹک کر نئی دنیا جنوبی امریکہ پہنچ گیا۔ ادھر پرتگال کے بادشاہ مینوئیل نے جولائی ۱۴۹۷ء میں واسکوڈی گاما کو اسی مقصد کے لیے روانہ کیا جو ۱۸مئی ۱۴۹۸ء کو ہندوستان پہنچ گیا۔ یہ لوگ صرف تجارت کرنے نہیں بلکہ کمزور ریاستوں پر جبراً قبضہ کرنے گئے تھے۔ واسکوڈی گاما کی مہم سے یورپ کو تجارت کے نئے راستے اور لوٹ مار کے لیے موزوں شکار گاہیں مل گئیں، یوں یورپ میں خوشحالی کے دور کی بنیاد پڑ گئی۔

دوسرا مرحلہ: اسلامی دنیا کا اقتصادی و عسکری محاصرہ

چند برسوں کے اندر اندر یورپ کے مختلف ملکوں کے مسلح بیڑے عالم اسلام کی مختلف بحری سرحدوں پر قبضے کرنے لگے اور رفتہ رفتہ ان کی گرفت اتنی مضبوط ہوگئی کہ اسلامی دنیا خود اقتصادی و عسکری محاصرے کی پوزیشن میں آگئی۔

پرتگال نے ۱۵۱۵ء میں مسقط، ہرمز، اور بحرین جیسی اہم بندرگاہوں پر قبضہ کرلیا جس سے عرب دنیا کی عجم سے تجارت کے بحری راستوں پر بھی یورپیوں کا قبضہ ہوگیا۔

سپین کے مہم جو ۱۵۲۱ء میں بحرالکاہل کو عبور کرکے فلپائن پہنچ گئے۔۱۵۶۵ ء میں وہ فلپائن کے ساحلوں پر قابض ہوگئے۔

ایک صدی تک برصغیر کے ساحلوں پر پرتگیزیوں کی اجارہ داری رہی۔ سولہویں صدی کے اواخر میں ولندیزی (ڈچ) یہاں آئے۔ ۱۶۰۰ء میں انگریزوں نے بھی ’’ایسٹ انڈیا ٹریڈنگ کمپنی‘‘ کی بنیاد رکھی اور کئی سال کی کوشش کے بعد مغل بادشاہ جہانگیر سے ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کے لیے تجارتی پروانہ حاصل کرلیا۔۱۶۶۴ ء میں فرانسیسی تاجروں نے بھی ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کے نام سے ایک تجارتی فرم بنا کر ہندوستان کے ساحلوں پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔

اورنگ زیب عالمگیر نے یہ دیکھ کر کہ انگریز تجارت سے آگے بڑھ کر سیاسی قوت بننے کی کوشش کر رہے ہیں، ان پر دوبارہ پابندی لگائی مگر انھوں نے ہر بار معافی مانگ لی۔ مغل حکمران اپنی شان و شوکت کے سامنے غیر ملکی تاجروں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے تھے، اس لیے معافی دے دی جاتی۔ اورنگ زیب کے بعد غیر ملکی کمپنیاں بالکل آزاد ہوگئیں۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط میں انھوں نے مسلم دنیا کا اقتصادی و عسکری محاصرہ مکمل کرلیا۔

تیسرا مرحلہ: تجارت و اقتصاد میں غالب آنا

مسلم دنیا کا اقتصادی و عسکری محاصرہ مکمل کرنے کے بعد عالمی تجارت بھی یورپی طاقتوں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ یورپی طاقتوں نے چند عشروں میں اپنے خزانے بھر لیے اور اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط تک یورپ صنعت و تجارت اور اقتصادی طاقت کے لحاظ سے اکثر اسلامی ملکوں سے آگے نکل گیا۔

چوتھا مرحلہ: اسلامی دنیا پر تسلط

انگریزوں نے ۱۷۵۷ء میں سراج الدولہ کو پلاسی کے میدان میں شکست دی اور بنگال پر قبضہ کرلیا۔ ۴ مئی ۱۷۹۹ء کو انھوں نے غداروں کے ذریعے میسور پر قبضہ کرلیا، میسور کا مجاہد حکمران ٹیپو سلطان مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگیا۔ ۱۸۴۳ء میں انھوں نے سندھ پر، ۱۸۴۹ء میں پنجاب پر اور ۱۸۵۷ء میں دہلی پر بھی قبضہ کرلیا اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے مغل حکومت کا خاتمہ کردیا۔

دیگر ملکوں پر بھی برطانیہ کی یلغار جاری تھی۔ انگریزوں نے ۱۸۵۱ء میں نائیجیریا پر،۱۸۸۸ء میں مصر پر قبضہ، ۱۸۹۸ء میں سوڈان پر، ۱۹۱۴ء میں عراق پر اور ۱۹۱۸ء میں اردن اور فلسطین پر بھی تسلط حاصل کرلیا۔ اس دوران ۱۸۴۰ء، ۱۸۸۹ء اور ۱۹۱۸ء میں افغانستان سے تین جنگیں لڑیں مگر قبضہ نہ کرسکا۔

روس

روس نے ۱۵۵۶ء میں نومسلم تاتاریوں کے دارالحکومت ’’استراخان‘‘ پر قبضہ کرکے وسط ایشیا کی مسلم ریاستوں اور ایران تک کا راستہ پالیا۔ ۱۶۷۰ء میں جھیل اورال پر قبضہ کرلیا۔ ۱۶۹۶ء میں ترکی کے اہم شہر ازوف پر اور ۱۷۷۸ء میں ترکی کے دفاعی مرکز ’’کریمیا‘‘ پر قابض ہوگیا۔ ۱۸۲۴ء میں بحیرۂ اسود کے اہم دفاعی نقطے جزیرۂ قرم پر قبضہ کرلیا۔ انیسویں صدی میں وسط ایشیا کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ ۱۸۶۴ء میں قفقاز، ۱۸۶۷ء میں تاشقند، ۱۸۶۸ء میں بخارا، ۱۸۷۳ءمیں خیوہ اور ۱۸۸۴ء میں مرو، روس کے سامنے سرنگوں ہوگئے۔ ۱۹۱۷ء میں روس میں سوشلسٹ انقلاب آیا جس کے بعد وسط ایشیا کی مسلم ریاستوں کی رہی سہی آزادی بھی سلب کرلی گئی اور مساجد و مدارس بند کردیے گئے۔ لاکھوں مسلمان قتل اور لاکھوں جلا وطن کیے گئے۔

فرانس

فرانس نے ۱۸۳۰ء میں الجزائر، ۱۸۸۱ء میں تیونس، ۱۸۸۲ء میں سینیگال اور مڈغاسکر، ۱۹۱۲ء میں مراکش اور ۱۹۲۱ء میں شام پر قبضہ کرلیا۔

اٹلی

اٹلی نے ۱۸۸۷ء میں صومالیہ اور اریٹریا پر اور ۱۹۱۱ء میں لیبیا پر قبضہ کیا۔

غرضیکہ بیسویں صدی کے شروع میں تقریباً سارا عالم اسلام استعماری طاقتوں کے قبضے میں آچکا تھا۔

پانچواں مرحلہ: خلافت اسلامیہ کا خاتمہ

استعماری طاقتیں اب خلافت اسلامیہ کا خاتمہ کرنے کے قابل تھیں۔ یورپی ممالک کی سرپرستی میں ’’انجمن اتحاد و ترقی‘‘جیسی تنظیمیں منصب خلافت اور اسلامی شعائر کا احترام زائل کر رہی تھیں اور مصطفیٰ کمال پاشا جیسے ایجنٹ تیار کرلیے گئے تھے۔ ۱۹۰۹ء میں ان ایجنٹوں نے خلیفہ کے اختیارات سلب کرکے وہاں مغربی طرز پر جمہوریت قائم کردی۔

پہلی جنگ عظیم ختم ہونے پر فاتح استعماری قوتوں نے ترکی کو شام، فلسطین اور عراق سے بھی دست بردار ہونے پر مجبور کردیا۔ ۱۹۲۴ء میں مصطفیٰ کمال نے اسلام دشمن طاقتوں کے ایما پر خلافت کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

تصور احیائے خلافت کا خاتمہ

خلافت کے دوبارہ قیام کو روکنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے:

(۱) جذبات پسندی کی مہم چلا کر لوگوں کا اسلام سے رشتہ کمزور کردیا گیا۔

(۲) مسلمانوں میں قوم پرستی اور وطن پرستی کے جذبات ابھارے گئے تاکہ ایک خلیفہ پر اتفاق محال ہوجائے۔

(۳) یہ پرچار کیا گیا کہ خلافت ایک عضو معطل اور ایک غیر مفید ادارہ ہے۔

(۴) جمہوری طرز حکومت کو ترقی کا ضامن باور کرایا گیا۔

(۵) عالمی تنازعات کے حل کے لیے خلافت کی جگہ ۱۹۱۷ء میں ایک متبادل عالمی ادارے ’لیگ آف نیشنز ‘کی بنیاد رکھ دی۔

(۶) خلافت کا خاتمہ خود مسلمانوں کے ہاتھوں کرایا گیا تاکہ اسلامی دنیا میں کوئی غیر معمولی رد عمل پیدا نہ ہو۔

چھٹا مرحلہ: عالم اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا

سقوط خلافت کے بعد استعماری طاقتوں نے چھٹے مرحلے کا آغاز کردیا اور اسلامی دنیا کے حصے بخرے کرکے خود واپسی کی تیاریاں شروع کردیں۔

انتشار باقی رکھنے کے لیے حربے

استعماری طاقتیں مسلم ممالک کو تقسیم در تقسیم کی راہ پر ڈالنے کے لیے درج ذیل اقدامات بھی کر گئیں:

(۱) اقوام متحدہ کا شکنجہ: اقوام متحدہ کے بل بوتے پر استعماری قوتوں نے عالم اسلام کے مسائل کو لاینحل (حل نہ ہونے والے) بنا رکھا ہے۔

(۲) بین الاقوامی قوانین: اقوام متحدہ کے ذریعے مسلم دنیا پر ایسے قوانین مسلط کیے گئے ہیں جو کہنے کو تو بین الاقوامی ہیں لیکن ان کا عملی اطلاق صرف مسلم ممالک پر کیا جاتا ہے۔

(۳) معاہدے: استعماری طاقتیں کبھی اقوام متحدہ کے توسط سے اور کبھی براہ راست مسلم ممالک سے مختلف معاہدے کرتی ہیں جن سے تنازعات الجھتے چلے جاتے ہیں۔

(۴) مسلمانوں پر مسلط کردہ جنگیں: مسلم دنیا کی توڑ پھوڑ اور شکستگی کے لیے وقتاً فوقتاً ان پر جنگیں مسلط کردی جاتی ہیں۔

(۵) بلاکس؍blocks: مختلف بلاکس بناکر مسلم ملکوں کو تقسیم کردیا گیا ہے، ایک بلاک کا مسلم ملک دوسرے بلاک کے مسلم ملک کو اپنا حریف تصور کرتا ہے۔

(۶) اسلامی دنیا میں بھڑکائی گئی جنگیں: مسلم ممالک کو باہم لڑادیا جاتا ہے۔ ممالک کے اندر بھی خانہ جنگی کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔

(۷) سکیورٹی: استعماری طاقتیں بعض مسلم ملکوں میں سیکورٹی کے نام پر افواج تعینات کردیتی ہیں؛ یہ دوستی کے نام پر درحقیقت دشمنی ہوتی ہے۔

(۸) جمہوریت کا فروغ اور کٹھ پتلی حکمران: مسلم ممالک میں جمہوریت کی آبیاری کرکے ان پر اپنے ایجنٹوں اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو مسلط کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

(۹) سیاسی و لسانی پارٹیوں کا فروغ: مسلم دنیا میں نئی نئی سیاسی اور لسانی پارٹیوں کی ریل پیل انتشار پھیلانے کا ایک بڑا سبب ہے۔

(۱۰) لسانیت و صوبائیت: ہر مسلم ملک کو لسانی اور صوبائی بنیاد پر تقسیم کرنے کے لیے ایسی جماعتیں کھڑی کی گئی ہیں جو لسانیت اور صوبائیت کا پرچار کرتی ہیں۔

(۱۱) مذہبی فرقہ بندی کا فروغ: نئے نظریات کے ساتھ اٹھنے والے ہر فرقہ کی حمایت کی جاتی ہے۔

(۱۲) جعلی لیڈر شپ تیار کرنا: استعماری طاقتیں مسلم دنیا کی لیڈر شپ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے اپنے منظور نظر افراد تیار رکھتی ہیں۔

ان داخلی اور خارجی اختلافات کی وجہ سے عالم اسلام اب تک اپنے حقوق کے لیے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہے۔

ساتواں مرحلہ: عالم اسلام کے تشخص کا خاتمہ کردینا

عالم اسلام کے تشخص کے خاتمے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں: (۱) گمراہ کن مفکرین کی تیاری: ایسے مفکرین کو کھڑا کیا جارہا ہے جن کے ذریعے اسلام کی روح کو ختم کردیا جائے۔ جو دین کے نام پر دین سے دور لے کر جائیں۔

(۲) استعمار کی اطاعت کی تلقین: یہی نام نہاد اسلامی مفکرین و مجتہدین اپنی تحقیقات اور فتاویٰ میں استعماری طاقتوں کی اطاعت کا درس دیتے ہیں۔

(۳) فاسد اور غلط تاویلات کے ذریعے جہاد کے تصور کو ختم کرنا: جہاد استعمار کے زہر کے لیے تریاق کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے استعمار کے علمی و فکری ایجنٹ جہاد کے تصور کو مٹانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

(۴) اسلامی عقائد کو بدل کر استعمار کی اغراض کے مطابق بنانا: اسلام کی حقیقی شکل کو مسخ کرکے اسے استعماری اغراض کے مطابق شکل دی جارہی ہے۔

(۵) جمہوری نظریے کا فروغ: اسلامی قوانین کے خاتمے اور بے دینی و الحاد کے فروغ کے اہداف جمہوریت پسندوں ہی کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔

(۶) مسلمانوں کی ثقافت کو مجروح کرنا:استعماریوں نے مسلمانوں کا تشخص مجروح کرنے کے لیے ان کی تہذیب و ثقافت اور بود و باش سمیت ہر چیز کو تبدیل کردیا۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

Exit mobile version